صحت

مچھر دیگر افراد کو چھوڑ کر خاص طور پر آپ کو ہی کیوں کاٹتے ہیں۔۔۔؟

کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ ہر جگہ مچھر دیگر افراد کو چھوڑ کر خاص طور پر آپ کو ہی کاٹتے ہیں ؟

تو اس کی وجہ ہوسکتا ہے آپ کے اندر ہی چھپی ہو۔

جی ہاں عام طور پر مچھر اپنے شکار (آپ) کا انتخاب کچھ عناصر کی بناءپر کرتے ہیں اور طبی سائنس نے ان میں سے کچھ کو دریافت کیا ہے جو درج ذیل ہیں۔

بو

کچھ افراد کے جسم مچھروں کو اپنی جانب کھینچنے والی بو پیدا کرتے ہیں اور بھی یہ واضح نہیں کہ ایسا کیسے ہوتا ہے تاہم ایک تحقیق کے مطابق جسمانی بو بھی مچھروں کو اپنی جانب کھینچنے والے عناصر میں سے ایک ہے۔

حمل

ایک  تحقیق کے مطابق حاملہ خواتین کا جسمانی درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ مچھروں کے لیے پرکشش ہوجاتی ہیں، خاص طور پر ملیریا کا مچھر ان کو زیادہ کاٹتا ہے۔

خون کا گروپ

ایک تحقیق کے مطابق بلڈ گروپ O مچھروں کو دیگر بلڈ گروپس کے مقابلے میں زیادہ اپنی جانب کھینچتا ہے۔

الکحل

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ الکحل کے استعمال کرنے والے افراد کو مچھر اپنے شکار کے لیے زیادہ پسند کرتے ہیں۔

جلد میں چھپے بیکٹریا

جلد میں رہنے والے بیکٹریا جسمانی بو کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جن افراد کی جلد میں زیادہ مختلف اقسام کے بیکٹریا موجود ہو وہ مچھروں کے حملوں سے کافی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔

ورزش

جب آپ ورزش کرتے ہیں تو جسم میں lactic acidپیدا ہوتا ہے جو کہ مچھروں کو اپنی جانب کھینچنے والا عنصر ہوتا ہے

خیال رہے کہ دنیا بھر میں مچھروں کی 3 ہزار سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سے کچھ جان لیوا امراض جیسے ملیریا، زرد بخار، ڈینگی وغیرہ کو انسانوں میں منتقل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہر سال سات لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

کھاناکھانے کے فوراََ بعد چندعمل جو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں

لوگ کھاناکھانے کے بعد اُس سے ٹھیک طرح ہضم ہی نہیں کرتے اور کھاناکھانے کے فوراََ بعد چندعمل ایسے کر گزرتے ہیں جوہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ہمیں ایساہرگز نہیں کرنا چاہیے لیکن بدقسمتی سے یہ خطرناک عمل ہماری روز مرہ زندگی میں ایسے شامل ہوچکے ہیں۔ ان عادات کی وجہ سے ہم متعدد بیماریوں کاشکار بھی ہورہے ہوتے ہیں لیکن ہم ان پرغور ہی نہیں کرتے چند ایسے ہی عمل یاعادات کاذکرذیل میں کیاجارہاہے۔ جنہیں اختیار کرنے سے ماہرین سختی کے ساتھ منع کرتے ہیں۔
تمباکونوشی نہ کریں
سگریٹ نوش افراد کھانا کھاتے ساتھ ہی سگریٹ اس خیال سے پیتے ہیں کہ اس سے اُن کا کھاناہضم ہو جائے گالیکن ماہرین کاکہناہے کہ کھانے کے فوراََ بعد سگریٹ پینا10سگریٹ پینے کے برابر ہوتاہے۔ اس سے کینسر جیسے مہلک مرض کے لاحق ہونے کاخطرہ بھی بڑھ جاتاہے۔

چائے نہ پئیں
چائے کی پتوں میں بہت زیادہ تیزابیت پائی جاتی ہے اسی وجہ سے ماہرین کھانے کے فوراََ چائے پینے سے منع کرتے ہیں۔ کھانے کے فوراََ بعد چائے پینے سے کھاناہضم ہونے میں مشکل پیش آتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ کھاناکھانے کے کم سے کم ایک گھنٹے بعد چائے پی جائے۔

بیلٹ کوڈھیلامت کیجئے
عام طور پر دیکھا گیاہے کہ جب لوگ کھانے بیٹھتے ہیں تو وہ اپنی بیلٹ ڈھیلی کرلیتے ہیں کیونکہ وہ اس طرح خود کوآرام دہ تصور کرتے ہیں۔ لیکن یہ ایک غلط عمل ہے اور اس عمل کوغلط اس لیے نہیں قراردیاجارہاہے کہ اس سے آنتیں مڑجاتی ہیں یاپھران میں کوئی رکاوٹ پیداہوتی ہے بلکہ اسے غلط اس لیے قرار دیاجاتا ہے کہ یوں آپ حدسے زیادہ کھاناکھاتے ہیں جوکہ آپ کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ بہتر یہی ہے کہ بیلٹ کوڈھیلا کیے بغیراس حدتک کھاناکھائیے جب تک آپ خود کوآرام دہ محسوس کرتے ہیں

فوراََ پھل نہ کھائیں
جب آپ کھانے کے فوراََ بعد پھل کھاتے ہیں تو وہ پھل کھانے ساتھ مل کرمعدے میں پھنس جاتاہے اور یوں وہ وقت پر آنتوں تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس صورتحال میں معدے میں موجود یہ دونوں غذائیں خراب ہوتی ہیں جوصحت کی خرابی کا باعث بنتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کھاناکھانے کے تقریباََ ایک گھنٹے بعد پھل کھانا چاہیے یاپھرکھاناکھانے سے پہلے۔ زیادہ بہتریہ ہے کہ پھل صبح سویرے کھایاجائے جب معدہ خالی ہو۔

نہانا نقصان دہ ہے
موسم گرمامیں پسینہ زیادہ آنے کی وجہ سے لوگ دن میں دوسے زائد مرتبہ بھی غسل بھی کرتے ہیں۔ تاہم سردیوں ایک ادھ مرتبہ ہی لوگ غسل کرتے ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردارکیاہے کہ کچھ حالات میں نہانا صحت کے لیے خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ ان میں ایک خطرناک عمل کھاناکھانے کے فوراََ بعد نہانا بھی ہے کھانے کے فوراََ بعدنہانے سے ہاتھوں، پاؤں اور باقی جسم میں خون کے بہاؤ میں اضافہ ہوتاہے جبکہ معدے کے اردگرد خون کے بہاؤمیں کمی واقع ہوتی ہے۔ اور اس وجہ سے عمل انہضام کانظام کمزور ہونے کاخدشہ پیداہوجاتاہے۔

فوراََ نہ سوئیں
کھاناکھانے کے بعد اسے ہضم ہونے کے لیے کچھ وقت درکارہوتاہے۔ اس صورتحال میں انسان کاجسم حرکت میں رہنا ضروری ہے۔ کھاناکھانے کے فوراََ بعد سوجانے سے کھانامناسب طور پر ہضم نہیں پاتا جس کی وجہ سے ہماری آنتوں میں انفیکشن ہوجاتاہے جوکہ متعدد بیماریوں کاسبب بنتاہے۔

چہل قدمی نہ کیجئے
عام طور پرکہاجاتاہے کہ کھانے کے بعد تھوڑی چہل قدمی کرلینی چاہیے کیونکہ اس سے کھانا ہضم ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ چہل قدمی فوراََ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ماہرین کے مطابق اس عمل سے نظام ہضم میں خرابی واقع ہوسکتی ہے۔ تاہم کھانے کھانے کے آدھے گھنٹے بعد چہل قدمی کرناصحت کے لیے ضرور فائدہ مند ہے۔ یہ چہل قدمی 20سے 30منٹ تک کی ہونی چاہیے۔ ضرورت سے زیادہ چہل قدمی سے آپ کا پیٹ دوبارہ خالی ہوجائے گا۔

جگر کے امراض سے بچاؤ کے لیے Coffee کا استعمال

روزانہ دو کپ کافی کا استعمال جگر کے امراض سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

ساﺅتھ ہیمپٹن یونیورسٹی (University of Southampton) کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ روزانہ کافی کا استعمال جگر کے سکڑنے اور داغ دار ہونے کا خطرہ 44 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران چھ ممالک میں ہونے والی 9 طبی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا جس میں پانچ لاکھ مرد و خواتین کا ڈیٹا دیا گیا تھا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ روزانہ 2 کپ کافی کا استعمال جگر کے سکڑنے یا اس سے موت کا خطرہ کم کردیتا ہے۔

عام طور پر جگر سکڑنے یا داغ دار ہونے کا خطرہ ہیپاٹائٹس سی کے انفیکشن یا الکحل کے استعمال کے باعث ہوتا ہے اور یہ کینسر اور لیور فیلیئر کی طرح جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے جس کے باعث سالانہ 10 لاکھ سے زائد اموات ہوتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ ادویات کے برعکس کافی حفاظت فراہم کرنے والا مشروب ہے اور تحقیق کے نتائج جگر کے امراض کے حوالے سے کافی اہم ہیں۔ تحقیق کے مطابق کافی میں ایک ہزار سے زائد اجزا ہوتے ہیں جن میں سے بیشتر حیاتیاتی طور پر متحرک اور انسانی صحت پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔

قبض سے نجات دلانے والے انتہائی آسان اور کارگر نسخے

اکثر افراد قبض کی بیماری کا سامنا کرتے ہیں اور انہیں اپنی زندگی اس کی وجہ سے بہت مشکل محسوس ہونے لگتی ہے۔

اس بیماری سے جلد ریلیف کے لیے ان قدرتی طریقہ علاج کو آزما کر دیکھیں۔

پودینے یا ادرک کی چائے

پودینہ اور ادرک دونوں معدے سے متعلق متعدد شکایات کے لیے آزمائے ہوئے گھریلو نسخے ہیں۔ پودینے میں موجود مینتھول غذائی نالی کے پٹھوں کو ریلکس کرنے میں مدد دیتی ہے جبکہ ادرک ایک گرم جڑی بوٹی ہے جو جسم کے اندر حرارت بڑھاتی ہے اور کھانا جلد ہضم ہوجاتا ہے۔

فائبر

فائبر کسی پائپ کلینر کی طرح کام کرتے ہوئے آپ کی غذائی نالی میں موجود غذا اور فضلے کے اجزاءکی صفائی کرتا ہے، بیج، دالوں، دلیہ، باداموں، متعدد سبزیوں اور خشک میوہ جات میں فائبر کی مقدار کافی ہوتی ہے اور روزانہ 20 سے 35 گرام فائبر کا استعمال قبض کی شکایت میں کمی لانے کے لیے مددگار ثابت ہوسکتا ہے، تاہم بہت زیادہ فائبر جسم کا حصہ بنانے پر پانی کا استعمال بھی زیادہ کرنا چاہئے۔

صحت بخش چربی

زیتون، نٹس وغیرہ صحت بخش چربی یا فیٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو انتڑیوں کے نظام میں بہتری لاکر قبض کی شکایت کم کرتے ہیں۔

لیموں پانی

لیموں پانی میں شامل سیٹرک ایسڈ غذائی نظام میں تحریک کا کام کرتا ہے اور جسم میں موجود زہریلے مواد کو باہر نکالنے میں مدد دیتا ہے۔ ہر صبح ایک گلاس لیموں پانی یا لیموں کو چائے میں شامل کرکے استعمال کریں جس سے نظام ہاضمہ میں بہتری آئے گی۔

شیرہ

سونے سے قبل ایک چائے کا چمچ شیرے کا استعمال صبح کے وقت قبض سے ریلیف میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس شیرے میں کافی مقدار میں وٹامنز اور منرلز خاص طور پر میگنیشم شامل ہوتے ہیں جو اس بیماری میں کمی لانے میں مدد دیتے ہیں۔

کافی

کافی آنتوں میں تحریک پیدا کرکے قبض کا توڑ کرتی ہے، دیگر گرم مشروبات بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں جیسے ہربل ٹی یا ایک کپ گرم پانی جس میں کچھ مقدار میں لیموں کا عرق یا شہد شامل ہو۔

کشمش

فائبر سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ کشمش میں ٹارٹارک ایسڈ بھی شامل ہوتا ہے جو ہلکے جلاب جیسا اثر دکھاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق آدھا اونس کشمش روزانہ کا استعمال کرنے والے افراد کا نظام ہاضمہ دوگنا تیزی سے کام کرتا ہے۔ چیری اور خوبانی بھی فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں اور قبض کو زوردار ضرب لگاتی ہیں۔

آلوچہ

یہ فائبر سے بھرپور پھل ایسا گھریلو علاج ہے جو نظام ہاضمہ کو پھر سے ٹریک پر لاتا ہے۔ تین آلوچے تین گرام فائبر جسم کا حصہ بناتے ہیں جبکہ ان میں ایک جز ایسا بھی پایا جاتا ہے جو انٹریوں کو حرکت میں لاتا ہے۔

جسم کو حرکت دیں

روزانہ 15 منٹ تک چہل قدمی سے خوراک زیادہ تیزی سے ہضم ہوتا ہے۔ اگر زیادہ کھانے کے بعد آپ غنودگی محسوس کررہے ہو تو لیٹنے کی بجائے چہل قدمی کی کوش کریں، جس سے ہضم کا عمل تیز ہوجائے گا اور قبض کی شکایت سے بچ جائیں گے۔

کیسٹر آئل

قبض کا یہ گھریلو نسخہ برسوں سے استعمال ہورہا ہے۔ ایک سے دو چائے کے چمچ کیسٹر آئل کو خالی پیٹ استعمال کریں اور آٹھ گھنٹوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ درحقیقت اس تیل میں موجود ایک جز آپ کے جسم کی چھوٹی بڑی انتڑیوں کو حرکت میں لاکر قبض سے نجات دلاتا ہے۔

 

انسانی جلد کے بارے میں دلچسب حقائق

اپنی جلد کے بارے میں درج ذیل حقائق آپ کو دنگ کرکے رکھ دیں گے۔

اگر آپ جسم پر موجود جلد کو کسی طرح اتار کر چادر کی طرح پھیلائیں تو یہ 20 اسکوائر فٹ تک کے حصے کو کور کرلے گی۔

یہ انسانی جسم کا سب سے بڑا عضو ہے جو مجموعی جسمانی وزن کے 15 فیصد حصے کے برابر ہوتا ہے۔

میلانن نامی ہارمون یا مادہ آپ کے جلد اور آنکھوں کی رنگت کو کنٹرول کرتا ہے ۔

انسانی جلد ہر 28 دن بعد خود کو نیا یا تجدید کرتی ہے۔

آپ کے گھر میں پائی جانے والی مٹی کا بڑا حصہ درحقیقت مردہ جلدی خلیات پر مشتمل ہوتا ہے۔

جسم میں پائے جانے والا ایک پروٹین کیراٹین آپ کی جلد کو واٹر پروف بناتا ہے۔

یہ سورج کی روشنی میں اپنے لیے خود وٹامن ڈی تیار کرتی ہے۔

جلد تین تہوں پر مشتمل ہوتی ہے اور اوپری تہہ میں 18 سے 23 چھوٹی تہیں ہوتی ہیں جو کہ مردہ جلدی خلیات کی ہوتی ہیں۔

جلد کے اندر 11 میل لمبی خون کی شریانیں سمائی ہوئی ہیں۔

جلد پر موجود روئیں گرم ہوا کو جلد کے پاس رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

آپ کی جلد لاکھوں کروڑوں آرگنزم (عضویہ) کا گھر ہے اور ایک ہزار قسم کے بیکٹریا بھی اس میں رہتے ہیں۔

گرم پانی کے حیرت انگیز فوائد

اسلام آباد : چین کے شہری ٹھنڈا پانی پینے کے بجائے گرم پانی پینے کو ترجیح دیتے ہیں دیکھنے میں یہ ایک عجیب روایت لگتی ہے لیکن اگر اس کے طبی فوائد دیکھیں تو آپ بھی گرم پانی پینے کیلئے دوڑ پڑیں گے.

وزن میں کمی

گرم پانی پینے سے آپ کے جسم کا درجہ حرارت بلند ہوگا جس سے میٹا بولزم ریٹ بڑھ جائے گا اور آپ باآسانی وزن کم کر پائیں گے

معدے کیلئے سکون

گرم پانی پینے سے بھوک میں کمی ہوتی ہے اور کم کھانا آپ کے معدے کیلئے بہت مفید ثابت ہوتا ہے اس کے ساتھ ہی ہماری آنتیں بھی صاف ہوجاتی ہیں۔

زہریلے مادوں کا اخراج

جسم سے زیریلے مادوں کا اخراج ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گرم پانی جسم سے زہریلے مادوں کو پاخانہ اور پیشاب کے ذریعے خارج کرتا ہے جب آپ گرم پانی پیتے ہیں تو ایسے اجزائ جو حل نہیں ہوپاتے وہ بھی حل ہوجاتے ہیں اورہم زیرلے مادوں سے جان چھڑا لیتے ہیں۔

منہ کھلا رکھ کر سونا دانتوں کے لیے تباہ کن ثابت

اوٹاگو یونیورسٹی کی تھقیق میں بتایا گیا ہے کہ منہ کھلا رکھ کر سونا دانتوں کے لیے اتنا ہی تباہ کن ثابت ہوتا ہے جتنا سونے کے لیے جانے سے قبل میٹھے مشروبات کا استعمال۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند کے دوران منہ کھلا رہنے وہ خشک ہوجاتا ہے جس سے لعاب دہن کے حفاظتی اثرات ختم ہوجاتے ہیں جو کہ ان بیکٹریا کا خاتمے کرتے ہیں جو تیزابیت پیدا کرتے ہیں۔

رات کے وقت تیزابیت کی سطح بڑھنے سے دانتوں کی فرسودگی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

محققین کا ماننا ہے کہ نتائج سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ منہ کھول کر سونے کی عادت دانتوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔

عام طور پر نزلے کے شکار افراد، دمہ یا خراٹے لینے والے منہ کھول کر سوتے ہیں اور وہ ہی اس خطرے سے سب سے زیادہ دوچار ہوتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ دوران نیند ایک تہائی مرد منہ کھول کر سانس لیتے ہیں جبکہ خواتین میں یہ شرح صرف 5 فیصد تھی۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ منہ سے سانس لینا دانتوں کے امراض کی بڑی وجہ ہوتی ہے۔

چہرے کی جلد کی خوبصورتی کیلےچند حیرت انگیز جڑی بوٹیاں

انسان چہرے کی جلد کی خوبصورتی کے لیے مہنگی ترین کریمیں اور دیگر پراڈکٹس استعمال کرتا ہے لیکن ان میں موجود کیمیکل جلد پر کئی مضر اثرات مرتب کرتے ہیں لیکن ماہرین جلد کا کہنا ہے کہ اگر ان اجزا کو توجہ اور تسلسل کے ساتھ استعمال کیا جائے تو چہرہ دلکش اور جاذب نظر ہو جاتا ہے۔

ملتانی مٹی

اگرچہ کی قسم کی مٹی کو لوگ چہرے کے لیے استعمال کرتے ہیں تاہم ان میں ملتانی مٹی جلد کی صفائی اور چمک کے لیے بہترین ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملتانی مٹی کو پانی، عرق گلاب، گھیگوار، دہی یا پھر دودھ میں ملا کر استعمال کیا جائے تو اس کے نتائج زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ ملتانی مٹی جلد سے زہریلے مادوں کو نکال کر خلیوں کو نئی زندگی دے دیتی ہے اور چہرے پر دانوں کو بھی روکتی ہے۔

دودھ

دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر کلینزرز دودھ سے ہی بنائے جاتے ہیں یا پھر ان میں دودھ اہم ترین جز ہوتا ہے۔ دودھ نہ صرف چہرے کو صاف کرنے بلکہ چہرے کو چمک دینے کی خوبیاں بھی رکھتا ہے۔ دودھ میں موجود چکنائی چہرے پر نمی برقرار رکھتی ہے جس سے چہرہ نرم اور صاف رہتا ہے.

عرق گلاب

عرق گلاب پھولوں میں سے ایک انتہائی کارآمد پھول ہے جس میں جلد کو خوبصورتی دینے والی کئی خوبیاں موجود ہیں جس میں چہرے کو صاف کرنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہے۔ چند قطرے عرق گلاب کو روئی کے ٹکڑے پر ڈال کر اس سے اپنے چہرے کو روزانہ سونے سے قبل صاف کریں اور یہی عمل صبح بھی دہرائیں۔

چنے کا آٹا

چنے آٹا زمانہ قدیم سے چہرے کی خوبصورتی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ چنے کے آٹا کو عرق گلاب میں ملا کر چہرے پر فیس ماسک کی طرح لگا لیں جبکہ اس سے چہرے پر مساج بھی کیا جا سکتا ہے

Google Analytics Alternative