صحت

روزے کے صحت پر مزید حیرت انگیز اثرات دریافت

ٹوکیو: روزہ یا اس سے زائد وقت کا فاقہ ہمارےجسم کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے جس کے مزید فوائد سامنے آتے رہتے ہیں اور اب جاپانی ماہرین نے کہا ہے کہ روزے سے خون میں 30 ایسے مفید میٹابولک مارکرز بڑھ جاتے ہیں جو جسم پر حیرت انگیز اثرات مرتب کرتے ہیں۔

گزشتہ کئی برس سے ماہرین روزے کے جسم پر اثرات پر غور کررہے ہیں اور حال ہی میں اوکی ناوا انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اسکالر پروفسر تاکایوکی ٹیرویا نے تحقیق کے بعد کہا ہے کہ ’ جانوروں کے ماڈل پر فاقے کے حیرت انگیز اثرات سامنے آئے ہیں جنہیں سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ماہرین نے چار صحتمند رضاکاروں کو بھرتی کیا اور انہیں 10،34 اور 58 گھنٹوں تک کھانے سے بعض رکھا لیکن یہ بایومارکر کی بجائے کسی اور موضوع سے متعلق تھی ۔ حیرت انگیز طور پر ماہرین نے دریافت کیا کہ فاقے کے بایومارکرز پر گہرے اور اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین نے دیکھا کہ 58 گھنٹے کے بعد جسم کے اندر 44 ایسے میٹابولائٹس میں اضافہ ہوا جن میں سے 30 پر اس سے قبل غور نہیں کیا گیا تھا یعنی فاقے سے ان کے افراز پر غور نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جسم میں توانائی کے متبادل ذخائر پر سگنلنگ بڑھانے والے بایومارکرز میں اضافہ ہوا جن میں بیوٹائریٹس اور برانچ چین امائنو ایسڈ قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ اینٹی آکسیڈنٹس کا فروغ بھی دیکھا گیا جس سے معلوم ہوا کہ روزہ یا فاقہ عمررسیدگی کو روکتا ہے۔

دوسری اہم بات یہ سامنے آئی کہ کھانے سے دوری کی صورت میں مائٹوکونڈریائی سرگرمی بڑھتی ہے ۔ اس سے جسم میں لچک اور صحتمند بڑھاپا فروغ پاتا ہے۔ طویل عمر کی وجہ بننے والے تین اہم اجزا لیئوسین، آئسولیئوسین اور آپتھیلمِک ایسڈ کی شرح فاقے کی صورت میں بڑھی ہوئی دیکھی گئی۔ یہ تینوں میٹابولائٹس بڑھاپے میں کم ہوتے جاتے ہیں لیکن جوانی میں زیادہ ہوتےہیں۔

واضح رہے کہ میٹابولائٹس ان لاتعداد مالیکیول (سالمات) کو کہتے ہیں جو ہمارے جسم میں بہت سارے کام سرانجام دیتے ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ فاقے کی تحقیق پر مزید کام کی ضرورت ہے تاکہ اس کے مزید فوائد کو سامنے لایا جاسکے۔

خراٹوں کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

خراٹے ویسے تو کسی بھی شخص کو پسند نہیں خاص طور پر گھر میں کوئی اس عارضے کا شکار ہو تو دیگر افراد کی نیند خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے تاہم یہ یاداشت متاثر کرنے کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

RMIT یونیورسٹی کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ خراٹے لینے کے عادی افراد کو ماضی کی یادیں دہرانے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق آبسٹرکٹیو سلیپ اپنیا (او ایس اے) (خراٹوں کی بڑی وجہ) کی یاداشت بدترین ہوتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے افراد کو مخصوص تفصیلات جیسے ساتھیوں کے نام یا گھر اور گلی کا نمبر یاد کرنے میں مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ او ایس اے کے نتیجے میں جب کوئی خراٹے لیتا ہے تو تو دماغ تک آکسیجن کی فراہمی منقطع ہوجاتی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کے نتیجے میں دماغ کے گرے میٹر متاثر ہوتے ہیں جو کہ یاداشت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 44 افراد کا جائزہ لیا گیا جو کہ او ایس اے کے شکار تھے اور دریافت کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں ان کی بچپن کی یادیں ذہن سے محو ہوچکی ہیں۔

جب ان افراد سے مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مخصوص تفصیلات دہرانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں اسی عمر کے صحت مند افراد کو اس طرح کے مسائل کا سامنا بہت کم ہوتا ہے اور وہ عام طور پر تفصیلی یادیں دہرانے میں کامیاب رہتے ہیں۔

اس سے قبل امریکا کے ہنری فورڈ ہاسپٹل کی تحقیق کے مطابق خراٹے عام طور پر رات کو نیند کے دوران جسم میں آکسیجن کی کم مقدار جذب ہونے کے نتیجے میں عادت بنتے ہیں جس کے دوران سانس چند لمحوں کے لیے رکتی ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ خراٹوں سے گلے میں شہہ رگ کو نقصان پہنچتا ہے جس کے نتیجے میں فالج اور دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ خراٹوں کے نتیجے میں شہہ رگ کو تمباکو نوشی، ہائی کولیسٹرول یا موٹاپے سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے اور یہ وہ رگ ہے جو دماغ کو خون پہنچاتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خراٹوں کے نتیجے میں شہہ رگ کی موٹائی میں اضافہ ہوتا ہے اور اکڑن پیدا ہوتی ہے جو مختلف امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

کینسر کو آپ سے ہمیشہ دور رکھنے میں مددگار عادات

کینسر اس وقت دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا ایسا جان لیوا مرض ہے جس کا علاج تو ممکن ہے مگر وہ کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب سرطان کی تشخیص ابتدائی مراحل میں ہوجائے۔

اسٹیج تھری یا اس کے بعد علاج سے صحت یابی کا امکان لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے جبکہ موجودہ عہد کا طرز زندگی لوگوں کو اس مرض کا آسان شکار بنارہا ہے۔

گزشتہ سال انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2018 میں کینسر کے ایک کروڑ 81 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے جن میں سے لگ بھگ ایک کروڑ مریضوں کی موت کا امکان ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ چند معمولی تبدیلیوں کو اپنا کر کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 40 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ (ڈبلیو سی آر ایف) کی تحقیق میں 9 نکاتی پلان بتایا گیا جو کینسر جیسے مرض کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 5 کروڑ سے زائد افراد کی عادات کا تجزیہ کرکے کینسر کا باعث بننے والے عوامل کی نشاندہی کی گئی۔

صحت مند وزن

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

محققین کے مطابق کینسر کا آسان شکار بننے کی سرفہرست وجہ موٹاپا ہے جس نے تمباکو نوشی کو بھی اس معاملے میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یعنی بڑھتے جسمانی وزن کو کنٹرول کرنا اس جان لیوا مرض کو دور رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کرسکتا ہے۔ محققین کے مطابق ایسے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ موٹاپا کم از کم 12 اقسام کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

زیادہ متحرک ہونا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

روزمرہ کی زندگی میں جسمانی طور پر زیادہ متحترک ہونا بھی کینسر کا خطرہ کم کرتا ہے یعنی کم بیٹھیں اور زیادہ چلیں، جس سے آپ کم از کم 3 اقسام کے کینسر سے محفوظ رہ سکیں گے۔ محققین نے مشورہ دیا کہ ہفتہ بھی میں کم از کم 150 منٹ تک جسمانی طور پر متحرک رہنا عادت بنائیں اور بیٹھنے کا وقت کم کریں، یہ عادت جسمانی وزن کو کنٹرول رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

صحت بخش غذا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اپنی غذا میں اجناس، سبزیوں، پھلوں، دالوں، بیج اور گریوں کی مقدار زیادہ بڑھا دیں، بے وقت بھوک لگنے پر زیادہ چکنائی والی اشیا کی جگہ گیلے یا بیریز کو دے دیں۔

فاسٹ فوڈ سے گریز

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

فاسٹ فوڈ اور زیادہ چربی والی غذاﺅں سمیت زیادہ میٹھا کھانے سے گریز کریں، اس طرح کی غذاﺅں کی مقدار محدود کرنے سے کیلوریز کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے، جس سے وزن صحت مند سطح پر برقرار رہتا ہے۔ زیادہ کیلوریز والی غذاﺅں کا زیادہ استعمال خصوصاً زیادہ چکنائی والی اشیا موٹاپے کا باعث بنتی ہیں اور اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ یہ کینسر کا باعث بننے والی نمبرون وجہ ہے۔

سرخ گوشت کا استعمال محدود کریں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ایسا نہیں کہ اپنی غذا سے گائے یا بکرے کے گوشت کو مکمل طور پر نکال دیں کیونکہ یہ آئرن کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے مگر اعتدال میں رہ کر کھائیں خصوصاً پراسیس شدہد گوشت کھانے سے گریز کریں۔ تحقیق کے مطابق ہفتہ بھر میں سرخ گوشت کی 350 سے 500 گرام مقدار کھانا صحت مند متوازن غذا کے لیے کافی ہے، اس سے زیادہ کھانا مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

سافٹ ڈرنکس بھی خطرناک

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جی ہاں اگر آپ میٹھے مشروبات پینے کے شوقین ہیں تو اب وقت آگیا ہے کہ اس عادت سے جان چھڑا کر ان کی جگہ پانی اور پھیکے مشروبات کو دیں، تحقیق کے مطابق ہم اکثر یہ نہیں سوچتے کے مشروبات می نبھی کیلوریز ہوتی ہیں خصوصاً سافٹ ڈرنکس میں، جو کہ موٹاپے کا خطرہ بڑھاتی ہیں، تو ان کی جگہ چائے یا کافی کو اپنالیں، جس میں چینی کو شامل نہ کریں تو زیادہ بہتر ہے یا اس کی مقدار بہت کم رکھیں۔ اسی طرح پھلوں کا جوس صحت مند اجزا کا ذریعہ تو ہے مگر اس میں مٹھاس کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ پھل کھانے کے مقابلے میں اس کے جوس میں فائبر موجود نہیں ہوتا، تو روزانہ ایک گلاس سے زیادہ جوس پینے سے گریز کریں۔

الکحل اور تمباکو نوشی بھی جان لیوا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

الکحل کسی بھی طرح صحت کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ خطرناک چیز ہے جسے کبھی زندگی کا حصہ نہیں بنانا چاہئے، اس سے دور رہ کر آپ کم از کم 6 اقسام کے کینسر سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں،اس کی معمولی مقدار بھی کینسر کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح تمباکو نوشی ایسی چیز ہے جس کے نقصانات بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ صحت کے لیے کتنی خطرناک ہے اور متعدد اقسام کے کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔

سپلیمنٹس پر انحصار مت کریں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اپنی جسم کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے سپلیمنٹس پر انحصار مت کریں بلکہ غذا کو ہی اس کا ذریعہ بنائیں، قدرتی غذا میں وٹامنز اور منرلز کی مقدار سپلیمنٹس کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے جیسے ان میں فائبر جیسا جز موجود ہوتا ہے جو معدے کی صحت کے لیے ضروری ہے۔

بریسٹ کینسر سے تحفظ کا آسان طریقہ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

بریسٹ کینسر خواتین میں سب سے عام کینسر ہے بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر 8 ویں خاتون میں بریسٹ کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ سالانہ 40 ہزار اموات ہوتی ہیں۔ اس سے بچاﺅ کے مختلف طریقے موجود ہیں تاہم خواتین اپنے بچوں کو دودھ پلا کر بھی اس سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔ بریسٹ فیڈنگ سے کینسر سے متعلق ہارمونز کی سطح کم ہوتی ہے جس سے سرطان کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

پیٹ میں جاکر پھولنے اور معدے کی خبر دینے والی گولی

بوسٹن: میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے جیلی نما گیند بنائی ہے جسے آسانی سے نگلا جاسکتا ہے، یہ گیند پیٹ میں جاکر پھول جاتی ہے اور ایک ماہ تک وہاں رہتے ہوئے معدے کی اندرونی کیفیت اور امراض سے آگاہ کرتی ہے۔

پھولنے والی گولی معدے میں رہتے ہوئے 30 روز تک اندر کے درجہ حرارت اور دیگر افعال کی خبر دیتی رہتی ہے۔ جب اس گولی کو بدن سے خارج کرنا ہو تو مریض کیلشیئم کا محلول پی لے اس کے بعد گولی ازخود جسم سے باہر خارج ہوجائے گی۔

چھوٹی سی گولی پیٹ کے اندر جاکر ٹیبل ٹینس کی گیند کی طرح پھیل جاتی ہے۔ اس میں بہت سے سینسر لگے ہیں جو معدے کی تیزابیت میں بھی کام کرتے رہتے ہیں۔ ایم آئی ٹی ماہرین نے ہائیڈروجل اور پالیمر کے ملاپ سے اس گولی کو تیار کیا ہے جو پٹ میں جاکر پھول جاتی ہے۔

یہ اتنی نرم ہے کہ معدےمیں بھاری پن پیدا نہیں کرتی ۔ ماہرین نے اسے پفر فِش کو دیکھتے ہوئے بنایا ہے جو خطرے کے وقت خود کو پھلالیتی ہے۔ اسی طرح ہائیڈروجل سے بنی گولی اپنے اندر پانی جمع کرکے پھیلتی رہتی ہے۔

ماہرین نے سینسر لگا کر اس گولی کو خنزیروں پر آزمایا ہے۔ ان تجربات میں سوروں کے معدے کے درجہ حرارت اور دیگر معلومات جمع کی گئی ہے۔ آخر میں کیلشیئم محلول پلا کر اسے جسم سے کامیابی سے باہر نکالا گیا ہے۔ ماہرین کے خیال ہے کہ جلد ہی یہ ٹیکنالوجی انسانی آزمائش کے لیے مکمل محفوظ اور مؤثر بنالی جائے گی۔

ناشتہ نہ کرنا کیا صحت کے لیے فائدہ مند ہے؟

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ناشتہ دن کی سب سے اہم غذا ہے جسے کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہئے تاکہ موٹاپے کا شکار نہ ہوسکیں مگر اب ایک نئی تحقیق میں اس خیال کو غلط قرار دیا گیا ہے۔

یہ دعویٰ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ماضی میں طبی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دن کا آغاز ناشتے سے کرنا دن بھر کھانے کی اشتہا کی روک تھام کرتا ہے جس سے جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

مگر برٹش میڈیکل جرنل میں شائع تحقیق میں کہا گیا کہ ‘دن کی سب سے اہم غذا’ ممکنہ طور پر جسمانی وزن کنٹرول کرنے میں لوگوں کی مدد نہیں کرسکتی۔

محققین نے دریافت کیا کہ ایسے ٹھوس شواہد موجود نہیں جو اس خیال کو سپورٹ کرتا ہو ناشتہ کرنا جسمانی وزن میں کمی لاتا ہے یا ناشتہ نہ کرنا موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ ناشتہ کرتے ہیں وہ دن بھر میں زیادہ کیلوریز جزو بدن بناتے ہیں جبکہ ناشتہ نہ کرنے سے دن کے دیگر اوقات میں کھانے کی زیادہ خواہش پیدا نہیں ہوتی۔

اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ناشتہ کرنے اور صحت مند جسمانی وزن کے درمیان تعلق موجود ہے۔

مگر نئی تحقیق کے محققین کا کہنا تھا کہ یہ نتائج مشاہداتی ہیں اور ممکنہ طور پر انفرادی طور پر لوگوں کے صحت مند طرز زندگی اور غذائی انتخاب کی عکاسی کرتے ہیں۔

آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کی تحقیق میں ناشتہ کرنے والے افراد کے وزن میں آنے والی تبدیلی کا جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق میں ناشتہ کرنے والے اور ناشتہ نہ کرنے والے شامل کیے گئے تھے، ان کے جسمانی وزن کا جائزہ 24 گھنٹے سے 16 ہفتوں کے دوران لیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ ناشتہ نہ کرنے والوں کا وزن دوسرے گروپ کے مقابلے میں اوسطاً کچھ کم تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ناشتہ کرنے والے اور نہ کرنے والوں کے میٹابولک ریٹ میں کوئی نمایاں فرق دریافت نہیں ہوا۔

پیاز کھانا ذیابیطس کی روک تھام کیلئے مفید

پیاز تقریباً ہر پکوان میں شامل کی جاتی ہے، یہ کسی بھی پکوان کو ذائقہ دار بنانے کے لیے سب سے اہم سبزی ہے۔

پیاز کو کاٹنا یقیناً کافی مشکل کام ہے، لیکن اس کے بہت زیادہ فوائد بھی ہیں۔

پیاز میں ایسے اینٹی بیکٹیریل کمپاؤنڈز موجود ہوتے ہیں جو سردی میں نزلہ زکام کی روک تھام کے لیے بھی مفید ہیں۔

پیاز کھانے سے دل کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے جس سے کولیسٹرول بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔

پیاز میں آئرن، فائبر، پوٹاشیم اور وٹامن سی بھی موجود ہوتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پیاز ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے بھی بہت مفید ہے؟

پیاز کھانے کے کئی فوائد یہاں مندرجہ ذیل ہیں:

1- خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول رکھنے کے لیے پیاز کارآمد مانی جاتی ہے۔

2- پیاز میں ایسے کمپاؤنڈز موجود ہیں جو ذیابیطس کی تمام علامات کو ختم کرتا ہے۔

3- سرخ پیاز میں فائبر کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، فائبر کسی بھی قسم کے کھانے کو دیر سے ہضم کرتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ فائبر ہماری صحت کے لیے بےحد ضروری ہے، کیوں کہ کھانے کو ہضم کرنے کے لیے خون میں موجود شوگر حرکت میں آتی ہے جس سے بلڈ شوگر لیول مستحکم رہتی ہے۔

4- ذیابیطس میں مبتلا افراد کو ایسی غذاؤں سے دور رہنے کی تاکید کی جاتی ہے جن میں کاربوہائیڈریٹس کی تعداد زیادہ ہو، اور پیاس ایک ایسی چیز ہے جس میں کاربز کافی کم تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔

5- پیاز میں کیلوریز کی مقدار بھی کافی کم ہوتی ہے، جس سے وزن کنٹرول میں رہتا ہے، دھیان رہے کہ پیاز کو صحیح انداز میں پکایا جائے جبکہ بہت زیادہ تیل کا استعمال نہ کیا جائے۔

کہا جاتا ہے کہ کچی پیاز بھی صحت کے لیے کافی مفید ہے، تاہم دن میں بہت زیادہ پیاز کھانا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

دوا کے بغیر بلڈپریشر میں کمی لانے والے قدرتی طریقے

ہوسکتا ہے آپ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوں مگر آپ کو اس کے بارے میں معلوم تک نہ ہو؟

جی ہاں واقعی ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے بلڈ پریشر کو معمول پر سمجھ رہے ہو کیونکہ آپ خود کو ٹھیک سمجھ رہے ہوتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے اس بیماری کے شکار ہونے والے اکثر افراد کو کسی قسم کی جسمانی علامات کا سامنا نہیں ہوتا؟

درحقیقت ہائی بلڈ پریشر کی ایسی کوئی علامات نہیں، جن سے اس کا پتا چل سکے اور یہ اس وقت دریافت ہوتا ہے، جب آپ کی صحت کو نقصان پہنچنے کا آغاز ہوچکا ہوتا ہے۔

ایک سروے کے مطابق تقریبا 52 فیصد پاکستانی آبادی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے اور 42 فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں کیوں مبتلا ہیں۔

120/80 یا اس سے کم بلڈ پریشر معمول کا ہوتا ہے تاہم اگر یہ 140/90 یا زیادہ ہوتو آپ کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے، ہر ایک اس کا شکار ہوسکتا ہے تاہم کچھ مخصوص افراد میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

بلڈپریشر کو ادویات کے ذریعے آسانی سے کم کیا جاسکتا ہے مگر ان ادویات کے کچھ مضر اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں جیسا کہ سر چکرانا، بے خوابی اور جسم اکڑنا، وغیرہ۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ لوگ بغیر ادویات کے بھی قدرتی طور پر بلڈپریشر کو معمول پر لاسکتے ہیں اور طبی ماہرین کے مطابق طرز زندگی میں تبدیلیاں ہائی بلڈپریشر کے علاج اور روک تھام میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

اس کے لیے سب سے پہلے وزن صحت مند بنانا ہوتا ہے، اس کے علاوہ دیگر قدرتی طریقے درج ذیل ہیں۔

تیز چہل قدمی

ورزش کو معمول بنانا، جیسے تیز چہل قدمی بھی عام استعمال ہونے والی ادویات کی طرح بلڈ پریشر کو کم کرنے میں موثر ثابت ہوسکتی ہیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تیز چہل قدمی سے دل کو آکسیجن زیادہ موثر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے جس کی وجہ سے اسے خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ مشقت نہیں کرنا پڑتی، ہر ہفتے چند دن آدھے گھنٹے کی تیز چہل قدمی بلڈپریشر کو معمول پر رکھتی ہے۔

گہری سانس لینا

ہمارا جسم تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمونز جیسے کورٹیسول وغیرہ پر ردعمل خون کا دباﺅ بڑھا کر ظاہر کرتا ہے، یہ ہارمونز دل کی دھڑکن بڑھانے اور شریانوں کو سکڑنے پر مجبور کردیتے ہیں جس سے بلڈ پریشر اوپر جاتا ہے، تاہم آہستگی سے گہری سانسیں لینا اور مراقبہ وغیرہ ان ہارمونز کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے اور بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں رہتا ہے، اس کا آغاز صبح پانچ منٹ اور رات کو پانچ منٹ سے کریں اور پھر بتدریج وقت بڑھاتے چلے جائیں۔

پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں

پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں جیسے کیلے، آلو، مالٹے، شکر قندی، لوبیا، مٹر، خربوزے اور خشک آلو بخارے میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور انہیں کھانا عادت بنانا بلڈپریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

نمک کا کم استعمال

یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ زیادہ نمک کھانا بلند فشار خون کا باعث بن سکتا ہے، تو نمک کا اعتدال میں رہ کر استعمال کرنا اس خطرے کو ختم کرسکتا ہے، امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق 1500 ملی گرام سے کم نمک کا استعمال بلڈ پریشر کو مستحکم رکھتا ہے۔

کیفین کا کم استعمال

اگر آپ ہائی بلڈ پریشر کا شکار نہیں تب بھی کیفین کے زیادہ استعمال سے گریز بہتر ہوگا، کیونکہ یہ عنصر دل کی دھڑکن کی رفتار اور بلڈ پریشر کو بڑھا دیتا ہے، ابھی یہ تو واضح نہیں کہ کیفین سے بلڈ پریشر کیوں بڑھتا ہے مگر ایسا ہوتا ضرور ہے، اس لیے دن بھر میں 4 کپ سے زیادہ کافی کا استعمال بلڈپریشر کا مریض بنادینے کے لیے کافی ہے۔

ڈارک چاکلیٹ

چاکلیٹ تو ایسی چیز ہے جس سے دن میں کسی بھی وقت لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق بلڈ پریشر کے شکار افراد اگر 18 ہفتوں تک کچھ مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کھائیں تو ان میں فشار خون کی شرح 20 فیصد تک کم ہوجاتی ہے۔

موسیقی سے لطف اندوز ہونا

آپ کے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرنے والی دھنیں بلڈپریشر کو بھی کم کرتی ہیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لوگوں کی پسندیدہ موسیقی بلڈپریشر میں کمی لانے میں مدد دیتی ہے۔

ایک گلاس دودھ

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ایک گلاس دودھ پینے کی عادت بلڈپریشر کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تحقیق میں بتایا گیا کہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس سے جسم میں پیدا ہونے والا ورم بلڈپریشر کو بڑھاتا ہے مگر دودھ اسے کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

تمباکو نوشی سے گریز

سیگریٹ میں شامل نکوٹین بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے، تو جو لوگ دن بھر بے تحاشہ تمباکو نوشی کرتے ہیں ان کا بلڈ پریشر ہمیشہ بڑھا ہوا ہی آتا ہے، جس سے گریز امراض قلب اور فالج وغیرہ سے تحفظ کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔

لاعلاج ذیابیطس کا علاج آپ کے اپنے ہاتھ میں

کیا آپ ذیابیطس کے شکار ہیں جسے لاعلاج مرض بھی قرار دیا جاتا ہے تو ہفتے میں 3 بار پندرہ، 15 منٹ کی سخت ورزش کرنا اس سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ دعویٰ اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

گلاسگو یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہفتے میں 3 بار ورک آﺅٹ کرنا انسولین کی حساسیت کو اتنا ہی بہتر بناتا ہے جتنا 45 منٹ کی ورزش۔

انسولین کی حساسیت ذیابیطس ٹائپ ٹو کی علامت ہوتی ہے اور اس تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ہفتہ بھر میں 45 منٹ کی سخت ورزش اس مرض کا ممکنہ علاج ثابت ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 10 موٹاپے کے شکار افراد کی خدمات لی گئی تھیں کیونکہ جسمانی وزن میں اضافے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے درمیان تعلق موجود ہے۔

محققین نے ورک آﺅٹ کے انسولین کی حساسیت پر مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ کرنے کے لیے ان رضاکاروں کو 2 گروپ میں تقسیم کیا جن میں سے ایک کو15 منٹ جبکہ دوسرے کو 45 منٹ کی سخت ورزش ہفتے میں تین بار کرنے کی ہدایت کی۔

چھ ہفتے کے تجربے کے بعد نتائج سے معلوم ہوا کہ 15 منٹ کا ورک آﺅٹ بھی اتنا ہی موثر ہے جتنا 45 منٹ کا۔

دونوں گروپس میں انسولین کی حساسیت کو 16 فیصد بہتر پایا گیا۔

انسولین کی حساسیت خون میں موجود گلوکوز کی شرح کو کنٹرول میں اہمیت رکھتی ہے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو میں انسولین کی حساسیت کم ہوجاتی ہے جس سے بلڈ شوگر لیول بڑھنے لگتا ہے جو آگے بڑھ کرامراض قلب اور فالج جیسے امراض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

دونوں گروپ کے مسلز بھی 2 ہفتے میں زیادہ مضبوط اور پہلے سے زیادہ بڑے ہوگئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ ہر طرح کی جسامت رکھنے والے افراد پر اتنی ورزش کیسے اثرات مرتب کرتی ہے، اور یہ بھی اہم ہے کہ ہر شخص جم نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا گھر پر جم جیسی ورزشیں کس حد تک فائدہ مند ہوتی ہیں اور اگر نتائج مثبت ہوئے تو مستقبل میں اس طرح کی ورزشوں کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے علاج کا حصہ بن سکتی ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ایکسپیرمنٹل فزیولوجی میں شائع ہوئے۔

Google Analytics Alternative