صحت

پیاس محسوس کیے بغیر جسم میں پانی کم ہونے کی علامات

کراچی: پانی کے بغیر زندگی ناممکن ہے، پانی انسان کے زندہ رہنے کے لیے انتہائی ضروری ہے اورانسانی جسم میں پانی کی کمی بہت سی بیماریوں کی وجہ بنتی ہے۔

جب جسم میں پانی کی کمی ہونے لگتی ہے تو پیاس کا احساس ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ اگر پیاس نہ لگے تو جسم کو پانی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ پیاس کے بغیر جسم میں پانی کی کمی ہونا زیادہ خطرناک ہے۔ یہاں جسم میں پانی کی کمی کی چند علامات بیان کی جارہی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جسم کو پانی کی ضرورت ہے، اس عمل کو ’ڈی ہائیڈریشن‘ یا جسم میں ’آبی کمی‘ کہا جاسکتا ہے۔

سانس میں بدبو 

ہمارے منہ میں موجود لعاب کھانے کو ہضم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے تاہم اگر منہ میں لعاب نہ آئے یا منہ خشک ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ منہ میں بیکٹیریا پرورش پارہے ہیں جس کی وجہ سے منہ سے بدبو آتی ہے اور بدبو آنے کا مطلب ہوتا ہے جسم میں پانی کی کمی ہوگئی ہے۔

اس صورتحال میں بعض اوقات انسان کو پیاس محسوس نہیں ہوتی لہٰذا منہ میں نمی برقرار رکھنے اور جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تھوڑے تھوڑے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔

حواس اور مزاج میں خرابی 

جولوگ کم پانی پیتے ہیں وہ نارمل لوگوں کے مقابلے میں تھوڑے خبطی یعنی دماغی طور پر غیر صحت مند ہوتے ہیں اور کسی بھی چیز پر زیادہ ارتکاز نہیں کرپاتے۔

پانی کی کمی کے حوالے سے ایک تحقیق کی گئی جس میں 25 خواتین کو رضا کارانہ طور پر حصہ لینے کے لیے کہا گیا۔ ان تمام خواتین کو ایک دن بہت زیادہ پانی پلایا گیا اور اس کے بعد دو دن تک بالکل نہیں پلایا گیا جس کے بعدان خواتین کی ذہنی حالت نارمل انسانوں کے مقابلے میں خراب ہوگئی تھی اس کے علاوہ انہیں سردرد کی شکایت بھی پیدا ہوگئی تھی۔

بلڈ پریشرمیں کمی 

جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو انسان کا بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے دل کو خون جسم تک پہنچانے میں زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے چکر آتے ہیں اوراچانک کھڑے ہونے پر سر میں درد کا احساس ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پانی کا استعمال بڑھا دیں اور پیاس محسوس کیے بغیر پانی پیتے رہیں۔

بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس کرنا

سخت ورزش کے بعد انسان بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس کرتا ہے کیونکہ ورزش کرنے کے بعد نہ صرف جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے بلکہ جسم میں موجود گلائیکوجن کی مقدار بھی کم ہوجاتی ہے۔

گلائیکوجن دراصل گلوکوز کی ایک قسم ہے جو انسانی جسم میں جمع رہتی ہے اور ضرورت پڑنے پر جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا جسم میں پانی کی کمی کا اثر گلائیکوجن پر بھی پڑتا ہے اور اس کی مقدار آہستہ آہستہ کم ہوتی رہتی ہے اور انسان بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔

ایسی صورت میں میٹھی چیزیں کھانے کا دل کرتا ہے لہٰذا وہ افراد جو بہت زیادہ ورزش کرتے ہیں جیسے کھلاڑی وغیرہ، انہیں چاہیے کہ پھلوں اور غذاؤں کا استعمال بڑھا دیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جیسے تربوز، خربوزہ  اور دہی وغیرہ یہ غذائیں جسم میں پانی کی مقدار کو کم نہیں  ہونے دیتیں۔

بریسٹ کینسر آگاہی کیلئے گلابی ربن کا استعمال کیسے شروع ہوا؟

اکتوبر کو بریسٹ کینسر سے آگاہی کے مہینے کے طور منایا جاتا ہے جس کے دوران گلابی ربن پہن کر اس مرض کے علاج کے لیے سپورٹ کا اظہار کیا جاتا ہے۔

درحقیقت یہ روایت بریسٹ کینسر تک محدود نہیں، سرخ ربن ایڈز کے حوالے سے آگاہی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ آخر ربن کو کسی مقصد کو ظاہر کرنے کی علامت کے طور پر کیوں استعمال کیے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ کیسے شروع ہوا؟

امریکا کی لائبریری آف کانگریس نے اس طرح کے ربنز سے شعور اجاگر کرنے کی تاریخ پر تحقیق کی اور دریافت کیا کہ یہ تصور سے بھی زیادہ پرانی ہے۔

تحقیق کے مطابق امریکی خانہ جنگی کے دوران گمشدہ فوجیوں کے ورثاءنے اپنے پیاروں کے لیے زرد ربن باندھ کر یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

تاہم امراض کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے ربنز کا استعمال کچھ زیادہ پرانا نہیں۔

1973 میں ایک گانے میں زرد ربن پہننے کو محبت کے اظہار کی علامت قرار دیا گیا تھا اور یہ گانا بہت ہٹ بھی ہوا تھا مگر یہ ربن ان افراد نے پہنے جو ویت نام کی جنگ میں قید ہونے کے بعد گھر واپس لوٹے تھے۔

اس کے بعد لوگوں نے زرد ربن درختوں کے گرد باندھنا شروع کردیئے۔

اس کے کچھ عرصے بعد انہیں انقلاب ایران کے بعد گرفتار ہونے والی امریکی شہریوں سے اظہار یکجہتی اور پہلی عراق جنگ کے دوران استعمال کیا گیا۔

اس موقع پر ایڈز کے حوالے سے ایک تحریک شروع ہوئی اور زرد ربن سے متاثر ہوکر سرخ ربنز کا استعمال شروع ہوگیا تاکہ اس مرض کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرسکیں۔

اس کے کچھ عرصے بعد ہی دیگر امراض کے لیے اس حکمت عملی کو اپنایا گیا اور ایک 68 سالہ خاتون نے آڑو کی رنگت کے ربن اس توقع کے ساتھ تیار کیے تاکہ بریسٹ کینسر کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کیا جاسکے۔

اسی سال ایک فاﺅنڈیشن نے گلابی ربن اس کینسر کے علاج کی تیاری کی حوصلہ افزائی کے لیے استعمال کرنے شروع کیے اور یہ بہت زیادہ مقبول ثابت ہوئے، بتدریج یہ رنگ اس مرض کے ساتھ ہی جڑ گیا۔

مگر اب اس پر تنقید کی جاتی ہے کہ یہ اکثر ادارے اپنے کاروبار بڑھانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

وٹامن ڈی اور ہڈیوں کی کمزوری کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، تحقیق

اگرچہ وٹامن ڈی پر مبنی دوائیوں اور سپلیمینٹس کو ہڈیوں کی کمزوری، بھربھرے پن کے خاتمے، دمے، درد، دانتوں کے امراض، موٹاپے اور ڈپریشن کو قابو پانے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

تاہم نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے سائنسدانوں کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ وٹامن ڈی اور ہڈیوں کی کمزوری یا بھربھرے پن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔

تحقیق کے مطابق انتہائی عمر رسیدہ اور انتہائی کم عمر افراد کے علاوہ وٹامن ڈی کی دوائیوں اور سپلیمینٹس کا دیگر عمر کے افراد پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، یہ سمجھنا غلط ہے کہ وٹامن ڈی لینے سے ہی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔

سائنس جرنل ‘دی لینسٹ’ میں شائع نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق زیادہ تر بالغ افراد کی جانب سے وٹامن ڈی کی دوا لیے جانے کا انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تحقیق کے دوران ماہرین نے وٹامن ڈی پر ماضی میں ہونے والی 81 تحقیقات کا جائزہ لینے سمیت 50 ہزار سے زائد افراد کو کئی ماہ تک وٹامن ڈی کی خوراک دے کر نتائج معلوم کیے۔

ماہرین نے بتایا کہ وٹامن ڈی کے حوالے سے پائے جانے والے زیادہ تر خیالات 3 یا 4 دہائیاں پرانے ہیں، تاہم اب اس کے نتائج بدل چکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر افراد پر وٹامن کی دوائیاں یا خوراک اچھے اثرات مرتب نہیں کرتیں اور بالغ افراد کو اس کا کم فائدہ ہوتا ہے۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ان سپلیمینٹس اور دوائیوں کا زیادہ تر فائدہ یا تو انتہائی عمر رسیدہ یا پھر انتہائی کم عمر افراد کو ہوتا ہے، جن میں وٹامن ڈی کی نمایاں کمی پائی جاتی ہے۔

ماہرین نے 10 سال سے بڑے اور 60 سال سے کم عمر افراد کو تجویز دی کہ وہ یہ سمجھنا چھوڑ دیں کے وٹامن ڈی کی دوائیاں یا سپلیمینٹ کھانے سے ان کی ہڈیاں مضبوط ہوں گی یا انہیں جسم میں درد نہیں ہوگا۔

ماہرین نے واضح کیا کہ وٹامن ڈی کا ہڈیوں کی مضبوطی، جسم میں درد، دمے اور وٹامن ڈی کی کمی سے پید اہونے والی دیگر بیماریوں سے کوئی تعلق نہیں۔

تاہم ماہرین نے بتایا کہ وٹامن ڈی کی دوائیوں اور سپلیمنٹس کا ان افراد کو ضرور فائدہ پہنچتا ہے جن میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے اور ایسے افراد میں 4 سال سے کم عمر بچے اور 60 سال سے زائد عمر کے افراد شمار ہوتے ہیں۔

وٹامن ڈی کی دوائیں ہڈیاں مضبوط کرنے کی ضامن نہیں، نئی تحقیق

آکلینڈ: وٹامن ڈی کو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے نا گزیر سمجھا جاتا ہے اور ہڈیوں کے بُھربُھرے پن سے بچاؤ، فریکچر کے احتمال اور کمزور ہوتی ہڈیوں کے لیے وٹامن ڈی ہی کو آخری امید سمجھا جاتا ہے لیکن نئی تحقیق نے اس نظریے کی تردید کی ہے۔

ماہرین کا خیال رہا ہے کہ کیلشیم کے جسم میں جذب ہونے کے لیے سب سے مددگار و معاون عنصر وٹامن ڈی ہی ہے اس لیے کیلشیم کی گولیوں کے ساتھ وٹامن ڈی کی گولیاں بھی تجویز کی جاتی ہیں۔

اسی طرح بلند فشار خون اور آسٹیو پوروسس کے خطرے کو کم کرنے میں وٹامن ڈی کی اہمیت کے سب ہی قائل نظر آتے ہیں لیکن سائنسی جریدے لینسٹ میں شائع ہونے والی نئی تحقیق نے وٹامن ڈی کے حوالے سے تمام پرانے نظریات کو رد کر دیا ہے۔

آکلینڈ یونیورسٹی کے محققین نے مختلف رنگ، نسل، زبان اور عمر کے حامل 53 ہزار سے زائد افراد کو دو سال سے زائد عرصے تک وٹامن ڈی کی گولیاں دیں تاہم اس کے باوجود ہڈیاں بھربھرے پن کا شکار ہوئیں اور فریکچر بھی ہوئے۔

تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وٹامن ڈی کے مستقل استعمال کے باوجود ان افراد کی ہڈیوں کی کثافت میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ بڑھتی عمر کے ہڈیوں پر وہی اثرات مرتب ہوئے جو وٹامن ڈی نہ لینے والے افراد پر مرتب ہوئے یعنی ہڈیوں کی کثافت BMD میں وٹامن ڈی کا کوئی کردار سامنے نہیں آیا۔

تاہم تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ وٹامن ڈی نے بچوں میں ہڈیوں کی بیماری رکٹس اور ہڈیوں کے نرم پڑ جانے کی بیماری osteomalacia سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس لیے جن افراد میں Rickets  یا osteomalacia میں مبتلا ہونے کے امکانات روشن ہوں انہیں وٹامن ڈی استعمال کرانا چاہیے۔

ہڈیاں ہمارے جسم کے بوجھ کو ہی سنبھالے نہیں رکھتیں بلکہ اندرونی اعضاء جیسے دماغ، پھیپھڑے اور دل کی حفاظت بھی کرتی ہیں۔ تاہم بڑھتی عمر کے ساتھ ہڈیاں بھربھرے پن کا شکار ہوجاتی ہیں ضعیف العمری میں ہڈیوں کے نرم پڑ جانے کے باعث بغیر چوٹ یا ضرب کے فریکچر ہونے کا احتمال بھی رہتا ہے اور اسی سے بچنے کے لیے معالجین وٹامن ڈی کی گولیاں تجویز کرتے ہیں۔

ذیابیطس کی علامات 20 سال پہلے ہی سامنے آجاتی ہیں، تحقیق

ذیابیطس ٹائپ ٹو کی علامات کسی مریض میں اس کی تشخیص سے برسوں سے پہلے ہی سامنے آجاتی ہیں۔

یہ دعویٰ جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ خطرناک حد تک بلڈشوگر لیول میں اضافہ اور انسولین میں مزاحمت ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مرض میں مبتلا ہونے سے 20 سال قبل ہی سامنے آجاتی ہے، جس کے بعد مریض بتدریج اس خاموش قاتل مرض کا شکار ہوجاتے ہیں۔

27 ہزار سے زائد افراد پر کی جانے والی تحقیق میں کہا گیا کہ صحت مند طرز زندگی کو اسی وقت اختیار کرلینا چاہئے جب کسی شخص کا بلڈ شوگر لیول بڑھنا شروع ہوجائے تاکہ ذیابیطس کے مرض سے خود کو بچاسکے۔

ایزاوا ہاسپٹل کی تحقیق میں 27 ہزار سے زائد ایسے افراد کا جائزہ 2005 سے 2016 کے درمیان لیا گیا جنھیں ذیابیطس کا مرض لاحق نہیں تھا۔

تحقیق کے آغاز پر جسمانی وزن اور بلڈشوگر کو ریکارڈ کیا گیا اور 11 سال بعد ایک ہزار سے زائد افراد ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہوگئے۔

تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوا کہ جن لوگوں میں یہ مرض سامنے آیا، ان میں جسمانی وزن، بلڈ شوگر لیول اور انسولین کی مزاحمت جیسے مسائل اس مرض کی تشخیص سے 10 سال پہلے ہی سامنے آگئے تھے۔

یہ عارضے بتدریج اتنے بڑھ گئے کہ وہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کی شکل اختیار کرگئے۔

مثال کے طور پر 10 سال پہلے جن افراد کا کھانے سے پہلے بلڈ شوگر لیول 101.5mg/dl تھا، ان میں ایک دہائی بعد ذیابیطس ٹائپ ٹو کی تشخیص ہوئی، جبکہ جن افراد میں بلڈشوگر لیول 94.5mg/dl تھی، وہ اس سے محفوظ رہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ کھانے سے پہلے 100mg/dl بلڈشوگر لیول نارمل ہے، سو سے 125 تک پری ڈائیبیٹس اور 126 سے زیادہ ہوجانے پر ذیابیطس کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔

8 سے 10 گھنٹے تک کچھ کھانے یا پینے سے گریز کرنے کے بعد اس طرح بلڈشوگر لیول چیک کیا جاتا ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ جن افراد کا کھانے سے پہلے کا بلڈشوگر لیول 105mg/dl تھا، ان میں ذیابیطس کا مرض 5 سال بعد سامنے آیا جبکہ 110mg/dl بلڈشوگر لیول والے افراد ایک سال میں ہی ذیابیطس کے مریض بن گئے۔

اس تحقیق کے نتائج یورپی ایسوسی ایشن فار دی اسٹیڈ آف ڈائیبیٹس کانفرنس میں پیش کیے گئے۔

ذیابیطس سے قبل کی واضح علامات تو موجود نہیں مگر وہ کچھ ایسی ہوسکتی ہیں۔

جسم کے کچھ حصوں کی رنگت گہری ہوسکتی ہے اور ایسا عام طور پر گردن، گھٹوں، بغلوں یا کہنیوں میں ہوتا ہے۔

دیگر علامات میں بار بار پیشاب آنا، بہت زیادہ پیاس اور بھوک لگنا، چکر آنا، تھکاوٹ، نظر دھندلانا، خراشیں بہت دیر میں مندمل ہونا، ہاتھ یا پیروں میں درد یا سوئیاں چبھنے کا احساس وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

اگر آپ کو بھی ایسا کچھ محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور بلڈ گلوکوز کی اسکریننگ کروائیں۔

کیا آپ اپنے بچے کو ضرورت سے زیادہ کھلا رہے ہیں؟

کچھ عرصہ پہلے تک بھی نوجوانوں اور متحرک افراد کے لیے ہارٹ اٹیک کوئی پریشانی کی بات نہیں تھی مگر اب وقت بدل گیا ہے اور 8 سال تک کے بچوں کو ہارٹ اٹیک ہونے لگا ہے۔ لہٰذا وقت آگیا ہے کہ اس حوالے سے آگاہی پھیلائی جائے۔

ایک صحت مند طرزِ زندگی جس میں روزانہ جسمانی سرگرمیاں، صحت بخش غذائیں، بھرپور نیند اور تمباکونوشی سے پرہیز شامل ہیں، ہارٹ اٹیک کا خطرہ 80 سال کی عمر تک کافی کم کر دیتی ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق بچے کے ابتدائی 2 ہزار دن ان کی غذائی عادات تشکیل دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس عمر کے بچوں کا ہاضمہ تیز ہوتا ہے اور تیزی سے نشونما پا رہا ہوتا ہے۔ اسی عمر میں بچوں میں چربی کے خلیے بھی پیدا ہونے لگتے ہیں۔ تو اگر آپ انہیں ان کی ضرورت سے زیادہ کھلائیں گے تو ان میں چربی جمع ہونے لگے گی اور یاد رکھیں کہ ایک فربہ بچہ بالغ ہوکر بھی فربہ ہی رہے گا۔

اس کے علاوہ چٹ پٹے، نمکین اور میٹھے کھانوں کے لیے حسِ ذائقہ بھی کم عمر میں ہی نشونما پاجاتی ہے اس لیے اگر آپ اس عمر میں بچوں کو جوس، کولڈ ڈرنک، جیم، کیچپ اور ایسی ہی دیگر اشیاء کھلائیں گے تو وہ بعد میں اس سب کے عادی ہوجائیں گے اس لیے اس عمر میں بچوں کو قدرتی چیزیں ہی کھلانی چاہیئں۔

853210 کے منتر پر عمل کریں

8: آٹھ گھنٹے کی بھرپور نیند

ہم نے دیکھا ہے کہ بچے اب بھرپور نیند نہیں لیتے۔ وہ دیر سے سوتے ہیں اور جلدی اسکول چلے جاتے ہیں جس سے ان کی نیند پر سمجھوتہ ہوتا ہے۔ نیند کی کمی موٹاپے، توجہ دینے میں مشکلات اور خراب ذہنی صحت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بچوں کی صحتمند نشونما کے لیے 8 سے 10 گھنٹے کی نیند نہایت ضروری ہے۔

5: دن میں 5 سے 7 مرتبہ پھل اور سبزیاں کھلائیں

اپنے بچوں کو پلانٹس (پودوں) پر اگنے والی چیزیں کھلائیں، نہ کہ پلانٹس (فیکٹریوں) میں تیار ہونے والی۔ چنانچہ اگلی مرتبہ جب آپ کا بچہ کسی اسنیک کے لیے روئے تو انہیں چپس یا بسکٹ کے پیکٹ کے بجائے پھل پکڑا دیں۔

3: موبائل فون اور دیگر گیجٹس، زیادہ سے زیادہ صرف 3 گھنٹے

موبائل فون بڑوں اور بچوں سبھی کے لیے مقناطیس بن چکے ہیں اور دونوں ہی کے لیے اسکرین کے سامنے گزارا گیا وقت 3 گھنٹے سے زائد نہیں ہونا چاہیے۔ چوں کہ بچے والدین کی نقل کرتے ہیں اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ خود بھی گیجٹس سے دُور رہیں تاکہ ان کے بچے بھی ان کی پیروی کریں۔

2: روزانہ 2 لیٹر پانی پلائیں

آج کل بچے پانی کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔ پیاس لگنے پر وہ سافٹ ڈرنکس یا پھر پیک شدہ جوس پی لیتے ہیں مگر پانی سے دور بھاگتے ہیں۔ یقینی بنائیں کہ آپ کا بچہ روزانہ ایک سے 2 لیٹر پانی ضرور پیے۔

1: ایک گھنٹہ جسمانی سرگرمی ضروری ہے

بظاہر ایک گھنٹہ بہت چھوٹا معلوم ہوتا ہے مگر یہ بچوں کی مجموعی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

0: بچوں کی غذا میں جنک فوڈ 0 ہونا چاہیے

کم سے کم 5 سال کی عمر تک بچے کی غذا میں جنک فوڈ بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ 2 ہفتوں میں ایک مرتبہ وہ ایک چاکلیٹ یا چپس کا ایک پیکٹ کھا سکتے ہیں مگر روزانہ نہیں۔ زیادہ چینی اور نمک ہر کسی کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

ایچ ایف ایف ایس (ہائی فیٹ، سالٹ، شوگر) کھانے بچوں سے دُور ہی رکھیں۔ ان میں ہر طرح کے پیک شدہ اور جنک کھانے شامل ہیں۔ سافٹ ڈرنکس بھی انہیں بالکل نہ پلائیں کیوں کہ چینی کی لت لگ جاتی ہے۔ چینی جسم میں بالکل کوکین کی ہی طرح کام کرتی ہے اس لیے اسے غذا سے نکالنا نہایت ضروری ہے۔

بچے غذائیت نہیں سمجھتے مگر وہ رنگوں کو بہت اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ انہیں رنگوں کی مدد سے صحتمند غذائی عادات سمجھانا ایک اچھا طریقہ ہوسکتا ہے۔ انہیں روزانہ 7 رنگوں کے پھل اور سبزیاں کھلائیں تاکہ وہ صحت کی دھنک سے اچھی طرح واقف ہوسکیں۔

سیب کھائیں اور ڈاکٹر کے ساتھ بڑھاپے سے بھی دور رہیں

منی سوٹا: روزانہ ایک سیب کھائیں اور ڈاکٹر بھگائیں کے زبردست قول میں ایک اور شے کا اضافہ ہوسکتا ہے کہ اب سیب کھائیں اور بڑھاپا بھی بھگائیں۔

اس ضمن میں یونیورسٹی آف منی سوٹا نے ماضی میں شائع ہونے والی بعض رپورٹس پر دوبارہ غور کیا ہے۔ ان تحقیقات کے مطابق سیب، اسٹرا بیری اور دیگر بعض پھلوں میں ایک قسم کا کیمیکل ’سینولائٹکس‘ پایا جاتا ہے جس کی بہت سی اقسام ہیں۔ یہ بڑھاپے کو روکنے میں بہت مؤثر ثابت ہوتا ہے اور خلیاتی (سیلولر) سطح پر عمل کرتا ہے۔

کئی برس قبل نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں یونیورسٹی آف مِنی سوٹا اور مایو کلینک کے ماہرین نے تحقیق کے بعد کہا تھا کہ سینولائٹکس ایک خاص قسم کے خلیات کو تباہ کرتا ہے جو سینیسنٹ سیلز کہلاتے ہیں۔ اس طرح یہ بڑھاپے کو روک کر عمر بڑھاتا ہے اور جسمانی صحت برقرار رکھتا ہے۔

جب کوئی خلیہ سینیسنٹ سیلز بنتا ہے تو وہ تقسیم نہیں ہوپاتا اور اس صورت میں سوزش کے سگنلز خارج کرتا ہے یعنی جسمانی دفاعی نظام سے کہتا ہے کہ اس متاثرہ خلیے کو صاف کرو لیکن بوڑھے افراد میں یہ عمل نہیں ہوپاتا اور ان میں ایسے خلیات کا ایک ڈھیر لگتا جاتا ہے۔

اس عمر میں بھی سیب میں موجود سینولائٹکس سینسنٹ خلیات کو ٹھیک کرنے کی قوت رکھتے ہیں لیکن سینولائٹکس کی بہت سی اقسام ہیں۔ ان میں سے ایک فِسٹائن بہت مشہور ہے جو سیب، پیاز، اسٹرا بیری اور کھیرے میں عام پایا جاتا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ چوہوں پر آزمائش کے بعد فسٹائن صحت کی بہتری اور زندگی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

 

ڈائٹ مشروبات ذیابیطس کا شکار بنانے کے لیے کافی

مصنوعی مٹھاس والے مشروبات یا ڈائٹ سافٹ ڈرنکس موٹاپے یا ذیابیطس سے بچاﺅ میں مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور نہ ہی وہ چینی سے بنے مشروبات سے زیادہ صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔

یہ دعویٰ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ایڈیلیڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی معدے میں موجود بیکٹریا میں تبدیلیاں لانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔

یہ تبدیلیاں جسم کی بلڈشوگر جذب اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو بدل دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 2 ہفتے تک 29 صحت مند نوجوانوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔

ان میں سے آدھے نوجوانوں کو مصنوعی مٹھاس کے کیپسول دیے گئے جو مقدار میں دن بھر میں ساڑھے 4 ڈائٹ سافٹ ڈرنکس کے کین کے برابر تھے۔

باقی افراد کو عام کیپسول دیے گئے، جن میں کوئی مٹھاس نہیں تھی۔

محققین نے رضاکاروں کے معدے کے بیکٹریا کا تجزیہ کیا اور جن نوجوانوں نے مصنوعی مٹھاس استعمال کی تھی، ان کے بیکٹریا میں نمایاں تبدیلیاں دریافت کیں جبکہ اس ہارمون کا اخراج کم ہوگیا جو کہ بلڈ گلوکوز لیول کو کنٹرول کرتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی بیکٹریا کو متاثر کرکے ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

اس سے قبل ہاورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ڈائٹ یا مصنوعی مٹھاس سے بننے والے مشروبات میں ایسا جز پایا جاتا ہے جو کہ میٹابولک سینڈروم کا باعث بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور موٹاپے کا امکان ہوتا ہے۔

جن افراد میں میٹابولک سینڈروم ہو انہیں امراض قلب، فالج اور ذیابیطس جیسے امراض لاحق ہونے کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

Google Analytics Alternative