- الإعلانات -

دنیا کی پہلی عمر بڑھنے کے عمل کو روکنے والی دوا

دنیا کی پہلی عمر بڑھنے کے عمل کو روکنے والی دوا کو اگلے برس انسانوں پر آزمایا جائے گا تاکہ الزائمر اور پارکنسن جیسے امراض پر اس کے اثرات کو جانچا جاسکے۔محققین کا ماننا ہے کہ اس دوا کی بدولت پر وہ ممکنہ طور پر لوگوں کو بوڑھا ہونے سے روک سکیں گے اور اچھی صحت کے ساتھ 110 یا 120 سال کی عمر تک پہنچا ممکن ہوجائے گا۔اگرچہ سننے میں تو یہ کسی سائنس فکشن ناول کا خیال لگتا ہے مگر محققین پہلے ہی اپنے تجربات سے ثابت کرچکے ہیں کہ ذیابیطس کی دوا میٹ فورمین (metformin) جانوروں کی زندگیوں میں توسیع کرنے میں کامیاب رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکا کے محکمہ صحت فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس دوا کے انسانوں پر اثرات جانچنے کے لیے ٹیسٹوں کی اجازت دے دی ہے۔اگر یہ دوا کامیاب ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ 70 کی دہائی میں کھڑا فرد جسمانی طور پرکسی 50 سالہ شخص جیسا صحت مند ہوگا۔اس تجربے پر کیلیورنیا کی بیوک انسٹیوٹ فار ریسرچ آن ایجنگ کام کررہی ہے اور اس کے محققین کا کہنا ہے کہ اگر آپ عمر بڑھنے کے عمل کو ہدف بنائے اور اسے سست کردیں تو آپ تمام امراض کی نشوونما کو بھی سست کرسکتے ہیں اور یہ ایک انقلابی اقدام ثابت ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ ہر پہلو سے یہ ممکن لگا ہے اور اب اسے انسانوں پر بھی آزمایا جائے گا۔ بیس سال قبل تو عمر میں اضافہ ایک حیاتیاتی راز تھا مگر اب ہم اسے سمجھنے لگے ہیں۔اس دوا کے تجربات اگلے سال موسم سرما میں امریکا میں شروع ہوں گے اور 70 سے 80 سال کے تین ہزار ایسے افراد پر انہیں آزمایا جائے گا جو کینسر، امراض قلب اور ڈیمینشیا جیسے امراض کے شکار یا ان کے خطرے سے دوچار ہوں گے۔ محققین کو توقع ہے کہ دوا سے عمر بڑھنے کا عمل سست ہوگا اور امراض کے پھیلنا بھی رک جائے گا۔