صحت

سیب کے سرکے کے 15 زبردست طبی فوائد

سفید سرکہ گھریلو استعمال میں متعدد فوائد کا حامل ثابت ہوتا ہے مگر سیب کا سرکہ اس سے بھی زیادہ فائدہ مند ہے خاص طور پر طبی مقاصد کے لیے۔

جیسے ہچکیوں سے نجات دلانے سے لے کر نزلہ زکام کو دور بھگانے تک یہ سرکہ صحت کے لیے بہت مفید مانا جاتا ہے۔

یہاں اس کے کچھ فوائد دیئے جارہے ہین جن کو پڑھ کر ہوسکتا ہے کہ یہ آپ کے کچن کا حصہ بن جائے۔

ہچکیوں کی روک تھام

اگر ہچکیاں کسی طرح روک نہ رہی ہو تو ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ پی لیں، اس کا کھٹا ذائقہ پچکیوں کو روک دے گا۔ درحقیقت یہ سرکہ ان عصبی خلیوں کو روک دیتا ہے جو پچکیوں کا باعث بنتے ہیں۔

گلے کی تکلیف میں ریلیف

اگر گلے میں تکلیف ہورہی ہو تو سیب کے سرکے سے اس انفیکشن کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔ سرکے میں موجود تیزابی خصوصیات کے سامنے بیشتر جراثیم ٹک نہیں پاتے۔ چوتھائی کپ سیب کے سرکے میں چوتھائی کپ گرم پانی ملائیں اور ہر گھنٹے بعد غرارے کریں۔

کولیسٹرول کم کرے

ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سرکوں میں پائے جانے والے ایسٹک ایسڈ کے نتیجے میں چوہوں میں خراب کولیسٹرول کی سطح میں کمی آئی۔ اسی طرح ایک جاپانی تحقیق کے مطابق روزانہ کچھ مقدار میں سیب کا سرکہ استعمال کرنے سے لوگوں میں کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے۔

خارش دور کرے

خارش کی شکار جلد کے لیے بھی سیب کا سرکہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے، سرکے کے چند قطرے روئی پر ٹپکائیں اور اسے متاثرہ حصے پر رکھ دیں۔ اس میں موجود اجزاءخارش زدہ جلد کو سکون پہنچانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

معدے کی تیزابیت سے نجات

اگر آپ کو سینے میں جلن یا معدے میں تیزابیت کی شکایت ہے تو 2 چائے کے چمچ سیب کے سرکے کو ایک گلاس پانی میں ملائیں اور کھانے کے دوران پی لیں۔ سیب کا سرکہ معدے کی تیزابیت کو کم کرتا ہے جبکہ غذائی نالی کو معدے میں تیزابیت بڑھنے کے اثر سے بچاتا ہے۔

پیروں کے ناخنوں کی فنگس دور کرے

سیب کا سرکہ پیروں کے ناخنوں کی فنگس سے نجات کے لیے ایک مقبول ٹوٹکے کی حیثیت رکھتا ہے، یکساں مقدار میں سیب کے سرکے اور پانی کو ملائیں اور اس سے پیر کو دھوئیں۔ اس میں موجود تیزابیت متاثرہ جلد یا ناخن پر اثرانداز تو نہیں ہوتی مگر فنگس کے خاتمے میں ضرور مفید ثابت ہوتی ہے۔

نظام ہاضمہ کے لیے مفید

سیب کا سرکہ نظام ہاضمہ کے لیے بھی فائدہ مند ہے جو کہ غذا کے ٹکڑے ہونے میں مدد دیتا ہے۔ سیب کے سرکے کو پانی میں ملا کر استعمال کرنا بدہضمی، قبض یا ہیضے وغیرہ سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

بہتی ناک کی صفائی

اگر نزلہ زکام کا شکار ہوجائیں تو سیب کا سرکہ استعمال کرکے دیکھیں۔ اس کے اندر پوٹاشیم موجود ہوتا ہے جو ناک کو کھولتا ہے جبکہ ایسٹک ایسڈ جراثیموں کی تعداد کو کم کرتا ہے اور ناک کھولنے کا کام کرتا ہے۔ ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ ایک گلاس پانی میں ملائیں اور پی لیں۔

جسمانی وزن میں کمی

سیب کا سرکہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں موجود ایسٹک ایسڈ خوراک کی خواہش کم کرکے میٹابولزم کو تیز کرتا ہے۔ طبی ماہرین کے خیال میں یہ سرکہ جسم کے نظام ہاضمہ کو بھی تیز کرتا ہے جس کے نتیجے میں دوران خون میں بہت کم کیلوریز باقی رہتی ہیں۔

بالوں کی خشکی سے نجات

اس سرکے کی تیزابیت سر کی سطح میں تبدیلیاں لاکر خشکی کو دور کرتی ہے۔ چوتھائی کپ سیب کے سرکے کو چوتھائی کپ پانی میں ملا کر کسی اسپرے بوتل میں ڈال لیں اور پھر اپنے سر پر اس کا چھڑکاﺅ کریں۔ اس کے بعد اپنے سر پر تولیہ لپیٹیں اور پندرہ منٹ سے ایک گھنٹے تک کے لیے بیٹھ جائیں اور پھر بالوں کو دھولیں۔ بہترین نتائج کے لیے ہفتے میں دو بار اس کو دہرائیں۔

کیل مہاسوں کو صاف کریں

سیب کا سرکہ ایک قدرتی ٹونک ہے جو جلد کو صحت مند بناتا ہے۔ اس کی جراثیم کش خوبیاں کیل مہاسوں کو کنٹرول میں رکھتی ہیں جبکہ جلد کو نرم اور لچکدار بنانے کا کام بھی کرتی ہیں۔

توانائی بڑھائے

ورزش اور بہت زیادہ تناﺅ جسم کو نڈھال کردیتا ہے مگر حیرت انگیز طور پر سیب کے سرکے میں موجود امینو ایسڈز اس کو دور کرنے کا کام کرتے ہیں۔ اس سرکے میں پوٹاشیم سمیت دیگر اجزاءبھی شامل ہیں جو تھکان کی کیفیت کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایک یا دو چمچ سیب کے سرکے کو ایک گلاس میں پانی میں ملا کر پی لیں۔

بدبودار سانس کا خاتمہ

اگر برش کرنے اور ماﺅتھ واش سے بھی سانس کی بو ختم نہیں ہورہی تو اس گھریلو نسخے کو استعمال کرکے دیکھیں۔ سیب کے سرکے سے غرارے کریں یا ایک چائے کا چمچ پانی میں ملا کر پی لیں تاکہ بو پیدا کرنے والے بیکٹریا کا خاتمہ ہوسکے۔

دانتوں کو چمکائے

صبح سیب کے سرکے سے غرارے کرنے سے دانتوں پر جمے داغوں کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے اور وہ چمکنے لگتے ہیں۔ یہ سرکہ منہ اور مسوڑوں میں موجود بیکٹریا کو بھی ختم کرتا ہے۔ غراروں کے بعد دانتوں کو معمول کے مطابق برش کریں۔

بلڈ شوگر پر کنٹرول

سیب کے سرکے کی کچھ مقدار کو پینا بلڈ شوگر لیوم کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دو چائے کے چمچ سیب کا سرکہ سونے سے قبل پینے سے صبح گلوکوز کی سطح میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

روزانہ زیادہ سے زیادہ کتنے کپ چائے پی جاسکتی ہے؟

پاکستان میں چائے کی مقبولیت سے انکار ممکن نہیں اور یہ گرم مشروب دنیا کے بیشتر حصوں میں بھی پسند کیا جاتا ہے۔

مختلف تحقیقی رپورٹس میں چائے نوشی کی عادات کے فوائد کا ذکر ہوا ہے جیسے قبل از وقت دماغی تنزلی سے تحفظ، مخصوص اقسام کے کینسر، فالج، امراض قلب اور ذیابیطس کے خطرے میں کمی وغیرہ۔

تاہم اس کا حد سے زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے اور اسے مشروب کو اعتدال میں رہ کر ہی پینا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ روزانہ کتنی چائے پینا نقصان دہ ہوسکتا ہے؟

اس کا جواب جاننے سے پہلے زیادہ چائے پینے کے نقصانات جان لیں۔

نیند کے مسائل

چائے میں موجود کیفین پیشاب زیادہ آنے کا باعث بنتی ہے خاص طورپر اگر بہت زیادہ پیا جائے تو، اسی طرح یہ نیند اڑانے یا دیگر مسائل کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔

قبض

چائے میں موجود ایک کیمیکل Theophylline غذا کے ہضم ہونے کے عمل کے دوران ڈی ہائیڈریشن کا باعث بن سکتا ہے جو کہ قبض کا شکار بنا دیتا ہے۔ ویسے تو چائے کو آنتوں کی حرکت یا قبض سے بچاﺅ کے لیے فائدہ مند بھی مانا جاتا ہے مگر اس کی زیادہ مقدار استعمال قبض کا شکار بنانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

ذہنی بے چینی

کیفین کو مزاج پر اثر انداز ہونے والی مقبول ڈرگ بھی مانا جاتا ہے جو مثبت کے ساتھ جسم پر منفی اثرات بھی مرتب کرسکتی ہے، بہت زیادہ چائے پینا نیند کی کمی، ذہنی بے چینی اور دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھانے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

مثانے کا کینسر

یہ بہت زیادہ چائے پینا کا سب سے بڑا نقصان ہے، ایک تحقیق کے مطابق جو مرد بہت زیادہ چائے پیتے ہیں، ان میں مثانے کے کینسر کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

خون کی شریانوں کے مسائل

چائے میں موجود کیفین خون کی شریانوں کے نظام کے لیے کچھ زیادہ اچھی نہیں ہوتی اور اسے بہت زیادہ مقدار میں جسم کا حصہ بنانا دل کے امراض کا باعث بن سکتا ہے۔

کتنی چائے بہت زیادہ سمجھی جاسکتی ہے؟

اس حوالے سے جواب واضح تو نہیں تو مختلف تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 2 سے 4 کپ روزانہ نارمل سمجھا جاسکتا ہے جبکہ کچھ کا دعویٰ ہے کہ روزانہ 10 کپ تک چائے پی جاسکتی ہے تاہم طبی ماہرین کے خیال میں اوسطاً روزانہ 3 سے 5 کپ چائے کا استعمال کرنا چاہئے، اس سے زیادہ نہیں۔

آنتوں کیلیے خطرناک جراثیم ’سلمونیلا‘ کے خلاف قدرت کا خصوصی انتظام

کیلیفورنیا:قدرت نے انسان کے معدے اور آنتوں کی حفاظت کا بھی ایک خصوصی انتظام کررکھا ہے، معلوم ہوا ہے کہ معدے اور آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریاز آنتوں پر حملہ کرنے والے جراثیم ’سلمونیلا‘ کو دیکھتے ہی اس پر حملہ کرکے اسے تباہ کر دیتے ہیں۔

سائنسی جریدے ’سیل ہوسٹ اینڈ مائکروب‘ میں شائع ہونے والے مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آنتوں پر حملہ کرکے نظام انہضام کو تباہ کرنے والے جراثیم سلمونیلا کے خلاف مزاحمت کے لیے آنتوں میں ہی مفید بیکٹیریاز موجود ہوتے ہیں جو سلمونیلا کے حملے کو ناکام بنا دیتے ہیں۔

اسٹین فورڈ یونیورسٹی آف میڈیسن میں چوہوں پر کی جانی والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سلمونیلا جیسے خطرناک جراثیم کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے چوہوں کی آنتوں میں ایک مالیکیول موجود تھا یہ مالیکیول آنتوں ہی میں موجود ہوتا ہے جسے آنتوں کے ’مفید بیکٹیریاز‘ کہا جاتا ہے اور یہ انسانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

انسانی آنتوں میں بھی موجود ان مفید بیکٹیریاز کو Bacteroides کہا جاتا ہے جس کی توڑ پھوڑ یعنی میٹا بولزم سے ایک بائی پروڈکٹ بنتی ہے جسے ’پروپیونیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ پروپیونیٹ سلمونیلا کی افزائش کو روک دیتا ہے جب کہ پہلے سے موجود سلمونیلا وقت مقررہ کے بعد اپنی موت آپ مرجاتے ہیں اور انسان صحت یاب ہو جاتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عام مشاہدے میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ لوگوں میں سلمونیلا کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے اور وہ سلمونیلا کے حملہ آور ہونے کے باوجود بغیر ادویات استعمال کیے صحت یاب ہوجاتے ہیں کیوں کہ ان میں ’گٹ بیکٹیریا‘ کی ضمنی پروڈکٹ ’پروپیونیٹ‘ کی وافر موجود ہوتی ہے۔

دن میں کتنے کپ کافی پینی چاہیے؟

تمام مشروبات جن میں کیفین کی بہت زیادہ تعداد موجود ہے، ان میں سب سے زیادہ کافی پی جاتی ہے، اور اگر ایک مرتبہ بہت زیادہ کافی پینے کی عادت لگ جائے تو اسے چھوڑنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

کافی ان افراد کے لیے کسی جادوئی مشروب سے کم نہیں جو صبح اٹھتے ہی ایکٹو ہونا چاہتے ہیں، کیفین کی وجہ سے کافی کا ایک کپ آپ کو گھنٹوں جگائے رکھ سکتا ہے۔

لیکن دن بھر میں کافی کے کتنے کپ پینا آپ کی صحت کے لیے صحیح ہے، کیوں کہ اس میں کیفین کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے، تو آپ کو ایک دن میں کتنی کافی کا استعمال کرنا چاہیے؟ کیوں کہ بہت زیادہ کیفین انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔

لوگ کافی کے عادی اس میں موجود کیفین کی وجہ سے ہوتے ہیں، وہ افراد جو روزانہ کافی نہیں پیتے، ان کا جسم کیفین کو اس طرح پرداشت نہیں کرپائے گا، جس طرح روزانہ کافی پینے والے افراد کیفین کا استعمال کرتے ہیں۔

ہر انسان ایک دوسرے سے الگ ہے، اس لیے ہر کسی کی صحت پر کافی یا کیفین کا اثر بھی الگ انداز میں ہوتا ہے۔

ان سب کا تعلق عمر، صحت کی صورتحال اور جینیات پر بھی منحصر ہے۔

لیکن ایک دن میں کتنی کافی پینے چاہیے؟

ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ جن افراد پر کیفین کا کوئی منفی اثر نہیں ہوتا، وہ دن میں 3 کپ کافی پی سکتے ہیں لیکن بہتر ہے کہ دن میں دو کپ سے زیادہ کافی نہ ہی جائے۔

خیال رہے کہ کافی کے ایک کپ میں 95 سے 100 ملی گرامز کیفین موجود ہوتا ہے۔

زیادہ کافی پینے سے تیزابیت کے ساتھ جسم میں پانی کی کمی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق بچوں کو کم سے کم کافی کا استعمال کرنا چاہیے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

لہسن کے چھ اہم طبی فوائد

لندن: پوری دنیا میں عام دستیاب لہسن صحت کے خزانوں سے مالا مال ہے۔ غذائی و طبی ماہرین کے مطابق اس میں اینٹی آکسیڈنٹس، انقلابی مرکب ایلیسن، ڈائلِل ڈائی سلفائیڈ اور دیگر اہم اجزا پائے جاتے ہیں۔

اس میں پائے جانے والے سلفر مرکبات غذا کے ساتھ ہضم ہوکر جسم پر اپنے اہم اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس میں کیلوریز کی مقدار بہت کم لیکن غذائیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ 28 گرام لہسن میں 23 فیصد مینگنیز، 17 فیصد وٹامن بی 6، 15 فیصد وٹامن سی، کچھ مقدار میں سیلینیئم، فائبر، فولاد، پروٹین اور دیگر مفید کیمیکلز ہوتے ہیں لیکن کیلوریز کی مقدار صرف 42 ہوتی ہے۔

جاڑے اور سردی سے بچائے

لہسن کے مفید اجزا سردی لگنے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس کا باقاعدہ استعمال سردی کے حملے کو 63 فیصد تک کم کرتا ہے۔ لہسن کا باقاعدہ استعمال فلو کے حملے کو بھی زائل کرتا ہے۔

بلڈ پریشر کو قابو میں رکھے

لہسن میں موجود جادوئی کیمیکلز بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بلڈ پریشر کم کرنےکے لیے روزانہ دیسی لہسن کے چار جوے چباکر کھائیں۔

دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ لہسن کا باقاعدہ استعمال کولیسٹرول کے جن کو بھی اپنی حد میں رکھتا ہے۔

الزائیمراور دیگر ذہنی امراض سے بچائے

لہسن میں کئی طرح کے اینٹی آکسیڈنٹ اینزائم موجود ہوتے ہیں۔ ایک جانب تو یہ بلڈ پریشر معمول پر رکھتے ہیں تو دوسری طرف یہ الزائیمر اور ڈیمنشیا جیسے تیزی سے حملہ آور ہونے والے دماغی امراض سے بھی بچاتے ہیں۔ پھر عمر گزرنے کے ساتھ خلیات میں جو ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے یہ اسے بھی روکتا ہے۔

لہسن زندگی بڑھائے

چونکہ لہسن میں موجود مفید اجزا بلڈ پریشر اور کئی امراض کو روکتے ہیں اسی بنا پر انسانوں کو بیماری سے بچا کر قبل ازوقت اموات سے روکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لہسن سے خلیات کی ٹوٹ پھوٹ اور متاثر ہونے کے عمل کو سست کرتا ہے جس سے جسمانی امراض میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔

لہسن اور جسمانی قوت

تجربہ گاہ میں چوہوں پر کیے گئے تجربات سے انکشاف ہوا ہے کہ لہسن ورزش اور دوڑنے والوں کو توانائی پہنچا کر ان کی صلاحیت بہتر کرتا ہے۔ تاریخی حوالوں سے ثابت ہے کہ قدیم یونانی اولمپک کھلاڑیوں کو مقابلے سے کئی ہفتے پہلے سے اضافی لہسن دیتے تھے۔ اس سے ان کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا تھا۔

اسی مناسبت سے لہسن کھانے کو معمول بنانے سے جسم میں چستی اور قوت پیدا ہوتی ہے۔

امراضِ قلب اور لہسن

لہسن اور اس کا تیل دل کی بیماریوں کو دور کرنے کے غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ معمول کا فشارِ خون اور صحتمند کولیسٹرول سے انسان کئی امراضِ قلب سے بچ سکتا ہے۔

پاکستان میں ہیپا ٹائٹس بی اور سی وائرس ہولناک صورت اختیار کر گیا

کراچی:  ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کا وائرس شدت اختیار کررہا ہے۔

روزنامہ ایکسپریس اور گیٹز فارماکے اشتراک سے منعقدہ ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے حوالے منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے مختلف ماہرین صحت نے بتایا کہ یہ وائرس پاکستان میں دوسرے نمبرآگیا ہے بی اورسی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 45 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جوہولناک ہورہی ہے پاکستان میں ہیپاٹائٹس اے، بی، سی ڈی اور ای وائرس موجود ہے۔

سیمینار گیٹز فارما کمپنی میں منعقدکیاگیاجس میں گیٹز فارماکے مینجنگ ڈائریکٹر خالد محمود، آغاخاں یونیورسٹی واسپتال کے معروف ہیپاٹائٹس کے معالج پروفیسر سید وسیم جعفری،ڈاکٹر لبنی کامانی، ڈاکٹرمحمد صادق اچکزئی، ڈاکٹرزاہد اعظم اور ڈاکٹر صالح محمد چنا نے ہیپاٹائٹس وائرس سے بچاؤ اور علاج کے حوالے سے آگاہی فراہم کی، سیمینار خطاب کرتے ہوئے گیٹز فارما کے ایم ڈی خالد محمود نے کہاکہ گیٹز فارما پاکستان کی فارما انڈسٹری میں سب سے بڑی واحد کمپنی ہے جہاں عالمی معیارکے مطابق دواسازی کا کام جاری ہے ہماری کمپنی عالمی ادارہ صحت سے تصدیق شدہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں علم الادویہ کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق ہمارے پاس ماہرین کا مشاورتی بورڈ بھی موجود ہے جبکہ شعبہ تحقیق میں ماہرین شامل ہیں،گیٹز فارماکوالٹی اورعوام کی صحت کواپنا نصب العین سمجھتی ہے۔

سیمینار سیے پروفیسروسیم جعفری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کا وائرس ہولناک صورت اختیار کررہا ہے ملک بھر میں ان دونوں وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد تقریباڈیڑھ کروڑ تک پہنچ گئی ہے،انھوں نے کہاکہ بی وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین موجود ہے جبکہ سی وائرس لاحق ہونے کی صورت میں علاج بھی موجود ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اپنے اپلخانہ کے بی اورسی کے ابتدائی ٹیسٹ کرائے تاکہ ان وائرس کی تصدیق کی جاسکے،انھوں نے کہاکہ بچے کی پیدائش کے فوری بعد ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤکی حفاظتی ویکسینشن کرائی جائے تاکہ نوزائیدہ بی وائرس سے زندگی بھر کیلیے محفوظ ہوسکے، پروفیسر وسیم جعفری نے بتایا کہ اب سی وائرس کے مریضوں کا علاج آسانی سے کیاجارہا ہے ادویہ سستی ہوگئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غیروری ادویہ بھی جگر کو نقصان پہنچاتی ہیں لہذا ادویہ کا ازخود اوربالخصوص اینٹی بائیٹک دواؤںکااستعمال صرف ڈاکٹروں کے مشورے سے ہی کیاجائے، اس وقت پاکستان میں 5اقسام کے ہیپا ٹائٹس وائرس موجود ہیں ان میں اے، بی سی، ڈی اور ای وائرس شامل ہیں،انھوں نے کہاکہ بی وائرس لاحق ہونے کی صورت میں مستند لیورکے ڈاکٹروں سے رجوع کرنا چاہیے عدم توجہی اور لاپرواہی کی صورت میں لیور سروسس ہوجاتا ہے جس میں جگرسکٹرجاتا ہے جس کے بعد یہ کینسرکی شکل اختیارکرلیتا ہے۔

ڈاکٹر لبنی کامانی نے ہیپاٹائٹس ای کے حوالے سے بتایا کہ یہ وائرس 15سے40سال عمر کے درمیان میں ہوتا ہے، یہ وائرس ایشیائی اورخلیجی ممالک عام ہے، ای وائرس احتیاط کرنے سے ٹھیک ہوجاتا ہے تاہم ای وائرس خواتین میں دوران حمل زیادہ خطرناک ہوتا ہے، اس وائرس کا شکار مریضوںکو اینٹی بائیٹک کی ضرورت نہیں ہوتی لہذا دوران حمل خواتین کو ای وائرس کوچیک کرانا ضروری ہوتا ہے۔

بولان میڈیکل کالج کے ڈاکٹرمحمد صادق اچکزئی نے ہیپاٹائٹس ڈی(ڈیلٹا) وائرس کے حوالے سے بتایا اورکہاکہ ڈی وائرس صرف اس مریض کو ہوتا ہے جو بی وائرس کا مریض ہو، بی اور ڈی وائرس کی علامات بھی یکساں ہوتی ہیں، ڈی وائرس سے محفوظ رہنے کیلیے بی وائرس سے بچنا ہے۔

ڈاؤ انٹرنیشنل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر زاہد اعظم نے سیمینار کے انعقاد کو سراہا اور کہاکہ زندگی میں ہیپاٹائٹس بی وائرس سے متاثر ہونے کے 60فیصد امکانات ہوتے ہیں، بی وائرس کا علاج نہیں لیکن اس وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ویکسین موجود ہے لہذا بچے کی پیدائش کے بعد بی وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین لگوائی جائے۔

ڈاکٹر صالح محمد چنا نے کہاکہ ہیپاٹائٹس جگر کی مہلک بیماری ہے یہ وائرس ہے تاہم ہیپاٹائٹس اے وائرس یہ آلودہ پانی ، آلودہ کھانوں سے لاحق ہوتا ہے پاکستان کی 96فیصد افرادکسی نہ کسی طرح ہیپاٹائٹس اے وائرس سے متاثر ہیں۔

یوم ہیپاٹائٹس: یہ مرض کیا ہے اس کی علامات کیا ہیں؟

ہیپاٹائٹس درحقیقت جگر کی سوزش کو کہا جاتا ہے اور یہ اکثر ایک وائرل انفیکشن کے باعث ہوتا ہے۔

مگر اس کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں جن میں ادویات کے استعمال کا ری ایکشن، منشیات، الکحل وغیرہ۔

دنیا بھر میں ہر سال کروڑوں افراد اس کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں سے اکثر کو اس وقت تک علم نہیں ہوپاتا جب تک وہ بگڑ نہ جائے۔

جگر کو انفیکشن کی بھی مختلف اقسام ہے جنھیں ہیپاٹائٹس اے، بی ، سی، ڈی اور ای میں تقسیم کیا گیا ہے۔

جیسے ہیپاٹائٹس اس مرض کی ہلکی قسم کہی جاسکتی ہے جبکہ سی اور ڈی انتہائی سنگین اور ان کا علاج کا انحصار بھی اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ کو کونسا ہیپٹاٹائٹس ہوا ہے اور انفیکشن کی وجہ کیا ہے۔

ہیپاٹائٹس کی تمام اقسام کسی نہ کسی طرح ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتی ہیں خاص طور پر جسمانی رطوبت، انجیکشن کی آلودہ سوئیاں، جسمانی تعلقات وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

جیسا اوپر بتایا گیا ہے کہ ہیپاٹائٹس کا اکثر افراد کو علم ہی نہیں ہوپاتا اور اس کے شکار ہونے کی صورت میں جسم کا دفاعی نظام جگر کو ہی نقصان دہ چیز سمجھ کر اس پر حملہ کرکے اس کے افعال کو روک دیتا ہے۔

تاہم اس مرض کی کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جن سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور ان سے واقفیت زندگی بھی بچا سکتی ہے۔

یہ علامات درج ذیل ہیں :

ہر وقت تھکاوٹ۔

فلو جیسی علامات۔

پیشاب کا رنگ بہت زیادہ گہرا ہوجانا۔

فضلے کی رنگت مدہم پڑجانا۔

پیٹ میں اکثر درد رہنا۔

کھانے کی خواہش ختم ہوجانا یا بھوک نہ لگنا۔

جسمانی وزن میں ایسی کمی جس کی وجہ سمجھ نہ آسکے۔

زرد جلد اور آنکھیں، جو کہ یرقان کی بھی علامات ہوسکتی ہیں۔

عام طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی بہت سست روی سے پھیلتا ہے اور ان علامات کے ذریعے ان کو نوٹس کرنا کافی مشکل کام ہوسکتا ہے تاہم ایسا کچھ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

نظام ہاضمہ کو مضبوط بنانے والی عادات

غذا کو کھانا ہر انسان کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے اور اسے پرمسرت حصہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

مگر غذا سے اسی وقت لطف اندوز ہوسکتے ہیں جب نظام ہاضمہ کے مسائل کا سامنا نہ ہو، دوسری صورت میں پیٹ پھولنے اور دیگر تکالیف اس تجربے کو تکلیف دہ بنا دیتے ہیں۔

زیادہ کھانا ہوسکتا ہے کہ نظام ہاضمہ پر بوجھ بڑھا دے اور کمزور نظام ہاضمہ ہونے پر یہ بھیانک خواب ثابت ہوسکتا ہے۔

تاہم چند سادہ سی عادات کو اپنا کر آپ اپنے کمزور ہاضمے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

بس کھانے سے پہلے ان عادات کو اپنالیں، جو نظام ہاضمہ کو ڈرامائی حد تک بہتر بناسکتی ہیں۔

پانی پینا

صحت مند نظام ہاضمہ کے لیے جسم میں پانی کی مناسب مقدار کنجی ہے، پانی نہ صرف ٹھوس غذا کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے بلکہ ضروری اجزاءکو مناسب طریقے سے جذب بھی کرتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے پانی پینا نظام ہاضمہ کو بیدار کرکے میٹابولزم کی رفتار بڑھا دیتا ہے، جبکہ کھانے کے درمیان میں پانی پینا معدے کی تیزابیت پر منفی انداز سے اثرانداز ہوتا ہے۔

سبز چائے کا استعمال

سبز چائے اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور مشروب ہے جو نہ صرف جسم میں ورم کو کم کرتا ہے بلکہ میٹابولزم کو بھی فوری حرکت میں لاتا ہے۔ تو کھانے سے آدھے گھنٹے پہلے اس مشروب کو پینا ہر غذا کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔

سیب کا سرکہ

کچھ تلخ کھانا نظام ہاضمہ کو بھرپور طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے، ایک چمچ سیب کا سرکہ کچھ اونس پانی میں کھانے سے پہلے ملاکر پی لیں، کسی غذا کو ہضم کرنے کے دوران معدے کی تیزابیت کی ضرورت ہوتی ہے جو غذا کو چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرسکے اور تلخ غذائیں اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں کیونکہ یہ معدے کی تیزابیت کو زیادہ غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

Google Analytics Alternative