صحت

آملہ کا مربع د ل ،دما غ و بصار ت کیلئے مفید ہے ، ماہرین

سلانوالی۔ زرعی ماہرین نے بتایاکہ آملہ کا پھل طبی نقطہ نظر سے اہمیت کا حامل ہے ۔ا س کے پھل میں وافر مقدار میں وٹا من سی پایا جا تا ہے جبکہ آملہ کا مربع د ل ودما غ اور بصار ت کیلئے انتہائی مفید ہے ۔انہوں نے بتا یا کہ آملہ کا د ر خت خوبصورت اور درمیانے قد کا ہوتا ہے جس پرگول بیر کی طرح کا پھل لگتا ہے۔ آملہ کے پودے اکتوبر میں´ بذ ریعہ ٹی بڈنگ پیو ند کیے جاتے ہیں اور نئے پود ے لگا نے کاعمل بھی اکتو بر میں مکمل کر لیا جا تا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ آملہ کی کاشت کیلئے ریتلی میرااور بہتر نکاس والی زمین موزوں رہتی ہے۔

سر میں بار بار کنگھی کرنے والے ہوشیار ہو جائیں

بالوں کی حفاظت کے مقبول ترین ٹوٹکوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دن میں کم از کم سو بار بالوں میں ہیئر برش پھیرا جائے تو بال نہیں گرتے ہیں بلکہ ان کے بڑھنے کی رفتار تیز ہوجاتی ہے، اسی مشورے کو سائنسی رنگ دینے کیلئے یہ اضافہ بھی کردیا جاتا ہے کہ سر نیچے کی جانب جھکائیں اور تمام بال اپنے سامنے گرا کے پھر ان میں کنگھی پھیریں تو بال گرنا بند اور بڑھنے کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔ آپ خواہ پہلے مشورے پر عمل کرتی ہیں یا سائنسی طریقے پر، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ بالوں کیلئے یہ عمل نقصان دہ ہوتا ہے اور اس سے بالوں کی بڑھوتری کے عمل پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ جرمن ڈرماٹالوجی لیب میں کی گئی اس تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کی ساخت بالکل پودوں جیسی ہوتی ہے۔ جس طرح نازک کونپلوں کو بار بار ہاتھوں سے چھوا جائے تو یہ مرجھانے لگتی ہیں، اسی طرح بالوں کی بیرونی سطح پر موجود سیلز بھی بار بار چھوئے جانے کے عمل سے متاثر ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں کمزور بالوں کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ سر کی جلد میں اپنی جڑیں مناسب طرح پیوست نہیں کرپائے ہوتے ہیں۔ایسے میں جب بالوں پر کنگھی کی صورت میں بار بار دباو¿ پڑتا ہے تو یہ جڑ سے باہر آجاتے ہیں۔ اس عمل کا مشاہدہ خود بھی کیا جاسکتا ہے۔ کنگھی میں پھنسے بالوں کے سروں کو غور سے دیکھیں تو ان کے کناروں پر حفاظتی تہہ موجود ہوتی ہے جو کہ بالوں کو سر کی جلد میں پیوست رکھتی ہے تاہم کنگھی کے دباو¿ کی وجہ سے یہ بھی باہر آجاتی ہے۔ اس تحقیقی مشاہدے کا اہتمام کرنے والے جلدی امراض کے ماہر پروفیسر شوارٹز روزمیرو تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ بالوں میں تیز رفتاری سے جب کنگھی پھیری جاتی ہے تو یہ سر کے اندر گرمی پیدا کرتی ہے، یہ گرمی مساموں کو پھیلا دیتی ہے جس کی وجہ سے بال جھڑنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔ پروفیسر شوارٹز نے بالون کی نشونما کیلئے سر کے مساج کے نظریئے کو بھی غلط ثابت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بالوں کے ساتھ ویسے ہی سلوک کرتا ہے جیسا کہ تیز ہوا کھیتوں کے ساتھ کرتی ہے۔ بال سخت ہاتھوں سے کئے گئے مساج کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سختی سے کیا گیا مساج سر کو سکون تو پہنچاتا ہے تاہم اس کے بعد جب بال سلجھائے جاتے ہیں تو بڑی تعداد میں بال گرتے ہیں۔ پروفیسر شوارٹز اپنے تحقیقی مشاہدے کیلئے ٹی میزبانوں کی مثالیں دیتے ہیں جنہیں مسلسل ہیئر سٹائلنگ کی وجہ سے بال گرنے، کمزور اور بے جان بالوں کا مسئلہ بہت جلد درپیش ہوجاتا ہے

کیا آپ فاسٹ فوڈ کھانے کا شوق رکھتے ہیں

اگر آپ فاسٹ فوڈ کھانے کے شوقین ہیں تو بری خبر یہ ہے کہ یہ عادت آپ کی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے محققین کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جنک فوڈ کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد انتہائی مضر صحت کیمیکلز جیسے phthalates کے شکار ہوسکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو برگر، فرائیڈ چکن یا ایسے ہی فاسٹ فوڈ پسند ہیں ان کے جسم میں phthalates کی سطح 40 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے۔

محققین کے مطابق یہ نتائج تشویشناک ہیں کیونکہ phthalates بچوں اور بڑوں دونوں میں متعدد سنگین امراض کا باعث بن سکتا ہے۔

phthalates درحقیقت ایک صنعتی کیمیکل ہے جسے فوڈ پیکجنگ میٹریل اور فاسٹ فوڈ کی تیاری کے لیے دیگر اشیاءمیں استعمال کیا جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران فاسٹ فوڈ شوقین افراد کا معائنہ کیا گیا تو ان میں اس کیمیکل کی سطح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

امریکا مین اس کیمیکل کو 2008 میں بچوں کے کھلونوں کی تیاری کے لیے استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی کیونکہ اس سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ بہت زیادہ فاسٹ فوڈ کھانا عادت بنالینا ویسے بھی صحت کے لیے زیادہ بہتر آپشن نہیں کیونکہ اس میں بہت زیادہ چربی، نمک اور کیلوریز شامل ہوتے ہیں جو موٹاپے، ذیابیطس سمیت مختلف امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں phthalates کے باعث انسانوں میں دمہ، آٹزم اور بریسٹ کینسر سمیت متعدد امراض کا خطرہ بتایا جاچکا ہے۔

محققین کے مطابق ہمارا جسم اس کیمیکل کو ہضم نہیں کرپاتا اور یہ ہارمونز کے نظام کو نقصان پہنچا کر مختلف امراض کا باعث بنتا ہے۔

مناسب نیند آپ کو نزلہ زکام سے بچائے

کیا آپ رات کو نیند پوری کرتے ہیں ؟ نہیں تو ہر وقت نزلہ زکام یا کسی بھی عام انفیکشن کے لیے تیار رہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ رات کو 5 گھنٹے یا اس سے کم سوتے ہیں ان میں نزلہ زکام کا خطرہ 28 فیصد، فلو کا خطرہ 82 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق نیند انسانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے اور اگر کوئی فرد کم سوتا ہے تو عام بیماریاں اسے زیادہ لاحق ہوتی ہیں۔

نتائج سے پرانی طبی رپورٹس کی بھی تصدیق ہتی ہے جن کے مطابق کم نیند کے نتیجے میں نزلہ زکام اور فلو وغیرہ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس نئی تحقیق کے مطابق اب پہلی بار بڑے پیمانے پر لوگوں کے اندر انفیکشن اور نیند کے درمیان تعلق کو تلاش کیا گیا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نیند اور جسمانی صحت کے درمیان تعلق موجود ہے اور لوگوں کو اپنی نیند کے دورانیے کا تجزیہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ اچھی صحت کے لیے ضروری ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے جرنل جاما انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئی۔

چاکلیٹ کھانے والوں کے لیے خوسخبری

ویسے تو سننے میں عجیب لگے مگر چاکلیٹ اور پنیر کو کھانا عادت بنالینا جسمانی وزن میں کمی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔کنگز کالج لندن کی تحقیق کے مطابق جسمانی وزن میں کمی کے لیے کوششوں میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ معدے میں موجود بیکٹریا کو نظر انداز کرنا ہے۔محققین کے مطابق معدے میں کافی مقدار میں بیکٹریا موجود ہوتے ہیں اور وہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہترین ہیں۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر کو کوئی شخص موٹاپے کی روک تھام کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی غذائی مینیو میں چاکلیٹ، کافی اور پنیر کو شامل کرلینا چاہئے۔محققین کے مطابق ہر شخص کے معدے میں بیکٹریا مختلف ہوسکتے ہیں جو ہمارے جسموں پر اثرانداز ہوتے ہیں اور اس لیے طویل المعیاد بنیادوں پر غذائی کنٹرول کے ذریعے موٹاپے سے بچنے کی کوشش ناکام ہوجاتی ہے۔محققین کے مطابق ڈائیٹنگ، کاربوہائیڈریٹس، چربی یا سبزیوں تک محدود ہوجانا جسمانی وزن میں کمی کی بجائے اضافے کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ کھانے میں تنوع نہ ہونے کے باعث معدے میں بیکٹریا کے تنوع میں کمی آنا ہے۔تحقیق کے مطابق صحت مند اور جسمانی وزن کنٹرول رکھنے کے لیے ایسی غذا?ں کو اپنائیں جو معدے کے اچھے بیکٹریا کی تعداد بڑھائیں

اپنے ذہن کو رکھیں تیز اور ہوشیار

یادداشت کی بدولت ہی ہم زندگی کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔گلہریاں اور بعض پرندے مہینوں بعد یاد کر سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی خوراک کس جگہ چھپائی ہے لیکن ہم ایک گھنٹے میں بھول جاتے ہیں کہ ہم نے چابیاں کہاں رکھی ہیں۔ بہت سے لوگ اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ ان کی یادداشت کمزور ہے لیکن دراصل انسان کا دماغ بہت کچھ سیکھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صلاحیت کا بھرپور استعمال کرنا ہر شخص کے لئے ممکن ہے۔ انسان کے دماغ کا وزن عام طور پر 3 پونڈ ہوتا ہے اور وہ گریپ فروٹ جتنا بڑا ہوتا ہے۔ دماغ میں ایک کھرب کے لگ بھگ اعصابی خلیے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ اکثر ایک خلیہ ایک لاکھ دوسرے خلیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے دماغ بہت سی معلومات کو ذخیرہ کرنے کے قابل ہے۔ البتہ ایسی معلومات کا کوئی فائدہ نہیں اگر ہم ضرورت پڑنے پر اسے یاد نہیں کر پاتے۔ کئی لوگوں کا حافظہ بہت تیز ہوتا ہے اور ان میں بہت سے ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔اس سلسلے میں مغربی افریقہ کے قبیلوں کے ان پڑھ تاریخ دانوں پر غور کریں۔ ان کو گریو کہا جاتا ہے‘ انہیں ان تمام لوگوں کے نام معلوم ہیں جو پچھلی کئی پشتوں میں ان کے گاؤں میں رہتے تھے۔ یہ بات مصنف ایلکس ہیلی کے بڑے کام آئی جن کے پردادا کا تعلق ملک گیمبیا سے ہے۔انہوں نے اپنے خاندان کی تاریخ کے بارے میں ایک ناول لکھا جس کے لئے انہیں انعام ملا۔ وہ گریو تاریخ دانوں کی مدد سے اپنے خاندان کی پچھلی چھ پشتوں تک تحقیق کر پائے۔ ایلکس ہیلی نے کہا ’’میں افریقہ کے گریو کا بہت ہی احسان مند ہوں۔ یہ کہاوت کتنی سچ ہے کہ جب ایک گریو مر جاتا ہے تو ایسا نقصان ہوتا ہے گویا ایک لائبریری جل کر راکھ ہو گئی ہو.

پھل میٹھا ہے یا نہیں، اب جاننا آسان

اکثر اوقات لوگ پھل کی خریداری بڑے شوق سے کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ ہی پھل گھر میں آکے کھانے بیٹھتے ہیں تو اس کا پھیکا نکلنا انتہائی افسوس کا سبب بنتا ہے۔خاص طور پر خربوزے کا پھیکا نکل جانا اور سیب کے نرم نکل آنے پر جتنا افسوس ہوتا ہے شاید ہی ایسا افسوس زندگی میں کبھی کسی غلطی پر ہوا ہو۔پھل خریدتے وقت ، مختلف لوگ مختلف طریقوں سے اس کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ کچھ لوگ دکان پر ہی پھل کاٹ کے کھا لیتے ہیں تاکہ اطمینان کرلیں کہ پھل میٹھا ہے کہ نہیں۔۔۔ لیکن ضروری نہیں ہے کہ اگر ایک پھل میٹھا ہے تو دوسرے پھل بھی میٹھے ہوں اور دوسری بات ہم نہیں جانتے کہ دکاندار کےپاس چھری ہائی جین ہے بھی یا نہیں۔۔اکثر لوگ پھلوں کو سونگھ کے اندازہ کرتے ہیں کہ پھل میٹھا ہے کہ نہیں ہے۔ لیکن بعض دفعہ یہ عمل بھی رائیگاں چلا جاتا ہے اور پھل وہی پھیکے نکل آتے ہیں۔کچھ لوگ پھل کو ہاتھ سے دبا کے چیک کرتے ہیں کہ پھل میٹھا ہے کہ نہیں، اگر پھل نرم ہے تو اس کا مطلب پھل میٹھا ہے۔۔ اگر پھل سخت ہے تواس کا مطلب پھل میٹھا نہیں ہے۔اسی طرح کے کئی اور ایسے طریقے ہیں ، جن کی مدد سے لوگ پھل کی مٹھاس جانچنے کی کوشش کرتے ہیں مگر آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ پھل کی مٹھاس جاننے کا بہترین طریقہ کون سا ہے؟یہ جاننے کےلیے پھل میٹھا ہے کہ نہیں، آپ پھل کو سونگھ کے باآسانی اندازہ لگایا سکتے ہے۔ لیکن اس کا ایک طریقہ کار ہے۔۔ جس کے بعد آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ آپ میٹھا پھل خرید رہے ہیں کہ نہیں۔ہر پھل کی ایک مخصوص خوشبو ہوتی ہے۔ پکے اور میٹھے پھل ایک الگ طرح کی خوشبو رکھتے ہیں۔۔ جبکہ کچے اور بے ذائقے پھل میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی

سین کی جلن کی دوا گردوں کے خطرناک

امریکہ میں ہونے والی تحقیق کے مطابق سینے کی جلن کی دوا کا زیادہ عرصے تک استعمال گردوں کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔امریکہ کے تحقیق کاروں نے 170,000 لوگوں کا معائنہ کیا جو پروٹون پمپ دوا استعمال کر رہے تھے اور 20000 ایسے لوگ جو متبادل دوائیاں لے رہے تھے جو پیٹ میں تیزابیت کو ختم کرتی ہیں۔جرنل اف دی امیرکن سوسائٹی آف نیفرالوجی کے مطابق پانچ سال کے عرصے میں یہ بات سامنے آئی کہ 28 فیصد مریض جو پروٹون پمپ دوا لے رہے تھے ان کو گردوں کی مستقل بیماری کا خطرہ تھا اور 98 فیصد کو گردوں کے فیل ہونے کا خطرہ لا حق تھا۔برطانیہ میں پانچ پروٹون پمپ ادویات کی فروخت کی اجازت ہے جو ہر سال لاکھوں لوگوں کا علاج کرتی ہے ¾ان میں ایسومیپرازول، لینسوپرازول، امرپرامول، پینٹوپرازول، رابےپرازول، اومےپرازول اور پینٹوپرازول کسی بھی دوا خانے سے خریدی جا سکتی ہیں وہ مریض جنھوں نے کو پروٹون پمپ دوا زیادہ عرصے تک استعمال کی گردوں کی خرابی ہونے کا زیادہ امکان تھا

Google Analytics Alternative