صحت

رات دیر تک ٹوئٹ کرنے والے افراد ہوشیار

یہ تحقیق باسکٹ بال کے کھلاڑیوں کو لے کر کی گئی جنہیں کھیل سے پہلے اسکور کے بارے میں ٹوئٹ کرتے پایا گیا اور پھر اگلے روز میچ میں ان کی کارکردگی  1.7 فیصد کم دیکھی گئی۔

تحقیق کے لیے ماہرین نے 2009 سے 2016 تک کے باسکٹ بال سیزنز کے 30 ہزار ٹوئٹ کو ایک جگہ جمع کیا۔ تحقیق کے نتیجے میں دیکھا گیا کہ جن کھلاڑیوں نے رات 11 بجے سے صبح 7 بجے کے درمیان ٹوئٹ کیے انہوں نے اگلے دن کھیل میں بہت کم کارکردگی دکھائی۔

تحقیق میں شامل امریکی ماہرین نے بتایا کہ جو کھلاڑی دیر رات تک ٹوئٹ کرتے ہیں تو وہ جان لیں کہ کم نیند کے باعث ان کے کھیلنے کی صلاحیتوں پر گہرا اثر ہوتا ہے۔

جب کہ اس تجربے نے ہی ثابت کیا کہ نیند کی کمی کا واضح اثر کھیل اور کارکردگی پر پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری تحقیق صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ اس سے یہ بھی پتا چلا کہ اگر آپ کو کسی بھی شعبے میں اچھی کارکردگی دکھانی ہے تو رات کی نیند بہت ضروری ہے۔

دوسری جانب ماہرین نے تحقیق میں ایک اور دلچسپ چیز کو شامل کیا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رات دیر تک ٹوئٹ کرنے کی عادت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کی رات دیر تک ٹوئٹ کرنے کی عادت ان کی کارکردگی متاثر کرسکتی ہے اور انہیں اگلے دن حکومتی امور چلانے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے۔

چاول کا چھلکا بھی غذائیت سے بھرپور

کولاراڈو: چاول کا شمار دنیا میں کھائی جانے والی اہم ترین اجناس میں ہوتا ہے لیکن اس کا اہم انقلابی حصہ ہم بے کار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں اور وہ ہے چاول کا چھلکا جو قدرتی طورپر بے پناہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔

چاول کے چھلکے میں پروٹین، لحمیات (پروٹین)، معدنیات اور خردغذائی اجزاء (مائیکرونیوٹریئنٹس) اور وٹامن بی کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ چھلکا جانوروں کو کھلا دیا جاتا ہے یا پھر جلانے اور تعمیراتی کام میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے لیکن اب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کو اسے ضرور استعمال کرنا چاہیے۔

کولوراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی کی پروفیسر ایلزبتھ ریان کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اگر صرف دن میں ایک مرتبہ چاول کا 28 گرام چھلکا کھا لیا جائے تو یہ کسی بالغ شخص کی روزانہ کی نصف توانائی پوری کرسکتا ہے جن میں نیاسِن، تھایامین اور وٹامن بی 6 قابلِ ذکر ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ چاول کے چھلکے کو جانوروں کو کھلا دیا جاتا ہے۔

ماہرین نے چاول کے چھلکے میں چھپے اہم اجزاء کا پتا لگانے کے لیے امریکا میں استعمال ہونے والی چاولوں کی تین اہم اقسام پر غور کیا، اور اس کے لئے ایک مشہور طریقے ماس اسپیکٹروسکوپی کی مدد سے معلوم کیا گیا کہ اس میں کتنے غذائی اجزاء کے سالمات (مالیکیولز) موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس میں 453 اہم اجزاء موجود ہیں جن میں سے 65 تو طبی اور صحت کے لیے بہترین خواص رکھتے ہیں اور 16 اس سے قبل چاول کے چھلکے میں دیکھے ہی نہیں گئے تھے۔

پروفیسر ایلزبتھ کہتی ہیں کہ چاول کے چھلکے میں طبی اور غذائی اجزا کی بھرمار ہے۔ مثلاً اس میں موجود اجزا بلڈ پریشر، سوزش اور جلن کے علاوہ جراثیم کو ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ چاول کا چھلکے میں 12 سے 15 فیصد پروٹین بھی ہوتا ہے۔

اومیگا تھری پروٹین الزائیمر بیماری سے بچانے میں مفید

ٹیکساس: اچھی جسمانی صحت کے معاملے میں اومیگا تھری پروٹین کی اہمیت آج تسلیم شدہ حقیقت کا درجہ رکھتی ہے جبکہ دماغ کو تقویت پہنچانے اور مضبوط  بنانے میں بھی اس پروٹین کے نت نئے فائدے مسلسل سامنے آرہے ہیں۔

کیلیفورنیا میں مختلف اداروں کی مشترکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اومیگا تھری پروٹین (جسے اومیگا تھری فیٹی ایسڈ بھی کہا جاتا ہے) انسانی دماغ میں خون کا بہاؤ بہتر کرتے ہوئے نہ صرف ہماری یادداشت بہتر بناتا ہے بلکہ بڑی عمر کے لوگوں میں الزائیمر سمیت کئی دماغی بیماریوں کی روک تھام بھی کرتا ہے۔

اس مقصد کے لیے 166 رضاکاروں سے متعلق طبّی معلومات جمع کی گئیں جب کہ ان کے غذائی معمولات کا جائزہ لینے کے علاوہ حساس آلات کی مدد سے ان کے دماغوں میں خون کے بہاؤ اور متعلقہ دماغی سرگرمیوں کو بھی تفصیلاً کھنگالا گیا۔ مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ جو افراد اومیگا تھری فیٹی ایسڈ والی غذائیں بطور معمول استعمال کرتے ہیں وہ یادداشت کے معاملے میں بھی دوسروں سے بہتر رہتے ہیں جب کہ بزرگی میں پہنچ جانے کے بعد بھی انہیں دوسرے لوگوں کی نسبت کم تر دماغی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں بطورِ خاص الزائیمر کی بیماری نمایاں ہے۔

الزائیمر کے علاوہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کو مالیخولیا، ڈپریشن اور ڈیمنشیا کی روک تھام کے لئے بھی انتہائی مفید پایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مچھلی، مرغی اور انڈوں کے علاوہ السی کے بیجوں، خشک میوہ جات، بادام، پودینہ اور پالک میں بھی اومیگا تھری فیٹی ایسڈ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جب کہ ان چیزوں کو اپنے غذائی معمولات کا حصہ بنا کر اچھی جسمانی و ذہنی صحت کا حصول یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

چاول کا چھلکا بھی غذائیت سے بھرپور

کولاراڈو: چاول کا شمار دنیا میں کھائی جانے والی اہم ترین اجناس میں ہوتا ہے لیکن اس کا اہم انقلابی حصہ ہم بے کار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں اور وہ ہے چاول کا چھلکا جو قدرتی طورپر بے پناہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔

چاول کے چھلکے میں پروٹین، لحمیات (پروٹین)، معدنیات اور خردغذائی اجزاء (مائیکرونیوٹریئنٹس) اور وٹامن بی کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ چھلکا جانوروں کو کھلا دیا جاتا ہے یا پھر جلانے اور تعمیراتی کام میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے لیکن اب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کو اسے ضرور استعمال کرنا چاہیے۔

کولوراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی کی پروفیسر ایلزبتھ ریان کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اگر صرف دن میں ایک مرتبہ چاول کا 28 گرام چھلکا کھا لیا جائے تو یہ کسی بالغ شخص کی روزانہ کی نصف توانائی پوری کرسکتا ہے جن میں نیاسِن، تھایامین اور وٹامن بی 6 قابلِ ذکر ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ چاول کے چھلکے کو جانوروں کو کھلا دیا جاتا ہے۔

ماہرین نے چاول کے چھلکے میں چھپے اہم اجزاء کا پتا لگانے کے لیے امریکا میں استعمال ہونے والی چاولوں کی تین اہم اقسام پر غور کیا، اور اس کے لئے ایک مشہور طریقے ماس اسپیکٹروسکوپی کی مدد سے معلوم کیا گیا کہ اس میں کتنے غذائی اجزاء کے سالمات (مالیکیولز) موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس میں 453 اہم اجزاء موجود ہیں جن میں سے 65 تو طبی اور صحت کے لیے بہترین خواص رکھتے ہیں اور 16 اس سے قبل چاول کے چھلکے میں دیکھے ہی نہیں گئے تھے۔

پروفیسر ایلزبتھ کہتی ہیں کہ چاول کے چھلکے میں طبی اور غذائی اجزا کی بھرمار ہے۔ مثلاً اس میں موجود اجزا بلڈ پریشر، سوزش اور جلن کے علاوہ جراثیم کو ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ چاول کا چھلکے میں 12 سے 15 فیصد پروٹین بھی ہوتا ہے۔

صرف ایک گھریلو مشروب سے 4 دن میں 4 کلو وزن کم کیجیے

کراچی: اگر آپ بھی زیادہ وزن اور موٹاپے میں مبتلا ہیں تو گھر میں یہ سادہ مشروب تیار کرکے صرف چار دن استعمال کریں اور آپ کا وزن 4 کلوگرام اور کمر 16 سینٹی میٹر تک کم ہوجائیں گے۔

دلچسپی کی بات ہے کہ یہ مشروب صدیوں سے موٹاپا اور وزن گھٹانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور کئی نسلوں کے لاکھوں لوگوں کا آزمودہ بھی ہے۔ البتہ مطلوبہ نتائج کے لیے آپ کو اس مشروب کے ساتھ ساتھ روزانہ ہلکی پھلکی ورزش اور متوازن غذا کو بھی اپنے معمول کا حصہ بنانا ہوگا۔

پہلے اس مشروب کے اجزاء ملاحظہ کریں:

  • 8 گلاس (دو لٹر) پانی
  • درمیانی جسامت کا 1 عدد کھیرا (چھلکا اتار کر ٹکڑے کیا ہوا)
  • درمیانی جسامت کا 1 عدد لیموں (چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا ہوا)
  • پسی ہوئی ادرک، 1 چائے کا چمچہ
  • تازہ پودینے کی 12 پتیاں
  • خشک پودینے کا سفوف، 1 چائے کا چمچہ

مشروب بنانے کے لیے ان تمام اجزاء کو بلینڈر میں ڈال کر اچھی طرح سے چلا لیں تاکہ پانی میں شامل ان تمام چیزوں کا یک جان آمیزہ بن جائے۔ اسے محفوظ کرنے کے لیے ریفریجریٹر میں رکھ دیں اور روزانہ 4 سے 5 گلاس پیئیں۔ البتہ پینے سے پہلے اس مشروب کی بوتل اچھی طرح سے ہلا لیں۔

عجیب ذائقے کی وجہ سے شروع میں یہ مشروب پینا کچھ مشکل محسوس ہوگا لیکن گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ابتداء میں صبح ناشتے سے کچھ دیر پہلے اس کا ایک گلاس پیجئے اور ناشتے کے دو گھنٹے بعد دوسرا گلاس نوش کریں۔ اس کے بعد دن میں جس وقت بھی سہولت ہو، ایک سے دو گھنٹے کا وقفہ رکھتے ہوئے مزید 2 یا 3 گلاس پی لیں۔

آپ کو دوسرے دن ہی سے اپنے وزن اور کمر میں کمی محسوس ہونے لگے گی۔

اس معمول پر روزانہ ورزش اور زود ہضم کھانوں کے ساتھ 4 دن تک سختی سے عمل کرتے رہیں لیکن چار دن پورے ہونے کے بعد یہ مشروب پینا روک دیں۔ یہ بات اس لیے بھی بطورِ خاص بتائی جارہی ہے کیونکہ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مشروب کا سب سے زیادہ فائدہ ان لوگوں میں دیکھا گیا ہے جنہوں نے اس مشروب کے ساتھ متوازن غذاؤں کا استعمال جاری رکھا اور دن میں کچھ نہ کچھ ورزش (ایک گھنٹے تک تیز قدموں سے چہل قدمی اور جاگنگ وغیرہ) بھی کرتے رہے۔

ایک مرتبہ چار روزہ استعمال پورا کرنے کے بعد ایک ہفتے کا وقفہ دے کر یہ مشروب ایک بار پھر اسی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن محتاط رہیں کہ اسے مسلسل، بغیر وقفے کے، چار دنوں سے زیادہ تک پیتے رہنے کے منفی نتائج نکل سکتے ہیں اور آپ بیمار بھی پڑ سکتے ہیں۔

30 منٹ کی ورزش کینسر کے مریضوں کے لیے مفید: تحقیق

ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ کم از کم 30 منٹ پیدل چلنے سے کینسر کے باعث ہونے والی اموات کو 50 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی اور برسبین کی کوئنز لینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے کینسر کے باعث ہونے والی اموات پر  حال ہی میں تحقیق کی جس کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ 30 منٹ پیدل چلنے سے آنتوں اور چھاتی کے سرطان سے موت کے خطرے کو 50 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے اپنی تحقیق میں 992 ایسے مردوں کو شامل کیا گیا جو آنتوں کے کینسر ( اسٹیج تھری) میں مبتلا تھے۔ وہ مریض جنہوں نے روزانہ باقاعدگی سے 30 منٹ پیدل چلنا شروع کیا اور غذائیت سے بھرپور خوراک استعمال کی ان میں 42 فیصد تک موت کا خطرہ کم ہوگیا جب کہ ان کے مقابلے میں معمول کی زندگی گزارنے والے مریض جلد انتقال کرگئے۔

آنتوں کے کینسر پر کی جانے والی تحقیق کو شکاگو میں ہونے والی امریکن سوسائٹی آف کلینکل آنکالوجی کانفرنس میں بھی پیش کیا گیا تھا۔

دوسری تحقیق آسٹریلوی ریسرچر نے 194 ایسی خواتین پر کی جنہوں نے حال ہی میں چھاتی کے سرطان کی سرجری کرائی تھی۔ محققین نے خواتین کو دو گروپوں میں تقسیم کیا اور 8 سال تک ان کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا۔

ماہرین کے مطابق ایسی خواتین جنہوں نے باقاعدگی سے 30 منٹ یا اس سے زائد وقت تک پیدل چلنے کو معمول بنایا ان میں موت کی شرح 55 فیصد تک کم رہی جب کہ وہ خواتین جنہوں نے چھاتی کے سرطان کی سرجری کے بعد معمول کے مطابق زندگی گزاری وہ جلد انتقال کر گئیں۔

ریسرچ کے لئے شامل کئے گئے وہ مریض جنہوں نے ورزش اور پیدل چلنے کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا ان کا کہنا تھا کہ پیدل چلنا اور زیادہ سے زیادہ سائیکل چلانا ان کی معمول کی سرگرمی تھی جس نے کینسر کے باوجود ان کی عمر کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ایرن نے کینسر کے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہفتے میں کم سے کم 150 منٹ ضرور پیدل چلیں اور ڈاکٹروں کو بھی چاہیے کہ وہ مریضوں کو ورزش کی تاکید کریں۔

بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں میں نرسز کا بائیکاٹ

ترجمان نرسزایکشن کمیٹی بلوچستان کےمطابق نرسز نے اپنے مطالبات کے حق میں سرکاری اسپتالوں میں ڈیوٹی کا بائیکاٹ کیا ہے، نرسز آج سے صرف ایمرجنسی ڈیوٹی انجام دیں گی۔

ایمرجنسی ڈیوٹی میں شعبہ حادثات، گائنی اور لیبر روم میں خدمات شامل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو دو روز بعد ایمرجنسی ڈیوٹی کا بھی بائیکاٹ ہوگا۔

مطالبات میں ہیلتھ پروفیشنل اور رسک الاؤنس، سروس اسٹرکچر سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔

 

ذہن کی صلاحیت بڑھانے کے چند قدرتی طریقے

روزہ مرہ کی زندگی میں انسان کی خوراک اور ارد گرد کا ماحول ذہنی صلاحیت پر براہ راست اثر کرتا ہے اس لئے ماہرین ذہنی صلاحیت بڑھانے کے لئے غذائیت سے بھرپور خوراک کھانے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جڑی بوٹیوں کا کھانے میں استعمال اور انہیں سونگھنے سے بھی ذہن کے کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

یہاں آپ کو چند ایسے قدرتی طریقے بتائے گئے ہیں جن کے استعمال سے آپ نہ صرف اپنے ذہن کی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ اپنی یادداہشت کو بھی بہتر بناسکتے ہیں۔

اکلیل کوہستانی ( سدا بہار) :

سدا بہار کے پتوں کو سونگھنے سے پروسپیکٹیو میموری بہتر ہوتی ہے جو کوئی بھی بات یاد رکھنے کا کام کرتی ہے۔ سدا بہار کے پتوں کو سونگھ کر طالبعلم امتحانات کے دوران اپنی یادداہشت کو بہتر بناسکتے ہیں اور خاص طور پر 60 سال سے زائد عمر کے افراد کے لئے سدا بہار کے پتوں کی خوشبو انتہائی مفید ہے۔

پودینے کی چائے:

نارتھ ایمبریا یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی حالیہ تحقیق کے مطابق پودینے کی چائے کا استعمال طویل المدت یادداہشت اور کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔

سویا بین کا استعمال:

ماہرین کے مطابق سویا بین میں موجود وٹامن دماغ کی کثیرالمدتی اور قلیل المدتی صلاحیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

اخروٹ:

روزانہ ایک سے دو اخروٹ کھانے سے دماغ کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ دماغ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت (کوگنیٹیو اسپیڈ) کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

ہری سبزیوں کو استعمال:

ماہرین کے مطابق سبز سبزیاں وٹامن سے بھرپور ہوتی ہیں جو دماغ کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

Google Analytics Alternative