صحت

پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 7 ماہ کے دوران 45 تک پہنچ گئی

ملک بھر میں پولیو کا مرض سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مزید 4 کیسز سامنے آنے کے بعد گزشتہ 7 ماہ کے دوران پولیو سے متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد 45 ہوگئی ہے۔

پولیو آپریشن سینٹر کے مطابق پولیو کے نئے کیسز میں پنجاب کے شہروں لاہور اور جہلم میں 2، خیبرپختونخوا میں بنوں اور لکی مروت سے بھی 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اب تک کے اعداد وشمار کے مطابق صوبوں میں خیبرپختونخوا میں 35، سندھ میں 3، پنجاب 5 اور بلوچستان سے 2 کیسز سامنے آئے ہیں۔

ہزارہ اور مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع میں 15 جولائی سے پولیو مہم کا آغاز ہورہا ہے جس میں 5 برس سے کم عمر کے 6 لاکھ 14 ہزار 5 سو 90 بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔

پولیو کوآرڈینیٹر کامران آفریدی کے مطابق مہم کے لیے تربیت یافتہ پولیو ورکرز پر مشتمل 2 ہزار 6 سو 57 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے انسداد پولیو مہم بابر بن عطا نے اپیل کی تھی کہ پشاور میں پولیو ویکسین کے خلاف ڈرامہ کیا گیا، والدین جھوٹے پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں۔

انہوں نے بچوں کے والدین سے گزارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے بچوں سے کھیلنا بند کریں، جعلی اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے میں آنا بند کر دیں۔

خیال رہے کہ بنوں کو پولیو کے حوالے سے بہت خطرناک ضلع قرار دیا گیا ہے جہاں اب تک پولیو کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

واضح رہے کہ2017 میں پورے سال کے دوران ملک بھر میں پولیو کے 8 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ سال 2018 میں یہ تعداد 12 تھی۔

دماغ کو ہر عمر میں صحت مند رکھنا آپ کے اپنے ہاتھ میں

عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی تنزلی کا باعث بننے والے الزائمر امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تاہم طرز زندگی میں چند عام چیزوں کو اپنا کر اس لاعلاج مرض کو خود سے دور رکھنا ممکن ہے۔

الزائمر ایسا مرض ہے جس کا ابھی تک علاج دریافت نہیں کیا جاسکا ہے اور یہ آہستہ آہستہ مریض کو موت کے منہ کی جانب دھکیل دیتا ہے۔

یہ مرض دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے، یاداشت ختم ہوجاتی ہے اور ایک خاص قسم کا پروٹین اسے متحرک کرنے کا باعث بنتا ہے۔

اکثر یہ معمر افراد کو شکار بناتا ہے مگر کسی بھی عمر کے افراد کو یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے اور جیسا بتایا جاچکا ہے کہ یہ ناقابل علاج ہے تو اس کو ابتدائی مرحلے میں پکڑ لینا اس سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔

تاہم اب امریکا کی رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں بتایا گیا کہ طرز زندگی کے چند عناصر کا خیال رکھ اس مرض کو خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ڈھائی ہزار کے قریب افراد کا جائزہ لگ بھگ ایک دہائی تک لیا گیا اور ان کے طرز زندگی پر خاص توجہ دی گئی جیسے غذا، تمباکونوشی، جسمانی سرگرمیاں، الکحل کے استعمال اور دماغ تیز بنانے والی سرگرمیاں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کا طرز زندگی صحت مند ہوتا ہے یعنی صحت بخش غذا کا استعمال، تمباکو نوشی سے گریز، ہر ہفتے کم از کم ڈیڑھ سو منٹ تک ورزش، الکحل کا کم از کم استعمال اور دماغ تیز کرنے والی سرگرمیوں کو معمول بنانا، الزائمر و ڈیمینشیا کا خطرہ کم کرتا ہے۔

درحقیقت لوگ جتنی زیادہ صحت مندانہ سرگرمیاں اپنائیں گے، اتنا ہی زیادہ اس مرض کا خطرہ کم ہوگا۔

محققین کے مطابق اوپر دیئے گئے 5 عناصر میں سے 2 یا تین پر عملدرآمد بھی ڈیمینشیا کا خطرہ 39 فیصد تک کم کردیتا ہے جبکہ 4 یا پانچ عناصر پر عمل کرنے والے افراد میں یہ خطرہ 59 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جن عناصر کی بات کی جارہی ہے ان کو اپنانا ہر ایک کے اپنے ہاتھ میں یا کنٹرول میں ہوتا ہے، تو لوگ اپنے طرز زندگی کو فوری بدل کر انہیں اپناسکتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج الزائمر ایسوسی ایشن کی سالانہ کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے۔

چلتے ہوئے ہمارے ہاتھ سیدھے اور بھاگتے ہوئے مڑ کیوں جاتے ہیں؟

ویسے آپ دوڑ رہے ہوں، ہمارے ہاتھ خودبخود مڑ جاتے ہیں جس کی وجہ کہنی کی حرکت ہوتی ہے، مگر کیا ایسا کرنا دوڑنے کی رفتار بڑھانے میں مدد دیتا ہے؟

اگر ایک امریکی تحقیق کے نتائج کو درست مانا جائے تو دوڑتے ہوئے ہاتھوں کو سیدھا رکھنا بھی ہماری رفتار کو متاثر نہیں کرتا۔

یہ دلچسپ دعویٰ ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں سامنے آیا۔

ویسے دیکھنے میں عجیب یا حیران کن لگے اور لوگوں کو گھورنے پر مجبور کردے مگر دوڑتے ہوئے ہاتھوں کو سیدھا رکھنا بھی اتنا ہی موثر ہے جتنا انہیں کہنی کی مدد سے موڑ لینا۔

آپ خود غور کریں تو جب آپ دوڑتے ہوئے رفتار بڑھائیں گے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہاتھ کہنی کی جانب مڑجائیں گے۔

دوڑتے ہوئے ہاتھ کو اوپر کی جانب موڑ لینا اور چہل قدمی کرتے ہوئے ہاتھ سیدھے رکھنا، اکثر افراد ایسا کرتے ہیں، مگر اب تک سائنسدان یہ نہیں جاتنے تھے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

تو محققین نے 8 رضاکاروں کو ایک ٹریڈمل پر چلنے اور دوڑنے کا کہا جس کے دوران کچھ افراد کے ہاتھ سیدھے رکھے گئے جبکہ کچھ کو موڑنے کا کہا گیا۔

کچھ رضاکاروں کو آکسیجن ماسک پہنائے گئے تاکہ دیکھا جاسکے کہ وہ کتنی آکسیجن استعمال کرتے ہیں۔

محققین کا خیال تھا کہ دوڑتے ہوئے کہنیوں کا مڑ جانا جبکہ چلتے ہوئے ہاتھوں کو سیدھا رکھنا رفتار برقرار رکھنے میں زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے مگر یہ خیال 50 فیصد ہی درست ثابت ہوسکا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ چہل قدمی کرتے ہوئے کہنی کو موڑ لینے سے زیادہ جسمانی توانائی خرچ ہونے لگی جبکہ آکسیجن کے استعمال کی شرح بھی 11 فیصد تک بڑھ گئی، جبکہ حیران کن طور پر دوڑنے والے افراد میں دونوں طریقوں سے کوئی فرق سامنے نہیں آسکا۔

محققین کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں جان سکے کہ ہم دوڑتے ہوئے ہاتھ اوپر کی جانب موڑ کیوں لیتے ہیں مگر ان کے خیال میں اس کے پیچھے فائدہ مند وجہ چھپی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس طرح ہاتھ سر کو ایک پوزیشن میں مستحکم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف ایکسپریمنٹل بائیولوجی میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل 2016 میں امریکا کی مشی گن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نسان چلتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو حرکت دے کر جسمانی توانائی کو بچاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اگر لوگ چلتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو ساکت رکھیں تو حرکت دینے کے مقابلے میں ان کی 12 فیصد میٹابولک توانائی زیادہ خرچ ہوتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قدرتی طور پر ہاتھوں کا چلنا چلنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے جو جسمانی توانائی کو بچاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ ہاتھوں کی حرکت ہماری ٹانگوں سے جڑی ہوتی ہے، جب آپ بائیں پیر کو آگے بڑھاتے ہیں تو دایاں ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور ایسا قدرتی طور پر ہوتا ہے کیونکہ اگر بائیں پیر کے ساتھ بایاں ہاتھ آگے بڑھے تو 26 فیصد زیادہ جسمانی توانائی خرچ ہوگی۔

محققین کے مطابق چلتے ہوئے ہاتھوں کی حرکت سے توانائی اس لیے بچتی ہے کیونکہ ہاتھ پنڈولم کا کام کرتے ہیں اور چلنے کے ساتھ حرکت میں آکر جسمانی توانائی کا اخراج کم کردیتی ہے۔

اگر ناشتہ نہیں کرتے تو ان امراض کے لیے تیار ہوجائیں

کہا جاتا ہے کہ ناشتہ دن کی سب سے اہم غذا ہے جسے کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہیے۔

درحقیقت بیشتر طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ ناشتہ ممکنہ طور پر دن کا اہم ترین کھانا ہوتا ہے مگر اس صورت میں جب آپ کچھ اصولوں پر عمل کریں۔

تو کیا آپ اکثر ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ صحت کے لیے تباہ کن عادت ہے جو متعدد طبی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ناشتہ عام طور پر 10 سے 12 گھنٹے کے فاقے کے بعد ہوتا ہے اور اگر آپ اسے چھوڑ دیتے ہیں تو مختلف مسائل کا سامنا مختصر یا طویل المدت میں ہوسکتا ہے۔

تاہم یہ جان لینا بہتر ہے کہ اگر آپ اکثر ناشتہ نہیں کرتے تو جسم پر یہ عادت کیا اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

موٹاپے کا امکان

اگر آپ بڑھتے وزن سے پریشان اور اس وجہ سے صبح کی پہلی غذا چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ موٹاپے سے بچ سکیں، تو یہ ایک غلطی فہمی سے زیادہ نہیں۔ ایسی متعدد طبی تحقیقی رپورٹس سامنے آچکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ناشتہ کرنے کی عادت صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ دیگر اوقات میں لاشعوری طور پر حد سے زیادہ کھالیتے ہیں۔

آدھے سر کا درد

ناشتہ چھوڑنا جسم میں شوگر لیول کو بہت زیادہ کم کردیتا ہے جس کے باعث گلوکوز کی سطح بھی گر جاتی ہے۔ یہ نہ صرف بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے بلکہ اس سے آدھے سر کے درد کی تکلیف بھی لاحق ہوجاتی ہے۔

ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھتا ہے

ایک تحقیق میں دریافت کیا تھا کہ جو مرد ناشتہ نہیں کرتے، ان میں ناشتہ کرنے والوں کے مقابلے میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 27 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، درحقیقت جو لوگ روزانہ ناشتہ کرتے ہیں ان میں امراض قلب کا باعث بننے والے عناصر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ناشتہ چھوڑنا فشار خون یا بلڈ پریشر میں اضافے، بلڈ شوگر بڑھانے اور انسولین کی مزاحمت کا باعث بنتا ہے۔

جسمانی توانائی میں کمی

ناشتہ چھوڑنا روزانہ کا معمول بن جائے تو صبح کے وقت جسم زیادہ سستی محسوس کرنے لگتا ہے کیونکہ اسے اعضا کے افعال کے لیے ایندھن میسر نہیں ہوتا، یعنی صبح کی پہلی غذا جسمانی سرگرمیوں کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔

ذیابیطس

ناشتہ نہ کرنے کی عادت ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے خطرناک مرض کا خطرہ ایک تہائی حد تک بڑھادیتی ہے۔ جرمن ڈائیبیٹس سینٹر کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ صبح کی پہلی غذا کو جزو بدن نہ بنانا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار بننے کا امکان 33 فیصد بڑھا دیتا ہے۔ اور یہ صرف ان افراد کے لیے ہے جو کبھی کبھار ایسا کرتے ہیں۔ ایسے افراد جو ہفتے میں کم از کم 4 دن ناشتہ نہیں کرتے، ان میں یہ خطرہ ناشتے کرنے والوں کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ محققین کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرتے، وہ دن میں ناقص غذا کا زیادہ استعمال کرسکتے ہیں۔

بالوں سے محرومی

ناشتہ دن کی اہم ترین غذا ہے جو بالوں کی جڑوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کم پروٹین والی غذا کا استعمال بالوں کی نشوونما کے لیے ضروری عناصر پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے جس سے بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں اور گنج پن کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

سانس کی بو

ناشتہ نہ کرنا صرف صحت کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ سماجی زندگی پر بھی اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ اس عادت کے نتیجے میں سانس میں بو جیسے مسئلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناشتہ نہ کرنے سے لعاب دہن بننے کا عمل متحرک نہیں ہوپاتا، جس سے زبان پر بیکٹریا کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جو اس مسئلے کا باعث بنتا ہے۔

ذہنی تناﺅ اور چڑچڑا پن

ناشتہ نہ کرنے یا طویل وقت تک بھوکے رہنے سے مزاج بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا مزاج دن کی پہلی غذا سے دوری اختیار کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ خوشگوار ہوتا ہے۔ ناشتہ نہ کرنے سے بلڈشوگر لیول بھی گرتا ہے جو کہ چڑچڑے پن کا باعث بنتا ہے۔دوسری جانب ایک تحقیق کے مطابق ناشتہ نہ کرنے پر جسم میں تناﺅ بڑھانے والے ہارمون کورٹیسول کا اخراج بڑھتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ ناشتہ نہ کرنا جسم کے لیے پرتناﺅ ایونٹ ہوتا ہے۔ جسم میں کورٹیسول کی مقدار میں اضافے سے متعدد منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جیسے جسمانی وزن بڑھنا، جسمانی دفاعی نظام کمزور ہونا، مختلف امراض کا خطرہ بڑھنا اور بلڈ شوگر لیول میں عدم توازن وغیرہ۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

مون سون میں پھیلنے والی عام بیماریاں اور احتیاطی تدابیر

 جولائی کا مہینہ کا شمار جنوبی ایشیا میں سال کے گرم ترین مہینوں میں ہوتا ہے. اس مہینے میں جہاں گرمی کی تپش عروج پر ہوتی ہے وہیں برسات کا موسم لوگوں کے لئے اس گرمی سے نجات کا سبب بنتا ہے.

بارش سے موسم خوشگوار ہونے کے بعد گرمی سے ستائے افراد کے چہرے کھلکھلا اٹھتے ہیں اور اکثر لوگ موسم کا لطف لینے کے لیے اپنے گھروالوں کے ساتھ گھومنے چلے جاتے ہیں، مگر جہاں یہ موسم خوشیاں لاتا ہے وہیں کئی گھر ان موسلادھار بارشوں سے آنے والے سیلاب میں بہہ جاتے ہیں. اس موسم کو ‘مون سون کا موسم’ کہا جاتا ہے.

ہم یہ بات جانتے ہیں کہ جب بھی بارشوں کا موسم آتا ہے تو مختلف بیماریاں سر اٹھا لیتی ہیں. مون سون اپنے ساتھ بہت سی ایسی وبائی بیماریاں لاتا ہے جنہیں بہت سے لوگ جانتے تو ہیں لیکن ان سے بچاؤ کے لیے مختلف تدابیر کے بارے میں انہیں علم نہیں ہوتا.

اسی وجہ سے بہت سی بیماریوں کی تشخیص میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ان کی صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے. اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہر ایک کو مون سوں میں پیدا ہونے والی بیماریوں سے آگاہی ہو تاکہ ایہتیاتی تدابیر اپنا پر ان بیماریوں سے بچا جاسکے.

مون سون میں پیدا ہونے والی بیماریوں میں انفلوئنزا (وبائی زکام)، ملیریا، ٹائفائڈ، ڈینگی بخار، ہیضہ، اور ہیپاٹائٹس اے (پیلا یرقان) سرفہرست ہیں.

انفلوئنزا (وبائی زکام)

وبائی زکام مون سون کے موسم میں پھیلنے والی عام بیماری ہے. یہ نزلہ زکام “انفلوئنزا ” کی وجہ سے ہوتا ہے اور چونکہ یہ وائرس کھلی فضا میں موجود ہوتا ہے اس لئے ایک فرد سے دوسرے میں بآسانی منتقل ہوجاتا ہے. انفلوئنزا وائرس ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور ناک، گلے اور پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے. اس بیماری کی نشانیوں میں بہتی ہوئی ناک، جسم اور گلے میں شدید درد اور بخار شامل ہیں. اس وبائی مرض سے بچنے کے لئے اچھی غذا لینا چاہیے تاکہ جسم کی قوت مدافعت زیادہ مضبوط ہو جو اس وائرس کو ختم کرسکے.

کولرا (ہیضہ)

ہیضہ مون سوں کے موسم میں ہونے والی خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے. ہیضہ کچھ خطرناک بیکٹیریا (خوردبینی جاندار) کی وجہ سے ہوتا ہے جو خراب کھانوں، گندے پانی اور حفظان صحت کی کمی کے باعث پھیلتے ہیں. اس کی علامات میں پتلا فضلہ اور قے آنا شامل ہیں, جس کی وجہ سے جسم سے بہت زیادہ پانی کا ضیاع اور پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہوجاتا ہے. اس وجہ سے انسانی جسم میں الیکٹرولائٹس (نمکیات) کی کمی ہوجاتی ہے. آج کل اس کے لئے ‘ڈپ اسٹکس’ موجود ہیں جو انسانی فضلے میں ہیضے کے بیکٹیریا (وبریو کالرا) کی موجودگی کے بارے میں بتا دیتے ہیں.

ہیضے کے مریض کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انسانی جسم میں نمکیات کی کمی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے. مریض کو او. آر. ایس.، جو اورل ری ہائڈریشن سالٹس کا مخفف ہے، بھی پانی میں گھول کر پلانا چاہیے جو جسم میں پانی کے ساتھ ساتھ نمکیات کا توازن برقرار رکھتا ہے. ہیضے سے بچاؤ کے لئے صاف پانی، بہتر نظم نکاس، عمدہ حفظان صحت کا خیال رکھنا چاہیے.

ٹائیفائڈ

ٹائیفائڈ آلودہ پانی میں پائے جانے والے بیکٹیریا ‘سلمونیلا’ کی وجہ سے ہوتا ہے. یہ بیماری آلودہ کھانے یا کسی متاثرہ شخص کے فضلے سے آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے ہوتی ہے. اسکی علامات میں کچھ دنوں تک تیز بخار، پیٹ میں شدید درد، سر درد اور قے آنا شامل ہے. اس بیماری کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اسکا جراثیم علاج کے بعد بھی پتے میں رہ جاتا ہے. اس بیماری کی تشخیص خون کا نمونہ لے کر ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے. اس کی احتیاتی تدابیر میں صاف پانی کا استمال، اچھے انٹی بیکٹیریل صابن کا استعمال اور بہتر نکاسی آب کا انتظام شامل ہے. اس کے لئے مختلف انٹی بایوٹیکس کا استمال کیا جاتا ہے.

ہیپاتیٹس اے (پیلا یرقان)

ہیپاٹائٹس اے کا شمار ان خطرناک وبائی بیماریوں میں ہوتا ہے جو جگر میں انفیکشن پیدا کرتی ہیں. آلودہ پانی اور کھانے کا استعمال اس بیماری کی وجہ بنتا ہے کیونکہ ان میں ہیپاٹائٹس اے کا وائرس موجود ہوتا ہے. پھلوں اور سبزیوں پر بیٹھنے والی مکھیاں بھی اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور اسی وجہ سے ڈاکٹرز یہ تلقین کرتے ہیں کہ ہر چیز پانی سے دھو کر استعمال کرنی چاہیے. اس بیماری کی علامات جگر میں سوزش کی نشان دہی کرتی ہیں جن میں آنکھوں، جلد اور پیشاب کا پیلا ہونا (جسے جوانڈس یا پیلا یرقان بھی کہا جاتا ہے)، معدے میں درد، بھوک کا ختم ہونا، متلی ہونا، بخار اور پتلے فضلے آنا شامل ہیں. اس کی تشخیص کے لئے خون کا ٹیسٹ کیے جاتے ہیں. اس بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں کیا جاتا بلکہ اکثر اوقات مختلف مشروبات پینے کی تلقین کی جاتی ہے لیکن خطرے کی صورت میں ہیپاٹائٹس اے کے حفاظتی ٹیکے لگوا کر قوت مدافعت کو بڑھایا جاتا ہے. ہیپاٹائٹس اے سے بچاؤ کے لئے صفائی کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے.

ملیریا

ملیریا ان بیماریوں میں سے ہے جس کی وجہ گندے پانی میں پیدا ہونے والی مادہ مچھر ‘انوفیلیس’ ہے. مون سون کے موسم میں پانی کے جل تھل کی وجہ سے اس مچھر کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اسی کے ساتھ ہی ملیریا کی وبا پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ ہوجاتا ہے. اس کی تشخیص خون کے ٹیسٹ سے کی جاتی ہے. اس کی نشانیوں میں تیز بخار، جسم اور سر درد، پسینہ آنا شامل ہیں. اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو جگر اور گردوں کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں. ملیریا کے احتیاتی تدابیر کے لیے مچھروں سے بچاؤ کے لیے مچھر دانی کا استعمال ضروری ہے اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے گھر میں گندے پانی کا ذخیرہ نہ ہونے دیں.

ڈینگی بخار

ڈینگی بخار وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس وائرس کو پھیلانے میں ‘ایڈیس ایگیپٹی’ مچھر اہم کردار ادا کرتا ہے. اس مچھر کی پہچان یہ ہے کہ اس کے جسم پر سفید اور کالی لکیریں ہوتی ہیں اور یہ دوسرے مچھروں سے عموما بڑا ہوتا ہے. یہ مچھر صبحاور شام کے وقت کاٹتا ہے. ڈینگی بخار کو “ریڑھ کی ہڈی کا بخار” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی نشانیوں میں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھوں کے پیچھے درد، سر درد، بخار اور جسم پر سرخ نشانات بننا شامل ہیں. ابھی تک ڈینگی بخار کے لئے کوئی خاص اینٹی بایوٹیک یا انٹی وائرل دوائی نہیں بنائی گئی ، اسی لیے عام پین کلر، جن میں پیراسیٹامول شامل ہے، پر ہی استفادہ کیا جاتا ہے. اس کی احتیاتی تدابیر کے لیے مچھروں سے بچاؤ کی ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور صاف پانی کو کہیں بھی کھڑا نہیں ہونے دینا چاہیے تاکہ مچھروں کی پیداوار روکی جائے.

آخر میں یہی کہوں گی کہ مون سون کے موسم میں ہمیں خود کو ان بیماریوں سے محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ اس خوبصورت موسم سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوا جائے.

سکس پیک ایبس بنانے میں مددگار آسان طریقے

بولی وڈ اسٹار عامر خان نے کچھ عرصے اس وقت سب کو حیران کردیا تھا جب یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے چند ماہ کے اندر اپنا جسمانی وزن بڑھایا اور پھر دوبارہ 25 کلو وزن کم کرکے سکس پیک ایبس بنائے۔

اگر آپ بھی کوئی فٹنس مقصد رکھتے ہیں یا بس اچھا نظر آنا چاہتے ہیں تو سکس پیک ایب بنانے کے لیے چند آسان چیزوں کو فوری اپنالیں۔

درحقیقت سکس پیک بنانا اتنا آسان نہیں بلکہ کافی محنت طلب ہوتا ہے مگر اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہفتے میں 7 دن جم کا رخ کریں یا پیشہ ور باڈی بلڈر بن جائیں۔

بس اپنی غذا اور طرز زندگی میں کچھ تبدیلیاں طویل المعیاد بنیادوں پر بہترین نتائج کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

ایسی ہی چند تبدیلیاں درج ذیل ہیں۔

زیادہ کارڈیو ورزشیں کرنا

کارڈیو کو ایروبک بھی کہا جاتا ہے، درحقیقت اس میں ہر وہ ورزش شامل ہے جو دل کی دھڑکن کی رفتار تیز کردے، اپنے معمولات میں کارڈیو ورزشوں کو شامل کردینا اضافی چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے جبکہ سکس پیک ایبس کے حصول میں بھی مدد دیتا ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق کارڈیو ورزشیں توند کو گھٹانے میں انتہائی موثر ہوتی ہیں جس سے پیٹ کے مسلز زیادہ نمایاں ہوجاتے ہیں۔

پیٹ کے مسلز کی ورزش

جیسا آپ کو معلوم ہی ہے کہ سکس پیک ایبس میں پیٹ کے مسلز نمایاں ہوتے ہیں جو سانس لینے اور آنتوں کے افعال کے لیے بھی ضروری ہوتے ہیں۔ ان مسلز کی ورزش ان کے حجم کو بڑھانے میں مدد دے کر سکس پیک ایبس کے حصول میں مدد دیتی ہے، تاہم ان مسلز کی ورزش توند کی چربی گھٹانے میں تنہا موثر نہیں ہوتی بلکہ صحت بخش غذا اور کارڈیو ورزشوں کا امتزاج چربی تیزی سے گھلاتا ہے اور بہترین نتائج بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔ پلانک، کرنچز اور برجز وغیرہ پیٹ کے مسلز کو مضبوط بنانے کے لیے بہترین ورزشیں ہیں۔

پروٹین کا زیادہ استعمال

پروٹین سے بھرپور غذاﺅں کا زیادہ استعمال جسمانی وزن میں کمی، توند کی چربی گھٹانے اور مسلز کی نشوونما میں مدد دے کر سکس پیک ایبس کے حصول میں مدد دیتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ پروٹین والی غذائیں پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتی ہیں جس سے بے وقت کھانے کی خواہش پر قابو پانا ممکن ہوجاتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان غذاﺅں کا استعمال میٹابولزم کو تیز کرتا ہے جبکہ مسلز کے حجم کو بھی بڑھاتا ہے۔ انڈے، گوشت، چکن، سی فوڈ، دودھ کی مصنوعات، دالیں، گریاں اور بیج وغیرہ چند زیادہ پروٹین والی غذائیں ہیں۔

سخت جسمانی سرگرمیاں

ایچ آئی آئی ٹی (High-Intensity Interval Training) ورزش کی وہ قسم ہے جو دھڑکن کی رفتار بڑھانے اور چربی گھلانے میں مدد دیتی ہے، اس کو معمول بناکر جسمانی وزن میں کمی کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ سکس پیک ایبس بنانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ اس کی ایک آسان قسم تیز چہل قدمی کے دوران 20 سے 30 سیکنڈ کے لیے تیز دوڑنا ہے، جبکہ جمپنگ جیک اور burpees وغیرہ بھی کافی مقبول ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ ایچ آئی آئی ٹی ٹریننگ ہفتے میں تین بار 20 منٹ کے لیے کرنے سے 12 ہفتوں میں 2 کلو گرام وزن اوسطاً کم ہوتا ہے جبکہ توند کی چربی 17 فیصد گھٹ جاتی ہے۔

پانی کا مناسب استعمال

صحت کے لیے ہر پہلو کے لیے پانی انتہائی ضروری ہوتا ہے اور اس کی مناسب مقدار کا استعمال میٹابولزم کی رفتار تیز کرکے توند کی اضافی چربی گھلاتا ہے جبکہ سکس پیک ایبس کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے (اگر ورزشیں کی جائیں تو)۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 500 ملی لیٹر پانی پیناکھانے کے ایک گھنٹے بعد عارضی طور پر توانائی صرف ہونے کی شرح 24 فیصد تک بڑھا دیتا ہے، جبکہ پانی پینے سے کھانے کی اشتہا کم ہوتی ہے۔

پراسیس غذاﺅں سے دوری

چپس، بکسٹ، برگر، پیزا اور ایسی ہی دیگر پراسیس غذائیں زیادہ کیلوریز، کاربوہائیڈریٹس، چربی اور نمک سے بھرپور پوتی ہیں، جبکہ فائدہ مند اجزا جیسے فائبر، پروٹین، وٹامنز اور منرلز کی کمی ہوتی ہے، جس سے پیٹ اور کمر کے گرد چربی کا ذخیرہ ہوتا ہے، تاہم ان سے دوری توند کی چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے جس سے سکس پیک ایبس کے حصول میں مدد ملتی ہے۔ پراسیس غذاﺅں کی جگہ پھلوں، سبزیوں، اناج اور دالوں کا استعمال زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔

ریفائن کاربوہائیڈریٹس سے گریز

پیسٹریوں، پاستا اور پراسیس غذاﺅں میں ریفائن کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور فائبر، منرلز اور وٹامنز نہ ہونے کے برابر، تو اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر لیول بہت تیزی سے اوپر جاکر نیچے گرتا ہے، جس سے بار بار بھوک لگتی ہے اور لوگ زیادہ کاھتے ہیں۔ تو ان سے دوری اضافی چربی کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے اور سکس پیک کا حصول بھی آسان ہوجاتا ہے اگر ورزش کرنے کے عادی ہوں تو۔

فائبر کو دوست بنائیں

زیادہ فائبر والی غذائیں جیسے پھل، سبزیاں، اناج، گریاں، بیج وغیرہ جسمانی وزن میں کمی اور سکس پیک کے حصول کے چند آسان ترین طریقوں میں سے ایک ہے، حل ہوجانے والا فائبر غذائی نالی سے ہضم ہوئے بغیر گزر جاتا ہے جس سے معدے کا خالی ہونے کا عمل سست ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رہتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 14 گرام فائبر کی مقدار بڑھانا جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے۔

انڈوں کے چھلکے کا انوکھا فائدہ سامنے آگیا

انڈوں کے چھلکے ہڈیوں کے فریکچر کو ٹھیک کرنے یا دوبارہ اگانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، کم از کم سائنسدانوں کا تو یہی خیال ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

میساچوسٹس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا کہ انڈوں کے چھلکوں کے سفوف اور ایک قسم کے جیل کے مکسچر سے چوہوں کی ہڈیوں کے خلیات تیزی سے دوبارہ اگنے اور سخت کرنے میں مدد ملی۔

تحقیق کے مطابق یہ مکسچر ایک سانچے کو بنانے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے جس سے انسانی مریضوں میں ہڈیوں کو دوبارہ اگانے کے ساتھ انجری سے نجات میں مدد مل سکے گی۔

محققین کو توقع ہے کہ اس تیکنیک سے ان افراد کا علاج ہوسکے گا جن کی ہڈیاں بڑھاپے کی وجہ سے، کسی بیماری یا انجری کے نتیجے میں متاثر ہوچکی ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار سے لاکھوں ٹن کے غذائی فضلے کی صفائی کرنا بھی ممکن ہوگی جس سے ماحولیاتی بہتری لانے میں بھی مدد ملے گی۔

محققین کے مطابق پہلی بار انڈوں کے چھلکے کے ذرات کو ایک ہائیڈرو جیل میٹرکس کے ساتھ ہڈیوں کی مرمت کے لیے استعمال کیا گیا اور نتائج انتہائی زبردست ثابت ہوئے۔

تحقیق کے دوران انڈوں کے چھلکوں کو جیلاٹین پر مبنی ہائیڈروجیل کے ساتھ استعمال کیا گیا اور پھر چوہوں پر ان کا استعمال کیا گیا تو نئی ہڈی بنانے والے خلیات بننے لگے۔

محققین کے خیال میں یہ طریقہ کار ہڈیوں کے ساتھ ساتھ دانتں کی بحالی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے بائیو میٹریلز سائنس میں شائع ہوئے۔

وہ آسان غذائی عادت جو متعدد امراض سے بچائے

دن بھر میں غذا سے حاصل ہونے والی 300 کیلوریز کی کٹوتی مختلف جان لیوا امراض جیسے ذیابیطس اور امراض قلب سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

اور ایسا اس وقت بھی ممکن ہوگا جب آپ کا جسمانی وزن بہت زیادہ بڑھ چکا ہو۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ڈیوک یونیورسٹی کی تحقیق میں 218 رضاکاروں کو 2 سال تک روزانہ ایک چوتھائی کیلوریز کی کٹوتی کرنے کا کہا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اس سے نہ صرف جسمانی وزن میں کمی آئی اور اس میں دوبارہ اضافہ نہیں ہوا بلکہ میٹابولک امراض جیسے ذیابیطس کا خطرہ کم ہوا جبکہ جسمانی وزن کی سطح میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔

محققین کے خیال میں روزانہ کی غذا کی مقدار میں معمولی کمی لانا بھی مجموعی صحت کے لیے جادو اثر ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جسمانی وزن صحت مند ہونے کے باوجود ضرورت سے زیادہ کھانا خصوصاً شکر، زیادہ کاربوہائیڈریٹس، چربی اور سرخ گوشت پر مبنی غذا جسمانی ورم بڑھانے کا باعث بنتی ہے جو آگے بڑھ کر امراض قلب، الزائمر، ذیابیطس اور بڑھاپے کی جانب سفر تیز کردیتا ہے۔

اس سے پہلے ایک تحقیق تحقیق میں جانوروں پر کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہوا کہ روزانہ کیلوریز میں 10 سے 40 فیصد کمی امراض اور مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ کم کردیتی ہے اور موٹاپے کے شکار افراد کے لیے بہترین حکمت عملی ہے۔

مگر اس نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ صحت مند وزن کے حامل افراد بھی روزانہ کی غذا کی مقدار میں کمی کمی لے آئیں تو وہ بھی مختلف جان لیوا امراض کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں۔

تحقیق میں 2 سال بعد دریافت کیا گیا کہ غذا کی مقدار میں کمی سے لوگوں میں جسمانی ورم کم ہوا جس کے نتیجے میں امراض قلب، کینسر اور دماغی تنزلی کا خطرہ کم ہوا جبکہ ذیابیطس سے تھفظ بھی ممکن ہوگیا۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے لانسیٹ ڈائیبیٹس اینڈ Endocrinology میں شائع ہوئے۔

Google Analytics Alternative