صحت

یہ عادت جلد موت کا خطرہ بڑھائے

دن بھر میں 9 سے 10 گھنٹے بیٹھ کر گزارنا خون کی شریانوں سے متعلق مسائل کا شکار کرکے موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق درمیانی عمر میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا جلد موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے کیونکہ وہ امراض قلب، فالج اور دیگر جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

آپ کی بیوی موٹاپے کی شکار تو نہیں؟

اگر آپ کی بیوی کا جسمانی وزن بڑھ جائے تو اپنی شوگر اکثر چیک کراتے رہیں کیونکہ ایسے شوہروں میںذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ دعویٰ ڈنمارک میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

آراہوس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جن مردوں کی بیویاں موٹاپے کا شکار ہوتی ہیں، ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے تاہم موٹاپے کے شکار شوہروں کی بیویوں ایسے خطرے کا سامنا نہیں ہوتا۔

کیا لیپ ٹاپ مردوں کو بانجھ بنا سکتے ہیں؟ ویب

یپ ٹاپ کو گود میں رکھ کر استعمال کرنے کی عادت مردوں میں بانجھ پن کے خطرے کو بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ لیپ ٹاپ سے خارج ہونے والی حرارت بانجھ پن کا باعث بن سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کسی بھی طرح کی گرم چیز جو کمر سے نیچے جسمانی حصوں پر اثرانداز ہوں وہ مردوں میں بانجھ پن کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اس طرح کی حرارت مردوں کی اولاد کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور لیپ ٹاپ اس حوالے سے کافی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لیپ ٹاپ کو گود میں رکھ کر ایک گھنٹے استعمال کرنا بھی اس حوالے سے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

پرسکون نیند کی وجہ بننے والی غذائیں

پرسکون زندگی کے لیے پر سکون نیند بہت ضروری ہے تاہم بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مختلف وجوہات کے باعث نہ صرف صحیح طرح سونہیں پاتے ہیں بلکہ پوری رات ہی بے چینی کے عالم میں گزاردیتے ہیں جب کہ کتنے ہی لوگ افراد پرسکون نیند کے لیے مختلف دوائیوں کا بھی استعمال کرتے ہیں جس کے کوئی نا کوئی مضر اثرات ہوتے ہیں تاہم سکون کی نیند لینے والے افراد اگران غذاؤں کواپنی خوراک میں شامل کرلیں تووہ رات کوسکون کی نیند لے کر دن بھر چست رہ سکتے ہیں۔

سفید چاول:

بادام:

چیری:

چہرہ دیکھ کر تکلیف کا احساس کرنے والا کمپیوٹر پروگرام

بوسٹن: انسانی چہرے کے تاثرات اور کرب کو دیکھ کر درد کی شدت ناپنے والا ایک نظام تیار کیا گیا ہے اور بسا اوقات خود مریض سے بہتر طور پر درد کا احوال بیان کرتا ہے۔

میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ( ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے یہ کمپیوٹر الگورتھم بنایا ہے جو بسا اوقات چہرے کے معمولی خدوخال کو بھی پڑھ لیتا ہے اور مریض سے بہتر انداز میں درد کا احوال بیان کرتا ہے۔

ایم آئی ٹی کے پروفیسر ڈیانبو لوئی اور ان کےساتھیوں نے یہ کمپیوٹر الگورتھم بنایا ہے۔ ان کے مطابق مختلف افراد درد کا اظہارمختلف انداز سے کرتے ہیں۔ اس طرح خود ڈاکٹر درد کی جس شدت کا اندازہ لگاتا ہے وہ حقیقی درد سے کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔ اسی طرح یہ سسٹم اصلی اور جعلی درد کی کیفیت بھی نوٹ کرسکتا ہے۔

اس غذا کا ایک دن استعمال ذیابیطس کا خطرہ بڑھائے  

صرف ایک دن جنک یا فاسٹ فوڈ کھانا ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے مرض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

یہ انتباہ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

لفبرو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چربی سے بھرپورفاسٹ فوڈ یا دیگر غذائیں 24 گھنٹے کے دورانیے میں بلڈ گلوکوز لیول میں اضافہ اور انسولین کی حساست میں کمی کردیتی ہیں۔

ان دونوں علامات کا اس سے پہلے ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مرض سے تعلق ثابت ہوچکا ہے۔

تحقیق کے مطابق جسم میں گلوکوز کی اضافی سطح نقصان دہ ہوتی ہے جو کہ لبلبے میں انسولین کی زیادہ پیداوار کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں وہ ضرورت کے وقت انسولین فراہم کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ یہ حقائق اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی غذا کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا چاہئے اور جاننا چاہئے کہ وہ صحت پر کیا اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران پندرہ صحت مند نوجوانوں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا اور جانا گیا کہ زیادہ چربی اور توانائی والی غذا کا ایک دن استعمال گلوکوز کی سطح پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔

فاسٹ فوڈ کھانے کے ایک دن بعد لیے گئے ٹیسٹوں کے نتائج سے انکشاف ہوا کہ ایسی غذا لوگوں میں بلڈ گلوکوز کی سطح میں نمایاں اضافہ اور انسولین کی حساسیت میں کمی کرتی ہے۔

انسولین کی حساسیت میں کمی خون کی شریانوں کو نقصان پہنچانے، امراض قلب، ہائی بلڈ پریشر اور مخصوص اقسام کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔

کیلے کے چھلکے کو ایسے آزما کر دیکھا؟

یوں تو کیلے کا چھلکااِدھر اُدھر پھینکنا اخلاقی اور سماجی طور پر انتہائی بُری عادت ہے، لیکن ہمیں امید ہے کہ اس کارآمد تحریر کو پڑھنے کے بعد کوئی بھی کیلے کھا کر اس کے چھلکے کو جگہ جگہ پھینکنے کی اپنی عادت تبدیل کرلے گا، کیونکہ اس کے چھلكوں میں حسن و صحت کے حوالے سے کمال کی خوبیاں موجود ہیں۔

کچھ عرصے پہلے چین میں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کیلے کے چھلکے میں سیروٹونن ہارمون کی انسانی جسم میں سطح کو برقرار رکھنے کے خصوصیات موجود ہیں۔

فضائی سفر جسم پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟

جب آپ فضائی سفر کرتے ہیں تو مختلف طرح کے تجربات کا سامنا ہوتا ہے یا فکریں لاحق ہوتی ہیں کہ پرواز میں تاخیر نہ ہوجائے یا سفر کیسا گزرے گا۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب آپ سطح زمین سے ہزاروں فٹ بلندی پر پہنچتے ہیں تو آپ کے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

درحقیقت فضائی سفر جسم پر بہت زیادہ جسمانی دباﺅ بڑھاتا ہے اور اس سے مختلف طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

درحقیقت فضائی سفر چار طریقوں سے جسم پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ڈی ہائیڈریشن

فضا میں طیارے کے اندر جس ہوا میں آپ سانس لیتے ہیں وہ بہت زیادہ خشک ہوتی ہے کیونکہ اس کا بیشتر حصہ باہر سے آتا ہے جہاں نمی بہت کم ہوتی ہے، جبکہ کیبن کے اندر نمی کی سطح پانچ سے 35 فیصد تک ہوتی ہے۔ اس کا موازنہ کچھ صحراﺅں سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ فضائی سفر کے دوران پانی پینا تھکاوٹ اور سردرد سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ذائقے کی حس متاثر ہونا

اگر آپ نے کبھی توجہ نہیں دی تو آئندہ فضائی سفر کے دوران خود تجربہ کرکے دیکھیں، غذا کا ذائقہ آپ کو زمین کے مقابلے میں فضا میں بالکل مختلف محسوس ہوگا، اس کی وجہ فضا میں نمی موجود نہ ہونا ہے جو کہ ذائقے کی حِس کی صلاحیت کو کم کرتا ہے۔ اسی طرح انجن کا شور بھی اثرات مرتب کرتا ہے جو کہ میٹھے اور نمکین پکوانوں کے ذائقے کی صلاحیت 30 فیصد تک متاثر کرسکتا ہے۔

معدے پر اثرات

طیاروں میں ہوا کا دباﺅ اُس سے کم ہوتا ہے جس کے آپ زمین پر عادی ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم میں گیس پھیلنے لگتی ہے اور آپ پیٹ پھولنے اور گیس وغیرہ کی شکایت محسوس کرنے لگتے ہیں۔

کان میں درد

فضائی سفر کے دوران کان ہوا میں دباﺅ کے فرق کو فوری طور پر ریگولیٹ نہیں کرپاتے، لہذا ان میں درد یا سن ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے، اس سے بچنے کے لیے ناک کو پکڑیں اور لعاب دہن نگلنا شروع کردیں۔

Google Analytics Alternative