صحت

تمباکو نوشی سے ہرسال 70 لاکھ افراد ہلاک ہورہے ہیں، عالمی ادارہ صحت

نیویارک: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو نوشی ہرسال 70 لاکھ افراد کی جان لے رہی ہے اور یہ شرح سال 2000 کے مقابلے میں اب دوگنا ہوچکی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے نے ترقی پذیر ممالک پر سخت قانون سازی اور قواعد پر زور دیا ہے کیونکہ 80 فیصد اموات ان ہی ممالک میں ہورہی ہے۔ تاہم عالمی ادارے نے کئی ممالک میں مہنگی سگریٹ کے اقدامات کو سراہا ہے جس سے سگریٹ کی لت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اس صدی کے آخر تک ایک ارب افراد تمباکو نوشی کی بھینٹ چڑھ جائیں گے جو ایک خوفناک رحجان ہے۔  ڈبلیو ایچ او کی سربراہ مارگریٹ چین نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی ایک خطرناک عادت ہے جو امراضِ قلب سے لے کر پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ بھی ہے اور اطراف کے تمام افراد کو یکساں طور پر متاثر کرتی ہے۔

دوسری جانب تمباکو نوشی غربت اور پسماندگی کی بنیادی وجہ ہے کہ کیونکہ سگریٹ نوش اپنی رقم کا ایک بڑا حصہ اس پر خرچ کرتے ہیں اور اس سے وابستہ بیماریوں پر بھی بجٹ کا بڑا حصہ خرچ ہوجاتا ہے۔  ایک ماہ قبل طبی جریدے لینسٹ میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سال 2016 میں 64 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2030 تک ہلاکتوں میں تین گنا اضافہ ہوجائے گا۔

عالمی ادارہ صحت نے یہ بھی کہا ہے کہ تمباکو نوشی سے ہونے والے صحت کے نقصانات پر پوری دنیا کے لوگ ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کے برابر رقم خرچ کررہے ہیں جو عالمی جی ڈی پی کا دو فیصد ہے۔

شیخوپورہ:مکان سے 2 ہزار کلوگرام مضر صحت گوشت برآمد

پولیس کے مطابق شیخوپورہ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پولیس نے خفیہ اطلاع پر جنڈیالہ روڈ کے ایک علاقے میں واقع مکان میں چھاپہ مارا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ مکان سے جہاں سے دو ہزار کلو گرام مضر صحت گوشت برآمد ہوا۔

پولیس کے مطابق گوشت مردہ جانوروں کا تھا اور اسے برف میں رکھا گیا تھا۔

کھوپڑی کی کھال سے گنج پن کا علاج دریافت

سان فرانسسکو: سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ سر کی کھال میں موجود وہ خلیے جو بیماریوں اور تکالیف سے بچاتے ہیں وہی خلیات بالوں کی نشوونما بہتر بنانے میں بھی خصوصی کردار ادا کرتے ہیں۔

امریکی ماہرین نے چوہوں پر کیے گئے ایک مطالعے میں دریافت کیا ہے کہ امنیاتی نظام (امیون سسٹم) سے تعلق رکھنے والے ’’ٹی سیلز‘‘ (T-Cells) جو سر کی کھال میں موجود ہوتے ہیں، وہ نہ صرف حملہ آور ہونے والے جرثوموں اور وائرسوں کا قلع قمع کرتے ہیں بلکہ وہاں پائے جانے والے اُن خلیاتِ ساق (Stem cells) کو بھی تقویت پہنچاتے ہیں جو بالوں کی نشوونما بہتر بناتے ہیں یعنی وہ خلیاتِ ساق جن کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے سر پر بال گھنے اور لمبے ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو میں اس تحقیق کے سربراہ مائیکل روزنبلم کا کہنا ہے کہ جن چوہوں کا مطالعہ کیا گیا اُن میں بالوں کا قدرتی نظام انسان سے بہت قریب ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کم و بیش یہی سب کچھ انسانوں کےلیے بھی درست ہونا چاہیے۔ البتہ اس کی مزید تصدیق کرنے کےلیے انسانی بالوں اور کھوپڑی کی کھال کا تحقیقی جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔

اگر مزید تحقیق سے یہی بات انسانوں کےلیے بھی درست ثابت ہوگئی تو گنج پن اور گرتے ہوئے بالوں کا علاج بھی ممکن ہوسکے گا۔ اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’سیل‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

کافی کا روزانہ استعمال جگر کے کینسر کے خاتمے میں مفید

لندن: اگر آپ کافی پینے کے شوقین ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ روزانہ 5 کپ کافی پینے کی عادت مہلک ترین سرطان کو روکنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

جگر کے کینسر کی سب سے عام قسم ہیپاٹو سیلولر کینسر(ایچ سی سی ) ہے اور کافی میں موجود کئی اہم اجزا جسم کی اہم ترین مشین (جگر) کو اس خطرے سے بچا سکتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی روزانہ 5 کپ کافی پیتا ہے تو اس سے سرطان کا آدھا خطرہ ٹل جاتا ہے لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ باقاعدگی سے کافی کا استعمال کیا جائے۔

برٹش میڈیکل جرنل میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف ساؤتھ ایمپٹن کے ڈاکٹر اولیور کینیڈی اور ان کی تحقیقی ٹیم کے ساتھیوں کی شائع شدہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کیفین سے پاک یعنی ڈی کیفینیٹڈ کافی کا استعمال بھی جاری رکھا جائے تو اس سے بھی جگر کو فائدہ ہوتا ہے۔

ماہرین نے پہلے شائع شدہ ایسی 26 مختلف تحقیقات کا بغور جائزہ لیا جن میں 22 لاکھ 50 ہزار افراد شامل تھے۔ ماہرین نے اس وسیع جائزے میں لوگوں کے کافی پینے کا رحجان اور ایچ سی سی کی شرح معلوم کرنے کی کوشش کی۔ تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے روزانہ 2 کپ کافی پینے کو معمول بنایا ان میں جگر کے سرطان کا خطرہ 20 فیصد کم دیکھا گیا اور جن افراد نے روزانہ کافی کے 5 کپ نوش کئے ان میں یہ شرح 50 فیصد نوٹ کی گئی، مطالعے سے ثابت ہوا کہ روزانہ کافی کا کافی استعمال جگر کے سرطان کے خطرے کو نصف کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا سے پاکستان تک جگر کا سرطان ہر سال ہزاروں لاکھوں افراد کو لقمہ اجل بنا رہا ہے اور اس ضمن میں حفاظتی اقدامات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ شراب نوشی، سگریٹ نوشی، ہیپاٹائٹس بی اور سی اور جگر کی سوزش جگر کے کینسر کی وجہ بن کر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق کافی میں سوزش دور کرنے، سرطان بھگانے اور اینٹی آکسیڈنٹ اجزا ہوتے ہیں جو کئی اقسام کے کینسر کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دیگر ناقدین کا خیال ہے کہ یہ ایک غیر معمولی انکشاف ہے کیونکہ سرطان کے مرض میں مبتلا افراد کی تعداد بہت ذیادہ ہے۔

ڈیزل کی آلودگی دل کے لیے انتہائی مضر قرار

لندن: کوئن میری یونیورسٹی لندن میں واقع ولیم ہاروے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے دھویں سے خارج ہونے والے کیمیکل دل کے امراض، ہارٹ اٹیک اور یہاں تک کہ اموات کی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔

ویلکم ٹرسٹ کے تعاون سے ہونے والی یہ تحقیق امراضِ قلب کے ماہر ڈاکٹر نے اونگ نے کی اور ان کا کہنا تھا کہ ڈیزل دھویں سے خارج ہونے والے ذرات پی ایم  2.5 سے پھیپھڑوں میں سوزش اور دل کے امراض بڑھ جاتے ہیں۔ مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سے دل براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔

اس ضمن میں 4255 برطانوی باشندوں کے رہائشی پتوں اور وہاں موجود ڈیزل دھویں کا جائزہ لیا گیا اور ان رضاکاروں میں ایف ایم آر آئی کی مدد سے دل کی کیفیات معلوم کی گئیں۔ لوگوں کے دل کی لیفٹ وینٹریکل والیوم (ساخت) اور لیفٹ وینٹریکل ایجکشن ( کارکردگی) کونوٹ کرتے ہوئے دیکھا گیا  کہ وہ ہرسال پی ایم 2.5 ذرات کی کتنی بڑی مقدار کو برداشت کررہے ہیں۔

اس دوران عمر، جنس، ذیابیطس اور بلڈ پریشر بھی نوٹ کیا گیا اور ان کی بنیاد پرشماریاتی ماڈل تیار کئے گئے۔ ماہرین پر انکشاف ہوا کہ جیسے جیسے پی ایم 2.5 کی شرح بڑھی، لوگوں کے دل کی ساخت اور افعال پر بھی اثر دیکھنے میں آیا۔ یعنی 5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر پی ایم 2.5 میں اضافے سے چار سے آٹھ فیصد لیفٹ وینٹریکل والیوم بڑھا اور ایجیکشن میں دو فیصد کمی ہوئی۔

یعنی ڈیزل انجن کے دھویں میں موجود ذرات کی تعداد بڑھنے سے دل بڑا ہوا اور اس کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی اور یہ دونوں دل کے دورے کی اہم وجوہ میں شامل ہیں۔ قصہ مختصر بلڈ پریشر بڑھاتا ہے اور دل کی ساخت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ برطانیہ میں ڈیزل سے پیدا ہونے والے ذرات کی حد 10 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے جب کہ امریکا میں یہ شرح 25 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے لیکن نئی تحقیق تو اس سے کم پر بھی دل کے لیے مضر ثابت کرچکی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وہ فضائی آلودگی سے اجتناب کریں اور ایسی سڑکوں کا انتخاب کریں جہاں گاڑیاں کم ہوں.

سول اسپتال سکھر کا ٹرانسفارمر2 روزبعد بھی تبدیل نہ ہوسکا

‎ سیپکو حکام کو بارہا اطلاع دینےکے باوجود ٹرانسفارمر مرمت یا تبدیل نہیں کیا جاسکا جس کے باعث دو روز تک اسپتال کو بجلی فراہم کرنے والا ہیوی جنریٹر بھی جواب دے گیا۔

اسپتال میں رات کے وقت مریض شدید گرمی اور حبس میں بلبلا اٹھے خاص طور پر بچوں کے وارڈ میں زیر علاج بچوں کی حالت غیر ہونے لگی ہے۔بچوں کے ورثا ہاتھ کے پنکھوں سے ہوا جھلنے پر مجبور ہیں۔

اسپتال میں زیر علاج مریض اور ورثا نے اسپتال انتظامہ سمیت سیپکو حکام سے اپیل کی ہے کہ اسپتال کا خراب ٹرانسفارمر فوری مرمت کرکے ان کی پریشانی ختم کی جائے۔

سائنسدانوں نے اینٹی بائیوٹک کا نیا ورژن بنالیا

امریکی ہیلتھ جریدے میں شائع نئی تحقیق میں سائنسدانوں کا کہناتھاکہ یہ دریافت، ایسے جراثیم جو پہلے سے موجود اینٹی بائیوٹک کے خلاف مدافعت کرتے ہیں،ان کے خلاف جنگ کو بڑھائے گی۔

امریکہ میں محققین نے پہلے سے موجود ایک دوا میں بہتری لاکر اسے ہزار گنا زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔یہ بیکٹریا پر تین مختلف طریقوں سے حملہ کرتی ہے۔

بھارت میں زیکا وائرس، مریض صحتیاب ہوگئے، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہٴ صحت کے مطابق ان3 میں2 حاملہ خواتین تھیں، جنہوں نے بعد میں صحت مند بچوں کو جنم دیا تھا۔ ان تینوں زیکا وائرس کے مریضوں کے بارے میں بھارت نے عالمی ادارہٴ صحت کو رواں برس15 مئی کو مطلع کیا تھا۔

بھارتی محکمہٴ صحت نے بتایا ہے کہ زیکا وائرس میں مبتلا تینوں مریض اب پوری طرح صحت یاب ہو چکے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ سن 2015 میں زیکا وائرس برازیل اور قریبی ہمسایہ ملکوں میں وبا کی طرح پھیل گیا تھا۔

Google Analytics Alternative