صحت

یہ عام دستیاب پھل قبض کو ہمیشہ دور رکھے

انجیر پاکستان میں آسانی سے دستیاب پھل ہے جس کا ذکر قدیم یونانی اور رومی تاریخ میں بھی ملتا ہے۔

اس زمانے میں اس پھل کو خوشحالی، بانجھ پن سے بچاﺅ اور فراخی رزق کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

انجیر کو خشک یا تازہ کسی بھی شکل میں کھایا جائے، فائدہ مند اجزاء سے بھرپور یہ سوغات متعدد بیماریوں سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔

مگر یہ پھل قبض سے بچاﺅ میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

عمر بڑھنے سے جسم کی قوت مدافعت کمزور ہونے پر مختلف امراض کا خطرہ بڑھتا ہے جن میں سب سے عام قبض کا ہوتا ہے۔

درحقیقت درمیانی عمر کے افراد نہیں بلکہ نوجوان بھی اس مسئلے کا شکار ہوتے ہیں جس کی وجہ ناقص غذا کا استعمال ہوتا ہے، ایسی متعدد قدرتی غذائیں ہیں جو قدرتی طور پر جلاب کا اثر کرکے قبض سے نجات دلاتی ہیں۔

ان میں سے ہی ایک پھل انجیر بھی ہے اور اسے روزانہ کھانا معمول بنانا نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے جس سے آنتوں کے امراض سے تحفظ ملتا ہے۔

انجیر کے استعمال کے درج ذیل طریقے قبض سے نجات دلانے کے ساتھ ساتھ انہیں ہمیشہ دور رکھیں گے۔

انجیر بھگو کر استعمال کرنا

چھوٹے حجم کا برتن لیں اور اس کو پانی سے بھرلیں، اس کے بعد 2 سے 3 ٹکڑے خشک انجیر کے بھگو کر رات بھر کے لیے چھوڑ دیں۔ اگلی صبح اس پانی کو پی لیں جبکہ بھگوئی گئی انجیریں شہد کے ساتھ کھالیں۔ یہ خیال رکھیں کہ نہارمنہ ہی اس پانی کو پینا ہوگا، جس سے نظام ہاضمہ بہتر ہوگا جبکہ انجیر میں موجود فائبر قبض سے لاحق ہونے والے دیگر مسائل خطرہ کم کرے گا۔ فائبر ہاضمے کے لیے بہترین جز ہے اور انجیر میں اس کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جس سے آنتوں کو متحرک کرنے میں مدد ملتی ہے اور قبض ہمیشہ دور رہتا ہے۔ ضروری نہیں کہ قبض کے شکار افراد ہی اس ٹوٹکے کو استعمال کریں کوئی بھی اس سے فائدہ اٹھاسکتا ہے تاکہ کبھی معدے کے امراض کا سامنا نہ ہو۔

خشک انجیر کھانا

خشک انجیر کو کھانے کی عادت معدے کی صحت کو بہتر بناتی ہے، اس میں وٹامن بی سکس کافی زیادہ ہوتا ہے جو جسم میں کولیسٹرول لیول کو مستحکم بناتا ہے جبکہ غذا کو ہضم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے، جس سے بھی قبض سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔

انجیر کا شربت

اس شربت کو بنانے کے لیے ایک چھوٹی پتیلی لیں اور درمیانی آنچ والے چولہے پر رکھ دیں، اس کے بعد ایک کپ پانی ڈال کر ابالیں اور اس کے بعد خشک انجیر کے 2 ٹکڑوں کا پانی میں اضافہ کرکے اس وقت تک پانی ابالیں، جب تک انجیر نرم نہ ہوجائے۔ اس کے بعد یہ شربت گلاس میں ڈال کر پی لیں۔ یہ شربت خالی پیٹ پینا ہی نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے جبکہ قبض کو ہمیشہ دور رکھتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

دیسی یا فارمی، کونسا انڈا زیادہ غذائیت سے بھرپور

انڈوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ ایک وقت کا کھانا نہیں کھا رہے تو ایک انڈا کھا لیں کیوں کہ اس میں اتنی ہی غذائیت موجود ہوگی جنتی آپ کی ایک وقت کی میل میں ہے۔

دنیا بھر میں ناشتے میں سب سے زیادہ کھائے جانے والی غذا میں سے ایک انڈا ہے، جبکہ انڈوں کو دیگر پکوانوں میں بھی شامل کیا جاتا ہے، جبکہ میٹھے پکوانوں میں بھیا انڈے شامل کرنا عام ہے۔

متعدد ڈاکٹرز روز ایک انڈا کھانے کا مشورہ بھی دیتے ہیں، جو باڈی کو مکمل ہر وہ غذائیت فراہم کرسکتا ہے جس کی اس کو ضرورت ہے۔

عام طور پر بازار میں دو طرح کے انڈے دستیاب ہوتے ہیں جن میں دیسی اور فارمی انڈے شامل ہیں۔

اور ان دونوں انڈوں کے حوالے سے ایسی کئی باتیں سامنے آئیں کہ ان میں سے ایک انڈا زیادہ غذائیت سے بھرپور ہے۔

عام طور پر ایسا سوچا جاتا ہے کہ دیسی انڈے کھانا صحت کے لیے زیادہ مثبت ہے، شاید یہ بات اس لیے زیادہ کہی جاتی ہے کیوں کہ دیسی انڈے بازار میں فارمی انڈوں کے مقابلے زیادہ مہنگے ملتے ہیں۔

لیکن کیا واقعی فارمی انڈوں کے بجائے دیسی انڈے کھانے کے زیادہ فوائد موجود ہیں؟

اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ فارمی انڈے کھانے کے فائدے دیسی انڈوں سے کم ہیں۔

ان دونوں انڈوں کے درمیان کے فرق کو سمجھنے کے لیے کئی تحقیقات سامنے آئیں، لیکن آج تک ایسی کوئی بڑی تبدیلی سامنے نہیں آئی جس کے باعث یہ کہا جائے کہ دیسی انڈے فارمی انڈوں سے زیادہ بہتر ہیں۔

ان دونوں انڈوں میں رنگت کے علاوہ کوئی زیادہ بڑا فرق نہیں جبکہ ان کے ذائقہ میں بھی بہت ہلکا سا فرق محسوس ہوگا۔

ان دونوں انڈوں میں کیلوریز، پروٹین اور کولسٹرول کی مقدار ایک برابر ہے، دیسی انڈوں میں صرف اومیگا 3 کی مقدار تھوڑی زیادہ پائی جاتی ہے، لیکن اس فرق کو بہت بڑا نہیں سمجھا جاتا۔

دیسی انڈے بازار میں فارمی انڈوں سے زیادہ مہنگے ملتے ہیں، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں دیسی انڈوں کا صحت پر زیادہ مثبت اثر پڑتا ہے۔

اگر ان دونوں انڈوں میں کوئی بات اہم مانی جاتی ہے تو وہ مرغی کی غذا ہے اور اس ہی کو مدنظر رکھتے ہوئے بتایا جاسکتا ہے کہ کونسا انڈا زیادہ غذائیت سے بھرپور ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آپ کا دل کتنا صحت مند ہے؟ گھر بیٹھے جاننا ممکن

 10 سے زائد پش اپ کرنے کی اہلیت امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ کم کرتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ درمیانی عمر کے افراد جو ایک بار میں 40 سے زائد پش اپ لگاسکتے ہیں، ان میں خون کی شریانوں سے جڑے امراض، جیسے ہارٹ اٹیک، فالج اور امراض قلب کا خطرہ 96 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پش اپ ایسا آسان اور مفت طریقہ کار ہے جس سے کسی بھی وقت خون کی شریانوں سے جڑے امراض کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ حیران کن طور پر پش اپ لگانے کی صلاحیت کا امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض سے منسلک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جسمانی سرگرمی کی اس آسان مشق سے کسی بھی مرد کے حوالے سے امراض قلب کی پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے کسی اور طبی تحقیقی رپورٹس میں پش اپ کی صلاحیت اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض کے درمیان تعلق کا تجزیہ نہیں کیا گیا۔

ان کے بقول اس تحقیق میں ہم نے جسمانی فٹنس کی کارکردگی (پش اپ اور ٹریڈ مل ٹیسٹ) اور دل کے امراض کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔

اس تحقیق کے دوران ایک ہزار سے زائد فائرفائٹرز کی جسمانی سرگرمیوں کا جائزہ لای گیا جن کی اوسط عمر لگ بھگ 40 سال تھی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ پش اپ کی صلاحیت سے 21 سے 66 سال کی عمر کے مردوں میں امراض قلب کا خطرے کا 10 سالہ تجزیہ کرنا ممکن ہے۔

محققین کے مطابق جو لوگ 11 یا اس سے زائد پش اپ لگاپاتے ہیں، ان میں جان لیوا امراض کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوجاتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئے۔

ڈپریشن کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

ڈپریشن یا زندگی سے مایوسی وہ عارضہ ہے جو کسی بھی فرد کے لیے جینا مشکل بنادیتا ہے اور مختلف جسمانی عارضے بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔

مگر ڈپریشن دماغی عمر کی رفتار کو بھی پر لگادیتا ہے۔

یہ انکشاف اس خیال پر پہلی بار انسانوں پر کی جانے والی تحقیق میں سامنے آیا۔

امریکا کی یالے یونیورسٹی کی تحقیق میں دماغ اسکین کرنے والی نئی تیکنیک کو استعمال کرتے ہوئے دریافت کیا گیا کہ ڈپریشن کے شکار افراد میں دماغی کنکشن کی تعداد 10 سال پہلے ہی کمزور ہوجاتی ہے اور 40 سال کی عمر میں ان کی دماغی عمر 50 سے تجاوز کرسکتی ہے۔

آسان الفاظ میں ڈپریشن کے نتیجے میں درمیانی عمر میں یاداشت سے محرومی، دماغی دھند، بولنے میں مشکلات اور الزائمر کی ابتدائی علامات جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ خواتین جو مردوں کے مقابلے میں ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں، ان میں الزائمر کا خطرہ بھی مردوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔

محققین نے مزید بتایا کہ ان نتائج سے دماغی حصوں کو امراض سے بچانے کے لیے ادویات کی تیاری میں مدد مل سکے گی۔

اس تحقیق میں 10 رضاکاروں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں مگر اب محققین بڑے پیمانے پر اسے کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

محققین نے بتایا گیا کہ ہم اس سے پہلے یہ جان نہیں سکے تھے کہ کیونکہ انسانوں پر اس خیال کی آزمائش نہیں کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ڈپریشن کو دماغی عمر میں اضافے کی علامت بھی سمجھا جاسکتا ہے تاکہ انہیں زیادہ سنگین عارضے سے بچایا جاسکے۔

انسانی دماغ میں سو ارب نیورونز ہوتے ہیں اور ہر ایک 10 ہزار دیگر نیورونز سے جڑا ہوتا ہے۔

تو زندگی میں جیسے بھی تجربات ہوتے ہیں، وہ دماغ پر اثرانداز ہوتے ہیں اور عمر بڑھنے سے بھی نیورونز کا تعلق کمزور ہونے لگتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج آئندہ چند روز میں ایک طبی کانفرنس کے دوران پیش کیے جائیں گے۔

اب ڈپریشن اور عمر رسیدگی کے باعث کھو جانے والی یادداشت کی بحالی ممکن

اوٹاوا: سائنس دان ایسا مالیکیول ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو ڈپریشن اور زیادہ عمر کے باعث یاداشت کھو دینے والے مریضوں کی میموری واپس لے آتا ہے۔

سائنسی جریدے مالیکیولر نیورو سائیکیٹری میں شائع ہونے والے مقالے میں مرکز برائے نشے کے عادی اور ذہنی صحت کینیڈا کے سائنس دانوں نے ایک نیا دفع مرض مالیکیول ایجاد کرنے کا انکشاف کیا ہے۔

یہ تھراپٹک مالیکیول نہ صرف مرض کی علامات کو نمایاں طور پر ختم کرتا ہے بلکہ دماغ کی اندرونی تہہ میں ہونے والی توڑ پھوڑ کی بھی مرمت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ریسرچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ڈپریشن یا عمر زیادہ ہوجانے کے باعث یاداشت کھوجانے کی صورت میں یادادشت کی بحالی کے لیے کوئی کارگر دوا موجود نہیں تھی۔ تاہم حالیہ ریسرچ نے یاداشت کھوجانے کے علاج میں ٹھوس امید دلائی ہے۔ گابا نیورو ٹرانسمیٹرز نظام کے دماغ کے خلیات میں توڑ پھوڑ یاداشت کھوجانے کے ذمہ دار ہیں۔

نیا مالیکیول نہ صرف گابا نیورو ٹرانسمیٹر کے ریسیپٹر تک جا کر دماغ کے اُن خلیات کی توڑ پھوڑ کو روکتا ہے بلکہ دماغ کے خلیوں کی تعمیر نو میں بھی کردار ادا کرتا ہے جس سے یاداشت کی بحالی ممکن ہوجاتی ہے۔ خلیوں کی تعمیر نو سے میموری واپس آنے کے بھی امکانات روشن ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چند ضروری اقدامات کے بعد یہ مالیکیول دوا کی صورت میں 2022 یا 2023 تک مارکیٹ میں دستیاب ہوگا اور دماغی امراض میں ایک انقلابی حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

موٹاپا کم کرنے میں مددگار مشروبات

اگر تو آپ کی توند نکل آئے تو یقیناً شخصیت کا سارا تاثر خراب ہوجاتا ہے اور ذہنی پریشانی الگ ہوتی ہے۔

یقیناً ایسا ہونے پر سب لوگ اچھا نطر آنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور اضافی چربی سے نجات حاصل کرنا مشن بنالیتے ہیں جو کہ مختلف سنگین امراض کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے، جیسے ذیابیطس، امراض قلب وغیرہ۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ چند مشروبات آپ کو اس اضافی چربی تیزی سے گھلانے میں مدد دیتے ہیں۔

سیب کا سرکہ

سیب کا سرکہ پتے کے سیال کو حرکت میں لانے کے لیے بہترین ہے اور توند سے نجات کے لیے معدے میں تیزابیت کی سطح کو بہتر رکھتا ہے۔ اس سرکے کو ہر صبح گرم پانی میں ملا کر نہار منہ پینا فائدہ مند ہوتا ہے۔

گاجر کا جوس

گاجر کا جوس میں کیلوریز کم جبکہ فائبر سے بھرپور ہوتا ہے اور اس طرح یہ سبزی جسمانی وزن میں کمی کے لیے سپرفوڈز میں سے ایک ہے۔ فائبر زیادہ ہوےن کی وجہ سے ایک گلاس گاجر کا جوس صبح ناشتے میں پینا، دوپہر کے کھانے تک پیٹ بھرا رکھتا ہے اور بے وقت منہ چلانے سے روکتا ہے۔ گاجر کا جوس پتے میں پائے جانے والے سیال بائل کو مناسب طریقے سے کام کرنے میں بھی مدد دیتا ہے جس سے چربی گھلتی اور وزن کم ہوتا ہے، اس جوس کو چینی کے بغیر پینا ہی جلد موٹاپے سے نجات میں مدد دیتا ہے۔

مالٹے کا جوس

مالٹے کا جوس کم کیلوریز ہونے کے ساتھ ساتھ سافٹ ڈرنکس کا بہتر متبادل بھی ثابت ہوتا ہے، چونکہ اسے منفی کیلوری جوس قرار دیا جاتا ہے یعنی اس میں اتنی کم کیلوریز ہوتی ہیں جو جسم کو جلانے کے لیے درکار ہوتی ہے، تو اس کا استعمال جسم کو چربی گھلانے پر مجبور کرتا ہے اور دنوں میں توند سے نجات دلا سکتا ہے۔

چقندر کا جوس

یہ جسمانی وزن میں کمی کے ارادے کے لیے بہترین اضافہ ثابت ہوسکتا ہے، چقندر کے جوس میں وہ تمام غذائی اجزاءموجود ہوتے ہیں جو جسم کے لیے ضروری ہیں مگر چربی اور کولیسٹرول نہیں ہوتا۔ یہ جوس آنتوں کی صحت مند حرکت میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور غذائی فائبر کا اچھا ذریعہ بھی ہے۔

تربوز کا جوس

یہ تو سب کو معلوم ہے کہ جسم میں پانی کی مقدار مناسب سطح پر رکھنا کتنا ضروری ہے خصوصاً توند سے نجات میں کامیابی کے لیے۔ تربوز کا جوس جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے جبکہ اس میں موجود امینوایسڈز کیلوریز جلانے میں مدد دیتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

تجرباتی دوا سے بڑھاپے میں حافظے کی کمزوری دور اور موڈ میں فوری بہتری

ٹورانٹو: کینیڈا کے ماہرین نے ایک دوا تیار کی ہے اور جانوروں پر اس کے تجربات کے بعد ان میں ڈپریشن میں کمی، حافظے کی بہتری اور موڈ اچھا ہونے کی علامات نوٹ کی ہیں۔ جانوروں پر حوصلہ افزا نتائج کے بعد اگلے دو برس میں یہ دوا انسانوں تک پہنچ سکے گی۔

کینیڈا میں واقع مرکز برائے جسمانی عادات و لت اور دماغی صحت کے مرکز سے وابستہ ماہرین کی تیارکردہ نئی دوا گیما امائنو بیوٹائرک ایسڈ (گابا) نامی اہم نیوروٹرانسمیٹر کو ہدف بناتی ہے ۔ گابا حافظے کی کمزوری اور ڈپریشن تک کی ان گنت کیفیات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ بینزوڈائی زیپنز، ویلیئم، زینیکس اور دیگر ادویہ گابا نیوروٹرانسمیٹر پر ہی اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس دوا میں بہت سے نئے سالمات (مالیکیول) شامل کئے گئے ہیں جو بینزوڈائی زیپنز سے ملتے جلتے ہیں۔ اس طرح گابا ٹرانسمیٹر متاثر ہونے سے عمررسیدہ افراد میں یادداشت کی کمی اور موڈ کی خرابی کو بڑی حد تک دور کرنا ممکن ہوگا۔ اب تک ہمارے پاس بڑھاپے میں یادداشت کی کمی کو دور کرنے والی کوئی دوا موجود نہیں۔

تجربہ گاہ میں بوڑھے چوہوں پر اس کے حیرت انگیز فوائد سامنے آئے ہیں جو فوری طور پر نمودار ہوئے یہاں تک بوڑھے چوہوں کی یادداشت جوان چوہوں کی طرح ہوگئی۔ دو ماہ تک دوا کھلانے کے بعد چوہوں میں دماغی خلیات (نیورون) کی دوبارہ افزائش بھی ہوئی۔ اس کے باوجود یہ کھوج اب بھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

سفید ڈبل روٹی کھانا چھوڑنے پر جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

دنیا بھر میں کروڑوں افراد ناشتے میں سفید ڈبل روٹی کھانا پسند کرتے ہیں جو بظاہر صحت کے لیے نقصان دہ محسوس نہیں ہوتی۔

یقیناً اعتدال میں رہ کر اسے کھانا نقصان نہیں پہنچاتا مگر روزانہ کھانا صحت کے لیے فائدہ مند نہیں۔

سفید ڈبل روٹی میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے بہت زیادہ کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

درحقیقت اس قسم کی ڈبل روٹی پراسیس شدہ ہوتی ہے جو صحت کے لیے کچھ زیادہ فائدہ مند نہیں۔

اگر اسے اپنی غذا سے نکال دیا جائے تو جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ وہ درج ذیل ہیں۔

غذائیت سے عاری غذا

گندم وٹامن سے بھرپور ہوتی ہے مگر اس کے تمام تر فائدہ مند اجزا اس وقت ضائع ہوجاتے ہیں جب اسے پراسیس کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ معیاری سفید آٹے میں بھی فائدہ مند اجزا کی مقدار 30 فیصد رہ جاتی ہے، جو پراسیس ہونے کے بعد نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔

ذائقہ نہیں ہوتا

جی ہاں سفید ڈبل روٹی کا اپنا کوئی ذائقہ نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ بیشتر افراد اسے پسند بھی کرتے ہیں، کیونکہ یہ گوشت، پنیر، مکھن یا کسی بھی چیز کا ذائقہ برقرار رکھتی ہے۔

جلدی مسائل

اس طرح کی ڈبل روٹی میں موجود گلوٹینکے نتیجے میں کیل مہاسوں کا امکان بڑھتا ہے، ہمارا جسم گلوٹین کو خارج نہیں کرپاتا جس سے آنتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

نظام ہاضمہ کے مسائل

گلوٹین جس کا اوپر ذکر ہوچکا ہے، نظام ہاضمہ کے مختلف مسائل کا باعث بھی بنتا ہے، براﺅن بریڈ یا چکی کے آٹے میں فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے مگر سفید آٹے سے بننے والی مصنوعات میں یہ جز نہیں ہوتا۔ فائبر نظام ہاضمہ کی اچھی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے اور جب وہ جسم کو نہیں ملتا تو قبض، بدةجمی اور پیٹ پھولنے سمیت دیگر مسائل کا امکان ہوتا ہے۔

قبل از وقت بڑھاپا

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ سفید ڈبل روٹی میں فائدہ مند اجزا نہیں ہوتے، تو وٹامنز سے محروم غذا کھانے کے نتیجے میں عمر کے اثرات جسم پر بہت تیزی سے مرتب ہوتے ہیں، تو سفید ڈبل روٹی آپ کو قبل ازبڑھاپے کا شکار کرسکتی ہے۔

بلڈ شوگر بڑھتا ہے

سفید آٹے سے خون میں شوگر کی سطح بڑھتی ہے جس کے نتیجے میں انسولین بھی بڑھتا ہے۔ جب سفید ڈبل روٹی کا ایک سلائیس کھایا جاتا ہے تو بلڈ شوگر تیزی سے بڑھتا ہے اور اتنی ہی تیزی سے گر بھی جاتا ہے جس کے نتیجے میں تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے، جس سے مزید کھانے کی خواہش بڑھتی ہے، تبدریج اس کے نتیجے میں ذیابیطس کا مرض بھی لاحق ہوسکتا ہے۔

موٹاپا

ریفائن آٹا جسمانی وزن بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے، سفید ڈبل روٹی میں گلیسمک انڈیکس کی سطح چاکلیٹ سے بھی زیادہ ہوتی ہے جبکہ نشاستہ غذائی نالی میں جاکر گلوکوز کی شکل اختیار کرکے دوران خون میں شامل ہوجاتا ہے، یعنی آپ کو جلد بھوک لگتی ہے اور زیادہ کھانے کا نتیجہ موٹاپے کی شکل میں ہی نکلتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative