دلچسپ اور عجیب

چار مہینوں میں مسلح افواج کی 90شہادتیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی اور ماضی قریب میں پاکستانی مسلح افواج ملکی سیاست اور معاملات میں ملوث رہی ۔ مگر ابھی مسلح افواج کی اعلی قیادت نے یہ تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ کسی صورت ملکی سیاست اور دوسرے معاملات میں ملوث نہیں ہونگے اور نیوٹرل رہیں گے۔ جبکہ اسکے برعکس سابق وزیر اعظم عمران خان کا خیال ہے کہ مسلح افواج نیوٹرل نہ رہیں بلکہ وہ انکو دوبارہ اقتدار لانے میں کردار ادا کریں۔بد قسمتی سے مسلح افواج کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر منفی زہریلا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے ۔ اور پاکستان اور آرمی دشمنوں کی یہ پوری کوشش ہے کہ مسلح افواج کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بدنام کیا جائے۔گذشتہ دنوں مسلح افواج کے تعلقات عامہ کے سربراہ بابر افتخار اور آئی ایس آئی چیف ندیم انجم نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اپنے موقف کی وضا حت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں ۔ مگر نہ تو ہم غدار ہیں اور نہ ملکی مفادات کا سودا کرسکتے ہیں۔ ہم سے ماضی میں جو غلطیاں ہوئی ہیں ہم اُنکو اب اپنے خون سے دھورہے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چار مہینوں میں مسلح افواج کے لیفٹننٹ جنرل سے سپاہی تک 90 جوان ،دشمن کے خلاف برسر پیکار رہنے کے بعدجام شہادت نو ش کر گئے ۔ علاوہ ازیں نیم فوجی دستوں اور پولیس کی شہادتیں انکے علاوہ ہیں۔دراصل بات یہ ہے کہ ہمارے مسلح افواج کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک خوفناک اور خطر ناک ٹرینڈ جاری ہے اور عسکری اداروں کے خلاف یہ بھی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ فوج 90 فی صد بجٹ کھا رہا ہے ۔ اگر ہم اعداد و شمار پر غور کریں تو ہماری 9 لاکھ مسلح افواج کا بجٹ قومی بجٹ کا 17 فی صد یعنی 1400 ارب روپے کے لگ بھگ ہے ۔جس میں 9 لاکھ مسلح افواج کی تنخواہیں، راشن، اور جنگی آلات کی خریداری اور دوسرے لوازمات شامل ہیں۔ در اصل اسرائیل ، بھارت اور دوسرے اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں ہمارے عسکری اداروں ، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور انکا مقصد ان اداروں کو کمزور کرکے پھر پاکستانی جغرافیائی محل وقوع پر قبضہ کرنے کے بعد وسائل لوٹنا ہے۔اگر ہم تجزیہ کریں ان اسلام دشمن اور مفادات پسند ممالک سب سے پہلے مسلمان ممالک کے مسلح افواج اور دفاع کے اداروں پر حملے کرتے ہیں اور اسکے بعد ان پر قابض ہوکر انکے وسائل کو لوٹتے ہیں۔لیبیا، شام، عراق، اور فلسطین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ مسلح افواج کے نظام میں کوتاہیاں اور خامیاں ہونگی مگر اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم اپنے دفاعی اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کرکے اسکو کمزور کریں۔اس وقت سیاست دانو ں کی نااہلی یا مسلح افواج کی بار بار مداخلت اور یا نا اہل سیاست دانوں کو اقتدار سونپنے کی وجہ سے پاکستانی معیشت انتہائی کمزور ہے۔ مسلح افواج، عمران خان ، شہباز شریف اور ملک کے دوسری سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو چاہئے کہ وہ ملکی استحکام ترقی عوامی فلاح و بہبود کےلئے کام کریں۔ ایک دوسرے کے ٹانگیں کھینچنا چھوڑ دیں تاکہ ملکی اور باہر سے سرمایہ کار آکر یہا ں سرمایہ کاری کریں اور ملک اقتصادی طور پر ترقی کریں۔ جہاں تک سابق وزیر اعظم عمران خان کا تعلق ہے تو موصوف خیبر پختون خوامیں10سال، گلگت بلتستان، کشمیر ، پنجاب اور وفاق میں ساڑھے تین سال اقتدار پر براجمان رہے ، جسکو مسلح افواج، انتیلی جنس، انٹی کرپشن اداروں، عدلیہ اور افسر شاہی کی پوری سپورٹ حا صل تھی مگر اتنا عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود کپتان نے کچھ بھی نہیں کیا۔بلکہ انکے دور اقتدار میں وفاق کا قرضہ 25 ہزار ارب سے بڑھ کر 50 ارب تک بڑھ گیا۔ اور خیبر پختون خوا میں قرضہ 80ارب روپے سے 1000 ارب تک پہنچ گیا۔ڈیم کے نام پر عمران خان کے منظور نظر سابق چیف جسٹس پرمبینہ طورپر نو ارب روپے کھانے کا الزام ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت کو بین الاقوامی سطح پرکورونا کے مد میں جو 1200 ارب ملے وہ بھی ٹھگوں میں بانٹے گئے۔میں اس کالم کے توسط سے مسلح افواج سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ ملکی سیاست میں مداخلت چھوڑ یں ۔ ساتھ ساتھ شہباز شریف، عمران خان اور دوسرے سیاسی پارٹیوں سے استد عا ہے کہ وہ بھی ایک دو سرے کے ٹانگیں کھینچنا بند کریں اور ملک کے پسے ہوئے طبقات کےلئے کام کریں۔ پاکستان اور پاکستان کے قیام کے بعد 100 سے زیادہ ممالک معرض وجود میں آئیں مگر بد قسمتی سے نااہل اور کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے اب ہم سب سے پیچھے ہیں اور جنوبی ایشیاءہم سارے ممالک بھارت،بنگلہ دیش اور دوسرے کئی ممالک سے پیچھے ہیں۔سابق وزیر اعظم عمران خان جو الزام لگا رہے ہیں کہ میرے پاس اختیارات نہیں تھے تو اسکواس وقت بتانا چاہئے تھا اب اقتدارسے ہٹ کے انکو اس قسم کے باتیں نہیں کرنا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے