صحت

چربی سے بھرپور غذاﺅں کی عادت دماغ کو نقصان پہنچاتی ہے،طبی ماہرین

یہ انتباہ ایک نئی امریکی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔جارجیا ریجنٹس یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چربی سے بھرپور غذاﺅں کی عادت دماغ کو نقصان پہنچاتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بہت زیادہ چربی والی غذا دماغ کے اس حصے کو تباہ کرتی ہے جو سیکھنے، جذبات اور یاداشت سے متعلق ہوتا ہے۔اس تحقیق کے دوران دو گروپس بنائے گئے جن میں سے ایک کو کم چربی جبکہ دوسرے کو زیادہ جنک فوڈ استعمال کرایا گیا۔چار اور آٹھ ہفتے دونوں گروپس کا جائزہ لیا گیا تو جنک فوڈ استعمال کرنے والے افراد کا جسمانی وزن بڑھ گیا۔اسی طرح بارہ ہفتے بعد معلوم ہوا کہ وہ افراد موٹاپے کا شکار ہوچکے ہیں اور ان کے دماغ کے اہم حصے کو نقصان پہنچنے لگا ہے۔طبی ٹیم کے مطابق جسم میں بہت زیادہ چربی سے سوجن پیدا ہوتی ہے اور اس سے وہ خلیات متاثر ہوتے ہیں جو دماغ میں مضر صحت چیزوں کو صاف کرنے کا کام کرتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب موٹاپا بڑھتا ہے تو یہ خلیات کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی جگہ رک کر دماغی حصے کو کھانا شروع کردیتے ہیں۔

سانپ آپ کو ڈس تو کیا کرنا چاہئے؟مفید معلومات

ہر کوئی جانتا ہے کہ سانپ انسان دشمن جانور ہے، جس سے بچاو بہرحال نہایت ضروری ہے، تاہم اگر زندگی میں کبھی یہ آپ کو ڈس لے تو اس کی علامات کچھ یوں ہو سکتی ہیں۔ جسم کے کسی حصہ پر ایک یا دو بہت چھوٹے سوراخ جو شدید درد کا سبب بن رہے ہوں اور مسلسل متلی، قے اور بے ہوشی کا طاری ہونا۔اسباب: زہریلے سانپ عموماً دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک قسم گڑھا سانپ ہے، جس میں ٹٹریا، تامڑا اورقطنی ناگ وغیرہ شامل ہے۔اس سانپ کے سر پر دونوں جانب گہرے گڑھے ہوتے ہیں، اسی لئے یہ گڑھا سانپ کہلاتا ہے۔ یہ سانپ اچانک آگے بڑھ کر ڈنک مارتا ہے اور پ±ھرتی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور زہر خون میں پھیل جاتا ہے۔ دوسری قسم کورل سنیک یا مارِمرجان ہے جو چھلانگ نہیں لگاتا۔ یہ اپنے دانتوں کو کچھ دیر گوشت میں پیوست رکھتے ہوئے کچھ لمحے چباتا ہے۔ اسی دوران یہ اپنا زہر اعصاب میں منتقل کر دیتا ہے۔سانپ کا ڈنک اس وقت زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے، جب اس کا زہر دل تک پہنچنے کے بعد خون اور اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔اگر بروقت اس زہر کا تدارک نہ کیا جائے تویہ مہلک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لہذا یہاں ہم آپ کو سانپ کے ڈسنے کی صورت میں حفاظتی اقدامات کی چند تراکیب بتانے جا رہے ہیں۔سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کی دستی چوسنے والے آلے کو زخم پر رکھا جائے تاکہ وہ زہر کو جوس کر باہر نکال دے۔ یہ عمل آدھ سے ایک گھنٹہ جاری رکھیں۔ مار مرجان نامی سانپ کے علاوہ سب سانپوں کے زہر کے تدارک کے لئے یہ طریقہ مفید ہے۔ اگر زہر کو چوس کر باہر نکالنے کا کوئی آلہ دستیاب نہ ہو تو کوئی دوسرا شخص اسے چوسے اور خون کو تھوکتا رہے لیکن خیال رہے کے خون چوسنے والے شخص کے منہ میں کوئی زخم وغیرہ نہ ہو۔ زہرکھینچنے کے لئے گرم بوتل بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ایک اور طریقہ یہ ہے کہ پلاسٹک سرنج کو کاٹ کراس کا اگلا حصہ زخم پر لگایا جائے اور پھر زہر کو کھینچا جائے۔ اس دوران لہو روک کا استعمال بھی کرنا چاہیے۔ایک رسی یا پٹی زور سے زخم کے دونوں طرف باندھ دی جائے تاکہ زہر پورے جسم میں نہ پھیل سکے۔اگر ڈنک کے دو سوراخوں کے درمیان چیرہ لگایا جائے تو زیادہ مقدار میں زہریلا خون چوسا جا سکتا ہے۔ سانپ کے ڈسے ہوئے شخص کو جوشاندہ ہر گز نہیں دینا چاہیے تاہم زہر مار تریاق کا استعمال مفید ہے۔ وٹامن سی کی زیادہ خوراک بھی زندگی کو بچانے میں کارگر ہو سکتی ہے۔ لکڑی کا پِسا ہواکوئلہ پانی میں مکس کر کے استعمال کرنا چاہیے۔ ہر آدھے گلاس میں ایک چائے کاچمچ کوئلہ ڈال کر ہر 15 منٹ بعد متاثرہ شخص کو پلایا جائے۔ اس سارے وقت میں کچھ بھی کھانے پینے سے گریز کیا جانا چاہیے۔اگر کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود درد کی شدت برقرار رہے تو کیروسین آئل (مٹی کا تیل)کپڑے سے لگا کر زخم پر رکھا جائے، یہ زہر کے اثر کو کم کرتا ہے۔اس کے علاوہ زخم پر کٹا ہوا یا کچلا ہوا پیاز لگانے سے بھی درد کی شدت کم کی جا سکتی ہے، پیاز کو زخم پر لگائے رکھیں تاوقت یہ کہ درد ختم ہوجائے۔

داد جلد پر ہونے والا انفیکشن‘ نجات پانے کے 9گھریلو ٹوٹکے

داد جلد پر ہونے والا انفیکشن ہوتا ہے جس سے جلد کے کسی خاص حصے پر ایک سرخ رنگ کا دائرہ بن جاتا ہے۔ داد خطرناک تو نہیں ہوتا البتہ اسمیں ہونے والی خارش انسان کو بے چین کردیتی ہے۔ یہ ایک پھیلنے والا مرض ہے اور اسے ٹھیک ہونے میں وقت لگ جاتا ہے۔ داد عام طور پر پیروں، ٹانگوں، ناخنوں، سر یا ہاتھوں میں بن جاتے ہیں جس کی وجہ پسینا ہوتا ہے۔ یہ بچوں اور بڑوں دونوں کو ہو سکتا ہے۔ طبی زبان میں اسے ڈرماٹوفائٹوسس کہتے ہیں۔ اس کی وجہ کسی متاثرہ فرد کی جلد سے جلد ٹکرانا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ پالتو جانوروں سے بھی لگ سکتا ہے جیسے کتے، بلی، بکرے اور گھوڑے وغیرہ۔بعض اوقات ایسے پول میں نہانے سے جو زیادہ لوگوں کے استعمال میں ہو یہ انفیکشن جسم میں منتقل ہو جاتاہے۔ یہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ جگہوں پر بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی علامات میں خارش، کسی جگہ بالوں کا غائب ہوجانا، جلد سخت اور کھردری ہوجانا، پس پڑ جانا یا بخار وغیرہ ہو نا شامل ہیں۔ اگر داد بڑھ جائے تو جلد پر جگہ جگہ چھوٹے بڑے سرخ دائرے نمایاں ہونے لگتے ہیں۔
گھر بیٹھے بھی اس تکلیف سے چھٹکاراممکن ہے۔ کچن میں پائی جانے والی عام چیزوں سے داد اور اس کے باعث ہونے والی خارش کو دور کیا جا سکتا ہے۔ داد کے علاج کے نو گھریلو ٹوٹکے مندرجہ ذیل ہیں:
ٹی ٹری آئل
یہ داد سے نجات پانے کا ایک کافی پرانا اور آزمودہ نسخہ ہے۔ ٹی ٹری آئل میں برابر کی مقدار میں پانی شامل کرلیں۔ اس سیال کو داد پر دن میں دو بار لگائیں۔ کچھ ہفتوں میں داد ختم ہوجائے گا۔ ٹی ٹری آئل ایک بہترین اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل ایجنٹ ہے۔ داد کے علاوہ یہ ہلکی نوعیت کی چوٹ کو سہی کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
سیب کا سرکہ
ایپل سائڈر سرکہ بہترین اینٹی بیکٹیریل ہے۔ اسے روئی میں بھگو کر داد پر ہلکے ہلکے لگائیں۔ اسے تین روزتک دن میں دو سے تین مرتبہ کریں۔
لہسن
لہسن داد سے نجات حاصل کرنے کے لیے بہترین ہے۔ دو تین لہسن کے جوئے پیس لیں اسے متاثرہ جگہ پر لگائیں اور کسی کپڑے سے پٹی کرلیں۔ اسے رات بھر یا پورا دن لگا رہنے دیں۔ اس کی اینٹی سیپٹک خصوصیات داد کا باعث بننے والے انفیکشن کو ختم کردیں گی۔
نمک اور سرکہ
سرکے میں تھوڑا سا نمک شامل کریں۔ اس آمیزے کو داد پر لگا کر پانچ منٹ کے لیے چھوڑ دیں پھر ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔ اس ٹوٹکے سے ایک ہفتے میں داد دور ہو جائے گا۔
کچا پپیتا
ایک کچا پپیتا کاٹ لیں اسے داد کی جگہ پر ہلکے ہلکے ملیں۔ کچے پپیتے میں موجود غذائی اجزا انفیکشن کو ٹھیک کر دیتے ہیں۔

ہلدی
ہلدی کا رس متاثرہ جلد پر لگائیں۔ یہ عرق آپ ہلدی کو پانی میں مکس کرکے بنا سکتے ہیں۔ ہلدی ایک بہترین اینٹی بائیو ٹک ہے۔ یہ نسخہ بچوں کے لیے بے حد مفید ہے۔

لیمن گراس ٹی
یہ چائے دن میں تین بار پئیں۔ اس سے داد کافی حد تک سہی ہوجائے گا۔ آپ اس کے استعمال شدہ گیلے ٹی بیگ بھی داد کی جگہ پر لگا سکتے ہیں
تلسی کے پتے
تلسی کے پتے پیس کر اس کا عرق داد والی جگہ پر لگائیں۔ یہ عمل دن میں دو سے تین بار دہرائیں اس وقت تک جب تک داد پوری طرح سے ٹھیک نہ ہو جائے۔
سبزیوں کا جوس
تین سو ملی لیٹر گاجر کا جوس دو سو ملی لیٹر پالک کے جوس میں ملائیں۔ اس جوس کو فائدہ ہوجانے تک روزانہ پئیں۔

دنیا کی پہلی عمر بڑھنے کے عمل کو روکنے والی دوا

دنیا کی پہلی عمر بڑھنے کے عمل کو روکنے والی دوا کو اگلے برس انسانوں پر آزمایا جائے گا تاکہ الزائمر اور پارکنسن جیسے امراض پر اس کے اثرات کو جانچا جاسکے۔محققین کا ماننا ہے کہ اس دوا کی بدولت پر وہ ممکنہ طور پر لوگوں کو بوڑھا ہونے سے روک سکیں گے اور اچھی صحت کے ساتھ 110 یا 120 سال کی عمر تک پہنچا ممکن ہوجائے گا۔اگرچہ سننے میں تو یہ کسی سائنس فکشن ناول کا خیال لگتا ہے مگر محققین پہلے ہی اپنے تجربات سے ثابت کرچکے ہیں کہ ذیابیطس کی دوا میٹ فورمین (metformin) جانوروں کی زندگیوں میں توسیع کرنے میں کامیاب رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکا کے محکمہ صحت فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس دوا کے انسانوں پر اثرات جانچنے کے لیے ٹیسٹوں کی اجازت دے دی ہے۔اگر یہ دوا کامیاب ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ 70 کی دہائی میں کھڑا فرد جسمانی طور پرکسی 50 سالہ شخص جیسا صحت مند ہوگا۔اس تجربے پر کیلیورنیا کی بیوک انسٹیوٹ فار ریسرچ آن ایجنگ کام کررہی ہے اور اس کے محققین کا کہنا ہے کہ اگر آپ عمر بڑھنے کے عمل کو ہدف بنائے اور اسے سست کردیں تو آپ تمام امراض کی نشوونما کو بھی سست کرسکتے ہیں اور یہ ایک انقلابی اقدام ثابت ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ ہر پہلو سے یہ ممکن لگا ہے اور اب اسے انسانوں پر بھی آزمایا جائے گا۔ بیس سال قبل تو عمر میں اضافہ ایک حیاتیاتی راز تھا مگر اب ہم اسے سمجھنے لگے ہیں۔اس دوا کے تجربات اگلے سال موسم سرما میں امریکا میں شروع ہوں گے اور 70 سے 80 سال کے تین ہزار ایسے افراد پر انہیں آزمایا جائے گا جو کینسر، امراض قلب اور ڈیمینشیا جیسے امراض کے شکار یا ان کے خطرے سے دوچار ہوں گے۔ محققین کو توقع ہے کہ دوا سے عمر بڑھنے کا عمل سست ہوگا اور امراض کے پھیلنا بھی رک جائے گا۔

سرخ گوشت کے زیادہ استعمال سے زندگی کو خطرہ

سرخ گوشت کا بہت زیادہ استعمال زندگی کے خطرہ بن جانے والے فالج کے حملے کا امکان بڑھا دیتا ہے۔یہ انتباہ جرمنی میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔وروزبرگ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سرخ گوشت میں پائے جانے والے پروٹین دماغ تک خون پہنچانے والی شریانوں کے بند ہونے کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔تحقیق کے مطابق جو لوگ سرخ گوشت کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ 47 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔تاہم محققین کا کہنا ہے کہ گائے یا بکرے کے گوشت کا استعمال ترک نہیں کرنا چاہئے تاہم اسے محدود ضرور دینا چاہئے اور خاص طور پر چربی سے پاک گوشت کو ترجیح دینی چاہئے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مرغی، سی فوڈ یا سبزیوں میں پائے جانے والے پروٹین سے ایسا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔تحقیق کے وران محققین نے 11 ہزار کے لگ بھگ درمیانی عمر کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا جن میں فالج کا باعث بننے والے دیگر عناصر جیسے ذیابیطس یا امراض قلب کا شکار نہیں تھے۔محققین کا کہنا ہے کہ جو لوگ کم پروٹین غذا میں استعمال کرتے ہیں ان میں موٹاپے یا کولیسٹرول بڑھنے کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔تحقیق میں یہ انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ پراسیس شدہ گوشت کا استعمال فالج کا خطرہ بہت زیادہ بڑھاتا ہے جبکہ اس سے شریانوں کے امراض کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے جو دل کی بیماریوں میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

درد کمر دور کرنے کے طریقے۔۔۔

دردِ کمر ایک عام عارضہ ہے اور بلا لحاظ عمر و پیشہ80فیصد لوگ اس مرض میں مبتلا رہتے ہیں اور اس مرض یا درد میں مبتلا شخص ہی اس کی حقیقی نوعیت، الجھن اور پریشانی کو سمجھ سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے لباس پہننا، اٹھنا، بیٹھنا اور بہت سے کام آزمائش اور مسئلہ بن جاتے ہیں اور اس معرکہ آرائی کے لیے دوسروں کے محتاج ہونے کے ساتھ ساتھ خودبے کارمحض ہوجاتے ہیں اور اگر نہ کرے یہ مرض درد کمر مستقل رہتا ہے تو وہ دوسروں پر بوجھ بن جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ لوگ اس سے کترانے لگتے ہیں یا کسی مستقل رکھوالے، ملازم یا نوکرانی کی ضرورت پڑتی ہے جو آپ کی اور آپ کی ضرورت کا خیال رکھ سکے۔ امریکا جیسا ملک بھی اس تکلیف دہ مرض میں مبتلا ہے اور وہاں کے شہری صرف جانچ پڑتال اور مختلف طبی معائنوں کی مد میں سالانہ پانچ بلین ڈالر کی رقم خرچ کرتے ہیں کمر کا درد کیوں ہوتا ہے۔ اس سوال کا جواب مشی گن یونیورسٹی کے ایک ماہر درد کے مطابق ہمارا طرز زندگی ہے۔ آج کے دور میں ہماری روزمرہ زندگی ساکت ہوتی جارہی ہے اور اس میں بے حرکتی کا عنصر بڑھتا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے جسم پھیلتا اور وزن میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے جسمانی بافت کمزور اور لچک سے عاری ہوتے جارہے ہیں۔ اس لیے ذرا سا بھی دباو¿، جھکاو یا جھٹکا برداشت نہیں کرپارہے ہیں۔کمر قدرتی انجینئرنگ کا ایک شاہ کار ہے یہ وہ مچانی ڈھانچا ہے جس پر سر( کھوپڑی) کندھے، پسلیاں اور پیڑ ھو استوار ہوتے ہیں اس ڈھانچے کے اندر اعصابی پٹھوں اور بافتوں کی لائنیں اور راستے بنے ہوتے ہیں اس ڈھانچے کے اندر پٹھوں کے علاوہ وریدوں کے وہ تار بھی بچھے ہوتے ہیں جو دماغ کو جسم کے باقی حصوں سے مربوط کرتے ہیں۔کمر اپنے وضع اور بناوٹ کے لحاظ سے بڑی حد تک لچک دار ہوتی ہے اس لیے رقاص اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے رقص کے دوران اپنی کمر کو کسی بھی جانب دو تہائی تک جھکا اور موڑ سکتے ہیں ان میں بعض بالکل دوہرے بھی ہو جاتے ہیں۔ کمر کے تمام حصے نفیس توازن میں ہوتے ہیں اس لیے کسی بھی جگہ معمولی سی خرابی یا عدم توازن کے سبب خرابی واقع ہوجاتی ہے۔ اس طرح ساری مشینری( نظام عضلات) متاثر ہوجاتے ہیں۔ اکثر کمر کے مسائل کی ابتدا بڑھوتری کے دور میں بھی ہوتا ہے اسی لیے اگر ایک ٹانگ دوسری سے ایک ، آدھ انچ بھی بڑی یا چھوٹی رہ جائے تو ریڑھ کے عضلات پر غیر مساوی دباو¿ بڑھ جاتا ہے اگرچہ ظاہری طور پر جسم میں کبھی نظر نہیں آتی لیکن اس غیر مساوی دباو¿ کے نتیجے میں جوڑوں کے گھٹیاوی درد کے نتیجے میں کمر کے مہرے کی درمیانی تہیں(Disc)انحطاط پذیر ہوجاتی ہیں۔دردِ کمر کے بے شماراسباب ہوتے ہیں۔ نامناسب جسمانی توازن ، جسمانی ساخت جسمانی انداز سے لے کر سرطان بھی درد کا ایک سبب ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اکثر عموماً ریڑھ کی ہڈی کا زیریں حصہ ہی درد کا مرکز بنتا ہے۔ درد کمر کے80فیصد مریضوں میں کام کی زیادتی یا بے کار بیٹھنا، ورزش نہ کرنا درد کا سبب ہوتا ہے۔ موچ آجانے کی صورت میں کمر کے عضلات تنگ ہوکر یا کھنچ کر سخت ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے جسم درد کی صورت میں اپنا رد عمل ظاہر کرتا اور ہمیں آگاہ کرتا ہے۔
درد کمر کا دوسرا سبب ریڑھ کی ہڈیوں کے مابین تہوں یا آنکڑوں( Disc) سرک جانا کہا جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ نہیںDiscیا آنکڑے سرکتے یا اپنی جگہ سے ڈھیلے نہیں ہوتے بلکہ شکستہ ہوجاتے ہیں اور بوجھ ، کھنچاو¿، تناو¿ برداشت نہ کرسکنے کے سبب تکلیف دینے لگتے ہیں یا پھر اوپر لگی جھلی کے پھٹ جانے کے سبب دکھنے لگتے ہیں بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ ریڑھ کی تہوںDiscکے شکستہ ہونے یا تہوں کی جھلی کے پھٹ جانے کی وجہ سے ریڑھ کے پٹھوں پر دباو¿ بڑھ جاتا ہے اور تکلیف دینے لگتا ہے۔درد کمر کا ایک سبب اپنی چپٹی ہڈیوں کے جوڑوں کا جگہ سے ہٹ جانا یا ریڑھ پر دباو¿ کا بڑھ جانا ہے واضح رہے یہ چپٹی ہڈیاں مہروں کے اوپر واقع ہوتی ہیں غرض یہ کہ چپٹی ہڈیوں کے جگہ چھوڑ دینے کے سبب ریڑھ کے عضلات دب کر متورم ہوجاتے ہیں اور تکلیف دینے لگتے ہیں۔درد کمر کا علاج بھی اسباب درد کی طرح کئی ہیں اور ہر معالج اپنے اپنے علم اور تجربے کی بنیاد، مختلف انداز سے کرتا ہے۔ عام طور پر ایکسرے سے مہروں کی اصل کیفیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس معائنے کے بعد اصل سبب سامنے آجاتے ہیں پھر مرض کا علاج شروع ہوتا ہے جیسے بستری آرام، دافع درد دوائیں مساج، پٹھوں کی تسکین کے لیے ورزشیں( فزیو تھراپی)، سینکائی اور جراحی وغیرہ۔اس کے باوجود یہ خدشہ اور احتمال رہتا ہے کہ یہ کہ ایک بارآرام ہوجانے کے بعد بھی یہ مسئلہ دوبارہ زیادہ شدت کے ساتھ نہ پیدا ہوجائے سو احتیاطی تدابیر ضروری ہیں جن پر عمل آپ کو دوبارہ بے آرامی سے بچائیں گے جیسے سخت ہموار بستر پر سونا، زیریں کمر کی ورزشیں، زیادہ وزن اور مٹاپے سے بچنا وغیرہ۔درد کمر کا ایک حل جراحی بھی ہے لیکن جراحی کو آخری چارکار سمجھنا چاہیے۔ عام طور پر بلا وجہ جراحی کر دی جاتی ہے۔ یہ بلاجواز مزید نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس قسم کی جراحی میں شق زدہ گدی (پھٹی ہوئی یا کمزور تہہ) کو نکال دیا جاتا ہے اور مریض تقریباً6ماہ کے بعد معمول کی زندگی گزارنے اور عام حرکات کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ آج کل ایک جدید علاج یہ ہے کہ کمر کے مہروں کی درمیانی جگہ کو کھینچ کر پھیلا دیا جاتا ہے جس سے متاثرہ پٹھے تکلیف دہ دباو¿ سے نجات پاجاتے ہیں۔ یہ تکنیک عام طور پر مریضوں میں کامیاب رہتی ہے۔

بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے آسان طر یقے

ہنگامہ خیز اور مصروف زندگی نے بلڈ پریشرکی زیادتی یعنی ہائبر ٹینشن کو معمول بنادیا ہے جسے خاموش قاتل مرض بھی کہا جاتا ہے۔ میز پر بیٹھ کر کام کرتے رہنا، غیرمتوازن خوراک اور ورزش کی کمی سے نوجوان نسل بھی بلڈ پریشر کے امراض کی شکار ہے اس کے لیے ڈاکٹر اور غذائی ماہرین 10 حیرت انگیز تجاویز پیش کرتے ہیں جن پر عمل کرکے بلڈ پریشر بلند ہونے کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ کیفین سے دور رہیں: کیفین کے مشروبات کو کم کرکے بلڈ پریشر کے خطرات کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ کافی، سافٹ ڈرنکس، چائے اور انرجی ڈرنکس سب مشروبات میں ہی کیفین موجود ہوتی ہے اس لیےاگر 3 کپ یعنی 500 ملی گرام کیفین استعمال کی جائے تو اس سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے جب کہ صبح پی جانے والی کیفین کے اثرات رات تک برقرار رہتے ہیں۔ چقندر کا رس: حالیہ دنوں میں چقندر کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں کیونکہ اس کا رس دل کو مضبوط کرتا ہے اور بلند فشارِ خون کو کم کرتا ہے۔ اگر ا?پ روزانہ 250 ملی لیٹر چقندر کا جوس پئیں تو اس سے بلڈ پریشر میں اضافے کی شرح 7 فیصد تک کم کی جاسکتی ہے۔ چقندر میں نائٹریٹ کی وسیع مقدار موجود ہوتی ہے جو خون کی روانی کو باقاعدہ بناتی ہے۔ جاگنگ کے لیے وقت نکالیں: ہرہفتے اگر ایک گھنٹے تک جاگنگ کی جائے تو اس سے عمر بڑھتی ہے اور بلڈ پریشرکے خطرات کو ٹالا جاسکتا ہے۔ ورزش اور جاگنگ سے آکسیجن نفوز بڑھ جاتا ہے جب کہ خون کا پریشر کم ہوجاتا ہے جس سے خون کا پمپ کرنا آسان اوردل مضبوط ہوجاتا ہے۔ دہی کا استمعال: روزانہ ایک پیالہ دہی کھانے سے بلڈ پریشر کا خطرہ 3 گنا کم ہوجاتا ہے اس لیے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دہی سے قدرتی طور پر بننے والا کیلیشیم خون کی نالیوں کو نرم بنا کر تھوڑا سا پھیلا دیتا ہے جس سے خون کا پریشر کم رہتا ہے۔ کیلے کا استعمال: پوٹاشیم سے بھرپور کیلے کا استعمال اور نمک کی کمی کرکے ہر سال ہزاروں زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ پوٹاشیم جسم میں خون کو متوازن رکھ کر بلڈ بریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔ نمک کھانے سے نفرت کریں: خون میں نمک کی مقدار بڑھنے سے شریانوں میں خون کا پریشر اور حجم بڑھ جاتا ہے جب کہ بھنی اور باربی کیو غذائیں 80 فیصد نمک اپنے اندر رکھتی ہیں جس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ وزن کو کم کریں: تحقیق میں کہا گیا ہے کہ صرف چند کلوگرام وزن کم کرنے سے بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے کیوں کہ بڑھا ہوا وزن دل کے کام کو سخت بنا دیتا ہے جس سے اسٹرین اور بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ سگریٹ نوشی چھوڑ دیں: سگریٹ میں موجود نیکوٹین جسم کے اندراینڈرن لاین کو بڑھاتا ہے جس سے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے جو بلڈ پریشر بڑھنے کا باعث بن جاتی ہے۔ کام کم کریں: دفاتر میں ہفتہ وار 40 گھنٹے کام کرنے سے ہائیپر ٹینشن کا خطرہ 14 فیصد بڑھ جاتا ہے بالخصوص اوور ٹائم کرنے والے افراد میں یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور جو لوگ 51 گھنٹے کام کرتے ہیں ان میں بلڈ پریشر زیادہ ہونے کا خطرہ 29 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ خراٹے کم کریں: جو لوگ سونے کے دوران زیادہ خراٹے لیتے ہیں ان کی نیند زیادہ متاثر ہوتی ہے جس سے ان کا بلڈ پریشر واضح طور پر بڑھ جاتا ہے اس لیے کوشش کی جائے کہ اس کا علاج کیا جائے تاکہ بلڈ پریشر کنٹرول میں رکھا جا سکے۔

ای سگریٹ کا ایک خوفناک روپ

ای سگریٹ کو سگریٹ کے نعم البدل کے طور پیش کیا جاتا ہے اورماہرین کا خیال ہے کہ یہ شاید کم خطرناک ہے لیکن جسم کے اندر جا کر یہ مضر نیکوٹین کتنا نقصان دہ ہے یہ تو الگ بحث ہے لیکن ای سگریٹ کا ایک خوفناک روپ اس وقت سامنے آیا جب امریکا میں ایک نوجوان کے سگریٹ پینے کے دوران اچانک دھماکے سے وہ سگریٹ پھٹ گیا جس سے اس کی گردن کی ہڈی بری طرح متاثر ہوئی۔ امریکی ریاست کولوراڈو کے علاقے کولو کے رہائشی 29 سالہ نوجوان کیپلز ای سگریٹ سے لطف اندوز ہورہا تھا کہ اچانک اس میں دھماکا ہوا جس نے اس کے چہرے کو بری طرح جھلسا دیا، نوجوان کے دانت ٹوٹ گئے اور اس دھماکے سے لگنے والے جھٹکے سے اس ک ی گردن کے نیچے والی ریڑھ کی ہڈی بری طرح متاثر ہوئی جس کے باعث وہ چلنے کے قابل نہیں رہا۔ نوجوان کو اسپتال میں سرجری کے لیے لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ ابھی یقین سے نہیں کہ سکتے کہ یہ نوجوان دوبارہ اپنے پاو¿ں پر کھڑا ہوسکے گا یا نہیں۔ کیپلز نامی نوجوان کی بہن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کام پر بریک کے دوران ای سگریٹ پینے میں مصروف تھا کہ اچانک سگریٹ دھماکے سے پھٹ گیا جس سے کیپلز کو بری طرح متاثر کیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ای سگریٹ کے فنکشن میں خرابی سے ہونے والے نقصان کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ رواں ماہ کے اوائل میں ا?رکناس نامی ایک نوجوان کے ای سگریٹ پینے کے دوران دھماکا ہوگیا تھا جس نے اس کے دانت، ہونٹوں اور چہرے کو بری طرح جھلسا دیا جب کہ اکتوبر میں کنساس میں ای سگریٹ ایک شخص کے ہاتھ میں پھٹ گئی جس سے اس کا ہاتھ جھلس گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ میں لگی اوسط درجے کی بیٹری زیادہ گرم ہوجانے کی وجہ سے دھماکے کا باعث بن سکتی ہے۔

Google Analytics Alternative