صحت

بلڈ ٹیسٹ سے زچگی کے مسائل حل ہونے میں پیش رفت

2 ہفتے قبل ہی امریکی شہر نیویارک کے ’روز ویل پارک کمپری ہینسو کینسر سینٹر‘ نے ایک ایسا بلڈ ٹیسٹ وضح کیا تھا، جس سے بیک وقت کینسر کی 10 اقسام کی تشخیص ممکن ہے۔

تاہم اب امریکی ماہرین نے ایک ایسا بلڈ ٹیسٹ بھی وضح کیا ہے جس سے زچگی کے کئی مسائل حل ہونے کا امکان ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا جینیاتی بلڈ ٹیسٹ وضح کیا ہے، جس کی مدد سے نہ صرف زچگی کا درست وقت معلوم ہوسکے گا، بلکہ اس سے یہ بھی پتہ لگایا جاسکے گا کہ ماں کے رحم میں پلنے والے جین (بچہ)کی درست عمر کیا ہے۔

ہیلتھ جرنل ’سائنس میگ‘ میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ٹیسٹ سے یہ بھی پتہ لگایا جاسکے گا کہ کون سی خاتون کے ہاں قبل از وقت زچگی ہوگی۔

اگرچہ اس وقت الٹرا ساؤنڈ کی مدد سے زچگی کا وقت معلوم کرنے سمیت ماں کے رحم میں پلنے والے بچے کی عمر کا پتہ بھی لگایا جاسکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اب یہ کام صرف ایک بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے بھی ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خون کے ٹیسٹ کے اس نئے طریقے سے ماں اور اور بچے کی صحت اور زچگی کے کئی مسائل حل ہونے کا بھی امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین نے خون کے ٹیسٹ کے ذریعے زچگی کا درست وقت، قبل از وقت پیدائش اور رحم میں پلنے والے جین کی عمر کا پتہ لگانے کے لیے حاملہ خواتین کا کئی ہفتوں تک بلڈ ٹیسٹ کیا۔

ماہرین نے بلڈ ٹیسٹ کے لیے خواتین کے رحم میں موجود جین، پلیسنٹا (ماں کے پیٹ اور رحم کے درمیان پائی جانے والی خصوصی نالی جس کے ذریعے بچے کو غذاء ملتی ہے) اور خواتین کے خون کے نمونے لیے۔

ساتھ ہی ماہرین نے حاملہ خواتین کے دوسرے گروپ کے الٹرا ساؤنڈ کیے اور دونوں گروپس کی خواتین کے معائنوں کا جائزہ لے کر ان میں موازنہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق جائزے سے پتہ چلا کہ الٹرا ساؤنڈ کے مقابلے نئے وضح کیے گئے بلڈ ٹیسٹ سے خواتین کے رحم میں موجود جین، ان کے ہاں ہونے والی زچگی کا درست وقت اور قبل از وقت پیدائش کے امکانات کا درست انداز میں پتہ چلا۔

ماہرین نے اس بلڈ ٹیسٹ کو ’آر این اے‘ کا نام دیا ہے۔

ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اس نئے بلڈ ٹیسٹ سے خواتین میں زچگی کے کئی مسائل حل ہونے کا امکان ہے۔

اسپرین کینسر کے خطرات کم کرتی ہے

ایڈنبرا: ایک سو سال سے زائد عرصے سے  بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے درد کش دوا اسپرین میں اب سرطان کے خلاف مزاحمت بھی دریافت ہوئی ہے۔

اسپرین، جس کا کیمیائی نام ’’ایسی ٹائل سیلی سائیلک ایسڈ‘‘ ہے، خون کے لوتھڑے بننے سے بچاتی ہے اور یوں فالج سمیت کئی بیماریوں کو دور رکھتی ہے۔ پھر ایک عرصے سے ماہرین کہتے آرہے ہیں کہ اسپرین کئی طرح کے سرطان کو بھی روک سکتی ہے۔

اسی ضمن میں سائنسدانوں نے 20 سال میں ہونے والی مختلف طبّی آزمائشوں (رینڈم کلینکل ٹرائلز) کا جائزہ لیا ہے جس سے ظاہر ہوا ہے کہ کئی سال تک اسپرین باقاعدگی سے کھانے سے آنتوں کے سرطان کو ٹالا جاسکتا ہے۔ اگر صرف پانچ سال تک بھی اسپرین باقاعدگی سے کھائی جائے تو اس کی کم ترین مقدار کھانا بھی آنتوں کے سرطان سے تحفظ دیتا ہے۔

تاہم سائنس اب بھی اس کی وجہ جاننے سے قاصر ہے۔ اس مطالعے میں ماہرین نے خلیے کے مرکزے (نیوکلیئس) سے وابستہ ساخت نیوکلیولوس پر غور کیا ہے جو انسانی خلیے میں سب سے بڑا حصہ ہوتا ہے۔ اس میں موجود رائبوسومز خلیے کے لیے پروٹین بناتے ہیں۔

لیکن جب نیوکلیولوس میں رائبوسومز کی پیداوار غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے تو اس سے سرطانی رسولیوں کی افزائش میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں واقع کینسر ریسرچ سینٹر کے ماہرین نے تجربہ گاہ میں سرطانی رسولیوں پر اسپرین کے اثرات نوٹ کئے تو پتا چلا کہ اسپرین نئے پروٹین بننے کو روکتی ہے اور بطورِ خاص آنتوں کے کینسر میں مفید پائی گئی ہے۔

تاہم ماہرین نے کہا کہ اسپرین کا باقاعدہ استعمال دیگر کئی امراض کو بھی روکتا ہے جن میں الزائیمر جیسی دماغی بیماریاں بھی شامل ہیں۔ تحقیق میں شامل ڈاکٹر لیزلے اسٹارک نے کہا کہ اس طرح اسپرین کئی اقسام کے کینسر میں بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

دل کے مریضوں کے لیے مفت ایمبولینس سروس کا آغاز

کراچی: قومی ادارہ برائے امراض قلب کی انتظامیہ نے پہلی بارکراچی سمیت اندرون سندھ سے دل کے مریضوں کو اسپتال پہنچانے کے لیے ایمبولینس سروس شروع کرنے کااعلان کردیا۔

امن فاؤنڈیشن نے اپنی 25 ایمبولینس سروس قومی ادارہ امراض قلب کے حوالے کردیں اس حوالے سے جمعرات کوامن فاؤنڈیشن اورقومی ادارہ امراض قلب کی انتظامیہ کے درمیان معاہدے پردستخط کیے گئے۔ تقریب میں قومی ادارہ امراض قلب کے سربراہ پروفیسر ندیم قمر، ایگزیکٹوایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر حمید اللہ ملک، پروفیسرندیم حسن رضوی سمیت امن فاونڈیشن کے انتظامی افسران بھی موجود تھے۔

پروفیسر ندیم قمر نے تقریب میں بتایاکہ پہلی بار قومی امراض قلب نے امن فاؤنڈیشن کی 25ایمبولینس سروس کی خدمات حاصل کرلی ہیں ان ایمبولینس سروس کے ذریعے کراچی سمیت صوبے میں ادارے کے سیٹلائٹ اور چیسٹ پین کلینکس سے دل کے مریضوں کو قومی ادارہ امراض قلب اسپتال منتقل کیا جائے گا یہ منتقلی بلا معاوضہ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ دل کے مریضوں کو ایسی سروس پہلی بار بلا معاوضہ فراہم کی جارہی ہے ، انھوں نے بتایا کہ ان ایمبولینس پر این آئی سی وی ڈی کا مونوگرام بھی آویزاں کیاجائے گا جس کے بعد یہ ایمبولینس سروس پہلی بار قومی ادارہ امراض قلب کے تحت شروع کی جائے گی، ایمبولینس سروسز بلا معاوضہ ہوگی، ایمبولینس سروس میں امن فاؤنڈیشن کا عملہ تعینات کیاجائے گا۔

پروفیسر ندیم قمر نے بتایا کہ قومی ادارہ برائے امراض قلب اور امن فاؤنڈیشن کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے معاہدے کے تحت 25 امن ایمبولینسز قومی ادارہ برائے امراض قلب کو عطیہ کر دی گئیں،یہ ایمبولینسیں سندھ بھر میں مریضوں کی منتقلی کے فرائض انجام دیں گی۔

دریں اثناء اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ندیم قمر نے بتایا کہ جولائی سے پہلی بار ناکارہ دل کوکارآمد بنانے کیلیے پروگرام شروع کیاجارہا ہے اس تکنیک کے ذریعے مصنوعی دل بھی لگایاجائے گا۔

پروفیسر ندیم قمر کا کہنا تھا کہ امراض قلب اسپتال مریضوں کیلیے مفت کردیا گیا ہے۔ انجیوگرافی وپلاسٹی سے لیکر مصنوعی دل لگانے کا تمام علاج مفت کردیا گیا ہے ہم امراض قلب کے اسپتال کو دنیا کا بہترین کارڈیک اسپتال بنارہے ہیں اس حوالے سے اسپتال میں خصوصی ٹیم بھی تیار کرلی گئی۔

انھوں نے کہاکہ اسپتال میں مفت علاج کی فراہمی کے بعد مریضوں کا غیر معمولی دباؤ میں اضافہ ہوگیا لیکن ہم انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اب کوئی مریض دل کی بیماری کے علاج سے محروم نہیں رہ سکے گا، اسپتال میں علاج ومعالجے کیلیے کسی بھی سطح پر پیسے نہیں لیے جارہے ہیں۔

ڈائٹنگ کی وہ غلطیاں جو وزن کم کرنے کی راہ میں رکاوٹ کا باعث

اگر آپ اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے بےحد محنت بھی کررہے ہیں اور اس کے باوجود آپ کو وزن کرنے میں وہ نتائج نہیں مل رہے جو آپ چاہتے ہیں تو یقیناً آپ اپنی ڈائٹنگ کے عمل میں چند غلطیاں کررہے ہوں گے۔

متعدد لوگ ایسی شکایات کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ ورزش بھی کرتے ہیں، کھانا بھی کم کھاتے ہیں لیکن اس کے باوجود وزن کم نہیں کر پارہے۔

دراصل ڈائٹنگ کا نام سن کر بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال آتا ہے کہ ہمیں کھانا پینا بالکل چھوڑ دینا چاہیے، لیکن ایسا کرنے سے کبھی کبھی ہمارا وزن کم ہونے کے بجائے بڑھ بھی جاتا ہے۔

یہاں ایسی چند غلطیاں بیان کی جارہی ہیں، جو لوگ ڈائٹنگ کرنے کے دوران کرتے نظر آتے ہیں، اور ان غلطیوں کی وجہ سے ان کا وزن بھی کم نہیں ہو پاتا۔

1- خود کو بھوکا رکھنا

آپ کا ڈائٹ پلان ایسا ہونا چاہیے جس میں آپ دن میں کم از کم 5 مرتبہ کچھ نہ کچھ ایسا کھاتے رہیں جو غذائیت سے بھرپور ہو، اگر آپ وزن کم کرنے کے چکر میں خود کو بھوکا رکھیں گے تو یہی سب سے بڑی غلطی ہوگی، بھوکا رہنے کی وجہ سے آپ ایک موقع پر طلب سے زیادہ کھانا کھا سکتے ہیں اور یہی موٹا کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

2- ہلکا پھلکا ناشتہ کرنا

ناشتے کو انسانی صحت کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا ہے، لیکن ہم جلدی جلدی میں اس ہی اہم جز کو چھوڑ دیتے ہیں، ناشتہ نہ کرنا یا کم کرنا موٹاپے کی ایک بڑی وجہ ہے، کیوں کہ ایسا کرنے پر ہم دن بھر میں زیادہ کھانا کھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

3- سبزیوں سے دوری

سبزیوں میں باقی کھانوں کے مقابلے کیلوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے، اس لیے اگر وزن صحیح انداز میں کم کرنا چاہتے ہیں تو اپنی ڈائٹ میں سبزیاں ضرور شامل کریں۔

4- پروٹین کی کمی

اپنی ڈائٹ میں پروٹین شامل نہ کرکے ہم اپنے میٹابولزم کو سست کردیتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ کاربوہائیڈریٹ ہمیں موٹا بناتے ہیں، اس لیے پروٹین سے بھرپور غذائیں اپنی ڈائٹ کا حصہ بنائیں۔

5- کم پانی پینا

پانی صحیح مقدار میں پینا ہمارے تیز میٹابولزم کے لیے بےحد ضروری ہے، ہمیشہ صبح اٹھ کر کم از کم 3 گلاس پانی کے ضرور پیئے۔

انار کھانے سے خاتون ہلاک

ویسے تو انار کو صحت کے لیے بہترین تصور کیا جاتا ہے، یہ پھل نہ صرف پروسٹیٹ بلکہ بریسٹ کینسر سمیت کئی بیماریوں کو کم کرنے میں مدد بھی فراہم کرتا ہے۔

تاہم آسٹریلیا میں حیران کن طور پر ایک خاتون فریز (برف میں جمے ہوئے) کیے گئے انار کے دانے کھانے سے ہیپاٹائیٹس اے میں مبتلا ہونے کے بعد ہلاک ہوگئیں۔

خیال رہے کہ ہیپاٹائٹس اے کو جگر کا انفیکشن بھی کہا جاتا ہے، اس مرض میں انسان کا جگر ناکارہ ہوجاتا ہے، اس مرض کے وائرس عام طور پر منہ کے ذریعے انسان میں داخل ہوتے ہیں۔

یہ انفیکشن قابل علاج ہے، اگر اس مرض کی بروقت تشخیص ہوجائے تو عام طور پر چند ہفتوں میں اس کا علاج ہوجاتا ہے، تاہم اگر یہ بیماری ابتدائی اسٹیج سے بڑھ جائےتو یہ خطرناک ہوسکتی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس بیماری میں مبتلا زیادہ تر عمر رسیدہ افراد جگر اور گردوں کے شدید درد سمیت دیگر تکالیف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

جنوبی آسٹریلیا کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق 64 سالہ خاتون ن فریز کیے ہوئے انار کو کھانے کے بعد ہیپاٹائس اے میں مبتلا ہونے کے فوری بعد ہلاک ہوگئیں۔

جنوبی آسٹریلیا کے محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیدار نے خاتون کی فریز کیے گئے انار کھانے سے ہلاک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب تک آسٹریلیا میں فریز کیے گئے انار کھانے سے ہونے والی یہ پہلی ہلاکت ہے۔

خاتون کی ہلاکت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب آسٹریلوی حکام نے فریز کیے گئے اناروں سمیت دیگر پھل فروخت کرنے والی کمپنی ’کریئیٹو گورمے‘ کی مصنوعات پر اعتراض اٹھاتے ہوئے ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا۔

آسٹریلوی حکام نے گزشتہ ماہ 8 مئی کو جاری کیے گئے ایک ہدایت نامےمیں لوگوں کو یاد دلایا تھا کہ اسی کمپنی کے فریز کیے گئے اناروں کو استعمال کرنے سے ہیپاٹائٹس اے ہوسکتا ہے۔

حکام نے ریاست ویلز کے لوگوں کو تجویز دی تھی کہ وہ اس کمپنی کی مصنوعات کو ضائع کردیں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق فریز کیے گئے انار کھانے سے اب تک آسٹریلیا میں 24 افراد متاثر ہوچکے ہیں، تاہم اب تک صرف ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

آسٹریلیا میں ہر سال 300 سے 500 افراد ہیپاٹائس اے میں مبتلا ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر عمر رسیدہ افراد ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا بھر میں ہوٹلوں، بیکریوں اور دکانوں کو فریز کیے گئے انار سمیت دیگر پھل فراہم کرنے والی کمپنی ’کریئیٹو گرومے‘ ایک نجی کمپنی ہے۔

اس کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق فریز کیے گئے انار مصر سے امپورٹ کیے گئے۔

کینسر کی آخری اسٹیج کی مریضہ کو بچا لیا گیا

ویسے تو زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہی ہے، تاہم ایسے بہت ہی کم مواقع دیکھے گئے ہیں، جب کسی موذی مرض کی آخری اسٹیج پر پہنچنے والے مریض کو ڈاکٹرز غیر معمولی علاج کے ذریعے نہ صرف صحت یاب کریں بلکہ ان کی زندگی بھی بچائیں۔

امریکا کے نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ ( این سی آئی) کے ماہرین نے بھی ایسا ہی کارنامہ کر دکھایا، جنہوں نے غیر معمولی تھراپی کے ذریعے بریسٹ کینسر کی آخری اسٹیج کی مریضہ کی زندگی کو بچایا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’یو ایس اے ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق این سی آئی کے ماہرین نے ریاست فلوریڈا کی 52 سالہ جوڈی پارکنس کے جسم میں انجیکشن کے ذریعے ایسے 90 ارب سفید خلیے ڈالے، جنہوں نے کینسر کے وائرس پر حملہ کرکے موذی مرض کا خاتمہ کیا۔

رپورٹ میں دیگر نشریاتی اداروں کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے جوڈی پارکنس کی تھراپی کرنے سے قبل ان کے مدافعتی نظام کا جائزہ لے کر وہیں سے ہی ایسے سفید خلیے حاصل کیے، جو کینسر کے وائرس پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

مریضہ کے جسم میں اربوں سفید خلیے ڈالے گئے—فوٹو: شٹر اسٹاک
مریضہ کے جسم میں اربوں سفید خلیے ڈالے گئے—فوٹو: شٹر اسٹاک

ماہرین نے مریضہ کے جسم سے حاصل کیے گئے سفید خلیوں کی لیبارٹری میں افزائش کرنے کے بعد اسے واپس مریضہ کے جسم میں ڈال دیا، جنہوں نے ابتدائی ہفتے میں کینسر کے خلاف جنگ شروع کردی اور متاثرہ خاتون کی حالت بہتر ہونے لگی۔

رپورٹس کے مطابق 52 سالہ جوڈی پارکنس کے جگر میں رسولی سمیت جسم کے دیگر حصوں میں بھی کینسر تھا اور وہ اس کی آخری اسٹیج پر تھیں۔

ڈاکٹرز نے جوڈی پارکنس کو زندہ رہنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تین ماہ کا وقت بتایا تھا، تاہم آخری ہفتوں میں ہونے والے ان کے علاج نے انہیں زندگی بخش دی۔

جوڈی پارکنس کی تھراپی 2015 کے آخر میں کی گئی اور اب ان کا کینسر ختم ہوچکا ہے۔

ماہرین کے مطابق جوڈی پارکنس کی کی گئی غیر معمولی تھراپی کا تجربہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، تاہم ابتدائی تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے ہر طرح کے کینسر کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

سحر و افطار میں کھجوریں کھائیں اور روزے میں توانا رہیں

آج سے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں رمضان کا آغاز ہوگیا ہے، رواں برس چونکہ یہ مقدس مہینہ شدید گرمی کے موسم میں آیا ہے، ایسے میں روزے کی حالت میں روزمرہ کے کام کرنا کچھ مشکل معلوم ہوتا ہے، جلد ہی تھکن محسوس ہوتی ہے اور قوت مدافعت کے متاثر ہونے کا احساس ہونے لگتا ہے۔

لیکن اگر روزے کی حالت میں بھی آپ دن بھر توانا رہنا چاہتے ہیں تو اپنی خوراک میں کھجوروں کا استعمال بڑھا دیں کیونکہ کھجوریں دوا بھی ہیں اور بہترین غذا بھی۔

کھجور کی افادیت سنت اور سائنسی اعتبار سے بھی ثابت ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق کھجوروں میں وافر مقدار میں پروٹین، کاربو ہائیڈریٹس، فائبر، وٹامن سی، وٹامن کے اور دیگر غذائی خصوصیات شامل ہوتی ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ کھجوروں کو روزانہ اپنی خوراک میں ضرور شامل کرنا چاہیے، خصوصاً سحری میں اگر 5 سے 6 کھجوریں کھالی جائیں تو دن بھر جسم میں توانائی برقرار رہے گی۔

کھجور کی افادیت سنت اور سائنسی اعتبار سے بھی ثابت ہے—.فائل فوٹو

کھجور کے فوائد

کھجوروں میں بے شمار حیرت انگیز فوائد موجود ہوتے ہیں، جو درج ذیل ہیں۔

  • کھجوریں خون میں اضافہ کرتی ہیں جو جسم کی قوت و طاقت بڑھاتا ہے اور دن بھر تھکن کا احساس بھی کم ہوتا ہے۔
  • چونکہ کھجور میں وافر مقدار میں فائبر پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ نظامِ ہضم کو درست رکھتا ہے اور جسم میں پانی کی کمی ہونے سے بچاتا ہے۔
  • کھجوروں میں زیرو کولیسٹرول پایا جاتا ہے، جس کے باعث یہ دل کی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
  • کھجور قبض اور معدے کی تیزابیت کو دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جس سے معدہ درست طور پر کام کرتا ہے۔
  • نارتھ ڈیکوتا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق کھجور میں تانبے (copper) کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو ہڈیوں کو طاقت بخشتا ہے، ساتھ ہی اس میں بورون بھی پایا جاتا ہے جو ہڈیاں مضبوط بناتا ہے۔
  • کھجوروں کو بطور خوراک لینا بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے کے لیے موثر ثابت ہے۔
  • کھجوریں جسم میں قوت مدافعت بڑھاتی ہیں اور توانائی بخشتی ہیں۔

رمضان المبارک میں مذہبی ذوق و شوق سے سحر و افطار کھجور کے ساتھ کریں، اس سے ثواب اور توانائی دونوں حاصل ہوگی۔

دنیا میں کینسر سے کم اور زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست جاری

واشنگٹن: سائنسدانوں نے حال ہی میں دنیا کے ان ممالک کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جہاں کینسر کی شرح سب سے زیادہ یا کم ہے جبکہ ان ممالک میں مختلف الاقسام سرطانوں کے بارے میں اعداد و شمار بھی جاری کیے گئے ہیں۔

اس ضمن میں 195 ممالک میں 29 اقسام کے مختلف کینسر کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ ان میں تمام اقسام کے کینسر کے نئے کیسوں میں آسٹریلیا سرِفہرست ہے جبکہ منگولیا وہ ملک ہے جہاں کینسر سے سب سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ اس تناظر میں جنگ زدہ شام میں کینسر کی شرح اور اموات دونوں سب سے کم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں پھیپھڑوں، آنتوں اور چھاتی کا سرطان سب سے عام ہیں اور پھیپھڑے ، آنتوں اور معدے کے سرطان سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہورہی ہیں۔

گلوبل برڈن آف ڈیزیز (جی بی ڈی) نے کئی اداروں کے تعاون سے اپنا طویل سروے شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2016 میں دنیا بھر میں کینسر کے ایک کروڑ 72 لاکھ نئے کیسز رونما ہوئے جو سال 2006 کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ ہیں اور اسی سال 89 لاکھ افراد کینسر کے شکار ہوکر ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ کئی ممالک میں کینسر سےاموات کم ہوئی ہیں لیکن کینسر کے نئے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خواتین میں چھاتی کے سرطان اور مردوں میں پھیپھڑوں کا کینسر سرِفہرست ہیں۔

اس مطالعے میں یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ماہرین نے اہم کردار ادا کیا ہے جس کی تفصیل جرنل آف امریکن میڈیکل اونکولوجی میں شائع ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ عشرے میں پھیپھڑے، آنتوں (بڑی اور چھوٹی آنت) اور جلد کے سرطان کی شرح میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس ضمن میں احتیاطی تدابیر ہی ان سے بچنے کا واحد راستہ ہیں۔ ان میں شراب اور تمباکونوشی سے پرہیز، غذائی احتیاط اور ورزش بہت ضروری ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی دس میں سے ایک خاتون کو چھاتی کے سرطان کا خطرہ لاحق ہے۔ تاہم سرطان کی ابتدائی شناخت بہت ضروری ہے جس سے علاج کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔

سب سے زیادہ اور سب سے کم اموات

منگولیا دنیا میں کینسر سے اموات میں سرِفہرست ہے جبکہ دوسرے نمبر پر زمبابوے اور تیسرے نمبر پر ڈومینیکا ہے۔ شام، الجیریا اور عمان کینسر سے سب سے کم اموات والے تین اہم ممالک ہیں۔

ہرسال آسٹریلیا میں کینسر کے سب سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے، دوسرے نمبر پر نیوزی لینڈ اور تیسرے نمبر پر امریکا ہے۔ اسی طرح سب سے کم کیسوں میں شام سرِفہرست ہے ، دوسرے نمبر پر بھوٹان اور تیسرے نمبر پر الجیریا ہے۔

پاکستان میں منہ اور گلے کا سرطان

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہونٹوں، منہ کے اندرونی حصوں اور حلق کے سرطان کی شرح زیادہ ہے اور شاید اس کی وجہ تمباکونوشی، پان، چھالیہ اور سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں گٹکے کا بے تحاشا استعمال ہے۔

Google Analytics Alternative