صحت

توند سے نجات ناشتے کا وقت بدلنے سے بھی ممکن

اگر آپ توند کی چربی سے نجات چاہتے ہیں تو اپنے ناشتے اور رات کے کھانے کے وقت میں تبدیلی لاکر اس مقصد میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

سرے یونیورسٹی کی تحقیق میں غذاﺅں کے اوقات کے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ دیکھا گیا کہ اس سے ذیابیطس اور امراض قلب کا خطرہ کتنا کم یا زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران رضاکاروں کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو معمول کے وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے ناشتہ کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو ڈیڑھ گھنٹے پہلے ناشتہ کرنے کا کہا گیا۔

اس افراد کے خون کے نمونے 10 ہفتے کی تحقیق کے دوران کئی بار لیے گئے اور سوالنامے بھروائے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے اپنے کھانے کے اوقات کو تبدیل کیا انہوں نے جسمانی چربی کم غذا کھانے والوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ گھلائی۔

اس تحقیق کے دوران لوگوں پر یہ پابندی نہیں لگائی گئی تھی کہ وہ اپنی غذا میں کیا کھا سکتے ہیں۔

تاہم محققین نے دریافت کیا کہ جن لوگوں نے اپنے کھانے کے اوقات کو بدلا، انہوں نے مجموعی طور پر کم مقدار میں غذا کو جزو بدن بنایا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ تحقیق چھوٹے پیمانے پر تھی مگر اس سے عندیہ ملتا ہے کہ کھانے کے اوقات میں معمولی تبدیلی بھی ہمارے جسموں کے لیے کتنی فائدہ مند ہوسکتی ہے خصوصاً توند کی چربی کو گھلانے کے لیے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف نیوٹریشنل سائنس میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایک مخصوص وقت سے پہلے ناشتہ کرلینا موٹاپے سے بچانے یا اس سے نجات کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتہ نہ کرنے کی عادت نہ صرف موٹاپے بلکہ مختلف امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ ٹو، بلڈ پریشر اور امراض قلب وغیرہ کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتہ کرنے سے کھانے کے بعد کے گلوکوز اور انسولین کے ردعمل کو ریگولیٹ کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ گلیسمیک کنٹرول بہتر ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق صبح ساڑھے 9 بجے سے پہلے ناشتہ کرنا میٹابولزم ریٹ کو بہتر کرکے جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ناشتہ نہ کرنا نہ صرف میٹابولزم کو متاثر کرتا ہے بلکہ جسمانی سستی کا باعث بھی بنتا ہے کیونکہ دماغ کو اپنے افعال کے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے اور ناشتہ نہ کرنے پر وہ دن کے کسی بھی حصے میں کسی بھی چیز کی خواہش کرنے لگتا ہے، جس سے طویل المعیاد بنیادوں پر وزن بڑھتا ہے

السر کی 10 خاموش علامات

السر جسم کے کسی عضو میں زخم پڑجانے کو کہتے ہیں اور معدے میں زخم ہونے کی صورت میں اسے السر کا نام دیا جاتا ہے جو اکثر معدے کی پچھلی دیوار پر ہوتا ہے تاہم اگلی سطح پر بھی یہ زخم ہوجاتا ہے۔

یہ پرانا ہونے کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے مگر کیا آپ اس کی علامات سے واقف ہیں؟

درحقیقت معدے یا پیٹ میں اس درد کو کسی صورت نظرانداز نہیں کرنا چاہئے خاص طور پر اگر درج ذیل میں دی جانے والی علامات سامنے آئیں۔

شکم کے اوپری حصے میں درد

السر کی ایک سب سے عام علامت شکم کے اوپری حصے میں درد ہونا ہے، شکاگو یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق السر اوپری غذائی نالی میں کسی بھی جگہ ہوسکتا ہے تاہم یہ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ یہ چھوٹی آنت یا معدے میں ہوتا ہے، جہاں درد محسوس ہوتا ہے، یہ درد عام طور پر سینے کی ہڈی اور ناف کے درمیان ہوتا ہے اور جلن، خارش یا طبیعت سست ہونے کا احساس بھی ہوتا ہے۔ یہ کیفیت آغاز میں ہلکی اور قابل برداشت درد کے ساتھ ہوتی ہے مگر السر بڑھنے سے یہ سنگین ہوتی چلی جاتی ہے۔

متلی

السر کی ایک اور بڑی نشانی دل متلانا ہے، طبی ماہرین کے مطابق السر کے نتیجے میں ہاضمے میں موجود سیال کی کیمیسٹری بدل جاتی ہے جس کے نتیجے میں دل متلانے خصوصاً صبح کے وقت ایسا احساس ہوتا ہے۔ السر ہونے پر خوراک کو ہضم کرنا اکثر مشکل کام ثابت ہوتا ہے۔

قے ہونا

اگر السر بڑھنے لگے تو وقت کے ساتھ دل متلانے کا احساس بڑھ کر قے کی شکل اختیار کرلیتا ہے جو اکثر ہونے لگتی ہے، جو کوئی اچھا تجربہ تو نہیں مگر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں ادویات جیسے اسپرین اور بروفین سے دور رہنا چاہئے کیونکہ ان کے استعمال سے السر کی حالت خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

قے یا فضلے میں خون آنا

واش روم میں فضلے میں خون آنا مختلف طبی مسائل کا باعث ہوسکتا ہے تاہم اگر شکم کے اوپری حصے میں درد کے ساتھ ایسا ہو تو یہ السر کی علامت ہوسکتی ہے، اگر آپ کو بھی اس کی شکایت ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

کھانے کے بعد اکثر سینے میں جلن

اگر آپ کو اکثر سینے میں جلن کی شکایت رہتی ہے چاہے غذا کچھ بھی ہو تو السر اس کا ذمہ دار ہوسکتا ہے۔ السر کے بیشتر مریضوں کو سینے میں شدید درد کی شکایت رہتی ہے جس کے باعث کھانے کے بعد ہچکیاں آنے لگتی ہیں۔

کھانے کی خواہش ختم ہوجانا

السر کے بیشتر مریضوں کے اندر کھانے کی خواہش کم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں غذا کی مقدار کے استعمال میں کمی آتی ہے جبکہ الٹیاں زیادہ آنے لگتی ہیں اور وزن میں غیر متوقع کمی ہوجاتی ہے۔

بھوک کا عجیب احساس

اگرچہ السر کے باعث کھانے کی خواہش ختم ہوجاتی ہے، مگر کھانے کے بعد ایک سے 3 گھنٹے تک ناف اور سینے کے درمیان درد کو اکثر افراد بھوک سمجھ لیتے ہیں، کچھ کھانے سے ہوسکتا ہے کہ درد میں ریلیف ہو تو یہ معدے میں السر کی علامت ہوسکتی ہے۔

پیٹ پھولنا

اگر آپ کو محسوس ہو کہ پیٹ ضرورت سے پھول گیا ہے تو یہ گیس کے مقابلے میں سنگین معاملہ ہوسکتا ہے بلکہ السر کی ایک نشانی ہوسکتی ہے۔ عام طور پر یہ السر کی ابتدائی علامات میں سے ایک ہوتی ہے خصوصاً ایسے افراد میں جنھیں پیٹ کے درمیانی حصے میں شکایت کی تکلیف بھی ہو۔

کمردرد

ویسے تو السر کو معدے اور چھوٹی آنت سے منسلک کیا جاتا ہے مگر اس کا درد سفر کرکے کمر تک بھی جاسکتا ہے، اگر السر آنتوں کی دیوار تک پھیل جائے تو اس کا درد زیادہ شدید ہوجاتا ہے، دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور اس میں کمی مشکل سے آتی ہے۔

ڈکاریں

بدہضمی السر کی چند عام علامات میں سے ایک ہے اور یہ عام طور پر ڈکار کی شکل میں نظر آتی ہے۔ اگر معمول سے زیادہ ڈکاریں آرہی ہوں اور اس کے ساتھ اوپر درج علامات میں سے کوئی نظر آئے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

سیگریٹ نوشی کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

سیگریٹ نوشی کی عادت پھیپھڑوں کے لیے تباہ کن ہوتی ہے جبکہ اس کے دیگر متعدد نقصانات بھی ہیں اور اب اس میں ایک اور اضافہ ہوگیا ہے۔

برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ نوجوانی سے ہی تمباکو نوشی یا الکحل کا استعمال شروع کردینے سے شریانیں اکڑنے لگتی ہیں جس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ان دونوں کا استعمال شریانوں کو پہنچنے والے نقصان کی شرح دوگنا بڑھا دیتا ہے۔

لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ شریانوں کا اکڑنا انہیں نقصان پہنچنے کا عندیہ دیتا ہے اور درمیانی عمر میں دل کے مسائل جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 12 سو سے زائد نوجوانوں کا جائزہ 2004 سے 2008 تک لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ تمباکو نوشی کے استعمال سے شریانوں کے اکڑنے کا خطرہ کبھی کبھار سیگریٹ پینے والوں کے مقابلے میں اوسطاً 3.7 فیصد زیادہ ہے جبکہ الکحل کا استعمال یہ خطرہ 4.7 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

ان دونوں بری عادتوں کے شکار افراد میں یہ خطرہ اوسطاً 10.8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نوجوانی میں ہی سیگریٹ نوشی اب عام ہوچکی ہے جو کہ شریانوں کی اکڑن کا عمل شروع کردیتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر نوجوان اس لت سے چھٹکارہ پالیں تو ان کی شریانیں پھر معمول پر آجاتی ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے یورپی ہارٹ جرنل میں شائع ہوئے۔

دانتوں کے لیے نقصان دہ غذائیں

کیا آپ اکثر کیویٹیز، مسوڑوں کے امراض، دانتں کی حساسیت یا ان پر بدنما داغ کے شکار ہوجاتے ہیں؟ تو پھر آپ کو اپنی غذا پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ہوسکتا ہے آپ ایسی غذائیں استعمال کررہے ہوں یا سخت چیزوں کو چبا رہے ہوں جو دانتوں کی سطح کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

دانتوں پر برش اور خلال کے ساتھ ساتھ چند غذاﺅں کے استعمال میں احتیاط جگمگاتے اور صحت مند دانتوں کے لیے بہت ضروری ہے۔

ٹافیاں

سخت ٹافی چینی سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ دانتوں پر گندگی اور جراثیموں کے اجتماع کا باعث بن سکتی ہے، چونکہ یہ سخت ہوتی ہے تو انہیں توڑنے کے لیے دانتوں کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے جس سے دانتوں کی سطح کو نقصان پہنچ سکتا ہے، تو اس کے استعمال میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

ترش پھل

مالٹے، کینو غرض بیشتر ترش پھل وٹامن سی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں مگر ان کا بہت زیادہ استعمال دانتوں کی سطح کمزور کرنے کا باعث بنتا ہے اور ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کافی یا چائے

چائے یا کافی کو اگر چینی ڈال کر پیا جائے تو اس سے کیویٹیز کا امکان بڑحتا ہے، خصوصاً کافی منہ کو خشک کرنے کا باعث بنتی ہے، اسی طرح ان مشروبات کا بہت زیادہ استعمال دانتوں پر داغ جمنے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

میٹھے مشروبات

سوڈا دانتوں پر جراثیموں کی شرح بہت زیادہ بڑھانے کا باعث بنتا ہے جو کہ دانتوں کی سطح پر حملہ کرتے ہیں۔ یہ منہ کو خشک کرنے کا باعث بھی بنتے ہیں کیونکہ ان مشروبات کا استعمال لعاب دہن کی پیداوار کم کرتا ہے جبکہ دانتوں پر داغ بھی پڑے ہیں۔

چپس

یہ چپس نہ صرف جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ ان میں موجود نشاستہ منہ میں جاکر شکر میں تبدیل ہوجاتا ہے جو کہ دانتوں کے درمیان پھنس جاتا ہے، جس سے جراثیموں کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

سیگریٹ نوشی

سیگریٹ نوشی بھی دانتوں کے لیے نقصان دہ ہے جو کہ دانتوں کو زرد کرنے کا باعث تو ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ یہ عادت مسوڑوں میں بیکٹریا کی شرح افزائش میں نمایاں اضافہ کردیتی ہے۔

انرجی ڈرنکس

سوڈے کی طرح انرجی ڈرنکس میں بہت زیادہ تیزابیت اور چینی ہوتی ہے جو کہ دانتوں کی تباہی کی رفتار کو بڑھا دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں انرجی ڈرنکس دانتوں پر داغ بھی ڈال دیتے ہیں اور ان کے زیادہ استعمال سے دانت گرم یا ٹھنڈے مشروبات کے لیے بہت زیادہ حساس بھی ہوجاتے ہیں۔

پستے کے 10 فوائد جن سے اکثریت واقف نہیں

لندن : سردیوں کی آمد آمد ہے جس میں بادام، پستے اور دیگر میوہ جات بڑی تعداد میں کھائے جاتے ہیں۔ تاہم بہت سے افراد نہیں جانتے کہ پستے کھانے سے کس قدر اہم طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

باقاعدہ سائنسی تحقیق کے بعد پستے کے یہ دس فوائد سامنے آئے ہیں جنہیں کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا:

غذائیت سے بھرپور

چھلکوں کے بغیر ایک پیالی پستے میں 159 کیلوریز، 5.72 گرام پروٹین، 13 گرام چکنائیاں، 3 گرام فائبر، 7.70 گرام کاربوہائڈریٹس، 34 ملی گرام میگنیشیم، 291 ملی گرام پوٹاشیم، 0.482 ملی گرام وٹامن بی 6 اور 0.247 ملی گرام تھایامن ہوتا ہے۔

ان اجزا میں سے وٹامن بی 6 میٹابولزم اور دماغی نشوونما کےلیے نہایت مفید قرار پایا ہے۔

کم کیلوریز

اگر آپ غذائی حراروں (کیلوریز) کی وجہ سے پریشان ہیں تو 50 پستوں میں صرف 159 کیلوریز پائی جاتی ہیں۔ اس طرح یہ خیال غلط ہے کہ پستے کھانے سے جسم موٹاپے کی جانب مائل ہوتا ہے۔

اینٹی آکسیڈنٹس کا خزانہ

پستے ہر طرح کے مفید اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتےہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس کینسر اور دل کے امراض کو دور رکھ کر ہمیں توانا اور صحتمند رکھتے ہیں۔

آنکھوں کے لیے مفید

پستے میں دو اینٹی آکسیڈنٹس لیوٹین اور زی ایکسینتھن پائے جاتے ہیں جو موتیا اور عمررسیدگی سے متاثرہ بیماریوں کو روکتے ہیں۔

پستے اور آنتوں کی حفاظت

چونکہ پستے ریشوں یعنی فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں، اسی بنا پر یہ نظامِ ہاضمہ اور آنتوں کو تندرست رکھتے ہیں۔ قبض سے بچانے میں بھی ان کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ پستے کھانے سے معدے میں مفید بیکٹیریا کی تعداد بڑھتی ہے جس سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

پروٹین کی ضروریات پوری کرے

جو لوگ گوشت نہیں کھاتے اور پروٹین کی ضروریات پورا کرنا چاہتے ہیں تو پستے ان کے لیے بہت مفید ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ ایک پستے کا 21 فیصد وزن پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے۔

وزن گھٹانے میں مفید

2102 میں کئے گئے ایک سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ پستے کھانے سے وزن میں کمی ہوتی ہے کیونکہ یہ پیٹ بھرنے (شکم سیری) کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ دوسری جانب ان میں کیلوریز کی تعداد بھی کم ہوتی ہے۔

امریکا میں 12 سال تک کیے گئے ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ پستے کھانے سے کولیسٹرول کم ہوتا ہے اور بلڈ پریشر بھی مناسب رہتا ہے۔ اس طرح امراضِ قلب کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے۔

ذیابیطس کو روکنے میں مددگار

ایک چھوٹے سے تجربے میں شوگر بڑھانے والی غذاؤں کے ساتھ جب پستے دیئے گئے تو اس سے خون میں شکر کی مقدار میں اضافہ نہیں ہوا۔ اس سے ماہرین کا خیال ہے کہ باقاعدگی سے پستے کھانے والے افراد کے خون میں شکر کی سطح معمول پر رہتی ہے۔

سرطان کو بھگائے

2017 کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فائبر کی وجہ سے پستے آنتوں کے سرطان کو روکنے میں نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔

وہ عجیب عادت جو آپ کو جنیئس ثابت کرے

کیا آپ اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں یا خود کلامی کرتے ہیں اور وہ بھی بلند آواز میں ؟ تو ہوسکتا ہے کہ لوگ آپ کو پاگل سمجھیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کسی دماغی خلل کا نتیجہ نہیں بلکہ اصل میں آپ جنیئس ہیں۔

کم از کم ایک طبی تحقیق میں تو یہی دعویٰ سامنے آیا ہے۔

تحقیق کے مطابق خودکلامی کی عادت درحقیقت بہت زیادہ ذہانت کے مالک ہونے کی علامت ہوسکتی ہے۔

برطانیہ کی بنگور یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بلند آواز میں خود سے باتیں کرنا درحقیقت ذہنی طور پر بہت زیادہ افعال افراد میں پائے جانے والی عادت ہے۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے 28 رضاکاروں کو ایک تحریر فراہم کرتے ہوئے کہا کہ یا تو اسے بلند آواز میں پڑھیں یا خاموشی سے اپنے ذہن میں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے یہ تحریر اونچی آواز میں پڑھی، وہ اپنے کام میں زیادہ توجہ مرکوز رکھنے اور بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کی خودکلامی دیگر افراد کو عجیب لگے، مگر اس سے لوگوں کو اپنے رویوں کو کنٹرول کرنے میں زیادہ مدد ملتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب ہم کسی مشکل کام کے دوران خود سے بات کرتے ہیں تو اس سے کارکردگی بہتر ہوتی ہے، جبکہ خود پر کنٹرول کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔

ان کے بقول عام طورپر خودکلامی کی عادت بہت زیادہ ذہین ہونے کی علامت ہے، درحقیقت جو لوگ خود سے باتیں کرتے ہیں، وہ زندگی میں بھی زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ سال امریکا کی مریکا کی وسکنسن میڈیسن یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ یہ عادت ذاتی کارکردگی اور دماغی افعال کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے کیونکہ اس سے کام پر توجہ مرکوز کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ اونچی آواز میں خود سے بات کرنے سے دماغ کے وہ حصے حرکت میں آجاتے ہیں جو یاداشت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ اپنے جذبات سے جڑنا آسان ہوجاتا ہے۔

بچہ روز رات کو اٹھ جاتا ہے تو اس کی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں

رات کی خاموشی کو چیرنے والی آواز کی توقع ایک ماں کو پوری رات جگائے رکھ سکتی ہے اور جب ایسا واقعی ہوتا ہے تو نئے والدین کے طور پر آپ کیا کرتے ہیں؟

آپ کو پوری امید ہوتی ہے کہ بس یہ ایک دفعہ کا رونا یا پھر ایک جمائی ہو اور بس؟ مگر جیسے ہی دوسری آواز آتی ہے تو آپ فوراً اپنے بچے کی جانب بھاگتے ہیں اور اسے دوبارہ سلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

شروع کی چند راتوں میں تو آپ رات 2 بجے کی یہ ڈیوٹی بڑے صبر و سکون سے دیتے ہیں مگر جب یہ عادت بن جائے تو آپ کو کسی کنسلٹنٹ یا اسپیشلسٹ سے بات کرنی چاہیے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آپ کا بچہ کیوں بار بار اٹھ جاتا ہے۔

نامناسب حالات میں سونا

ڈاکٹر رچرڈ فربر کا مشہور کردہ inappropriate sleep onset association یعنی نامناسب حالات میں نیند میں جانے کا ڈس آرڈر حقیقت میں یہ ہے کہ بچے ایسی حالات میں نیند میں جائیں جو رات کے باقی حصے میں موجود نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر اگر آپ بچے کو سلانے کے لیے اپنی گود میں لیں اور پھر اسے بستر پر ڈال دیں، تو امکان ہے کہ وہ اٹھ کر رونے لگے گا/گی کیوں کہ نیند میں جاتے وقت کے حالات موجود نہیں رہے۔

مزید پڑھیے: نونہالوں کی نازک اور حساس جلد کا خیال رکھنا ہوگیا اب آسان

بھوک کے معنی سمجھنا

یہ ان بچوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہیں رات کو طویل دورانیے کے لیے نگہداشت کی عادت پڑ جاتی ہے۔ جب ماں نگہداشت کرنا بند کرتی ہے تو بچہ بھوک لگنے کی وجہ سے رات کو خوراک کی امید میں اٹھ کر رو سکتا ہے۔ وہ بچے جنہیں فیڈر سے ہٹایا جاتا ہے وہ اکثر اس صورتحال سے گزرتے ہیں اور جب آپ خوراک یا نگہداشت میں وقفہ بڑھاتے جائیں گے تو بچہ خوراک کے نئے معمول کے ساتھ ہم آہنگ ہونا سیکھ جائے گا۔

ماحولیاتی وجوہات

کئی ماحولیاتی وجوہات ایسی ہوسکتی ہیں جن کی وجہ سے آپ کا بچہ رات کو عجیب اوقات میں اٹھ کر رو سکتا ہے۔ ڈائپر کی تبدیلی سب سے عمومی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر والدین شاید اس اثر سے ناواقف ہوں جو اسی کمرے یا اسی بیڈ میں سونے والا دوسرا بچہ ان پر ڈالتا ہے۔ بڑے بھائی یا بہن غیر ارادی طور پر بچے کی نیند میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ کوئی بھی ماحولیاتی شور مثلاً کھڑ کھڑ کرنے والا پنکھا یا اے سی یا پھر گاڑی کا ہارن بھی رات کو بچے کی نیند خراب کرسکتا ہے۔

طبی وجوہات

اگر آپ اوپر بیان کردہ تینوں عوامل ختم کرچکے ہیں اور پھر بھی بچہ رات کو اٹھ جاتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ کچھ طبی وجوہات ہوں۔ اگر وہ رات کو لگاتار کھانستے ہوئے اٹھتا ہے تو یہ دمے کی علامت ہوسکتی ہے۔ سانس میں رکاوٹ بھی ایک عمومی مسئلہ ہے جس کا تعلق خرّاٹوں سے ہے جو بچے کو اٹھا سکتے ہیں۔ معمول سے زیادہ تیزابیت بچے کو پیٹ میں درد کرسکتی ہے جس کی وجہ سے رات کو الٹیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ اگر آپ کو یہ علامات محسوس ہوں تو کسی طبی ماہر سے رجوع کریں۔

نیند کی کمی کا نقصان توقعات سے بھی زیادہ

ہم میں سے بیشتر افراد جانتے ہیں کہ ناکافی نیند صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

مگر اب ایسے نئے شواہد سامنے آئے ہیں کہ بہت کم یا زیادہ نیند توقعات سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

یورپین اسٹڈی آف کارڈیالوجی میں متعدد نئی طبی تحقیقاتی رپورٹس پیش کی گئیں جن کے مطابق بہت کم یا زیادہ سونا شریانوں کی اکڑن، دل کے دورے، فالج، ہارٹ فیلیئر سمیت شریانوں سے جڑے متعدد امراض کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھاتا ہے۔

ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہم اپنی زندگی کا ایک تہائی وقت سوتے ہوئے گزارتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے جسمانی نظام پر اہم اثرات مرتب کرتا ہے۔

ایک تحقیق میں 10 لاکھ سے زائد افراد پر ہونے والی 11 طبی مقالوں کا تجزیہ کرکے دریافت کیا گیا کہ نیند کی کمی توقعات سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔

اگرچہ ہر ایک کی نیند کی ضرورت مختلف ہوتی ہے مگر اوسطاً 7 سے 9 گھنٹے کی نیند ہر فرد کے لیے ضروری ہے، تاکہ ذہنی افعال درست طریقے سے کام کرسکیں، کینسر کا خطرہ کم ہو۔

جہاں تک دل یا خون کی شریانوں سے جڑے امراض کی بات ہے تو ان کا خطرہ کم کرنے کے لیے 6 سے 8 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو امراض قلب یا فالج سے موت کا خطرہ 11 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

ایک الگ تحقیق میں بتایا گیا کہ 6 گھنٹے سے کم نیند شریانوں کے اکڑنے کے مسئلے کا خطرہ 27 فیصد تک بڑھا سکتا ہے جو کہ ہارٹ فیلیئر، فالج وغیرہ کا باعث بنتا ہے۔

ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ 5 گھنٹے سے کم نیند کا اثر تمباکو نوشی یا ذیابیطس جیسے مرض جیسا ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق نیند اور ان تمام امراض کے تعلق کے حوالے سے ابھی کچھ واضح نہیں مگر ہم جانتے ہیں کہ نیند حیاتیاتی عمل جیسے گلوکوز میٹابولزم، بلڈ پریشر اور ورم کے لیے بہت اہم ہے۔

Google Analytics Alternative