صحت

توانائی سے بھرپور ناشتہ صحت مند دل کی ضمانت

ایتھنز: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دن کا آغاز اگر توانائی سے بھر پور ناشتے سے کیا جائے تو دل کے امراض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک تازہ تحقیقی مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ توانائی سے بھرپور ناشتہ کرنے والے افراد کا دل ناشتہ نہ کرنے والے یا نسبتاً کم ناشتہ کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند رہتا ہے۔ یہ تحقیق یونان کی ایتھنز یونیورسٹی کے ماہرین امراض قلب کے شعبے کی جانب سے کی گئی جس کے لیے 2 ہزار افراد کا انتخاب کیا گیا۔

ماہرین قلب نے ان 2 ہزار افراد کے قلب کی صحت مندی کا جائزہ لیا، جس سے ثابت ہوا کہ معمول کی خوراک کے دوران پانچواں حصہ توانائی سے بھرپور ناشتہ کرنے والے افراد کے دل کی دیواریں اور شریانیں زیادہ مضبوط و صحت مند ہوتی ہیں۔ صحت مند دل والے افراد کے ناشتے میں دودھ، پنیر، زرعی اجناس، روٹی اور شہد شامل ہوتا ہے۔

ریسرچ کے نتائج سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ناشتہ نہ کرنے والے افراد میں سے 15 فیصد کی دل کی شریانوں میں غیر معمولی تبدیلی رونما ہوگئی تھی اور ایسے افراد میں دل کی دیواریں کمزور ہوگئی تھیں۔ اسی طرح ناشتہ سے گریز کرنے والے افراد میں گردن سے گزرنے والی شہہ رگ کے گرد چربی کی زیادہ مقدار جمع ہوجاتی ہے جو دل کے عارضہ کا سبب بن سکتی ہے۔

ریسرچ ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر سوتیریوس نے بتایا کہ تحقیق کے مکمل نتائج آئندہ ہفتے امریکن کالج آف کارڈیالوجی (اے سی سی) کے سالانہ اجلاس کے دوران پیش کیے جائیں گے۔ ڈاکٹر سوتیریوس دل کے امراض سے محفوظ رہنے کے لیے توانائی سے بھرپور ناشتہ تجویز کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق صحت مند خواتین کو 2 ہزار جب کہ مردوں کو ڈھائی ہزار یومیہ کیلوریز درکار ہوتی ہیں جس کا بیشتر دن کے پہلے کھانے میں لینا چاہیئے۔

بالوں کے گرنے سے پریشان ہیں؟

بالوں کا گرنا کس شخص کو پسند ہوسکتا ہے خاص طور پر مردوں کو، جن میں گنج پن کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہوتا ہے۔

اگر آپ کو بالوں کے گرنے کا سامنا ہے تو بہتر تو یہ ہے کہ کسی ڈاکٹر سے رجوع کرکے اس کی جڑ تلاش کریں۔

تاہم بالوں کی صحت مند نشوونما کے لیے آپ کے کچن میں موجود پیاز بھی آپ کو مدد فراہم کرسکتی ہے۔

جی ہاں پیاز کا عرق بالوں کی نشوونما کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔

طبی جریدے جرنل آف ڈرماٹولوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق پیاز کا عرق بالوں کی نشوونما میں بہت زیادہ معاونت کرتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران رضاکاروں کے سروں پر 6 ہفتے تک دن میں دو بار اس عرق کو ملا گیا، نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ عرق ایسا قدرتی طریقہ علاج ہے جو بالوں کو گرنے سے روک کر ان کی نشوونما بہتر بناتا ہے۔

پیاز میں سلفر پایا جاتا ہے جو دوران خون کو بہتر ، کولیگن کی نشوونما میں تیزی اور جراثیم کش ہونے کے باعث سر کے انفیکشنز کی روک تھام کرتی ہے۔

اس کے استعمال کے لیے پیاز کے عرق کو سر پر لگا کر پندرہ منٹ کے لیے چھوڑ دیں، پھر بالوں کو شیمپو سے دھولیں۔

اس کے علاوہ 2 کھانے کے چمچ پیاز کا عرق، 2 کھانے کے چمچ ناریل کا تیل اور 5 قطرے ٹی ٹری آئل (اگر خشکی کا سامنا ہو) کو مکس کریں۔

اس کے بعد اس مکسچر کو اپنے سر پر لگا کر کچھ منٹ تک مالش کریں اور پھر 30 منٹ کے لیے چھوڑ کر بالوں کو شیمپو سے دھولیں۔

یہ طریقہ کار ہر دوسرے دن استعمال کریں جو کہ بالوں کی نشوونما کے عمل کو تیز کردے گا۔

اسی طرح ڈیڑھ چمچ زیتون کے تیل اور 3 کھانے کے چمچ پیاز کے عرق کو مکس کرکے مکسچر بنائیں اور اس سے سر پر اچھی طرح مالش کرکے 2 گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔

اس کے بعد سر کو شیمپو سے دھولیں۔

یہ طریقہ کار بھی بالوں کی نشوونما تیز کرتا ہے جبکہ بالوں کی نمی اور نرمی واپس آتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

یہ مزیدار جوس آپ کو صحت مند بنائے

ویسے تو آج کل لگتا ہے کہ سبزیاں کھانا کسی کو پسند نہیں مگر سبز رنگ کی سبزیاں صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہوتی ہیں۔

ان میں سے ایک لوکی بھی ہے جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ غذاؤں میں سے ایک تھی جو کہ آپ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ نہ صرف گرم موسم میں جسم کو ٹھنڈا رکھتی ہے بلکہ دل کے لیے مفید اور بے خوابی کی شکایت دور کرنے میں بھی مددگار ہے۔

اس کا عرق یا جوس بھی صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے جو کہ وٹامن سی، وٹامن بی، سوڈیم، آئرن، پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کے ساتھ اس میں چربی اور کولیسٹرول کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔

اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

جسمانی وزن میں کمی
لوکی کا جوس ان افراد کے لیے فائدہ مند ہے جو جسمانی وزن میں کمی کے خواہشمند ہیں، اس کے لیے لوکی کے چھلکوں کو اتار کر سبزی کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں اور پھر جوسر میں ڈال کر جوس بنالیں، اس جوس کو پینا معمول بنانا موٹاپے سے نجات میں مدد دیتا ہے کیونکہ وٹامنز اور منرلز کے ساتھ یہ جوس کھانے کی اشتہا پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے، اس جوس کو نہار منہ پینا جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر بنائے اور قبض دور کرے
لوکی میں فائبر کی دونوں اقسام موجود ہوتی ہیں جبکہ پانی کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے، اسی لیے اس کا جوس نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، یہ جوس قبض کے علاج کے لیے بھی موثر ثابت ہوتا ہے جبکہ تیزابیت کو بھی دور کرتا ہے۔

جسم کو ٹھنڈک پہنچائے
چونکہ لوکی میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے تو یہ جسم کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے جو کہ گرمی میں پسینہ زیادہ آنے پر پانی کی کمی بھی پوری کرتی ہے۔

پیشاب کے مسائل دور کرے
لوکی کا جوس جسم میں موجود ایسے مواد کو خارج کردیتا ہے جو پیشاب کے مسائل کا باعث بن سکتے ہیں، لوکی کے جوس میں لیموں کا عرق ملا کر پینا اس حوالے سے فائدہ مند ہوتا ہے۔

بہتر نیند کے لیے مددگار
اگر آپ بے خوابی کے شکار ہیں تو لوکی کے جوس میں تلوں کے تیل کو مکس کرکے پینا عادت بنالیں، جس سے نیند کا مسئلہ دور ہوجائے گا۔

دل کو صحت مند بنائے
اس جوس کو پینا دل کو صحت مند بنانے میں مدد دیتا ہے کیونکہ اس سے بلڈ پریشر ریگولیٹ ہوتا ہے جس سے شریانوں کی صحت مستحکم رہتی ہے۔

جگر کا ورم کم کرے
لوکی کا جوس جگر کے ورم کو دور کرنے کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔

بالوں کی سفیدی سے بچائے
صبح نہار منہ لوکی کا جوس پینا عادت بنانے پر جوانی میں بالوں کی سفیدی کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

جلد ہموار بنائے
لوکی کا جسم جسمانی نظام کی صفائی کرتا ہے جس سے جلد کی صحت بہتر ہوتی ہے اور اس کی چمک اور خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔

لوکی کا جوس بنانے کا طریقہ
250 سے 300 گرام کی لوکی لیں اور اسے اچھی طرح دھولیں، اس کے بعد چھلکے چھیل لیں کر سبزی کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔

ان ٹکڑوں کو بلینڈر میں ڈال دیں جس کے بعد پودینے کے 5 سے 6 پتوں کا اضافہ کریں جبکہ کچھ مقدار میں پانی کو بھی شامل کرکے بلینڈ کرلیں۔

جوس بن جائے تو اس میں ایک چمچ زیرہ پاﺅڈر، دو چمچ سیاہ مرچ پاﺅڈر اور حسب ذائقہ نمک شامل کرکے مکس کرکے پی لیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کیا آپ کے ہاتھ اکثر سن ہوجاتے ہیں؟

ہاتھوں کا اکثر سن ہوجانا ایسا ناخوشگوار تجربہ ہوتا ہے جو کسی کو بھی خوفزدہ کرسکتا ہے۔

عام حالات میں یہ کسی پوزیشن میں بہت دیر تک ہاتھ کو رکھنے کے باعث اعصابی دباﺅ سے ہوتا ہے، جو کہ جسم کو حرکت دینے پر ختم ہوجاتا ہے۔

تاہم اگر یہ تجربہ بار بار ہونے لگے تو پھر یہ ضرور خطرے کی گھنٹی ہے، خاص طور پراگر کسی قسم کی ادویات کا استعمال نہ کررہے ہوں۔

ایسا ہونے کی ممکنہ وجوہات درج ذیل ہیں، تاہم اس تجربے پر ڈاکٹر سے ضرور رجوع کیا جانا چاہئے۔

فالج

اگر آپ دوپہر کو کچھ دیر کی نیند لے کر اٹھتے ہیں اور آپ کے ہاتھ یا پیر سن یا بے حس ہورہے ہو تو آسانی سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ یہ اعصاب دب جانے کا نتیجہ ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا ہاتھ اچانک بے حس یا کمزور ہوجائے تو یہ کیفیت چند منٹوں میں دور نہ ہو تو فوری طبی امداد کے لیے رابطہ کیا جانا چاہئے۔ ان کے بقول شریانوں میں ریڑھ کی ہڈی سے دماغ تک خون کی روانی میں کمی کے نتیجے میں جسم کا ایک حس سن یا کمزور ہو جاتا ہے، اگر اس کے ساتھ بولنے میں مشکل ہو، ایک کی جگہ دو چیزیں نظر آئیں، سوچنا مشکل ہو اور آدھے سر کا درد وغیرہ بھی ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

کارپل ٹنل سینڈروم

یہ عارضہ جس کے دوران ہتھیلی میں موجود اعصاب متاثر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہاتھ اکثر سن رہنے لگتا ہے جبکہ درد، سنسناہٹ، سوئیاں چبھنے، جلن اور کمزوری جیسی علامات بھی سانے آتی ہیں، ابتدائی مرحلے میں اس عارضے کی تشخیص ہوجائے تو علاج آسان ہوتا ہے مگر تاخیر ہونے پر اکثر سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔

ذیابیطس

ذیابیطس میں اکثر مریض ہاتھ پیر سن ہوجاتے ہیں، ان میں سوئیاں چبھنے یا جھنجھناہٹ کا حساس ہوتا ہے، اس کی وجہ ہائی بلڈ شوگر کے نتیجے میں اعصاب کو پہنچنے والا نقصان ہوتا ہے۔ ذیابیطس کی دیگر علامات یہ ہیں، پیشاب زیادہ آنا، بہت زیادہ پیاس لگنا، خشک منہ، جلد میں خارش، سانس سے پھلوں جیسی بو آنا، پیروں اور ہاتھوں میں درد یا سن ہونا، بھوک بڑھنا، جسمانی وزن میں اچانک کمی اور زخم کا جلد ٹھیک نہ ہونا۔

عضلاتی درد

اگر آپ کو پورے جسم یمں درد کے پھیلنے اور دیر تک تھکاوٹ کا احساس ہو تو یہ ریشہ دار عضلاتی درد یا Fibromyalgia کا عارضہ ہوسکتا ہے، اس کے شکار افراد کو ہاتھوں اور بازﺅں کے سن ہونے اور ان میں سوئیاں چبھنے کا احساس بھی ہوتا ہے، یہ ایسا مرض ہے جس کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور اس کا کوئی مخصوص علاج بھی نہیں مگر مختلف طریقہ کار سے کافی حد تک ریلیف حاصل کیا جاسکتا ہے۔

دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کا مرض

اگر آپ کے ہاتھوں کو اکثر سن ہونے یا کمزوری کا احساس ہوتا ہے تو یہ اچھی خبر نہیں، یہ عارضہ جسے Multiple sclerosis کہا جاتا ہے، کہ دوران دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے حصے سخت ہوکر رسولی، اعصابی کمزوری اور دیگر کمزوریوں کا باعث بنتے ہیں، اس لیے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے، اس مرض کا ابھی کوئی علاج نہیں مگر کچھ طریقہ کار سے کافی حد تک معیار زندگی کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔

چہرے کی جلد کی سوزش یا دق

Lupus یا چیرے کی جلد کی سوزش ایک آٹو امیون مرض ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمارا مدافعتی نظام اعضا اور ٹشوز پر حملہ آور ہوجاتا ہے، اس مرض کی علامات میں ہاتھوں کا سن ہونا بھی شامل ہے مگر اس کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ جسم کا کونسا حصہ اس سے متاثر ہے، اگر یہ اہم اعضا جیسے دل، گردے، پھیپھڑوں یا دماغ تک پہنچ جائے تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

ہر کام میں تاخیر کرنے کے ساتھ تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں؟

کیا آپ کو اکثر کام کرتے ہوئے تاخیر ہوجاتی ہے، تھکاوٹ طاری رہتی ہے بلکہ کچھ بھی کرنے کو دل نہیں کرتا؟

اگر ہاں تو اس کی وجہ کوئی بیماری نہیں بلکہ آپ کے ہاتھ یا جیب میں موجود اسمارٹ فون ہے۔

جی ہاں 18 سے 24 سال کی عمر کے لگ بھگ 50 فیصد نوجوان ماضی کی نسل کے مقابلے میں زیادہ تھکاوٹ کے شکار اور روزمرہ کے کاموں کے لیے نااہل ثابت ہورہے ہیں۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔

کوئنز لینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال ہے جس کے نتیجے میں روزمرہ کی زندگی متاثر ہورہی ہے۔

محققین نے ایسے افراد ٹیکنوفیرینس کا نام دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں موبائل فونز کے مسائل کا باعث بننے والا استعمال بڑھ رہا ہے۔

صرف آسٹریلیا میں ہی 24 فیصد خواتین اور 15 فیصد مردوں کو مسائل کے شکار موبائل فون صارفین قرار دیا گیا۔

اسی طرح دریافت کیا گیا کہ 18 سے 24 سال کے 40.9 فیصد جبکہ 25 سے 29 سال کے 23.5 فیصد افراد ٹیکنوفرینس کے شکار ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ٹیکنوفرینس سے مراد روزمرہ کے کاموں میں وہ مداخلت ہے جس کا تجربہ لوگوں کو موبائل فونز اور ان کے استعمال کے نتیجے میں ہوتا ہے۔

آسٹریلیا بھر میں کیے جانے والے سروے میں تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا ہر 5 میں سے ایک خاتون اور ہر 8 میں سے ایک مرد کو موبائل فونز کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں نیند کی کمی کا سامنا ہوتا ہے ۔

اسی طرح روزمرہ کے کاموں کی اہلیت کے حوالے سے 12.6 فیصد مرد جبکہ 14 فیصد خواتین نے موبائل فونز کے استعمال کے باعث اپنی اہلیت میں کمی کا اعتراف کیا۔

محققین کے مطابق نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ موبائل فونز بہت تیزی سے روزمرہ کی زندگی کو متاثر کررہے ہیں اور لوگوں کو مختلف مسائل کا شکار کررہے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل فرنٹیئر میں شائع ہوئے۔

موسم گرما میں موٹاپے سے نجات کے لیے بہترین مشروبات

موسم گرما کا آغاز ہوچکا ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب جسمانی وزن میں کمی لانا کافی آسان ہوجاتا ہے۔

اس کی وجہ اس موسم میں کھیلوں اور گھر سے باہر سرگرمیوں کا بڑھنا ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ بہترین وقت ہوتا ہے جب جسم کو زہریلے مواد سے پاک کیا جاسکتا ہے۔

تو اگر آپ توند کی بڑھتی چربی سے نجات چاہتے ہیں تو اس موسم کے چند بہترین مشروبات کا استعمال شروع کردیں۔

یہ مشروبات جسم کو اس موسم میں ڈی ہائیدریشن سے بچانے میں مدد دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ چربی بھی تیزی سے گھلاتے ہیں۔

لیموں، پودینہ اور کھیرا

ایک کھیرے کے پتلے ٹکڑے کاٹ لیں اور پانی سے بھرے ایک جگ میں ڈال دیں، اس کے بعد لیموں کے باریک ٹکڑے اور کچھ مقدار میں پودینے کا بھی اضافہ کردیں، پھر پانی کو فریج میں رات بھر کے لیے چھوڑ دیں اور اگلے دن پی لیں۔

تخ ملنگا اور لیموں

تخ ملنگا ایک بہترین سپرفوڈ ہے جس سے جسم کو فائبر ملتا ہے جبکہ جسمانی وزن کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے، اسے استعمال کرنے کے ایک کھانے کے چمچ تخ ملنگا پانی سے بھری ایک بوتل میں ڈبو دیں اور لیموں کے باریک کٹے ٹکڑوں کا بھی اضافہ کردیں، اس کے بعد ایک گھنٹے کے لیے انہیں چھوڑ دیں اور پھر پی لیں، یہ مشروب جسم کو اینٹی آکسائیڈنٹس، فائبر اور دیگر اجزا فراہم کرتا ہے جس سے جسمانی وزن میں کمی کا عمل تیز ہوتا ہے۔

میتھی دانہ اور لیموں

ایک چائے کا چمچ میتھی دانہ ایک گلاس پانی میں بھگو کر رات بھر کے لیے چھوڑ دیں، اگلی صبح میتھی دانے کو پانی سے چھان پر نکال دیں اور اس پانی میں لیموں کے عرق کا اضافہ کرکے اسے اچھی طرح مکس کریں اور پھر پی لیں، یہ مشروب توند کی چربی تیزی سے گھلانے میں مدد دیتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ناخن بھربھرے پن کا شکار کیوں ہونے لگتے ہیں؟

کیا آپ کو معلوم ہے کہ انگلیوں کے ناخن آپ کی صحت کے بارے میں بہت کچھ بتاسکتے ہیں؟

جی ہاں یقین کرنا شاید مشکل ہو مگر ڈاکٹر آپ کی صحت کے بارے میں ناخنوں کو دیکھ کر بہت کچھ بتاسکتے ہیں۔

ناخنوں کے مسائل اکثر افراد کو پریشان کردیتے ہیں مگر ناخنوں کا ایک مسئلہ ایسا ہے جس پر لوگ زیادہ دھیان نہیں دیتے اور وہ ہے ناخن بھربھرے یا چھلکے جیسے ہوجانا جو کہ جسم کے اندر مسائل کی علامت ہوسکتی ہے۔

اس کی وجہ آپ کا طرز زندگی بھی ہوسکتا ہے اور کسی مرض کی علامت بھی۔

صفائی کرنے والی مصنوعات کا استعمال

کلیننگ پراڈکٹس ناخنوں کی نمی چوس لیتی ہیں جس کے نتیجے میں وہ بھربھرے پن کا شکار ہوجاتے ہیں، اس کی وجہ ان میں موجود کیمیکل ہوتا ہے، مگر اس سے بچنے کے لیے موئسچرائزر کا استعمال کیا جاسکتا ہے جو کہ ڈاکٹر کے مشورے سے لینا چاہئے۔

ہینڈ سینیٹیزر کا استعمال

ہاتھوں کی صفائی کے لیے اس محلول کا بہت زیادہ استعمال بھی ناخنوں کو کمزور اور بھربھرے پن کا شکار کردیتا ہے، اس محلول میں الکحل موجود ہوتا ہے جو کہ ناخنوں کی نمی ختم کردیتا ہے اور کمزوری کا شکار کردیتا ہے۔

اینٹی بایوٹیکس ادویات کا استعمال

کچھ ادویات بھی ناخنوں پر مضراثرات مرتب کرتی ہیں، اینٹی بایوٹیکس ان میں سرفہرست ہیں جن کا استعمال متعدد امراض کے لیے ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ناخن کمزور اور بھربھرے پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔

تھائی رائیڈ امراض

بہت زیادہ یا کم متحرک تھائی رائیڈ پورے جسم کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں جن میں ناخن بھی شامل ہیں، عام طور پر تھائی رائیڈ کے امراض کے نتیجے میں ناخنوں میں سب سے پہلے تبدیلیاں آتی ہیں اور ناخن خشک ہوکر بھربھرے ہوجاتے ہیں۔

ناخنوں کا خیال نہ رکھنا

اگر آپ ناخنوں میں پھنس جانے والے میل کے لیے سخت چیزوں کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے بھی بھربھرے پن کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ ناخن جڑ سے اکھڑنے لگتا ہے۔

آئرن کی کمی

آئرن پورے جسم کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے جو کہ خون کی کمی بھی دور کرتا ہے، جن افراد یں آئرن کی کمی ہوتی ہے ان کے ناخنوں میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں اور وہ بھربھرے پن کا شکار ہونے لگتے ہیں۔

روزانہ یہ مزیدار جوس پینا فالج سے بچانے میں مددگار

فالج ایسا مرض ہے جو دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں اموات کا باعث بنتا ہے مگر اس کو خود سے دور رکھنا بہت آسان ہے۔

درحقیقت روزانہ مالٹے کا جوس پینا جان لیوا فالج کا خطرہ نمایاں حد تک کم کردیتا ہے۔

یہ بات نیدرلینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

نیدرلینڈ نیشنل انسٹیٹوٹ فار پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ روزانہ اورنج جوس پیتے ہیں، ان میں فالج کا خطرہ 24 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

یہ مزیدار جوس پینے کی عادت خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ بھی 12 سے 13 فیصد تک کم کردیتی ہے۔

پھلوں کے تازہ رس کا استعمال صحت بخش قرار دیا جاتا ہے مگر کمپنی کے تیار کردہ جوسز میں چینی کی زیادہ مقدار انہیں نقصان دہ بھی بنادیتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے دریافت کیا کہ خالص مالٹے کا جوس پینا فالج سے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتا ہے، یعنی چینی ملانے سے گریز کریں۔

مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صرف اورنج جوس ہی نہیں دیگر پھلوں کے عرق بھی اس خطرے کو کم کرتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 20 سے 70 سال کی عمر کے 35 ہزار کے قریب مردوں و خواتین کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا۔

طبی ٹیم نے دریافت کیا کہ جوس پینے کے ساتھ ساتھ پھلوں کو کھانا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔

Google Analytics Alternative