صحت

ہارمون تھراپی، ایک ایسا طریقہ جس نے زندگی کو بدل کر رکھ دیا

ایک نئی تحقیق کے مطابق دل کی شریانوں کی بندش کے شکار ایسے بزرگ مردوں میں دل کے دورے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، جو ٹیسٹوسیٹرون تھراپی کراتے ہوں۔ یہ ایک مشاہداتی مطالعہ ہے، جس کے نتائج کا سو فیصد درست ہونا لازم نہیں۔ اس مطالعے میں 755 مردوں کو شامل کیا گیا خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک تازہ ریسرچ کے حوالے سے بتایا ہے کہ دل کے عارضے میں مبتلا بزرگ مرد جو ٹیسٹوسیٹرون تھراپی نہیں کراتے، ان میں ہارٹ اٹیک کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق بچے کی پیدائش یا آپ کی پسندیدہ ٹیم کی فتح جیسے بہت زیادہ خوشی کا باعث بننے والے واقعات آپ کے دل کے لیے ایک ایسے بڑے خطرے کی وجہ بھی بن سکتے ہیں، جسے ماہرین ’ہیپی ہارٹ سنڈروم‘ کا نام دیتے ہیں۔ (03.03.2016) ’ہارٹ اٹیک کے خطرے کے خلاف دو سے تین کپ کافی روزانہ‘ دل کی مرمت، سٹیم سیل ٹیکنالوجی کے ذریعے فی الوقت ٹیسٹوسیٹرون تھراپی کو دل کے مختلف عارضوں میں مبتلا بزرگ مریضوں کے لیے خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایجنسی FDA نے لازم قرار دے رکھا ہے کہ ہر قسم کی ٹیسٹوسٹیرون مصنوعات پر واضح لیبل لگا ہونا چاہیے کہ ان کے باعث کون سے ممکنہ خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ امریکی شہر سالٹ لیک سٹی میں واقع انٹرماو¿نٹین میڈیکل ریسرچ ہارٹ انسٹیٹیوٹ کی اس نئی مطالعاتی رپورٹ کے نتائج کے مطابق ٹیسٹوسیٹرون تھراپی دل کی مختلف بیماریوں میں مبتلا بوڑھے مردوں کے لیے بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ مطالعہ طبی طور پر محض ایک تحقیقی مشاہدے پر مبنی ہے، جو میڈیکل سائنس میں سائنسی تحقیق کا سب سے کمزور طریقہ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم اس سٹڈی کو مکمل کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ نتائج مستقبل میں اس تناظر میں ہونے والی مزید تحقیق میں معاون ثابت ہوں گے۔ اس مطالعے میں 755 مردوں کو شامل کیا گیا۔ ان کی عمریں 58 سے لے کر 78 برس کے درمیان تھیں۔ دل کی شریانوں کی تنگی یا بندش کے شکار ان افراد میں ٹیسٹوسیٹرون نامی ہارمون کی مقدار بھی کم تھی۔ تین برسوں پر محیط اس مشاہدے کے مطابق اس گروہ میں شامل ایسے افراد جن کی اس ہارمون کے ذریعے تھراپی نہیں کی گئی تھی، ان میں ہارٹ اٹیک کی شرح زیادہ نوٹ کی گئی۔ اس مطالعاتی رپورٹ کے مطابق ایک برس کے دوران 64 ایسے افراد جنہوں نے ٹیسٹوسیٹرون ہارمون والے سپلیمنٹ نہیں لیے تھے، انہیں شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 21 افراد جنہوں نے یہ ہارمون تھراپی کرائی تھی، ان میں طبی پیچیدگیوں کی شرح کم رہی۔ یہ مطالعہ طبی طور پر محض ایک تحقیقی مشاہدے پر مبنی ہے، جو میڈیکل سائنس میں سائنسی تحقیق کا سب سے کمزور طریقہ قرار دیا جاتا ہے اس مطالعے کے مطابق تین برس کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ 125 افراد جنہوں نے ٹیسٹوسیٹرون تھراپی نہیں کرائی تھی، انہیں مزید پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ہارمون تھراپی کرانے والے 60 افراد میں یہ شرح کم ہی رہی۔ امریکی شہر شکاگو کے امیریکن کالج آف کارڈیالوجی کی ایک کانفرنس میں پیش کردہ ان نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہر امراض دل برینٹ موہلسٹائن نے کہا کہ گو یہ محض ایک مشاہداتی مطالعے کے نتائج ہیں، تاہم اس مفروضے کی صداقت کو سائنسی بنیادوں پر پرکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلینیکل تجربات سے اس مشاہدے کے نتائج کو قبول یا مسترد کیا جا سکتا ہے

نیا دعویٰ، دالوں (ُPulses) کا استعمال جسمانی وزن میں کمی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے

بیج، مٹر، چنے اور دالوں (ُPulses)  کا استعمال نہ صرف لوگوں کو موٹاپے سے نجات دلاتا ہے بلکہ اس کے دوبارہ لوٹنے کا امکان بھی کم کردیتا ہے۔

یہ دعویٰ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ٹورنٹو کے لی کا شینگ نالج انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ 130 گرام دالوں کا استعمال جسمانی وزن میں کمی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جبکہ جسم میں خراب کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی آتی ہے۔

اس تحقیق کے لیے 940 مرد و خواتین کا جائزہ لیا گیا جنھوں نے اپنی غذا میں دالوں کا اضافہ کرکے 6 ہفتوں میں اوسطاً ایک کلو تک وزن کم کرلیا۔

اور محققین کا کہنا ہے کہ جسمانی وزن میں کمی دیگر اشیاءکا استعمال ترک کیے بغیر ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اکثر لوگ دالوں کا استعمال کم کرتے ہیں تاہم جسمانی وزن کو مستحکم رکھنے کے لیے اس کے استعمال کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔

تحقیق کے مطابق دالیں، بیج یا چنے وغیرہ آہستگی سے ہضم ہوتے ہیں جس سے پیٹ بھرنے کا احساس زیادہ وقت تک برقرار رہتا ہے اور لوگ صحت کے لیے نقصان دہ چیزوں سے دور رہتے ہیں۔

محققین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر جسمانی وزن میں کمی کی کوششیں کامیاب ہوجاتی ہیں مگر اس کے بعد وزن میں دوبارہ اضافہ ہوجاتا ہے جس کی وجہ زیادہ بھوک لگنا اور مخصوص غذاﺅں کی اشتہا بڑھ جاتا نا ہوتا ہے۔

تاہم اگر دالوں، بیج، چنے یا مٹر وغیرہ کا استعمال معمول بنالیا جائے تو یہ خطرہ لگ بھگ ختم ہوجاتا ہے۔

یہ تحقیق امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں شائع ہوئی۔

اپنی ٹانگوں کو لیپ ٹاپ سے نکلنے والی تپش سے محفو ظ رکھیں

سوئس ما ہر ین کی ایک تحقیق کے مطا بق لیپ ٹا پ کو زیا دہ دیر تک گو د میں رکھ کر کا م کر نے سے نا صرف جلد پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں بلکہ اس سے جلد کے جلنے کے امکان بھی بڑھ جا تے ہیں۔ ما ہر ین کے مطا بق لیپ ٹاپ کے با ئیں طرف سے حرارت با ہر کی جا نب خارج ہوتی ہے جس کا درجہ حرارت تقریباً 52ڈگر ی سینٹی گریڈ ہو تا ہے جو براہ ِراست ٹانگوں کی جلد پر اثر انداز ہو تی ہے۔اس تحقیق کے مطا بق اپنی ٹانگوں کو لیپ ٹاپ سے نکلنے والی تپش سے محفو ظ رکھنے کیلئے ہیٹنگ پیڈزکا استعما ل کیا جا سکتا ہے جو نا صرف ٹا نگوں کی جلد کو جلنے بلکہ سیا ہ ہو نے سے بھی بچا سکتے ہیں۔

بالوں کے سٹائل بال گرنے کا سبب بن سکتے ہیں

میلبورن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ٹائٹ پونی ٹیل کے نتیجے میں بھی اس گنج پن کا سامنا ہوتا ہے خاص طور پر مردوں میں جو بالوں کو سختی سے باندھ کر رکھتے ہیں جس سے ان کی جڑیں متاثر ہوتی ہیں۔اگر تو آپ کے بال گھنگریالے ہیں تو بالوں کا یہ انداز تباہ کن ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ سیدھے بالوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور اور جلد ٹوٹتے ہیں اور انہیں سختی سے باندھنے سے جلد کی سطح کے نیچے follicle پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو گنج پن کا نتیجہ بنتے ہیں۔ماہرین کے مطابق جب بالوں کو پونی ٹیل کی شکل مین باندھا جاتا ہے تو سر کی سطح پر دبا بڑھتا ہے جس کے نتیجے میں بالوں کو گرنے کا عمل تیز رفتار ہوجاتا ہے۔سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بال ٹوٹنے کی جگہ نئے بال نہیں آتے اور سر پر گنج پن بتدریج ظاہر ہونے لگتا ہے۔بالوں پر طویل وقت تک دبا بالوں کے غدود میں سوجن کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں پہلے زخم بنتے ہیں اور پھر بالوں سے مستقل محرومی کا سامنا ہوتا ہے۔پونی ٹیل ہو یا کسی اور شکل میں بالوں کو سختی سے باندھنا اس کے اثرات مختلف انداز سے گنج پن کی شکل میں ہی سامنے آتے ہیں۔ماہرین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ زیادہ طاقت سے بالوں میں کنگھا کرنا یا زور زور سے مالش کرنا بھی بالوں سے محرومی کی رفتار بڑھا سکتے ہیں۔اگر تو بالوں پر ظلم کے نتیجے میں گنج پن کے آثار نمایاں ہوجائیں تو عام طور پر اس کا علاج آسان نہیں ہوتا اور کسی طبی ماہر سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔تاہم ابتدائی سطح پر آپ کے بالوں کے انداز میں تبدیلی بھی اس کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔

پھیپھڑوں، گردوں کے لیے ہلدی انتہائی مفید مزید جانیئے

ماہرین کا کہنا ہے کہ پھیپھڑوں، دماغ، گردوں اور ریڑھ کی ہڈی کو ناکارہ بناکر ہلاک کرنے والا مرض تپ دق ( ٹی بی) کا مو¿ثر علاج ہلدی کے استعمال سے ممکن ہے۔<br/> پوری دنیا میں ٹی بی کا بیکٹیریا ”مائیکوبیکٹیریم ٹیوبرکلوسس“ تیزی سے تبدیل ہوکر اہم ترین دواو¿ں سے بھی ختم نہیں ہورہا اور ہر سال پوری دنیا میں 10 سے 15 لاکھ افراد کو ہلاک کررہا ہے لیکن اب چین اور امریکا کے ماہرین نے کہا ہے کہ سخت جان ٹی بی کا علاج آپ کے باورچی خانے میں موجود ہے۔<br/> ماہرین کے مطابق ہلدی کو رنگ دینے والا کیمیکل ہی ٹی بی کے جراثیم کو موثر طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ہلدی میں پایا جانے والا سرکیومن ایک خاص جزو ہے جو اینٹی آکسیڈنٹس خواص رکھتا ہے اور یہ ٹی بی کے بیکٹیریا کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکا میں ڈینور ویٹرن افیئرز میڈیکل سینٹر نے دریافت کیا ہے کہ سرکیومِن کامیابی سے خلیات میں ٹی بی کا بیکٹیریا ختم کرسکتا ہے جب کہ اس دریافت سے ٹی بی کی نئی اور بہتر دوا بنانے میں مدد مل سکے گی۔ میڈیکل سینٹر پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سرکیومن انسانی خلیات میں ٹی بی پھیلنے سے روکتا ہے۔

مالٹوں کا استعمال بینائی کے مختلف مسائل سے بچنے کے لیے موثر ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ کنگز کالج لندن کی تحقیق کے مطابق وٹامن سی سے بھرپور پھل اور سبزیوں کو کھانے کی عادت بینائی کے مختلف مسائل سے بچنے کے لیے موثر ہے۔تحقیق کے مطابق وٹامن سی سے بھرپور پھل اور سبزیاں جیسے مالٹے، اسٹرابریز، آلو، سرخ اور سبز مرچیں وغیرہ کھانے سے آنکھوں کے موتیے کے مرض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق سادہ غذائی عادات میں تبدیلی جیسے سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بڑھانا موتیے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

موتیے کے نتیجے میں آنکھوں کے لینس دھندلے ہوجاتے ہیں اور بینائی متاثر ہوتی ہے اور یہ مرض دنیا بھر میں بہت عام ہے۔

تاہم وٹامن سی سے بھرپور غذا کا استعمال موتیے کے مرض کا خطرہ 10 برسوں میں 33 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ آنکھوں کے لینس میں جو سیال ہوتا ہے اس میں وٹامن سی کی مقدار بڑھنے سے قرینے کو دھندلے پن سے تحفظ ملتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انسانی جسم وٹامن سی نہیں بناتا لہذا ہمیں اس وٹامن کے لیے غذا پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور سپلیمنٹس کے مقابلے میں پھلوں یا سبزیوں کی صورت میں وہ زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔

جلد کے نکھار کے لیے مفید غذائیں

دنیا بھر میں خواتین و مرد حضرات کروڑوں روپے کریموں اور دیگر مصنوعات پر خرچ کرتے ہیں تاکہ ان کی جلد تروتازہ اور جوان نظر آئے۔

تاہم اگر آپ جگمگاتی جلد چاہتے ہیں تو اس کا ایک آسان اور سستا حل بھی موجود ہے۔

درحقیقت آپ کی غذا جلد کی نگہداشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور آپ کو خشک جلد یا کیل مہاسے وغیرہ پر بھی ان کی مدد سے قابو پاسکتے ہیں۔

تو یہاں ایسی ہی چند غذاﺅں کا ذکر کیا گیا ہے۔

بادام

اگر تو آپ کیل مہاسوں کے شکار ہیں تو آپ کو روزانہ کچھ مقدار میں بادام کھانے کو عادت بنالینا چاہئے۔ بادام وٹامن ای اور ایک اینٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور ہوتے ہیں جو صحت مند جلد کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ جسمانی دفاعی نظام بھی مضبوط بناتا ہے۔ بادام جسم میں کولیسٹرول لیول کو کنٹرول کرنے، ذیابیطس سے تحفظ اور دماغی افعال کو بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پیاز

سلفر کو چہرہ روشن کرنے والا جز قرار دیا جاتا ہے جس کی وجہ اس میں چھپی خاصیتیں ہیں جو جلدی خلیات کو اپنی شکل برقرار رکھنے سمیت جھریوں میں کمی لانے میں مدد دیتی ہیں۔ پیاز میں سلفر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق سلفر سے بھرپور غذائیں کیل مہاسوں کی تکلیف میں بھی کم لاتی ہیں۔ پیاز وٹامن اے، سی اور ای سے بھی بھرپور ہوتی ہے جو سورج کی روشنی سے ہونے والے نقصان کے خلاف مقابلہ کرتے ہیں۔

آم

آم میں موجود بیٹا کیروٹین اور وٹامن اے جلد کو دوبارہ جوان بنانے میں مددگار ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں کچھ چمک کا اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ روزانہ ایک آم کھانے سے جلد پر گہرے نشانات، کیل مہاسوں اور داغوں کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ چہرے پر مسوں یا دانوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے، ایک چائے کے چمچ آم کے پیسٹ کو آدھے چائے کے چمچ دودھ یا شہد میں ملا کر اپنے چہرے پر ملیں جس سے جلد کے مردہ خلیات اور مسوں وغیرہ کو ہٹانے میں مدد ملے گی جبکہ جلد زیادہ جگمگانے لگے گی۔

زیادہ تیل والی مچھلی (آئلی فش)

جن مچھلیوں میں زیادہ تیل ہو وہ جلد میں بہتری لانے کے لیے بھی بہترین ہوتی ہیں، جیسے کیل مہاسے، چنبل، خارش اور سوزش جلد کے لیے۔ ایسی مچھلی جسم میں ایسے اجزاءکی تیاری میں مدد دیتی ہے جو جلد کے مسائل، سوجن وغیرہ کو کم کرنے میں مد دیتے ہیں۔

پانی

اگر تو آپ کی جلد خشک ہوتی جارہی ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ آپ کو مناسب مقدار میں پانی پینے کی ضرورت ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق خشک جلد ایسی ناقص غذا کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں جسم کے لیے پانی کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ پانی کے ساتھ ایسی غذاﺅں کو استعمال کریں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو، جیسے کھیرے، خربوزے، مالٹے، تربوز اور مرچ وغیرہ۔

ٹوکیو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق دوپہر کو 40 منٹ سے زائد ۔ ۔ ۔

ٹوکیو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق دوپہر کو 40 منٹ سے زائد وقت تک سونا مختلف عوارض جیسے ہائی بلڈپریشر، کولیسٹرول میں اضافے، کمر کے ارگرد اضافی چربی کے اجتماع اور ہائی بلڈ شوگر کی شکل میں نکل سکتا ہے جو امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والے عناصر ہیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ 40 منٹ سے زائد قیلولہ میٹابولک سینڈروم کا خطرہ بڑھاسکتا ہے۔

محققین کے مطابق دوپہر کی نیند دنیا بھر میں عام ہے اور یہ طبی لحاظ سے فائدہ مند بھی ہے تاہم اس کا دورانیہ زیادہ ہونا امراض قلب کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 40 منٹ سے کم کا قیلولہ بہترین ہے، اس سے زیادہ ہونے کی صورت میں امراض قلب کے خطرے میں ڈرامائی حد تک اضافہ ہوجاتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ماضی کی 21 تحقیقی رپورٹس کو دیکھا گیا جن میں 3 لاکھ سے زائد افراد میں اس عادت کا جائزہ لیا گیا تھا۔

نتائج سے معلوم کہ جو لوگ 40 منٹ سے کم دورانیے کی نیند لیتے ہیں ان میں کسی قسم کی بیماری کا خطرہ سامنے نہیں آتا تاہم زیادہ دورانیے پر وہ بڑھنے لگتا ہے۔

ڈیڑھ گھنٹے کی نیند کے نتیجے میں امراض کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ دن بھر تھکاوٹ الگ طاری رہتی ہے۔

یہ تحقیق امریکن کالج آف کارڈیالوجی کی 65 ویں سالانہ کانفرنس کے دوران پیش کی گئی۔

Google Analytics Alternative