صحت

وہ بہترین غذائیں جو گنج پن کو دور رکھنے میں مدد دیں

کیا آپ کنگھے میں عام معمول سے زیادہ بالوں کو دیکھ رہے ہیں؟ تو آپ تنہا نہیں، درحقیقت دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو عمر بڑھنے پر گنج پن کا سامنا ہوتا ہے۔

اب اس کی وجہ کوئی بھی ذیابیطس، وٹامن کی کمی، تناﺅ، نیند کی کمی یا دیگر امراض، مگر ایسا ہوتا ضرور ہے۔

یقیناً گنج پن کی جانب بڑھنا کس کو پسند ہوگا مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ غذائی عادت میں تبدیلی لاکر بھی ہلکے ہوتے بالوں کو گھنا کیا جاسکتا ہے؟

تو اگر آپ کو بھی اس مسئلے کا سامنا ہے تو درج ذیل غذاﺅں کو کھانا عادت بنالیں۔

اوئیسٹر

عالمی ادارہ صحت نے جسم میں آئرن کی کمی کو دنیا میں سب سے زیادہ عام غذائی کمی قرار دے رکھا ہے جو کہ لگ بھگ 80 فیصد افراد کو متاثر کرتی ہے، آئرن کی سطح میں معمولی سی کمی بھی بالوں کے گرنے اور گنج پن کا باعث بن سکتی ہے، ویسے تو متعدد غذاﺅں میں آئرن موجود ہوتا ہے مگر اوئیسٹر اس حوالے سے زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ اس میں آئرن اور زنک دونوں موجود ہوتے ہیں جو کہ بالوں کی نشوونما اور مرمت کے لیے اہم منرل ہے۔

شکرقندی

شکرقندی کو کسی بھی شکل میں کھائیں یہ بالوں کے لیے بہت فائدہ مند ہوتی ہے، جس کی وجہ اس میں موجود وٹامن بی سکس اور وٹامن اے کی موجودگی ہے۔ شکرقندی وٹامن اے سے بھرپور ہونے کے باعث شحمی رطوبت کی پیداوار بڑھانے میں مدد دیتا ہے جبکہ بالوں کی نشوونما تیز ہوتی ہے۔

گائے کا گوشت

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ آئرن کی کمی گنج پن کی بڑی وجہ ہے اور سرخ گوشت آئرن اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ بالوں کے ہلکے پن کو گھنا کرتے ہیں اور انہیں زیادہ صحت ند بناتے ہیں۔ ہفتے میں ایک یا 2 دفعہ اس گوشت سے لطف اندوز ہونا بالوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔

انڈے

انڈے پروٹین اور بائیوٹین سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ صحت مند بالوں اور ان کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں، باٹین ایسے انزائمے کو متحرک کرتا ہے جو کہ بالوں کی جڑوں کے لیے فائدہ مند ہیں، انڈے کی زردی میں وٹامن ڈی بھی پایا جاتا ہے جو کہ ہمارا جسم قدرتی طور پر بنانے سے قاصر ہوتا ہے، جو کہ بالوں کی صحت کے لیے فائدہ مند وٹامن ہے۔

مچھلی

بال پروٹین فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ نئے بالوں کو اگانے کے لیے پروٹین کو کھانے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ سر پر موجود بالوں کی مضبوطی کے لیے بھی یہ ضروری ہے۔ پروٹین بالوں کے لیے ایک ضروری جز کیروٹین کی پیداوار کے لیے بھی ضرورت ہے۔ مچھلی اس حوالے سے بہترین ہے جو اومیگاتھری فیٹی ایسڈز اور وٹامن سے بھرپور ہونے کی وجہ سے بالوں کی صحت کو بہتر بناتی ہے۔

شہد

شہد بھی ہلکے بالوں میں بہتری لاسکتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق کھجلی اور بالوں کے گرنے کی صورت میں 90 فیصد شہد اور 10 فیصد پانی کو ملا کر ایک محلول بنالیں، جسے چار ہفتوں تک ہر دوسرے روز اپنے بالوں پر لگانے سے بالوں کے گرنے کا مسئلہ کم ہوجاتا ہے۔

گریاں اور بیج

ایک تحقیق کے مطابق اومیگا تھری اور اومیگا سکس فیٹی ایسڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور گریاں اور بیج چھ ماہ کے اندر بالوں کے گرنے کا مسئلہ ختم کردیتے ہیں، جبکہ بالوں کی نشوونما میں بہتری اور گھنا پن واپس آتا ہے۔ اس حوالے سے اخروٹ انتہائی مفید ہے۔

پالک

ایک تحقیق کے مطابق بالوں کی محرومی کی شکار ہونے والی خواتین میں آئرن اور وٹامن ڈی ٹو کی کمی ہوتی ہے، اس حوالے سے پالک ایک اچھی غذا ہے جو آئرن اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتی ہے، جو اس مسئلے پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

لہسن

لہسن آپ کے بالوں کے گرنے کے مسئلے کو ختم کرسکتا ہے جس کی وجہ اس میں شامل ایک جز الیسین کی بھرپور مقدار ہے، یہ سلفر کمپاؤنڈ پیاز میں بھی پایا جاتا ہے اور ایک طبی تحقیق کے مطابق بالوں کے گرنے کی روک تھام کے لیے موثر ہے۔ لہسن کو کاٹ لیں اور اس کی پوتھیوں کو سر پر ملیں۔ آپ تیل میں بھی لہسن کو شامل کرکے مساج کے ذریعے یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

تیل

یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ناریل کے تیل کا استعمال آپ کے بالوں کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے اور انہیں لمبا اور گہرا رکھنے میں مدد دیتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں ناریل کا تیل اور لیموں کا جوس ملا کر لگانے سے آپ اپنے بالوں کو لمبے عرصے تک سفید ہونے سے بھی روک سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

سرجری کے بعد کینسر کے پھیلاؤ کو روکنے والا اسپرے

لاس اینجلس: بعض سرطانی رسولیوں کو جراحی کے ذریعے نکالنا پڑتا ہے لیکن تمام تر احتیاط کے باوجود بھی کچھ خلیات (سیلز) ایسے رہ جاتے ہیں جو دوبارہ کینسر بڑھا سکتے ہیں لیکن اب ایک ’امنیاتی جیل اسپرے‘ سے ایسی باقیات کو ختم کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

اس طریقہ علاج کو امیونو تھراپی کی ہی ایک قسم بتایا جارہا ہے۔ اس عمل میں سرجری کے ذریعے نکالی جانے والی رسولی کے زخم پر اسپرے کیا جاتا ہے جس سے امنیاتی خلیات بچے کچھے سرطانی خلیات کو ختم کرتے ہیں خواہ وہ زخم پر ہوں یا جسم کے کسی اور حصے میں ہوں۔ اس عمل میں کوئی منفی اثرات بھی مرتب نہیں ہوتے۔

اس ضمن میں ایک خاص قسم کے سالمے (مالیکیول) CD 47 کو ہدف بنایا جاتا رہا ہے۔ یہ کئی اقسام کی سرطانی رسولیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ کیمیکل جہاں بھی ہوتا ہے وہاں بہت چالاکی سے سگنل خارج کرتا ہے کہ وہ خطرناک نہیں اور یوں جسمانی امنیاتی نظام سے بچ رہتا ہے لیکن اصل میں یہ اسی جگہ دوبارہ کینسر کو پروان چڑھاتا ہے۔ اب اسے ختم کرنے کے لیے جو بھی اینٹی باڈیز بنی ہیں وہ اسے روک تو دیتی ہیں مگر ساتھ ہی خون کے صحت مند سرخ خلیات کو بھی ختم کرتی ہیں کیونکہ ان کی معمولی مقدار وہاں بھی موجود ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا لاس اینجلس کے پروفیسر زین گیو اور ان کے ساتھیوں نے اس عمل کو مزید بہتر بنایا ہے۔ انہوں نے چوہوں کو پہلے جلد کے کینسر کا شکار بنایا پھر ان کی سرطانی رسولیاں نکالیں اور اس کے بعد ایک ایسے جیل کی پھوار ڈالی جس میں سی ڈی فورٹی سیون ختم کرنے والی اینٹی باڈیز موجود تھیں۔ اس میں ایک اور کیمیکل تھا جو زخم کو قدرے کم تیزابی بناتا ہے تاکہ وہاں امنیاتی خلیات بھی اچھی طرح کام کرسکیں۔

اس طرح ماہرین نے ثابت کیا کہ جیل اسپرے میں اگر دوسرا کیمیکل بھی شامل کردیا جائے تو چوہوں میں اس کے مثبت اثرات ہوئے اور وہاں دوبارہ رسولی بننے کا عمل بہت کم دیکھا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیل کے ساتھ امنیاتی خلیات کے لیے سہولت کار کیمیکل دہرا فائدہ دیتا ہے تاہم یہ صرف چوہوں پر تحقیق کی گئی ہے اگلے مرحلے میں اس عمل کو بڑے جانوروں پر آزمایا جائے گا انسانی آزمائش ابھی دور ہے۔

اس چائے کا ایک کپ روزانہ پینا توند سے نجات دلائے

کیا بڑھتے جسمانی وزن خصوصاً توند نکلنے سے پریشان ہیں؟ تو ایک منفرد مشروب اس مسئلے سے دنوں میں نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

جی ہاں روز ٹی یا گلاب کی چائے، بہت تیزی سے جسمانی وزن میں کمی میں مدد دے سکتی ہے۔

یہ توند سے نجات دلانے کے ساتھ مختلف طبی فوائد بھی حاصل ہوسکتے ہیں جسیے جلد کی صحت بہتر جبکہ بال بھی صحت مند ہوتے ہیں۔

اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس نظام ہاضمہ کو بھی بہتر بناتے ہیں جبکہ اس کی مہک ذہنی تناﺅ دور کرنے کے ساتھ مزاج خوشگوار بناتی ہے۔

روز ٹی بنانے کا طریقہ

ایک سے 2 کپ تازہ گلاب کی پتیاں لیں اور انہیں پانی سے اچھی طرح دھولیں۔ اس کے بعد ساس پین میں ڈال کر اسے 3 کپ پانی سے بھردیں اور پانچ منٹ تک ابالیں، اس کے بعد پانی کو چھان کر کپ میں ڈال دیں، اس میں شہد کو شامل کردیں یا پھر ایسے ہی پی لیں۔

جسمانی وزن کیسے کم کرتی ہے؟

یہ چائے اینٹی آکسائیڈنٹس اور ورم کش خصوصیات رکھتی ہے، جس سے جسمانی وزن کم کرنے کی کوششیں زیادہ بہتر ہوتی ہیں، اسی طرح یہ چائے نظام ہاضمہ کو بھی بہتر کرتی ہے اور صحت مند نظام ہاضمہ موٹاپے سے نجات کے لیے ضروری ہے، روزانہ ایک سے 2 کپ اس مشروب کو پینا توند سے جلد نجات دلاسکتا ہے۔

اس سے ہٹ کر یہ چائے پیشاب کی نالی میں سوزش کی روک تھام بھی کرتی ہے اور زہریلے مواد کو خارج کرتی ہے، جس سے بھی جسم کے لیے صحت مند وزن برقرار رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔

یہ چائے کیفین فری ہوتی ہے اور پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے کا احساس دلاتی ہے جس سے بے وقت کھانے کی عادت سے نجات ملتی ہے اور اس سے بھی توند سے نجات میں مدد ملتی ہے۔

یہ چائے جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے اور اس کی وجہ اس میں موجود وٹامن سی کی موجودگی ہے جو مختلف اقسام کے انفیکشن سے تحفظ فراہم کرتا ہے، جسمانی مدافعتی نظام جتنا مضبوط ہوگا، موٹاپے سے نجات بھی اتنی ہی آسان ہوگی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

موٹاپا زیادہ کھانے یا بیٹھنے سے نہیں ہوتا تو پھر ہوتا کیسے ہے؟

ویسے تو ماہرین بھی آج تک اس بات کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے کہ بعض انسان موٹے کیوں ہوتے ہیں؟

انسان کے موٹے ہونے یا ان کے وزن بڑھنے کے حوالے سے کئی تحقیقات کی جا چکی ہیں اور ہر بار اس حوالے سے کوئی نہ کوئی نیا سبب سامنے آیا ہے۔

زیادہ تر سمجھا اور کہا جاتا ہے کہ وہ انسان ہی موٹا ہوتا ہے جو زیادہ غذائیں کھانے سمیت ہر وقت بیٹھے رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔

بعض افراد کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی نوکری اس طرح کی ہے وہ زیادہ تر کرسی پر بیٹھے رہتے ہیں اور گاڑی میں سفر کرتے ہیں، کوئی ورزش نہیں کرتے، اپنے کام کی ٹیبل پر کھانا کھاتے ہیں، جس وجہ سے ان کا وزن بڑھ گیا ہے۔

موٹاپا بڑھنے کی وجہ سے یقینا دنیا بھر میں کئی طرح کے مسائل بھی ہوئے ہیں اور ترقی پذیر ممالک سمیت ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کے مرنے کا ایک سبب موٹاپا بھی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 70 فیصد افراد موٹاپا یا اضافی وزن کا شکار ہیں، جب کہ ایسے افراد موٹاپا یا اپنا وزن کم کرنے کے لیے جہاں زیادہ وقت بھوک کا شکار رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں وہ مختلف ایکسر سائیزز بھی کرتے ہیں۔

زیادہ تر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ انسان کا طرز زندگی، کھانے پینے کا شوق، ہر وقت بیٹھے رہنے، سوتے رہنے اور ورزش نہ کرنے کی وجہ سے وزن بڑھتا ہے اور وہ موٹاپے کا شکار رہتا ہے۔

تاہم یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دنیا میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں، جو ہر طرح کی غذائیں بھی کھاتے ہیں، زیادہ وقت تک بیٹھے رہنے سمیت کوئی ایکسر سائیز بھی نہیں کرتے، لیکن پھر بھی وہ موٹاپے کا شکار نہیں ہوتے۔

اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض افراد اپنی غذا کو کم رکھنے سمیت ایکسر سائیز کا بھی اہتمام کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اورانسان موٹا کیسے اور کن چیزوں سے ہوتا ہے؟

تو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ ہر انسان کا جسم مختلف ہوتا ہے اور ہر کسی کے جسم میں غذائیت کو جذب کرنے اور غذا کو مکمل جسم میں تقسیم کرنے کی اہلیت بھی منفرد ہوتی ہے۔

ویٹ مینیجمنٹ کے حوالے سے دنیا بھر میں معروف بھارتی ادارے ’دھرندھر‘کے ماہرین کے مطابق انسان در اصل کچھ ہارمون کی خرابیوں کی وجہ سے ہی موٹا ہے، اس میں انسان کے کھانے پینے یا ہر وقت بیٹھے رہنے کا کوئی عمل دخل نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرت نے انسان کے جسم کو اس قدر اعلیٰ سائنسی بنیادوں پر تخلیق کیا ہے کہ ہر کسی کا جسم اپنی ضروریات خود ہی محسوس کرتا ہے اور جسم میں موجود کچھ خاص عضو اور ہارمونز خود ہی ہر ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔

دھرندھر کے ماہرین کے مطابق ہر انسان کے جسم میں چربی کو جمع کرنے کا ایک سسٹم موجود ہوتا ہے، جو مختلف غذاؤں سے حاصل ہونے والی چربی کو ایک جگہ جمع کرتا ہے، جس کے بعد ضرورت پڑنے پر وہ سسٹم چربی کو جسم کے ان حصوں میں منتقل کرتا ہے، جہاں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ہر انسان کا دماغ غذائیت اور بھوک کے حوالے سے 2 ہارمونز ’لیپٹین‘ اور ’گیرلن‘ پیدا کرتا ہے، جو انسان کے جسم کی غذائی ضروریات اور سسٹم کو کنٹرول کرتے ہیں، ان ہی ہارمونز کی وجہ سے انسان کو غذاؤں کی طلب ہوتی ہے، یہی ہارمونز انسان کے جسم میں موجود غذائی سسٹم میں چربی کو جمع کرنے اور اسے جسم کے دیگر حصوں تک منتقل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان کے جسم میں اس قدر نمایاں سائنسی بنیادوں پر سسٹم موجود ہے تو پھر بھی انسان موٹا کیوں ہوتا ہے؟

اسی سوال کا جواب ان ہی ماہرین نے یوں دیا ہے کہ چوں کہ ہر انسان ایک طرح پیدا نہیں ہوتا، کچھ انسان ان ہارمونز کی خرابی کے ساتھ بھی پیدا ہوتے ہیں اور کچھ انسان چربی کو جمع کرنے والے سسٹم کی دیگر خرابیوں کے ساتھ بھی پیدا ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہارمونز اور دیگر اندرونی سسٹم کی خرابیوں کے ساتھ پیدا ہونے والے انسان ہی موٹے ہوتے ہیں۔

ساتھ ہی ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ انسانی جسم کے یہ سسٹمز اور ہارمونز بعد میں بھی خراب ہوتے ہیں اور انہیں خراب کرنے میں خود انسان کا ہاتھ ہوتا ہے۔

ماہرین نے دلیل دی کہ بعض مرتبہ انسان ایسی غذائیں کھاتا ہے جنہیں کھانے کے لیے وہ تیار نہیں ہوتا، تاہم مجبورا یا رسما وہ انہیں کھاتا ہے، جو بعد میں مسائل پیدا کرتے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

سوتے میں بڑبڑانے کے بعد اب نیند میں میسج کرنے کا مرض عام

پنسلوانیا: اگر آپ کے دوست کی جانب سے آپ کو ٹیکسٹ کچھ اس طرح موصول ہو:

Me kal aapsoo   n,, milne aa veggird  ;’fuelme

تو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایک نفسیاتی کیفیت کا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔

اس نہ سمجھ آنے والے ٹیکسٹ میسج کو ایک نئے مرض سے تعبیر کیا جارہا ہے جسے عین نیند میں باتیں کرنے کی طرح نیند میں ٹیکسٹ کرنے کی ایک کیفیت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جس میں لوگ فون اٹھاتے ہیں، ان لاک کرتے ہیں، دوست کا انتخاب کرتے ہیں، میسج لکھ کر اسے سینڈ کردیتے ہیں اور یہ سب کچھ نیند میں ہوتا ہے۔ اس میں میسج لکھنے والا آنکھیں بھی نہیں کھولتا اور اسے ’سلیپ ٹیکسٹ‘ کا نام دیا جارہا ہے جس میں لکھا جانے والا پیغام بے معنی اور گڑ بڑ ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ عجیب بات لگتی ہے کہ لیکن آپ کو جان کر حیرت ہوتی ہے کہ ٹیکسٹ کرنے والے کو یاد بھی نہیں رہتا کہ اس نے کسی کو کوئی پیغام بھیجا ہے۔ اسے پیراسومنیا کی ایک قسم قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ لوگ سوچتے میں عجیب و غریب کام کرنے کے عادی ہوں۔ تاہم یہ کیفیت کم ازکم مغربی ممالک میں ہماری توقع سے زیادہ عام ہوتی جارہی ہے۔

اس ضمن میں پینسلوانیا میں وِلانووا یونیورسٹی کے ماہرین نے کالج کے 372 طلبا و طالبات سے نیند اور فون کے استعمال کے بارے میں سوالات کئے تو ان میں سے 26 فیصد افراد نے کہا کہ وہ کسی موقع پر نیند میں بھی میسج بھیجتے ہیں۔  ٹیکسٹ کرنے والوں کی اکثریت رات کو فون اپنےپاس رکھ کر سوتی ہے اور ایک اس سے بچنے کے لیے بستر کے درمیان میں سوتی ہے اور فون کو دور رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔

ماہرین نے اس کیفیت پر مزید تحقیق کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فون کو خود سے دور رکھیں یا فون مکمل آف کرکے سوئیں ۔

مریخ پر بھیجی گئی ناسا کی خلائی گاڑی پر پاکستانی کا نام

نظام شمسی میں سے تمام سیاروں میں سے جو سیارہ اپنی خوبصورتی کو وجہ سے خاص طور پر بچوں کو محظوظ کرتا ہے وہ سیارہ زحل ہے، لیکن اسی کے ساتھ ہی سیارہ مشتری اور مریخ بھی کم نہیں ہیں، سیارہ مشتری جہاں اپنے بڑے حجم اور اس پر چلنے والے طوفان کی وجہ سے مشہور ہے وہیں سیارہ مریخ اپنی سرخی اور قطبین پر موجود برف کی وجہ سے بہت پسند کیا جاتا ہے۔

مریخ باقی 2 سیاروں مشتری اور زحل کی نسبت زمین سے زیادہ قریب ہے اور اس پر زندگی کے آثار کی جھلک بھی کہیں کہیں نظر آتی ہے جس کی وجہ سے یہ سیارہ دنیا بھر کے سائنسدانوں کو بھی خاصا پسند ہے، اسی لیے ہی امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے 8 خلائی گاڑیاں مریخ کی سطح پر اتاری جاچکی ہیں اور بہت سے ممالک کی خلائی گاڑیاں مریخ کے گردش محور بھی ہیں۔

حال ہی میں ناسا کی جانب سے اپنی آٹھویں خلائی گاڑی مریخ کی سطح پر اتاری گئی۔ اس مشن کا نام “انسائٹ مشن” رکھا گیا ہے، جس میں لفظ انسائٹ “انٹریور ایکسپلو ریشن یوزنگ سیسمک انویسٹیگشنز، جیودیسی، اینڈ ہیٹ ٹرانسپورٹ” کا مرکب ہے۔

یہ انگریزی زبان کا لفظ ہے اور اس خلائی مشن کا اصل مقصد بیان کرتا ہے، اس مشن کا اصل مقصد مریخ کے اندرون حصے کا بغور جائزہ لینا اور سیارے پر پیدا ہونے والے زلزلوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

یہ خلائی لینڈر ناسا کے اس سے پہلے بھیجی گئی ‘کیوروسٹی’ اور ‘اوپر چونیٹی’ خلائی گاڑیوں جو مریخ کی سطح پر چل رہی ہیں سے برعکس ایسا خلائی لینڈر ہے جو ایک ہی جگہ پر ساکن کھڑا رہ کر بہت سے تجربات کرے گا۔

انسائٹ مشن مارچ 2016 میں لانچ کیا جانا تھا لیکن اس کے ایک آلے کی جانچ کرتے ہوئے سائنسدانوں اور انجینئرز کو اس کی خرابی کا علم ہوا جس وجہ سے ناسا کو اس مشن لانچ کی تاریخ آگے بڑھانا پڑی اور اس کے لانچ کی تاریخ مئی 2018 رکھی گئی، اس خرابی کو ایک سال کے عرصے میں ٹھیک کرلیا گیا اور بار بار جانچ کے بعد ٹھیک قرار دیا گیا۔

یہاں بہت سے ساتھی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر ایک سال میں اس خرابی سے نپٹ لیا گیا تھا تو پھر سال 2017 میں اس خلائی گاڑی کو لانچ کرنے کی بجائے سال 2018 تک کیوں لے جایا گیا؟

اس کا آسان جواب یہ ہے کہ زمین سے مریخ کی جانب بہت سی خلائی گاڑیاں بھیجی گئی ہیں اور انہیں بھیجنے میں سائنسدانوں اور انجینئرز کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ خلائی سفر پر کم سے کم خرچ اور وقت لگے، تو اس لیے مریخ کی جانب جانے والی خلائی گاڑیوں کو اس وقت بھیجا جاتا ہے جب مریخ اور زمین سورج کے گرد اپنے اپنے مدار میں ایک دوسرے سے قریب ہوں۔ اس سے وقت اور خرچہ دونوں ہی کم لگیں گے۔

ریاضی کی مدد سے یہ حساب کیا جاچکا ہے کہ زمین اور مریخ ایک دوسرے کے سب سے قریب ہر 26 ماہ بعد آتے ہیں، یعنی اس کا یہ مطلب ہوا کہ سائنسدانوں اور انجینئرز کے پاس ہر 26 مہینوں بعد ایک موقع ہوتا ہے، جس کا فائدہ وہ بھرپور طریقہ سے اٹھا سکتے ہیں۔

اسی بات تو مد نظر رکھتے ہوئے مارچ 2016 کے ٹھیک 26 مہینے بعد مئی 2018 میں انسائٹ مشن کو 5 مئی 2018 کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 5 منٹ پر ونڈنبرگ اسپیس لانچ سینٹر، کیلی فورنیا سے سیارہ مریخ کی جانب روانہ کیا گیا، انسائٹ مشن پہلا ‘انٹرپلینٹری’ (2 سیاروں کے درمیان) مشن تھا جو کیلی فورنیا سے لانچ کیا گیا۔

اس مشن کے ساتھ چھوٹے بریف کیس کے حجم کے 2 بونے مواصلاتی سیاروں کو بھی خلاء میں چھوڑا گیا جو مریخ پر اترنے کے لیے نہیں تھے، بلکہ اس لیے تھے کہ جب انسائٹ لینڈر مریخ کی سطح پر اترے تو زمین سے اس لینڈر کا رابطہ جلدی ہو سکے، ان 2 مواصلاتی سیاروں کو ‘مارکو’ یا ‘مارز کیوب ون’ کا نام دیا گیا۔

انسائٹ لینڈر تقریبا ساڑھے 6 ماہ کی مسافت طے کرکے 26 نومبر 2018 کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 1 بج کر 52 منٹ پر مریخ پر اترا اور ناسا کے آفس میں اس کامیاب لینڈنگ کے بعد خوشی کی لہر دوڑ گئی، یہ خلائی لینڈر اپنے ساتھ بہت سے آلات لے کر گیا ہے جن میں سے 2 آلات ایسے ہیں کہ یہ اپنی لینڈنگ کے بعد انہیں مریخ کی سطح پر رکھ دے گا۔

ان آلات میں ایک آلہ ایسا ہے جو روبوٹک آرم (ہاتھ) کی مدد سے مریخ کی سطح پر رکھ دیا جائے گا اور اس پر ایک گنبذ نما ڈبہ رکھ دیا جائے گا تاکہ اس آلے کی مدد سے لیے جانے والے ڈیٹا میں موسمی حرکات کی وجہ سے خلل واقعہ نہ ہو، یہ آلہ اپنے آس پاس ہونے والی ہلکی سی لرزش کا بھی پتا لگا لیتا ہے، اس آلے کے حساس ہونے کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک تتلی اپنے پر ہلائے گی تو یہ اسے بھی ڈٹیکٹ کرلے گا۔

اس کے علاوہ انسائٹ لینڈر پر ایک اور آلہ بھی موجود ہے جس کو مریخ کی سطح پر اتارا جائے گا اور وہ ایک جگہ نصب ہوکر اپنے اندر موجود 5 میٹر یا 16 فٹ لمبے راڈ کو مریخ کی سطح کے اندر گاڑھ دے گا، اس راڈ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بہت سے ایسے سینسرز لگے ہیں جو مریخ کے اندر کی گرمائش کے بارے میں ڈیٹا لے کر زمین پر بھیجیں گے۔

سائنسدانوں کا ماننا یہ ہے کہ اس سے پہلے بہت سے طریقوں سے ہم مریخ کی سطحی جانچ کرچکے ہیں لیکن ہم مریخ کے اندرونی حصے کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں، لہذا اس مشن کے ذریعے ہمیں نہ صرف سیارے کی باہری سطح کے بارے میں مزید معلومات ملے گیں بلکہ مریخ کے مرکز کے بارے میں بھی پتہ چلے گا کہ آیا مریخ کا مرکز (کور) زمین کی طرح سخت ہے یا مایا حالت میں ہے۔

انسائٹ مشن 6 میں مریخ پر پہنچا—فوٹو: ناسا
انسائٹ مشن 6 میں مریخ پر پہنچا—فوٹو: ناسا

سائنسدانوں کو اس بات کا تو علم ہے کہ زمین پر زندگی موجود ہے جبکہ مریخ پر زندگی نظر نہیں آتی اور اس کی وجہ تلاش کرنے کے لیے سطحی اور گردش کرتی گاڑیاں تو بھیجی گئی ہیں لیکن اب مریخ کے اندرونی حصوں کی تحقیق کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے انسائٹ مشن سیارہ مریخ کے اندرونی خدوخال کے بارے میں جاننے کی پہلی کوشش ہے۔

اگر سائنسدان مریخ (جہاں زندگی موجود نہیں ہے) کے اندرونی حصوں کو صحیح سے جانچنے میں کامیاب ہوگئے تو نہ صرف مریخ بلکہ ہمیں زمینی چاند، سیارہ زہرہ، عطارد اور یہاں تک کہ دوسرے ستاروں کے گرد چٹانی سیاروں کے بارے میں بھی سیکھنے کا موقع ملے گا۔

جیسا کہ ناسا کا یہ دستور رہا ہے کہ وہ کسی بھی مشن کو بھیجنے سے پہلے اس پر “انسانیت” کی مہر لگاتا ہے، یعنی مشن کوئی نہ کوئی نشانی ضرور اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے، جس سے کائنات میں کسی کو بھی معلومات مل سکتی ہے کہ یہ انسانوں کی تیار کردہ اور انسانوں کے گرو کی جانب سے بھیجی گئی چیز ہے، اسی طرح انسائٹ مشن سے پہلے بھی ناسا نے اپنی ویب سائٹ پر ایک رجسٹریشن پورٹل کھولا تھا جس میں دنیا بھر سے کوئی بھی اپنا نام رجسٹر کروا سکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں دنیا بھر سے تقریبا 26 لاکھ لوگوں نے اپنے نام رجسٹر کروائے، وہ تمام نام الیکٹرانک لیزر کے ذریعے ایک چھوٹی سی چپ پر لکھے گئے، جسے انسائٹ لینڈر کے عین اوپر نصب کردیا گیا تھا، ان ناموں میں بہت سے پاکستانیوں کے نام بھی موجود تھے جن میں مصنف خود بھی شامل ہیں۔

نارنجی کا رس خون کا بہاؤ بڑھانے اور یادداشت میں مفید

ہارورڈ: موسمِ سرما میں نارنجیاں ہر جگہ عام ملتی ہیں اور لوگ اس پھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں اس لذیذ پھل کے دو اہم فوائد سامنے آئے ہیں جو اس کی اہمیت مزید بڑھاتے ہیں۔ اول وہ افراد جن کے ہاتھ پاؤں سن رہتے ہیں وہ ایک ماہ تک نارنجی کا رس پئیں تو اس سے یہ کیفیت جاتی رہتی ہے اور دوم اس کا جوس ڈیمنشیا سمیت کئی امراض کو لاحق ہونے سے روکتا ہے۔

ماہرین نے مسلسل 20 سال تک 28 ہزار افراد کا جائزہ لیا جس میں پھل اور سبزیوں کے دماغی قوت اور صحت سے تعلق کی تصدیق کرنا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر کوئی مرد روزانہ اورنج جوس کے ایک چھوٹے گلاس پینے کو معمول بنالے تو اس سے حافظہ متاثر ہونے کا خدشہ 47 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔

یادداشت میں رکاوٹ، سمجھنے اور فیصلہ کرنے میں مشکلات اور دیگر کیفیات دماغی عارضے کی وجہ ہوسکتی ہیں جو آخر کار جان کا خطرہ بن جانے والے ڈیمنشیا بیماری کو بھی جنم دیتی ہیں۔ اس وقت دنیا میں کروڑوں افراد اس مرض کے شکار ہیں۔ ڈیمنشیا کو یادداشت چرانے والا مرض بھی کہا جاتا ہے جس کا کوئی علاج موجود نہیں ہے۔

اس تحقیق سے وابستہ مرکزی سائنس داں چانگ زینگ یوآن کہتے ہیں کہ نارنجی اور کینو کا رس، پھل اور سبزیوں کو طویل عرصے تک استعمال کیا جائے تو دماغ پر اس کے بہترین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے دو دہائیوں تک شرکا سے سوال نامے بھروائے اور یہ کام ہارورڈ یونیورسٹی کے تعاون سے انجام دیا گیا۔

سروے کی ابتدا میں شرکا کی اوسط عمر 20 سال تھی اور انہیں پانچ گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان میں بعض گروپ میں شرکا کو روزانہ کی بنیاد پر مختلف مقدار میں نارنجی کا جوس، پھل اور سبزیاں کھانے کی تلقین کی گئی۔ ماہرین کے مطابق پھل اور سبزیوں کی بجائے جن افراد نے روزانہ کی بنیاد پر جوس استعمال کیا ان کی یادداشت بہتر دیکھی گئی اور انہوں نے مختلف ٹیسٹ میں دوسروں سے بہتر کارکردگی دکھائی۔

اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ نارنجی کا رس دماغی زوال اور یادداشت میں کمی کو روکنے میں بہت معاون ثابت ہوسکتا ہے ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ نارنجیوں میں موجود مختلف فلیوینوئڈز خون کی روانی کو بڑھاتے ہیں۔

انڈے صحت کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

انڈے اکثر افراد کے ناشتے کا حصہ ہوتے ہیں جبکہ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس سے لے کر ہر جگہ ان کا استعمال ہوتا ہے۔

مگر انڈوں کے حوالے سے کافی سوالات بھی لوگوں کے ذہنوں میں ہوتے ہیں جیسے کیا انڈے کھانا کولیسٹرول بڑھانے کا باعث تو نہیں بنتے؟ کیا انڈے کی صرف سفیدی کھانی چاہئے یا زردی؟

کیا انڈوں سے جسم کو اہم وٹامنز اور منرلز حاصل ہوتے ہیں ٰیا نہیں؟

تو جانیں کہ ماہرین طب اس حوالے سے کیا رائے رکھتے ہیں۔

کیا انڈے صحت بخش ہیں؟

ماہرین طب اس بات پر متفق ہیں کہ پروٹین اور وٹامنز کی موجودگی کے باعث انڈے ایک صحت مند آپشن ہیں، انڈوں میں 13 اہم وٹامنز اور منرلز ہوتے ہیں جبکہ یہ معیاری پروٹین کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہے، جس سے جسم کے مسلز بنانے اور مضبوط رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ایک انڈے سے 6 گرام پروٹین حاصل ہوتا ہے جبکہ کیلوریز 72 ہوتی ہے، یعنی کم کیلوریز میں بہت زیادہ غذائی اجزا جسم کو مل جاتے ہیں۔ اس میں موجود اجزا جیسے بائیوٹین (جو غذا کو توانائی میں بدلتے ہیں)، کولین (میٹابولزم اور دیگر کے لیے انتہائی ضروری)، وٹامن اے (جسمانی مدافعتی نظام کے لیے ضروری) اور اینٹی آکسائیڈنٹس جسم کو فری ریڈیکلز سے بچاتے ہیں۔ اور ہاں انڈے ان چند محدود غذاﺅں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے قدرتی طور پر وٹامن ڈی کا حصول ممکن ہے۔

کیا انڈے کی زردی کھانی چاہئے؟

لوگ سمجھتے ہیں کہ انڈوں کی زردی کے نتیجے میں بلڈ کولیسٹرول کی سطح بڑھتی ہے جو کہ خون کی شریانوں کو تنگ کرکے امراض قلب کا باعث بنتی ہے۔ انڈوں میں غذائی کولیسٹرول زردی میں پائی جاتی ہے مگر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق انڈوں میں پائے جانے والی غذائی کولیسٹرول بلڈ کولیسٹرول بڑھانے کا باعث نہیں بنتی بلکہ وہ صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاتی ہے۔ درحقیقت انڈوں کی زردی مختلف قسم کی چربی کا مجموعہ ہوتی ہے جبکہ وٹامن ای بھی اس کا حصہ ہے جو جسم کے لیے کافی ضروری ہے۔ تاہم اس کا سب سے خاص جز کیروٹین ہے جس کے ساتھ لیوٹین اور زیاژنتین بھی ہوتے ہیں جو آنکھوں کی صحت میں مددگار اور ورم سے تحفظ دیتے ہیں۔

کیا انڈے کی سفیدی کھانی چاہئے؟

انڈے پروٹین سے بھرپور غذا ہے خصوصاً زردی، مگر سفیدی میں بھی کم چربی والی پروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ جسم کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہ پروٹین مسلز بنانے کے ساتھ ساتھ بے وقت کھانے کی اشتہا کی روک تھام کرکے پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے۔ انڈے ویسے بھی زیادہ کیلیوریز والی غذا نہیں، مگر زردی کو نکال دیا جائے تو یہ کیلوریز اور کم ہوجاتی ہیں۔ تو اگر جسمانی وزن میں کمی کے خواہشمند ہیں تو پورے انڈے کی بجائے سفیدی کا انتخاب جادوئی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ انڈے کی سفیدی میں موجود پوٹاشیم ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے اور اسے صحت مند سطح پر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح سفیدی اہم وٹامنز جیسے اے، بی 12 اور ڈی سے بھرپور ہوتی ہے، ان میں سب سے اہم وٹامن بی 2 ہے جو کہ عمر بڑھنے سے مسلز میں آنے والی تنزلی، موتیا اور آدھے سر کے درد سمیت دیگر عوارض کا خطرہ کم کرتا ہے۔

کیا انڈے کھانے سے کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے؟

انڈوں میں کولیسٹرول کی مقدار کافی ہوتی ہے یعنی 212 ملی گرام، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ جسم میں ‘برے’ کولیسٹرول کی سطح کو بڑھانے کا کام کرتا ہے۔ جسم خود بھی کولیسٹرول بنانے کا عمل مسلسل جاری رکھتا ہے اور ایک تحقیق کے مطابق انڈے ہماری کولیسٹرول پروفائل کو بہتر بنانے کا کام کرتے ہیں اور اچھے کولیسٹرول کی سطح کو بڑھاتے ہیں۔

انڈے پکانے کا کونسا طریقہ سب سے زیادہ فائدہ مند؟

انڈے آپ جیسے دل کریں، کھائیں جیسے ہارڈ بوائل، سافٹ بوائل، آملیٹ یا فرائی، پورا انڈہ کھانے پر آپ کو تمام فوائد حاصل ہوں گے، تاہم اگر آملیٹ کی شکل میں اس میں سبزیوں کا اضافی کیا جائے تو اس کے فائدے مزید بڑھ جاتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative