صحت

نیند نہ پوری کرنے کے نقصانات. نئی طبی تحقیق

کیا آپ جسمانی وزن میں اضافے سے پریشان ہیں تو ہوسکتا ہے کہ اسکی وجہ خوراک نہیں بلکہ نیند کی کمی ہو۔یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسین اور دی سلیپ ریسرچ سوسائٹی کی مشترکہ تحقیق کے مطابق جو بالغ افراد چھ گھنٹے سے بھی کم سوتے ہیں ان کے موٹے ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق میں بتایاگیا ہے کہ نیندکی کمی آپ کی جسمانی خوبصورتی، مزاج، صحت غرض ہر چیز پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔تاہم محققین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی سے جسم و ذہن پر طاری ہونے والی تھکاوٹ جسمانی وزن میں اضافے اور بیماریوں کے خلاف جسم میں سرگرم مدافعتی نظام کوکمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ان کاکہنا تھا کہ چھ گھنٹے سے کم نیند چہرے پر جھریوں کا باعث بنتی ہے اورآنکھوں کے گرد حلقے بھی بدنمائی میں اضافہ کردیتے ہیں مگر زیادہوقت تک جاگنے کے نتیجے میں جسمانی میٹابولزم کی رفتار سست ہوتی ہے اور کھانا ہضم نہیں ہوپاتا جبکہ آپ مزید کیلیوریز مسلسل جسم کا حصہ بنارہے ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں موٹاپا خودکار طور پر آپ کو شکار کرلیتا ہے۔خیال رہے کہ اس سے پہلے یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ نیند کی کمی سے مردوں میں دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جسکی وجہ بلڈپریشر میں اضافہ ہوتا ہے۔

مچھلی کھانے والے افراد ڈپریشن کے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں.نئی تحقیق

لاہور: ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ مچھلی کھانے والے افراد ڈپریشن کے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔تقریبا ڈیرھ لاکھ افراد پر کی گئی 26 تحقیق کے جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جو افراد اپنی غذا میں مچھلی کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں ڈپریشن کا شکار ہونے کے امکانات دوسرے افراد کے مقابلے میں 17 فیصد کم ہے۔ تحقیق کاروں کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ مچھلی میں موجود چربی کی ایک خاص قسم (فیٹی ایسڈ) کا ہونا ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کو فعال رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ذہنی صحت کے حوالے سے کام کرنے والے ایک فلاحی ادارے ، مائنڈ کے مطابق یہ تحقیق انسان کی غذا اوراس کے مزاج پر کی جانے والی دیگر تحقیق میں مدد دے گی۔وبائی امراض اور سماجی صحت کے جرنل میں چینی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مچھلی کے استعمال اور ڈپریشن پر اس سے پہلے بھی بہت سی تحقیق کی جا چکی ہے، لیکن ان کے نتائج واضح نہیں تھے۔جب انھوں نے مختلف تحقیقات کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ مچھلی کھانے کے مثبت اثرات پر یورپ میں تو بہت تحقیق کی گئی ہے لیکن دنیا کے دوسرے حصوں میں ابھی اس پر کام ہونا باقی ہے۔ اس پہلے سے کی گئی تحقیق سے کوئی ایک نتیجہ اخذ کرنا متنازعہ ہوسکتا تھا، اس لیے انھوں نے سنہ 2001 میں کی گئی ان تمام متعلقہ تحقیقات کے اعدادوشمار کو جمع کر کے کچھ نئے نتائج دریافت کیے ہیں۔ان اعدادوشمار کے حساب سے معلوم ہوا کہ مچھلی کے استعمال اور ذہنی صحت کا ایک اہم تعلق ہے اور اس کے اثرات مرد اور عورت دونوں پر یکساں ہوتے ہیں۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کی یہ نتائج ان اثرات کی وجہ سے حتمیٰ نہیں ہے، لیکن اس سے بہت سی دلچسپ باتیں سامنے آئی ہیں کہ آخر کیوں مچھلی ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے؟ایک ممکنہ توجیہ یہ ہے کہ مچھلی میں موجود اومیگا تھری دماغ میں موجود دو ڈوپامائن اور سیروٹونن جیسے کیمیائی مادوں کی فعالیت میں اہم کردار اد کرتا ہے۔ یہ کیمیائی مادے ڈپریشن کے مرض سے ایک تعلق رکھتے ہیں۔

زیادہ کام فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ تازہ تحقیق

کراچی: ایک تازہ تحقیق کے نتیجے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ زیادہ کام فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس تحقیق کے لیے پانچ لاکھ افراد کا تجزیہ کیا گیا۔ لینسٹ میڈیکل جرنل میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ روایتی اوقات صبح 9 سے شام 5 بجے تک کے علاوہ کام کرتے ہیں ان کو فالج ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ معلومات غیر یقینی ہیں لیکن تحقیق کے مطابق تناؤ والے کام آپ کی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جو لوگ زیادہ دیر تک کام کرتے ہیں انھیں اپنا بلڈ پریشر چیک کرتے رہنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق ہفتے میں 35-40 گھنٹے کام کرنے والوں کے مقابلے میں 48 گھنٹے کام کرنے والوں میں یہ خطرہ 10 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح 54 گھنٹے کام کرنے والوں میں 27 فیصد اور 55 گھنٹوں سے زائد کام کرنے والوں میں اس کا خطرہ 33 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

تعلیم و ترقی کے اس دور میں پاکستان کی پوزیشن ۔

دنیائے اسلام میں پاکستان ایک ایسا ملک بن کر ابھر رہا ہے جس کے ہونہار طالب علم کبھی دنیا کے کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بن رہے ہیں اور کبھی اے اور او لیول کے امتحانات میں سب سے زیادہ اے گریڈ لے رہے ہیں۔ کبھی تندور پر روٹیاں لگانے والا جامعہ پنجاب کے بی اے کے امتحان میں اوّل آتا ہے تو کبھی کھیتی باڑی کرنے والا۔

کیا یہ تمام ریکارڈز بنانے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ نوجوان پیدا کر رہے ہیں؟ یا پھر طالب علم ڈگری یافتہ تو بن رہے ہیں مگر تعلیم یافتہ نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ تعلیمی میدان میں تو ریکارڈ پر ریکارڈ بن رہے ہیں مگر عملی میدان میں یہ ریکارڈ بنانے والے ہونہار طالب علم کوئی بھی اہم معرکہ سر انجام دینے میں ناکام رہتے ہیں۔

کسی بھی امتحان کے نتائج آنے کے بعد ہمارا میڈیا پوزیشن ہولڈرز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ پوزیشن ہولڈر کے علاوہ گھر والوں اور حتیٰ کہ اس کے دوستوں کے انٹرویوز بھی نشر کیے جاتے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹیاں بڑے بڑے بینرز اور اشتہارات کے ذریعے پوزیشن لینے والے طلبہ و طالبات کی تصویریں لگا کر اپنی تشہیر کرتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے بھی نقد انعامات کے علاوہ عمرہ کروانے کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ انعامات بانٹنے کی تقریب میں “معمولی تعلیم یافتہ” وزیر تعلیم پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے تقاریر کرتے ہیں۔

مگر کیا یہ پوزیشن ہولڈرز مختلف امتحانات میں نمایاں پوزیشنز لینے کے باوجود عالمی معیار پر پورا اترتے ہیں؟

اس تصنیف کا مقصد کسی کا مذاق اڑانا نہیں بلکہ پاکستان میں رائج تعلیمی نظام کی افادیت اور اس کے فرسودہ پن کو آشکار کرنا ہے جس سے پڑھ کر میں بھی یہ تصنیف لکھنے کے قابل ہوا ہوں۔

اگر کاغذوں میں دیکھا جائے یا پھر حکومتی عہدیداروں کی تقریریں سنی جائیں تو ہمیں پتہ لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں شرحِ خواندگی بڑھ رہی ہے اور ممکن ہے کہ یہ حقیقت بھی ہو۔ مگر موجودہ دور میں آج بھی ہم نے اخبار پڑھ لینے والے یا خط لکھ لینے والے کو خواندہ ہی مانا ہے۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بی اے کرنے والوں کو کیا صحیح معنوں میں گریجویٹ کہا جا سکتا ہے؟

حیران کن طور پر پچھلے کچھ سالوں سے جامعہ پنجاب کے بی اے کے امتحانات میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والے کا تعلق نچلے متوسط طبقے سے ہوتا ہے۔ جس سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پڑھائی کے لیے دولت کا ہونا لازمی نہیں اور کوئی بھی مزدور یا فیکٹری میں کام کرنے والے کا بیٹا یا بیٹی محنت کے ذریعے نمایاں پوزیشن حاصل کرسکتا ہے۔

مگر کیا وجہ ہے کہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں ہزاروں روپے دے کر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ان امتحانات میں پوزیشنز حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں؟

میرے نزدیک اس کی وجہ ہمارا فرسودہ تعلیمی نظام ہے جس میں رٹّا لگا کر پڑھنے والا تو پوزیشن حاصل کرسکتا ہے مگر کسی بھی تعلیمی ادارے میں دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے والا نمایاں پوزیشن حاصل نہیں کرسکتا۔

تعلیم صرف یہ نہیں کہ امتحانات میں پوزیشن حاصل کر کے ڈگری لے لی جائے بلکہ تعلیم میں وہ ماحول بھی نمایاں رول ادا کرتا ہے جو کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں پایا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ہونے والی غیر نصابی سرگرمیاں نتائج پر تو نہیں مگر اسٹوڈنٹس کی شخصیت پر ضرور گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

اس کے علاوہ بی اے کے امتحانات میں پوزیشن لینے والے طالب علموں کے مضامین بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ جیسے کہ کچھ مضامین ایسے ہیں جن میں زیادہ نمبرز لینا قدرے آسان ہوتا ہے۔ جیسے کہ پنجابی، کشمیریات، عربی، اور فارسی۔

لیکن تعلیمی اداروں میں ان مضامین کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہوتی اور اس کی وجہ یہ کہ ریگولر اسٹوڈنٹس معاشیات، شماریات اور سِوکس جیسے مضامین میں دلچسپی لیتے ہیں۔ جن کو استعمال کرتے ہوئے وہ عملی زندگی میں نوکریاں حاصل کرتے ہیں۔

2012 کے جامعہ پنجاب کے بے اے کے امتحانات میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والے محسن علی کا کہنا تھا کہ اس نے 6 ماہ میں بی اے کی تیاری کر کے اوّل پوزیشن حاصل کی ہے۔

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو اسٹوڈنٹ دو سال کسی ادارے میں پڑھتا ہے وہ بقیہ ڈیڑھ سال ضائع کرتا ہے کیونکہ اگر 6 ماہ میں پڑھ کر ہی اوّل پوزیشن حاصل کی جاسکتی ہے تو دو سال کالج یا یونیورسٹی جا کر ہزاروں روپے برباد کرنے کا کیا فائدہ؟

حالیہ آنے والی تعلیمی اداروں کی درجہ بندی میں جامعہ پنجاب کو پاکستان کی تیسری بہترین یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے اور حالیہ کچھ سالوں میں بی اے کے نتائج کو دیکھ کر جامعہ پنجاب کی افادیت کا اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔

اول پوزیشن حاصل کرنے والے یہی طلبہ جب کسی مشکل مضمون میں ماسٹرز کرتے ہیں تو بمشکل 3 سی جی پی اے لے پاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جو پوزیشن لینا ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہے، اب اس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا، کیونکہ عالمی معیار کی یونیورسٹیوں، یا پاکستان ہی کی بہتر یونیورسٹیوں میں پوزیشن دیکھ کر داخلہ نہیں دیا جاتا، بلکہ وہاں پر جدید تحقیق کی مدد سے داخلہ ٹیسٹ تیار کیے جاتے ہیں جن کو پاس کرنے کی قابلیت کم از کم ہماری یونیورسٹیوں سے تو نہیں مل سکتی۔ اور جاب سیکٹر میں تو ویسے بھی کوئی پوزیشن کو نہیں پوچھتا، وہاں صرف قابلیت دیکھی جاتی ہے۔

لہٰذا جہاں پوزیشن لینے والوں کی مدح سرائی اور نہ لے سکنے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، تو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ پوزیشن یا اے گریڈ کو ہی قابلیت کی واحد علامت کے طور پر نہ گردانا جائے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ جہاں مستحق اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اعلیٰ انعامات سے نوازے، وہیں ان کے ساتھ ساتھ ان دوسرے طلبہ کے لیے بھی مواقع اور وظائف مہیا کرے جو ہوتے تو ہونہار ہیں، لیکن پوزیشن لینے میں ناکام رہتے ہیں۔

بلوچستان : طالبات کی شرح تعلیم میں اضافہ جبکہ 80 فیصد بچے میٹرک پہلے اسکول چھوڑ دیتے ہیں

کوئٹہ: صوبہ بلوچستان میں 80 فیصد بچے میٹرک، یعنی دسویں جماعت تک پہنچنے سے پہلے ہی اسکول چھوڑ دیتے ہیں،صوبے کی طالبات تعلیمی کارکردگی سمیت بہت سے شعبوں میں طلبا سے بازی لے جاتی ہیں۔یہ انکشاف تعلیم کیلئے سرگرم غیر سرکاری تنظیم کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، صوبہ بلوچستان میں سیکنڈری سطح کے اسکول کی عمر کے صرف 20 فیصد بچے میٹرک کا امتحان دیتے ہیں، جبکہ صوبے کے 80 فیصد بچے یا تو اسکول میں داخل ہی نہیں ہوتے یا میٹرک سے پہلے ہی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، صوبے میں مجموعی طور پر ہر سال 90 فیصد طلبا و طالبات بورڈ کے امتحانات پاس کر جاتے ہیں۔ لیکن ان میں سے نصف سے زائد صرف سی گریڈ میں پاس ہوتے ہیں۔یہ رپورٹ بلوچستان کی تعلیمی صورتحال کی عکاس ہے، جسے ایک غیر سرکاری سطح پر کام کرنے والی تنظیم، الف اعلان نے جاری کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے’’پاس یا فیل؟ بلوچستان میں میٹرک کے امتحانی نتائج اور مستقبل میں اس کی اہمیت‘‘۔الف اعلان تنظیم کے ترجمان، سمیع خان کا کہنا ہے کہ امتحانی نتائج کسی بچے کی کارکردگی سے بھی زیادہ تعلیمی نظام کی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ معیار تعلیم کی جانچ اور تعلیمی نظام میں بہتری کیلئے امتحانی نتائج سے استفادہ بہت ضروری ہے۔دوسری جانب، انھوں نے سرکاری اسکولوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے پلس یا اے گریڈ میں پاس ہونے والے سب سے زیادہ بچے 62.5 فیصد سرکاری اسکولوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اسکول نہ صرف مجموعی طور پر سب سے آگے ہیں، بلکہ الگ الگ مضامین کے حساب سے بھی سب سے بہتر نتائج رکھتے ہیں۔ اردو، انگریزی، ریاضی اور کمپیو ٹر کے مضامین میں ان اسکولوں کی کارکردگی واضح طور پر بہتر ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجموعی کارکردگی اور مضامین کے حساب سے بھی سرکاری اور نجی اسکولوں کے درمیان بہت زیادہ فرق نہیں۔ سرکاری اور نجی اسکولوں کے خراب نتائج مجموعی طور پر ناقص معیار تعلیم کی نشاندہی کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق میٹرک کا امتحان دینے والے 71 فیصد بچے سرکاری اسکولوں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ 26 فیصد نجی اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ اور بقیہ 3 فیصد بچوں کا تعلق ‘دیگر سرکاری اسکولوں’ یعنی فوج اور وزارت محنت کے زیر انتظام اسکولوں سے بتایا گیا ہے۔صوبہ بلوچستان میں لڑکیوں کی شرح تعلیم کے حوالے سے رپورٹ کہتی ہے کہ صوبے کی طالبات تعلیمی کارکردگی سمیت بہت سے شعبوں میں طلبا سے بازی لے جاتی ہیں۔ سال 2001 اور سال 2015 کا تقابلی جائزہ کے مطابق، میٹرک کا امتحان دینے والی طالبات کی شرح میں193 فیصد اضافہ ہوا اسکے برعکس طلبا کے جن کی تعداد میں صرف 54 فیصد ہی اضافہ سامنے آیا۔رپورٹ میں طالبات کی شرح تعلیم میں اضافے کا سبب انھیں دستیاب ہائی اسکولوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ براہ راست تعلق بتایا گیا ہے

شہد ایک بہترین صحت افزا اور شفا دینے والا جز.تحقیق

ہر معاشرے اور مذہب میں شہد کو ایک بہترین صحت افزا اور شفا دینے والا جز تصور کیا جاتا ہے اور اس پر کی جانے والی مختلف تحقیق نے اس میں چھپے صحت کے خزانوں کو دنیا کے سامنے لا کر اس کی افادیت کواور بھی بڑھا دیا ہے۔ چہرے کی لچک کو برقرار رکھنے کےلیے: شہد میں موجود ہیومیکٹیک مرکب چہرے پر موئسچر کو برقرار رکھتا ہے اور جلد میں لچک پیدا کردیتا ہے جب کہ شہد جلد کے مردہ خلیوں کو صاف کرتا اور جھریوں کو دور کرتا ہے۔ بیکٹریا کی افزائش کو روکتا ہے: شہد کے اندر موجود اینٹی بیکٹریا اور اینٹی مائیکروبائیل خصوصیات جسم میں پلنے والے خطرناک بیکٹریا کی افزائش کو روکتا ہے جب کہ اسے زخموں،کٹ، جلنے اور رگڑ کا علاج بھی کیا جاتا ہے جب کہ اسے بدبو دور کرنے اور درد کو روکنے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جلد کی دوبارہ افزائش کے لیے: شہد جلد کے تباہ شدہ خلیوں کو ختم کر کے نئے خلیے تشکیل دیتا ہے اسی لیے شہد کو ایگزیما، سوزش اور دیگر جلدی بیماریوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ الٹراوئیلٹ شعاعوں سے بچاتا ہے: شہد میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ جلد کو الٹراوئیلٹ شعاعوں کے مضر اثرات سے بچاتا ہے۔ سن اسکرین کا کام: سورج کی روشنی میں مسلسل رہنے سے جلد پر جلد بڑھاپے کے آثار شروع ہوجاتے ہیں ایسے میں شہد سن اسکرین کا کام دیتا ہے اور چہرے کو دھوپ کے اثرات سے بچاتا ہے جب کہ شہد جلد کی اوپری سطح میں سرائیت کرکے بند مسام کھولتا اور فاسد مادوں کو خارج کردیتا ہے اس لیے یہ انفیکشن اور کیل مہاسوں کو بھی دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ہونٹوں کی خوبصورتی کے لیے: خشک اور بھربھرے ہونٹوں کو شہد لگانے سے ان میں نئی زندگی آجاتی ہے اورنرم اور دلکش نظرآتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہد میں چند قطرے گلیسرین ملا کر ہونٹوں پرلگانے سے ان کا رنگ گلابی ہوجاتا ہے۔ شہد معدنیات کا خزانہ: شہد پر کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں شوگرکی طرح کا جز گلوکوز، فرکٹوز اور دیگر معدنیات جیسے میگنیشیم، پوٹاشیم، کیلشیم، سوڈیم کلورین، سلفر، آئرن اور فاسفورس پائی جاتی ہیں اس کے علاوہ شہد اپنے اندر وٹامنز بی ون، بی ٹو، بی سکس، بی فائیو اور بی تھری کے علاوہ کاپر، آئیوڈین اور زنک بھی تھوڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ پٹھوں کو طاقت دیتا ہے: شہد میں موجود گلوکوز اور فرکٹوز کی شکل میں موجود کاربوہائیڈریٹ جسم کو توانائی بخشتا ہے جب کہ پٹھوں کو کھچاؤ سے بچاکر انہیں طاقت دیتا ہے۔ خون میں ہیموگلوبن کو بڑھاتا ہے: شہد کا روزانہ استعمال جسم میں کیلشیم اور ہیموگلوبن کی مقدار کو بڑھاتا ہے اور خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔ کولیسٹرول کو کنٹرول کرتا ہے: شہد کا استعمال کولیسٹرول کو کم کرتا اور ایچ ڈی ایل یعنی گڈ کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے۔ شہد کے اندر موجود ایکس پیکٹورنٹ اور سوتھنگ کی خوبیاں نظام تنفس میں ہونے والے انفیکشن کو ختم کرتا ہے۔ قوت مدافعت بڑھاتا ہے: شہد جسم میں قوت مدافعت کو بڑھا کر انفیکشن کو دوبارہ ہونے سے روکتا ہے۔ موٹاپے کو کم کرتا ہے: شہد موٹاپے کو بھی کم کرنے کا بہترین علاج ہے۔ نیم گرم پانی میں شہد پینے سے نظام ہاضمہ تیزی سے کام کرتا ہے اور جسم میں موجود اضافی چربی کو پگھلا کر موٹاپے کو تیزی سے کم کرتا ہے۔

موٹاپے کا ورزش کے علاوہ بھی حل موجود ہے۔

اگر آپ صبح کی سیر کے لئے اٹھ نہیں پاتے ہیں تو فکر کی بات نہیں. محققین نے آپ کی اس پریشانی کا حل ڈھونڈ لیا ہے. ایک تحقیق میں یہ پایا گیا ہے کہ روزانہ وٹامن سی کے استعمال سے موٹے لوگوں کو وہی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے جو آپ کو روزانہ صبح کی سیر اور ورزش سے حاصل ہوتا ہے. زیادہ وزن اور موٹاپے سے دوچار بالغوں کے خون کی Vesselsمیں Micro vessels پروٹین اکٹھا کر دیتی ہیں جسے Endothelin ET-1 کہا جاتا ہے. ET-1 کے زیادہ فعال ہونے سے Vessels میں خون کے بہاؤ کم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے پلس متعلق مرض ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے. روزانہ ورزش کی وجہ سے ET-1 کی سرگرمی کم ہوتی ہے لیکن معمول میں ورزش کو شامل کرنا مشکل ہو سکتا ہے. امریکہ کی University of Colorado میں کئے گئے تحقیق میں وٹامن سی کی خوراک کی جانچ کی گئی. جس سے پتہ چلا کہ یہ Vessels کے عمل کو بہتر کرتا ہے اور ET-1 کی سطح کو کم کرتا ہے. محققین نے پایا کہ وٹامن سی کی خوراک سے اسی طرح ET-1 کی سطح میں کمی آتی ہے جتنی روزانہ ورزش سے ہوتی ہے.

دنیا کی بد تر ین دھاند لی,ملک کی ہونہار ترین طالبہ کےہر پرچے میں صفر نمبر

قاہرہ: دنیا کی بد تر ین دھاند لی اس وقت ہوئی جب مصر میں دھاندلی کی انتہاء کرتے ہوئے ملک کی ہونہار ترین طالبہ کو ہر پرچے میں صفر نمبر دے دیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق مصر کی ایک ہونہار ترین طالبہ مریم ملک کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سب کو حیران کردیا۔ مریم اپنے اسکول میں ایک بہترین اور ہونہار ترین طالبہ کے طور پر مشہور ہیں جو ہر امتحان میں بہترین نتائج دیتی ہیں۔ تاہم اپنے اسکول کے سالانہ امتحانات کے نتائج دیکھنے کے بعد مریم صدمے سے بے ہوش ہوگئیں۔مریم نہ صرف اپنے امتحانات میں فیل ہوگئی تھیں بلکہ ہر پرچے میں ان کا صفر نمبر تھا۔ اس واقعے کے بعد مریم کے والدین کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور ان کی بیٹی کے خلاف زیادتی کیے جانے کا الزام عائد کیا گیا۔ مریم کے ساتح پیش آنے والے واقعےنے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی اور اس حوالے سے مصر کے ہزاروں افراد کی جانب سے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا گیا۔ اس کے بعد مریم کے والدین کی ملک کے وزیراعظم سے ملاقات ہوئی جہاں وزیراعظم نے اس معاملے کی تحقیقات کا وعدہ کیا۔ مریم کے والدین نے اعلان کیا ہے جب تک اس معاملے کی غیر جانبدرانہ تحقیقات نہیں ہوں گی ان کی بیٹی کو انصاف نہیں ملے گا تب تک وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

Google Analytics Alternative