- الإعلانات -

اسرائیل کے ساتھ تعلقاتبڑھانے کا معاملہ، فلسطینی حکومت کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا

دُبئی: متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور امن معاہدہ کرنے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کا سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا ، جس کے بعد فلسطینی حکومت نے امارات اور بحرین میں تعینات کیے گئے اپنے سفیر واپس بُلا لئے تھے۔ تاہم اب ایک بار پھر ان سفیروں کو دوبارہ امارات اور بحرین تعینات کیا جا سکتا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ روابط کی بحالی کے اعلان کے بعد ایک فلسطینی ذمے دار نے کہا ہے کہ اسرائیل کو تسلم کرنے اور تل ابیب کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کے خلاف بہ طور احتجاج واپس بلائے گئے سفیر متحدہ عرب امارات اور بحرین میں دوبارہ تعینات کیے جا رہے ہیں۔خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ چھ ماہ کے تعطل کے بعد اس نے اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی اور سول شعبوں میں روابط بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تحریک فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن اورشہری امور کے وزیر حسین الشیخ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ "صدر محمود عباس کے عالمی رہ نماؤں کے ساتھ ہونے والے رابطوں میں اسرائیل کے ساتھ طے پائے معاہدوں کی تل ابیب کی جانب سے پاسداری کویقینی بنانے کے زبانی اور تحریری پیغامات کے بعد صہیونی ریاست کے ساتھ 19 مئی 2020ء سے پہلے والی پوزیشن بحال کی جائے گی۔ سول اور سکیورٹی کوآرڈینیشن کی واپسی کا مطلب اسرائیل کے ذریعہ واجب الادا ٹیکس محصولات کی پریشانی کو حل کرنا اور انہیں اتھارٹی کے خزانے میں واپس کرنا ہے تاکہ ملازمین کی تنخواہوں کے مسئلے کا حل نکالا جا سکے”۔