- الإعلانات -

بین الافغان مذاکرات کے لیے باضابطہ ایجنڈا طے نہیں کیا گیا

اسلام آباد: جہاں دوحہ میں طویل انتظار کے بعد انٹرا افغان مذاکرات کا آغاز چند روز میں ہونے جارہا ہے وہیں اس عمل کے لمبے اور پیچیدہ ہونے کی امید کی جارہی ہے۔

ایک سفارتکار جو افغان امن اور مفاہمت سے متعلق پیشرفتوں کا قریب سے مشاہدہ کر رہا ہے، نے پس منظر کے حوالے سے بریفنگ میں کہا کہ ‘ہم امید کر رہے ہیں کہ اگلے 10 دنوں میں کچھ ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے’۔

مختلف مقدمات میں سزا یافتہ 400 افراد میں سے 80 طالبان قیدیوں کی پہلے مرحلے میں رہائی نے جنگ سے متاثرہ ملک میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کے امکانات کو روشن کردیا ہے۔

امریکا اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدے کے تحت افغان حکومت کو طالبان کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے ایک ہزار اہلکاروں کو آزاد کرنے کے بدلے میں 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔

ان میں سے تقریبا 4 ہزار 600 کو پہلے ہی رہا کیا جاچکا ہے تاہم کابل باقی 400 افراد کو رہا کرنے سے کترا رہا تھا جنہیں خطرناک قرار دیا گیا تھا۔

بعد ازاں یہ معاملہ لویا جرگہ کے سامنے اٹھایا گیا جس نے ان کی رہائی کی توثیق کی جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے انہیں آزاد کرنے کے لیے صدارتی فرمان جاری کیا۔

تاہم اس عمل میں کچھ دن لگے جس کی وجہ سے یہ بدگمانیاں پیدا ہوئیں کہ کابل اس معاملے پر اپنے پیر کھینچ رہا ہے۔

سفارت کار نے اس عمل کے بالآخر آغاز کے بارے میں پر امید دکھائی دیے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ وقت ضائع ہو رہا ہے۔

ان مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا بہت ساری پیچیدگیاں ہیں اور یہ عمل بہت پیچیدہ اور طویل ہوگا اور ‘اس کا کوئی آسان حل نہیں ہو گا’۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے اسٹرکچر اور سیکریٹریٹ کے قیام کے لیے دونوں فریقین نے بہت سارے بنیادی کام کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ اس کے باوجود ابتدائی اجلاس کا کوئی باضابطہ ایجنڈا نہیں، ‘دونوں فریقین نے اپنی ترجیحات تیار کی ہیں جن پر وہ بات کرنا چاہیں گے تاہم اس کا کوئی ٹھوس ایجنڈا نہیں ہے’۔

جہاں یہ عام فہم ہے کہ مذاکرات کے دوران ’کوئی ضامن نہیں ہوگا‘ اور صرف ’مبصرین‘ ہوں گے تاہم اس کے دوران ایک اہم سوال جنگ بندی کا ہوگا۔

طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے رواں ہفتے کے اوائل میں وائس آف امریکا کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ بین الاافغان مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر تبادلہ خیال اور اس پر اتفاق رائے کیا جائے گا’۔

اس سفارتکار نے کہا کہ جنگ بندی پر بہت زیادہ توجہ مرکوز رکھی جائے گی، اس میں اہم مسئلہ یہ ہوگا کہ یہ کس طرح عمل میں آئے گا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ‘یہاں پہلے ہی جنگ کے زونز کم ہیں، کیا جنگ بندی کا مطلب ہے ان علاقوں کی تعداد کو بڑھایا جائے گا یا کچھ اور طریقہ کار وضع کیا جائے گا’۔

انہوں نے مذاکرات کے دوران دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ اسے کامیاب بنانے کے لیے لچک دکھائیں اور ایک جامع حکومت کے قیام پر اتفاق رائے کرنے پر طالبان کی تعریف بھی کی۔