خاص خبریں

صدر ٹرمپ نے ڈیل میں تاخیر پر مایوس ہو کر ایران پر نئے حملوں کا حکم دیا، امریکی میڈیا

صدر ٹرمپ نے ڈیل میں تاخیر پر مایوس ہو کر ایران پر نئے حملوں کا حکم دیا، امریکی میڈیا

نیویارک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے مجوزہ معاہدے پر جواب میں تاخیر سے شدید مایوس تھے اور اسی پس منظر میں انہوں نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی منظوری دی۔رپورٹ میں دو سینئر امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بظاہر حملوں کا فوری سبب امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کا واقعہ بنا، تاہم اصل پس منظر میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل اور صدر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی بے چینی شامل تھی۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کئی ہفتوں سے تہران کے جواب کا منتظر تھا لیکن ایران نے امریکی تجاویز پر حتمی ردعمل دینے میں تاخیر کی۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے متعدد مرتبہ ایران کو پیغام دیا گیا کہ مذاکرات کے لیے وقت محدود ہے اور جلد جواب درکار ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے فوجی کارروائی کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا کہ حملے محدود نوعیت کے ہوں اور جانی نقصان کم سے کم ہو، تاکہ سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہ ہو اور مستقبل میں معاہدے کا امکان برقرار رہے۔
امریکی حکام کے مطابق حملوں سے قبل ایران کو یہ پیغام بھی پہنچایا گیا تھا کہ کارروائی مخصوص فوجی اہداف تک محدود رہے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اپاچی ہیلی کاپٹر کے عملے کو جانی نقصان پہنچتا تو امریکی ردعمل کہیں زیادہ سخت ہو سکتا تھا۔رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ قطر سمیت علاقائی ثالث مسلسل دونوں فریقوں کے درمیان رابطے میں تھے اور مذاکرات کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششیں جاری تھیں۔ اسی دوران واشنگٹن نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر جواب میں مزید تاخیر ہوئی تو صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے۔امریکی ویب سائٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدے میں یورینیم افزودگی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور بعض اقتصادی معاملات سے متعلق اہم نکات شامل تھے، تاہم دونوں فریق حتمی اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ داخلی سیاسی دباؤ، میڈیا تنقید اور مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث صدر ٹرمپ پر دباؤ بڑھ رہا تھا، جس کے نتیجے میں انہوں نے سخت مؤقف اختیار کیا۔امریکی حکام کے مطابق اگرچہ حالیہ حملوں کے باوجود سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، لیکن واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اگر ایران مزید تاخیر کرتا رہا تو اسے اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے