صحت

مچھروں سے بچاؤ کیلئے نئی کوششیں شروع

مچھر ایک مہلک مخلوق ہیں جو ہر سال لاکھوں اموات کا سبب بنتے ہیں۔

مچھروں پر تحقیق کے دوران معلوم ہوا ہے کہ مچھر اپنے پروں کی مدد سے بھنبھناتے ہیں اور یہ آواز ان کے تولیدی عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مچھر اپنے جنسِ مخالف کو اس بھنبھناہٹ سے تلاش کرتے ہیں۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ اس آواز میں خلل ڈال کر مچھروں کے مسئلے کا تدارک کر سکتے ہیں۔

سائنسدان مچھروں کے بھنبھنانے کی آواز کی مدد سے ان کی آبادی کو کم کرنے پر تحقیق کر رہے ہیں اور انہیں انسانی آبادی سے دور رکھنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مادہ مچھر کے پروں کا وزن کم ہوتا ہے، اسی لیے اس کی بھنبھناہٹ ہلکی ہوتی ہے جبکہ سیکڑوں کے جھنڈ میں اپنی مادہ کو تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سائنسدانوں کو یقین ہے کہ وہ مچھروں کی زبان یا بھنبھنانے کے انداز کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کی آواز میں خلل ڈال کر خطرے کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔

خوبصورت نظر آنا آپ کی خواہش ہے؟

اگر تو آپ اپنی جلد اور چہرے کو پرکشش بنانا چاہتے ہیں اور ہر وقت خوبصورت نظر آنا چاہتے ہیں تو اب مہنگے فیشلز اور مصنوعات پر پیسے ضائع کرنا چھوڑ دیں۔

درحقیقت چگمگاتی جلد اور چمکدار بالوں کے کچھ بہترین نسخے تو آپ کے اپنے کچن میں چھپے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

لیموں

لیموں ایسی چیز ہے جو آپ کے تصورات سے زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔ لیموں کی مدد سے آپ چہرے پر عمر بڑھنے کے اثرات یا چھائیوں کو موثر طریقے سے غیرنمایاں کرسکتے ہیں۔ بس ان حصوں پر براہ راست لیموں کا عرق لگائیں اور پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر دھولیں۔اگر مینی کیور کا وقت نہیں تو تو آدھا لیموں لیں اور اس کا عرق گرم پانی میں ملا کر اپنے ناخن اس میں پانچ منٹ تک ڈوبے رہنے دیں۔ باہر نکالنے کے بعد لیموں کے چھلکوں سے ناخنوں کی پشت اور اگلے حصے کو رگڑ لیں۔

زیتون کا تیل

اگر تو آپ کے بال روکھے اور خشک ہے تو ان میں چمک واپس لانے کے لیے ایک چھوٹے باﺅل میں چھ چم زیتون کے تیل کو ڈال کر مائیکروویو پر گرم کرلیں، اسی دوران تولیے کو بھی کسی چیز سے گرم کرلیں۔ اس کے بعد تیل کو اپنے بالوں پر انگلیوں کی مدد سے لگائیں اور مالش کریں۔ گرم تولیے کو سر پر آدھے گھنٹے تک کے لیے لپیٹ لیں اور پھر شیمپو سے دھویں۔

ہلدی

گھروں میں عام استعمال ہونے والا یہ مصالحہ صدیوں سے خوبصورتی بڑھانے کے لیے بھی استعمال ہورہا ہے، یہ فنگل انفیکشن جیسےبالوں کی خشکی کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ایک چائے کا چمچ اعلیٰ معیار کی تازہ ہلدی کو ایک چائے کے چمچ ناریل کے تیل میں اور لمیوں کے عرق میں ملائیں۔ اس محلول کو ایک ہفتے تک روزانہ ایک گھنٹے کے لیے متاثرہ جگہ پر لگائیں۔

کیلا

کیلوں سے آپ قدرتی اور نمی سے بھرپور فیس ماسک تیار کرسکتے ہیں اور اس پر کوئی خاص خرچہ بھی نہیں آتا۔ بس چوتھائی کپ دہی، دو چائے کے چمچ شہد اور ایک درمیانے سائز کے کیلے کو مکس کرلیں، اسے دس سے بیس منٹ تک جلد پر لگائیں اور پھر ٹھنڈے پانی سے دھولیں۔

شہد

کیا کیل مہاسوں کا سامنا ہے تو خام شہد کو اس پر لگا کر دس سے پندرہ منٹ تک کے لیے چھوڑ دیں اور پھر دھولیں۔ شہد میں موجود جراثیم کش خوبیاں کیل مہاسوں کا باعث بننے والے بیکٹریا کا خاتمہ کردیں گی۔ اسی طرح شہد زبردست ہیئر کنڈیشنر بھی ثابت ہوسکتا ہے اور روکھے بالوں میں نئی جان ڈال سکتا ہے۔ ایک چائے کا چمچ شہد اور دو چائے کے چمچ زیتون کے تیل مکس کریں اور پھر اپنے بالوں پر لگا کر بیس سے تیس منٹ بعد دھولیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

فاسٹ فوڈ کا یہ بڑا نقصان جانتے ہیں؟

یہ تو کوئی راز نہیں کہ برگر اور آلو کے تلے ہوئے چپس موٹاپے کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں لیکن کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ آپ کی ذہانت کو بھی کھا جاتے ہیں؟

چند تحقیق کے مطابق جنک یا فاسٹ فوڈ آپ کو احمق بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

ماضی میں سامنے آئی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ مغربی طرز کی خوراک کو زیادہ استعمال کرنے والے ذہنی طور پر پیچھے رہ جاتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فاسٹ فوڈ، تلے ہوئے کھانے اور پراسیس گوشت وغیرہ کا ذہنی صلاحٰت، سیکھنے، یاداشت اور ردعمل کے وقت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے سبز سبزیوں سے دوری ہے جو انسان کی ذہنی نشوونما کو بڑھاتی ہیں۔

فاسٹ فوڈ میں شامل متعدد اجزاءذہنی صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں خاص طور پر اس میں اومیگا سکس فیٹی ایسڈز کی زیادہ مقدار کافی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

فاسٹ فوڈ میں شامل بہت زیادہ چربی اور عام کاربوہائیڈریٹس دماغ کے یاداشت اور سیکھنے کے عمل میں ملوث حصے پر اثرانداز ہوتے ہیں، خاص طور پر اگر یہ مغربی خوراک استعمال کرنے والا لڑکپن یا نوجوانی کی عمر میں ہو۔

زرد دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مددگار آسان طریقے

دانتوں کی رنگت میں تبدیلی اکثر یقینی ہوتی ہے اور بتدریج نظر آتی ہے۔

درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ دانتوں کی رنگت زیادہ زرد ہونے لگتی ہے جس ک یوجہ اوپری سطح کا غائب ہوجانا ہے اور اس کے نیچے موجود زرد جھلی زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے۔

تاہم اگر یہ جوانی میں ہی زرد ہونے لگیں تو اس کی وجہ مخصوص غذاﺅں یا مشروبات جیسے بلیو بیریز، کافی یا چائے وغیرہ کا استعمال ہوسکتا ہے۔

زیادہ چینی اور سادی کاربوہائیڈریٹس پر مبنی غذا، تمباکو نوشی، مخصوص ادویات اور ماﺅتھ واش کے سائیڈ ایفیکٹ، جینز، منہ میں چوٹ، فلورائیڈ کا زیادہ استعمال، دانتوں کی ناقص نگہداشت اور لعاب دہن کی کمی بھی اس کی وجوہات میں شامل ہیں۔

تاہم اگر آپ اس زرد رنگت سے نجات چاہتے ہیں تو درج ذیل میں چند آسان طریقے دیئے جارہے ہیں جو کو اپنا معمول بناکر آپ یہ کام کرسکتے ہیں۔

دانتون کو برش

یقیناً سب سے پہلی چیز تو دانتوں کو برش کرنا ہے اور وہ بھی درست طریقے سے، خصوصاً ایسی غذاﺅں یا مشروبات کے بعد جن سے دانتوں کی رنگت میں تبدیلی کا امکان ہو۔دن میں کم از کم 2 بار 2 سے 3 منٹ کے لیے برش کرنا چاہیے اور ہر حصے کو کور کرنا چاہیے۔

بیکنگ سوڈا اور ہائیڈروجن پری آکسائیڈ

بیکنگ سوڈا اور ہائیڈروجن پری آکسائیڈ کا پیسٹ استعمال کرنے سے دانتوں سے پلاک اور بیکٹریا کو ختم کرکے داغوں سے نجات پائی جاسکتی ہے۔ ایک کھانے کا چمچ بیکنگ سوڈا 2 کھانے کے چمچ ہائیڈرجن پری آکسائیڈ میں مکس کرکے پیسٹ بنائیں اور اس سے برش کرکے اچھی طرح کلیاں کریں۔ ایک 2012 کی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ بیکنگ سوڈا اور پری آکسائیڈ پر مبنی ٹوتھ پیسٹ کا استعمال دانتوں کے داغ ختم کرکے سفیدی واپس لاتا ہے۔

ناریل کے تیل کا استعمال

ناریل کے تیل سے پلاک اور بیکٹریا کا خاتمہ ہوتا ہے جس سے دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مدد ملتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک سے 2 چائے کے چمچ تیل کو منہ میں 10 سے 30 منٹ تک رکھیں اور اسے نگلنے سے گریز کریں، اس کے بعد تھوک دیں اور پھر پانی سے کلیاں کرکے ایک گلاس پانی پی لیں اور پھر دانتوں پر برش کرلیں۔ اس کی افادیت کے حوالے سے کوئی سائنسی تحقیقی رپورٹس تو موجود نہیں مگر 2015 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ تلوں کے تیل اور سورج مکھی کے تیل سے پلاک سے ہونے والی سوجن میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ تیل کا استعمال دانتوں کی سفیدی مٰں مدد دیتا ہے کیونکہ ہلاک کا اجتماع دانتوں کو زرد کرتا ہے۔

سیب کا سرکہ

سیب کے سرکے کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، دو چائے کے چمچ سیب کے سرکے کو 6 اونس پانی میں ملا کر 30 سیکنڈ تک اس سے غرارے کریں اور پھر پانی سے کلیاں کرکے دانتوں پر برش کرلیں۔ 2014 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یہ سرکہ بلیچنگ ایفیکٹ رکھتا ہے مگر یہ دانتوں کی سطح کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے تو اس کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہیے اور بہت مختصر مقدار ہی فائدہ مند ہے۔

لیموں، مالٹے یا کیلے کے چھلکے

کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ لیموں، مالٹے یا کیلوں کے چھلکوں کو دانتوں پر رگڑنے انہیں سفید بناتا ہے۔ اس مقصد کے لیے چھلکوں کو نرمی سے دانتوں پر 2 منٹ تک رگڑیں اور اس کے بعد اچھی طرح کلیاں کریں اور پھر برش کرلیں۔ سائنسی طور پر ایسے شواہد زیادہ نہیں کہ پھلوں کے چھلکے اس حوالے سے موثر ہیں، تاہم 2017 کی ایک تحقیق میں لیموں کے چھلکے سے حاصل کیے گئے سیٹرک ایسڈ ایکسٹریکٹس کو اس مقصد کے لیے آزما کر دیکھا گیا جو کسی حد تک موثر ثابت ہوا۔

زیادہ پانی والے پھلوں اور سبزیوں کا استعمال

زیادہ پانی والے پھلوں اور سبزیوں جیسے کریلے، تربوز یا دیگر کا استعمال دانتوں کو صحت مند رکھتا ہے، ان میں موجود پانی دانتوں اور مسوڑوں کو پلاک اور بیکٹریا سے بچاتا ہے۔ اور ہاں ان کا استعمال منہ میں لعاب دہن کی مقدار بھی بڑھاتا ہے جس سے کھانے کے ذرات کو نکالنے میں مدد ملتی ہے جو دانتوں میں پھنس جاتے ہیں۔تاہم اس حوالے سے بھی سائنسی شواہد زیادہ ٹھوس نہیں مگر کوئی نقصان بھی نہیں۔

بس اپنے منہ کی صفائی کا خیال رکھنا اور دانتوں کا چیک اپ کرانا چاہیے، اگر اوپر درج طریقوں سے کوئی کامیابی نہ ہو تو ڈینٹسٹ یہ تعین کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ آپ کے لیے کیا اقدام بہتر ثابت ہوگا۔

چائے پینے کا یہ فائدہ آپ کو ضرور پسند آئے گا

اگر آپ کو چائے پینا پسند ہے تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ عادت دماغی افعال کو صحت مند بنانے میں مدد دیتی ہے۔

یہ دعویٰ سنگاپور میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

سنگاپور نیشنل یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چائے پینے کا معمول اس مشروب سے دور رہنے والے افراد کے مقابلے میں دماغی حصوں کو زیادہ بہتر طریقے سے منظم رکھنے اور دماغی افعال صحت مند بنانے میں مدد دیتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 36 افراد کے دماغی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور محققین کے مطابق نتائج سے چائے پینے کی عادت کے دماغی ساخت پر مثبت اثرات کے اولین شواہد ملتے ہیں۔

اس تحقیق کے لیے سنگاپور کی یونیورسٹی نے برطانیہ کی Essex اور کیمبرج یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ چائے پینا عادت بنالینے سے عمر بڑھنے سے دماغی سرگرمیوں آنے والی تنزلی کی روک تھام ممکن ہے۔

اس سے قبل ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں چائے کے انسانی صحت پر فوائد کا ذکر کیا جا چکا ہے جیسے مزاج میں بہتری اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض کی روک تھام وغیرہ۔

2017 کی ایک تحقیق میں بھی دریافت کیا گیا تھا کہ چائے پینے کی عادت معمر افراد میں دماغی تنزلی کا امکان 50 فیصد تک کم کردیتی ہے۔

اسی تحقیق کو اب سنگاپور اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں نے مزید آگے بڑھاتے ہوئے 60 سال یا اس سے زائد عمر کے 36 افراد کی خدمات حاصل کرکے ان کی صحت، طرز زندگی، نفسیاتی صحت وغیرہ کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔

ان افراد کی دماغی کارکردگی اور امیجنگ کے نتائج کا تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ہفتے میں کم از کم 4 بار سبز چائے، اولونگ چائے یا سیاہ چائے کا استعمال کرتے ہیں، ان کے دماغی حصے زیادہ موثر طریقے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق اگر آپ سڑک کی ٹریفک کی مثال لیں تو یہ خیال کریں کہ دماغی حصے منازل کی طرح ہیں، جبکہ دماغی حصوں کے درمیان تعلق سڑکوں کی طرح، جب سڑک کا نظام بہتر طریقے سے منظم کیا جائے تو گاڑیوں اور مسافروں کی حرکت بھی زیادہ تیز اور کم ذرائع سے ممکن ہوتی ہے، اسی طرح دماغی حصوں کا باہمی تعلق زیادہ منظم ہونے پر معلومات کا تجزیہ بھی زیادہ موثر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پرانی تحقیق میں ثابت ہوا تھا کہ چائے پینے والے افراد کے دماغی افعال اس مشروب سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں بہتر ہوتے ہیں ، اب حالیہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ دماغی نیٹ ورک پر چائے پینا معمول بنانے سے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دماغی کارکردگی اور دماغی حصوں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں تو ان افعال کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ایجنگ میں شائع ہوئے۔

کیا ہلدی واقعی ایک سپرفوڈ ہے؟

ہلدی ایسا مصالحہ ہے جس کا استعمال پاکستان کے ہر گھر میں کھانا پکانے کے لیے ہوتا ہے جبکہ مختلف ممالک میں اسے مختلف امراض کے علاج کے طور پر بھی بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔

ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ ہلدی ایسا سپرفوڈ ہے جو کینسر سے مقابلہ کرتا ہے، ڈپریشن میں کمی لاتا ہے اور بھی بہت کچھ کرسکتا ہے۔

مگر اس حوالے سے کتنی حقیقت ہے اور یہ صحت کو کیا کچھ فراہم کرسکتا ہے؟

ویب ایم ڈی کی ایک رپورٹ میں اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ڈپریشن

ہلدی میں موجود متعدد مرکبات ممکنہ طورپر صحت کو معاونت فراہم کرتے ہیں، ان میں سب سے نمایاں curcumin ہے، سائسندانوں کے خیال میں یہ وہ جز ہے جو ڈپریشن میں کمی لاسکتا ہے جبکہ سکون آور ادویات کو زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم اب تک اس حوالے سے تحقیقی رپورٹس میں نتائج ملے جلے رہے ہیں۔

ذیابیطس ٹائپ ٹو

ہلدی ورم کش ہوتی ہے اور اس وجہ سے یہ بلڈشوگر لیول مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، یعنی یہ ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچنے یا اس کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے کارآمد ٹول ثابت ہونے والا مصالحہ ہے۔ پری ڈائیبیٹس کے شکار 240 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ ہلدی سپلیمنٹ کا 9 ماہ تک استعمال ذیابیطس کا شکار ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔ اس حوالے سے تحقیق بھی جاری ہے مگر زیادہ تر جانوروں پر ہورہی ہے، انسانوں پر نہیں۔

وائرل انفیکشن

اگر آئندہ کبھی موسمی نزلہ زکام کا شکار ہوں تو ہلدی چائے کو استعمال کرکے دیکھیں جو کہ متعدد اقسام کے وائرسز سے لڑنے میں مدد دے سکتی ہے جن میں فلو بھی شامل ہے مگر اس حوالے سے بیشتر تحقیق لیبارٹری میں ہوئی ہے لوگوں پر نہیں۔

ہائی کولیسٹرول

اس حوالے سے طبی سائنس کی رائے ملی جلی ہے، کچھ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ ہلدی کا استعمال نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی کرتا ہے جبکہ دیگر رپورٹس میں کہا گیا کہ اس سے کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ سائنسدان تاحال ہلدی کے دل کو تحفظ دینے کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہلدی کا استعمال بائی پاس کرانے والے افراد میں ہارٹ اٹیک سے تحفظ دے سکتا ہے۔

الزائمر

الزائمر کے شکار افراد کو دائمی ورم کا سامنا ہوتا ہے اور ہلدی قدرتی طور پر ورم کش خصوصیات رکھتی ہے، مگر کیا یہ مصالحہ الزائمر کا مقابلہ کرسکتا ہے؟ تو اس حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس سائنسی ثبوت سامنے نہیں آسکا ہے کہ یہ اس مرض کی روک تھام کے لیے موثر ہے۔

جوڑوں کے امراض

ہلدی کا استعمال جوڑوں کے درد، اکڑن اور ورم میں کمی لانے کے حوالے سے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے اور اب تک تحقیقی نتائج بھی حوصلہ بخش رہے ہیں، مگر اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے، اگر آپ جوڑوں کے درد کے لیے اسے آزمانا چاہتے ہیں تو اس کا استعمال کالی مرچ کے ساتھ کرنا بہتر ہے۔

کینسر

لیبارٹری اور جانوروں پر ہونے والی تحقیقات میں دریافت کیا گیا ہے کہ ہلدی کینسر زدہ خلیات کی نشوونما روک دیتی ہے، مگر ان رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس وقت کیا ہوگا جب کوئی شخص ہلدی کو کھائے گا، مزید یہ کہ ہلدی کچھ کیموتھراپی ادویات کے اثر میں مداخلت کرسکتی ہے۔

سردرد

ہلدی ادرک کی نسل سے ہوتی ہے جو کہ سردرد سے نجات کے لیے قدرتی ٹوٹکا ہے تو یہ حیران کن نہیں کہ سردرد کے علاج کے لیے ہلدی کے استعمال کا مشورہ دیا جائے خصوصاً آدھے سر کے درد کے لیے۔ تاہم اس حوالے سے سائنسی شواہد بہت کم ہیں کہ ہلدی سے سردرد کا علاج یا روک تھام ممکن ہے، بس ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ نیا طریقہ علاج کا حصہ ہوسکتی ہے۔

کیل مہاسے

کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہلدی کا ماسک جلد پر لگانے سے کیل مہاسوں سے لڑنے میں مدد ملتی ہے، جس کی ممکنہ وجہ اس مصالحے کی جراثیم اور ورم کش خصوصیات ہیں، مگر اس حوالے سے سائنسی طور پر کوئی ثبوت موجود نہیں۔

ایچ آئی وی وائرس کے علاج کی جانب مزید پیشرفت

ایچ آئی وی وائرس کو ناقابل علاج سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ وائرس پورے جینوم کو متاثر کرتا ہے اور خود کو خفیہ مقامات پر چھپا کر کسی بھی وقت دوبارہ سر اٹھالیتا ہے۔

ویسے اس وقت ایسی انتہائی موثر ادویات موجود ہیں جو اس وائرس کو دبا دیتی ہیں اور مریض میں یہ وائرس ایڈز کی شکل اختیار نہیں کرپاتا جس سے صحت مند اور لمبی زندگی گزارنا ممکن ہوجاتی ہے، تاہم یہ ادویات ایچ آئی وی کو ختم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔

مگر اب چین سے تعلق رکھنے والے سائنسدان کرسپر جینیاتی تدوین کی تینیک کے ذریعے ایچ آئی وی کے شکار ایک شخص کا علاج کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو اس مرض کے طریقہ علاج کے حوالے سے اہم پیشرفت قرار دی جارہی ہے۔

کرسپر تیکنیک انسانی جینز کی ایڈیٹنگ کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور سائنسدانوں کو توقع ہے کہ اس کی مدد سے مستقبل میں انسانی زندگی کو بہتر بنانے اور موروثی بیماریوں کو روکنا ممکن ہوسکے گا۔

امریکی جریدے نیوز ویک میں شائع رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے محققین نے کرسپر کاس 9 تیکنیک کو ڈونر کے اسٹیم سیل کی تدوین کے لیے استعمال کرکے انہیں ایچ آئی وی اور خون کے کینسر کے شکار 27 سالہ مریض میں اس توقع کے ساتھ ٹرانسپلانٹ کیا کہ یہ خلیات بچنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور پھر اپنی نقل بنا کر ایچ آئی وی کا علاج ثابت ہوں گے۔

اس طریقہ کار میں ڈونر کے اسٹیم سیلز سے سی سی آر 5 نامی جین کو نکال دیا گیا، سی سی آر 5 ایک ایسا پروٹین ہے جو ایچ آئی وی وائرس انسانی خون کے خلیات کے اندر استعمال کرتا ہے اور ماضی میں ہونے والی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ایسے جینز کو متاثر کرتا ہے جو ایچ آئی وی سے محفوظ ہوتے ہیں۔

طبی جریدے نیو جرنل آف میڈیسین میں شائع تحقیق کے مطابق تحقیقی ٹیم ڈونر کے اسٹیم سیلز کے 17,8 فیصد حصے کو ایڈٹ کرنے میں کامیاب رہے اور ٹرانسپلانٹ کے 19 ماہ بعد بھی یہ تدوین شدہ خلیات بدستور کام کرتے رہے، مگر اس دورانیے میں نصف سے زائد ایڈٹ شدہ خلیات مرگئے۔

تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ مریض میں ٹرانسپلانٹ کے بعد کسی قسم کے مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔

تحقیق میں شامل بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی کے بائیولوجسٹ ہونگ کوئی ڈینگ نے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو دیئے گئے انٹرویو میں بتایا ‘یہ پہلا تجربہ تھا تو اس وقت سب سے اہم چیز ٹیسٹ کا تحفظ ہے، ہمارے نتائج ایک خیال کی حقیقی شکل کو ظاہر کرتے ہیں’۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں اس حوالے سے پینسلوانیا یونیورسٹی کے پروفیسر کارل جون نے لکھا ‘انہیں 90 فیصد یا اس سے زائد تک پہنچنا چاہیے تھا، میرے خیال میں پھر ایچ آئی وی کے علاج کا امکان تھا، مگر یہ بات مثبت ہے کہ سائنسدانوں نے دیگر جینز کو متاثر کرنے کی بجائے ہدف کو ہی نشانہ بنانے کی کوشش کی’۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے فیوڈور یونوو نے جریدے نیچر میں اس تحقیق کے بارے میں کہا کہ یہ انسانی امراض کے علاج کے لیے جینز کی تدوین کے استعمال کی جانب ایک اہم قدم ہے ‘میں حیران نہیں کہ 5 فیصد وائرس کے لوڈ کو کم کرنے کے یے ناکافی ثابت ہوئے، مگر اب ہم جانتے ہیں کہ کرسپر سے تدوین شدہ خلیات برقرار رہ سکتے ہیں اور ہمیں ان کی تعداد 5 فیصد سے زیادہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے’۔

انہوں نے کہا کہ اس تحقیق کے باعث ہم اب جان گئے ہیں کہ یہ تدوین شدہ خلیات مریض میں زندہ رہ سکتے ہیں اور انہیں وہاں رہنا چاہیے’۔

اس سے پہلے رواں سال جولائی میں سائنسدانوں نے پہلی بار ادویات اور جین ایڈیٹنگ کی مدد سے لیبارٹری کے چوہے کے پورے جینوم میں ایچ آئی وی کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

امریکا کی نبراسکا یونیورسٹی کے ماہرین نے ایچ آئی وی سے نجات دلانے والے نئے طریقہ کار کو دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کی جو کہ 5 سال سے اس پر کام کررہے تھے۔

اس طریقہ کار میں انہوں نے آہستی سے اثر کرنے والی ادویات اور جین ایڈیٹنگ کرسپر کاس 9 کا استعمال کیا اور اس کے نتیجے میں لیبارٹری کے ایک تہائی چوہوں کے مکمل جینوم سے ایچ آئی وی کو ختم کرنے میں کامیاب رہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کامیابی پر ہمیں یقین ہی نہیں آیا، پہلے تو ہمیں لگا کہ یہ اتفاق ہے یا گرافس میں کوئی گڑبڑ ہے، مگر کئی بار اس عمل کو دہرانے کے بعد ہمیں یقین آیا ہے کہ ہم نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ طبی جریدوں نے بھی ہم پر یقین نہیں کیا اور کئی بار ہمارے مقالے کو مسترد کیا گیا اور ہم بڑی مشکل سے یقین دلانے میں کامیاب ہوئے کہ ایچ آئی وی کا علاج اب ممکن ہے۔

ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچانے میں مددگار سنت نبوی

ایک سنت بنوی پر عمل کرکے آپ دل کی بیماریوں کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں۔

جی ہاں ہفتے میں ایک یا 2 بار قیلولہ یا دوپہر کی نیند صحت مند دل کا راز ہے۔

یہ بات سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ہفتے میں ایک یا 2 بار دوپہر کی مختصر نیند سے لطف اندوز ہوتے ہیں ان میں جان لیوا امراض جیسے ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں خیال ظاہر کیا گیا کہ اس عادت کے نتیجے میں ذہنی تناﺅ میں کمی آتی ہے جس سے خون کی شریانوں کے نظام کی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے۔

لوزیانے یونیورسٹی ہاسپٹل کی تحقیق میں 35 سے 75 سال کی عمر کے 3 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ اوسطاً 5 سال تک لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ہفتے میں ایک یا 2 بار 5 منٹ سے ایک گھنٹے قیلولہ کرنے والے افراد میں ہارٹ اٹیک، فالج یا ہارٹ فیلیئر کا خطرہ دوپہر کو نہ سونے والوں کے مقابلے میں 48 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

تاہم محققین کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ہفتے میں ایک یا 2 بار سے زیادہ قیلولہ کرنے والوں میں یہ خطرہ کم نہیں ہوتا بلکہ دوپہر کو زیادہ سونے کی عادت کسی قسم کے طبی مسائل کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

ہفتے میں ایک یا 2 بار قیلولے کی عادت سے ہارٹ اٹیک یا فالج سے بچنے کا فائدہ ان افراد کو بھی حاصل ہوتا ہے جو اس کا باعث بننے والے عناصر جیسے تمباکو نوشی کے عادی ہوں۔

محققین کا کہنا تھا کہ قیلولے کے حوالے سے تحقیق چیلنجنگ تھی مگر یہ عوامی صحت کے اثرات کے حوالے سے ایک مثبت پیشرفت بھی ہے، مگر اب بھی جواب سے زیادہ سوالات ہیں، اور یہ وقت ہے جب قیلولے کی صحت مند دل کے لیے طاقت کو دریافت کیا جائے۔

کچھ عرصے قبل اس حوالے سے ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ دوپہر کو کچھ دیر سونے کی عادت بلڈ پریشر کو طویل المعیاد بنیادوں پر کنٹرول میں مدد دیتی ہے۔

بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

اس نئی تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ہارٹ میں شائع ہوئے۔

Google Analytics Alternative