- الإعلانات -

سعودی فرمانروا کی زیرصدرات جی 20 کا15واں سربراہی اجلاس آج سے ریاض میں شروع ہوگا

سعودی عرب: کے فرمانروا شاہ سلمان کی صدارت میں جی 20 ممالک کا دو روزہ سربراہی اجلاس آج سے ریاض میں شروع ہو رہا ہے عرب نشریاتی ادارے کے مطابق سعودی عرب میں 2 روزہ جی ٹوئنٹی ورچوئل سربراہی اجلاس 21 نومبر سے شروع ہو رہا ہے اور یہ اس گروپ کا15واںسالانہ اجلاس ہے. سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سربراہی اجلاس کی صدارت کریں گے کورونا کی وبا کے باعث یہ اجلاس اانتہائی اہم سمجھا جارہاہے جس میں عالمی معیشت کو متاثر کرنے والے مسائل پر بحث ہو گی.

جی20 اجلاس میں عالمی تنظیمیں اور اداروں کے حکام بھی شرکت کریں گے جبکہ اجلاس میں عالمی ادارہ خوراک و زراعت، مالیاتی استحکام کونسل کے حکام شرکت کریں گے اس کے علاوہ جی 20 ممالک کے سربراہی اجلاس میں عالمی ادارہ صحت، عالمی ادارہ محنت کے حکام شریک ہوں گے اجلاس میں اقوام متحدہ،عالمی بینک گروپ اور عالمی تجارت تنظیم کے علاوہ دیگر اداروں کے حکام شرکت کریں گے، اجلاس میں عرب مالیاتی فنڈ، اسلامی ترقیاتی بینک، افریقی یونین اور جی سی سی حکام بھی شریک ہوں گے.دوسری جانب ایک سنیئر امریکی عہدے دار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کی سربراہی میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں جی 20سربراہی اجلاس میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے عالمی بحران اورعالمی مالیاتی، معاشرتی اور معاشی امور پر تبادلہ خیال کریں گے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کریںگے.

سربراہی اجلاس کا کام جو عام طور پر عالمی راہنماﺅں کے مابین دوطرفہ مکالمے کا موقع ہوتا ہے اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے انتہائی اہم عالمی امور پر ویڈیو لنک کے ذریعے مختصر سیشنز تک محدود رہے گا. اس سال جی 20 کی سربراہی کرنے والے سعودی عرب میں منتظمین کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ امید کی جا رہی ہے کہ یہ بات چیت وبا کے اثرات اور عالمی معیشت کی بحالی کے اقدامات پر مشتمل ہوں گے ۔جی20 ترقی پذیر ممالک میں قرضوں کے ممکنہ ڈیفالٹ سے نمٹنے کے لیے مزید مدد فراہم کرنے پر غور کرے گی اس کے علاوہ کووڈ 19 اور اس کے انسداد کی تیاریوں کے ضمن میںویکسین کی نئی دریافتوں اور ان سے امید پیدا ہونے والی توقعات کا جائزہ لیا جائے گا. واضح رہے کہ جی20 کے وزرائے خزانہ نے سال رواں کے دوران اپنی میٹنگز میں غریب ترین ملکوں پر کورونا وبا کے اثرات کم کرنے کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا لائحہ عمل طے کیا تھاجی20 میں شریک ممالک دنیا کی دو تہائی آبادی کے نمائندہ ہیں ان کی معیشت کا حجم دنیا کی 85 فیصد معیشت کے برابر ہے اور یہ 75 فیصد عالمی تجارت کے مالک ہیں.

قبل ازیں مئی میں سعودی عرب کی زیر صدارت جی 20 ممالک کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں زور گیا تھاکہ تمام ممالک سفری پابندیاں ختم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ سفری پابندیوں سے دنیا کی ہوابازی‘سیاحت اور اس سے متعلقہ بڑی انڈسٹری کورونا وائرس کی وجہ سے پابندیوں کی زدمیں آکر تقریبا تباہ ہوکر رہ گئی ہے. جی 20 کے وزرائے تجارت و سرمایہ کاری نے سعودی عرب کی صدارت میں آن لائن اجلاس کے اختتام پر مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ وزرائے تجارت و سرمایہ کاری نے مطالبہ کیا کہ زرعی غذائی اشیا کی برآمد پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہ لگائی جائے وزرائے تجارت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والے مسائل سے مل کر نمٹا جائے گا.

اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا تھا کہ تجارت اور سرمایہ کاری پر کورونا کی وبا کے اثرات کم کرنے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے وزرائے تجارت نے دو طرح کے حفاظتی انتظامات کا عزم ظاہر کیاتھا. اجلاس میں کہا گیا تھا کہ اول تو وبا کے اثرات کم کرنے کے لیے مختصر مدت کے اقدامات کیے جا ئیں گے، دوم ڈبلیو ٹی او اور کثیر فریقی تجارتی نظام میں ضروری اصلاحات لانے کے لیے طویل مدتی اقدامات کرنے ہوں گے.

جی20ممالک کے وزرائے تجارت نے عالمی تجارت و سرمایہ کاری اور بین الاقومی امدادی سامان کی ترسیل پر وبا کے اثرات سے نمنٹے کے لیے عالمی تنظیموں کے ساتھ مل کر کوششوں کا عزم ظاہر کیا تھا وزرائے تجارت نے بیان میں امدادی سامان کی ترسیل، طبی ساز وسامان اور کورونا وائرس سے متعلق ضروری خدمات پر عائد پابندیوں سے نمنٹے کا بھی عزم ظاہرکرتے ہوئے کہاتھا کہ اس قسم کی پابندیاں، عارضی شفاف اور متوازن ہوں تمام ممالک بین الاقوامی سفر پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی کوشش کریں اور جی20 میں شامل وزرائے مواصلات بری، بحری اور فضائی نقل و حرکت کو بہتر بنا ہیں اور مسافر بردار ط