تازہ ترین

صحت

غریبوں کی نسبت امیروں کو زیادہ اچھی نیند آتی ہے.کولمبین تحقیق

واشنگٹن: عمومی طورپر کہاجاتاہے کہ غریب لوگ گھوڑے بیچ کر سوتے ہیں لیکن امیروں کو زیادہ نیند نہیں آتی کیونکہ اُنہیں ڈرہوتاہے کہ کوئی مال لے نہ اُڑے یا اپنے کاروبار پر توجہ رہے لیکن ایک تحقیق نے اس خیال کو غلط ثابت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غریبوں کی نسبت امیروں کو زیادہ اچھی نیند آتی ہے،اسی طرح خواتین، اقلیتوںاور کم پیسہ رکھنے والے افراد کو کم نیند آتی ہے۔ یونیورسٹی آف کولمبیا کے تحقیق کاروں کی جانب سے 1991ءسے 2012ءکے درمیان 270,000مختلف تعلیمی اداروں کے طلباءکا سروے کیا گیاجس میں ان سے دوسوالات کئے گئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کتنی بار وہ رات میں سات گھنٹے سے زائد سوئے ہیں اور کتنی بار وہ اپنی مطلوبہ نیند سے کم سوئے ہیں۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ امیر سفید فام لوگ غریب،عورتوں اور اقلیتی افراد سے زیادہ سوتے ہیں۔یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ کم آمدن والے افراد کم سونے کے باوجود یہ کہتے پائے گئے کہ ان کی یہ نیند کافی ہے۔ کم آمدنی والے افراد کو اس بات کا کم ہی علم تھا کہ کتنی نیند ضروری ہے۔ تحقیق کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہواکہ بچوں کی نیند میں بہت تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے اور ایک 15سال کی عمر کا بچہ 1991ءمیں سات یا اس سے زائد گھنٹہ سوتا تھا لیکن اب اس کی نیند 63فیصد کم ہوئی ہے۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کی ایک وجہ نیند کا پورانہ ہونا ہے۔

انسان کو کون سا رنگ متاثر کرتا ہے؟

لندن: عمومی طورپر ہمیں اس چیز کا اندازہ نہیں ہوتاکہ ٹریفک سگنل کے علاوہ بھی رنگوں کا ہماری زندگی میں عمل دخل ہے تاہم اب ایک تحقیق نے ثابت کیاہے کہ سرخ رنگ انسانوں کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا رنگ ہے جو دفتر میں آپ کے کام سے لے کر ذاتی تعلقات تک کو متاثر کرتا ہے۔ سرخ رنگ کے مختلف شیڈز کو اقتدار، جارحیت اور جنس کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ رنگوں کی نفسیات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ سرخ رنگ کا ہمارے موڈ، خیالات اور کام پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ یہ رنگ زیب تن کرنے سے آپ کی حرکات و سکنات اور ہارمون کے توازن پر اثر ہوتا ہے جبکہ بہت سے جانور مثلاً کتے سرخ اور سبز رنگوں میں تمیز نہیں کرپاتے۔ بعض فیشن ماہرین کے مطابق لال ٹائی پہننے سے دفتر میں اثر و رسوخ اور باختیار ہونے کا احساس ہوتا ہے تاہم سرخ رنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی جارحیت کے منفی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔

یوایس بی خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

برلن : یونیورسل سیریل بس یعنی یوایس بی کا استعمال عام کیاجاتاہے او ر اِسے کمپوٹر کے لیے محفوظ تصور کیاجاتاہے لیکن جرمن سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ یوایس بی کے ذریعے ایسا کمپیوٹر وائرس حملہ آور ہوسکتا ہے جو پہلے پائے جانے والے وائرسوں کی نسبت کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا اور اسے کنٹرول کرنا بھی تقریباً ناممکن ہوگا۔ سیکیورٹی ریسرچ لیبز کے سائنسدانوں کارستھ نول اور جیکب لیل نے یو ایس بی کے فرم ویئر (ویا سی بی میں سٹور کیا گیا مستقل سافٹ ویئر جسے ڈیلیٹ نہیں کیا جاسکتا) کا تجربہ کرکے معلوم کیا کہ اس کے کوڈ میں تبدیلیاں کرکے ایسا وائرس تیار کیا جاسکتا ہے کہ جو کمپیوٹر کا کنٹرول اپنے قبضے میں لے سکتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کا وائرس مرکزی طور پر تیار کرکے ہزاروں لاکھوں یو ایس بی ڈرائیو پربھیجا جاسکتا ہے۔ جب اس یو ایس بی کو کمپیوٹر کے ساتھ لگایا جائے گا تو وائرس کمپیوٹر کا کنٹرول سنبھال لے گا اور وائرس بھیجنے والا اسے اپنی مرضی سے کمانڈز دے کر پروگرام کھول پابند کرسکے گا، ڈیٹا ڈیلیٹ کرسکے گا یا ڈیٹا چرا سکے گا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اس قسم کے وائرس کو اینٹی وائرس سافٹ ویئر سے پکڑنا بھی ناممکن ہوگا۔

خشک میوے دلایئں موٹاپے سے چھٹکارا۔

لندن: اگر ورزش کے باوجود آپ وزن کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوپارہے تو بادام کھائیں کیونکہ یہ آپ کے وزن میں کمی کیلئے کافی حدتک معاون ثابت ہوسکتے ہیں ۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ باداموں میں تمام ایسی وٹامنز اور منرلز موجود ہوتی ہیں جن سے نہ صرف انسان کو طاقت ملتی ہے بلکہ اس سے وزن بھی قابو میں رہتا ہے۔باداموں میں منرلز کی موجودگی سے انسان کو کاربوہائیڈریٹ کی طلب کم ہوتی ہے اور یوں وزن کنٹرول میں رہتا ہے۔ باداموں کے منرلز میں میگنیشیم،کاپر،،میگنیزاور وٹامن بی کمپلیکس پایا جاتا ہے جبکہ وٹامنز کی موجودگی سے ہمارے جسم سے توانائی کا اخراج ہوتا ہے اور جتنی توانائی نکلے گی اتنا ہی حرارے زیادہ جلیں گے۔ باداموں میں وٹامن ای پائی جاتی ہے جو کہ دل کے مسلز کو مضبوط کرتی ہے اور ہمیں دل کے امراض سے دور رکھتی ہے لہٰذا اگر آپ شام کو بھوک محسوس کریں تو کوئی بھی غیر صحت مند چیز مت کھائی اوربادام سے اپنی ہلکی بھوک مٹائیں۔

گھاس پر ننگے پاﺅں چلنا جسم اور دماغ کے لئے نہایت نفع بخش ہیں۔

ممبئی: گھاس پر ننگے پاﺅں چلنا عمومی صحت اور خصوصاً آنکھوں کی بینائی کے لئے نہایت مفید ہے لیکن کیا آپ نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ آپ کو گھاس پر پیدل چلنے کی پانچ وجوہات جو آپ کے جسم اور دماغ کے لئے نہایت نفع بخش ہیں۔ ذہنی سکون صبح کے وقت تازہ ہوا، سورج کی روشنی اور پرسکون ماحول آپ کی مختلف طریقوں سے مدد کرتا ہے۔ تازہ آکسیجن آپ کے جسم کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے، سورج کی روشنی آپ کو گرم رکھتی ہے اور روشنی سے حاصل وٹامن ڈی ہڈیاں مضبوط بناتی ہے اور پرسکون ماحول آپ کے تمام جسم اور دماغ کو سکون فراہم کرتا ہے۔ جسمانی تحریک پاﺅں ایک سٹور ہاﺅس کی حیثیت رکھتے ہیں، جو آنکھوں، کانوں، جگر، اعصابی نظام، معدے، گردے اور دماغ سمیت جسم کے تمام اعضاءسے ربط رکھتے ہیں اور طبی ماہرین کے مطابق پاﺅں میں تحریک پیدا کرنے سے سارے جسم پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ الیکٹریکل شعاعوں کا اثر زائل کرنا بھارت کے معروف کنسلٹنٹ نیچروپیتھی ڈاکٹر انجالی شرما کہتے ہیں کہ نیچروپیتھی کے ذریعے علاج میں 5 اقسام کے قدرتی علاج شامل ہیں اور مقناطیسی صلاحیت رکھنے کے باعث زمین ان میں سے ایک اہم عنصر ہے۔ اور یوں جب ہم زمین پر ننگے پاﺅں چلتے ہیں تو ہم مکمل طور پر زمین کے مقناطیسی نظام سے جڑ جاتے ہیں، اور اس جڑاﺅ کی وجہ سے ہمارے جسم کے الیکٹریکل اور میگنیٹک شعاعوں کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔ سورج کی دھوپ جذب کرنا صبح کے وقت گھاس پر چلنے کے دوران ہم اپنے جسم کو جو سب سے بڑا تحفہ دیتے ہیں وہ سورج کی روشنی میں شامل توانائی ہوتی ہے۔ ڈاکر شرما کے مطابق سورج کی روشنی جسمانی توانائی میں اضافہ اور بحالی کے لئے نہایت مفید ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی خاتمہ دور حاضر میں ہڈیوں اور جوڑوں کے امراض کی وجہ سے آج کروڑوں افراد پریشانی کا شکار ہیں، اور یہ پریشانی جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کے باعث لاحق ہوتی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جب ہم صبح سویرے سیر کرتے ہیں تو سورج کی روشنی جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کر دیتی ہے۔

ہم بلا واسطہ ہر سال تقریباً ایک کلوگرام حشرات اور کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں.امریکی ماہرین

نیو یارک: اکثر لوگ کیڑوں مکوڑوں کی اپنے پاس موجودگی سے بھی گھبراتے ہیں مگر غذائی امور کے ماہرین کاکہنا ہے کہ ہم بلا واسطہ ہر سال تقریباً ایک کلوگرام حشرات اور کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہیں کہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مطابق غذاﺅں کو کیڑوں مکوڑوں سے مکمل طور پر پاک رکھنا نا ممکن ہے اور یہی وجہ ہیں کہ اس کی جاری کردہ گائیڈ کے مطابق پاستے جیسی غذا 225 گرام میں حشرات کے 225 ٹکڑے یا اعضاءشامل ہو جائیں تو کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔اسی طرح کشمکش کے ایک کپ میں پھلوں پر بھنبھنانے والی مکھی کے33 انڈوں کی اجازت ہے لیکن حقیقت میں ہماری خوراک میں کیڑوں مکوڑوں اور حشرات کی مقدارکے بارے میں کچھ واضح نہیں کہاجاسکتا۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی فود اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ 2050ءتک انسانی آبادی نو ارب تک ہوجائے گی اور اس کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے حشرات کو استعمال کرنا ضروری ہو گا ۔

با ل گرنے سے بچانے کے آسان طریقے۔

کراچی: بالوں کا گرنا ایک عام سا مسئلہ بن چکا ہے اور اس کے تدارک کے لئے ہم کئی طرح کے ٹوٹکے آزماتے ہیںلیکن کبھی کامیابی اور کبھی ناکامی ہوتی ہے۔اگر ناکامی مستقل رہے تو بات گنجے پن تک جا پہنچتی ہے اور بیٹھے بیٹھائے زندگی میں کئی طرح کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔لیکن اگر تھوڑی سی احتیاط کر لی جائے تو بڑی پریشانی سے بچا جا سکتا ہے۔مثال ک طور پر اگر ایسی غذاﺅں کا استعمال کیا جائے جن سے بالوں کو فائدہ ہو توآپ گنجے پن سے بچ سکتے ہیں۔ آئیے آپ کو تین ایسی آسان غذائیں بتاتے ہیں جن کے استعمال سے آپ اس مسئلے سے نجات پا لیں گے۔ مچھلی سولمن اور وتونا مچھلی میں اومیگا تھری کی بھاری مقدار موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے آپ کے بال توانارہیں گے۔زیادہ سے زیادہ مچھلی کھانے سے آپ کے بال گرنا نہ صرف کم ہوجائیں گے بلکہ نئے بال بھی اگیںگے۔ سبز پتوں والی سبزیاں اپنے کھانوں میں ایسی سبزیاں استعمال کریں جو سبز ہوں جیسے پالک،میتھی وغیرہ۔ایسی سبزیوں میں وٹامن، منرلز،انٹی آکسیڈنٹ اور آئرن ہوتا ہے جو آپ کے بالوں کے لئے بہت ہی زیادہ مفید ہے۔آپ چاہیں تو سبز پتوں کا جوس نکال کر بھی پی سکتے ہیں۔ گاجریں انتہائی مزے کی اس سبزی میں ’بیٹا کیروٹین‘ہوتا ہے جس سے وٹامن اے بنتا ہے۔اگر آپ کو وٹامن اے کی کمی ہوجائے تو بال پتلے اور بے جان ہوجاتے ہیں لہذا گاجروں کا جوس آپ کے بالوں کو مضبوط و توانا کرے گا۔

پیاز بال بڑھانے کا نہایت عمدہ ذریعہ ہے.

نئی دہلی : آپ بالوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کی پریشانی کا شکار ہیں، تو اس کا نوٹس لیں لیکن اس کے لئے آپ کو بہت زیادہ پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں، اس مقصد کے حصول کے چند گھریلو نسخے درج ذیل ہیں ۔ پیاز کا رس پیاز صرف آپ کی خوراک کو ہی مزے دار نہیں بناتا بلکہ بال بڑھانے کا بھی نہایت عمدہ ذریعہ ہے، اس کے رس میں سلفر پایا جاتا ہے جو بالوں کی پرورش کے لئے نہایت ضروری ہے۔ دو سے چار پیازوں کا رس نکال کر 15منٹ سے ایک گھنٹہ کے لئے اس سے بالوں کی مالش کریں، بعدازاں بالوں کو شیمپو اور پانی سے دھو لیں۔ آلو کا رس پیاز کے ساتھ آلو کے رس کو ملا کر بالوں پر لگانے سے صحت مند بال جلد بڑے ہو جاتے ہیں۔ آلو کارس نہ صرف بالوں کو بڑھاتا ہے بلکہ یہ کسی بھی وجہ سے متاثر ہونے والے بالوں کا علاج بھی ہے۔ آلو وٹامن اے، بی اور سی سے بھرپور ہوتا ہے اور یہ وٹامنز جسم کی اہم ضرورت سمجھے جاتے ہیں۔ آلوﺅں کے رس میں انڈے کی زردی اور ایک چمچ شہد بھی بالوں پر استعمال کیاجاسکتاہے ۔ انڈہ انڈے میں وہ بنیادی پروٹین پایا جاتا ہے، جو بالوں کی بہترین نشوونما کے لئے لازم قرار دیا جاتا ہے۔ ایک سے دو انڈوں کی سفیدی، ایک، ایک چمچ زیتون کا تیل اور شہد ملا کر بالوں کی مالش کریں۔ سیب کا سرکہ سیب کا سرکہ اپنے اندر بالوں کے لئے بے شمار فوائد پنہاں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بالوں کے غدود یا تھیلیوں میں تحریک پیدا کرکے ان کے بڑھنے کی رفتار کو بڑھا دیتا ہے۔ میتھی صحت مند بالوں کی نشوونما اور بڑھوتری کے لئے میتھی کا استعمال زمانہ قدیم سے دنیا کے مختلف حصوں میں کیا جارہا ہے۔ دو سے تین چمچم میتھی کو پانی میں مکس کرکے بالوں پر لگائیں۔ آملہ، شیکاکائی ،ریٹھا برصغیر پاک و ہند میں بالوں کی بہترین نشوونما کے لئے آملہ کا استعمال کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اِن تینوں چیزوں کے تیل بیچنے والے گلیوں میں عام پھرتے ہیں۔ آملہ میں شامل وٹامن سی اور اینٹی آکسائیڈنٹ بالوں کے غدود کی پیدائش میں مدد فراہم کرنے کے علاوہ انہیں خراب ہونے سے بھی بچاتا ہے۔

Google Analytics Alternative