صحت

اعصابی پیوند کی تنصیب سے معذور شخص دوبارہ چلنے لگا

جنیوا: سویٹزر لینڈ میں ایک اہم اور پرامید تجربے کے بعد وھیل چیئر کے محتاج شخص کو اعصابی پیوند لگایا گیا تو وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوکر چلنے لگا۔

اس شخص کا حرام مغز (اسپائنل کورڈ) کسی وجہ سے متاثر ہوگیا تھا اور اس کے اعصاب کے سگنل ٹانگوں تک نہیں پہنچ رہے تھے۔ اسی طرح کے ایک اور تجربے میں دو افراد کے حرام مغز میں برقی پیوند (امپلانٹ) لگائے گئے تو ان کے پیروں کے پٹھوں میں حس جاگنے لگی۔

عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے نیچر میں شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حرام مغز ہی وہ مقام ہے جو اعضا کو کنٹرول کرکے حرکت دیتا ہے اور ہمیں پیروں میں سردی گرمی اور دباؤ کا احساس بھی اسی وجہ سے ہوتا ہے۔ حرام مغز کے متاثر یا تباہ ہونے کی صورت میں مریض جزوی یا مکمل طور پر معذور ہوکر بستر یا وھیل چیئر کا محتاج بن جاتا ہے۔ گردن کے نیچے سے ریڑھ کی ہڈی کے کنارے تک جو اعصاب تاروں کی طرح چپکے ہوتے ہیں انہیں مجموعی طور پر حرام مغز سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے مہارین نے متاثرہ افراد کے حرام مغز میں برقی پیوند لگائے جس کے بعد برقی سگنل کی رکاوٹ دور ہوگئی اور دماغ کے سگنل حرام مغز سے ٹانگوں تک جانے لگے ۔ جن جن افراد میں یہ پیوند لگایا گیا ان میں کچھ نہ کچھ بہتری دیکھی گئی ۔

ایک مریض ڈیود مائزی کھیل کے دوران چوٹ لگنے کے بعد عمربھر کے لیے معذور ہوچکا تھا۔ لیکن وہ اس عمل کے بعد اپنے پیروں پر چلنے لگا ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ وہ اس عمل کو جاننے کی مکمل کوشش کررہے ہیں کیونکہ یہ ابتدائی مراحل میں ہے اور صرف چند لوگوں پر ہی اسے آزمایا گیا ہے۔ پیوند لگانے والے ایک سائنسدان ڈاکٹر گریگوئر کورٹائن نے کہا کہ ہمارا کام دماغی اشاروں کو ٹانگوں تک پہنچانا ہے اور اسے کنٹرول کرنے کا کام خود مریض کا ہے جسے اس کی کوشش کرنی ہوگی۔

ڈاکٹر گریگوئر کورٹائن نے بتایا کہ ایک مریض دو روز بعد اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا اور ایک ہفتے میں بہت فطری انداز میں چلنے لگا۔ اس سے قبل اس کے پیروں میں کوئی جنبش تک نہیں ہوتی تھی۔

ان سبز پتوں کے فائدے جانتے ہیں؟

میتھی ایک عام دستیاب بوٹی یا یوں کہہ لیں سبزی ہے جو اکثر افراد آلو کے ساتھ بنانا پسند کرتے ہیں یا بچوں کو دودھ پلانے والی مائیں اس کا استعمال کرتی ہیں۔

مگر کیا آپ کو پتا ہے کہ یہ سبز پتے صحت کے لیے کتنے فائدہ مند ہیں جس کے بیج بھی مصالحے اور مختلف ادویات کی تیاری کے لیے استعمال ہوتے ہیں؟

اگر معلوم نہیں تو میتھی کے فوائد جان لیں۔

ماں کے دودھ کی مقدار بڑھائے

میتھی بریسٹ ملک کی مقدار بڑھانے کے لیے کافی فائدہ مند ہے، اسے چائے یا سپلیمنٹ کی شکل میں استعمال کرنا خواتین کو اس مسئلے سے نجات پانے میں مدد دے سکتا ہے۔

جسمانی ورم میں کمی

میتھی جراثیم کش ہونے کے ساتھ اینٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ جسمانی ورم میں کرکے مختلف امراض جیسے ڈپریشن، امراض قلب اور جوڑوں کے درد وغیرہ سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر کرے

یہ بھوک بڑھانے کے لیے فائدہ مند ہے جبکہ غذائی نالی کے مختلف مسائل جیسے بدہضمی، قبض اور گیس جیسے مسائل کے خلاف بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔ اس کو کھانے سے معدے میں شوگر جذب ہونے کی رفتار سست ہوتی ہے اور انسولین کی پیداوار بڑھتی ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اسے بہترین ثابت کرتا ہے جبکہ یہ کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

 

کیا آپ انار کے ان لاتعداد فوائد سے آگاہ ہیں؟

حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مطابق انار کھانا نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے۔

کم حراروں (کیلوریز) مگر وٹامن سی، وٹامن بی فائیو، پوٹاشیم اور فائبر سے بھرپور اس پھل کے سفید چھلکے اور پتلی باہری جلد بھی کھائی جاسکتی ہے بلکہ وہ پھل کا ہی حصہ ہوتے ہیں۔ اس پھل میں اینٹی آکسیڈنٹس اور جراثیم کش خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

اس موسم میں آسانی اور مناسب قیمت میں دستیاب اس پھل کا استعمال عادت بنالینا چاہئے۔

اس خوش ذائقہ جنتی پھل کے استعمال سے آپ کئی ایسے فوائد حاصل کرسکتے ہیں جن کو مصنوعی طریقے سے حاصل کرنے کے لیے آپ کو کئی کڑوی اور مہنگی دواؤں کا استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔

موٹاپے سے نجات

فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے انار زیادہ کھانے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی جبکہ ہاضمہ بھی صحت مند ہوتا ہے اور قبض کا خطرہ کم کوتا ہے۔ اس میں فیٹ نہیں ہوتا لہذا جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہترین غذا بھی تصور کیا جاتا ہے۔

کیل مہاسوں سے نجات

اگر آپ روزانہ آٹھ اونس انار کا جوس پیئں، تو آپ کی جلد دانوں سے پاک، جوان، اور چمکدار نظر آئے گی۔

بالوں کے گرنے کا مسئلہ حل کریں

انار میں موجود فیٹی ایسڈ بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتا ہے جس کی وجہ سے بال گرنے کی شکایت کم ہوجاتی ہے۔

کینسر سے تحفظ

انار میں سبز چائے سے زیادہ اینٹی آکسیڈینٹس موجود ہوتے ہیں۔ اگر اس کے استعمال کو معمول بنا لیا جائے، تو یہ چھاتی، بڑی آنت، اور مثانے کے کینسر سے بھی مدافعت فراہم کرتا ہے۔ اس کے چھلکے میں الیجک ایسڈ موجود ہوتا ہے، جو جلد کے کینسر کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

خون کی کمی دور کرے

انار بھی ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مددگار پھل ہے جس کی وجہ اس میں وٹامن سی کی موجودگی ہے جو آئرن کی موجودگی کو بڑھاتی ہے۔دورانِ حمل انار کا باقاعدگی سے استعمال انیمیا اور اکڑن سے محفوظ رکھتا ہے۔

امراض قلب اور فالج سے بچائے

انار میں موجود فائٹو کیمیکلز کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کم کرتے ہیں جبکہ روزانہ انار کا ایک اونس تازہ جوس پینے سے خون کی شریانوں میں خون کے لوتھڑے یا رکاوٹیں دور ہوتی ہیں، جو فالج اور دل کی دیگر بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

گردوں کے امراض کا باعث بننے والی عام عادتیں

گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہیں جبکہ یہ نمک، پوٹاشیم اور ایسڈ لیول کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔

مگر گردوں کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

گردوں کو ہونے والے نقصان کی علامات کافی واضح ہوتی ہیں تاہم لوگ جب تک ان پر توجہ دیتے ہیں اس وقت تک بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔

اور افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر لوگ گردوں کے امراض کو دعوت اپنی چند عادات یا سستی کے باعث دیتے ہیں، جو بظاہر بے ضرر ہوتی ہیں مگر ان پر قابو نہ پانا جان لیوا ہوسکتا ہے۔

پیشاب کو روکنا

بروقت اپنے مثانے کو خالی نہ کرنا گردوں کے امراض کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، اگر آپ اکثر پیشاب کو روک کر بیٹھے رہتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مثانے میں بیکٹریا کی مقدار میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ بتدریج یہ عادت سنگین نتائج جیسے گردوں کے انفیکشن اور پیشاب غیر ارادی طور پر خارج ہونے کے شکل میں سامنے آتی ہے۔

بہت زیادہ بیٹھنا

جسمانی طور پر سرگرم رہنا بلڈ پریشر اور گلوکوز لیول کو معمول کی سطح پر رکھنا میں مدد دیتا ہے اور یہ دونوں عناصر گردوں کی صحت مستحکم رکھنے کے لیے بہت ضروری ہیں، اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا گردوں کے امراض کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ دن بھر میں 8 گھنٹے سے زائد وقت کرسی پر بیٹھ کر گزارتے ہیں تو یہ خطرہ بہت جلد حقیقی شکل اختیار کرسکتا ہے، تو اس سے بچنے کے لیے ہفتہ بھر میں کم از کم 2 سے 3 بار ورزش کو عادت بنائیں اور چہل قدمی سے بھی لطف اندوز ہو۔

نیند کی کمی

رات کی اچھی نیند صرف ذہنی صحت کے لیے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ یہ گردوں کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے، سونے اور جاگنے کا چکر گردوں کے افعال کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس عضو کے ٹشوز اسی وقت ری نیو ہوتے ہیں جب آپ سو رہے ہوتے ہیں، تو اگر نیند کی کمی کا سامنا ہوگا تو گردوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھتا ہے۔

ڈائیٹ مشروبات استعمال کرنا

طبی ماہرین کے مطابق ڈائیٹ مشروبات کے استعمال اور گردوں کے امراض کے درمیان تعلق موجود ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو خواتین دن بھر میں 2 یا اس سے زائد بار ڈائیٹ مشروبات کا استعمال کرتی ہیں، ان کے گردوں کے افعال میں نمایاں کمی آتی ہے۔

بہت زیادہ سرخ گوشت کھانا

حیوانی پروٹین کی بہت زیادہ مقدار کو جسم کا حصہ بنانا خون میں تیزاب کی مقدار کو بڑھاتا ہے، جس سے گردے جسم میں ہائیڈروجن کو متوازن نہیں رکھ پاتے، وقت گزرنے کے ساتھ یہ عارضہ سنگین نظام ہاضمہ کے مسائل کا باعث بنتا ہے جبکہ گردوں کے جان لیوا امراض شکار بناسکتے ہیں۔

چینی اور نمک کی زیادہ مقدار جزو بدن بنانا

غذا کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والے نمک کے 95 فیصد حصے کو گردے میٹابولز کرتے ہیں، تو اگر نمکین اشیاءکو زیادہ کھائیں گے تو گردوں کو اضافی نمکیات کے اخراج کے لیے سخت محنت کرنا پڑے گی، جس کے نتیجے میں گردوں کے افعال میں کمی آئے گی۔ اسی طرح چینی کا زیادہ استعمال بھی ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے اور ذیابیطس جیسے امراض کا باعث بنتا ہے اور یہ تینوں ہی گردوں کے فیلیئر کے اہم ترین عناصر ہیں۔

جنک فوڈ کا شوق

بیشتر پراسیس فوڈ میں نمک بہت زیادہ ہوتا ہے جو کہ نہ صرف دل کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ گردوں کے مسائل کا باعث بنتا ہے۔ جب آپ زیادہ نمک جسم کا حصہ بناتے ہیں تو جسم کے لیے اس اضافی مقدار کا اخراج مسئلہ بن جاتا ہے، جو بتدریج گردوں میں پتھری کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

بلڈ پریشر کنٹرول نہ کرنا

ہائی بلڈ پریشر پورے جسم کے ساتھ گردوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، درحقیقت ہائی بلڈ پریشر کے نتیجے میں جب شریانوں پر دباﺅ بڑھتا ہے تو اس کا اثر گردوں پر بھی ہوتا ہے۔ اگر ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں نہ کیا جائے تو اس سے گردوں کی طرف جانے والی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور گردوں میں زخم ہوسکتے ہیں۔

تمباکو نوشی

اگر آپ کو لگتا ہے کہ تمباکو نوشی صرف پھیپھڑوں کو ہی نقصان پہنچاتی ہے تو دوبارہ سوچیں کیونکہ ایک طبی تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی سے گردوں میں کینسر کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اسی طرح تمباکو نوشی سے خون کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

پانی کی مناسب مقدار نہ پینا

ایک تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی شدید کمی کے نتیجے میں گردے خون میں موجود زہریلے مواد کو فلٹر کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں اور جمع ہونے والا فضلہ گردوں کے فیل ہونے کا باعث بن جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ پانی کی کمی کو دور کرنا گردوں کے امراض سے تحفظ دینے کا آسان طریقہ ہے خاص طور پر درمیانی عمر کے افراد کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔

درد کش ادویات کا زیادہ استعمال

دردکش ادویات یا ورم کش ادویات جیسے بروفین یا اسپرین وغیرہ سے گردوں کی جانب دوران خون کم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں اس عضو کو نقصان پہنچتا ہے۔ ایسا نہیں کہ درد ہونے پر دوا نہ کھائیں مگر ان کا بہت زیادہ استعمال کرنے سے گریز کریں۔

جسمانی وزن کو کنٹرول نہ کرنا

یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ اضافی جسمانی وزن اندرونی اعضاءپر دباﺅ بڑھاتا ہے، موٹاپے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھتا ہے جس سے بھی گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے، انسولین کے مسائل سے گردوں میں ورم اور زخم کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اینٹی بایوٹیکس ادویات جسم پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں؟

آج کل جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو اکثر ڈاکٹر جلد صحت یابی کے لیے اینٹی بایوٹیکس ادویات تجویز کرتے ہیں۔

اینٹی بایوٹیکس ادویات کا استعمال جسمانی دفاعی نظام پر ملے جلے اثرات مرتب کرتا ہے اور اکثر ان کے اثرات ہیضے اور قے وغیرہ کی شکل میں بھی سامنے آتے ہیں۔

مگر ان ادویات کے اثرات اس سے ہٹ کر بھی جسم پر مرتب ہوسکتے ہیں کیونکہ مختلف افراد میں یہ سائیڈ ایفیکٹس مختلف ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

فنگل انفیکشن

اینٹی بایوٹیکس کے استعمال سے جسم میں بیکٹریا میں تبدیلی آتی ہے جس کے نتیجے میں لوگوں میں فنگل انفیکشن کا امکان بڑھتا ہے جو کہ منہ، جلد یا ناخنوں کے اندر ظاہر ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے؟ اگر تو آپ کو طویل مدت کے لیے ان ادویات کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرکے اینٹی فنگل ادویات کو بھی ان میں شامل کرلیں۔

دانتوں کی رنگت بدل جانا

مختلف اینٹی بایوٹیک ادویات کے نتیجے میں 8 سال سے کم عمر بچوں کے دانتوں کی رنگت بدل سکتی ہے، جبکہ حاملہ خواتین ان ادویات کا استعمال کریں تو یہ امکان ہوتا ہے کہ ان کے ہونے والے بچے میں دانتوں کے مسائل ہوسکتے ہیں۔

بخار

اگرچہ بخار تو متعدد وجوہات کی بناءپر ہوسکتا ہے تاہم اگر آپ نوٹس کریں کہ ان ادویات کے فوری استعمال کے بعد بخار چڑھا ہے تو یہ ممکنہ طور پر الرجی ری ایکشن ہوسکتا ہے۔ کسی بھی قسم کی اینٹی بایوٹیک دوا سے بخار ہوسکتا ہے جو کہ بہت جلد اتر بھی جاتا ہے، تاہم اگر اس کی شدت زیادہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے ادویات میں تبدیلی کے بارے میں مشورہ کرنا چاہئے۔

الرجی

اینٹی بایوٹیک کے خطرناک ری ایکشن میں سے ایک الرجی ری ایکشن ہوتا ہے، اس صورت میں آنکھیں، ہونٹ، زبان اور گلا سوج سکتا ہے جبکہ خارش ہوسکتی ہے، ایسی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں اور مختلف گروپ والی ادویات کا استعمال کریں۔

دل کے مسائل

ایسا اکثر تو نہیں ہوتا مگر اینٹی بایوٹیکس سے دل کے مسائل کا خطرہ ضرور ہوتا ہے جو کہ عام طور پر دھڑکن میں بے ترتیبی یا لو بلڈ پریشر کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

سردرد اور سرچکرانا

سردرد اور سر چکرانا اینٹی بایوٹیکس کے سب سے عام سائیڈ ایفیکٹس ہیں جو کہ ان ادویات کا استعمال ترک کرنے پر ختم ہوجاتے ہیں۔ ویسے اگر یہ درد زیادہ نہ ہو تو دردکش دوا استعمال کی جاسکتی ہے، اگر یہ درد ناقابل برداشت ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

امراض قلب سے بچانے کا مزیدار نسخہ

دودھ کے خمیر سے بننے والی اشیاءجیسے پنیر اور دہی وغیرہ کھانے کی عادت امراض قلب اور ہارٹ اٹیک سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات فن لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ایسٹرن فن لینڈ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دودھ کے خمیر سے بننے والی اشیاءدنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کا باعث بننے والے امراض کا خطرہ مردوں میں نمایاں حد تک کرتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران سیکڑوں رضاکاروں کی غذائی عادات کا جائزہ 25 سال تک لیا گیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دودھ کے خمیر سے بننے والی مصنوعات کولیسٹرول کی سطح پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں جس کے نتیجے میں دل کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔

دوسری جانب آئسکریم اور مکھن کا زیادہ استعمال الٹا اثر کرتا ہے یعنی امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 2 ہزار افراد کو مختلف گروپس میں دودھ کی بنی مصنوعات استعمال کرنے کی مقدار کی بنیاد پر تقسیم کرکے طرز زندگی کے مختلف عناصر کا بھی جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے دورانیے کے دوران 472 مردوں کو امراض قلب یا ہارٹ اٹیک کا سامنا ہوا تاہم محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ پنیر یا دہی وغیرہ زیادہ کھانے کے عادی تھے، ان میں ہارٹ اٹیک یا دیگر دل کی بیماریوں کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوا۔

محققین نے یہ واضح نہیں کیا کہ دہی یا پنیر سے زیادہ فائدہ کیوں ہوتا ہے تاہم ان کے خیال میں خمیر کے دوران بننے والے کمپاﺅنڈ ممکنہ طور پر یہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔

موٹاپے کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

بہت زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپا مختلف امراض سے موت کا خطرہ توقعات سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسین کی تحقیق کے دوران 36 لاکھ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن افراد کا جسمانی وزن یا بی ایم آئی 25 سے زیادہ ہوتا ہے ان میں کینسر، ذیابیطس، امراض قلب سے لے کر متعدد امراض سے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جسمانی وزن میں اضافہ ویسے بھی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے مگر اب تک یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی تھی کہ موٹاپا کن وجوہات کی بناءپر بے وقت موت کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپا ہر قسم کے امراض اور ٹریفک حادثات کے نتیجے میں موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

25 کے بعد بی ایم آئی میں ہر بار 5 یونٹ کا اضافہ کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 13 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ صحت مند افراد کا جسمانی وزن 18.5 سے 24.9 بی ایم آئی کے درمیان ہوتا ہے اور ان میں مختلف جان لیوا امراض کا خطرہ بھی بہت کم ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے لانسیٹ ڈائیبیٹس اینڈ Endocrinology جرنل میں شائع ہوئے۔

تنہا رہنے سے ڈیمنشیا لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

فلوریڈا: ہزاروں افراد پر کئے گئے ایک سروے سے انکشاف ہوا ہےکہ اکیلا پن ایک جانب تواُداسی اور ڈپریشن کی وجہ بنتا ہے لیکن مسلسل تنہائی ڈیمنشیا جیسے مرض کو بھی جنم دیتی ہے۔ اس سروے میں مختلف افراد کی تنہائی کے مختلف ذہنی اثرات اور سماجی روابط کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی (ایف ایس یو) کے ماہرین نے  12030 افراد کا جائزہ لیا جن کی اوسط عمر 50 برس یا اس سے ذیادہ تھی۔ اس طویل مطالعے کے تفصیل’ دی جرنلز آف گیرنٹولوجی‘ میں شائع ہوئی ہیں۔ سروے میں شامل ڈاکٹر اینجلینا سیوٹن نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ تنہائی اور ڈیمنشیا کے درمیان تعلق کی پہلی کوشش نہیں لیکن اس میں ایک طویل فالواپ ہوگا اور اس میں مختلف آبادیوں اور گروہوں کو شامل کیا گیا ہے۔

سروے کے دوران وقفے وقفے سے شرکا سے سوالات کئے گئے جن میں تنہائی اور ذہنی کیفیت کے متعلق پوچھا گیا۔ مسلسل دس برس تک ہر دو سال بعد لوگوں سے سوالات کئے گئے اور اختتام تک 1104 افراد کو ڈینمشیا لاحق ہوگیا تھا۔ اس کے بعد جمع شدہ ڈیٹا کا بھی بغور جائزہ لیا گیا۔

دس سالہ طویل سروے اور ڈیٹا سے ظاہر ہوا ہے کہ تنہائی کے شکار افراد میں ڈینمشیا کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ ایک اور بات یہ سامنے آئی کہ اگر بزرگ افراد کی قلبی صحت درست ہو تو ان میں ڈیمنشیا کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

اس سے قبل طبی ماہرین کہہ چکے ہیں کہ تنہائی سے ڈپریشن، ذہنی تناؤ، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسی کیفیات لاحق ہوجاتی ہیں۔ پھر ورزش نہ کرنے اور تمباکو نوشی سے مزید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر تنہائی کو ڈیمنشیا کی اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ڈیمنشیا کی تعریف کرتے ہوئے اسے وہ مرض قرار دیا جس میں حافظہ شدید متاثر ہوتا ہے، سوچنے ، سمجھنے اور برتاؤ میں تبدیلی ہوتی ہے اور انسان روزمرہ کام بھی نہیں کرپاتا۔ اس وقت دنیا بھر میں 5 کروڑ افراد اس تکلیف دہ کیفیت کے شکار ہیں اور دوسروں کے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں۔

Google Analytics Alternative