صحت

کیا طفیلیے (پیراسائٹس) ہمارے دوست ہیں؟

لندن: طفیلیے یا پیراسائٹس وہ جاندار ہوتے ہیں جو کسی دوسرے جاندار کے وسائل میں بن بلائے مہمان کے طور پر شریک ہوجاتے ہیں اور عموماً اپنے میزبان کےلیے مشکلات اور بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔

پودوں اور جانوروں کی طرح انسان کو بھی ہر وقت ایسے طفیلیوں کا سامنا رہتا ہے جو اس کے جسم میں پلتے رہتے ہیں اور اس کی غذا، خون اور دوسرے وسائل میں سے اپنا حصہ وصول کرتے رہتے ہیں۔ ان طفیلیوں کی زیادتی کے باعث ہمیں کئی بیماریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

لیکن اب یونیورسٹی آف باتھ، برطانیہ کی بین ایشبی اور ان کے ساتھیوں نے پتا چلایا ہے کہ طفیلیے ہمارے دشمن نہیں بلکہ دوست ہوتے ہیں۔ ریسرچ جرنل ’’ایوولیوشن لیٹرز‘‘ کے تازہ شمارے میں ان کی شائع شدہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ انسانی جسم میں موجود طفیلیے دو طرح سے اس کی مدد کرتے ہیں۔

گلے کی خراش سے نجات حاصل کرنے کے آسان نسخے

گلے کی خراش یا سوزش ایک عام بیماری ہے، جو ہر بدلتے موسم کے وقت ہوتی ہے، یا پھر ٹھنڈا گرم ایک ساتھ کھانے اور پینے سے بھی ہوجاتی ہے۔

کچھ لوگ انتہائی حساس ہوتے ہیں، اور وہ تھوڑی بہت موسمی تبدیلی، بڑھتی آلودگی اور ایک ساتھ مختلف غذائیں کھانے سے بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

گلے کی خراش یا سوزش ابتدائی طور پر بہت تکلیف دیتی ہے، اور اس کے شکار افراد کھانے اور پینے سمیت ٹھیک طرح سے بول پانے سے بھی کچھ وقت کے لیے محروم ہوجاتے ہیں۔

گلے میں سوزش کی وجہ سے بولنے میں بھی تکلیف ہوتی ہے، جب کہ کوئی چیز نہ تو نگلی جاتی ہے، اور نہ ہی کھائی جاتی ہے، لیکن اس بیماری سے آسان اور گھریلو نسخوں کے ذریعے بھی نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

کلیجی صحت مند دانتوں کے لیے فائدہ مند

ہم سب جانتے ہیں کہ دانتوں کو سونے سے قبل برش کرنا بہت ضروری ہے جبکہ اس سے بھی ممکنہ طور پر واقف ہوں گے کہ کچھ چیزیں موتیوں جیسے سفید دانتوں کے لیے کھانی نہیں چاہئے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کلیجی کھانا بھی دانتوں کی سفیدی کے لیے بہت اہم ہے؟

جی ہاں واقعی، یہ صحیح ہے کہ کلیجی کھانا دانتوں کو چمکدار اور صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

درحقیقت کلیجی وٹامن اے اور ڈی سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ دانتوں کی فرسودگی اور منہ کی ناقص صفائی کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

سانس میں بو سے نجات کا آسان ترین طریقہ

سانس میں بو کسی کے لیے بھی پریشان کن مسئلہ ہوتا ہے جو ان کی شخصیت کو بھی متاثر کرتا ہے جبکہ یہ مختلف امراض کا اشارہ بھی ہوسکتا ہے۔

مگر اس سے نجات کس طرح ممکن ہے؟

درحقیقت سانس میں بو ہونے سے ماﺅتھ واش کا کثرت سے استعمال کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچاتا۔

بنیادی طور پر تمام غذائیں منہ کے اندر ٹکڑے ہوتی ہیں اور اگر آپ تیز بو والی غذائیں جیسے لہسن یا پیاز کھاتے ہیں تو دانتوں کی صفائی یا ماﺅتھ واش بھی ان کی بو کو عارضی طور پر ہی چھپا پاتے ہیں اور وہ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک یہ غذائیں جسم سے گزر نہ جائیں۔ اگر روزانہ دانتوں کو برش نہ کیا جائے تو خوراک کے اجزاءمنہ میں باقی رہ جاتے ہیں جس سے دانتوں کے درمیان، مسوڑوں اور زبان پر جراثیموں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں۔

تو اس سے نجات کا آسان طریقہ تو یہ ہے کہ جب آپ دانتوں پر برش کریں تو رات کو بھی کریں کیونکہ ایسا نہ کرنے پر خوراک کے اجزا سانس کو بدبو دار بنا دیتے ہیں جبکہ زبان پر بھی برش پھیریں۔

میگنیشیم سپلیمنٹ سے ایک ماہ میں بلڈ پریشر میں کمی ممکن

انڈیانا: ماہرین نے ایک مطالعے کے بعد کہا ہے کہ اگر ایک ماہ تک بھی میگنیشیم سے بھرپور سپلیمنٹ کھائی جائیں تو اس سے بڑھتے ہوئے بلڈ پریشر کم کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر کے پرانے مریض اگر روزانہ 300 ملی گرام میگنیشیم استعمال کریں تو ایک ماہ کے اندر ان کا بلڈ پریشر قابو میں آ جائے گا لیکن ہمارا مشورہ ہے کہ یہ سپلیمنٹ بھی اپنے معالج کے مشورے سے استعمال کیے جائیں۔ کسی سپلیمنٹ یا گولیوں کی بجائے میگنیشیم والی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ بہتر رہے گا کیونکہ میگنیشیم بدن میں جاکر خون کی روانی بھی بہتر بناتی ہے۔

اس کے علاوہ بلند فشارِ خون کے خطرے کے قریب پہنچنے والے افراد کے لیے بھی میگنیشیم یکساں طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے لیکن ماہرین کے ایک گروہ کا اصرار ہے کہ سپلیمنٹ کی بجائے سبز پتوں والی سبزیاں، کیلے اور مونگ پھلی، بادام، پستے اور کاجو استعمال کئے جائیں کیونکہ ان میں میگنیشیم کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے تاہم اس کی زیادتی کے سائیڈ افیکٹس بھی رونما ہو سکتے ہیں جن میں الٹی اور ڈائریا نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ مچھلی، خشک میوے اور مغزیات میں بھی میگنیشیم موجود ہوتا ہے۔

انڈیانا یونیورسٹی کے ماہرین نے 2028 افراد پر مشتمل 34 اہم مطالعات کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر ایک ماہ تک 300 ملی گرام میگنیشیم کھائی جائے تو بلڈ پریشر کم ہونے کے بہت امکانات ہو سکتے ہیں اور خون کا بہاؤ بھی بہت اچھا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بات کوئی نئی نہیں امریکا اور برطانیہ کے ماہرین کہتے ہیں کہ 19 سے 64 سال کے مرد روزانہ 300 ملی گرام میگنیشیم اور اسی عمرکی خواتین 270 ملی گرام میگنیشیم ضرور استعمال کریں۔

کیا آپ جانتے ہیں نزلے اورزکام میں کیا فرق ہے؟

نزلہ اور زکام وہ بیماریاں ہیں جن میں ہر دوسرا انسان آئے روز مبتلا نظر آتا ہے جب کہ یہ بیماری وائرس سے پھیلتی ہیں اور ایک انسان سے دوسرے انسان تک بہ آسانی منتقل ہوجاتی ہیں۔

نزلہ اور زکام عموماً سردیوں کی بیماری ہے ، ٹھنڈے مقامات پررہنے والے افراد کے علاوہ وہ لوگ جن کا مدافعتی نظام قدرتی طور پرتھوڑا کمزورہوتا ہے جلد اس بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں،تاہم نزلے اور زکام میں مبتلا کسی بھی شخص سے اگر اس کی خیریت دریافت کی جائےتو وہ کہے گا کہ نزلہ اورزکام ہوا ہے جب کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام طور پرایک سمجھے جانے والی یہ دونوں بیماریاں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ، ہیں لیکن دونوں کی علامات تقریباً ایک جیسی ہونے کی وجہ سے ان میں فرق کرنا بے حد مشکل ہوتاہے۔

بخار

روزمرہ کی چیزوں میں چہرے کیوں نظر آتے ہیں؟

کیا آپ کو روزمرہ کی چیزوں جیسے آسمان پر بادل دیکھتے ہوئے کسی ساخت کا احساس ہوتا ہے؟ یا کسی درخت کو دو بار دیکھنے پر مجبور ہوگئے کیونکہ آپ کو لگا کہ شاخوں میں کوئی چہرہ ہے؟

اگر ہاں تو آپ تنہا نہیں بلکہ لاتعداد افراد کو اس قسم کا تجربہ ہوتا ہے۔

مگر آخر کیا وجہ ہے کہ لوگوں کو روزمرہ کی چیزوں میں چہرے نظرے آتے ہیں ؟ تو اس کی وجہ کافی دلچسپ ہے۔

ڈرائنگ کرتے کرتے ’پارکنسن‘ کی شناخت ممکن

کہا جاتا ہے کہ کئی بیماریوں کی بروقت نشاندہی نہ ہونے کی وجہ سے کئی لوگ اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، یا ان کے علاج میں مشکل درپیش آتی ہے۔

تاخیر سے پتہ چلنے کے بعد علاج میں کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ دینے والی بیماریوں میں ’پارکنسن‘ کا بھی شمار ہوتا ہے۔

’پارکنسن‘ ایک اعصابی بیماری ہے، جس کا انسانی ذہن اور جسم سے براہ راست تعلق ہوتا ہے، ابتدائی طور پر اس بیماری میں ہاتھ اور جسم کے دیگر حصے تھر تھرانے لگتے ہیں۔

تاہم اب ماہرین نے اس بیماری کی شناخت کے لیے ایک ایسا عام طریقہ ایجاد کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جو نہ تو اتنا مہنگا ہے، اور نہ ہی اس کے لیے کسی بڑے ڈاکٹر یا ہسپتال کی ضرورت پڑے گی۔

Google Analytics Alternative