صحت

تمباکو اور شراب نوشی سے جوڑوں کے درد کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

فلاڈیلفیا: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو اور شراب نوشی سے ہڈیوں کی کمزوری، جوڑوں کے درد اور گٹھیا (اوسٹیوپوروسِس) کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ سگریٹ نوش سے جسم کا فطری دفاعی (امنیاتی) نظام اوسٹیو کلاسٹ نامی خلیات (سیلز) کو اس طرح تبدیل کرتا ہے کہ وہ ہڈیوں کو گھلانے کا کام شروع کردیتے ہیں۔

سگریٹ نوشی میں خلیات میں موجود توانائی گھر مائٹو کونڈریا خاص سگنل خارج کرتا ہے جس سے اوسٹیو کلاسٹ کا کام بدل جاتا ہے۔ فلاڈیلفیا میں واقع یونیورسٹی آف پینسلوانیا اورنیویارک میں واقع ماؤنٹ سینائی اسکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے اس پر مشترکہ تحقیق کی ہے جس کی تفصیل ایف اے ایس ای بی نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

ماہرین نے ثابت کیا ہےکہ سگریٹ پینے اور مے نوشی سے  خلوی سطح پر مائٹوکونڈریا متاثر ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ خاص اسٹریس سگنل خارج کرتا ہے اور یوں اوسٹیوکلاسٹ کی ضرورت سے زائد پیداوار شروع ہوجاتی ہے۔ نہ صرف تمباکو اور شراب پینے بلکہ بعض ادویہ اور ان کے سائیڈ افیکٹس سے بھی مائٹوکونڈریا متاثر ہوتا ہے اور وہ ہڈیوں کے بھربھرے پن اور کمزوری کی وجہ بن سکتا ہے۔

پینسلوانیا یونیورسٹی کے پروفیسر نارائن جی اودھانی اور ان کے ساتھیوں نے تجربہ گاہ میں چوہوں پر اس کے کئی تجربات کئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گٹھیا کے مرض میں ہڈیوں کی سختی کم ہوتی جاتی ہے اور وہ ٹھوس نہیں رہتی ۔ دھیرے دھیرے وہ کمزور ہوجاتی ہے اور یوں ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 30 کی دہائی میں ہڈیوں کی مضبوطی بلند ترین سطح پر ہوتی ہے اور اس کے بعد ان کی سختی اور کمیت میں رفتہ رفتہ کمی ہوتی جاتی ہے۔ صرف امریکہ اور یورپ میں ساڑھے سات کروڑ افراد اس مرض کے شکار ہیں اور ہر سال 90 لاکھ افراد اس کیفیت میں ہڈیوں کے ٹوٹنے اور فریکچر کے شکار ہوجاتےہیں۔

ماہرین کے مطابق شراب نوشی اور تمباکونوشی سے مائٹوکونڈریا کی سطح پرایک پیچیدہ عمل شروع ہوجاتا ہے اور یوں اوسٹیوکلاسٹ بننا شروع ہوجاتے ہیں اور اس طرح ہڈیوں کا بھربھرا پن شروع ہوجاتا ہے۔

آپ کو دوسروں سے زیادہ ذہین ثابت کرنے والی عادات

کیا آپ بہت زیادہ ذہین ہیں؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ہر ایک جاننا چاہتا ہے کیونکہ ہر ایک ہی اپنے آپ کو ذہین سمجھتا ہے۔

تاہم ذہین افراد کی نشانیاں کیا ہوتی ہیں؟

اس بارے میں سوچا جائے تو ایسا نظر آتا ہے کہ جدید سائنس ذہانت کے حوالے سے مخصوص اور روایتی رویوں کی نفی کرتے ہوئے ایسی عادات کے حامل افراد کو ذہین قرار دیتی ہے جن کا تصور کرنا مشکل ہے۔

ویسے اس بات سے اختلاف نہیں کہ ذہین افراد اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں کافی مختلف ہوتے ہیں لیکن کیا ان میں اتنا فرق بھی ہوتا ہے؟

تو جانیں کہ جدید سائنسی رپورٹس میں کیسے رویوں کے حامل افراد کو ذہین قرار دیا گیا ہے جو اکثر افراد کو مضحکہ خیز یا ناقابل برداشت لگتے ہیں۔

اپنی لاعلمی کو تسلیم کرنا

اکثر افراد ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے وہ سب کچھ جانتے ہیں، چاہے کچھ بھی نہ جانتے ہوں، تاکہ لوگوں کو زیادہ ذہین نظر آسکیں۔ مگر حقیقت میں ذہین افراد مختلف چیزوں میں اپنی لاعلمی کا اعتراف کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ایسا بہت کچھ ہے جس کے بارے میں وہ جان سکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ سب کچھ جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ امتحانات میں کم نمبر لیتے ہیں جبکہ اپنی لاعلمی کا اعتراف کرنے والے توقعات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

مسلسل تجسس

جب کوئی مزید جاننے کی جستجو کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اسمارٹ ہیں اور مزید آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا جو لوگ آئی کیو ٹیسٹ میں بچپن میں زیادہ نمبر لیتے ہیں، ان میں تجسس سب سے نمایاں ہوتا ہے اور وہ بلوغت میں پہنچ کر نئے خیالات کے لیے ذہن کھلا رکھتے ہیں۔ ذہانت اور تجسس پہلو بہ پہلو چلتے ہیں۔

دیگر افراد کے جملے مکمل کرنا

یہ سننے میں تو کچھ عجیب لگے گا مگر جب کوئی اندازہ لگالے کہ سامنے والا کیا بولنے والا ہے یا کیا محسوس کررہا ہے تو یہ جذباتی ذہانت (ایموشنل انٹیلی جنس) کی علامت ہے، ہمدردی اور دیگر افراد کے جذبات کا خیال رکھنا آپ کو اس دنیا کو دیگر افراد کے نکتہ نظر سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

بھلکڑ ہونا

ویسے تو اچھی یاداشت کو عقلمندی کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ بھلکڑ ہوتے ہیں، ان میں بھی ذہانت کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے بقول ایسے لوگوں کا دماغ اس لیے چیزوں کو بھول جاتا ہے تاکہ نئے حالات سے مطابقت پیدا کرسکے اور دوسرا یہ کہ چھوٹی اور غیر اہم اشیا کی تفصیلات ذہن سے نکال کر کسی منظرنامے کی مکمل تصویر کو اجاگر کرے۔ تو اگر کچھ بھول جائے تو جھنجھلانے کی بجائے اس خیال سے خوش ہوسکتے ہیں کہ اس سے دماغ کو نئے خیالات کے لیے جگہ مل گئی ہے۔

کم سونا یا رات گئے تک جاگنا

ویسے کم سونے سے مراد بہت کم نیند نہیں، بلکہ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ کم سوتے بھی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کام یا تعلیمی ادارے میں جانے کے لیے جلد اٹھنا پڑتا ہے۔ تو تحقیق کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد صبح جلد جاگنے والوں کے مقابلے میں آئی کیو لیول میں زیادہ آگے ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ کافی زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔

چاکلیٹ پسند کرنا

جی ہاں چاکلیٹ کو پسند کرنے اور دماغی طاقت کے درمیان تعلق موجود ہے، کوکا میں موجود فلیونوئڈز دماغی کارکردگی کو بڑھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ایک اطالوی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چاکلیٹ کھانے سے دماغی افعال جیسے یاداشت، توجہ اور تجزیہ کرنے کی رفتار بہتر ہوتے ہیں، چاکلیٹ کھانا نہ صرف لوگوں کی دماغی کارکردگی کو فوری بہتر کرتا ہے بلکہ روزانہ معمولی مقدار کھانا دماغی کارکردگی کو طویل المعیاد بنیادوں کو بہتر کردیتا ہے۔

لوگوں کے چبانے کی آواز سے جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے والے

دنیا کی 20 فیصد آبادی ایک نفسیاتی عارضے misophonia یا مخصوص آوازوں کے معاملے حساسیت کا شکار ہے۔ امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس طرح کے افراد زیادہ تخلیقی ذہن رکھنے والے ہوتے ہیں۔ تو اگر آپ بھی اپنے ارگرد لوگوں کے کھانا چبانے کی آواز سے پریشان ہوجاتے ہیں تو ہوسکتا کہ آپ ایک ذہین ترین فرد ہوں۔

ٹال مٹول یا تاخیر کرنے والے

ویسے تو کسی چیز پر ٹال مٹول کرنا کوئی اچھی عادت نہیں مگر ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹال مٹول کی عادت صرف سستی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ کام کے لیے درست وقت کے انتظار کی نشانی بھی ہوتی ہے۔ آسان الفاظ میں یہ عادت تخلیقی صلاحیت کو بڑھاتی ہے تاکہ لوگ زیادہ بڑے خیال کو حقیقی شکل دے سکیں۔ اسی طرح ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ کاموں میں تاخیر کرنا بھی درحقیقت ذہین افراد کی نشانی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے افراد پرامید ہوتے ہیں اور حقیقت پسند نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے وہ اکثر تاخیر کرتے ہیں، محققین کے مطابق ایسے افراد اچھی امید کے ساتھ بہترین نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔

اپنے آپ میں مگن رہنا

اگر تو تنہا رہنا آپ کو بیزار نہیں کرتا تو اچھی خبر یہ ہے کہ آپ دیگر سے زیادہ ذہین ہوسکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اپنے آپ میں مگن رہنے والے زیادہ ذہین ہوتے ہیں اور اگر آپ خودکلامی کرتے ہیں تو یہ بھی جنیئس ہونے کی نشانی ہے، چیزوں کو اونچی آواز میں دہرانا بھی دماغی کارکردگی کو بہتر کرتا ہے۔

سست ہونا

ایک امریکی تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ وہ لوگ زیادہ ذہانت کے حامل ہوتے ہیں جو اپنے خیالات میں گم رہنے اور جسمانی طور پر سست یا کم متحرک ہوتے ہیں۔ ویسے یہ عادت تو ہوسکتا ہے کہ بیشتر افراد میں ہو مگر یہ جان لینا بہتر ہے کہ اپنی سستی کو آپ زیادہ ذہانت کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں۔

خیالی پلاﺅ پکانا

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن میں خواب دیکھنے یا خیالی پلاؤ پکانا کیرئیر کے لیے صلاحیت بہتر بنانے کے ساتھ تخلیقی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔ تحقیق کے مطابق کسی مشکل کے دوران اس کا حل دریافت کرنے کے لیے ذہن کو 12 منٹ کے لیے آزاد چھوڑ دینا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

ہر قسم کے حالات میں مطابقت پیدا کرنے والے

ذہین افراد لچکدار فطرت رکھتے ہیں اور ہر طرح کے حالات میں ابھر کر سامنے آتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق ذہین افراد تمام تر پیچیدگیوں یا پابندیوں سے قطع نظر اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرتے ہیں۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ ذہانت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ماحول کے ساتھ آپ کا رویہ کس حد تک بدلتا ہے۔

مطالعہ پسند

چونکہ ان میں تجسس بہت زیادہ ہوتا ہے تو ذہین افراد مطالعہ پسند ہوتے ہیں، درحقیقت دنیا کے چند کامیاب ترین افراد جیسے بل گیٹس کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ہاتھ میں موجود ہر چیز کو پڑھ کر تعلیم حاصل کی۔

کشادہ ذہن

ذہین افراد نئے خیالات یا مواقعوں تک خود کو مھدود نہیں رکھتے، بلکہ وہ دیگر افراد کے خیالات کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور وہ متبادل حل کے لیے ذہن کو کھلا رکھتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق کشادہ ذہن افراد وہ ہوتے ہیں جو ہر طرح کے خیالات و نظریات کو سنتے یا سمجھتے ہیں اور ان کے ٹھوس ہونے پر ان کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد خیالات اور مقاصد کو اپنانے کے حوالے سے کافی محتاط بھی ہوتے ہیں۔

خود پر کنٹرول رکھتے ہیں

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ذہین افراد اپنے اضطراب پر منصوبہ بندی اور واضح مقاصد کے ذریعے قابو پاکر کچھ بھی کرنے سے حالات کو مدنظر رکھتے ہیں۔ محققین کے مطابق ہمارے دماغ کا ایک حصہ لوگوں کو مشکل مسائل حل کرنے میں مدد دیتا ہے اور خود پر کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔

پرمزاح

ایک تحقیق میں دریافت کای گیا کہ جو لوگ پرمزاح جملے لکھتے ہیں وہ زبانی ذہانت میں زیادہ اسکور حاصل کرتے ہیں۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پروفیشنل کامیڈین زبانی ذہانت کے پیمانوں پر اوسطاً زیادہ اسکور حاصل کرتے ہیں۔

دوسروں کے جذبات کا احساس کرتے ہیں

ذہین افراد لگ بھگ سمجھ جاتے ہیں کہ دوسرا فرد کیا سوچ یا محسوس کررہا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق دوسروں سے ہمدردی رکھنا دوسروں کے جذبات کے حوالے سے ہمیں حساس بناتا ہے جو کہ جذباتی ذہانت کا بنیادی جز ہے، جذباتی طور پر ذہین افراد عام طور پر نئے افراد سے بات کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔

دوسروں سے ہٹ کر سوچنا

ذہین ہونا درحقیقت دوسروں سے مختلف انداز سے سوچنا ہوتا ہے، بہت زیادہ ذہین افراد قطار کے پیچھے نہیں چلتے بلکہ وہ غیرمعمولی اور بالکل ہٹ کر سوچتے ہیں اور اکثر ان کے خیالات مضحکہ خیز لگتے ہیںzxcxzcg

اخروٹ کھائیں، بلڈ پریشر بھگائیں

پینسلوانیہ: اخروٹ کے کئی فوائد سامنے آتے رہتے ہیں اور اب معلوم ہوا ہے کہ اس جادوئی میوے کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پینسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین کی یہ نئی تحقیق ’امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن‘ کے تحقیقی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اخروٹ میں پولی فینولز نامی مرکبات پائے جاتے ہیں تو لوگوں کو دل کے امراض سے بچاتے ہیں اور بلڈ پریشر قابو میں رکھنے پر بھی مدد دیتے ہیں۔

تجرباتی طورپر ماہرین نے 30 سے 65 سال تک کے 45 شرکا کوشامل کیا جو یا تو زائد وزن کے تھے یا موٹاپے کی فہرست میں شمار ہوتے تھے۔ تمام شرکا کو دو ہفتوں تک مشاہدے میں رکھا گیا ۔ انہیں خاص غذا دی گئی جس میں 12 فیصد کیلیوری سیرشدہ (سیچوریٹڈ) چکنائی سے لی گئی تھیں۔

اگلے مرحلے میں تمام شرکا کو تین حصوں میں بانٹ کر چھ ہفتے تک کم سیرشدہ چکنائی کی خوراک دی گئیں۔ ان میں ایک گروہ کو اخروٹ، دوسرے کو اخروٹ کے بنا پولی ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز اور دیگر غذائیں دی گئیں جبکہ تیسرے گروہ کو اخروٹ کے ساتھ دیگر چکنائی والی غذا کھلائی گئی۔

چھ ہفتوں بعد دیکھا گیا کہ جس گروہ نے صرف اخروٹ کھائے تھے ان میں صحتمند دل کے طبی آثار بہتر نظر آئے اور بلڈ پریشر بھی معمول کے مطابق رہا۔

اسی بنا پر ماہرین نے کہا ہے کہ اخروٹ کھانے سے بلڈ پریشر بہتر رہتا ہے اور اگر بلڈ پریشر قابو میں رہے تو امراضِ قلب اور فالج (اسٹروک) کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ اسی بنا پر ماہرین اخروٹ کے باقاعدہ استعمال پر زور دیتے ہیں۔

چاکلیٹ کھانا پسند ہے؟ تو یہ اچھی خبر جان لیں

چاکلیٹ گھلنے سے پیدا ہونے والی لذت کا مزہ صرف وہی افراد بیان کرسکتے ہیں جنہیں چاکلیٹ کھانا بےحد پسند ہو۔

ہمیشہ لوگ چاکلیٹ کے منفی اثرات بتاکر ان لوگوں کو چاکلیٹ کھانے سے روکتے ہیں جنہیں یہ بےحد پسند ہے، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ میٹھی سوغات درحقیقت آپ کی صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔

خاص طور پر ڈارک چاکلیٹ کے طبی فوائد تو حیران کن ہیں جو کہ جون کے گردشی نظام میں معاونت کے ساتھ دماغ کو متحرک کرنے، دماغی کمزوریوں سے خلاف جدوجہد، آپ کو زیادہ چوکس اور بہتر طرز فکر کے ساتھ ساتھ کھانسی کی روک تھام اور تناﺅ سے بھی نجات دلاتی ہے۔

چاکلیٹ کو بطور تحفہ بھی استعمال کیا جاتا ہے تاہم اس کے چند دلچسپ فوائد جان کر ہوسکتا ہے کہ آپ کو حیران رہ جائیں۔

صحت مند دانت

اگرچہ دندان ساز تو چاکلیٹ کو دانتوں کے لیے مضر قرار دیتے ہیں مگر ایک نئی تحقیق کے مطابق چاکلیٹ میں شامل کوکا پاﺅڈر درحقیقت آپ کے دانتوں کو صحت مند رکھنے والے ٹوتھ پیسٹ اور فلورائیڈ کا موثر متبادل ثابت ہوتی ہے۔

مزاج خوشگوار بنائے

جب آپ مایوسی کا شکار ہو تو چاکلیٹ کا استعمال بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اس کا ذائقہ ذہن کو تحریک دیتا ہے اور آپ کو خوش باش بناتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ چاکلیٹ کا ذائقہ، خوشبو یا بناوٹ بھی لوگوں کو خوش باش بنادیتی ہے، چاکلیٹ سے دماغ میں اچھا محسوس ہونے والے کیمیکل ڈوپامائن کی مقدار بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔

آپ کی جلد کو بہترین رکھے

کوکا سے بنا مکھن ایسی منفرد چیز ہے جس کا استعمال آپ کی جلد کی کشش کے لیے حیرت انگیز اثر رکھتا ہے۔ جی ہاں چاکلیٹ کا استعمال جلد کو خوش اور ہموار رکھتا ہے بس نرم چاکلیٹ کو جلد پر پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں یہ آپ کی جلد کو نرم و ملائم کردیتا ہے۔

اس کو نہانے کے دوران بھی آزمایا جاسکتا ہے بس دو کپ چاکلیٹ ملک، دو چائے کے چمچ سیال صابن اور ایک چائے کا چم شہد پانی میں ملا کر نہالیں، چاکلیٹ ملک میں شامل اینٹی آکسائیڈنٹس اور تیزابی اثر جلد کو ملائم اور ہموار کردے گا، جبکہ ڈارک چاکلیٹ میں پایا جانے والا فلیوونائڈ سورج کی شعاعوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ٹھیک بینائی کے باوجود آنکھوں کا دھندلانا سنگین بیماری کی علامت

کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ بینائی ٹھیک ہونے کے باوجود آنکھیں دھندلا جاتی ہوں؟

اگر ہاں تو یہ معاملہ سنگین بھی ہوسکتا ہے کیوں کہ یہ دل کی شریانوں میں سنگین بیماری کی علامت بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات یونان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں ایک 77 سالہ شخص کے کیس کا ذکر کیا گیا جسے دائیں آنکھ میں کئی بار دھندلے پن کا سامنا ہوا جس کا دورانیہ 5 منٹ سے بڑھ کر ایک گھنٹے تک پہنچا۔

اس شخص کے معائنے سے معلوم ہوا کہ شریان میں خون کی رکاوٹ پیدا ہونے سے اس کی آنکھوں تک سپلائی رکی جس سے یہ مسئلہ پیدا ہوا۔

ایتھنر کی نیشنل اینڈ کیپوڈیسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طرح کی رکاوٹ عام طور پر کولیسٹرول اور خون کے خلیات کے جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہے جو سر اور گردن تک خون پہنچانے والی شریان کو متاثر کرتی ہے۔

بظاہر تو یہ رکاوٹ بہت معمولی ہوتی ہے مگر اس کے نتیجے میں سنگین طبی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے بینائی کے خاتمے یا جان لیوا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ آنکھوں کی علامات خون کی شریانوں کے مسائل کے لیے بھی انتباہی علامات ہوسکتی ہیں۔

مگر یہ ان لوگوں کے لیے خطرے کی علامت ہوتی ہیں جنہیں پہلے کبھی نظر کی کمزوری یا دیگر مسائل کا سامنا نہ ہوا ہو۔

محققین کے مطابق آنکھوں کے معائنے سے ڈاکٹر شریانوں کے نظام کو دیکھ سکتے ہیں کیونکہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ شریانوں کے مسائل کا اظہار آنکھوں سے نہ ہو۔

یہ تحقیق آن لائن طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ہوئی۔

طبی ماہرین یادداشت سے محرومی کا علاج دریافت کرنے میں کامیاب؟

عمر بڑھنے کے ساتھ یادداشت میں کمزوری اکثر افراد کا مسئلہ ہوتا ہے مگر مستقبل قریب میں ممکن ہے کہ یہ مسئلہ ماضی کا قصہ بن جائے۔

جی ہاں طبی ماہرین نے چوہوں میں یادداشت ختم ہونے کے مسئلے کو ریورس کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں بڑھاپے کے شکار چوہوں میں ایک مالیکیول کو بلاک کرکے یہ کامیابی حاصل کی گئی۔

اس طریقہ کار سے چوہوں کے اندر نئے عصبی خلیات بنانے کی صلاحیت کو دوبارہ اجاگر کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی گئی جبکہ ورم کم کیا گیا۔

تحقیق کے نتائج سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ ہمارے خون کے اندر کچھ ایسا ہوتا ہے جو دماغی تنزلی کا ذمہ دار ہوتا ہے اور ایسا راستہ ضرور ہوگا جس سے اسے روکنا ممکن ہوسکے گا۔

اس نئی تحقیق میں سائنسدان یہ تو شناخت نہیں کرسکے کہ کس طرح خون دماغی کارکردگی کو سست کرتا ہے تاہم انہوں نے ایک مالیکیول کو ضرور بلاک کردیا جو ان کے بقول شریانوں میں خون کے بہاﺅ کو کنٹرول کرتا ہے اور اس سے دماغی ورم پر قابو پانے میں مدد ملی۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم وہ اہم میکنزم دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو خون کے دماغ کو بھیجے جانے والے خطرناک سگنلز کو بھیجنے کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک دن ایسا طریقہ علاج تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں گے جو دماغی تنزلی کی روک تھام یا ریورس کرنے میں مدد دے سکے گا۔

یہ درمیانی عمر کا شخص اپنا جسم بدلنے میں کیسے کامیاب ہوا؟

موٹاپے کے شکار افراد کو اکثر جسمانی، جذباتی اور امراض کی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے اور وہ خود کو بہت کمزور اور اعتماد سے محروم سمجھتے ہیں۔

ویسے تو اکثر افراد خود کو اس مشکل سے زندگی بھر نہیں نکال پاتے مگر ایک اڈھیر عمر شخص نے محض 150 دن میں اپنے جسم کو بدلنے کا حیران کن کارنامہ سرانجام دیا اور اب اس کا راز بھی بتادیا ہے۔

ویسے تو بیشتر مردوں کو اپنا جسم بنانے کا شوق ہوتا ہے مگر شادی اور دیگر مصروفیات کے نتیجے میں زیادہ دھیان نہیں دے پاتے جس کے نتیجے میں توند اور کھال لٹکنے لگتی ہے۔

ایسا ہی کچھ جریمیا پیٹرسن نامی شخص نے کرکے دکھایا اور اپنی توند کو سکس پیک میں بدل کر کھایا۔

یہ شخص ایک دن اپنے خاندان یعنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ ہائیکنگ کا منصوبہ بنارہا تھا تاکہ یادگار ایڈونچر کا حصہ بن سکے مگر بہت زیادہ وزن نے اسے ارادہ بدلنے پر مجبور کردیا۔

اس شخص کے مطابق ‘میری سانس پھول گئی تھی اور مجھے اپنے بچوں سے پہلے ہی رکنا پڑا تھا’۔

جریمیا کا کہنا تھا کہ یہ وہ موقع تھا جب مجھے احساس ہوا کہ اب میری زندگی پہلے جیسی نہیں رہی حالانکہ وہ اپنے دل میں بچوں کے ساتھ اچھی یادوں کو جگہ دینا چاہتا تھا مگر وہ خود کو تھکاوٹ اور سانس پھولنے کے مسائل کا شکار پارہا تھا۔

اس موقع پر اس شخص نے فیصلہ کیا کہ اب زندگی میں سنجیدگی سے تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

اور پھر انہوں نے 5 ماہ میں 92 پاﺅنڈ وزن کم کیا اور جسمانی چربی کو نمایاں حد تک گھٹا دیا، مگر یہ کیسے ہوا؟

وہ خود بتاتے ہیں کہ انہیں کبھی احساس نہیں تھا کہ وہ اتنے سست ہیں اور اس احساس نے زندگی بدلنے کے فیصلے پر مجبور کیا۔

اس کا راز کم غذا اور ورک آﺅٹ میں چھپا ہوا تھا۔

ایک انسٹاگرام پوسٹ میں جریمیا نے لکھا ‘کم کھائیں تاکہ آپ کو پتا چلے کہ بھوکا ہونا کیسا ہوتا ہے، اپنی زندگی جینا شروع کریں، اپنے خوابوں کا تعاقب کریں، میں جانتا ہوں کہ میں ایسا کرسکتا ہوں اور میں نے کیا، اور اس حکمت عملی نے کام بھی کیا’۔

اب وہ خود ایک ٹرینر کے طور پر کام کررہے ہیں اور یقین رکھتے ہیں جب وہ خود کو بدل سکتے ہیں تو کوئی بھی ایسا کرسکتا ہے۔

روزانہ 3 کھجوریں کھانے کے یہ فائدے جانتے ہیں؟

ماہ رمضان میں ایک پھل ایسا ہوتا ہے جس کے بغیر افطار کا تصور بھی ممکن نہیں ہوتا اور وہ ہے کھجور۔

ویسے تو کھجوروں کو سپرفوڈ نہیں سمجھا جاتا مگر یہ صحت کے لیے کسی سے کم نہیں۔

یہ صحت کو بہت زیادہ فوائد پہنچانے والا پھل ہے جسے ہر ایک کو ضرور کھانا چاہیے۔

کھجور کھانا سنت نبوی ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ افطار یا عام دنوں میں بھی روزانہ صرف 3 کھجوروں کو کھانا صحت کے لیے کتنا فائدہ مند ہے؟

اگر نہیں تو جان لیں۔

خون کی کمی دور کرنے میں مددگار

کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے، جس سے خون کی کمی جلد دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم کھجور کے استعمال کے حوالے سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔

ہڈیاں کی صحت بہتر ہوتی ہے

طبی ماہرین کے مطابق کھجوروں میں کاربن موجود ہے جو ہڈیوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، ایک اور تحقیق میں یہ دریافت کیا گیا کہ کھجور میں موجود منرلز جیسے فاسفورس، پوٹاشیم، کیلشیئم اور میگنیشم ہڈیوں کو مضبوط بناکر ہڈیوں کے بھربھرے پن جیسے امراض کے خلاف لڑتا ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے

ہڈیوں میں فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ نظام ہاضمہ کے مناسب افعال کے لیے بہت ضروری جز ہے۔ فائبر کے استعمال سے قبض کی روک تھام ہوتی ہے جبکہ آنتوں کی سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں۔ برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا کہ جو لوگ روزانہ کھجور کھانے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا نظام ہاضمہ دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ بہتر کام کرتا ہے۔

تناﺅ اور ڈپریشن سے لڑنے میں مددگار

کھجوروں میں وٹامن بی سکس بھی موجود ہوتا ہے جو کہ جسم میں سیروٹونین اور norepinephrine بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے دماغی صحت بہتر ہوتی ہے۔ سیروٹونین مزاج کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ norepinephrine تناﺅ سے لڑتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن بی سکس کی جسم میں کم مقدار اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے، وٹامن بی سکس کا زیادہ استعمال صرف جسم کو نہیں بلکہ ذہن کو بھی تیز کرتا ہے۔

جسمانی توانائی بڑھتی ہے

فائبر، پوٹاشیم، میگنیشم، وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی موجودگی کھجور کو بہترین پھل بناتی ہے، جبکہ اس میں موجود شکر اور گلوکوز جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کھجور صرف جسمانی توانائی ہی نہیں بڑھاتی بلکہ یہ پھل اسے برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

امراض قلب سے تحفظ

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھجوریں ٹرائی گلیسڈر کی سطح اور تکسیدی تناﺅ کو کم کرتی ہیں، یہ دونوں امراض قلب کا باعث بننے والے مرکزی عوامل ہیں، کھجوروں میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کی سطح کم کرتی ہے جس سے فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ دل کے مسائل سے بھی تحفظ ملتا ہے۔

کینسر کا خطرہ کم کرے

کھجوروں کو کھانے کی عادت ہاضمے کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور معدے میں نقصان دہ بیکٹریا کی مقدار کم کرتی ہے جن کا آنتوں میں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ جو لوگ کھجوروں کو کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان کے معدے میں فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما ہوتی ہے جو آنتوں میں کینسر زدہ خلیات کو پھیلنے سے بچاتا ہے۔

موسمی الرجی سے تحفظ

دنیا بھر میں کروڑوں افراد موسموں میں تبدیلی سے لاحق ہونے والی الرجی کا شکار ہوتے ہیں اور اچھی بات یہ ہے کہ کھجوریں اس سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھجوریں موسمی الرجی سے متاثر ہونے والے افراد میں ورم کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

جسمانی وزن میں کمی

کھجور کھانا جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد دیتا ہے، ان میں موجود فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے جبکہ بلڈگلوکوز کو بڑھنے سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ کھجوروں میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسم سے زہریلے مواد کو خارج کرکے ہاضمہ تیز کرتے ہیں جس سے میٹابولزم تیز ہوتا ہے۔

Google Analytics Alternative