صحت

دماغ کو ہر عمر میں جوان رکھنا بہت آسان

روزانہ 20 منٹ سے بھی کم وقت کی ہلکی ورزش جیسے چہل قدمی یا یوگا وغیرہ درمیانی عمر میں دماغ کو تنزلی کا شکار ہون سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

میامی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتہ بھر میں 2 گھنٹے کی یہ ہلکی ورزش دماغ کو درمیانی عمر یا بڑھاپے میں جوان رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہلکی نوعیت کی جسمانی سرگرمیاں بھی دماغ کے لیے فائدہ مند ہیں۔

میامی یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران 11 ہزار سے زائد رضاکاروں کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ ہلکی ورزش لوگوں کو ذہنی طور پر تیز رکھنے اور ذہنی کام کرنے میں موثر ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق 17 منٹ کی جسمانی سرگرمیاں دماغ کے مختلف حصوں جیسے توجہ مرکوز کرنا، مقاصد کا حصول اور ٹائم منیجمنٹ وغیرہ کی اہلیت بڑھاتی ہیں۔

ہلکی ورزشیں جیسے چہل قدمی، سائیکل چلانا اور یوگا وغیرہ دماغ کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ طویل المعیاد بنیادوں پر ہلکی ورزش کا پروگرام سوچنے کی صلاحیت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر ایک کے لیے سخت ورزشیں کرنا ممکن نہیں ہوتا مگر ہر ایک ہلکی ورزشوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے نیورولوجی کلینیکل پریکٹس میں شائع ہوئے۔

کیا ذیابیطس کے مریضوں کو چاول کھانے چاہئے؟

ذیابیطس اس وقت پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والا عارضہ ہے اور کروڑوں افراد اس کے شکار ہیں۔

ذیابیطس کے شکار افراد میں مناسب مقدار میں انسولین بن نہیں پاتی یا جسم اسے استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔

عام طور پر ذیابیطس ٹائپ 2 کا مرض طرز زندگی کی مخصوص عادات کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر لیول طویل عرصے کے لیے بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں دیگر طبی مسائل جیسے امراض قلب وغیرہ کا خطرہ بڑھتا ہے

اس عارضے کا ابھی تک کوئی مکمل علاج تو موجود نہیں مگر چند غذائی عادات اور طرز زندگی میں تبدیلیوں سے اسے کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے۔

بیشتر طبی ماہرین ذیابیطس کے مریضوں کی غذا میں سے چاول نکالنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس سے بلڈ شوگر لیول متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

مگر چاول ایسی چیز ہے جو پاکستان بھر میں بہت زیادہ عام ہوتی ہے تاہم اس میں موجود نشاستہ بلڈشوگر لیول بڑھا سکتا ہے۔

اسی طرح چاول میں فائبر نہیں ہوتا جو کہ مٹھاس کو جذب کرنے کا عمل لمبا کرکے بلڈشوگر لیول ریگولیٹ کرتا ہے۔

چاول ہائی گلیسمک انڈیکس غذا ہے اور اس طرح کی غذا بلڈ شوگر لیول بڑھانے کا باعث سمجھی جاتی ہے جبکہ اس میں موجود کاربوہائیڈریٹس ذیابیطس کے مریض کو انسولین استعمال نہیں کرنے دیتے جس سے بھی بلڈشوگر لیول بڑھتا ہے۔

تو ان عناصر کو دیکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ کیا واقعی چاول ذیابیطس کے شکار افراد کو نہیں کھانے چاہئے؟

امریکن ڈائیبیٹس ایسوسی ایشن کے مطابق نشاستہ دار غذائیں جیسے چاول صحت مند غذائی عادات کا حصہ ہوسکتی ہیں مگر ان کی مقدار کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

چاول، پاستا، آلو، مٹر اور مکئی وغیرہ کو غذاﺅں کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

تو ذیابیطس کے مریض سفید یا براﺅن چاول کھا سکتے ہیں مگر اعتدال کنجی ہے اور ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے اسے کھانے کی عادت بنائیں۔

رمضان میں موٹاپے اور توند سے نجات پانا چاہتے ہیں؟

ویسے تو ماہ رمضان کے دوران روزے رکھنا مذہبی فریضہ ہے، مگر یہ صحت کی بہتری کے لیے بھی بہترین وقت ہوتا ہے، خصوصاً جسمانی وزن میں کمی اور توند سے نجات کے لیے۔

اگر آپ سحری اور افطار میں سمجھ داری سے کام لیں تو آپ روزوں کے دوران کئی کلو تک جسمانی وزن گھٹا سکتے ہیں۔

اس کا طریقہ کار کچھ اس طرح ہوسکتا ہے۔

سحری کی تیاری

ماہرین کے مطابق جو اور اناج کی روٹی کو سحری کا حصہ لازمی بنانا چاہئے تاکہ پیٹ دیر تک بھرا رہ سکے، اسی طرح کیفین یعنی چائے یا کافی کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ یہ گرم مشروبات ڈی ہائیڈریشن اور جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں جو اس گرم موسم میں نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ پروٹینز اور کاربوہائیڈریٹس جیسے انڈے، آلو، دہی، دالیں، گوشت وغیرہ استعمال کرنا چاہئے تاکہ جسمانی توانائی کو دن بھر میں مستحکم رکھا جاسکے ۔

متوازن افطار

افطار کے وقت جسمانی وزن میں کمی کے خواہشمند افرد کو زیادہ سیال جیسے پانی یا قدرتی مٹھاس والے مشروبات کو ترجیح دینی چاہئے، تاکہ دن بھر میں جسم میں ہونے والی کمی پر قابو پایا جاسکے۔ زیادہ کیلوریز اور تلی ہوئی غذاﺅں کو اجناس، پھلوں ، سبزیوں اور چربی سے پاک گوشت سے بدل دیں۔

یا اگر ایسا ممکن نہیں تو جو کھانا ہو وہ ضرور کھائیں، مگر اعتدال سے، ورنہ زیادہ کھانا نقصان دہ ہی ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دن بھر کے فاقے کے بعد میٹابولزم کی رفتار کم ہوچکی ہوتی ہے اور اس وقت زیادہ کھانے کی صورت میں کیلوریز کو ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کھجور سے روزہ کھولنا اس لیے بھی بہترین ہے کیونکہ اسے ہضم کرنا آسان اور اسے کھانے سے بھوک کے احساس کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح کھجور جسم کو توانائی بھی فراہم کرتی ہے جبکہ زیادہ کھانے سے روکتی ہیں۔

ورزش سے گریز نہ کریں

دنیا بھر میں لوگ جسمانی وزن میں کمی کے لیے 16 سے 20 گھنٹے کے فاقے کو اپناتے ہیں اور اس کے دوران 4 سے 6 گھنٹے کے وقفے میں کم مقدار میں غذاﺅں کا استعمال کرتے ہیں اور ایسا ہی کچھ رمضان میں بھی ہوتا ہے۔ تو رمضان کے دوران ورزش کو جاری رکھنے سے کیلوریز کی کمی کو فائدے کی صورت میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایسا کرنے سے جسمانی چربی کی سطح میں نمایاں کمی آسکتی ہے یا یوں کہہ لیں توند سے نجات کافی آسان ہوجاتی ہے۔

روزانہ بادام کھانے کے یہ فائدے جانتے ہیں؟

اگر بے وقت بھوک لگے تو چپس یا بسکٹ کی بجائے مٹھی بھر بادام کھالیں، یہ وہ مثالی گری ہے جسے دن بھر کھایا جاسکتا ہے، جس سے نہ صرف جسمانی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ متعدد طبی مسائل کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بادام متعدد اجزاءکے حصول کا قدرتی ذریعہ ہے جن میں پروٹین اور صحت بخش چربی قابل ذکر ہیں، روزانہ 30 گرام تک بادام کھانا صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

بادام وٹامن ای، غذائی فائبر، میگنیشم، کاپر، زنک، آئرن، پوٹاشیم اور کیلشیئم سمیت 15 غذائی اجزاءجسم کو فراہم کرتے ہیں۔

اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

طبی جریدے جرنل نیوٹریشنز میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کچھ مقدار میں بادام کھانا خون میں چربی کی سطح میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے، یہ چربی امراض قلب کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

اسی طرح جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی جو لوگ گریاں جیسے بادام روزانہ کھانا پسند کرتے ہیں، ان میں کسی بھی مرض کے نتیجے میں درمیانی عمر میں موت کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہوتا ہے جو بادام کھانا پسند نہیں کرتے۔

اسی طرح پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کچھ بادام کھانے سے صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

اسی طرح بادام میں وٹامن اور ایسے اجزاءموجود ہوتے ہیں جو بالوں کی نشوونما اور مضبوطی کے لیے ضروری ہوتے ہیں، جیسے میگنیشم اور زنک بالوں کی نشوونما بہتر کرتے ہیں جبکہ وٹامن ای بالوں کو مضبوط اور وٹامن بی چمکدار بناتے ہیں۔

بادام میں مینگنیز نامی جز بھی موجود ہوتا ہے جو کہ کولیگن نامی ایک پروٹین کی مقدار بڑھاتا ہے جس سے جلد کو ہمرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اور قبل از وقت جھریاں نمودار نہیں ہوتیں۔

اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ باداموں کی کچھ مقدار کو روز کھانا جسمانی میٹابولزم کو بہتر بناکر موٹاپے اور توند سے نجات دلانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ بہت تیزی سے چربی گھلاتا ہے۔

بادام کو دماغی غذا بھی کہا جاتا ہے جو کہ یاداشت کو بہتر بناتا ہے اور اس کی وجہ وٹامن ای اور فیٹی ایسڈز کی موجودگی ہے، آسان الفاظ میں یہ میوہ بڑھتی عمر کے اثرات دماغ پر طاری نہیں ہونے دیتا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ہیٹ اسٹروک کے درمیان رمضان میں تربوز اسٹرابری شیک بنائیں

ہیٹ اسٹروک اور سخت گرمیوں کے ان دنوں میں روزہ رکھنے والے افراد یقینا افطاری تک نڈھال ہوجاتے ہوں گے، تاہم اگر ان گرمیوں میں اپنی غذاء کی پسند اور مقدار بہتر رکھی جائے تو اس مشکل پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

گرمیوں کی وجہ سے افطار و سحر میں ہر گھر میں جہاں میٹھے مشروب کا اہتمام کیا جاتا ہوگا، وہیں ٹھنڈی اور میٹھی غذائیں بھی دستر خوان کی زینت بنائی جاتی ہوں گی۔

لیکن اگر دن بھر کے روزے اور سخت گرمی کے بعد افطار میں تربوز اسٹرابیری شیک کو دیگر مشروب کی جگہ رکھا جائے تو یہ گرمیوں کے حوالے سے بہتر انتخاب ہوگا۔

تربوز اسٹرابیری شیک کو بنانا بہت ہی آسان ہے، جب کہ اس کا ذائقہ لاجواب ہے، ساتھ ہی اس میں شامل غذائیت انسانی صحت کے لیے بہتر بھی ہے۔

تربوز اسٹرابیری کے اجزاء

دہی۔ ٹھنڈی ایک کپ

تربوز۔ باریک کٹا ہوا 2 کپ

منجمند۔ اسٹرابیریز یا بلیو بیریز ایک کپ

شہد۔ ایک کھانے کا چمچ

ترکیب

تمام اجزاء کو بلینڈر کرلیں۔

بلینڈر کیے ہوئے شیک میں حسب ضرورت برف ڈالیں یا پھر فرج میں ٹھنڈا کرکے افطار میں نوش فرمائیں۔

تھری ڈی پرنٹر سے پردہ چشم کی تیاری میں کامیابی

سائنسدانوں نے پہلی بار تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے انسانی پردہ چشم یا قرینے کو بنانے میں کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

برطانیہ کی نیوکیسل یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق منفرد ‘بائیو انک’ اور پردہ چشم کے اسٹیم سیلز کے امتزاج سے 10 منٹ کے اندر تھری ڈی انسانی قرینے پرنٹ کیے گئے۔

اگر اس طریقہ کار کو طبی منظوری مل جاتی ہے تو تھری ڈی پرنٹڈ قرینے ایسے لاکھوں، کروڑوں افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے جنھیں پردہ چشم کی پیوندکاری کی ضرورت ہوتی ہے یا قرینے کی انجری کے باعث بینائی متاثر ہوتی ہے۔

قرنیہ آنکھ کا اگلا صاف پردہ ہوتا ہے جو کہ نقصان دہ مادے سے بینائی کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آنکھ کو کسی چیز پر توجہ مرکوز کرنے کی طاقت دیتا ہے۔

قرنیہ کافی سخت جان ہوتا ہے مگر انجری کی صورت میں درد اور بینائی متاثر ہوسکتی ہے، اسی طرح مختلف آنکھوں کے امراض سے بھی اس کے متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جو کہ نابینا پن کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

نیوکیسل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک بائیو انک الحجی نیٹر اور کولاجن کے امتزاج سے تیار کی، جس میں قرینے کے اسٹیم سیلز کو شامل کیا گیا، اس کے بعد قرینے کو ہم مرکز دائروں میں پرنٹ کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں متعدد ٹیمیں اس مقصد کے لیے بہترین بائیو انک تیار کرنے کی کوشش کررہی ہیں، مگر ہمارا منفرد یعنی الحجی نیٹر اور کولاجن کا امتزاج، اسٹیم سیلز کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہا جبکہ میٹریل کو اتنا سخت کردیا کہ وہ اپنی شکل لینے کے قابل ہوگیا اور اتنا نرم بھی رہا کہ تھری ڈی پرنٹر کے منہ سے باہر آگیا۔

تاہم ان کہنا تھا کہ مریضوں کے لیے ان تھری ڈی پرنٹڈ قرینوں کے استعمال مین ابھی برسوں درکار ہوں گے، ابھی یہ تحقیق کانسیپٹ کو حقیقی شکل دینے کی جانب پہلا قدم ہے۔

بڑھاپا سے بچنے کا طریقہ دریافت؟

بیشتر افراد بڑھاپے کے ساتھ آنے والی جسمانی کمزوریوں اور بیماریوں سے بچنے کی خواہش رکھتے ہیں اور لگتا ہے کہ بہت جلد ایسا ممکن ہوسکے گا۔

سائنسدانوں نے بڑھاپے کے جسمانی اثرات پر قابو پانے کا طریقہ کار ڈھونڈنے کا دعویٰ کیا ہے جن کی مدد سے جھریوں کی روک تھام خلیات کے ممکن سے ہوسکے گی۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ورجینیا یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کے حوالے سے تفتیش کے دوران خلیات کی بدولت جھریاں بدلنے کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق ایک پروٹین کی کمی کے نتیجے میں عمر بڑھنے سے جھریوں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے ، جبکہ جگر پر چربی چڑھنے سے اس پروٹین کی مناسب سطح برقرار رکھنے کی جسمانی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

تاہم سائنسدانوں کے خیال میں اس پروٹین کا اضافہ کرکے جھریوں سے نجات پانا ممکن ہے اور اس سے جسم پر عمر بڑھنے کے اثرات کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ جگر پر چربی چڑھنے اور جھریوں کے نمودار ہونے کے درمیان تعلق موجود ہے جو کہ خلیات کی وجہ سے ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر خلیے میں ایک جیسا ڈی این اے ہوتا ہے مگر ہر خلیہ مختلف ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی امید ہے کہ اس عمل کو ریورس کیا جاسکتا ہے اور اس سے جگر کو زیادہ صحت مند رکھنے میں مدد مل سکے گی۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ایجنگ سیل میں شائع ہوئے۔

زیادہ چکن کھانے کا یہ نقصان جانتے ہیں؟

اگر تو آپ کو جسمانی فٹنس برقرار رکھنے کا شوق ہے تو غذا میں پروٹین کی موجودگی کی اہمیت سے ضرور واقف ہوں گے، یہ غذائی جز پورے جسم بشمول بالوں، جلد، ناخنوں، ہڈیوں، خون اور دیگر کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے گوشت، مرغی، مچھلی، انڈے، گریاں اور بیج وغیرہ روزمرہ کی غذائی عادات کے لیے بہترین ہے مگر اب ایک طبی تحقیق میں یہ انتباہ سامنے آیا ہے بہت زیادہ پروٹین کا استعمال درمیانی عمر کے افراد میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 33 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر میں غذائی پروٹین جیسے دودھ، مرغی، مکھن اور پنیر وغیرہ سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 49 فیصد بڑھا دیتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ مچھلی اور انڈوں میں موجود پروٹین سے یہ خطرہ نہیں بڑھتا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ حیوانی پروٹین کے زیادہ استعمال یہ خطرہ 43 فیصد جبکہ نباتاتی پروٹین کے استعمال سے 17 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

فن لینڈ کی ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بیشتر غذائی ذرائع سے حاصل ہونے والی پروٹین کا زیادہ استعمال ہارٹ فیلیئر کا خطرہ کسی حد تک بڑھا سکتا ہے، صرف مچھلی اور انڈے اس خطرے کا باعث نہیں بنتے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ پروٹین سے بھرپور غذائیں خصوصاً حیوانی ذرائع سے ملنے والی پروٹین سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ڈھائی ہزار کے قریب درمیانی عمر کے افراد کی غذائی عادات کا جائزہ 22 سال تک لیا گیا۔

ان افراد کو روزانہ پروٹین کی مقدار کے حوالے سے 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا اور پھر زیادہ پروٹین اور کم پروٹین والے گروپس کے نتائج کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ پروٹین کھانے والے افراد میں ہارٹ فیلیئر کے 334 کیسز دیکھنے میں آئے اور ان میں یہ خطرہ حیوانی پروٹین کے استعمال سے 70 فیصد جبکہ نباتاتی پروٹین سے 27.7 فیصد تک بڑھا۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سرکولیشن میں شائع ہوئے۔

Google Analytics Alternative