راولپنڈی :آج صبح تقریباً چار بجے طورخم پر افغانی حدود میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی جس سے تقریباً 150 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں۔ مستند ذرائع کے مطابق یہ آگ طالبان نے خود لگائی تاکہ سرحد پار سے کسی حملے کا ڈرامہ رچا کر خود کو مظلوم ثابت کر کے وکٹم کارڈ کھیلا جا سکے۔مقامی تاجروں کی گواہی اس حوالے سے انتہائی اہم ہیں، جنہوں نے آگ لگنے سے کچھ دیر قبل علاقے میں مسلح افغان اہلکاروں کی مشکوک نقل و حرکت دیکھی تھی۔یہ بات افغانستان بھی جانتا ہے کہ پاکستان پیٹھ پیچھے سے وار کرنے کا حامی نہیں یہ محض افغان طالبان کا ایک پروپیگنڈا ہے جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے۔تقریباً 300 ملین افغانی کا یہ نقصان افغان عوام اور تاجروں کا ہے، جسے افغان عبوری حکومت نے اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا۔سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ وکٹم کارڈ کھیلنا طالبان کی پرانی حکمت عملی رہی ہے۔ جب بھی انہیں اندرونی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے، وہ اس طرح کے پراپیگنڈا کر کے الزام پاکستان پر ڈال کر عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔آگ کئی گھنٹوں تک لگی رہی لیکن اسے بجھانے کے لیے وہ تگ و دو نظر نہیں آئی جو اتنے بڑے تجارتی مرکز کو بچانے کے لیے ہونی چاہیے تھی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مقصد آگ بجھانا نہیں بلکہ اس سے پیدا ہونے والے دھوئیں میں اپنی ناکامیاں چھپانا اور پاکستان کے خلاف ایک نیا پراپیگنڈا تیار کرنا تھا۔
خاص خبریں
طورخم مارکیٹ میں لگی آگ ، افغان طالبان کا اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ایک اور وکٹم کارڈ
- by Daily Pakistan
- مارچ 8, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 6 Views
- 14 منٹ ago

