صحت

دل کی سست دھڑکن کو طبی ماہرین زیادہ صحت مند علامت قرار دیا

ہوسکتا ہے یہ پڑھ کر آپ کی دل کی دھڑکن کچھ ہوجائے کہ دھڑکن کی رفتار کو آئندہ دو دہائیوں میں موت کے امکانات کی پیشگوئی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ دعویٰ چین میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن افراد کی دل کی دھڑکن فی منٹ 80 ہوتی ہے ان میں اگلے 20 برسوں میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 45 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ چنگ ڈا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق بیشتر افراد کی دل کی دھڑکن کی رفتار 60 سے 100 فی منٹ ہوتی ہے مگر پیشہ ور ایتھلیٹس کا دل فی منٹ 40 بار دھڑکتا ہے۔ دل کی سست دھڑکن کو طبی ماہرین زیادہ صحت مند اور فٹ دل کی علامت قرار دیتے ہیں۔ محققین نے دریافت کیا ہے کہ دل کی دھڑکن کی رفتار میں فی منٹ 10کا اضافہ بھی موت کا خطرہ 9 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، جبکہ ہارٹ اٹیک یا فالج کے امکان میں آٹھ فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔ محققین نے دل کی دھڑکن اور موت کے درمیان تعلق کو دریافت کرنے کے لیے 12 لاکھ افراد پر ہونے والی 45 طبی مطالعوں کا جائزہ لیا۔ محققین نے کہا ہے کہ دل کی دھڑکن سب سے سست رات کو ہوتی ہے جب جسم سکون کی حالت میں ہوتا ہے اور اس وقت ہی درست ترین ریڈنگ ممکن ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنی صحت کے حوالے سے دل کی دھڑکن کی رفتار پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور جسمانی سرگرمیوں کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے جو دھڑکن کی رفتار کو سست کرتی ہیں۔ خیال رہے طبی ماہرین کے مطابق 18 سے 35 سال کے مردوں میں 56 سے 61 بار دل کا دھڑکنا مناسب ترین ہوتا ہے جبکہ 80 سے اوپر جانا خطرے کی علامت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح خواتین میں یہ تعداد 61 سے 65 بہترین کے لیے ہے جبکہ 83 سے اوپر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

دہی کااستعمال ذیابیطس بیماری سےمحفوظ رکھ سکتا ہے

ذیابیطس کا مرض اگر حد سے بڑھ جائے تو پرہیز کے ساتھ ساتھ مہنگے علاج کا خرچ بھی اٹھانا پڑ جاتا ہے لیکن روزمرہ غذا میں چند اشیا کا اضافہ کر کے اس خطرناک مرض پر کسی حد تک قابو ضرور پایا جا سکتا ہے۔ہاروڈسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ روزانہ محض 28گرام دہی کا استعمال ذیابیطس کے ٹائپ ٹو کے خدشات میں تقریباً20فیصد کمی کردیتا ہے اور بے شمار دیگر فوائد کابھی سبب بنتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر روزانہ باقاعدگی سے دہی کا استعمال کیا جائے تو ان تمام تکلیفوں کی نوبت ہی نہیں آئے گی کیونکہ دہی اس بیماری کو روکنے کا سستا اور آسان ترین نسخہ ہے۔

دل کیلئے مفید‘ انار قدرت کا شاندار تحفہ‘

انار قدرت کا شاندار تحفہ ہے اس کے درخت کی چھال پھول پھل کا چھلکا اور یہاں تک کہ پتیاں بھی مفید ہیں ذرائقے کے لحاظ سے اس کی تین اقسام ہیں انار شیریں انار ترش اور انار منجوش یعنی کٹھا میٹھا یہ تینوں ہی اقسام دوا اور غذائی خصوصیات سے بھر پور ہیں انار کا جوس جہاں دل کیلئے مفید ہے وہیں اسے عام تھکاوٹ کو دور کرنے کیلئے ایک بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے انار کا جوس پینے سے کام کاج کی طرف دھیان کی شرح دوگنی ہوسکتی ہے ماہرین طب اچھی صحت اور ذہنی دباﺅ کو کم کرنے کیلئے انار کے جوس کو ایک بہترین ٹانک قرار دیتے ہیں انار کا شربت پینے سے جسم میں تناﺅ کے ہارمونز کی سطح کم ہوجاتی ہے جس سے بلڈ پریشر بھی کم ہوتا ہے تاثیر معتدل ملین ہے پیشاب اور پیاس بجھاتا ہے اعضائے رئیسہ خصوصاً جگر کو قوت دیتا ہے اور خون پیدا کرتا ہے۔امراض چشم کے لئے میٹھے انکار کا رس نکال کر سبز رنگ کی بوتل میں چالیس دن دھوپ میں رکھنے کے بعد اس پانی کو سلائی یا ذرا پر کے ذریعے آنکھ میں لگانا مفید ہے روزانہ انار کا جوس پینے سے پیٹ کے گرد جمع ہونیوالی چربی کا کاتمہ ہوتا ہے انار کے جوس میں پائے جانیوالے قدرتی اجزاءموٹاپے کا باعث بننے والے خلیات کا خاتمہ کرکے چربی پگھلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انار بالوں کی جڑوں کو مضبوط بناتا ہے جس کی وجہ سے بالوں کے گرنے میں کمی واقع ہوتی ہے۔

مردہ قرار دیا نوجوان زندہ ہو گیا‘ انوکھا واقعہ

انسان کے لئے اس دنیا میں شفیق ترین ہستی ماں ہے جو کڑے سے کڑے وقت میں بھی اولاد کے لئے خود کو وقف کئے رکھتی ہے۔ چین کے ڑی شانگ شہر سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ لڑکے یوپنجیا کو بھی اس کی خطرناک بیماری کی وجہ سے جب سب نے تقریباً مردہ قرار دے کر چھوڑدیا تو اس کی ماں نے اس کے پہلو سے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ جب یہ نوجوان تقریباً 6 ماہ قبل دماغ کی شریان پھٹنے سے کومے میں چلا گیا تو اس کے ساتھ صرف اس کی ماں تھی۔ ڈاکٹروں نے کئی ماہ تک نوجوان کو ہوش میں لانے کی کوشش کی لیکن بالآخر وہ بھی ہمت ہار گئے اور خاتون کو بتایا کہ اب اس کا بیٹا کبھی واپس نہیں آئے گا۔ دوسری جانب اس ماں کو اپنی محبت پر اتنا یقین تھا کہ وہ روزانہ اپنے بیٹے کے سرہانے بیٹھ کر اس کے ساتھ باتیں کرتی، اسے کہانیاں سناتی اور رات کو سونے سے قبل اسے لوری بھی سناتی۔اگرچہ ڈاکٹر نوجوان کو تقریباً مردہ قرار دے چکے تھے لیکن اس کی ماں کو اس کے لوٹ آنے کا یقین تھا اور بیٹے کے کومے میں جانے کے ٹھیک 198 دن بعد جب وہ اسے لوری سنارہی تھی تو اچانک اس نے آنکھ کھول دی۔ چھ ماہ سے زائد عرصے کے لئے نیم مردہ رہنے والے نوجوان کو آنکھیں کھولتا دیکھ کر اس کی ماں کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور وہ فرط جذبات سے چیخ اٹھی۔ ہسپتال کے ڈاکٹر بھی اس کرشمے پر حیران رہ گئے اور انہوں نے خاتون کی محبت اور ثابت قدمی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ یوپنجیا کا علاج کرنے والی ٹیم میں شامل ایک ڈاکٹر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ”میں یہ اعتراف کروں گا کہ یو پنجیا کی والدہ نے کبھی ایک لمحے کے لئے بھی اس بات کو نہیں مانا کہ اس کا بیٹا اب اس دنیا میں واپس نہیں آئے گا۔ ہمیں اس بات پر واقعی خوشی ہے کہ انہوں نے ہماری بات نہیں مانی، اور ہماری طبی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے بیٹے کی واپسی کی منتظر رہیں۔ واقعی یہ ان کی مامتا ہے جو ان کے بیٹے کو واپس لے آئی۔ مجھے

مردوں اور خواتین کے دماغوں میں فر ق تعین

جب بھی مجھے اس پیچیدہ سوال کا سامنا ہوتا ہے کہ کیا واقعی مردوں اور عورتوں کے رویوں کا تعین ان کے دماغ سے ہوتا ہے، تو میں ایک طرف کھڑا ہوتا ہوں اور پروفیسر ایلس رابرٹس اس بحث کی دوسری طرف۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جسم کی طرح ہمارے دماغ کی تشکیل میں بھی ان ہارمونز یا کیمیائی مادوں کا اثر ہوتا ہے جن سے ہمارا واسطہ ماں کے پیٹ میں پڑتا ہے۔میرا خیال ہے کہ اگر آپ میرے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات بخوبی سمجھ آ جاتی ہے کہ کئی کاموں میں مرد کیوں اچھے ہوتے ہیں اور کئی کام خواتین کیوں بہتر کرتی ہیں۔ مثلاً مرد وہ کام بہتر کرتے ہیں جن کا تعلق مشینوں وغیرہ سے ہوتا ہے جبکہ خواتین اپنے ہمدردانہ دماغ کی وجہ سے دوسروں کو سمجھنے میں بہتر ہوتی ہیں۔اگرچہ ہماری تربیت بھی ہمارے دماغوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے لیکن میرا خیال ہے میرا نظریہ زیادہ غلط نہیں کہ مردوں اور خواتین کے دماغ مختلف ہوتے ہیں۔دوسری جانب ایلس کا خیال ہے کہ یہ فرضی باتیں ہیں اور یہ کہنا کہ دماغ نر یا مادہ ہوتا ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم تجربات کیسے کرتے ہیں۔دو قسم کے دماغ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کے دماغ یا تو زیادہ ہمدردانہ ہوتے ہیں یا زیادہ انتظامی۔ زیادہ تر مرد انتظامی قطب کے قریب ہوتے ہیں جبکہ زیادہ تر خواتین ہمدردانہ قطب کے قریب، تاہم بے شمار لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دماغ ان قطبین کے درمیان ہوتے ہیںایلس کو خدشہ ہے کہ اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ مردوں کا دماغ تکنیکی معاملات میں زیادہ چلتا ہے تو اس سے سائنس پڑھنے میں لڑکیوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ایک محقق جس نے میرے خیالات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے، ان کا نام پروفیسر بیرن کوہن ہے اور وہ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔پروفیسر بیرن کوہن کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر دماغ ’دو قسموں‘ کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ’ہمدردانہ‘ ہوتے ہیں۔ ہمدردانہ دماغ یہ جاننے میں اچھے ہوتے ہیں کہ دوسرا شخص کیا سوچ رہا ہے یا کیا محسوس کر رہا ہے۔دوسری قسم کے دماغ ’انتظامی‘ ہوتے ہیں۔ اس قسم کے دماغوں کی دلچسپی یہ ہوتی ہے کہ اپنے ارد گرد کے سسٹم یا نظام کو حصوں میں توڑ کر اسے سمجھا جائے اور اس کا تجزیہ کیا جائے۔ اس قسم کی دماغوں کو آپ کسی قدر غیر دلچسپ یا ایک ہی دھن میں لگے دماغ کہہ سکتے ہیں۔ہم سب لوگ دراصل ان دو قسم کے دماغوں کا مجموعہ ہوتے ہیں، لیکن ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کے دماغ یا تو زیادہ ہمدردانہ ہوتے ہیں یا زیادہ انتظامی۔ زیادہ تر مرد انتظامی قطب کے قریب ہوتے ہیں جبکہ زیادہ تر خواتین ہمدردانہ قطب کے قریب، تاہم بے شمار لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دماغ ان قطبین کے درمیان ہوتے ہیں۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دماغ کے نر یا مادہ ہونے کا تعلق سراسر ہماری تربیت سے تو نہیں؟پروفیسر بیرن کوہن کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے بقول چونکہ ماں کے پیٹ میں ہمیں مختلف قسم کے ہارمونز سے پالا پڑتا ہے، اس وجہ سے ہمارے رویے بھی نر یا مادہ ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں پرفیسر کوہن کے جو نتائج سب سے زیادہ حیرت انگیز ہیں، ان کی بنیاد ان کی وہ طویل مدتی تحقیق ہے جس میں وہ کئی بچوں پر ان کی پیدائش سے پہلے سے تحقیق کر رہے ہیں۔اس تحقیق میں پروفیسر کوہن نے کئی بچوں کی ماو¿ں کے رحم سے کیمیائی مادے کے نمونے حاصل کیے جب یہ خواتین 16 ہفتوں کی حاملہ تھیں۔ پروفیسر کوہن کی ٹیم نے اس کیمیائی مادے کے معائنے میں اس بات کا تعین کیا کہ اس مائع میں ٹیسٹوسٹرون نامی اینزائم کتنی مقدار میں تھا۔مرد وہ کام بہتر کرتے ہیں جن کا تعلق مشینوں وغیرہ سے ہوتا ہے۔پوفیسر کوہن نے مجھے بتایا کہ ’پیدائش سے پہلے رحم میں بچے کے ارد گرد موجود پانی میں ٹیسٹوسٹرون کی مقدار جس قدر زیادہ ہوتی ہے، بچہ معاشرتی لحاظ سے اتنی ہی زیادہ دیر میں سیکھتا ہے۔ مثلاً ایسا بچہ اپنی پہلی سالگرہ تک دوسروں لوگوں سے آنکھیں کم ملاتا ہے۔‘اس کے علاوہ زیادہ ٹیسٹوسٹرون میں پلنے والے بچے نئے الفاظ سیکھنے میں دیر لگاتے ہیں اور پرائمری سکول میں بھی دوسرے بچوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔پرفیسر کوہن کا کہنا تھا کہ زیادہ ٹیسٹوسٹرون میں پلنے کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ بچے میں اپنے ارد گرد کی چیزوں کی سمجھ زیادہ ہوتی ہے۔ ’ٹیسٹوسٹرون کی زیادہ مقدار میں پلنے والے بچے کسی چیز کے ڈایزائن کی خفیہ یا غیر واضح ساخت کو زیادہ جلدی سمجھ لیتے ہیں۔‘نر اور مادہ دماغوں میں فرق کی ایک دلیل ا±س تحقیق سے بھی دی جاتی ہے جو امریکہ کی یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے سائنسدانوں نے کی ہے۔اس تحقیق میں ماہرین نے آٹھ سے 22 سال کے درمیان کے 949 مردوں اور خواتین کے دماغوں کو سکین کیا اور مردانہ اور زنانہ دماغوں میں عجیب و غریب فرق دیکھے۔اس تحقیق سے منسلک ماہر پروفیسر روبن گر کے مطابق مردانہ دماغوں میں ہمیں دماغ کے اگلے اور پچھلے حصوں کے درمیان زیادہ رابط دکھائی دیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ مرد ’جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اس کے بارے میں جو رد عمل ظاہر کرتے ہیں، ان دونوں میں زیادہ رابطہ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نر دماغ جو دیکھتا ہے اس پر فوراً ردعمل ظاہر کر دیتا ہے۔‘دوسری جانب عورتوں کے دماغوں کے دائیں اور بائیں حصوں میں زیادہ تاریں اور زیادہ رابطہ دکھائی دیا۔عورتوں کے دماغوں کے دائیں اور بائیں حصوں میں زیادہ تاریں اور زیادہ رابطہ دکھائی دیااسی سلسلے کی ایک دوسری تحقیق میں ڈاکٹر رگینی ورمن کا کہنا تھا کہ ’یہ حقیقت کہ مادہ دماغ کے مختلف حصے آپس میں رابطہ کر سکتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کر سکتے ہیں اور آپ کا دماغ وہ کام اچھے طریقے سے کر سکتا ہے جن کا تعلق جذبات سے ہوتا ہے۔‘لیکن ایلس اِن تنائج سے اتفاق نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات سچ بھی مان لی جائے کہ مردوں اور خواتین کے دماغوں میں بچھی تاریں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، اس سے یہ بات ثابت نہیںہوتی ہے کہ نر اور مادہ دماغ پیدائشی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔انسانی دماغ دراصل ایک نہایت ہی نرم مادے پر مشتمل ہوتا ہے جسے آسانی سے پچکایا جا سکتا ہے، خاص طور پر لڑکپن میں دماغ کی ساخت کو آسانی سے پچکایا یا موڑا جا سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو لڑکیوں اور لڑکوں میں جو دماغی فرق دکھائی دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آپ لڑکوں اور لڑکیوں سے مختلف توقعات رکھتے ہیں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے دماغوں پر معاشرتی دباو

یوگا کرنے سے رویے میں حیران کُن تبدیلی

برطانیہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سات منٹ کا یوگا کرنے سے رویے میں شفقت،رحمدلی پیدا ہوتی ہے اور نسل پرستی کے احساسات ختم ہو جاتے ہیں۔ ماہرین نے اس یوگے کو ”لونگ کائنڈنس میڈیٹیشن“ کا نام دیا ہے جو بدھ مت کی مشقوں میں سے ایک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل کے ایم یوگا کرنے سے نسل پرستی کے احساسات میںکمی کے واضح دلائل سامنے آئے ہیں جس کے ساتھ ساتھ مثبت احساسات جیسے کہ محبت، شفقت،رحمدلی قناعت،خوشی اور فخر میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے اپنی تحقیق کو مخصوص نسلی گروہوں پر آزمایا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ایل کے ایم یوگا کرنے والے نسلی گروہ میں دوسرے گروہ کی نسبت نسل پرستی کے احساسات کم ہو گئے ہیں ہو گئے ہیں اور قناعت خوشی اور دیگر احساسات پیدا ہو گئے ہیں۔

مچھلی سے حاصل ہونے والے اہم فوائد

ہمارا جسم تمام ضروری غذائیت اپنے طور نہیں بنا سکتا اس کے لیے اسے کھانے پینے کی چیزوں سے غذائیت حاصل کرنی ہوتی ہے۔ مچھلی میں کیلریز کم ہوتی ہیں جب کہ یہ پروٹین اومیگا تھری سے بھرپور ہوتی ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ وہ غذائی اجزا ہے جو جسم میں خودبخود نہیں پیدا نہیں ہوسکتا۔ اس کے انسانی جسم پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خاص طور سے جلد ، بالوں اور دل کی صحت کے لیے اومیگا تھری فیٹی ایسڈ بے حد فائدہ مند ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ہفتے میں ایک سے دو بار مچھلی کے ا ستعمال سے جسم کی اومگا تھری فیٹی ایسڈ کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ایک انسان کو روزانہ اپنی غذا میں دو فیصد اومیگا تھری فیٹی ایسڈ شامل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، جس کا مطلب ایک دن میں فیٹی ایسڈ کے چار گرام ہیں۔ خوردنی مچھلی کے ایک چھوٹے ٹکڑے میں تقریباً ڈیڑھ گرام اومیگا تھری فیٹی ایسڈ ہوتا ہے۔مچھلی امراض قلب سے محفوظ رکھتی ہے اور وزن بھی بڑھنے نہیں دیتی۔ مچھلی کی خصوصیات اورافادیت یہیں ختم نہیں ہوتیں۔ اس کے چند اہم فوائد مندرجہ ذیل ہیں:
دل کے لیے مفید؛مچھلی سے نہ صرف دل توانا اور مضبوط رہتا ہے بلکہ بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ ہائپر ٹینشن : جرنل آف دا ہارٹ ایسوسی ایشن نے 4900 خواتین پر ایک تحقیق کی جس سے یہ معلوم ہوا کہ جن خواتین نے مچھلی بلکل بھی نہیں کھائی یا تھوڑی مقدار میں کھائی انکے امراض قلب کے خطرات مچھلی کھانے والی خواتین سے پچاس فیصد بڑھ گئے۔ایلزائمرز کے خطرات ٹالتی ہے۔انسانی ذہن میں نیورونز( ایک سرمئی رنگ کا مادہ) موجود ہوتے ہیں جسے grey matterکہتے ہیں۔ یہ مادہ انسان کی یاداشت اور معلومات اسٹور کرنے کی صلاحیت کو تقویت دیتا ہے۔ شمالی امریکہ کی ریڈیولوجیکل سوسائٹی کے مطابق جو لوگ ابلی یا گرل ہوئی مچھلی کھاتے ہیں ان کے نیورونز کا سائز دیگر کے مقابلے میں بڑا ہوتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ مچھلی کھانے سے یاداشت اچھی ہوتی ہے۔جلد اور بالوں کے لیے مفید ہے۔اکثر خواتین جو لو فیٹ ڈائٹ پہ ہوتی ہیں ان کے بال اور جلد روکھے اور بے جان ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جلد اور بالوں کو نشونما پانے کے لیے فیٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب جسم کو ضروری فیٹس نہیں مل پاتے وہ کمزور ہونے لگتے ہیں اور صحت مند نظر نہیں آتے۔ڈپریشن دور بھگاتی ہے۔تحقیقات کے مطابق جو لوگ مچھلی کا استعمال باقائدگی سے کرتے ہیں ان کے ذہنی تناو¿ یا کلنیکل ڈپریشن کے خطرات کافی حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ ڈائٹنگ کرنے والے لوگوں کو اکثر اسٹریس رہنے لگتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ضرور اپنی غذامیں مچھلی کا استعمال کرنا چاہیے۔ذہن کی نشونما کرتی ہے۔مچھلی میں موجود آئیوڈین اور اومیگا تھری فیٹس بچوں کی ذہنی نشونما کے لیے ضروری ہے۔ خاص طور سے شروع کے دس سالوں میں ایک بچے کو ان غذائی اجزا کی بے حد ضرورت ہوتی ہے۔ چھوٹے بچوں کو مچھلی ضرور کھانی چاہیے۔ اگر بچے کو مچھلی سے کسی قسم کی الرجی ہو تو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر مچھلی نہ دیں۔ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتی ہے۔سمندر کے پانی کی مچھلی کو وٹامن ڈی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ مانا جاتا ہے۔ یہ بے شمار بیماریوں سے جسم کو محفوظ رکھتی ہے ساتھ ہی غذا سے کیلشیم جذب کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔ اگر جسم میں وٹامن ڈی موجود نہ ہو تو ہڈیاں کھانے سے ملنے والا کیلشیم حاصل نہیں کرپاتیں جس کے باعث وہ کمزور ہونے لگتی ہیں۔ حاملہ خواتین کو بھی مچھلی کا استعمال ضرور کرنا چاہیے۔ اس طرح بچے کی نشونما اچھی ہوگی اور وہ صحت مند پیدا ہوگا۔ ماہواری رک جانے کے بعد خواتین کو مچھلی کا استعمال بڑھا دینا چا ہیے۔ اس سے گٹھیا کے مرض کے خطرات کافی حد تک کم ہو جاتے ہیں۔

شاپنگ کرنے سے بزرگوں کے دماغ تیزہونے لگے انوکھی تحقیق

اسلام آباد: مرد حضرات شاپنگ کے خرچوں سے بچنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کرتے اور اس سے کتراتے ہیں لیکن ماہرین نے تو شاپنگ کا انوکھا ہی فائدہ بیان کر دیا ہے۔امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شاپنگ کرنا محض پیسے کا ضیاع نہیں بلکہ معمر افراد کی یادداشت اور دماغی صحت کو بہتر بنانے میں اس کا خاصا عمل دخل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے شاپنگ کرنا بزرگوں کے دماغ کو تیز کرتا ہے اور وہ بڑھاپے میں بچوں کے نام بھولنے اور انہیں پہچان نہ پانے جیسے مسائل سے محفوظ رہتے ہیں۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ شاپنگ کے دوران بھا تاکرنے کے دوران بزرگوں نے دماغ کے وی ایم پی ایف سی نامی حصے کا استعمال بھی شروع کر دیا جبکہ عام حالات میں بڑی عمر کے لوگ اس کا استعمال چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی یادداشت کمزور ہو جاتی ہے۔

Google Analytics Alternative