صحت

چہرہ کے حسن کو برقرار رکھنے کے لیے لال صندل مفید

ماہرین کے مطابق لال صندل چہرے کی متعدد شکایات کو دور کردیتی ہے اور حسن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

چہرے پر دھول مٹی سے کیل مہاسے اور داغ دھبے کی شکایات عام ہیں جس سے چہرہ کی رونق ہلکی پڑ جاتی ہے۔

جِلدی ماہرین کے مطابق چہرے کی حفاظت کے لیے قدرتی اشیاء کا استعمال کرنا زیادہ مفید ہے کیونکہ چہرے کی جلد حساس ہوتی ہے اس لیے کیمیکل کا استعمال کرنا اکثر نقصان دہ ثابت ہوجاتا ہے۔

صندل کی لکڑی اور سادہ صندل آسانی سے مل جاتی ہے لیکن لال صندل آسانی سے نہیں پائی جاتی۔مارکیٹ میں اکثر صرف لال صندل کا پاوڈر دستیاب ہوتا ہے۔ اس کا پاوڈر آسانی سے پنساری کی دکان پر دستیاب ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق لال صندل کو دیگر قدرتی اشیاء کے ساتھ استعمال کر کے چہرے کی بیشر شکایات سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔

اگر چہرے کی جلد خشکی کا شکار ہے تو اس کے لیے بہترین طریقہ ہے کہ ناریل کے تیل کے ساتھ لال صندل کو ملائیں اور پیسٹ بنا کر چہرے پر لگایا جائے۔

اس پیسٹ کو 10 سے 15 منٹ لگا کر خشک کریں اور پھر ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔لال صندل جلد کی خشکی دور کرکے چہرہ کو پر رونق کرنے میں کار آمد ثابت ہو گی۔

جہاں چہرے پر خشکی کی شکایت ہوتی ہے وہیں کئی چہرے بہت زیادہ آئلی بھی ہوتے ہیں۔ اس کے لیے لال صندل میں لیموں کے قطرے شامل کر کے پیسٹ بنا کر چہرے پر لگانے سے آئلی جلد کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔

اس پیسٹ کو لگانے کے بعد چہرہ نیم گرم پانی سے دھونا چاہیئے۔لال صندل سیبم کو جلد میں جذب کرنے میں مدد فراہم کرتی اور ساتھ ہی جلد کے مسام کو مضبوط کرتی ہے۔

چہرے پرکیل مہاسے اور داغ دھبے ختم کرنے میں لال صندل انتہائی مفید ہے ۔ لال صندل پاوڈر میں گلاب کا پانی، شہد اور ایک چٹکی ہلدی ڈال کر پیسٹ بنا کر چہرے پر لگانے سے ان تمام شکایات سے بچا جاسکتا ہے۔

ساتھ ہی ایکنی سے ہونے والی چبھن اور خارش کا بھی خاتمہ ہوتا ہے کیونکہ لال صندل میں جلد کو ٹھنڈا اور تازگی بخشنے والی خصوصیات شامل ہیں۔

چہرے کی رنگت کو نکھارنے کے لیے لال صندل پاوڈر میں دودھ، دہی اور ہلدی ملا کر پیسٹ لگانا چہرہ کی رنگت نکھار دیتا ہے یہ جلد کی دو رنگ کی  شکایت کو بھی دور کردیتی ہے۔

اس کا پیسٹ ہفتہ میں دو بار استعمال کیا جائے۔ لال صندل کو صرف دودھ میں ملا کر بھی روزلگانے سے آنکھوں کے ہلکے بھی دور ہوجاتے ہیں۔

دھوپ میں زیادہ دیر تک رہنے سے چہرہ سورج کی شعاعوں سے متاثر ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں چہرے پر سرخ دھبے پڑجاتے ہیں۔اس کے لیے کھیرے کا رس، دہی اور لال صندل کا پیسٹ دھوپ سے پیدا ہونے والے نشانوں کے خاتمے کے لیے مؤثر ہے۔

براون چاول کی افادیت

سفید چاول کے نسبت براون چاول صحت کے لیے زیادہ مفید ہوتے ہیں۔

یہ بات ایک آرٹیکل میں بتائی گئی۔ چاول خوراک میں اہم جز مانا جاتا ہے خاص طور پر ایشیائی باشندے چاولوں سے لذیذ کھانے بناتے ہیں اور میٹھے پکوانوں میں بھی ان کا استعمال کرتے ہیں۔ ان غذاؤں میں زیادہ تر سفید چاول استعمال کیا جاتا ہے جو کہ براؤن چاول سے ہی نکلتا ہے ۔جب چاول کی اوپری سطح کو چھیل دی جاتا ہے تو اندر سے سفید چاول نکلتا ہے۔

چاول سے کاربوہائیڈریٹ اور بھر پور غذائیت حاصل ہوتی ہے ۔سفید چاول کے بنسبت براؤن چاول زیادہ غذائیت اور بھرپور طاقت فراہم کرتا ہے ۔یہ کولیسٹرول کو کم کرتا ہے، دل کے دورے سے بچاتا ہے اور ذیابیطس کو بڑھنےسے روکتا ہے۔

فائبر:

فائبر کی فراہمی صحت کے لئے انتہائی اہم ہے۔ یہ قبض کو ہونے سے روکتا ہے۔ بلڈ پریشر، شوگر کے لیول کو بڑھنے سے روکتا ہے اور وزن کو متوازن رکھتا ہے ۔ فائبر دیگر بیکٹیریا سے بھی بچاتا ہے ۔براؤن چاولوں میں فائبر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ ان تمام شکایت سے تحفظ فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی کولن کینسر اور بریسٹ کینسر جیسے خطرناک امراض سے بھی بچاتا ہے۔ سفید چاول کے نسبت براؤن چاول میں زیادہ فائبر موجود ہوتا ہے۔

میگنیشیم:

میگنیشیم جسمانی غذائیت کے لئے اہم خوراک ہے جس سے جسمانی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ہڈیوں کو مضبوط  کرتا ہے اور پٹھوں کے اکڑنے کی شکایت سے بچاتا ہے اور جسمانی سیلز میں اضافہ کرتا ہے۔ براؤن چاول میں قدرتی طور پر میگنیشیم کی طاقت بھی پائی جاتی ہے جو کہ صحت کے لئے انتہائی موثر ہے۔

 فائٹو نیوٹرینٹ:

فائٹو نیوٹرینٹ دراصل پودوں میں پائے جاتے ہیں جس کے اندر زہریلے جراثیم سے بچنے کی طاقت ہوتی ہے۔ براؤن چاول ایک سے بھرپور فائیٹو نیوٹرینٹ غذا ہے۔ سفید چاول میں فائیٹو نیوٹرینٹ کی خاصیت موجود نہیں ہوتی

گلائسیمک انڈیکس:

براؤن چاول میں سفید چاول کے نسبت کم گلا ئسیمک انڈیکس پایا جاتا ہے۔ گلا ئسیمک انڈیکس کا کم ہونا ذیابیطس مریضوں کے لئے بے حد مفید ہے کیونکہ یہ شوگر لیول کو بڑھاتی ہے۔ بروان چاول شوگر کے لیول کو متوازن رکھتے ہیں اور موٹاپے کی شکایت ہونے سے روکتے ہیں۔

توند نکلنے کا بڑا سبب سامنے آگیا

سافٹ ڈرنکس یا میٹھے مشروبات ہوسکتا ہے کہ بہت مزے کے لگتے ہوں تاہم آپ کو اس کا انتخاب کرنے سے پہلے یہ ضرور جان لینا چاہئے۔

اس طرح کے مشروبات کا پروٹین سے بھرپور غذا کے ساتھ استعمال جسم میں چربی کے زیادہ ذخیرے یا آسان الفاظ میں توند کا باعث بنتا ہے۔

یہ دعویٰ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

ویسے تو سافٹ ڈرنکس کے متعدد نقصانات پہلے سامنے آچکے ہیں مگر اس نئی تحقیق میں اس کے ایک اور نقصان پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق ان مشروبات کی مٹھاس یا کیلوریز صرف توند بڑھانے کا باعث نہیں بنتی بلکہ جسمانی توانائی کے توازن کو بھی بگاڑتی ہیں۔

امریکا کے یو ایس ڈی اے ایگریکلچرل ریسرچ سروس گرانڈ فورکس ہیومین نیوٹریشن ریسرچ سینٹر کی تحقیق میں بتایا کہ ان میٹھے مشروبات کے ایک تہائی کیلوریز کو جسم جلا نہیں پاتا جبکہ یہ چربی گھلانے والے میٹابولزم کی کارکردگی کو کم کرتے ہیں۔

ایسا ہونے پر جسم کسی غذا سے حاصل ہونے والی توانائی کو کم خرچ کرتا ہے اور اسے چربی کی شکل میں جسم میں ذخیرہ کرنے لگتا ہے۔

مختلف رضاکاروں پر تجربات سے یہ معلوم ہوا کہ یہ میٹھے مشروبات چربی کے مالیکیولز کو گھلانے کے عمل کو سست کردیتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ غذا کے ساتھ ان مشروبات کا استعمال جسم میں کیلوریز کی مقدار بڑھاتا ہے جبکہ چربی گھلنے کا عمل بھی سست ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں توند نکل آتی ہے۔

ہلدی کے حیرت انگیز فوائد

ہر ثقافت کے اپنے مصالحے اور جڑی بوٹیاں ہوتے ہیں جو غذائی اعتبار سے کسی پاور ہاﺅس سے کم نہیں ہوتے، ان میں سے ایک ہلدی بھی ہے۔

پاکستان بھر میں اسے عام استعمال کیا جاتا ہے جس کے متعدد فوائد ہیں۔

یہ کھانے کا رنگ اور ذائقہ ہی بہتر نہیں کرتی بلکہ جراثیم کش ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ بھی ہے۔

اس کے فوائد آپ کو ضرور دنگ کردیں گے۔

جگر کی صفائی

ہم عام طور پر جو کھاتے ہیں، خصوصاً آج کے دور میں، وہ غذا اکثر کیمیکلز، کیڑے مار ادویات اور دیگر آلودگی کی زد میں آتی ہے اور اس کے زہریلے اثرات جگر اور گردوں سمیت جسمانی نظام میں اکھٹے ہوجاتے ہیں جو کہ مختلف امراض کا باعث بنتے ہیں، تاہم ہلدی کا استعمال ان اثرات کو ختم کرتا ہے اور جگر کی صفائی کرکے اسے ٹھیک رکھتا ہے۔

جلد جگمگائے

ہلدی جلد کے مردہ خلیات کی صفائی کے لیے بہترین ہے اور یہ جلد کو جوانی جیسی چمک دینے میں مدد دیتی ہے۔ ہلدی کو دودھ یا دہی میں ملائیں اور اچھی طرح مکس کرکے چہرے یا جسم کے کسی حصے پر لگائیں۔ اسے خشک ہونے تک کے لےی چھوڑ دیں اور نیم گرم پانی سے صاف کردیں، جبکہ اس دوران چہرے کو نرمی سے مساج بھی کرتے رہیں۔

انفیکشن سے تحفظ

ہلدی طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ اور جراثیم کش مصالحہ ہے جو مختلف انفیکشنز جیسے ای کولی (جو کہ شدید انفیکشن، معدے کے درد، ہیضے اور دیگر مسائل کا باعث بنتا ہے) کی روک تھام کرتا ہے

کیل مہاسے اور ورم کو صاف کرے

ہلدی کا استعمال کیل مہاسوں کی روک تھام ہی نہیں کرتا بلکہ اسے اکثر چہرے پر لگانا کیل مہاسوں کے نشانات اور ورم کو دور کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

خراشوں اور جلنے کے زخموں کے خلاف مفید

ہلدی چونکہ قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات کی حامل ہے اور خراشوں، زخموں اور جلنے وغیرہ کے لیے مفید ہے، جو کہ مرہم کا کام کرتی ہے۔

بڑھتی عمر کی روک تھام

ہلدی اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ ہے جو کہ جسم کے اندر مضر صحت اجزاءکو بڑھنے سے روکتا ہے اور خلیات کو نقصان سے پہنچا کر عمر بڑھنے سے آنے والی تنزلی کی روک تھام کرتا ہے۔ اسی طرح یہ نئے خلیات کی نشوونما میں بھی مددگار ہے جس سے بڑھتی عمر کے اثرات کو کسی حد تک زائل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

چہرے کے غیرضروری بالوں کو کم کرے

یہ خواتین کے لیے کافی اہم ہے اور ہلدی چہرے کے غیر ضروری بالوں کی نشوونما کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے 1/4 چمچ ہلدی کو ایک چمچ بیسن میں مکس کریں اور پانی ڈال کر پیسٹ بنالیں۔ اسے چہرے پر پندرہ منٹ لگا رہنے دیں اور پھر دھولیں۔ اگر اس ٹوٹکے کو معمول بنالیا جائے تو ایک ماہ کے اندر نمایاں فرق دیکھا جاسکے گا۔

فیس واش، صابن کے استعمال میں احتیاط کی ضرورت

صابن استعمال کرنے سے اس پر گندگی اور جراثیم چپک جاتے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہناہے کہ صابن ،فیس واش یا لیکوڈ سوپ کو منھ پر استعمال کرنے سے پہلے اسے عام طور سے ہاتھوں پر لگایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہاتھوں کی تمام آلودگی صابن یا فیس واش وغیرہ کے لیکوڈ پر بھی لگ جاتی ہے جب وہ جراثیم والا ہاتھ منہ یا چہرے پر لگتا ہے تو چہرے کی حساس جلد کو انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔

ٹین ایجر لڑکیوں کی جلد انتہائی حساس ہوتی ہے۔ ان کے چہرے پر کیل مہاسے بھی ہوتے ہیں جو ان کے چہرے کو اور بھی حساس بنادیتے ہیں۔ لہٰذا ماہرین کا مشورہ ہے کہ مائیں اپنے اور اپنی بچیوں کے چہرے کی حفاظت کا خاص خیال رکھیں بلکہ بچوں کی جلد بھی چوںکہ بہت حساس ہوتی ہے لہٰذا ان کے بھی منہ دھلانے، نہلانے کے لیے ایسے صابن، لیکوڈ سوپ یا فیس واش استعمال کریں جو کہ بلیچ سے پاک ہوں۔ بے بی سوپ، بیوٹی سوپ یا ایسے صابن استعمال کریں جس میں PH کا توازن 14 سے کم ہو۔ چہرے کی نمی برقرار رکھنے کے لیے عرق گلاب یا سادہ پانی کا بار بار چہرے پر اسپرے کریں۔ دن میں تین چار بار سادے پانی سے منھ پر چھینٹے ماریں یا گلیسرین اور عرق گلاب والے صابن کا صبح و شام استعمال کریں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن بچیوں یا خواتین کے چہرے پر کیل مہاسے ہوں یا ان کی جلد حساس، چکنی یا خشک ہووہ چہرے پر کوئی بھی صابن، فیس واش، بیوٹی سوپ، وائٹنگ سوپ وغیرہ اسکن اسپیشلسٹ کے مشورے کے بغیر ہرگز استعمال نہ کریں۔ اشتہارات سے متاثر ہوکر دوستوں کے صاف و شفاف چہروں کو دیکھ کر یا سہیلیوں کے مشورے پر ہرگز ہرگز کوئی صابن چہرے پر استعمال نہ کریں ورنہ فائدے کے بجائے نقصان ہوسکتا ہے۔

چہرے پر کوئی بھی صابن لگانے سے پہلے ہینڈ واش سوپ سے ہاتھ دھولیں۔ پھر چہرے کے لیے مخصوص صابن کو ہاتھ پر لگاکر چہرے پر ملیں۔ کوشش کریں ہاتھ اور چہرہ دھونے کے صابن علیحدہ رکھیں۔ چہرہ دھونے سے قبل ہمیشہ پہلے ہاتھ دھونے والے صابن سے ہاتھ مل مل کر دھوئیں پھر چہرہ صاف کریں۔

خواتین  فیس واش کرنے والی اشیا کا انتخاب خصوصاً صابن کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں۔ لمبے عرصے تک ایک ہی قسم کا یا ایک ہی کمپنی کا صابن استعمال نہ کریں۔ گھر کے تمام افراد اپنا الگ صابن استعمال کریں تو بہتر ہے یا پھر ہر فرد اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ صابن استعمال کرنے کے بعد اسے اچھی طرح دھوکر خشک ہونے کے بعد جالی دار صابن دانی میں رکھے۔

خواتین خصوصاً نوجوان لڑکیوں کے لیے بہتر ہے کہ چہرے کی خوب صورتی کے لیے قسم قسم کے صابن استعمال کرنے کے بجائے اعلیٰ کوالٹی کے فیس واش یا قدرتی اشیاء جیسے بیسن، عرق گلاب، ہلدی، گلیسرین، لیموں، بادام،زیتون، شہد، کھیرے، ایلوویرا، وغیرہ یا ان کے اجزا سے بنے فیس واش استعمال کریں۔ اینٹی الرجی فیس واش کا استعمال دو بار سے زیادہ نہ کریں ورنہ اس سے بھی الرجی یا انفکیشن ہوسکتا ہے کیوںکہ اس میں سیلسیلک ایسڈ، سلفر ٹار اور زنک وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک جزو سے بھی چہرے کی جلد متاثر ہوسکتی ہے۔ حساس اور انفکیشن والی جلد کے لیے استعمال ہونے والے صابن بھی دن میں دو مرتبہ سے زیادہ استعمال نہ کریں۔ ان کا کم یا اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے کہ جلدی امراض کے ماہرین کے مطابق جلد نتائج کے حصول کے لیے یا چہرے کو صاف و شفاف رکھنے کے لیے دن بھر بیوٹی سوپ، اینٹی الرجی سوپ، میڈی کیٹڈ سوپ وغیرہ کا استعمال چہرے کی جلد کو نمی سے محروم، خشک اور بے رونق کردیتا ہے اور اسے نقصان پہنچاتا ہے۔

چہرے پر کسی بھی قسم کے انفیکشن کی موجودگی میں ماہر جلد کے مشورے کے بغیر کچھ استعمال نہ کریں ورنہ فائدے کے بجائے ناقابل تلافی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ الرجی، انفیکشن، کیل مہاسوں وغیرہ سے بچنے کے لیے معیاری کمپنیوں کے مستند صابن استعمال کریں۔ چاہیں تو صرف بیسن، ملتانی مٹی، لیموں، نارنگی، کینو کے خشک چھلکوں کو پیس کر اس سے چہرہ صاف کریں، نیم یا بیری خوب اچھی طرح دھوکر ابال لیں اور اس کے پانی سے صبح و شام منھ دھوئیں۔

کچھ عرصہ قبل تک رنگ گورا کرنے والی کریمیں عام تھیں، اب رنگ گورا کرنے والے صابن بھی عام ہوگئے ہیں۔ مگر اس دعوے کی اصلیت صرف اتنی ہے کہ رنگ گورا کرنے والے صابن میں بلیچ کے علاوہ ایسے اجزا بھی شامل کیے جاتے ہیں جو کہ جلد کی بالائی سطح سے جلد کے مردہ خلیے اور ذرات کو صاف کرتے ہیں جن کے باعث جلد صاف ستھری اور نکھری ہوئی محسوس ہوتی ہے اور دیکھنے والا اور استعمال کرنے والا اسے صابن کا کرشمہ سمجھتا ہے۔ چوںکہ روز یہ عمل کیا جاتا ہے تو اس کے باعث جلد میلی، بے رونق اور خراب نظر نہیں آتی مگر در حقیقت وہ اندر سے پتلی ہوتی جاتی ہے اور جوں ہی اس صابن کا استعمال کم یا بند کردیا جاتا ہے تو جلد پہلے سے زیادہ خراب نظر آنے لگتی ہے۔ لہٰذا عارضی گوری رنگت کے حصول کو چھوڑیے اور ایسے دیسی نسخے استعمال کیجیے جو نقصان دہ نہ ہوں۔ قدرتی اشیاء کا استعمال بھی کیاجاسکتا ہے جو آپ کو اندرونی طور پر صحت مند رکھیں اور باہر سے آپ کا حسن نکھاریں۔ بڑی بوڑھیاں گورے پن کے حصول کے لیے پودینے اور سویا کے پانی کو پینے کا مشورہ دیتی ہیں۔ چہرے کو گورا کرنے کے لیے کھیرے، لیموں،کینو کے چھلکوں اور رس کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

کیل مہاسوں سے نجات کے لیے باسی پانی میں لیموں کا رس ڈال کر پیا جاتا ہے، بیسن دودھ اور لیموں کا رس ملاکر دھونے سے بھی جلد اجلی ہوجاتی ہے۔ پیاز کے رس کو منہ پر نظر آنے والے داغوں پر ملا جائے تو داغ ختم ہوجاتے ہیں۔ قبض کی وجہ سے چہرے پر کیل مہاسے نکل آتے ہیِں لہٰذا نوعمر لڑکیاں قبض بالکل نہ ہونے دیں، پپیتا کھائیں اور اس کا گودا یا چھلکا پیس کر چہرے پر استعمال کریں۔ چہرے اور ہاتھ پیروں کی صفائی کے لیے لیموں یا کینوں کے چھلکوں کو پیس کر رکھ لیں اس میں بیسن، جو کا آٹا شامل کردیں اور گلیسرین ملاکر اس کو بطور صابن استعمال کریں۔ چہرے پر نمی برقرار رکھنے کے لیے عرق گلاب یا سادے پانی کا اسپرے کرتی رہیں۔ خود بھی بار بار پانی پئیں، چہرے کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے ہفتے میں ایک بار ابٹن سے دھوئیں۔

ہر مہینے دو مہینے میں ایک بار فیشل ضرور کریں، گھر پر تازہ ابٹن بنائیں، بسین، لیموں کا رس، ہلدی، دودھ، بالائی، عرق گلاب اور گلیسرین ملاکر لیپ بنالیں اور اسے چہرے، ہاتھ، پیروں اور جسم پر اسکرب کی طرح ملیں، بیس منٹ بعد سادے پانی سے یا نیم گرم پانی سے صاف کردیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خوب صورت جلد، داغ دھبوں، کیل مہاسوں سے صاف، صحت مند، چمک دار اور پر رونق چہرے کے لیے متوازن غذا استعمال ک کریں۔ لہٰذا خوراک میں سبزیاں، اناج اور دالوں کے ساتھ ڈیری کی اشیاء، پھل اور صحت بخش گوشت بھی شامل کریں۔

 

چمکتے دانت، مہکتی سانسیں

چمکتے دمکتے دانت ہر فرد کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔

جس طرح ہر انسان اپنے چہرے ، خدوخال اور جسمانی ساخت کو سنوارنے کی فکر میں رہتا ہے اسی طرح اسے دانتوں کی صفائی کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ کیوں کہ چمک دار شفاف دانت شخصیت کی خوب صورتی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور سے خواتین اور لڑکیوں کے لیے دانتوں کی چمک الگ ہی اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ ہمارے چہرے کی سب سے اہم چیز مسکراہٹ ہے جس کی وجہ سے ہمارا چہرہ نہ صرف نکھر جاتا ہے بلکہ دوسروں کو متاثر کرنے میں بھی مسکراہٹ ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اور اگر اس مسکراہٹ میں آپ کے پیلے ،بدنما دانت شامل ہوجائیں تو سارا تاثر الٹ ہوجائے گا۔ اس لیے اپنی شخصیت کو نکھارنے کے لیے دانتوں پر خاص توجہ دیجیے۔

دانتوں کی چمک ، اور منھ کی بدبو یہ دو خاص عنصر ہیں جن پر ہمیں توجہ دینی ہے۔ اپنے دانتوں کی رنگت کا اندازہ تو اپ آئینے میں دیکھ کر لگالیں گے اور منھ کی بدبو کے لیے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو منھ کے قریب لے جائیں اور ایک گہری سانس خارج کریں اگر سانسوں میں بدبو ہو توآپ کو اس کا احساس فوراً ہوجائے گا۔ زرد دانت اور منھ سے خارج ہونے والی بدبو متأثر کن شخصیت کے حامل فرد کو بھی دوسروں کے لیے ناپسندیدہ بنادیتی ہے اور لوگ اس کے قریب بیٹھنے سے کترانے لگتے ہیں۔ یہ دونوں مسئلے چند گھریلو ٹوٹکوں پر عمل کرنے سے بہ آسانی حل ہوسکتے ہیں۔

منھ کی بدبو دور کے لیے صبح شام نمک ملے نیم گرم پانی سے کلیا ں کرنے کی عادت اپنائیں۔ باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے ہرا دھنیا صاف کریں تو اس کی ڈنڈیاں کچرے میں نہ پھینکیں بلکہ تھوڑی دیر تک چیونگم کی طرح چبائیں۔ اس سے منھ کی بدبو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

دانتوں کو چمکانے کیلیے میٹھا سوڈا، لیموں کارس، اور نمک ہم وزن لے کر پیسٹ بنالیں اور صبح شام اس سے برش کریں، دانت چند دنوں میں چمک جائیں گے۔ ناریل کا تیل رگڑنے سے بھی دانت خوب چمک جاتے ہیں۔ اسی طرح شہد ملے پانی سے کلیاں کرنے سے نہ صرف دانت چمک جاتے ہیں بلکہ مسوڑھوں کی جملہ بیماریوں سے بھی نجات ملتی ہے کیوں کہ شہد میں اینٹی سیپٹک اجزا شامل ہوتے ہیں۔

لیموں کے چھلکوں کو ضائع کرنے کے بجائے انھیں دھوپ میں سکھا کر سفوف بنا لیں۔ جب کبھی کسی دعوت میں جانا ہو خوب رگڑ کر برش کیجیے نہ صرف دانت چمک جائیں گے بلکہ سانسیں بھی مہک جائیں گی۔ اسی طرح دانتوں کی خوب صورتی کا تعلق بعض غذاؤں کے استعمال سے بھی ہے۔ اسٹرابیری، ناریل اور پنیر کو خوب چبا چبا کر کھائیں، دودھ کا کثرت سے استعمال کریں۔ ان ٹوٹکوں کے ساتھ آپ کو چند اور احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنا ہوںگی ،جس سے آپ کے دانتوں کو دائمی چمک مل سکتی ہے۔

فولاد والی غذائی کھانا خصوصا سیب کھانے کے بعد کلی کریں، یوں بھی ہر کھانے پینے کے بعد کلی کرنا نہ صرف سنت ہے بلکہ طبی نکتہ نگاہ سے دانتوں کی صحت کا ضامن ہے ، لیکن فولاد والی اور میٹھی اشیاء کھانے کے بعد لازما کلی کریں، اسی طرح چائے اور کافی کے استعمال کے بعد کلی نہ کرنا اپنے دانتوں کی چمک کوکھو دینا ہے۔ اب تو جدید تحقیق نے مسواک کی سنت کی اہمیت کو بھی مان لیا ہے جو بحیثیت مسلمان ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ ہر کھانے پینے کے بعد کلی کے ساتھ جس نے مسواک بھی کرلی گویا اس نے اپنے دانتوں کی صحت اور چمک کو دائمی بنالیا اور سنت کا اجر الگ پایا۔

بعض ڈینٹسٹ کچھ اینٹی بائیو ٹک ادویات جیسے ٹیٹرا سیلائن اورفولاد پر مشتمل ادویات کے استعمال کو بھی دانتوں کے کالے پڑجانے کی وجہ بتاتے ہیں۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ مہنگا علاج دانتوں کا ہوتا ہے کیوں کہ میٹھی چیزوں کا حد سے زیادہ استعمال خصوصا چاکلیٹ دانتوں کی صحت کے لیے بہت مضر ہے۔ اسی لیے اس کے مضرات سے بچنے کے لیے اور اپنی شخصیت کو جاذب نظر بنانے کے لیے اپنے دانتوں کی حفاظت کیجیے۔ چمکتے دانت خوش ذوقی کی علامت ہیں ، جس کا دوسروں کی نفسیات پر گہرا اثر پڑ تا ہے۔

سبز چائے کے ذریعے حساس دانتوں کا علاج

بیجنگ: دانتوں میں ٹھنڈا اور گرم پانی لگنا ایک تکلیف دہ صورتحال ہے لیکن اب ماہرین نے سبز چائے سے ایک مرکب نکالا ہے جس کے ذریعے حساس دانتوں کے اس مرض سے نجات مل سکتی ہے۔

صرف امریکا میں ہی 25 فیصد آبادی دانتوں کی حساسیت کی شکار ہے اور ان کے لیے گرم غذا یا آئسکریم کھانا ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔ دانتوں کی اس کیفیت کے علاج کے لیے اب تک کوئی مؤثر طریقہ دریافت نہیں ہوسکا ہے۔ دانتوں کی حفاظتی پرت انیمل دھیرے دھیرے ختم ہو جاتی ہے اور دانت کی اگلی پرت ڈینٹائن نمایاں ہو جاتی ہے اور اس پر ٹھنڈی اور گرم اشیا بہت تکلیف دیتی ہیں۔ ڈینٹائن میں دانتوں کی حساس رگیں ہوتی ہیں جو سرد اور گرم اشیا کا احساس دلاتی ہیں۔

اب ڈووہان یونیورسٹی چین کے ڈاکٹر چوئی ہوانگ نے گرین ٹی کے پولی فینولز نکال کر اس میں ایک نینو ہائیڈروکسی ایپیٹائٹ شامل کرکے ایک بایومٹیریل (حیاتی مادہ) بنایا ہے۔ واضح رہے کہ سبز چائے میں جو پولی فینول پایا جاتا ہے اس کا پورا نام ایپی گیلوکٹیچن تھری گیلاٹ (ای سی جی سی) ہے اور اس میں میسو پورس سلیکا نینوپارٹیکلز شامل کیے گئے ہیں۔ اب اگر یہ مٹیریل دانتوں پر لگایا جائے تو ڈینٹائن کو نہ صرف بند کرتا ہے بلکہ انیمل کو تباہ کرنے والے بیکٹیریا کے حملے کو بھی روکتا ہے۔

کمر پتلی کرنے کی ورزش

پنجوں کو چھونا:
پاؤں کھلے کر کے کھڑی ہوجائیں۔ پاؤں تقریباََ ایک فٹ کھلے ہوں۔ بازو سرکے اوپر سیدھے اٹھائیں۔ دھڑ جھکاتے ہوئے دونوں پاؤں کے درمیان فرش چھوئیں۔ پھر دھڑ تھوڑا سا اوپر اٹھاتے ہوئے دوبارہ چھوئیں۔ پھر دھڑ اوپر اٹھائے ہوئے پہلی حالت میں واپس آجائیں۔ یہ ورزش پانچ سے دس منٹ تک کریں۔
بازو گھمانا:
سیدھی کھڑی ہوجائیں۔ پاؤں ایک فٹ کھلے ہوں۔ بازو پہلو کے ساتھ ہوں۔ دونوں بازوؤں کو پچھلی طرف پوری گردش کریں۔ ورزشوں کی آدھی تعداد سے آگے کو گردش دیتے ہوئے مکمل کریں اور آدھی آگے سے پیچھے کو۔ یہ ورزش اٹھارہ سے بیس مرتبہ کریں۔
زچگی کے بعد وزن میں اضافے کو روکنے کی ورزش:
فرش پر سیدھی بیٹھ جائیں۔ بازو آگے پھیلائیں اور ٹانگیں بھی سیدھی پھیلا دیں۔ ان آگے جھکتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے پنجوں کو پکڑلیں۔ اپنی اصلی حالت پر آجائیں۔ اب بازو سامنے پھیلائیں اور پچھلی طرف جھکیں، اور دونوں ٹانگیں اندر کو سمیٹیں۔ اپنی اصلی حالت پر آجائیں ۔ اب سیدھی لیٹ جائیں۔ دونوں بازو سر کی طرف فرش پر پھیلادیں۔ ٹانگیں ذرا سمیٹیں اور کمر فرش سے جس قدر اٹھ سکے اوپر اٹھائیں۔ لیکن کندھے، کولھے اور پاؤں فرش سے لگے رہیں۔

Google Analytics Alternative