صحت

یہ مزیدار مشروب ذیابیطس کا خطرہ کم کرے

ذیابیطس ٹائپ ٹو ایسا عام مرض ہے جس نےپاکستان کے کروڑوں افراد کو اپنا شکار رکھا ہے، مگر اس سے بچاﺅ کافی آسان بلکہ آپ کے کچن میں موجود ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ طرز زندگی میں ایک سادہ تبدیلی کو آزمانا بلڈ گلوکوز لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق چائے ایسا بہترین مشروب ہے جو ذیابیطس ٹائپ کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ دن بھر میں 3 سے 4 کپ چائے پینا ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 25 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 3 سے 4 کپ کافی پینا اس خطرے کو 33 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ کافی مددگار ضرور ہے مگر دیگر عوامل کو نظر میں رکھنا بھی ضروری ہے، جیسے جسمانی وزن کو کم کرنا یعنی 5 سے 10 فیصد تک جبکہ جسمانی سرگرمیاں جیسے آدھے گھنٹے کی تیز چہل قدمی روزانہ وغیرہ۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں میں ذیابیطس کے مرض کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، وہ ان عوامل کو اپنا کر اس خطرے کو 40 سے 50 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے آرکائیوز آف انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئے۔

خاموش قاتل مرض پر قابو پانے کا سستا نسخہ

اگر تو آپ ہائی بلڈ پریشر کے شکار ہیں تو اپنی غذا میں ایک سستی چیز کا اضافہ اس سے نجات میں مدد دے سکتا ہے۔

یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

مینی ٹوبا یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دالوں کا غذا میں اکثر استعمال ہائی بلڈ پریشر کو قابو کرنے میں مدد دیتا ہے۔

اس حوالے سے محققین نے چوہوں کو دالیں، سالن اور سوپ کا استعمال کرایا تو ان جانوروں میں عمر بڑھنے سے بلڈ پریشر کے مسئلے میں کمی آنے لگی۔

فشار خون یا بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل ہے جو ہارٹ اٹیک، فالج اور ہارٹ فیلیئر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

محققین کے مطابق دالوں کا اکثر استعمال ہائی بلڈ پریشر پر قابو پانے کا ایک سستا اور آسان نسخہ ثابت ہوسکتا ہے۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ دالوں کو کھانا خون کی شریانوں میں عمر کے ساتھ آنے والی تنزلی کو ریورس کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دالوں کے بلڈ پریشر پر اثرات حیرت انگیز ثابت ہوئے اور خون کی شریانوں کی تنزلی سے لاحق ہونے والے امراض پر قابو میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ پہلی تحقیق ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دالوں کو مکس کرکے کھانے سے ٹانگوں کی شریانوں کے مرض کے شکار چوہوں میں دوران خون بہتر ہوا۔

اس قسم کا عارضہ امراض قلب جیسا ہوتا ہے، تاہم یہ ٹانگوں میں سامنے آتا ہے جس کے دوران چربی کا اجتماع شریانوں کی دیواروں میں ہوجاتا ہے۔

اسی طرح ہائی بلڈ پریشر کو قابو پانے کے لیے بھی یہ غذا موثر ثابت ہوتی ہے جس کے شکار پاکستان میں کروڑوں افراد ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سالانہ کانفرنس میں پیش کیے جائیں گے۔

حاملہ خواتین مچھروں کا پرکشش ہدف ہوتی ہیں، برطانوی تحقیق

برطانوی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ حاملہ خواتین مچھروں کا پرکشش ہدف ہوتی ہیں اس لیے وہ ملیریا و ڈینگی سے بچاؤ کے لیے خصوصی احتیاط برتیں۔

آج کل ڈینگی مچھر سے تو ہر کوئی پریشان اور خوف زدہ ہے مگر عام مچھر بھی کم پریشانی میں مبتلا نہیں کرتے۔ ملیریا کی بیماری تو خاص انہی کی مرہون منت ہے۔ موسم سرما ہو یا گرما نہ ان کو چین ہے اور نہ ہم کو آرام مگر تازہ ترین سائنسی تحقیق نے تو حاملہ خواتین کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔

برطانوی محکمہ صحت برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن اور واشنگٹن کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی سمیت تحقیقی اداروں کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ مچھروں کا پرکشش ہدف حاملہ خواتین ہوتی ہیں۔

دیگر خواتین کی بہ نسبت مچھروں کی توجہ کا مرکز حاملہ مائیں کیوں ہوتی ہیں، اس کے لیے انھوں نے ایک تجربہ کیا۔ تجربے کے لیے مچھروں کی آماجگاہ کے آس پاس دو قسم کی خواتین کو رکھا گیا۔ ایک وہ خواتین جو امید سے تھیں اور دوسری وہ جو نہیں تھیں۔ مچھر عام خواتین کے برعکس حاملہ خواتین پر لگ بھگ دو گھنٹے تک منڈلاتے رہے۔ ان خواتین کا جب ٹیسٹ کیا گیا تو عام خواتین کے برعکس حاملہ خواتین ملیریا کا زیادہ شکار ہوئیں۔

ملیریا میں مبتلا ان حاملہ ماؤں میں ملیریا کے باعث اسقاط حمل ہوتا ہے اور مزید بچوں کی پیدائش ہوتی ہی نہیں۔ اگر ایسی حاملہ ماؤں کے ہاں بچوں کی پیدائش ہوئی تو بچوں کا وزن کم تھا۔ دوسرے ٹیسٹ میں کچھ حاملہ ماؤں کو مچھر دانی میں سلایا گیا اور کچھ کو بغیر مچھر دانی کے، جب ان کا نتیجہ جانچا گیا تو پتا چلا کہ جو خواتین مچھر دانیوں کے بغیر سورہی تھیں وہ مچھروں کی خوراک زیادہ بنیں اور اس کا سبب بھی ان کا حاملہ ہونا ہی تھا۔

ان کے پیٹ میں پرورش پانے والا بچہ جوں جوں بڑھتا جاتا ہے، ویسے ویسے حاملہ مائیں تیزی سے سانس لیتی ہیں۔ ان میں بعض ایسے کیمیائی اجزا ہوتے ہیں جن کے ذریعے مچھر اپنی پسندیدہ پوشیدہ خوش بو کا پتا لگا لیتے ہیں اور حاملہ خواتین پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ مچھروں کا حاملہ خواتین کے گرد منڈلانے کا ایک سبب دوران حمل ان کے جسم کا بڑھنے والا درجہ حرارت بھی ہوتا ہے جس کے باعث مچھر ان کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں۔

اگر آپ یا آپ کے گھر میں کوئی امید سے ہے تو مچھروں سے دور رہیں اور مچھروں سے کاٹنے سے بچنے کے لیے پوری آستین کی قمیص پہنیں، جسم کے کھلے حصوں پر موسپیل لگائیں۔ مچھر بھگانے کے لیے گھر میں نیم کے خشک پتوں کی دھونی دیں۔

سنگترے کے چھلکے دھوپ میں سکھالیں اور گرم کوئلوں پر ڈالیں تو مچھر ان کی خوش بو سے بھاگیں گے اور کمرہ بھی خوش بو سے مہک جائے گا۔کمرے میں گندھک یا کلونجی جلاکر دھواں دینے سے بھی مچھر مرجاتے ہیں۔ کاربولک ایسڈ 35 اونس کو آٹھ اونس پانی میں ملاکر بدن اور کپڑوں پر چھڑکنے سے مچھر پاس نہیں آتے۔

حاملہ خواتین موبائل فون سے بھی دور رہیں

حاملہ ماؤں کو مچھروں سے ہی نہیں بلکہ موبائل فون سے بھی بچنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’موبائل‘‘ حاملہ خواتین کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔ موبائل فون کی تاب کاری حاملہ خواتین کے لیے خطرہ ہے۔ ویسے بھی موبائل فون کو زیادہ دیر تک جسم کے ساتھ لگا کر رکھنا اور خصوصاً دل و جگر کے مقام (قمیص یا کوٹ کی جیب میں) رکھنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ موبائل فون سے تابکاری نکلتی ہے، اس لیے ماہرین نے حاملہ خواتین سمیت عام لوگوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ بند فون کو قمیص یا کوٹ کی جیب میں یا کمر سے لگا کر نہ رکھیں، یہی نہیں بلکہ بند جگہوں ، تاریک کمروں اور زیر زمین جگہوں پر بھی موبائل استعمال نہ کریں۔

شادی کے بعد لوگ موٹے کیوں ہونے لگتے ہیں؟

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ شادی کے بعد اکثر لوگوں کا جسمانی وزن بڑھنے لگتا ہے اور وہ موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں؟

اگر ہاں تو اس میں حیران ہونے کی وجہ نہیں کیونکہ کامیاب شادی اور جسمانی وزن میں ممکنہ اضافے میں تعلق موجود ہے۔

یہ دعویٰ سینٹرل کوئنزلینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔

آسٹریلین تحقیق کے دوران 15 ہزار سے زائد جوڑوں کا جائزہ لیا گیا جن کے رشتے کو 10 سال ہوچکے تھے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوڑوں میں جسمانی وزن بڑھنے کا امکان تنہا افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، چاہے ان کا طرز زندگی صحت مند اور غذا صحت بخش ہی کیوں نہ ہو۔

محققین نے اس کی ایک دلچسپ وجہ بھی بتائی ہے اور وہ یہ کہ شادی کے بعد لوگوں کو اپنے شریک حیات کو مزید متاثر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، لہذا ان کا جسم پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جب جوڑوں کو لگتا ہے کہ اب انہیں زیادہ خوبصورت نظر آنے کی جرورت نہیں، تو وہ زیادہ کھانے سے گریز نہیں کرتے یا چربی اور چینی سے بھرپور غذا کا زیادہ استعمال کرنے لگتے ہیں، جبکہ جسمانی وزن کنٹرول میں رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

اسی طرح جن جوڑوں کے بچے ہوتے ہیں، ان کے اندر اپنے بچوں کے بچے ہوئے کھانے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔

یہ پہلی تحقیق ہے جس میں بتایا گیا کہ شادی کے بعد جسمانی وزن میں اضافے کی وجہ صرف غیرصحت مند طرز زندگی ہی نہیں ہوتا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جوڑوں میں جسمانی وزن بڑھنے کی وجہ ہر قسم کی غذا کو بے فکری سے کھانا ہوتا ہے کیونکہ انہیں اپنے جسمانی ساخت جوانی کی طرح رکھنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔

محققین کا کہنا تھا کہ جوڑوں میں باہر کھانے پینے کی عادت بھی اس کی وجہ بنتی ہے کیونکہ شادی کے بعد تقاریب میں شرکت بھی زیادہ ہونے لگتی ہے۔

ویسے ضروری نہیں کہ سب کے ساتھ ایسا ہو مگر محققین کا کہنا تھا کہ بیشتر افراد شادی کے بعد موٹے ہونے لگتے ہیں، جس پر کنٹرول رکھنے کے لیے اپنی غذا کا خیال اور جسمانی سرگرمیوں میں اضافے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے پلوس ون میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل گزشتہ سال اسکاٹ لینڈ کی گلاسکو یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ شادی کے بعد نوبیاہتا جوڑے کا جسمانی وزن بڑھنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ شادی کے ایک سال بعد جوڑے کے جسمانی وزن میں اوسطاً دو سے ڈھائی کلو گرام وزن بڑھ سکتا ہے جبکہ جن لوگوں پر چربی زیادہ جلدی بڑھتی ہے، وہ تین ماہ کے دوران ہی دو کلو اضافی وزن کے مالک بن جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس کی اصل وجہ شادی کے بعد کھانے کی مقدار میں اضافہ ہوجانا ہے، جبکہ نوبیاہتا جوڑے جسمانی طور پر زیادہ سرگرم نہیں رہتے یا ورزش سے دور ہونے لگتے ہیں، جس کی وجہ سے جسمانی وزن بڑھنے لگتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ شادی کے بعد لوگوں کو اپنے جسمانی وزن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موٹاپے کا شکار ہونا خود اعتمادی کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ شریک حیات سے تعلق بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

کیا آپ خود سے نظر کا چشمہ، ہمیشہ کیلئے دور رکھنا چاہتے ہیں؟

آنکھوں کی بینائی عمر بڑھنے کے ساتھ کمزور ہونے لگتی ہے اور چشمہ لگ جاتا ہے۔

تاہم اپنی نظر کواچھا رکھنا بہت ضروری ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ آنکھوں کی صحت کو نظر انداز مت کریں۔

یہ کام ہوسکتا ہے کہ مشکل محسوس ہو مگر ایسا ہے نہیں بلکہ چند عام نکات کو اپنا کر آپ اپنی بینائی کو عمر بڑھنے کے باوجود بہتر رکھ سکتے ہیں۔

آنکھوں کی صحت کے لیے فائدہ مند غذائیں

پُرغذائیت خوراک پورے جسم کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے مگر کچھ غذائیں آنکھوں کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتی ہیں۔ تیل والی مچھلی اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور ہوتی ہے جو قرینے اور آنکھوں کے دیگر اعصاب کے خلیات کے لیے فائدہ مندثابت ہوتی ہے اور عمر بڑھنے سے آنے والی کمزوری یا دیگر امراض سے بچاتی ہے۔اسی طرح گاجر، مالٹے، انگور،پالک اور بلیوبیری وغیرہ بھی آنکھوں کی بینائی کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، جس کی وجہ ان میں اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامن اے اور سی کی موجودگی ہے۔

گھر سے باہر نکلیں

طبی ماہرین کے مطابق قدرتی روشنی میں زیادہ وقت گزارنا آنکھوں کے صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ گھر سے باہر نکلنے پر آنکھوں کو دور موجود اشیاءپر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ قریب کی نظربھی کام کرتی ہے۔ اسی طرح آنکھوں کو چمکیلی روشنی کاسامنا ہوتا ہے جو قریب کی نظر کی کمزوری کاخطرہ کم کرتا ہے۔ بچوں کو تو خصوصاً دو گھنٹے گھر سے باہر گزارنے چاہیے تاکہ جوانی میں چشمہ لگنے سے بچ سکیں۔

تمباکو نوشی سے گریز

تمباکو نوشی ترک کرنا مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے مگر طبی ماہرین کے مطابق اسے ترک کرنا آنکھوں کی صحت کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ تمباکو نوشی سے موتیے، عمر بڑھنے کے ساتھ بینائی میں آنے والی تنزلی اور بصری اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے، اسی طرح جسم کا وزن صحت مند سطح پر رکھنا ذیابیطس کا خطرہ کم کرتا ہے جو آنکھوں کے مسائل کا سبب بنتا ہے۔

چیک کراتے رہیں

آنکھوں کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ ان کا چیک اپ اکثر کرانا معمول بنالیں، اس عادت سے بینائی میں کسی بھی قسم کے مسئلے کو ابتدا میں ہی پکڑ کر اس پر آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ اگر اکثر سردرد ہو، کچھ پڑھنے کے بعد آنکھوں کو تھکاوٹ ہو، کچھ دیکھنے کے لیے اسے سکڑنا پڑے یا کتابوں کو قریب لاکر پڑھنا پڑے یہ سب بینائی میں کمزوری کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

اسکرینوں کا استعمال کم کریں

فون یاکمپیوٹر کی اسکرین کے استعمال کا دورانیہ بھی بینائی پر اثرانداز ہوسکتا ہے، ایک دن میں مسلسل دو گھنٹے یا اس سے زائد وقت ڈیجیٹل اسکرین کو دیکھتے ہوئے گزارنا ڈیجیٹل آئی اسٹرین کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آنکھوں میں سرخی، خارش، خشک ہوجانا، دھندلانا،تھکاوٹ اور سردرد وغیرہ کی شکایات ہوسکتی ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اسکرین کے استعمال میں وقفہ کریں۔

خبردار! سگریٹ نوشی سے لبلبے اور بائل ڈکٹ کا کینسر بھی ہوسکتا ہے

لندن: تمباکو اور شراب نوشی جگر کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ تو ہیں ہی لیکن جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو اور شراب نوشی سے لبلبے اور صفراوی نالی (بائل ڈکٹ) کے کینسر کا بھی شدید خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔

برٹش جرنل آف کینسر میں شائع شدہ، تازہ تحقیق کے مطابق شراب نوشی اور تمباکو نوشی کے مضر اثرات میں جگر کے ابتدائی کینسر اور جگر کے کینسر کی دوسری قسم (Hepatocellular Carcinoma) کے علاوہ صفراوی نالی (بائل ڈکٹ) کا کینسر (intrahepatic cholangiocarcinoma) بھی شامل ہیں جو جگر کے کینسر کی پہلی قسم سے زیادہ خطرناک اور جان لیوا ہیں۔

واضح رہے کہ یہ تحقیق ایک وسیع منصوبے کا حصہ ہے جسے ’’لیور کینسر پولنگ پروجیکٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور جس میں 14 مختلف وسیع مطالعات کے تحت 15 لاکھ 18 ہزار 7 سو 41 امریکی شہریوں کا طویل مدتی جائزہ لیا گیا۔ ان مطالعات سے حاصل شدہ نتائج کو یکجا کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ افراد جنہوں نے سگریٹ نوشی چھوڑ دی، ان کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات 97 فیصد تک ختم ہوگئے جب کہ وہ افراد جنہوں نے سگریٹ نوشی اور شراب نوشی جاری رکھی، اُن میں جگر کے کینسر (قسمِ دوم) اور بائل ڈکٹ کے کینسر میں مبتلا ہونے کے 40 فیصد امکانات سامنے آئے۔ اس سے قبل سگریٹ نوشی اور شراب نوشی سے جگر کے کینسر کی پہلی قسم کے شواہد ملے تھے۔

جگر انسانی جسم کا سب سے بڑا اندرونی عضو ہے جس کا کام ہاضمے میں مدد دینا، خون اور لمحیات کے نئے خلیات (سیلز) پیدا کرنا اور پرانے و ناکارہ خلیات کو ٹھکانے لگانا بھی ہے؛ جب کہ جگر کا سب سے اہم کام جسم میں داخل ہونے والے کیمیائی اور دیگر مضر مادوں کو چھانٹنا ہے، جگر اپنے افعال درست طریقے سے ادا نہ کرسکے تو جسم میں خون کی کمی واقع ہوجاتی ہے جس سے قوت مدافعت ختم ہوجاتی ہے اور جگر کا کینسر، لبلبے تک پھیل جاتا ہے۔

لبلبہ انسولین پیدا کرکے جسم میں شوگر لیول (خون میں شکر کی مقدار) کنٹرول میں رکھتا ہے جبکہ بائل ڈکٹ، پِِتّے سے آنے والے مائع (بائل جوس) کو آنتوں میں منتقل کرتی ہے جہاں یہ رس، غذا کو ہضم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ لبلبے اور بائل ڈکٹ کا کینسر، نظام ہاضمہ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور جسم میں کاربوہائیڈریٹ اور شوگر کے ساتھ ساتھ  کئی خطرناک خلیات کی تعداد بھی بڑھا دیتا ہے جو بالآخر موت کا سبب بنتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکن سوسائٹی آف کلینیکل اونکولوجی (اے ایس سی او) نے بھی لوگوں کو شراب نوشی ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کی ہر ایک ریاست میں اوسطاً سالانہ تین ہزار افراد سگریٹ نوشی اور شرب نوشی کے باعث کینسر کے مرض میں مبتلا ہورہے ہیں جن میں سے زیادہ تر افراد میں لبلبہ اور بائل ڈکٹ کا کینسر پایا گیا ہے۔

آپ کی وہ عام غلطیاں جو دانتوں کو پیلا کردیں

دانتوں کا انسانی صحت میں اہم کردار ہوتا ہے کیوں کہ صحت مند دانتوں سے ہی انسان ایسی غذائیں کھاسکتا ہے، جو اسے بیماریوں سے دور رکھیں۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ دانتوں کو جگمگاتے دیکھنا بھی ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے جو شخصی خوبصورتی کو بڑھانے یا گھٹانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

تاہم دیکھا گیا ہے کہ کئی لوگ دانتوں کی فکر کیے بغیر ایسی عادتیں اپنالیتے ہیں جو دانتوں کو پیلاہٹ کا شکار کرکے بدنمائی کا باعث بنتی ہیں۔

اگر درج ذیل عادتیں آپ بھی اپنا چکے ہیں تو انہیں ترک کردینا بہتر ہے ورنہ دانتوں کی سفیدی کو خیرباد کہہ دینا زیادہ بہتر ہے۔

ماﺅتھ واش کا بہت زیادہ استعمال

دانتوں کے لیے سب سے سخت ماحول منہ خشک ہونا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ منہ میں پائے جانے والا لعاب دہن یا تھوک مختلف منرلز، انزائمے اور آکسیجن کمپاﺅنڈ کا مرکب ہوتا ہے جو منہ کے اندر ہائیڈروجن یا تیزابیت کا توازن قدرتی طور پر بحال رکھتا ہے، یعنی ایسے تیزابی اثرات کم کرتا ہے جو دانتوں کی سطح ختم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ لعاب دہن دانتوں پر چمٹ جانے والے بیکٹریا کو بھی صاف کرتا ہے جبکہ سطح پر داغ جمنے نہیں دیتا۔ اس وقت زیادہ تر دستیاب ماﺅتھ واش میں تیزابیت بہت زیادہ ہوتی ہے اور ان کا اکثر استعمال دانتوں کی قیمتی سطح کو تباہ کرسکتا ہے جس کا نتیجہ دانتوں کی پیلاہٹ کی شکل میں نکلتا ہے۔

تیزابی پھلوں اور سبزیوں کو پسند کرنا

جیسے ماﺅتھ واش میں تیزابیت دانتوں کی سطح پتلی کرتی ہے اسی طرح غذا میں موجود ایسڈز بھی یہی کام کرتے ہیں۔ ترش پھل جیسے ٹماٹر، انناس، سرکہ، سافٹ ڈرنکس اور مالٹے وغیرہ ایسا کرسکتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ان غذاﺅں کو کھانا چھوڑ دیں مگر توازن یا اعتدال میں کھانا جبکہ ان کے استعمال کے بعد پانی زیادہ پینا بہتر ہوتا ہے۔ زیادہ پانی پینا دانتوں پر داغ لگنے کا امکان بھی کم کرتا ہے، خاص طور پر بلیو بیریز، سیاہ چائے وغیرہ پینے کا شوق ہونے پر۔

ہر وقت کافی یا چائے پینا

محققین یہ تو مانتے ہیں کہ کافی پینے کی عادت صحت کے لیے فائدہ مند ہے مگر یہ مشروب دانتوں کے لیے ضرور سخت ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق روزانہ 2 سے 3 کپ کافی پینے سے دانتوں کی سطح پر داغ جمنے لگتے ہیں بلکہ وہ جم جاتے ہیں جس کے نتیجے میں دانت پیلے ہوجاتے ہیں، خاص طور پر اگر اس مشروب کو پینے کے بعد کلیاں نہیں کرتے۔

تمباکو نوشی

سیگریٹ میں موجود کیمیکلز دانتوں پر داغ لگانے کا باعث بنتے ہیں کیونکہ یہ سطح پر چپک جاتے ہیں، جتنا زیادہ آپ تمباکو نوشی کریں گے، یہ داغ اتنے ہی نمایاں ہوں گے۔ تمباکو نوشی سے مسوڑوں کے امراض یا منہ کی خشکی جیسے عارضے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس سے بچاﺅ اس عادت کو ترک کرنے سے ہی ممکن ہے۔

خلال نہ کرنا

یہ سنت نبوی اپنانا دانتوں کو جگمگانے کے لیے بہت ضروری ہے، جبکہ اس سے دوری دانتوں کی سطح پر پلاک کے اجتماع کا باعث بن سکتا ہے جس سے حفاظتی تہہ پتلی ہوتی ہے جبکہ بیکٹریا کی مقدار بڑھنے سے دانت زرد ہوجاتے ہیں۔

دانتوں پر مناسب طریقے سے برش نہ کرنا

دن بھر میں 2 بار برش کرنا تو ضروری ہے مگر زیادہ دباﺅ اور رفتار کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دانت صحیح طریقے سے صاف کررہے ہیں۔ اگر برش کو بہت زیادہ سختی یا تیزی سے کیا جائے تو دانتوں کی پتلی سطح ختم ہوسکتی ہے اور ڈینٹین تہہ سامنے آسکتی ہے۔

پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھانے والی وجوہات

پیشاب کی نالی میں سوزش کافی تکلیف دہ مرض ہوتا ہے جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کافی لوگ ہچکچاتے بھی ہیں۔

اس سوزش یا یو ٹی آئی کی علامات واضح ہوتی ہیں بلکہ انہیں بیماری کے آغاز پہلے ہی پہچانا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں : پیشاب کی نالی میں سوزش کی علامات

مگر یہ مرض لاحق کیسے ہوتا ہے ؟ تو اس کی بھی چند وجوہات ہوتی ہیں، جن سے اکثر افراد لاعلم ہوتے ہیں۔

ویسے تو خواتین میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے مگر مردوں کو بھی اس کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس کی سب سے عام وجوہات درج ذیل ہیں۔

مزید پڑھیں : تنگ کپڑے پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھائیں

زیادہ میٹھا کھانے کی عادت
زیادہ میٹھا کھانا صرف توند نکلنے یا کمر کو بڑھانے کا باعث ہی نہیں بنتا بلکہ پیشاب کی نالی کی سوزش کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔ اگر چینی کی زیادہ مقدار کو جسم کا حصہ بنایا جائے تو بلڈ شوگر میں اضافہ ہوتا ہے اور پیشاب میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ ایسا ہونے پر پیشاب کی نالی میں موجود بیکٹریا کو ان کی من پسند غذا ملنے لگتی ہے جو سوزش کا امکان بڑھاتا ہے۔

قبض
اکثر قبض رہنا مثانے کے لیے خالی ہونا بھی مشکل بنا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اس نالی میں بیکٹریا کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگتی ہے جو کہ انفیکشن کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح ہیضہ یا بدہضمی بھی پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھانے والے امراض ہیں۔

ذیابیطس کو کنٹرول نہ کرنا
جب بلڈ شوگر زیادہ ہوتی ہے تو یہ اضافی شوگر پیشاب کے راستے خارج ہوتی ہے، جو کہ بیکٹریا کی نشوونما کے لیے ماحول سازگار بنا دیتا ہے اور متاثرہ فرد کو تکلیف دہ مرض کا شکار۔ یعنی ذیابیطس کے مریضوں کو اس حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

پیشاب روکے رکھنا
اگر آپ پیشاب کو کئی، کئی گھنٹے روکے رکھتے ہیں تو یو ٹی آئی کے لیے بھی تیار رہنا چاہئے، کیونکہ ایسا کرنے پر بیکٹریا پھیل جاتا ہے اور اس کی نشوونما تیزی سے ہونے لگتی ہے۔

جسم میں پانی کی کمی
بہت زیادہ پانی پینا نہ صرف پیاس سے نجات دلاتا ہے بلکہ یو ٹی آئی سے بھی تحفظ دیتا ہے، خاص طور پر گرمیوں میں اگر مناسب مقدار میں پانی کا استعمال نہ کیا جائے تو اس سوزش کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

گردوں کی پتھری
گردوں میں جمع ہونے والی منرلز کا یہ مجموعہ بھی پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھاتا ہے، کیونکہ ایسا ہونے سے پیشاب کی نالی میں بلاکنگ ہوتی ہے جو بیکٹریا کی نشوونما بڑھاتی ہے۔

Google Analytics Alternative