صحت

خبردار! زیادہ ورزش کرنا ذہنی صحت کے لیے تباہ کن

اکثر سائنسدان اپنی تحقیقاتی رپورٹس میں کہتے ہیں کہ ورزش جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے کسی کرشماتی دوا سے کم نہیں مگر اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ حد سے زیادہ جسمانی سرگرمیاں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

طبی جریدے دی لانسیٹ سائیکاٹری میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ورزش ذہنی صحت بہتر کرنے کے ساتھ ڈپریشن سے بچانے میں مددگار ہے مگر اس کا دورانیہ اس حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔

یالے یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران 12 لاکھ سے زائد افراد کی ورزش کے دورانیے اور جسم و ذہن پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ 2011 سے 2015 تک لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ورزش کرتے ہیں ان میں ڈپریشن اور دیگر ذہنی امراض کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔

اس حوالے سے ہفتے میں تین سے 5 بار 45 منٹ کی ورزش بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

مگر محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ اگرچہ جسمانی طور پر متحرک ہونا ذہن کے لیے فائدہ مند ہے مگر بہت زیادہ ورزش کرنا دماغی صحت کے لیے تباہ کن ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ورزش کا دورانیہ اس حوالے سے اہمیت رکھتا ہے اور اگر یہ وقت روزانہ 3 گھنٹے ہو تو اس سے ذہنی صحت پر بدترین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس کی وجہ یہ جو لوگ بہت زیادہ ورزش کرتے ہیں ان میں ذہنی صحت کے لیے مسائل جیسے کھانا بہت زیادہ کھانا، ڈپریشن یا کسی چیز کی لت کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ مہینے میں 23 بار سے زیادہ یا ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ لگاتار ورزش اور ذہنی صحت کے مسائل کے درمیان تعلق موجود ہے۔

نئی مائیں اپنا وزن کیسے کم کریں؟

بچے کی پیدائش کے بعد مائیں اپنا وزن آسانی سے گھٹا سکتی ہیں۔

ایک ماں بچے کو جنم دینے سے قبل 9 ماہ تک اپنے شکم میں ہی اس کی افزائش اور حفاظت کرتی ہے جو قطعاً آسان عمل نہیں ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچے کی افزائش اور جنم دینے کے عمل سے جسم میں کافی تبدیلیاں پیدا ہوجاتی ہیں جس کے سبب وزن میں چند پاؤند کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

اگر آپ نئی ماں ہیں تو آپ کو اپنا خاص خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ آپ کو اپنا جسم اپنی اصلی حالت میں لانے کے لیے وقت درکار ہوگا، لیکن فوراً وزن کم کرنے کے بارے میں سوچنا شروع مت کردیں۔

پرینٹنگ سے متعلق ویب سائٹ Babycentre UK پر ماہرین نئی ماؤں کو وزن کم کرنے کی چند آسان سی ٹپس بتائی ہیں۔

کھانے کی عادات بدلیں

صحت بخش خوراک کی عادتوں کو اپنائیں تاکہ آپ کے پاس اتنی جسمانی توانائی ہو جس سے آپ بچے کا خیال اچھے سے رکھ سکیں۔

بہتر ہے کہ آپ صبح ناشتے کے لیے وقت نکالیں، چاہے آپ کو جتنی بھی تھکن محسوس ہو رہی ہو، کیونکہ اسی طرح آپ کے جسم کے اندر میٹابولزم کے عمل میں تیزی آئے گی جو کافی دیر تک بحال رہے گی، یوں آپ کو پورے دن کے لیے مطلوب غذائیت فراہم بھی ہوجائے گی۔

صحت بخش غذا کو یقینی بنائیں جیسے سبزیوں اور پھلوں، دالوں، لوبیا، جو کے دانے اور بیجوں جیسی فائبر سے بھرپور خوراک کا دن میں ہر تھوڑے وقفے بعد استعمال کریں۔ دن میں ہر تھوڑے وقفے کے بعد کھانے کی عادت کا بھی جائزہ لیتی رہیں کیونکہ ممکن ہے کہ حمل کے دوران آپ کو اضافی کھانا کھانے کی عادت ہوگئی ہو۔

آپ کو ایک دن میں تقریباً 2 ہزار کیلوریز لینی چاہیے تاہم کیلوریز کی مقدار ہر خاتون کے لیے مختلف ہوسکتی ہے، اور اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ آپ بچے کو اپنا دودھ پلاتی ہیں یا نہیں۔

ہلکی پھلکی ورزش کریں

بچے کی پیدائش کے بعد ایک ماں کے لیے ورزش کا وقت نکالنا مشکل ضرور ہوسکتا ہے مگر پریشان نہ ہوں، ایسا کرنا ناممکن بھی نہیں ہے۔

آپ کو جب یہ محسوس ہو کہ ہاں اب میں ورزش کرسکتی ہوں، بس اس بعد ہی ورزش کرنا شروع کردیں، ابتدائی طور پر پیلوک فلور ایکسرسائز، واکنگ اور اسٹریچنگ جیسی ورزشوں سے شروعات کریں، آپ اپنے بچے کو پش چیئر میں ڈال کر لمبی واک بھی جاسکتی ہیں۔

بچے کو جنم دینے کے بعد یعنی کم از کم تقریباً 6 ہفتوں بعد یا پھر جب کہ خود کو بہتر یا ریکور محسوس کرنے لگیں اس کے بعد ہی مشکل ورزشوں کا آغاز کریں۔ گروپ کلاسز کے ذریعے آپ دیگر نئی ماؤں سے ملاقات کرسکتی ہیں اور یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ ہلکی پھلکی ورزش آپ کے لیے خوشگوار احساس باعث بنے گی۔

جلدبازی نہ کریں

بچے کی پیدائش کے بعد ہونے والے طبی معائنے تک کا انتظار کیجیے، جو کہ عام طور پر بچے کی پیدائش کے 6 سے 8 ہفتوں بعد کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہی وزن گھٹانے کا سوچنا شروع کریں، ویسے بھی آپ کے دماغ پر گھر آئے ننھے مہمان کی ہی اتنی خوشی سوار ہوگی کہ آپ کو دوسری کوئی بات یاد نہیں رہے گی۔

اپنے ڈاکٹر یا پریکٹس نرس سے اپنے وزن کے بارے میں بات کرنے کا یہی اچھا وقت ہوتا ہے۔ وہ آپ کو بہتر غذا اور آپ کے آس پاس واقع ایسی جگہوں پر جانے کا مشورہ دے سکتے ہیں جہاں آپ کو خود فٹ رکھ سکتی ہیں۔

ناشپاتی کھائیں، مختلف امراض دور بھگائیں

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ ڈاکٹر کو دور رکھتا ہے مگر ایک ناشپاتی کو روز کھانا بھی مختلف امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

فائبر، پوٹاشیم اور دیگر اہم اجزاء سے بھرپور یہ پھل کم کیلوریز کے ساتھ جسم کو مختلف اینٹی آکسائیڈنٹس بھی فراہم کرتا ہے۔

اس کے مختلف فوائد درج ذیل ہیں۔

جسمانی خلیات کا تحفظ

ناشپاتی میں وٹامن ‘سی’، وٹامن ‘کے’ اور کاپر جیسے اجزاء موجود ہوتے ہیں، جو جسمانی خلیات کو نقصان پہنچانے والے مضر عناصر کی روک تھام کرکے جلد کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

کولیسٹرول میں کمی

ناشپاتی میں فائبر کافی مقدار میں ہوتا ہے جو جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاکر امراض قلب سے تحفظ دیتا ہے، اسی طرح فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے ناشپاتی کو روزانہ کھانا فالج کا خطرہ بھی 50 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

کینسر سے تحفظ

ناشپاتی میں موجود فائبر ایسے خلیات کی روک تھام کرتا ہے جو آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ایک ناشپاتی کھانا خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 34 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔

موٹاپے سے نجات

جو لوگ ناشپاتی کو روزانہ کھاتے ہیں ان کے موٹے ہونے کا امکان 35 فیصد کم ہوتا ہے۔ امریکا کی لوزیانے اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشپاتی فائبر اور وٹامن سی کے حصول کے لیے بہترین ذریعہ ہے، جو جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

قبض سے بچاﺅ

جیسا کہ لکھا جاچکا ہے کہ ناشپاتی فائبر سے بھرپور پھل ہے اور یہ وہ جز ہے جو آنتوں کے افعال کو بہتر کرکے قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ہڈیوں کے مسائل سے بچائے

آج کل ہڈیوں کے امراض کافی عام ہوچکے ہیں، اگر ہڈیوں کو صحت مند رکھنا چاہتے ہیں اور بھربھرے پن کے مرض کو دور رکھنا چاہتے ہیں تو روزانہ ماہرین طب کی تجویز کردہ کیلشیئم کی مقدار کھانا بہت ضروری ہے جبکہ ہائیڈروجن کی سطح کو متوازن رکھنا بھی اہمیت رکھتا ہے، ناشپاتی کیلشیئم کو جسم میں آسانی سے جذب ہونے میں مدد دینے والا پھل ہے۔

جسمانی توانائی بڑھائے

ناشپاتی میں موجود گلوکوز کی مقدار کمزوری کی صورت میں فوری توانائی فراہم کرتی ہے، یہ گلوکوز بہت جلد جسم میں جذب ہوکر توانائی کی شکل میں ڈھل جاتی ہے۔

حاملہ خواتین کے لیے مفید

فولک ایسڈ حاملہ خواتین کے لیے بہت اہم ہے تاکہ بچے پیدائشی معذوری سے بچ سکیں، ناشپاتی میں بھی فولک ایسڈ موجود ہے اور دوران حمل اس کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔

بخار سے تحفظ

یہ پھل اپنی تاثیر میں ٹھنڈا ہوتا ہے اور یہ ٹھنڈک بخار کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔


نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

دانتوں کی سفیدی کا یہ آسان نسخہ حیران کردے گا

سفید دانتوں کی چمک سے اپنی مسکراہٹ کو جگمگانا کس کی خواہش نہیں ہوتی اور لاتعداد افراد اس مقصد کے لیے ہزاروں روپے ڈینٹسٹ کو دے کر ان کی صفائی بھی کرواتے ہیں مگر کیا آپ اس فوری کام کرنے والے اس گھریلو نسخے کو آزمانا پسند کریں گے؟

درحقیقت موتیوں جیسے چمکتے دانت تو آج کے دور میں خوبصورتی کے معمولات میں شامل ہوچکے ہیں جیسے بالوں کو رنگوانا وغیرہ۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ اپنی مسکراہٹ کو جگمگانے کے لیے آپ کو بہت زیادہ خرچہ کرنے بلکہ کسی قسم کے خرچے کی ضرورت نہیں۔

جی ہاں اگر سیب کھانے کی عادت دانتوں کو چائے یا کافی کے داغوں سے بچاتی ہے بلکہ آپ کے دانتوں کو چمکانے کا سستا ترین اور قدرتی طریقہ ثابت ہوتی ہے۔

درحقیقت سیب کھانے کی عادت نہ صرف ڈاکٹروں کو دور رکھ سکتی ہے بلکہ ڈینٹیسٹ سے بھی دور رکھ سکتی ہے۔

جب آپ سیب کھاتے ہیں تو اس کا چھلکا کسی ریگ مال کی طرح قدرتی ٹوتھ برش کا کام کرتا ہے۔

سیب کا چھلکا فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ دانتوں پر ریگ مال کی طرح کام کرکے پلاک اور داغوں کو صاف کرتا ہے۔

سیب میں ایسڈ اور مٹھاس ہوتی ہے مگر اس کے فوائد نقصان سے زیادہ ہوتے ہیں، بس اس پھل کو کھانے کے بعد پانی سے کلیاں کرنے کی احتیاط کرلیں۔

تاہم سیب کے چھلکوں سے دانتوں میں پیدا کی جانے والی سفیدی تادیر برقرار نہیں رہتی تاہم اس سے کوئی نقصان بھی نہیں بلکہ یہ داغ دھبوں کی صفائی بھی کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

اپنے دانتوں کو ٹوٹنے سے بچانا چاہتے ہیں؟

اپنے دانتوں کو کسی بھی عمر میں ٹوٹنے سے بچانا چاہتے ہیں؟ تو گندم یا ایسی ہی اجناس میں موجود کاربوہائیڈریٹس کا زیادہ استعمال کریں۔

یہ مشورہ عالمی ادارہ صحت نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دیا ہے، جس کے مطابق پراسیس فوڈ اور دانتوں کے مسائل کے درمیان تعلق موجود ہے۔

سفید ڈبل روٹی، بسکٹ، کیک اور جلیبی جیسے نشاستہ دار غذاﺅں میں موجود پراسیس کاربوہائیڈریٹس مسوڑوں کے امراض اور منہ کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھاتے ہیں۔

عالمی ادارے کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ پراسیس شدہ کاربوہائیڈریٹ میں موجود منہ میں جانے کے بعد لعاب دہن میں موجود امیلاس میں جاکر شکر میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں دانت آہستہ آہستہ گھسنے لگتے ہیں اور ارگرد کے ٹشوز بھی متاثر ہوتے ہیں۔

تحقیق میں جسمانی صحت کے لیے غذا کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ اجناس میں موجود کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا منہ کی صحت کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتی جتنا پراسیس شدہ نشاستہ۔

انہوں نے کہا کہ برسوں سے یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ غذا سے کاربوہائیڈریٹس کو نکال دینا چاہئے، حالانکہ اس جز سے بھرپور غذا منہ کی صحت کے لیے اس وقت فائدہ مند ہیں، جب ان میں شکر کی مقدار بہت کم ہو، ایسی غذائیں جیسے پاستا، گندم کی روٹی وغیرہ فائدہ پہنچاتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت ساتھ میں یہ بھی مشورہ دیا کہ روزانہ کی کیلوریز میں شکر کا استعمال 10 فیصد سے کم ہونا چاہئے اور اگر 5 فیصد تک کم کردیا جائے تو اضافی طبی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف ڈینٹل ریسرچ میں شائع ہوئے۔

حکومتی منصوبوں کے علاوہ وہ اقدام جن سے قدرتی وباؤں کو روکا جاسکے

انسان نے اپنے طرزِ زندگی کو آرام دہ اور سہل بنانے کے جنون میں اس کرہ ارض کے قدرتی نظام میں کچھ اس طرح بگاڑ پیدا کیا ہے کہ فی الوقت دنیا کا ہر خطہ قدرتی آفات اور موسمی تبدیلیوں کی زد پر ہے۔

اس وقت یورپ، امریکا، ایشیاء اور افریقہ کے متعدد ممالک کو تاریخ کے گرم ترین موسم گرما کا سامنا ہے اور گلوبل وارمنگ کی بدولت بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے یہاں نظامِ زندگی مفلوج کیا ہوا ہے، ساتھ ہی دنیا بھر میں بلند ترین درجہ حرارت کے باعث پانی کا بحران شدید تر ہوتا جارہا ہے اور ایک وسیع علاقے کو شدید خشک سالی کا سامنا ہے۔

دنیا بھر میں موسموں کے بدلتے ہوئے مزاج کے باعث اب کسی بھی وقت کوئی غیر متوقع صورتحال رونما ہونا حیران کن کام نہیں رہا۔ ساتھ ہی رواں برس سے ان موسمی تغیرات میں مزید شدت آگئی ہے۔ رواں برس کی پہلی سہہ ماہی میں برطانیہ اور یورپ کو تاریخ کے بدترین برفانی طوفان کا سامنا کرنا پڑا جو نہ صرف معمول کے برخلاف تھا بلکہ اس کی شدت بھی ماضی کے طوفانوں کی نسبت بہت زیادہ تھی۔

اسی طرح جولائی سے ستمبر تک متعدد امریکی ریاستیں سمندری طوفانوں کی زد پر ہوں گی اور ان طوفانوں کی شدت پچھلے برس کے ہریکن، ہاروے اور ارما سے زیادہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس کے علاوہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر میں 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔

دنیا بھر میں ان موسمی تبدیلیوں یا ان کے باعث آنے والی قدرتی آفات میں سب سے زیادہ جانی نقصان وبائی امراض پھوٹنے کی وجہ سے ہوتا ہے جن میں مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی بیماریاں جیسے ڈ ینگی، چکن گونیا اور زیکا وائرس قابل ذکر ہیں۔

ان میں ڈینگی وائرس سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے کیوں کہ یہ خشک سالی اور شدید بارشوں دونوں صورتوں میں بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور نہ صرف ایشیاء و افریقہ کے پسماندہ ممالک میں اس وبا کے باعث کافی جانی نقصان ہوچکا ہے بلکہ یورپ اور امریکی ریاستیں بھی اب اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں۔

گزشتہ کچھ عرصے میں دیگر ممالک کی طرح کریبیئن اور ملحقہ علاقوں کو بھی ڈینگی اور چکن گونیا کے شدید حملوں کا سامنا رہا ۔

واضح رہے کہ اس خطے کو ال نینو کے اثرات کے باعث کئی سالوں سے شدید خشک سالی کا سامنا ہے۔ ال نینو، بحرالکاہل کے پانیوں میں غیر معمولی درجہ حرارت کے اضافے کو کہا جاتا ہے۔ یہ عمل اس وقت رونما ہوتا ہے جب سمندر کا پانی آخری حد تک گرم ہوکر بہت زیادہ توانائی ماحول میں خارج کرکے دنیا بھر میں موسمی بگاڑ لاتا ہے۔ یہ ہواؤں کا رخ پلٹ کر، بادل اور طوفان بادو باراں کے سسٹم مشرق کی طرف منتقل کردیتا ہے جس سے وہاں طوفانوں کی شرح بڑھ جاتی ہے جبکہ مغربی علاقے بارشوں کی قلت کے باعث خشک سالی کی زد پر رہتے ہیں۔

کریبیئن کی طرح دیگر علاقوں میں بھی کئی برس کی خشک سالی کے دوران لوگ اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے پانی جوہڑوں، تالابوں یا پھر گھروں میں ٹنکی وغیرہ میں ذخیرہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ذخیرہ شدہ یہ پانی بہت جلد بدبودار اور جراثیم زدہ ہوجاتا ہے اور مچھروں کی افزائش نسل کا باعث بنتا ہے جو ڈینگی اور دیگر وبائی امراض کو پھیلانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

کریبیئن میں کئی برس کی خشک سالی کے دوران یہ امراض متعدد علاقوں میں پھیل چکے تھے اور حال ہی میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتے ہی ان کے پھیلاؤ میں شدت آگئی اور چونکہ امکان ہے کہ یہ بارشیں 4 سے 6 ماہ لگاتار برسیں گی اس لیے وہ علاقے جہاں سیلاب کے پانی کے بہاؤ کا مناسب انتظام نہیں وہاں مچھروں کے ذریعے پھیلنے والے امراض کسی نئے المیے کو جنم دے سکتے ہیں۔

طبّی تحقیق کے مطابق ڈینگی ایک بہت تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے اور اس وائرس کی 4 اقسام ہیں جنہیں باالترتیب ڈینگی وائرس 1،2،3 اور 4 کے نام دیے گئے ہیں۔ یہ وائرس عموماً مادہ مچھر کے کاٹنے سے جسم میں منتقل ہوتے ہیں۔ یہ مادہ مچھر دن کے اوقات میں پانی کے ذخیروں جیسے حوض، ٹنکی یا جوہڑ وغیرہ کے پاس کثرت سے پائے جاتے ہیں۔

ایسے گھر جہاں صفائی کا مناسب انتظام نہیں ہوتا اور گھروں کے باہر کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں وہاں ان مچھروں کی افزائش ہوتی ہے۔ ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے مرض کی علامات فوراً ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ اگلے 3 سے 6 دن تک متاثرہ شخص معمول کے کام سر انجام دیتا رہتا ہے۔

گھروں کے باہر گندگی بھی مچھر پیدا ہونے کا بڑا سبب ہے—فوٹو: ونگیج ڈاٹ کام
گھروں کے باہر گندگی بھی مچھر پیدا ہونے کا بڑا سبب ہے—فوٹو: ونگیج ڈاٹ کام

کچھ صورتوں میں 4 اور کچھ میں 7 دن بعد ہلکے زکام سے مرض کا آغاز ہوتا ہے جس کے بعد ایک دم سے تیز بخار چڑھ جاتا ہے اور ساتھ ہی آنکھوں، جوڑوں، پٹھوں اور ہڈیوں میں شدید درد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سر درد، ہاتھوں اور جسم کے دیگر حصوں میں شدید خارش کے ساتھ سرخ رنگ کے دھببے پڑنے لگتے ہیں۔

ان ابتدائی علامات کے بعد اگر مریض کو بروقت طبی امداد دے دی جائے تو مسئلہ زیادہ پیچیدہ نہیں ہوتا اور مریض کو علیحدہ وارڈ میں رکھ کر مرض کو پھیلنے سے روک لیا جاتا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے مرض کی بروقت تشخیص نہ ہوسکے یا مناسب طریقے سے علاج نہ ہو تو مریض کی حالت بگڑنے لگتی ہے اور بخار شدید ہوجاتا ہے جسے ‘ڈینگی ہومو ریجک فیور’ کہا جاتا ہے۔ اس میں شدید تیز بخار کے ساتھ متلی، پیٹ میں درد اور ڈائیریا کے بعد مثانے سے خون آنے لگتا ہے۔ مریض کے جسم میں دوران خون بگڑ جانے سے جسم کو جھٹکے لگتے ہیں اور دل کے دورے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے، جسے ڈینگی شاک سائنڈرم کہا جاتا ہے۔ اس حد تک حالت خراب ہوجانے کے بعد مزید علاج ممکن نہیں رہتا اور چند ہی روز میں متاثرہ شخص کی موت واقع ہوجاتی ہے تاہم اکثر کیسز میں مریض کی حالت کا انحصار وائرس کی اقسام پر بھی ہوتا ہے۔

جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ڈینگی وائرس تباہی پھیلاتا رہا ہے اور ہر برس کی طرح 2018ء میں بھی مون سون کا سیزن شروع ہوتے ہی سندھ اور پنجاب سے ڈینگی کے کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے۔

اگرچہ اس برس مون سون کی بارشیں معمول سے بہت کم برسی ہیں اور ابھی تک لاہور کے علاوہ کہیں بھی سیلابی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم محکمہ موسمیات کی رپورٹس میں بارشوں کا امکان ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2016ء میں 16 ہزار 580 افراد ڈینگی کا شکار ہوئے، جن میں سے 257 کی صرف لاہور میں موت واقع ہوئی۔

پچھلے برس 2017ء میں یہ اعداد و شمار اچانک ہولناک شکل اختیار کرگئے اور پورے ملک سے 78 ہزار 820 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے صرف 17 ہزار 828 افراد کی لیبارٹری سے تصدیق ہوسکی، مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ برس زیادہ تر کیسز پنجاب کے بجائے خیبر پختونخوا سے سامنے آئے جن کی تعداد 68 ہزار 142 تھی۔

گزشتہ برس ڈینگی سے متاثرہ 54 افراد کی موت ہوئی جن میں سے 50 خیبر پختونخوا اور 4 پنجاب میں چل بسے۔ اس ہولناک صورتحال کو قابو کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کی حکومت نے گنجان آبادی والے علاقوں میں 1 لاکھ 90 ہزار گھروں میں جراثیم کش اسپرے کیا تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش نسل کو روکا جاسکے۔

2018ء میں ایک دفعہ پھر ڈینگی کے حملے کی جگہ تبدیل ہوگئی ہے اور اب تک زیادہ تر کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ڈینگی کنٹرول و حفاظتی پروگرام برائے حکومتِ سندھ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 538 کیسز دارالحکومت کراچی میں اور 34 دیگر علاقوں سے سامنے آئے ہیں جن میں سے صرف ایک شخص کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ پنجاب میں مون سون کی بارشوں کے آغاز کے بعد 86 ڈینگی کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

اگرچہ ڈینگی کے علاج کے لیے کوئی باقاعدہ ویکسین ابھی تک نہیں بنائی جاسکی اور دنیا بھر میں اس کے علاج کے لیے روایتی طریقے و ادویات ہی استعمال کی جارہی ہیں مگر یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈینگی، چکن گونیا، زیکا وائرس یا دیگر وبائی امراض ہوں، علاج سے زیادہ حشرات و مچھروں کی افزائش روکنے اور صفائی ستھرائی کے ساتھ نکاسی آب کے نظام کو بہتر کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

خشک سالی سے بھی وبائی امراض پھوٹتے ہیں—فوٹو: برٹینیکا ڈاٹ کام
خشک سالی سے بھی وبائی امراض پھوٹتے ہیں—فوٹو: برٹینیکا ڈاٹ کام

خشک سالی کا طویل دورانیہ ہو یا موسلا دھار و طوفانی بارشوں کا موسم، بروقت اور درست حکمت عملی کے ذریعے ان المیوں کو روکا جاسکتا ہے جو ان وبائی امراض کی بدولت پاکستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں ایک طویل عرصے سے رونما ہوتے رہے ہیں اور اب 21ویں صدی میں گلوبل وارمنگ اور بدلتے ہوئے موسمی مزاج کی بدولت ان میں شدت آچکی ہے۔

حال ہی میں کریبیئن انسٹی ٹیوٹ فار میٹرولوجی اینڈ ہائیدرولوجی نے ڈینگی اور دیگر وبائی امراض کی قبل از وقت پیش گوئی کرنے کے لیے ایک شماریاتی ماڈل بنایا ہے جس کی بنیاد پچھلے چند برسوں میں کسی مخصوص علاقے کے درجہ حرارت میں اضافے اور وہاں بارشوں کی سالانہ اوسط پر رکھی گئی ہے۔

مثال کے طور پر اس ماڈل پر کام کرنے والے محققین نے برازیل اور اطراف کے ممالک کے لیے 1999ء سے 2016ء تک درجہ حرارت اور بارشوں کی اوسط کا ایک شماریاتی ڈیٹا تیار کرکے یہ پیش گوئی کی ہے کہ اگلے 3 ماہ میں کن کن علاقوں میں ڈینگی کی وبا پھوٹ پڑنے کا امکان ہے اور حیرت انگیز طور پر یہ پیش گوئی بلکل درست ثابت ہوئی۔

لہٰذا یہ ماڈل ان علاقوں کے لیے زیادہ کار آمد ثابت ہوسکتا ہے جہاں مختصر یا طویل المدت خشک سالی کے بعد بارشوں کا آغاز ہوا ہو جو عموماً کئی ماہ لگاتار جاری رہتی ہیں اور سیلاب کا سبب بنتی ہیں، کیوں کہ سیلاب کا پانی اترتے ہی یہ وبائی امراض بہت تیزی سے پھوٹ پڑتے ہیں۔

محققین کے مطابق یہ شماریاتی ماڈل کسی بھی ملک کی پبلک ہیلتھ پالیسی بنانے میں بھی مدد گار ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے ذریعے نہ صرف ڈینگی بلکہ دیگر وبائی امراض کے پھیلنے کے رسک کو کم کیا جاسکتا ہے۔ یہ ماڈل پاکستان میں ایک ہیلتھ پالیسی اور ڈیزاسٹر اسٹریٹجی بنانے میں بہت معاونت کرسکتا ہے جہاں لاہور و کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی نکاسی آب کا درست انتظام نہیں اور معمول سے تھوڑی زیادہ بارشیں ہوتے ہی پورے شہر دریا کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں جبکہ گنجان آبادی والے علاقوں میں کئی کئی روز بارش کا پانی کھڑا رہنے کے باعث مچھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے۔

اگر 1995ء یا اس کے بعد کسی بھی سال سے شماریاتی ڈیٹا تیار کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ابتداء میں ڈینگی کے زیادہ تر کیسز صوبہ بلوچستان میں سامنے آئے تھے جہاں وقتاً فوقتاً طویل یا مختصر المدت خشک سالی کے اوقات اب معمول بن چکے ہیں جبکہ 2018ء میں یہ کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں جہاں بارشوں کی قلت کے باعث خشک سالی جڑیں پکڑتی جارہی ہے۔

لہٰذا شماریاتی ڈیٹا کی بنیاد پر یہ پیش گوئی کرنا آسان ہوگا کہ اگلے چند ماہ یا 2019ء میں کون سے صوبے یا مخصوص علاقوں کو ان وبائی امراض کے حملے کا سامنا رہے گا۔ اس ماڈل کی بنیاد پر ہر صوبے میں ایک ارلی وارننگ سسٹم بھی بنایا جاسکتا ہے جو ہر طرح کے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو اور مقامی میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہو تاکہ پانی کے ذخائر اور درجہ حرارت کے حوالے سے مسلسل معلومات ملتی رہیں اور ان معلومات کی بنیاد پر 2 سے 3 ماہ پہلے وارننگ جاری کی جائے اور مقامی افراد کو اس کا پابند کیا جائے کہ وہ اپنے اطراف میں صفائی وستھرائی کا بھرپور انتظام کرتے ہوئے باقاعدگی سے جراثیم کش سپرے کریں، پانی کے ذخائر کو آلودہ اور بدبودار ہونے سے بچایا جائے تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش نسل کو روکا جا سکے۔

بے شک صحت سے متعلق پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے مگر جب تک مقامی آبادی ان پالیسیوں میں عمل درآمد میں حکومت کی معاونت نہیں کرے گی تب تک بدقسمتی سے یونہی ہر برس ڈینگی، چکن گونیا اور زیکا وائرس سمیت دیگر وبائی امراض نئے مقامات پر حملے کرکے اسی طرح تباہی پھیلاتے رہیں گے۔

مجبور و بے بس تماشائی بن کر خود کو قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے اپنی مدد آپ کیجیے، اس زمین کا آپ پر حق ہے اور یہ آپ کی بھی اتنی ہی ہے جتنی کسی ماہرِ ماحولیات، ماہرِ ارضیات اور حکومت کی ہے۔

زیادہ مرچ مصالحہ کھانا نقصان دہ تو نہیں؟

زیادہ مرچ مصالحے والے کھانے یقیناً منہ میں جلن اور زبان کو سن کردیتے ہیں، جسم سے پسینہ خارج ہونے لگتا ہے اور آنکھوں سے آنسو بھی بہہ سکتے ہیں۔

مگر یہ عادت جسم کو گرم موسم میں ٹھنڈا رکھنے کے ساتھ میٹابولزم اور جسمانی دفاعی نظام کو بھی مضبوط بناتی ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

نیو میکسیکو اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ مرچ مصالحہ کھانے سے ذائقے کی حس متاثر نہیں ہوتی بلکہ یہ جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ہری مرچ کھانے سے ایک کیمیکل کیپcapsaicin جسم کا حصہ بنتا ہے جو منہ میں موجود درد کے ریسیپٹر کو متحرک کرتا ہے جو دماغ کو سگنل بھیجتے ہیں کہ منہ میں خطرناک حرارت پیدا ہورہی ہے۔

یہ ریسیپٹرز درحقیقت انسانوں کو ایسی غذاﺅں کو کھانے سے روکنے کا کام کرتے ہیں جو گوشت کو جلا سکتے ہوں۔

تو دماغ کو سگنل جانے کے بعد جسم خود کو پسینے کے ذریعے ٹھنڈا کرنے کی کوشش شروع کرتا ہے، خون چہرے کی جانب دوڑتا ہے اور آنکھوں یا ناک سے پانی بہنے لگتا ہے۔

مگر یہ کیمیکل اکثر افراد کے دماغ میں 2 نیورو ٹرانسمیٹرز اینڈروفین اور ڈوپامائن کو بھی ریلیز کرتا ہے جس سے لوگ اچھا محسوس کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق زیادہ مرچ کھانے سے کسی ٹشو کو نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ گرمی اور ذائقہ 2 الگ احساسات ہیں۔

مرچوں کا استعمال صرف ہیٹ ریسیپٹر کو متحرک کرتا ہے جس سے حس ذائقہ متاثر نہیں ہوتی۔

محققین کا کہنا تھا کہ مرچوں میں وٹامن اے اور سی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو جسمانی دفاعی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اس سے قبل آسٹریلیا کی ایڈیلیڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ مرچ مصالحے سے بھرپور غذا لوگوں کو زیادہ کھانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ جسمانی وزن میں کمی بھی لاتی ہے۔

مرچیں جسم میں جاکر معدے کو بھر دیتی ہیں اور ایسے اعصاب کو سرگرم کردیتی ہیں جو جسم کو کہتے ہیں کہ بہت کھالیا اور زیادہ کھایا ممکن نہیں رہتا۔

چکن کا گوشت بیماریاں پھیلانے کا سب سے بڑا سبب؟

آلودہ غذا کے استعمال سے ہونے والی بیماریاں کافی عام ہوتی ہیں اور اس حوالے سے چکن کے گوشت کو سب سے بڑا ذمہ دار سمجھا جاسکتا ہے۔

امریکا کے محکمہ صحت سی ڈی سی کی جانب سے آلودہ غذاﺅں سے پھیلانے والی بیماریوں کے حوالے سے حال ہی میں تحقیق میں سامنے آئی۔

محققین نے دریافت کیا کہ چکن کا گوشت دیگر غذاﺅں کے مقابلے میں سب سے زیادہ بیماریاں پھیلانے کا باعث بنا۔

تحقیق کے مطابق بیجوں والی سبزیاں، مچھلی اور دودھ سے بنی مصنوعات بھی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم مجموعی طور پر چکن سب سے زیادہ بیمار کرنے کا باعث بنتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ تحقیق امریکا میں 2009 سے 2015 کے دوران غذاﺅں سے پھیلنے والی بیماریوں پر کی گئی تھی، اس کا اطلاق پاکستان پر نہیں کیا جاسکتا، مگر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہاں بھی چکن یا آلودہ غذائیں بیماریاں پھیلانے کا باعث بن سکتی ہیں۔

محققین کے مطابق چکن سے زیادہ بیماریاں پھیلنے کی وجہ کوئی راز نہیں، درحقیقت اس گوشت کے اسٹوریج، اس کے انتظام اور پکانے کی تیکنیک امراض سے بچاﺅ کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

انڈے، کچا دودھ، سبز پتوں والی سبزیاں اور چکن ایسی غذائیں ہیں جن میں بیکٹریا کی نشوونما کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، اگرچہ یہ کھانے کے لیے محفوظ ہوتی ہیں مگر چکن کے حوالے سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

چکن کے گوشت میں اکثر سالمونیلا نامی بیکٹریا پایا جاتا ہے جو انتڑیوں کی سوزش اور فوڈ پوائزننگ کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر بزرگوں، حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

لوگ سب سے بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ چکن کو پکانے سے پہلے دھو کر سمجھتے ہیں کہ تمام مضر صحت بیکٹریا کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

تاہم اس طرح وہ بیکٹریا کو کو کچن میں موجود دیگر اشیاء اور غذاؤں تک بھی پھیلا رہے ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کی ہدایات کے مطابق جب کچن کے گوشت کو پکانے کا ارادہ ہو تو یہ بہت ضروری ہے کہ اسے نہ دھوئیں بلکہ اگر پکانا نہیں تو فریزر میں رکھ دیں۔

اسی طرح ان چیزوں کو بھی احتیاط سے اچھی طرح دھوئیں جہاں اس گوشت عارضی طور پر رکھا ہو اور اپنے ہاتھ بھی اچھی طرح دھوئیں۔

چکن میں کیمپائلو بیکٹر (Campylobacter) نامی بیکٹریا بھی پایا جاتا ہے جبکہ سالمونیلا کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، یہ ایسے جراثیم ہیں جو پکانے کے دوران بھی بچ سکتے ہیں۔

اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ چکن کو تیز آنچ میں پکایا جائے تاکہ نقصان دہ بیکٹریا کے خاتمے کو یقینی بنایا جاسکے، کیونکہ ان کی معمولی مقدار بھی بیمار کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔

Google Analytics Alternative