صحت

زیادہ کام فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ تازہ تحقیق

کراچی: ایک تازہ تحقیق کے نتیجے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ زیادہ کام فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس تحقیق کے لیے پانچ لاکھ افراد کا تجزیہ کیا گیا۔ لینسٹ میڈیکل جرنل میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ روایتی اوقات صبح 9 سے شام 5 بجے تک کے علاوہ کام کرتے ہیں ان کو فالج ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ معلومات غیر یقینی ہیں لیکن تحقیق کے مطابق تناؤ والے کام آپ کی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جو لوگ زیادہ دیر تک کام کرتے ہیں انھیں اپنا بلڈ پریشر چیک کرتے رہنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق ہفتے میں 35-40 گھنٹے کام کرنے والوں کے مقابلے میں 48 گھنٹے کام کرنے والوں میں یہ خطرہ 10 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح 54 گھنٹے کام کرنے والوں میں 27 فیصد اور 55 گھنٹوں سے زائد کام کرنے والوں میں اس کا خطرہ 33 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

تعلیم و ترقی کے اس دور میں پاکستان کی پوزیشن ۔

دنیائے اسلام میں پاکستان ایک ایسا ملک بن کر ابھر رہا ہے جس کے ہونہار طالب علم کبھی دنیا کے کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بن رہے ہیں اور کبھی اے اور او لیول کے امتحانات میں سب سے زیادہ اے گریڈ لے رہے ہیں۔ کبھی تندور پر روٹیاں لگانے والا جامعہ پنجاب کے بی اے کے امتحان میں اوّل آتا ہے تو کبھی کھیتی باڑی کرنے والا۔

کیا یہ تمام ریکارڈز بنانے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ نوجوان پیدا کر رہے ہیں؟ یا پھر طالب علم ڈگری یافتہ تو بن رہے ہیں مگر تعلیم یافتہ نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ تعلیمی میدان میں تو ریکارڈ پر ریکارڈ بن رہے ہیں مگر عملی میدان میں یہ ریکارڈ بنانے والے ہونہار طالب علم کوئی بھی اہم معرکہ سر انجام دینے میں ناکام رہتے ہیں۔

کسی بھی امتحان کے نتائج آنے کے بعد ہمارا میڈیا پوزیشن ہولڈرز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ پوزیشن ہولڈر کے علاوہ گھر والوں اور حتیٰ کہ اس کے دوستوں کے انٹرویوز بھی نشر کیے جاتے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹیاں بڑے بڑے بینرز اور اشتہارات کے ذریعے پوزیشن لینے والے طلبہ و طالبات کی تصویریں لگا کر اپنی تشہیر کرتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے بھی نقد انعامات کے علاوہ عمرہ کروانے کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ انعامات بانٹنے کی تقریب میں “معمولی تعلیم یافتہ” وزیر تعلیم پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے تقاریر کرتے ہیں۔

مگر کیا یہ پوزیشن ہولڈرز مختلف امتحانات میں نمایاں پوزیشنز لینے کے باوجود عالمی معیار پر پورا اترتے ہیں؟

اس تصنیف کا مقصد کسی کا مذاق اڑانا نہیں بلکہ پاکستان میں رائج تعلیمی نظام کی افادیت اور اس کے فرسودہ پن کو آشکار کرنا ہے جس سے پڑھ کر میں بھی یہ تصنیف لکھنے کے قابل ہوا ہوں۔

اگر کاغذوں میں دیکھا جائے یا پھر حکومتی عہدیداروں کی تقریریں سنی جائیں تو ہمیں پتہ لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں شرحِ خواندگی بڑھ رہی ہے اور ممکن ہے کہ یہ حقیقت بھی ہو۔ مگر موجودہ دور میں آج بھی ہم نے اخبار پڑھ لینے والے یا خط لکھ لینے والے کو خواندہ ہی مانا ہے۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بی اے کرنے والوں کو کیا صحیح معنوں میں گریجویٹ کہا جا سکتا ہے؟

حیران کن طور پر پچھلے کچھ سالوں سے جامعہ پنجاب کے بی اے کے امتحانات میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والے کا تعلق نچلے متوسط طبقے سے ہوتا ہے۔ جس سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پڑھائی کے لیے دولت کا ہونا لازمی نہیں اور کوئی بھی مزدور یا فیکٹری میں کام کرنے والے کا بیٹا یا بیٹی محنت کے ذریعے نمایاں پوزیشن حاصل کرسکتا ہے۔

مگر کیا وجہ ہے کہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں ہزاروں روپے دے کر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ان امتحانات میں پوزیشنز حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں؟

میرے نزدیک اس کی وجہ ہمارا فرسودہ تعلیمی نظام ہے جس میں رٹّا لگا کر پڑھنے والا تو پوزیشن حاصل کرسکتا ہے مگر کسی بھی تعلیمی ادارے میں دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے والا نمایاں پوزیشن حاصل نہیں کرسکتا۔

تعلیم صرف یہ نہیں کہ امتحانات میں پوزیشن حاصل کر کے ڈگری لے لی جائے بلکہ تعلیم میں وہ ماحول بھی نمایاں رول ادا کرتا ہے جو کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں پایا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ہونے والی غیر نصابی سرگرمیاں نتائج پر تو نہیں مگر اسٹوڈنٹس کی شخصیت پر ضرور گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

اس کے علاوہ بی اے کے امتحانات میں پوزیشن لینے والے طالب علموں کے مضامین بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ جیسے کہ کچھ مضامین ایسے ہیں جن میں زیادہ نمبرز لینا قدرے آسان ہوتا ہے۔ جیسے کہ پنجابی، کشمیریات، عربی، اور فارسی۔

لیکن تعلیمی اداروں میں ان مضامین کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہوتی اور اس کی وجہ یہ کہ ریگولر اسٹوڈنٹس معاشیات، شماریات اور سِوکس جیسے مضامین میں دلچسپی لیتے ہیں۔ جن کو استعمال کرتے ہوئے وہ عملی زندگی میں نوکریاں حاصل کرتے ہیں۔

2012 کے جامعہ پنجاب کے بے اے کے امتحانات میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والے محسن علی کا کہنا تھا کہ اس نے 6 ماہ میں بی اے کی تیاری کر کے اوّل پوزیشن حاصل کی ہے۔

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو اسٹوڈنٹ دو سال کسی ادارے میں پڑھتا ہے وہ بقیہ ڈیڑھ سال ضائع کرتا ہے کیونکہ اگر 6 ماہ میں پڑھ کر ہی اوّل پوزیشن حاصل کی جاسکتی ہے تو دو سال کالج یا یونیورسٹی جا کر ہزاروں روپے برباد کرنے کا کیا فائدہ؟

حالیہ آنے والی تعلیمی اداروں کی درجہ بندی میں جامعہ پنجاب کو پاکستان کی تیسری بہترین یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے اور حالیہ کچھ سالوں میں بی اے کے نتائج کو دیکھ کر جامعہ پنجاب کی افادیت کا اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔

اول پوزیشن حاصل کرنے والے یہی طلبہ جب کسی مشکل مضمون میں ماسٹرز کرتے ہیں تو بمشکل 3 سی جی پی اے لے پاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جو پوزیشن لینا ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہے، اب اس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا، کیونکہ عالمی معیار کی یونیورسٹیوں، یا پاکستان ہی کی بہتر یونیورسٹیوں میں پوزیشن دیکھ کر داخلہ نہیں دیا جاتا، بلکہ وہاں پر جدید تحقیق کی مدد سے داخلہ ٹیسٹ تیار کیے جاتے ہیں جن کو پاس کرنے کی قابلیت کم از کم ہماری یونیورسٹیوں سے تو نہیں مل سکتی۔ اور جاب سیکٹر میں تو ویسے بھی کوئی پوزیشن کو نہیں پوچھتا، وہاں صرف قابلیت دیکھی جاتی ہے۔

لہٰذا جہاں پوزیشن لینے والوں کی مدح سرائی اور نہ لے سکنے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، تو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ پوزیشن یا اے گریڈ کو ہی قابلیت کی واحد علامت کے طور پر نہ گردانا جائے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ جہاں مستحق اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اعلیٰ انعامات سے نوازے، وہیں ان کے ساتھ ساتھ ان دوسرے طلبہ کے لیے بھی مواقع اور وظائف مہیا کرے جو ہوتے تو ہونہار ہیں، لیکن پوزیشن لینے میں ناکام رہتے ہیں۔

بلوچستان : طالبات کی شرح تعلیم میں اضافہ جبکہ 80 فیصد بچے میٹرک پہلے اسکول چھوڑ دیتے ہیں

کوئٹہ: صوبہ بلوچستان میں 80 فیصد بچے میٹرک، یعنی دسویں جماعت تک پہنچنے سے پہلے ہی اسکول چھوڑ دیتے ہیں،صوبے کی طالبات تعلیمی کارکردگی سمیت بہت سے شعبوں میں طلبا سے بازی لے جاتی ہیں۔یہ انکشاف تعلیم کیلئے سرگرم غیر سرکاری تنظیم کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، صوبہ بلوچستان میں سیکنڈری سطح کے اسکول کی عمر کے صرف 20 فیصد بچے میٹرک کا امتحان دیتے ہیں، جبکہ صوبے کے 80 فیصد بچے یا تو اسکول میں داخل ہی نہیں ہوتے یا میٹرک سے پہلے ہی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، صوبے میں مجموعی طور پر ہر سال 90 فیصد طلبا و طالبات بورڈ کے امتحانات پاس کر جاتے ہیں۔ لیکن ان میں سے نصف سے زائد صرف سی گریڈ میں پاس ہوتے ہیں۔یہ رپورٹ بلوچستان کی تعلیمی صورتحال کی عکاس ہے، جسے ایک غیر سرکاری سطح پر کام کرنے والی تنظیم، الف اعلان نے جاری کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے’’پاس یا فیل؟ بلوچستان میں میٹرک کے امتحانی نتائج اور مستقبل میں اس کی اہمیت‘‘۔الف اعلان تنظیم کے ترجمان، سمیع خان کا کہنا ہے کہ امتحانی نتائج کسی بچے کی کارکردگی سے بھی زیادہ تعلیمی نظام کی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ معیار تعلیم کی جانچ اور تعلیمی نظام میں بہتری کیلئے امتحانی نتائج سے استفادہ بہت ضروری ہے۔دوسری جانب، انھوں نے سرکاری اسکولوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے پلس یا اے گریڈ میں پاس ہونے والے سب سے زیادہ بچے 62.5 فیصد سرکاری اسکولوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اسکول نہ صرف مجموعی طور پر سب سے آگے ہیں، بلکہ الگ الگ مضامین کے حساب سے بھی سب سے بہتر نتائج رکھتے ہیں۔ اردو، انگریزی، ریاضی اور کمپیو ٹر کے مضامین میں ان اسکولوں کی کارکردگی واضح طور پر بہتر ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجموعی کارکردگی اور مضامین کے حساب سے بھی سرکاری اور نجی اسکولوں کے درمیان بہت زیادہ فرق نہیں۔ سرکاری اور نجی اسکولوں کے خراب نتائج مجموعی طور پر ناقص معیار تعلیم کی نشاندہی کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق میٹرک کا امتحان دینے والے 71 فیصد بچے سرکاری اسکولوں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ 26 فیصد نجی اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ اور بقیہ 3 فیصد بچوں کا تعلق ‘دیگر سرکاری اسکولوں’ یعنی فوج اور وزارت محنت کے زیر انتظام اسکولوں سے بتایا گیا ہے۔صوبہ بلوچستان میں لڑکیوں کی شرح تعلیم کے حوالے سے رپورٹ کہتی ہے کہ صوبے کی طالبات تعلیمی کارکردگی سمیت بہت سے شعبوں میں طلبا سے بازی لے جاتی ہیں۔ سال 2001 اور سال 2015 کا تقابلی جائزہ کے مطابق، میٹرک کا امتحان دینے والی طالبات کی شرح میں193 فیصد اضافہ ہوا اسکے برعکس طلبا کے جن کی تعداد میں صرف 54 فیصد ہی اضافہ سامنے آیا۔رپورٹ میں طالبات کی شرح تعلیم میں اضافے کا سبب انھیں دستیاب ہائی اسکولوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ براہ راست تعلق بتایا گیا ہے

شہد ایک بہترین صحت افزا اور شفا دینے والا جز.تحقیق

ہر معاشرے اور مذہب میں شہد کو ایک بہترین صحت افزا اور شفا دینے والا جز تصور کیا جاتا ہے اور اس پر کی جانے والی مختلف تحقیق نے اس میں چھپے صحت کے خزانوں کو دنیا کے سامنے لا کر اس کی افادیت کواور بھی بڑھا دیا ہے۔ چہرے کی لچک کو برقرار رکھنے کےلیے: شہد میں موجود ہیومیکٹیک مرکب چہرے پر موئسچر کو برقرار رکھتا ہے اور جلد میں لچک پیدا کردیتا ہے جب کہ شہد جلد کے مردہ خلیوں کو صاف کرتا اور جھریوں کو دور کرتا ہے۔ بیکٹریا کی افزائش کو روکتا ہے: شہد کے اندر موجود اینٹی بیکٹریا اور اینٹی مائیکروبائیل خصوصیات جسم میں پلنے والے خطرناک بیکٹریا کی افزائش کو روکتا ہے جب کہ اسے زخموں،کٹ، جلنے اور رگڑ کا علاج بھی کیا جاتا ہے جب کہ اسے بدبو دور کرنے اور درد کو روکنے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جلد کی دوبارہ افزائش کے لیے: شہد جلد کے تباہ شدہ خلیوں کو ختم کر کے نئے خلیے تشکیل دیتا ہے اسی لیے شہد کو ایگزیما، سوزش اور دیگر جلدی بیماریوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ الٹراوئیلٹ شعاعوں سے بچاتا ہے: شہد میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ جلد کو الٹراوئیلٹ شعاعوں کے مضر اثرات سے بچاتا ہے۔ سن اسکرین کا کام: سورج کی روشنی میں مسلسل رہنے سے جلد پر جلد بڑھاپے کے آثار شروع ہوجاتے ہیں ایسے میں شہد سن اسکرین کا کام دیتا ہے اور چہرے کو دھوپ کے اثرات سے بچاتا ہے جب کہ شہد جلد کی اوپری سطح میں سرائیت کرکے بند مسام کھولتا اور فاسد مادوں کو خارج کردیتا ہے اس لیے یہ انفیکشن اور کیل مہاسوں کو بھی دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ہونٹوں کی خوبصورتی کے لیے: خشک اور بھربھرے ہونٹوں کو شہد لگانے سے ان میں نئی زندگی آجاتی ہے اورنرم اور دلکش نظرآتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہد میں چند قطرے گلیسرین ملا کر ہونٹوں پرلگانے سے ان کا رنگ گلابی ہوجاتا ہے۔ شہد معدنیات کا خزانہ: شہد پر کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں شوگرکی طرح کا جز گلوکوز، فرکٹوز اور دیگر معدنیات جیسے میگنیشیم، پوٹاشیم، کیلشیم، سوڈیم کلورین، سلفر، آئرن اور فاسفورس پائی جاتی ہیں اس کے علاوہ شہد اپنے اندر وٹامنز بی ون، بی ٹو، بی سکس، بی فائیو اور بی تھری کے علاوہ کاپر، آئیوڈین اور زنک بھی تھوڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ پٹھوں کو طاقت دیتا ہے: شہد میں موجود گلوکوز اور فرکٹوز کی شکل میں موجود کاربوہائیڈریٹ جسم کو توانائی بخشتا ہے جب کہ پٹھوں کو کھچاؤ سے بچاکر انہیں طاقت دیتا ہے۔ خون میں ہیموگلوبن کو بڑھاتا ہے: شہد کا روزانہ استعمال جسم میں کیلشیم اور ہیموگلوبن کی مقدار کو بڑھاتا ہے اور خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔ کولیسٹرول کو کنٹرول کرتا ہے: شہد کا استعمال کولیسٹرول کو کم کرتا اور ایچ ڈی ایل یعنی گڈ کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے۔ شہد کے اندر موجود ایکس پیکٹورنٹ اور سوتھنگ کی خوبیاں نظام تنفس میں ہونے والے انفیکشن کو ختم کرتا ہے۔ قوت مدافعت بڑھاتا ہے: شہد جسم میں قوت مدافعت کو بڑھا کر انفیکشن کو دوبارہ ہونے سے روکتا ہے۔ موٹاپے کو کم کرتا ہے: شہد موٹاپے کو بھی کم کرنے کا بہترین علاج ہے۔ نیم گرم پانی میں شہد پینے سے نظام ہاضمہ تیزی سے کام کرتا ہے اور جسم میں موجود اضافی چربی کو پگھلا کر موٹاپے کو تیزی سے کم کرتا ہے۔

موٹاپے کا ورزش کے علاوہ بھی حل موجود ہے۔

اگر آپ صبح کی سیر کے لئے اٹھ نہیں پاتے ہیں تو فکر کی بات نہیں. محققین نے آپ کی اس پریشانی کا حل ڈھونڈ لیا ہے. ایک تحقیق میں یہ پایا گیا ہے کہ روزانہ وٹامن سی کے استعمال سے موٹے لوگوں کو وہی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے جو آپ کو روزانہ صبح کی سیر اور ورزش سے حاصل ہوتا ہے. زیادہ وزن اور موٹاپے سے دوچار بالغوں کے خون کی Vesselsمیں Micro vessels پروٹین اکٹھا کر دیتی ہیں جسے Endothelin ET-1 کہا جاتا ہے. ET-1 کے زیادہ فعال ہونے سے Vessels میں خون کے بہاؤ کم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے پلس متعلق مرض ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے. روزانہ ورزش کی وجہ سے ET-1 کی سرگرمی کم ہوتی ہے لیکن معمول میں ورزش کو شامل کرنا مشکل ہو سکتا ہے. امریکہ کی University of Colorado میں کئے گئے تحقیق میں وٹامن سی کی خوراک کی جانچ کی گئی. جس سے پتہ چلا کہ یہ Vessels کے عمل کو بہتر کرتا ہے اور ET-1 کی سطح کو کم کرتا ہے. محققین نے پایا کہ وٹامن سی کی خوراک سے اسی طرح ET-1 کی سطح میں کمی آتی ہے جتنی روزانہ ورزش سے ہوتی ہے.

دنیا کی بد تر ین دھاند لی,ملک کی ہونہار ترین طالبہ کےہر پرچے میں صفر نمبر

قاہرہ: دنیا کی بد تر ین دھاند لی اس وقت ہوئی جب مصر میں دھاندلی کی انتہاء کرتے ہوئے ملک کی ہونہار ترین طالبہ کو ہر پرچے میں صفر نمبر دے دیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق مصر کی ایک ہونہار ترین طالبہ مریم ملک کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سب کو حیران کردیا۔ مریم اپنے اسکول میں ایک بہترین اور ہونہار ترین طالبہ کے طور پر مشہور ہیں جو ہر امتحان میں بہترین نتائج دیتی ہیں۔ تاہم اپنے اسکول کے سالانہ امتحانات کے نتائج دیکھنے کے بعد مریم صدمے سے بے ہوش ہوگئیں۔مریم نہ صرف اپنے امتحانات میں فیل ہوگئی تھیں بلکہ ہر پرچے میں ان کا صفر نمبر تھا۔ اس واقعے کے بعد مریم کے والدین کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور ان کی بیٹی کے خلاف زیادتی کیے جانے کا الزام عائد کیا گیا۔ مریم کے ساتح پیش آنے والے واقعےنے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی اور اس حوالے سے مصر کے ہزاروں افراد کی جانب سے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا گیا۔ اس کے بعد مریم کے والدین کی ملک کے وزیراعظم سے ملاقات ہوئی جہاں وزیراعظم نے اس معاملے کی تحقیقات کا وعدہ کیا۔ مریم کے والدین نے اعلان کیا ہے جب تک اس معاملے کی غیر جانبدرانہ تحقیقات نہیں ہوں گی ان کی بیٹی کو انصاف نہیں ملے گا تب تک وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

ٹماٹو کیچپ کے حیرت انگیز فوائد

لندن:پاکستان میں دن با دن بیوٹی کریموں کا استعما ل بڑھ رہا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک میں حسن و خوبصورتی کے لیے ٹماٹو کیچپ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے حیرت انگیز نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ ٹماٹو کیچپ کا فیس ماسک: ٹماٹروں میں لائسوپین نامی طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ پایا جاتا ہے جو دھوپ سے جھلسنے والی جلد کی مرمت کرتا ہے اس میں وٹامن اے ، سی اور کے بھی ہوتا ہے جو جلد کو نرم رکھتے ہوئے اسے مزید تباہی سے بچاتا ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ ٹماٹروں کو پکانے سے لائسوپین کی مقدار مزید بڑھ جاتی ہے اس کے خاص اجزا جلد میں موجود کولاجن کی پیداوار بڑھاتے ہیں اور جلد تروتازہ اور خوبصورت لگتی ہے۔ یاد رہے کہ بازار کے ٹماٹو کیچپ میں سرکہ ہوتا ہے جو اس کے فائدے کو ختم کردے گا اسی لیے جوسر میں ٹماٹر کا رس نکال کر استعمال کرنا بہت مفید ہے۔ ٹماٹر کے رس کو 15 منٹ چہرے پر ماسک کی طرح لگائیں اور ٹھنڈے پانی سے چہرے کو دھولیں کچھ ہی دنوں میں آپ کو حوصلہ افزا نتائج ملیں گے۔ بالوں کے لیے کنڈیشنر: ٹماٹر کے کیچپ میں کئی طرح کے تیزاب موجود ہوتے ہیں جو بالوں کی جڑوں میں جذب ہوکر بالوں کو چمکدار بناتے ہیں لیکن ان سے بالوں میں خشکی بھی پیدا ہوسکتی ہے اور وہ سر کی کھال میں کھنچاؤ پیدا کرسکتی ہے۔ 5 منٹ تک ٹماٹو کیچپ اپنے بالوں میں لگائیں اور اس کے بعد کسی اچھے شیمپو سے اسے دھولیں اس سے آپ کے بال چمکدار ہوجائیں گے۔ ٹماٹو کیچپ سے اسٹیل کے برتن چمکائیں: جن تانبے کے سکوں اور برتنوں کا رنگ متاثر ہوتا ہے ٹماٹو کیچپ میں موجود تیزاب سے پرانے سکوں کو بھی چمکایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ فرائی پین کے اندرونی حصے کو صاف کرنے کے لیے بھی ٹماٹو کیچپ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مستقبل کی منصوبہ بندی کیسے اور کب کی جائے ، رہنمائی حاصل کرنے کے لیے پڑیئے

کریئر کی منصوبہ بندی، یعنی آپ کس تعلیمی شعبے کو اپنانا اور نتیجتاً کس شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں، کس طرح کی جائے، اس کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ آپ کسی پروفیشنل کریئر کونسلر سے رابطہ کریں جو آپ کی اس حوالے سے رہنمائی کرے۔ لیکن پاکستان میں کریئر کونسلرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق (لاہور میں) کوئی بھی کریئر کونسلر ذاتی طور پر کام نہیں کر رہا۔ کچھ تعلیمی اداروں نے اپنے طور پر کریئر کونسلرز کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ لیکن اگر آپ کو خود یا اپنے بچے کے لیے کسی کریئر کونسلر کی تلاش ہے تو آپ کو شاید مایوسی ہوگی۔

کریئر پلاننگ کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود وہ طریقہء کار اپنائیں جو پروفیشنل کریئر کونسلرز اختیار کرتے ہیں۔ اس طریقہء کار سے آپ زیادہ آسانی اور زیادہ بہتر طور پر تعین کر سکتے ہیں کہ بطور طالب علم خود آپ کے لیے یا بطور والدین آپ کے بچے کے لیے کون سا شعبہ زیادہ فائدہ مند ہے۔

اور یاد رکھیں کہ آپ جو بھی منصوبہ بندی کریں، اس کو لازمی کاغذ پر (Black and White) درج کریں تاکہ بعد میں آپ کو رزلٹ حاصل کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے میں آسانی ہو۔

طلبہ یا والدین کو کریئر پلاننگ کے لیے مندرجہ ذیل امور کو مدِ نظر رکھنا چاہیے۔

1: ذہانت کا امتحان (آئی کیو ٹیسٹ)

2: رجحان /مزاج

3: دلچسپی

4: معاشی حالات

5: صنف

6: دستیاب تعلیمی مواقع

1: بنیادی ذہانت/آئی کیو لیول کو ٹیسٹ کرنا: اس ٹیسٹ میں کسی بھی انسان کی ذہنی صلاحیتوں کی سائنسی بنیاد پر پیمائش کرنا مقصود ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ طالب علم مطلوبہ شعبے میں جانے کی بنیادی قابلیت رکھتا ہے یا نہیں، (ویسے آپ کو بطور والدین اپنے بچے کے بارے میں اور ہر طالب علم کو خود اپنے بارے میں زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ذہنی صلاحیت کتنی ہے اور اس کو اس کورس/شعبے میں داخلہ لینا چاہیے یا نہیں)۔ کریئر کی بہتر منصوبہ سازی کے لیے یہ بنیادی شرط ہے۔

بنیادی ذہانت معلوم کرنے کے لیے بہت سی کتابیں اردو اور انگریزی زبان میں مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن سے آپ استفادہ کر سکتے ہیں۔

اس کا ایک جدید طریقہ آئی کیو ٹیسٹ کا بھی ہے جس سے زیادہ جامع معلومات مل جاتی ہے۔ آج کل آئی کیو ٹیسٹ کمپیوٹر کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ آئی کیو ٹیسٹ یعنی ذہانت کی جانچ کے مرحلے میں صرف طالب علم کی خواندگی اور حافظے (یاد رکھنے کی صلاحیت) کے معیار کو چیک کیا جاتا ہے۔ لیکن خیال رکھیے کہ یہ ٹیسٹ صرف انگلش میں ہوتا ہے، اس لیے صرف ان بچوں کو جن کی انگریزی بہت اچھی ہے، ان کے لیے ہی یہ طریقہء کار کارآمد ہے۔ اردو میڈیم بچوں کو یا وہ بچے جن کی انگریزی کمزور ہے، ان سے یہ ٹیسٹ نہیں لینے چاہیئں کیونکہ اس سے بچے میں کئی نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ٹیسٹ دینے والے طالب علم کے جتنے زیادہ نمبر ہوں گے وہ اتنا ہی زیادہ ذہین شمار کیا جاتا ہے۔ آئی کیو ٹیسٹ میں عام انسان کے نمبر 70 سے 90 تک ہوتے ہیں۔ جب کہ جو شخص 90 سے زیادہ پوائنٹس لیتا ہے اس کو ذہین تسلیم جاتا ہے۔ اکثر سائنس دانوں کا آئی کیو لیول 120 کے آس پاس ہوتا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مشہور سائنس دان البرٹ آئن اسٹائن کا آئی کیو 160پوائنٹس ہوگا۔

آئی کیو ٹیسٹ کئی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں سائنس، زبان، سماجی سوجھ بوجھ، ریاضی، اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور زندگی کے مختلف شعبوں میں مہارت کا جائزہ لے کر ایک اوسط تخمینہ لگایا جاتا ہے۔

2: رویہ: عملی زندگی میں کامیابی کے لیے کسی بھی شعبے کے انتخاب کے لیے لازمی ہے کہ طالبِ علم کا رویہ اس شعبے کے بارے میں درست ہو۔ رویے کو تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے کافی محنت درکار ہوتی ہے اس لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ طالب علم کا جو عمومی رویہ یعنی مزاج ہو، اسی طرح کے شعبے کا انتخاب کیا جائے۔ مثلاً جو بچے زیادہ سخت جسمانی مشقت نہیں کر سکتے ان کو پولیس یا فوج کے شعبے کا انتخاب نہیں کرنا چاہے کیونکہ وہاں ساری زندگی سخت ترین جسمانی مشقت، سخت حالات، اور تھکا دینے والے روز مرہ کے معمول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر کوئی ایسا طالب علم جو مطلوبہ مزاج کا نہ ہو اور وہ پولیس یا فوج کے شعبے کا انتخاب کرتا ہے تو اس کو دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوگا: یا تو وہ نوکری چھوڑ دے یا اپنا رویہ یا مزاج تبدیل کر لے۔ چونکہ رویے کو تبدیل کرنا کافی مشکل کام ہے اسی لیے ایسے محکموں میں بھرتی کا عمل مشکل ہوتا ہے تاکہ صرف مطلوبہ رویے/مزاج کے لوگ ہی کامیاب ہوں۔

جو طالب علم اپنا رویہ مزاج تبدیل /درست کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ ایسا طرز عمل اپنائیں جو ان کا پسندیدہ شعبے کی ضرورت ہو۔ اپنے بارے میں اپنی رائے کو ہمیشہ مثبت رکھیں۔ اور جو شعبہ اختیار کرنا ہے، اس کے کامیاب و ناکام افراد سے ملاقات کریں، اور ان سے ان کی کامیابی اور ناکامی کے اسباب جانیں۔

3: طالب علم کی ذاتی دلچسپی: کسی بھی انسان سے اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں لیا جا سکتا۔ اگر زبردستی کام کروا بھی لیا جائے، تو بھی اس میں وہ نفاست نہیں ہوگی جو دلچسپی سے کرنے پر آتی ہے۔ اسی طرح جب تک کہ طالب علم کی کسی کام میں ذاتی دلچسپی نہیں ہوگی وہ اس شعبے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ اس لیے سب سے زیادہ والدین کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی مرضی بچوں پر مسلط نہ کریں اور کریئر کے انتخاب کے مراحل میں طلبہ کے شوق اور مرضی یعنی ان کی دلچسپی کا خیال رکھیں، ورنہ بعد میں ان کی تمام محنت ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔

یاد رکھیے کہ عملی زندگی میں لوگ اس لیے ناکام نہیں ہوتے کہ ان کے پاس ٹیلنٹ نہیں تھا یا وہ ذہین نہیں تھے، یا ان کے پاس اعلیٰ ڈگری نہیں تھی، بلکہ وہ صرف اور صرف اس لیے ناکام ہوتے کیونکہ وہ دلچسپی کے بغیر بے دلی سے کام کرتے تھے۔

4: خاندان کے معاشی حالات: اپنے لیے یا اپنے بچے کے لیے کسی بھی کورس کا انتخاب کرتے وقت اپنے خاندان کے معاشی حالات کو مدِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں طلبہ و طالبات کی بہت بڑی تعداد ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہے، لیکن حکومتی سطح پر ملک بھر میں میڈیکل کالجز اور ان میں سیٹوں کی تعداد شرمناک حد تک کم ہے۔ ہر سال پاکستان بھر سے لاکھوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات میڈیکل کالجز میں داخلے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف چند ہزار کو ہی داخلہ ملتا ہے اور باقی کے لیے صرف نجی کالجز بچتے ہیں جن کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔

کہنے کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہے، لیکن کیا یہ بہتر نہیں کہ ایسی صورتحال میں دلبرداشتہ ہونے کے بجائے ایک بیک اپ پلان موجود ہو؟ کئی لوگ ایسے ہیں جو میڈیکل کالجز میں داخلہ نہ ہونے پر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور کئی کئی سالوں تک کوشش کرتے رہتے ہیں جس میں وقت اور توانائی ضائع ہوتی ہے جبکہ ہر سال داخلہ نہ ملنے پر ہمت میں کمی آتی جاتی ہے۔ جبکہ کئی لوگ اسی ناکامی کو اپنی دوسری دلچسپی والا شعبہ اپنا کر کامیابی میں تبدیل کر لیتے ہیں۔

5: صنف: پاکستانی معاشرے میں خواتین کے بارے میں کافی تنگ نظری موجود ہے اس لیے لڑکیوں کو ان شعبہ جات کا انتخاب کرنا چاہیے جس میں اگر وہ عملی زندگی میں جاب کرنا چاہیں تو ان کو زیادہ مشکلات نہ ہوں۔

خواتین کی جاب کے بارے میں پاکستانی معاشرے کی سوچ کے لیے صرف پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی یہ رپورٹ ہی کافی ہے کہ ’’50 فیصد لڑکیاں میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کبھی جاب نہیں کرتیں۔‘‘ اس میں خاندانی دباؤ اور بہت سارے دیگر عوامل شامل ہیں۔

بعض واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ لڑکیوں نے اپنی پسند سے سول انجینیئرنگ میں ڈگری اچھے نمبروں سے حاصل کی لیکن ان کو اچھی کمپنیز میں جاب نہ مل سکی، کیونکہ نجی کمپنیز کے مالک ان سے کہتے تھے کہ ہم آپ کی جگہ مردوں کو جاب دیتے ہیں تو وہ آفس کے ساتھ ساتھ بطور سائٹ انجینیئر سٹرکوں، پلوں، اور جنگلوں میں کام کر سکتا ہے جبکہ ’’لیڈی سول انجینیئر‘‘ یہ کام نہیں کر سکتیں۔ اگر ہم آپ کو جاب دیتے ہیں تو ہمیں بطور سائٹ انجینیئر ایک اور شخص کو اضافی تنخواہ دینی ہوگی اس لیے معذرت۔

کریئر کونسلنگ کے ماہرین کے مطابق اگر ایسی لڑکیاں سول انجینیئرنگ کے بجائے آرکیٹکچر کا انتخاب کرتیں تو ان کو عملی زندگی میں زیادہ مشکلات نہ ہوتی اور ان کا تعمیرات کا شوق بھی پورا ہوجاتا۔

اسی طرح پرائمری اسکول ٹیچرز کا کام نوجوان لڑکے نہیں کر سکتے۔ وہ کلاس میں چھوٹے چھوٹے بچوں سے بہت جلدی تنگ آ جائیں گے اور فوری ان پر تشدد شروع کر دیں گے۔

6: دستیاب تعلیمی مواقع: اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر طالب علموں اور ان کے والدین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس وقت کون کون سے تعلیمی شعبہ جات میں وہ داخلہ لے سکتے ہیں۔ مثلاً عمومی طور پر ایف ایس سی پری میڈیکل کرنے والے خواہشمند طلبہ اس کے بعد کے مزید شعبہ جات کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں حالانکہ پاکستان میں ایم بی بی ایس/بی ڈی ایس کے علاوہ فارمیسی، ویٹرنری، میڈیکل سائنسز، بائیو میڈیکل، کیمیکل میڈیکل، ایگریکلچرل، مائیکرو بائیولوجی اور منسلک طبی سائنسز جیسے سائیکاٹری، سائیکولوجی، فزیوتھیراپی وغیرہ کے شعبہ جات میں تعلیم اور روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

اس میں سارا قصور والدین یا طلبہ کا نہیں بلکہ ہماری حکومت کا بھی ہے جس نے کبھی اس سمت میں کوئی کام کیا ہی نہیں اور نہ ہی سرکاری یونیورسٹیوں اور ایجوکیشن کے ذمہ دار محکموں نے اس طرح کا مواد شائع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے آپ کو خود اپنے لیے محنت کرنا ہوگی اور اپنے لیے دستیاب تمام تعلیمی مواقع تلاش کرنے ہوں گے۔

بہترین تعلیمی شعبے کا انتخاب ہر طالب علم اور اس کے خاندان کے لیے سب سے اہم فیصلہ ہوتا ہے، لہٰذا ہر طالب علم کو اپنی شخصیت، صلاحیت، خواہش، ذہنی استعداد، مالی وسائل اور اپنی عملی ضروریات کو دیکھ کر اپنے لیے بہترین شعبے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ معاشرے کے ہر فرد کی ضروریات اور مسائل مختلف ہیں، چنانچہ ہو سکتا ہے کہ ایک شعبہ ایک طالب علم کے لیے بہترین ہو لیکن دوسرے طالب علم کے لیے وہ بدتر ہو۔ اس لیے ہر شخص کو اپنے وسائل اور حالات کے مطابق خود فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اس کے لیے کون سا تعلیمی شعبہ بہترین ہے۔

Google Analytics Alternative