صحت

چوہے میں ایچ آئی وی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا پہلا کامیاب تجربہ

واشنگٹن: طبی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جانور کے ماڈل سے انسانی ایچ آئی وی کو مکمل طور پر ختم کیا گیا ہے۔ ماہرین نے اس اہم کام کو دو مراحل میں انجام دیا ہے۔

تاہم اس کے لیے ماہرین نے چوہے کے جینوم (جینیاتی سیٹ) میں ایک قدرے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیلیاں بھی کی ہے۔ پہلے مرحلے میں لانگ ایکٹنگ سلو ایفیکٹوو ریلیز ( لیزر) کا عمل کیا گیا ہے جو اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کی ایک قسم ہے۔

اس کے بعد کرسپر، سی ایس نائن جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے وائرس سے متاثرہ ڈی این اے نکال باہر کیا گیا ہے۔ ماہرین نے اس سارے عمل کی تفصیل مشہور سائنسی جریدے نیچر میں پیش کی ہے۔ واضح رہے کہ چوہے میں انسانی ایچ آئی وی موجود تھا۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ انہوں نے خلیات (سیل) اور بافتوں (ٹشوز) سے متاثرہ وائرس نکالنے کا کام کیا اور ایک تہائی جانوروں میں کامیابی ملی ۔ یہ تحقیق کامل خلیلی اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے جو لیوس کاٹز اسکول آف میڈیسن میں تحقیق کررہے ہیں۔

’ اگر ان دو طریقوں میں سے صرف ایک کیا جاتا تو وائرس دوبارہ لوٹ آنے کے 100 فیصد خدشات تھے۔ اسی لیے کرسپر سی ایس نائن اور اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کو ایک ساتھ آزمایا گیا اور یوں چوہے سے ایچ آئی وی 100 فیصد ختم ہوگیا،‘ پروفیسر کامل خلیلی نے کہا۔

عالمی اداروں کے مطابق صرف 2017 میں پوری دنیا میں ایچ آئی وی کے ساتھ رہنے والے لوگوں کی تعداد تین کروڑ 69 لاکھ تھی اور اسی سال مزید 18 لاکھ لوگوں تک یہ وائرس منتقل ہوگیا۔ ضروری نہیں کہ ایچ آئی وی سے ایڈز کا مرض لاحق ہو لیکن کسی نہ کسی مرحلے میں اس وائرس کے حامل افراد ایڈز کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں یا ان میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ایڈز کا وائرس جسمانی رطوبتوں اور خون کی منتقلی کے ذریعے پھیلتا ہے اور امنیاتی نظام کو تباہ کردیتا ہے۔ ایڈز کے مریض اگر کوئی علاج نہ کروائیں تو بمشکل تین یا چار برس تک ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔

تیزی سے وزن کم کرنے کا بہترین وقت

واشنگٹن: سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے سب سے ضروری چیز روزانہ کی بنیاد پر کسرت کرنا ہے اور بہترین نتائج کے لیے ورزش کے لیے مناسب وقت کا تعین کرلینا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

سائنسی جریدے اوبیسٹی میں شائع ہونے والے مقالے کے مطابق امریکی تحقیق کاروں نے اُس وقت کا درست تعین کرنے کے لیے تحقیق کی جن اوقات میں ورش کرنے سے وزن میں دیگر اوقات کے مقابلے میں تیزی سے کمی آتی ہے۔

اس تحقیق کے لیے 400 کے لگ بھگ وزن کی زیادتی کے شکار افراد نے حصہ لیا، ایک گروپ کو کسی بھی وقت ورزش کرنے کی اجازت دی گئی تھی جب کہ دوسرے گروپس کو صبح ، دوپہر یا شام میں سے کسی بھی ایک وقت کو منتخب کرنا تھا۔

جو گروپ دن میں کسی  بھی وقت  ورزش کرلیتا تھا ان کے وزن میں کمی توقع کے مطابق نہیں ہوسکی اور نہ ایسے لوگ ورزش کے دیگر فوائد جیسے چستی، ذہنی ارتکاز اور جسمانی توانائی جیسے فوائد اُٹھا سکے۔

دوسری جانب وہ گروپ جس نے اپنی ورزش کے لیے دن بھر میں سے کسی بھی ایک وقت کا انتخاب کرلیا اور پھر روزانہ اسی وقت ورزش کرتے رہے ان لوگوں کے وزن میں حیران کن اور واضح کمی دیکھی گئی۔

تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر نتائج کے لیے صبح، دوپہر یا شام میں سے اپنی آسانی کے تحت کوئی ایک وقت منتخب کرلیں اور پھر روزانہ اسی وقت ورزش کرنے کو معمول بنائیں اور اس پر آپ کا جسم بھی آپ کا شکر گزار ہوگا۔

نارنجی، انگور اور گاجروں میں کینسر کی دواؤں جیسے اجزا پائے جاتے ہیں

لندن: ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں عام پائے جانے والی نارنجیوں، انگور اور گاجروں میں کینسر سے لڑنے یا روکنے والے غیر معمولی اجزا پائے جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اجزا ان دواؤں کے مرکبات سے بہت ملتے جلتے ہیں جو آج کینسر کے خلاف استعمال ہورہی ہیں اور یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ پھل کینسر کے خلاف دوا جیسا کام کرتے ہیں۔

امپیریل کالج لندن کے شعبہ کینسر سے وابستہ ڈاکٹر کرل ویسلکوف کے مطابق ایک وقت آئے گا جب ہم ایسی تحقیق کی بنا پر ہر شخص کے لیے ’ذاتی فوڈ پاسپورڈ‘ بنائیں گے تاکہ سرطان کا خطرہ کم کیا جاسکے۔

ڈاکٹر کرل اور ان کے ساتھیوں نے سبزیوں اور پھلوں میں  7900 مختلف سالمات دریافت کئے ہیں اور ان میں سے 110 مالیکیول کینسر کے پھوڑوں کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مرکبات بہت حد تک ان مؤثر دواؤں سے ملتے ہیں جو مہنگے داموں دستیاب ہیں اورکینسر کے علاج میں استعمال ہورہی ہیں۔ ان میں سب سے معروف فلے وینوئڈز ہیں جو کسی پھل اور سبزی کو خاص رنگت دیتے ہیں۔ بعض فلے وینوئڈز اندرونی سوزش کم کرنے، خلوی تقسیم کو روکنے اور سرطانی رسولی خو خودکشی پر مجبور بھی کرتے ہیں۔ اس طرح یہ سارا عمل کینسر روکنے کے لیے مددگار ہوتا ہے۔

اگرچہ دنیا بھر میں ہرسال کینسر کے لاکھوں افراد اس مرض کے شکار ہورہے ہیں لیکن امریکی کینسر سوسائٹی کے مطابق اس سال مزید 15 لاکھ افراد اس کے شکنجے میں آئیں گے۔ تاہم طرزِ زندگی بدل کر30 سے 40 فیصد کینسروں کے حملوں کو ٹالا جاسکتا ہے۔

سب سے پہلے ماہرین سبزیوں اور پھلوں کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ کینسر ربا مرکبات کی اکثریت ان میں موجود ہے۔

امپیریل کالج کے ماہرین نے مزید تحقیق کے لیے پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والے 7962 مرکبات کا ایک ڈیٹا بیس بنایا اور اسے ایک جدید کمپیوٹر الگورتھم میں داخل کیا۔ اس سے قبل الگورتھم کینسر کے خلاف استعمال ہونے والے 199 دواؤں کی شناخت کی صلاحیت رکھتا تھا۔

اس کےبعد الگورتھم نے خود بتایا کہ پہلے داخل کردہ 8 ہزار کے قریب مرکبات میں 110 ایسے ہیں جو کینسر سےلڑسکتے ہیں۔ اسی بنا پر ماہرین نے نارنجیوں، انگور اور گاجر کو اس فہرست میں سب سے آگے قراردیا ہے لیکن کینسر روکنے والےدوسرے مرکبات میں گوبھی، سبزچائے، دھنیا اور اجوائن سرِ فہرست ہیں۔

نارنجی میں ایک فلے وینوئڈ ڈائڈیمن بکثرت پایا جاتا ہے اور جنوبی ایشیا سمیت پاکستان کی نارنجیوں میں یہ نعمت بکثرت پائی جاتی ہے۔ جبکہ دھنیے اور اجوائن میں بھی یہ موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان میں ٹرپینوئڈز، ٹیننس اور کیٹے چن جیسے اجزا پائے جاتے ہیں جو کئی طرح سے کینسر کو روکتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ سرطانی پھوڑوں کو کم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

سگریٹ نوشی بینائی متاثر کرنے کا بھی اہم سبب

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ سگریٹ نوشی سے پھیپھڑے متاثر ہونے سمیت گلے کا کینسر وغیرہ لاحق ہوتا ہے، تاہم ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ بینائی کا بھی باعث بنتی ہے۔

برطانیہ کے ادارے ’ایسوسی ایشن آف آپٹو میٹرسٹس‘ (اے او پی) کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں بینائی کے امکانات سگریٹ نہ پینے والے افراد کے مقابلے میں دگنے ہوتے ہیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی کے زہریلے اثرات صرف پھیپھڑوں کے نقصانات اور انہیں تباہ کرنے تک محدود نہیں رہتے۔

تحقیق کاروں نے بتایا کہ پریشان کن بات یہ ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے ہر پانچ میں سے صرف ایک شخص کو اس بات کا کچھ علم ہے کہ تمباکو سے آنکھیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سگریٹ میں موجود تمباکو میں زہریلے کیمیل براہ راست آنکھوں کو متاثر کرتے ہیں، تمباکو میں موجود کیمیکلز آنکھوں کے پردوں میں جمع ہوکر بینائی کو متاثر کرتے ہیں۔

سگریٹ نوشی کے بینائی پر اثرات سے متعلق ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق تمباکو خون کے ذیابیطس کا باعث بنتا ہے اور پھر خون کا ذیابیطس آنکھوں کی روشنی متاثر کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں خون کے ذیابیطس کی وجہ سے آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کے امکانات عام افراد کے مقابلے 16 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ تمباکو اور سگریٹ نوشی کے حوالے سے پاکستان کا شمار دنیا کے 15 بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔

گلوبل اڈلٹ ٹوباکو سروے 2015 کے مطابق پاکستان میں یومیہ ایک ہزار سے 12 سو افراد جن کی عمریں تقریباً 6 سے 15 سال کے درمیان ہوتی ہیں، وہ سگریٹ پینے کا آغاز کرتے ہیں۔

سوسائٹی برائے پروٹیکشن آف دا رائٹس آف دا چائلڈ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 140 ارب روپے تمباکو نوشی سے جنم لینے والے امراض کے علاج پر خرچ کیے جاتے ہیں۔

بھنڈی کھانا عادت بنانا صحت کے لیے فائدہ مند

بھنڈی ایسی سبزی ہے جو لگ بھگ ہر موسم میں ہی دستیاب ہوتی ہے اور گوشت کے ساتھ پکائی جائے یا اس کے بغیر، مزیدار ہی ثابت ہوتی ہے۔

اسی طرح اس میں مصالحہ بھر کر بھی پکا جاسکتا ہے اور یہ صحت کے لیے بھی بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے، جس کی وجہ اس میں موجود منرلز، وٹامنز اور فائبر کی موجودگی ہے۔

اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

کینسر کی روک تھام

بھنڈی میں فولیٹ موجود ہوتا ہے جو خون کے سرخ خلیات بنانے کے ساتھ ساتھ ڈی این اے کی مرمت اور استحکام میں مدد دیتا ہے، یہ طاقتور وٹامن خلیات کی معمول کی نشوونما کو بھی یقینی بناتا ہے، جس سے مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

وٹامنز کا حصول

اس سبزی میں متعدد وٹامنز موجود ہوتے ہیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، جیسے وٹامن کے ہڈیوں کی صحت کے لیے بہترین ہے، وٹامن سی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ زخم جلد بھرنے میں مدد دیتا ہے۔

ہڈیاں مضبوط بنائے

بھنڈی کیلشیئم سے بھرپور سبزی ہے جو ہڈیوں کو صحت مند اور مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے، بھنڈی کے ساتھ مچھلی یا کیلے وغیرہ کا استعمال ہڈیوں کی صحت کو زیادہ بہتر بنادیتا ہے۔

تھکاوٹ دور کرے

اینٹی آکسائیڈنٹ خصوصیاتی کی وجہ سے بھنڈی جسمانی توانائی کی سطح بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے جبکہ طویل المعیاد بنیادوں پر مسلز کو بھی مضبوط کرتی ہے۔

تناﺅ سے نجات

بی وٹامن یا فولیٹ ڈوپامائن بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے قدرتی طور پر مزاج خوشگوار ہوتا ہے، جس سے ذہنی تناﺅ سے نجات ملتی ہے، جبکہ دماغی طاقت بھی بڑھتی ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر کرے

اپنی غذا میں بھنڈی کا اضافہ کرکے آپ نظام ہاضمہ کو مضبوط بناسکتے ہیں، جس کی وجہ اس میں موجود فائبر ہے جو کہ غذائی نالی سے غذا کے گزرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ قبض وغیرہ کا خطرہ کم کرتا ہے۔، اسی طرح یہ نظام ہاضمہ کے دیگر مسائل جیسے گیس، پیٹ پھولنے یا درد وغیرہ کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔

بلڈ پریشر کا خیال رکھے

بھنڈی پوٹاشیم کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہے جو کہ دوران خون کو ٹھیک رکھنے والا جز ہے۔ بنیادی طور پر پوٹاشیم جسم میں سیال کے تناسب کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ سوڈیم کو متوازن کرتا ہے۔ اسی طرح یہ خون کی شریانوں اور جوڑوں کو ریلیکس کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے جبکہ خون کی شریانوں کا نظام مضبوط ہوتا ہے۔

بے وقت کھانے سے روکے

بھنڈی میں موجود حل نہ ہونے والی فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتی ہے، جس کے باعث دن بھر میں بے وقت منہ چلانے کا امکان کم ہوتا ہے اور جسمانی وزن کو اعتدال میں رکھنا یا کمی لانا ممکن ہوجاتا ہے۔

صحت مند بینائی کو یقینی بنائے

بھنڈی وٹامن ے اور دیگر اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے بیٹا کیروٹین، لیوٹین وغیرہ سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ عمر بڑھنے سے آنکھوں کے پٹھوں میں آنے والی تنزلی کو روکنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ موتیا کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہترین سبزی

بھنڈی کی جلد اور بیج بلڈ گلوکوز لیول کو کم کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے محفوظ سبزی ہے۔ اس سے ہٹ کر بھی اس میں موجود انزائمے انسولین کی حساسیت بڑھاتے ہیں جبکہ لبلبے انسولین پیدا کرنے والے خلیات کی پیداوار کو مستحکم رکھتے ہیں۔

جسمانی دفاعی نظام مضبوط بنائے

اینٹی آکسائیڈنٹس بھنڈی کو ایسی فائدہ مند سبزی بناتے ہیں جو جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز کے خلاف لڑتے ہیں جو جسمانی خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح وٹامن سی جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط بناتا ہے جس سے جسم میں خون کے سفید خلیات بننے میں مدد ملتی ہے جو کہ انفیکشن کے خلاف لڑتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کینسر کو خود سے ہمیشہ دور رکھنا بہت آسان

پھلوں اور سبزیوں میں کینسر سے لڑنے والے ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو اس مرض پر قابو پانے والی ادویات جتنے ہی موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

امپرئیل کالج لندن کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پھلوں اور سبزیوں میں 8 ہزار کے قریب مالیکولز ہوتے ہیں جن میں سے 110 رسولی پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پھلوں اور سبزیوں میں فلیونوئڈز نامی اینٹی آکسائیڈنٹس کافی مقدار میں ہوتے ہیں جو جسمانی ورم کو روک کر کینسر کی روک تھام ، خلیات کی غیرمعمولی تعداد کو کنٹرول کرنے اور رسولی کو ممکنہ طور پر ختم ہونے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ 30 سے 40 فیصد کینسر کے کیسز کی روک تھام صحت مند طرز زندگی سے ممکن ہے۔

اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال اس حوالے سے مفید ثابت ہوتا ہے کیونکہ ان میں کینسر سے لڑنے والے اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق جن پھلوں اور سبزیوں میں کینسر سے لڑنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے وہ مالٹے، انگور، گاجر، گوبھی اور دھنیا ہیں۔

مالٹوں میں فلیونوئڈ کی ایک قسم ڈیڈیمین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو دھنیا میں بھی پایا جاتا ہے، جو کینسر سے لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ چائے میں بھی فلیونوئڈز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ کینسر سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والی ادویات جیسا اثر رکھتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ خوراک کسی بھی فرد کی صحت کے لیے سب سے اہم ترین عنصر ہے اور توقع ہے کہ ان نتائج کے نتیجے میں ایک دن لوگوں میں صحت بخش غذا کو اپنانے کا رجحان پیدا ہوگا جو مختلف امراض کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسی کونسی غذائیں ہیں جن کا زیادہ استعمال ہونا چاہیے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔

گرم موسم کی شدت اور توند سے نجات دلانے والا مزیدار مشروب

اگر آپ توند سے نجات پانا چاہتے ہیں یا پیٹ پھولنے کے مسئلے سے پریشان ہیں تو اس موسم کے ایک فائدہ مند مشروب کو پینا عادت بنالیں۔

ستو سے بننے والا یہ مشروب گرم موسم میں جسم کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جو ڈی ہائیڈریشن سے بچانے کے ساتھ گرمی کے اثرات سے بھی بچاتا ہے۔

ستو ایک قسم کا آٹا ہے جسے مختلف قسم کی گندم یاجو وغیرہ کو آگ پر پکا کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس شربت بنایا جاتا ہے جبکہ کئی اقسام کی دیگر کھانوں میں بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

توند سے نجات

ستو پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پروٹین جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے، پروٹین سے مسلز کو بنانے میں مدد ملتی ہے جبکہ یہ پیٹ کو بھی دیر تک بھرے رکھتا ہے، اس کے علاوہ ستو میں موجود پروٹین جسمانی وزن میں کمی یا یوں کہہ لیں چربی گھلانے کا بھی کام کرتا ہے، ستو پیٹ پھولنے کے مسئلے کو بھی دور کرتا ہے جبکہ میٹابولزم کو تیز کرتا ہے جس سے جسم کو کیلوریز جلانے میں مدد ملتی ہے۔

نظام ہاضمہ میں بہتری

خالی پیٹ ستو کا شربت پینا معدے کے مختلف مسائل پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے، اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے جو گرم موسم کی شدت کو کم کرتی ہے، جبکہ ستو فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو قبض کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جسمانی توانائی میں اضافہ

ستو میں آئرن موجود ہوتا ہے جو جسم میں خون کے سرخ خلیات کی نشوونما میں مدد دیتا ہے، جس سے جسم کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے اور دن بھر جسمانی توانائی برقرار رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔

ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے مفید

ستو میں گلیسمیک انڈیکس بہت کم ہوتا ہے، اسی وجہ سے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کافی مفید ہوتا ہے۔ اس کا استعمال معمول بنانا (چینی یا گڑ کے بغیر) بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھتا ہے، اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کے لیے بھی اس کا شربت مفید ہے۔

ستو کا شربت بنانے کا طریقہ

ستو کو شکر (پسا ہوا گڑ) میں مکس کریں اور پھر اسے مکسچر کو ٹھنڈے پانی میں ڈال کر اچھی طرح مکس کریں، اس کے بعد اس میں تھوڑا سا لیموں کا عرق شامل کرکے پی لیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

سائنسدان پہلی بار جینوم سے ایچ آئی وی کا خاتمہ کرنے میں کامیاب

سائنسدانوں نے پہلی بار ادویات اور جین ایدیٹنگ کی مدد سے لیبارٹری کے چوہے کے پورے جینوم میں ایچ آئی وی کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔

اس کامیابی سے سائنسدانوں کو توقع ہے کہ اس 2 نکاتی طریقہ کار کی مدد سے اس لاعلاج مرض کے شکار انسانوں کے لیے پہلی بار علاج تشکیل دیا جائے گا اور انسانوں پر اس کی آزمائش اگلے سال سے شروع ہوگی۔

اب تک صرف 2 افراد کے ایچ آئی وی کا علاج ہوسکتا ہے جو کہ دونوں بلڈ کینسر کا شکار تھے اور ایک خطرنک بون میرو ٹرانسپلانٹ کے عمل سے گزر کر دونوں بیماریوں سے نجات پانے میں کامیاب ہوئے۔

مگر یہ طریقہ کار ہر ایک پر کام نہیں کرتا بلکہ کچھ کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ مریض ایچ آئی وی اور کینسر دونوں بیماریوں کا شکار ہوں۔

امریکا کی نبراسکا یونیورسٹی کے ماہرین نے ایچ آئی وی سے نجات دلانے والے نئے طریقہ کار کو دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کی جو کہ 5 سال سے اس پر کام کررہے تھے۔

اس طریقہ کار میں انہوں نے آہستی سے اثر کرنے والی ادویات اور جین ایڈیٹنگ کرسپر کاس 9 کا استعمال کیا اور اس کے نتیجے میں لیبارٹری کے ایک تہائی چوہوں کے مکمل جینوم سے ایچ آئی وی کو ختم کرنے میں کامیاب رہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کامیابی پر ہمیں یقین ہی نہیں آیا، پہلے تو ہمیں لگا کہ یہ اتفاق ہے یا گرافس میں کوئی گڑبڑ ہے، مگر کئی بار اس عمل کو دہرانے کے بعد ہمیں یقین آیا ہے کہ ہم نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ طبی جریدوں نے بھی ہم پر یقین نہیں کیا اور کئی بار ہمارے مقالے کو مسترد کیا گیا اور ہم بڑی مشکل سے یقین دلانے میں کامیاب ہوئے کہ ایچ آئی وی کا علاج اب ممکن ہے۔

ایچ آئی وی سے نجات اس لیے لگ بھگ ناممکن ہوتی ہے کیونکہ یہ وائرس جینوم کو متاثر کرتا ہے اور خود کو خفیہ مقامات پر چھپا کر کسی بھی وقت دوبارہ سر اٹھالیتا ہے۔

ویسے اس وقت ایسی انتہائی موثر ادویات موجود ہیں جو اس وائرس کو دبا دیتی ہیں اور مریض میں یہ وائرس ایڈز کی شکل اختیار نہیں کرپاتا جس سے صحت مند اور لمبی زندگی گزارنا ممکن ہوجاتی ہے، تاہم یہ ادویات ایچ آئی وی کو ختم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔

اب محققین اس نئے طریقہ کار کو بندروں پر آزمائیں گے اور توقع ہے کہ اگلے سال موسم گرما میں انسانوں پر اس کا ٹیسٹ شروع ہوگا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ابھی اسے مکمل علاج قرار نہیں دیا جاسکتا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ کم از کم یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی کا مکمل علاج ممکن ہے۔

Google Analytics Alternative