صحت

نمک کا زیادہ استعمال دل کے لیے تباہ کن

کیا نمکین چپس، گریاں، فرنچ فرائز یا دیگر جنک فوڈ کھانا پسند کرتے ہیں ؟ تو یہ عادت آپ کے دل کو تباہ کن نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ انتباہ فن لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق کے دوان سامنے آیا۔

نیشنل انسٹیٹوٹ فار ہیلتھ اینڈ ویلفیئر کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ روزانہ 13.7 گرام یا اس سے زیادہ نمک استعمال کرتے ہیں، ان میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوسکتا ہے۔

کمردرد کا بہترین علاج…قدرتی غذا

آج کی روزمرہ زندگی کی ناہمواریوں کے باعث کمر درد جیسی بیماری عام ہوتی جا رہی ہے، جو کسی کو بھی عمر کے کسی حصہ میں بھی انتہائی تکلیف سے دوچار کر دیتی ہے۔

یہ ایک شدید نوعیت کا درد ہے جو کمر کے عضلات اور اعصاب میں رو نما ہوتا ہے۔ اگر اس کا بر وقت تدراک نہ کیا جا سکے تو حامل درد عمر بھر اس تکلیف میں مبتلا رہنے پہ مجبور ہو سکتا ہے۔ جب کمر درد کا حملہ ہوتا ہے تو مریض کا جسم ناتواں اور کمزور ہو کر رہ جاتا ہے۔ درد کی شدت حرکت کرنے،اٹھنے بیٹھنے اور دن کی نسبت رات کے وقت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس کی طبی لحاظ سے کئی وجوہات ہوا کرتی ہیں، لیکن آج کل ایسے افراد جن کو زیادہ دیر حالت نشست میں رہنا پڑتا ہو یا زیادہ وقت کھڑے ہو کر کام کرنا پڑتا ہے، وہ اس کی زد میں زیادہ آ تے ہیں۔

مزاج میں گرمی یا سردی کا عنصر بڑھ جانے سے بھی کمر درد حملہ آور ہو جایا کرتا ہے۔ اسی طرح یورک ایسڈ کی طبعی مقدار کی زیادتی، قبض، مہروں میں خلا پیدا ہونا، ورمِ گردہ، گردے میں پتھری کا ہونا اور امراض مردانہ یعنی احتلام، جریان اور امراضِ نسواں جیسے لیکوریا، بندشِ حیض وغیرہ بھی کمر درد کا سبب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح بھاری وزن اٹھانے سے اچانک کمر میں جھٹکا لگنا یا کمر کے پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہونا بھی کمر درد کا ذریعہ بنتا ہے۔

عیدالاضحیٰ کے پکوان

پنجابی مسالا چانپ

اجزا:

مٹن چانپ: دس عدد، پیاز(درمیانی): دو عدد، ٹماٹر:آدھا کلو، دہی: ایک سے ڈیڑھ کپ، پسا ہوا بُھنا زیرہ: ایک چائے کا چمچہ، پسی ہوئی سرخ مرچ: ایک کھانے کا چمچہ، گرم مسالا: دو چائے کے چمچے، لیموں کا رس: دو کھانے کے چمچے، تازہ ہرا دھنیا: تین کھانے کے چمچے، نمک: ایک سے ڈیڑھ چائے کا چمچہ، ادرک لہسن کا آمیزہ یا پیسٹ: دو سے ڈھائی کھانے کا چمچے، تیل: حسب ضرورت

ترکیب:

ایک گہرے پیندے کی کڑاہی میں تیل ڈال کر گرم کریں۔ پھر اس میں مٹن چانپ، ٹماٹر، باریک کٹی پیاز، لال مرچ، دہی، نمک اور ادرک لہسن کا پیسٹ ڈال کر اچھی طرح ملائیں۔ جب آبال آنے لگے تو کڑاہی کو ڈھک دیں۔ آنچ ہلکی کردیں اور لگ بھگ پچاس منٹ تک پکائیں،یہاں تک کہ چانپ کے گلنے میں معمولی سی کسر رہ جائے۔ اب اس میں اوپر سے پسا ہوا زیرہ ڈال دیں اور مزید دس سے پندرہ منٹ تک پکنے دیں۔ اس عرصے میں گوشت اچھی طرح گل جائے گا اور شوربہ گاڑھا ہوجائے گا۔ آخر میں گرم مسالا اور لیموں کا رس شامل کرلیں اور ہرے دھنیے سے سجا کر نان اور رائتے کے ساتھ پیش کریں۔

مہارانی ران

بکرے کی ران: ایک

بکرے کی ران: ایک سے ڈیڑھ کلو، کچا پپیتا: ایک کھانے کا چمچہ، دہی:  ڈیڑھ کپ، ادرک لہسن کاپیسٹ: دوکھانے کے چمچے، کھویا: آدھا کپ، گرین چلی گارلک سوس: دو کھانے کے چمچے، تلی اور پسی پیاز: چارکھانے کے چمچے، چھلے اور بھنے بادام: ایک کھانے کا چمچہ، نمک: ڈیڑھ چائے کا چمچہ، پسادھنیا: ڈیرھ چائے کا چمچہ، بھنا اور پسازیرہ: ایک 1چائے کا چمچہ، گرم مسالا: ایک چائے کا چمچہ، پسی جائفل: چوتھائی چائے کا چمچہ، پسی جاوتری: نصف چائے کا چمچہ، پسی ہری الائچی: چوتھائی چائے کا چمچہ، فریش کریم: نصف کپ، اْبلے انڈے: دو عدد، فرنچ فرائز: پیش کرنے کے لیے، ثابت چھلے اور تلے ہوئے بادام : پندرہ عدد

ترکیب:

کچا پپیتا ، دہی ، ادرک لہسن کا پیسٹ، کھویا ، گرین چلی گارلک سوس ، تلی اور پسی پیاز ، چھلے اور بھنے بادام، نمک، پسی لال مرچ، پسادھنیا ، جائفل، جاوتری اور پسی ہری الائچی کو ایک برتن میں ڈال کر اچھی طرح ملالیں۔ ایک پیسٹ سا بن جائے گا۔ اس میں سے آدھا یا دو تہائی پیسٹ بکرے کی ران پر اچھی طرح لگا کر دو سے چار گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔

اس کے بعد کڑاہی یا کھلے منھ کے برتن میں دو کپ تیل کڑکڑائیں اور اس میں ران ڈال کر اچھی طرح فرائی کرلیں۔ اب اس میں باقی پیسٹ ڈال کر  ہلکی آنچ پر 35سے 40منٹ تک پکائیں۔ اس کے بعد دو عدد اْبلے انڈے، فرنچ فرائز، ثابت چھلے اور فرائی بادام اور کریم سے سجاکر شیرمال کے ساتھ کھانے کے لیے پیش کریں۔

افغانی کباب

اجزا

قیمہ: ایک کلو، پیاز: ایک عدد، شملہ مرچ: ایک عدد، ٹماٹر: ایک عدد، ہری مرچ: تین عدد، ہرا دھنیا: آدھ کپ، ثابت دھنیا: ایک کھانے کا چمچہ، ثابت زیرہ: ایک کھانے کا چمچہ، کٹی لال مرچ: ایک کھانے کا چمچہ، نمک: حسب ذائقہ، بیسن: چوتھائی کپ، انار دانہ: دو کھانے کے چمچے

ترکیب:

پیاز ، شملہ مرچ ، ٹماٹر اور ہری مرچ کو باریک کتر کر قیمے میں شامل کردیں۔ اب اس میں نمک ، کٹی لال مرچ ، بیسن ، انار دانہ اور باقی تمام اجزا شامل کرکے اچھی طرح ملالیں۔

اب قیمے کو کباب کی شکل میں سیخ پر لگائیں اور کوئلوں پر تل لیں۔ پتیلی میں ہلکا سا تیل ڈال کر بھی انھیں تلا جاسکتا ہے۔

گلاوٹ کے کباب

اجزا

گائے کا قیمہ: ایک کلو، تازہ کریم: ایک پیکٹ، باریک کٹا ہوا پودینہ: ایک گٹھی، انڈا : ایک عدد، ڈبل روٹی کے سلائس: تین عدد، لونگ: چار عدد، باریک کٹی ہری مرچ: چار عدد، کالی مرچ: چھے عدد، چھوٹی الائچی: چھے عدد، سفید زیرہ: ایک چائے کا چمچہ، کالا زیرہ: ایک چائے کا چمچہ، خشخاش: ایک کھانے کا چمچہ، پسی لا ل مرچ: ایک کھانے کا چمچہ، پسا ہوا کچاپپیتا: دو کھانے کے چمچے، چنے: دو کھانے کے چمچے، تیل: حسب ضرورت، نمک: حسب ضرورت

ترکیب:

پہلے چنے، سفید زیرہ ، کالا زیرہ، چھوٹی الائچی، لونگ ، کالی مرچ اور خشخاش ساتھ ملا کر اچھی طرح پیس لیں۔

اب قیمے میں پسا ہوا مسالا اور ڈبل روٹی کے سلائس ملا کر چوپرمیں پیس لیں۔ اس کے بعد اس میں پساہوا کچا پپیتا، کریم ، نمک ، پسی لال مرچ ، انڈا، پودینہ اور ہری مرچ ملا کر اچھی طرح گوندھ لیں۔ اب اس آمیزے کے کباب بنا کر اتنا تلیں کہ کچھ کسر باقی رہ جائے۔ تمام کباب تلے جاچکیں تو انھیں ایک دیگچی میںپھیلا کررکھیں اور لیموں کارس شامل کرکے ہلکی آنچ پر دَم پر رکھ دیں۔ مزے دار گلاوٹ کے کباب گرم گرم شیرمال کے ساتھ سرو کریں۔

 

گوشت مُضر صحت بھی ہوسکتا ہے

عیدالاضحیٰ سر پر ہے۔ چند روز کے بعد ہر گھر میں خواتین بریانی، تکے، قورمہ، روسٹ سمیت گوشت کے مختلف پکوان بنانے میں مصروف ہوجائیں گی۔

ہمارے میں معاشرے میں عام دنوں میں بھی گوشت شوق سے کھایا جاتا ہے مگر عید قرباں کے دنوں میں اس کا استعمال خاص طور سے بڑھ جاتا ہے۔ دوپہر اور رات کے کھانے کے علاوہ بہت سے لوگ ناشتے میں بھی گوشت کے پکوان کھانا پسند کرتے ہیں۔گوشت پکانے کے بہت سے طریقے ہیں تاہم اس دوران اگر کچھ احتیاطیں اختیار کرلی جائیں تو اس کا ذائقہ بڑھ جائے گا اور غذائیت بھی برقرار رہے گی۔

گوشت پکانے کا ایک مقبول طریقہ باربی کیو ہے، خاص طور سے عیدقرباں کے دنوں میں ہر گھر میں باربی کیو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس طریقے میں گوشت کو اوون میں یا کوئلوں پر سینکا جاتا ہے۔ کوئلے پر سینکنے کی وجہ سے گوشت کا ذائقہ بڑھ جاتا ہے۔ باربی کیو گوشت پکانے کے دوسرے طریقوں کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش ہے کیوںکہ اس طریقے سے گوشت میں موجود چکنائی کم ہوجاتی ہے۔

ادرک جوڑوں کے درد کے لیے اکسیر قرار

کراچی: ادرک کے جسمانی و طبی فوائد سے ہم سب بخوبی واقف ہیں اور اب ماہرین نے اس کے استعمال کو گٹھیا اور جوڑوں کا درد ختم کرنے میں بھی بہت مفید قرار دیا ہے۔

ایشیا اور افریقا میں کثرت سے استعمال ہونے والی ادرک کو تیل، پاؤڈر اور اصل حالت میں کھانوں اور ادویہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہاضمے کی بہتری کے لیے ادرک کا استعمال عام کیا جاتا ہے لیکن اب جوڑوں کے درد میں اس کی بھرپور افادیت سامنے آئی ہے۔

بعض سائنسی مطالعات سے عیاں ہے کہ جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو جب ادرک یا اس کے اجزا کھلائے گئے تو ان کے جوڑوں میں سوزش کم ہوئی اور گٹھیا کے مرض میں افاقہ ہوا۔

ہارٹ اٹیک اور کینسر سے بچانے والی انقلابی دوا تیار

نیویارک: سائنسدانوں نے کئی سال کی محنت کے بعد دل کے دورے سے بچانے والا ایک انقلابی انجیکشن تیار کر لیا ہے جو نہ صرف لاکھوں جانیں بچا سکتا ہے بلکہ مریضوں کو پھیپھڑے کے سرطان اور دیگر امراض سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ اس انجیکشن کی تیاری میں ایک طویل عرصہ لگا ہے لیکن گزشتہ چار برس سے اسے 39 ممالک کے 10 ہزار سے زائد افراد پر آزمایا گیا جس کی نگرانی ایک ہزار سے زائد ڈاکٹروں نے کی۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر مریض کو تین ماہ میں ایک مرتبہ یہ ٹیکہ لگایا جائے تو دل کے دورے کے خطرے کو 25 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے اور یہ بالخصوص پھیپھڑے کے سرطان، جوڑوں کے درد، اور گٹھیا کی شدید ترین کیفیت گاؤٹ لاحق ہونے کو بھی روکتا ہے۔

ماہرین نے اسے دل کے امراض کے خاتمے میں ایک ’انقلابی علاج‘ قرار دیا ہے اور دوا کو’کینا کینومب‘ کا نام دیا گیا ہے۔ گزشتہ 30 برس سے کولیسٹرول اور دل کے خطرے سے دوچار افراد اسٹیٹن دوائیں کھا رہے ہیں جس سے امراضِ قلب، فالج اور بلڈ پریشر میں افاقہ ہوتا ہے لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسے ہزاروں لاکھوں افراد ہر سال ہارٹ اٹیک کا شکار ہو رہے ہیں جن کا بلڈ پریشر نارمل اور کولیسٹرول بالکل ٹھیک ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے دل کے معالجے کے نئے طریقوں کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے اور شاید یہ انجکشن کسی حد تک اس مسئلے کا حل ثابت ہو سکے گا۔

گھر کی چھت کو نظرانداز نہ کریں

خواتین اپنے بیڈ رومز، ڈرائنگ روم، کامن روم ، کچن، لاؤنج غرض پورے گھرکی صفائی اور سجاوٹ کا خاص خیال رکھتی ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے کیوں کہ صاف ستھرا اور سجا ہوا گھر ہر ایک پر اہل خانہ کا مثبت تأثر قائم کرتا ہے۔

اکثر خواتین گھر کی سجاوٹ کرتے ہوئے اس کے ایک اہم ترین حصے کو نظر انداز کرجاتی ہیں اور وہ ہے چھت۔ سجے سجائے گھروں کی چھتیں اکثر دھول مٹی سے اٹی نظر آتی ہیں۔ ان کی صفائی ستھرائی اور سجاوٹ پر توجہ نہیں دی جاتی اور انھیں کاٹھ کباڑ اور فالتو سامان کے لیے مختص کردیا جاتا ہے۔ پاکستان میں متوسط طبقے کے ہزاروں لاکھوں گھر ایسے ہیں جہاں اہل خانہ رات چھت پر گزارتے ہیں۔ خاص طور سے گرمیوں میں شب بسری کے لیے چھتوں پر ڈیرا لگالیتے ہیں۔ اگر چھت کو بھی کمروں کی طرح خوب صورت بنالیا جائے تو یہاں وقت گزارنے کا مزہ دوبالا ہوجائے گا۔

کام کاج کی طرح گھر کی سجاوٹ بھی خواتین کی ذمہ داری ہوتی ہے، کیوں کہ مرد حضرات باہر کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔ خواتین اگر چاہیں تو اپنے گھر کی چھت کو خوب صورت بناسکتی ہیں۔ سب سے پہلے چھت کی اچھی طرح سے صفائی کرکے دھول مٹی ختم کریں۔ گھروں کی اکثر فضول چیزیں اور پرانا کاٹھ کباڑ چھت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ آپ کے گھر کی چھت پر ایسا کچھ ہے تو اس سے نجات حاصل کریں۔

دماغ کو تندرست وتوانا رکھیے

انسان کا دماغ قدرت الہی کا حیرت انگیز کرشمہ ہے۔جسم انسانی میں یہی وہ عضو ہے جس کی مدد سے اشرف المخلوقات نے نت نئی ایجادات کیں اور عظیم سائنسی کارنامے انجام دئیے۔اسی لیے ہر انسان کو خاص طور پر دماغ کو تندرست رکھنا چاہیے۔

دماغ ہمارے بدن میں مرکز یا صدرمقام کی حیثیت رکھتا ہے۔اگر دماغ صحت مند ہے تو انسان اس سے بھر پور فائدہ لے سکتا ہے۔تاہم انسان کی عمر بڑھے،تو اس کی دماغی قوت کم ہوتی جاتی ہے۔یاداشت بھی اتنی کمزور ہو جاتی ہے کہ ہم اکثر بھولنے لگتے ہیں،فلاں شے کہاں رکھی تھی۔

ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی دماغی صحت تاعمر بحال رہے۔انسان عمر ڈھلنے کا عمل تو روک نہیں سکتا لیکن چند تدابیر کر کے اپنی یادداشت ضرور بہتر بنا لیتا ہے۔بدقسمتی سے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ دماغ کو کیونکر تندرست بنایا جائے۔حالانکہ تھوڑی سی سعی کے ذریعے ہم اپنی دماغی صلاحیتیں بہتر بنا سکتے ہیں۔اس سلسلے میں بعض مردوزن ادویہ استعمال کرتے ہیں جو عموماً الٹا نقصان پہنچاتی ہیں۔

Google Analytics Alternative