صحت

گندا اور بکھرا ہوا کچن موٹاپے کا ذمہ دار

کہا جاتا ہے کہ کسی خاتون کا سلیقہ دیکھنا ہو تو اس کا کچن اور باتھ روم دیکھنا چاہیئے۔ صاف ستھرے باتھ روم اور کچن خاتون خانہ کی سلیقہ مندی کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ خاص طور پر گندے، بے ترتیب اور بکھرے ہوئے کچن گھر والوں کا ایک منفی تاثر قائم کرتے ہیں۔ یہی نہیں، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گندے اور پھیلے ہوئے کچن وزن میں اضافہ کرنے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ افراد جو اپنا وزن کم کرنے کی کوششوں میں ہوں، اگر وہ بے ترتیب کچن سے کھاتے پیتے ہوں تو اس بات کا امکان کم ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہوسکیں۔ اس کے برعکس صاف ستھرے اور سمٹے ہوئے کچن میں وقت گزارنا اور وہاں سے کھانا پینا کھانے کی مقدار کو محدود کرتا ہے نتیجتاً کھانے والے افراد موٹاپے کا شکار نہیں ہوتے۔

اس تحقیق کے لیے ماہرین نے 100 افراد کے دو گروپس بنائے۔ ایک گروپ کے کھانے کے لیے ایک ایسا کچن مختص کیا گیا جو نہایت ابتر حالت میں تھا جبکہ دوسرے گروپ کے لیے مختص کچن صاف ستھرا اور بہترین حالت میں تھا۔

ماہرین نے دیکھا کہ پہلے گروپ کی کھانے کی مقدار میں یکدم اضافہ ہوگیا۔ انہوں نے کچن میں پھیلے ہوئے مختلف کوکیز اور اشیا کو چلتے پھرتے کھانا شروع کردیا۔ اس کے برعکس صاف ستھرے کچن والے افراد نے مناسب مقدار میں کھانا کھایا اور کھانے کے بعد اضافی چیزیں کھانے سے بھی پرہیز کیا۔

ماہرین کے مطابق اس کا تعلق دماغی تناؤ سے ہے۔ جب ہم ذہنی دباؤ یا تناؤ کا شکار ہوتے ہیں تو لاشعوری طور پر زیادہ کھانے لگتے ہیں۔ اسی طرح بے ترتیب ماحول اور گندگی بھی ہمیں ذہنی دباؤ میں مبتلا کرتی ہے اور نتیجتاً ہم زیادہ کھانے لگتے ہیں۔

ایڈز کے مریضوں میں تشویش ناک اضافہ، رجسٹرڈ مریض 16 ہزار ہوگئے

اسلام آباد: وزارتِ صحت نے پاکستان میں ایڈز  کے وائرس سے متاثرہ افراد کے اعداد و شمار جاری کردئیے جس میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 16 ہزار بتائی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزارتِ قومی صحت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں ایڈز کے وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 16 ہزار جب کے غیر رجسٹرڈ افراد کی تعداد 90 ہزار سے زائد تک جاپہنچی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’پنجاب میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 8 ہزار 300 سے زائد، سندھ میں 5 ہزار 54، بلوچستان میں 441 ، خیبرپختونخوا میں 1591، اسلام آباد میں 186 اور آزاد جموں و کشمیر میں 177 افراد ایڈز کے خطرناک مرض میں مبتلاء ہیں‘‘۔

وزارتِ صحت کی دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ملک میں سب سے کم ایڈز کے مریض گلگت بلتستان میں ہیں جن کی تعداد 8 ہے جبکہ قبائلی علاقوں میں 458 افراد ایڈز کے وائرس کا شکار ہیں‘‘۔

حکام وزاتِ صحت نے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی رجسٹرڈ تعداد میں سے 7 ہزار سے زائد قابل علاج ہیں جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں ایڈیز 20 سے زائد سینٹرز موجود ہیں تاہم رواں سال مزید 10 سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے گا‘‘۔

کیا آپ خود کو بوڑھا سمجھتے ہیں؟

کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ بوڑھے ہوچکے ہیں؟ اگر ہاں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ آپ کی عمر زیادہ ہوگئی ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اس خیال سے متفق ہیں کہ آپ بوڑھے ہوچکے ہیں۔

سائنس کا ماننا ہے کہ ہماری سوچوں کا ہماری صحت اور زندگی پر بہت اثر پڑتا ہے۔ آپ نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا جن کے پاس ایسی ’صلاحیت‘ ہوتی ہے کہ وہ کچھ برا سوچیں تو وہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خود کو بیمار ظاہر کرتا ہے وہ اصل میں بیمار رہنے لگتا ہے۔

دراصل یہ ہماری ذہنی کیفیات ہوتی ہیں جو ہمارے جسم کو یہ بتاتی ہیں کہ اب جسم کو ایسے ظاہر کرنا ہے۔ اس کی ایک مثال یوں ہے کہ اگر ہمیں بخار ہو لیکن ہم اسے نظر انداز کر کے کام میں لگے رہیں تو بخار ہمارے کام میں ذرا بھی رکاوٹ نہیں بنے گا، لیکن جہاں ہم نے سوچا کہ، ’مجھے بخار ہے، آج مجھے کام نہیں کرنا چاہیئے‘، وہیں بخار شدت سے ہم پر حملہ آور ہوگا اور ہم کوئی بھی کام کرنے سے مفلوج ہوجائیں گے۔

ماہرین کی ایک تحقیق کے مطابق جب ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم بوڑھے ہوگئے ہیں اور نئے نئے تجربات کرنے سے یہ سوچ کر کتراتے ہیں کہ اب ہم اسے نہیں کر سکتے، تو ہمارا جسم حقیقت میں تیزی سے بوڑھا ہونے لگتا ہے۔

سائنسدانوں نے اس تحقیق کے لیے بوڑھے، اور بڑھاپے میں چست رہنے والے افراد کا انتخاب کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ افراد جو بڑھاپے میں بھی چست تھے، دراصل وہ کبھی بھی یہ سوچ کر کسی کام سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے کہ زائد العمری کی وجہ سے اب وہ اسے نہیں کرسکتے۔

وہ نئے تجربات بھی کرتے تھے اور ایسے کام بھی کرتے تھے جو انہوں نے زندگی میں کبھی نہیں کیے۔ یہی نہیں وہ ہمیشہ کی طرح اپنا کام خود کرتے تھے اور بوڑھا ہونے کی توجیہہ دے کر اپنے کاموں کی ذمہ داری دوسروں پر نہیں ڈالتے تھے۔

کریلے کھانے کے بعد جسم میں کیا کیا تبدیلیاں آتی ہیں, ماہرین کا انکشاف

کریلا ایک ایسی سبزی ہے جو بہت کم افراد کو ہی پسند ہوتی ہے تاہم مختلف طریقوں سے اسے پکا کر کڑواہٹ کو کم کرکے اسے مزیدار بنایا جاسکتا ہے۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کا تلخ ذائقہ آپ کو کس جان لیوا بیماری سے تحفظ دے سکتا ہے؟ اس حوالے سے ہونے والی مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق اس میں ذیابیطس کے علاج کی صلاحیت ہوتی ہے۔<br/> کریلا کس طرح کام کرتا ہے؟ اگرچہ ابھی انسانوں میں اس حوالے سے شواہد زیادہ مضبوط نہیں مگر لیب ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ کریلا کھانے سے جسم کے اندر ایک کیمیائی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو بلڈ گلوکوز کی سطح کم کرنے کے ساتھ انسولین کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح کریلے میں موجود اجزاء لبلبے کے خلیات کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے بھی مفید ہے جو انسولین پیدا کرتے یں۔ ذیابیطس ٹائپ ون میں جسمانی دفاعی نظام ان خلیات کو تباہ کردیتا ہے جبکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں ان خلیات کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق کریلے کی جراثیم کش اور وائرس کش خصوصیات نظام ہاضمہ کے انفیکشنز، ملیریا اور دیگر امراض کے خلاف موثر ثابت ہوتے ہیں۔ کریلے کو کس طرح استعمال کرنا چاہئے؟ روایتی طور پر کریلے کو پکا کر یا جوس کی شکل میں استعمال کیا ہاتا ہے، جبکہ اس کے اجزا گولیوں، کیپسول یا سفوف کی شکل میں بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ادویات کی شکل میں ڈبے پر دی گئی ہدایات یا معالج کے مشورے کے مطابق استعمال کرنا بہتر ہوتا ہے۔ تحفظ کا خیال رکھیں اگر آپ بلڈ گلوکوز کم کرنے کی ادویات کے ساتھ کریلے کا استعمال کریں گے تو اس کا اثر بڑھ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں پیشاب کی نالی متاثر ہوسکتی ہے، اور ہاں دوران حمل یا بچوں کو دودھ پلانے کے دوران بھی اس کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے ۔

پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خصوصی جوتے تیار کرلئے گئے

پاکستان میں پہلی بار زیابطیس کے مریضوں کے لیے ایسے جوتے تیار کرلیے گئے ہیں جو ان کو زخم سے بچاؤ اور پاؤں کٹنے سے محفوظ رکھیں گے ، دنیا بھر میں یہ جوتے انتہائی مہنگے داموں تیار کیے جاتے ہیں مگر پاکستان میں اٹلی سے درآمد شدہ جدید ترین مشین کے ذریعے تیارکیے جائیں گے جنہیں انتہائی ارزاں نرخ پر زیابطیس کے مریضوں کو مہیا کیا جائے گا ،یہ مخصوس جوتے عالمی زیابطیس اینڈ اینڈوکرائنالوجی کانگریس میں 19اگست کو پیش کیے جائیں گے ۔ان خیالات کا اظہار کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہر زیابطیس و اینڈوکرائن اور بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائبٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنالوجی کے ڈائریکٹرپروفیسر ڈاکٹر عبد الباسط، ماہر زیابطیس و اینڈوکرائن ڈاکٹر زاہد میاں ، ڈاکر عصمت نواز اور دیگر نے کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر عبد الباسط کا کہنا تھا کہ بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائبٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنالوجی کے قیام کے بیس (20) برس مکمل ہونے کی خوشی میں اس سال تین روزہ عالمی زیابطیس کانگریس جسے آئی ڈی ای سی 2016(IDEC 2016) کا نام دیا گیا ہے جوڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان (DAP)کے تعاون سے 19اگست سے 21اگست تک کراچی کے ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں منعقد ہوگی اور انٹرنیشنل زیابطیس فیڈریشن کے مشرق وسطیٰ ، شمالی افریقا ریجن نے اپنا آفیشل ایونٹ قرار دے دیا ہے ،جس میں دنیائے طب کے نامور ترین ماہرین شریک ہوں گے اور زیابطیس کے علاج کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں گے ۔ ڈاکٹر عبد الباسط نے کہا کہ پاکستان میں ایک 20برس پرانے سروے کے مطابق زیابطیس کے مریضوں کی تعداد 70لاکھ ہے اور 70لاکھ افراد ایسے ہیں جنہیں زیابطیس ہونے کا قوی امکان ہے مگر یہ اعداد و شمار بہت پرانے ہیں اور صحیح اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے بقائی انسٹی ٹیوٹ نے ملک بھر میں سروے شروع کر دیا ہے جو دو ماہ میں مکمل ہوجائے گا اور اس کے نتیجے میں زیابطیس میں مبتلا افراد اور ایسے افراد جنہیں زیابطیس ہونے کا امکان ہے ، کی صحیح تعداد سامنے آجائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی زیابطیس اینڈ اینڈوکرائن کانگریس اس لحاظ سے نہایت اہم ہے اس میں زیابطیس سے نمٹنے کے لے وفاقی وزارت صحت سے تصدیق شدہ سفارشات پیش کی جائیں گی اس کے نتیجے میں ایک عام فرد کو بھی زیابطیس سے بچنے اور اپنی طرز زندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریبا ہر بیماری کی جڑ زیابطیس ہے اور اگر اس مرض پر قابو پالیا جائے تو پاکستان میں صحت کے شعبے میں بہتری آسکتی ہے ، انہوں نے بتایا کہ آپ اسپتال کے کسی بھی وارڈ میں چلے جائیں اس وارڈ میں بیماری کی وجوہات میں زیابطیس شامل ہوگی ۔ کاگریس کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالمی زیابطیس کانگریس کی افتتاحی تقریب جمعہ 19اگست کی شام منعقد ہوگی جس کا افتتاح بقائی یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر فریدالدین بقائی اور وائس چانسلر پروفیسر زاہدہ بقائی کریں گے جبکہ ہفتے اور اتوار کے روز سائنٹفیک سیشنز منعقد کیے جائیں گے جس میں نا صرف دنیا بھر سے ماہرین زیابطیس خطاب کریں گے بلکہ پاکستان کے ماہرین طب ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والی زیابطیس اور اینڈو کرائن بیماریوں سے متعلق علاج کی سہولتوں سے آگاہ کریں گے ۔اس کانگریس میں26سے زائد ممالک جن میں امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی ، ناروے ، بیلجیم ، مصر ، ترکی ، بنگلہ دیش ،تنزانیہ ، سعودی عرب ، روس، ایران اور دیگر ممالک شامل ہیں ۔کانگریس میں ورلڈ ڈائیابٹیزفاؤنڈیشن (WDF) کے صدر بھی شریک ہوں گے ۔اس کے علاوہ پاکستان بھر سے دو ہزار سے زائد ماہرین طب اس کانگریس میں شریک ہوں گے اور زیابطیس کے علاج کے 6اہم ترین موضوعات جن میں سر فہرست ڈائبیٹک فُٹ، زیابطیس اور رمضان ، زیابطیس کے ساتھ زندگی شامل ہیں پر اظہار خیال کریں گے ۔ڈاکٹر زاہد میاں نے کہا کہ پاکستان میں ایک وقت میں 3سے 7لاکھ تک ایسے مریض ہوتے ہیں جن کے پاؤں اس بیماری کی وجہ سے کٹنے کا امکان ہوتا ہے جبکہ اس کا علاج بہت ہی زیادہ مہنگا ہے مگر خوش قسمتی سے 85فیصد کیسز میں پاؤں کٹنے سے بچا جا سکتا ہے ایسے مریضوں کے لیے خوش خبری ہے کہ اب انہیں ایسے جوتے پاکستان میں بھی مہیا ہوں گے جو انہیں زخم لگنے اور پاؤں کٹنے سے بچاؤ میں مدد گار ہوں گے ۔ ماہرین نے اس موقع پر کہا کہ عالمی زیابطیس کانگریس کا کراچی میں انعقاد عوام الناس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ڈاکٹروں اور ماہرین زیابطیس کے لیے ایک اہم خوش خبری ہے کیونکہ یہ ایونٹ پاکستان سمیت پورے خطے میں اس مرض کے علاج میں نئی راہوں کی دریافت میں ایک اہم قدم ثابت ہوگا ۔

دن کے اس وقت اپنی خصوصی حفاظت کریں، ماہرین

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ وائرس صبح کے وقت لوگوں میں زیادہ آسانی سے بیماری پیدا کر سکتے ہیں۔ان کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگر وائرس کا انفیکشن صبح کے وقت شروع ہو تو اس کی کامیابی کے امکان دس گنا زیادہ ہوتے ہیں۔اس تحقیق کے مطابق جسم کی اندرونی گھڑی اگر کسی وجہ سے متاثر ہو جائے (مثلاً شفٹوں میں کام کرنے سے یا طویل فضائی سفر کے بعد) تو وہ زیادہ آسانی سے انفیکشن کا شکار ہو سکتا ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے بڑے پیمانے پر پھیلنے والی وباؤں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔وائرس انتہائی چھوٹے طفیلی ہوتے ہیں جو کسی زندہ جسم کے باہر زندہ نہیں رہ سکتے اور اس جسم کے خلیوں کی مشینری استعمال کرتے ہوئے اپنی نسل آگے بڑھاتے ہیں۔لیکن ان خلیوں کے اندر 24 گھنٹوں میں ڈرامائی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، اور دن بھر جسم کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ اس عمل کو جسم کی اندرونی گھڑی کی مدد سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔اس اندرونی گھڑی پر وائرس کے کیا اثرات ہوتے ہیں، اس بات کا جائزہ لینے کے لیے چوہوں کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصے کو صبح کے وقت انفلوئنزا اور ہرپیز وائرس سے متاثر کیا گیا جب کہ دوسرے کو شام کے وقت۔جن چوہوں کے اندر صبح کو وائرس داخل کیا گیا تھا ان کے جسموں میں شام کے وقت متاثر کیے جانے والے چوہوں کے مقابلے پر وائرس کی دس گنا زیادہ تعداد موجود تھی۔

صبح جلدی اٹھنے کے لیے 5 تجاویز

صبح جلدی اٹھنا ایک بہترین طرز زندگی کی علامت ہے۔ سحر خیزی کی عادت نہ صرف طبی طور پر فائدہ مند ہے بلکہ یہ زندگی کے دیگر پہلوؤں میں بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

بعض لوگوں کے لیے صبح اٹھنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ وہ لاکھ چاہیں تب بھی جلدی نہیں اٹھ پاتے نتیجتاً ان کی صبح کلاسز چھٹ جاتی ہیں، وہ علی الصبح ہونے والی میٹنگز میں شامل نہیں ہوپاتے جبکہ صبح ہونے والی تمام سرگرمیوں میں وہ دیر سے شریک ہوتے ہیں۔

یہاں ہم آپ کو کچھ ایسی تجاویز بتارہے ہیں جنہیں اپنا کر آپ صبح جلدی اٹھ سکتے ہیں۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہر رات مقررہ وقت پر ہی سونا بہتر ہے۔ یہ غلط ہے۔ سونے کے لیے بستر پر اسی وقت جانا چاہیئے جب آپ تھکے ہوئے ہوں تاکہ جیسے ہی آپ لیٹیں آپ کو 5 منٹ کے اندر نیند آجائے۔

اگر آپ مقررہ وقت پر بستر پر لیٹ گئے ہیں اور آپ کو نیند نہیں آرہی تو آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اس صورت میں آپ کو دیر سے نیند آئے گی اور آپ اگلی صبح تھکن کا شکار ہوں گے۔

سونے کے برعکس اٹھنے کا وقت مقرر کریں اور روز صبح اسی وقت اٹھیں۔ اگر آپ سونے کا وقت مقرر کریں گے تو روز اسی وقت پر خود بخود آپ کی آنکھ کھل جائے گی۔ اگر آپ رات کو دیر سے سوئے ہیں تب بھی صبح جلدی اٹھنے سے آپ جلدی تھک جائیں گے اور رات جلد سوجائیں گے یوں آہستہ آہستہ آپ کا معمول بہتر ہوتا جائے گا۔

الارم میں لگے سنوز کے بٹن کو بھول جائیں اور الارم کی پہلی گھنٹی پر اٹھ جائیں۔ اگر آپ کو 6 بجے اٹھنا ہے تو ساڑھے 5 کے بجائے 6 بجے کا ہی الارم لگائیں اور الارم بجتے ہی اٹھ جائیں۔ کیا آپ نے پالتو جانوروں کو غور سے دیکھا ہے؟ یہ نیند سے اٹھنے کے فوراً بعد بھرپور انگڑائیاں لیتے ہیں۔ انگڑائی جسم میں خون کی روانی کو تیز کرتی ہے۔ رات سونے سے پہلے انگڑائی لینا نیند لانے میں معاون جبکہ نیند سے اٹھنے بعد سستی دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

نیند سے اٹھنے کے فوراً بعد ایک تو گہرے سانس لیں۔ اس کے بعد ایک گلاس پانی پئیں۔ یہ دونوں چیزیں آپ کے دماغ کو بھرپور آکسیجن فراہم کرے گی۔

نیند سے اٹھنے کے بعد بستر پر نہ لیٹے رہیں بلکہ اٹھ کر حرکت کریں۔ زیادہ بہتر ہے کہ اٹھنے کے بعد آپ اپنے آفس جانے کے لیے کپڑوں اور جوتوں کی تیاری کریں۔ یہ نیند بھگانے میں آپ کی مدد کرے گی اور آپ کو تیاری کے لیے جلدی اٹھنے پر بھی مجبور کرے گی۔

چربی گھلانے کا سب سے آسان نسخہ

اپنے جسم میں نکلتی ہوئی توند کسی کو اچھی لگ سکتی ہے ؟ خواتین اور مرد دونوں اپنی پھیلتی کمر اور نکلتے پیٹ سے پریشان ہوتے ہیں۔مگر اس سے نجات پانا بہت مشکل لگتا ہے۔تاہم پیٹ میں جمع ہونے والی اضافی چربی کو گھلانے کے آسان طریقے موجود ہیں جس سے آپ کا جسم چند ہفتوں یا مہینوں میں ایک بار پھر متناسب ہوسکتا ہے۔ نمک دانی کو میز سے ہٹا دیں متعدل مقدار میں نمک کا استعمال صحت کے لیے اچھا ہے کیونکہ یہ صحت مند دل اور دماغ کے لیے ضروری ہے، مگر بہت زیادہ نمک جسم میں پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ پیٹ کو پھولنے پر مجبور کردیتا ہے، اضافی وزن میں کمی کے لیے نمک کی مقدار میں کی لانا ضروری ہے۔ چیونگم سے دوری بیشتر افراد کسی لت سے بچنے یا بے مقصد کھانے سے بچنے کے لیے چیونگم کا استعمال کرتے ہیں مگر اس کا ایک غیر متوقع مضر اثر ہوتا ہے، اور وہ ہے پیٹ کا پھولنا۔ جو بھی چیونگم چباتا ہے وہ کچھ مقدار میں ہوا بھی ہضم کرلیتا ہے جس سے پیٹ پھولنے اور گیس کی شکایت پیدا ہوتی ہے، جبکہ گم میں موجود مصنوعی مٹھاس جنک فوڈ کی اشتہا بھی بڑھا سکتی ہے۔ صحیح طرح چبانا اگر آپ تیزی سے خوراک کو نگلتے ہیں تو یہ پیٹ کے پھولنے کا باعث بنتا ہے، کھانے کے صحیح آداب کا خیال رکھنا نہ صرف پیٹ کو صحیح شکل میں برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ دوست اور رشتے دار بھی خوش ہوتے ہیں۔ میٹھی اشیاء سے دوری میٹھی اشیاء یقیناً لذیذ ہوتی ہیں مگر ان کا بہت زیادہ استعمال ہمارے جسم کے لیے کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوتا، یہ نہ صرف بہت زیادہ کیلوریز سے بھرپور ہوتی ہیں بلکہ ہماری کمروں کو بھی پھیلاتی ہیں، جبکہ اس کے نتیجے میں انسولین کی حساسیت کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں اضافی چربی پیٹ کے گرد جمع ہونے لگتی ہے۔ توند سے نجات چاہتے ہیں تو چینی سے دوری اختیار کرلینا بہترین حکمت عملی ہوتی ہے۔ قبض سے بچنا شدید قبض بہت عام مرض ہے اور یہ پورے جسم پر اثرات مرتب کرتا ہے خاص طور پر پیٹ میں سوجن اور اس کا تکلیف دہ انداز سے پھولنا، توند کو باہر نکالتا ہے، قبض سے بچنے کے لیے گھریلو ٹوٹکے استعمال میں بہت آسان اور موثر ثابت ہوتے ہیں۔ زیادہ نیند آج کے طرز زندگی میں لوگوں کی نیند کا دورانیہ کم سے کم ہوتا جارہا ہے جس کی قیمت مختلف بیماریوں کی شکل میں چکانا پڑتی ہے، جس میں سب سے نمایاں پیٹ کا نکلنا ہے، ایک رات صرف تیس منٹ کی کم نیند بھی وزن میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے اور یہ وزن توند کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔ جنک فوڈ بھی دشمن جنک یا پراسیس فوڈ میں نمک بہت زیادہ ہوتا ہے جس کا احساس تک نہیں ہوتا، درحقیقت نمک تو سوپ سے لے کر پاستا یہاں تک کہ میٹھی اشیاء4 میں بھی موجود ہوتا ہے، اس غذا کی جگہ تازہ پھل ، سبزیاں یا گوشت وغیرہ کو ترجیح دینے پر پیٹ آپ کا شکر گزار ہوگا اور جسمانی وزن میں بھی کمی آئے گی۔ مشروب کا صحیح انتخاب توند سے پاک جسم چاہتے ہیں ؟ تو اپنے گلاس کو بھی دیکھیں، دودھ اور کولڈ ڈرنکس پیٹ پھولنے کا باعث بن سکتے ہیں جس کی وجہ انسانوں میں لیکٹوز کو ہضم کرنے کی صلاحیت میں کمی آنا ہے، تاہم دودھ اتنا نقصان دہ نہیں جتنی سافٹ ڈرنکس ہیں عام ہو یا ڈائٹ یہ میٹھے مشروبات توند نکلنے کا باعث بنتے ہیں۔ پانی کو ترجیح اگر کچھ مشروبات کمر کو پھیلاتے ہیں تو ایک توند کو شرطیہ کم کرتا ہے اور وہ ہے پانی، یہ جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچاتا ہے جس سے پیٹ نہیں پھولتا، جبکہ پانی کا زیادہ استعمال غذا کی اشتہا کو بھی کم کرتا ہے اور پیٹ بھی جلد بھر جاتا ہے۔ پھلوں کو نہ بھولیں پھل جیسے بیریز، چیری، سیب اور مالٹے وغیرہ ایک قدرتی جز کیورسیٹن سے بھرپور ہوتے ہیں جو معدے کی سوجن کم کرتے ہیں، تو اگر آپ ان پھلوں کو اپنے گھر میں نمایاں جگہ پر رکھیں تو بے وقت بھوک پر آپ انہیں کھانے کو ترجیح دیں گے۔ کھڑے ہونے کا صحیح انداز دو سیکنڈ میں سپاٹ پیٹ چاہتے ہیں؟ تو بالکل سیدھا کھڑے ہوجائیں، جھک کر چلنے سے پیٹ باہر کی جانب نکلتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو سیدھا رکھنے سے آپ لمبے اور دبلے نظر آتے ہیں، یقیناً یہ ایک عارضی حل ہے مگر کھڑے ہونے کا صحیح انداز پرکشش شخصیت سے ہٹ کر بھی متعدد طبی فوائد کا حامل ہوتا ہے۔ تناوسے بچیں تناو جسم میں ایک ہارمون کورٹیسول کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے اور یہ ہارمون پیٹ کے گرد چربی کو جمع کرنے لگتا ہے، روزمرہ میں زیادہ تنا? موٹاپے سے ہٹ کر بھی صحت کے لیے اچھا نہیں اور مختلف امراض کا باعث بنتا ہے۔ ڈیوائسز سے دوری اسمارٹ فون، ٹیبلیٹ اور ٹیلیویڑن آپ کے کمر کے حجم پر اثرات مرتب کرتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے استعمال کرتے ہوئے آپ بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کے نتیجے میں جسمانی سرگرمیاں تھم جاتی ہیں اور کیلوریز جلتی نہیں۔ ان ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی جسمانی گھڑی پر اثرات مرتب کرتی ہیں اور نیند کی کمی کا مسئلہ سامنے آتا ہے جو توند نکلنے کا باعث بنتا ہے۔ تمباکو نوشی سے چھٹکارا کینسر جیسے موذی مرض کے باوجود آپ تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے کوئی جواز ڈھونڈ رہے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ عادت موٹاپے کا باعث بھی بنتی ہے، درحقیقت تمباکو نوشی پیٹ کے گرد چربی کے جمع ہونے کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں توند نکلنے لگتی.

Google Analytics Alternative