پاکستان

اگر میرا اختیار ہوتا تو الیکشن کا اعلان کردیتا، وزیراعظم انوار الحق کاکڑ

غزہ کی جنگ سرحدوں سے باہر نکل سکتی ہے جس کی کوئی حد نہیں ہوگی، نگراں وزیراعظم

لاہور: نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے اتنخابات کا مینڈیٹ آئینی طریقے سے الیکشن کمیشن کو دیا ہے اور وہ ہی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا مینڈیٹ رکھتا ہے اگر یہ اختیار میرے پاس ہوتا تو اعلان کردیتا۔لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسسز کے طلبا سے خصوصی گفتگو میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ انتخابات کی تاریخ کا آئینی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے اور وہ ہی اس کا اعلان کرے گا۔ایک طالب علم کے سوال پر انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت آئینی طریقہ کار سے قائم ہوئی ہے، سابقہ قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف نے آئینی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے میری بطور نگراں وزیر اعظم نامزدگی کی۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا مینڈیٹ دیا گیا۔ انتخابات کی تاریخ کا علان کرنا نگراں حکومت یا وزیراعظم کا نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا مینڈ یٹ ہے ، اگر آئینی طورپر مجھے یہ مینڈیٹ دیا گیا ہوتا ہے تو میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیتا۔پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی تارکین کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی پالیسی اور متعلقہ قوانین کے مطابق تمام غیر قانونی تارکین وطن اور غیر ملکیوں کو پاکستان کی سرزمین سے واپس بھیجا جارہا ہے، یہ پالیسی پاکستان میں مقیم صرف غیر قانونی افغان شہریوں کے لئے مخصوص نہیں بلکہ یہ ان تمام غیر ملکیوں پر لاگو ہوتی ہے جن کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیںانہوں نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر نہیں کیا جا رہا بلکہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے کیونکہ دنیا بھرکا یہ اصول ہے کہ کوئی بھی ملک بغیر دستاویزات اور پاسپورٹ کے کسی غیر ملکی کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔وزیر اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان نے چالیس سال تقریبا 50 ملین افغان شہریوں کی میزبانی کی۔ دس لاکھ غیر ملکیوں کی شناخت ہوئی ہے جو قانونی اور مستند دستاویزات کے بغیر پاکستان میں رہ رہے ہیں، ایسے تمام غیر ملکیوں کو واپس ان کے ملک جانے کے لئے حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، اگر وہ درکار قانونی دستاویزات اور مستند ویزے کے ساتھ پاکستان واپس آتے ہیں تو ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کا فیصلہ قومی سطح پر کیا گیا ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت شامل تھی کیونکہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی مختلف قسم کی جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے، جس کا ادراک سب کو تھا مگر پہلے اس بارے میں نہیں سوچا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں سے متعلق پیش آنے والے ایک واقعہ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وزارت داخلہ کے متعلقہ حکام کو ہدایات دی ہیں کہ خواتین اور بچوں کو باعزت طریقے سے ان کے وطن واپس بھیجا جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متعدد دہشت گردانہ واقعات میں مخصوص گروہ ملوث ہیں، بعض گروپوں کا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونا مسئلہ کا حصہ ہے، وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں مسجد میں خودکش حملہ کا حوالہ دیا جس کے خود کش بمبار کی شناخت ڈی این اے سے افغان شہری کے طور پر ہوئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے