صحت

پیٹ کو کھانوں سے بنائیں خوبصورت۔

نیویارک : آج کل پیٹ کا بڑھنا اور لٹکی توند عام سامسئلہ ہے ، اس وجہ سے جہاں آپ دوسروں کو اچھے دکھائی نہیں دیتے وہاں یہ متعدد امراض کے جنم کا باعث بھی بنتا ہے۔ ہموار یا چپٹا پیٹ ہر کوئی پسند کرتا ہے لیکن یہ خواہش پوری کرنے کے لئے بڑی تگ و دو کرنا پڑتی ہے، تو ہم آپ کے لئے اس مشکل کو آسان کئے دیتے ہیںبس اس کے لیے مناسب خوراک کھائیں۔ دہی پروٹین سے بھرپور دہی ایسی غذا ہے جسے آپ کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دہی کے استعمال سے آپ اپنا پیٹ ہموار کر سکتے ہیں۔ دہی کا استعمال نہ صرف بھوک کی خواہش کو کم کرتا ہے بلکہ یہ پیٹ بھرنے کے احساس کو طویل المدت تک قائم رکھتا ہے۔ بیری بیری میں شوگر کی سطح کم لیکن یہ اینٹی آکسائیڈینٹس سے بھرپور ہوتی ہیں۔ اگر آپ اپنا پیٹ گھٹانا چاہتے ہیں تو روزانہ باقاعدگی سے ایک کپ بیری ضرور کھائیں۔ بیری کے استعمال سے نظام انہضام بہتر ہوتا ہے۔ انڈہ انڈہ فیٹس کے اخراج کا قدرتی ذریعہ ہے اور اپنی اسی خصوصیت کے باعث یہ بڑھا ہوا پیٹ گھٹانے میں نہایت معاون تصور کیا جاتا ہے۔ مچھلی مچھلی میٹابولزم کو تیز جبکہ بھوک لگنے کے احساس کو کم کرتی ہے۔ مچھلی میں شامل اومیگاتھری نامی ایسڈ وزن گھٹانے میں نہایت معاون ہے۔ خشک میوہ جات گو کہ خشک میوہ جات فیٹس یعنی چکنائی سے بھرپور ہوتے ہیں لیکن ان کے متناسب استعمال سے وزن گھٹانے کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے علاوہ سویا بین، سیب، پتوں والی سبزیوںکا سلاد اور ناشپاتی کو اپنی روزمرہ کی خوراک کا حصہ بنانے سے بھی بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کیا جا سکتا ہے۔

کولگیٹ ٹوٹل ٹوتھ پیسٹ میں ایسے کیمیکل جو کینسر پیدا کر سکتے ہیں ۔

نیویارک: مسوڑھوں کی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کی دعوے دارکولگیٹ ٹوٹل ٹوتھ پیسٹ میں ایسے کیمیکل کا انکشاف ہوا ہے جو کینسر پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں ۔ یہ انکشاف ایک مقدمے کے نتیجے میں کولگیٹ کمپنی کی طرف سے سامنے آنیوالی دستاویزات میں ہوا۔ کمپنی کا موقف تھا کہ ٹرائی کلوسان نامی کیمیکل کو 1997ءمیں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظور کروایا گیا تھا۔ امریکی ادارے ایف ڈی اے کی جاری کردہ رپورٹ سے انکشاف ہوا کہ ادارے نے مذکورہ کیمیکل کے کینسر سے تعلق پر تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن کولگیٹ کمپنی نے یہ کہہ کر اسے منظور کروا لیا کہ صرف اس کی بھاری مقدار ہی کینسر کا خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کمپنی کے موقف کی بنیاد صرف اس کی اپنی تحقیق پر ہی تھی۔ اب متعدد تحقیقات سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ ٹراءیکلوسن کینسر کا خطرہ پیدا کرتی ہے اور اس کی وجہ سے بچوں کی قبل از وقت پیدائش اور ہڈیوں کی نامکمل نمو کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں جبکہ اس کی وجہ سے تولیدی صحت اور سپرم کی تعداد میں کمی کے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔ کولگیٹ کا کہنا ہے کہ ایف ڈی اے کی رپورٹ یہ ثابت نہیں کرتی کہ یہ کیمیکل انسانی صحت کیلئے خطرناک ہے ۔

بدہضمی اور قبض سے چھٹکارے کے دیسی ٹوٹکے۔

لاہور: بعض اوقات کچھ پسندیدہ کھاناملنے یاکسی پارٹی میں ضرورت سے زیادہ کھانا کھالیتا ہے جس کے باعث بدہضمی اور قبض جیسی شکایات ہو جانا معمولی بات ہے تاہم اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو معاملات مزید بگاڑ کی جانب بڑھتے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ احتیاطی تدابیر، ذکر و اذکار اور علاج کے طریقہ کار بتائے جا رہے ہیں جن کے استعمال سے انسان نہ صرف وقتی طور ان سے نجات حاصل کر سکتا ہے بلکہ ان پر مستقل عمل کر کے ہمیشہ کیلئے نجات بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ بدہضمی کا علاج جو کا دلیہ پانی میں پکا کر دودھ اور شہد ملا کر صبح ناشتے میں استعمال کریں، یا جو کی روٹی لیں۔ ناشتے میں سالن کا استعمال نہ کریں۔ دہی کا استعمال بند کردیں۔ ٹھنڈا دودھ پئیں۔ کچا دودھ بہتر ہے۔ اناردانہ، پودینہ ہم وزن اور اس میں تھوڑی سی ادرک ملا کر چٹنی بنائیں اور دن میں دو بار کھانے کے بعد ایک کھانے کا چمچ لیں۔ قبض واک کریں۔ رات کو سونے سے پہلے ایک گلاس گرم پانی پئیں۔ صبح اٹھتے ہی ایک گلاس گرم پانی پئیں۔ آڑو، امرود یا انگور کھائیں۔ اسپغول کا چھلکا پانی یا دودھ میں لیں۔ گلقند ایک چمچ رات کو نیم گرم دودھ کے ساتھ لیں۔ چند قطرے روغن بادام ایک گلاس نیم گرم دودھ میں رات کو سونے سے پہلے لیں۔ آدھا چمچ زیتون آئل رات کو سونے سے پہلے لیں۔ 3 انجیر نہار منہ روزانہ کھائیں۔ چھلکے والی دالیں کھائیں۔ گوشت اور انڈے کم استعمال کریں۔

موبائل فون ٹاورز دماغی کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

لندن: موبائل فون کے ٹاورز کے قریب رہنے والے لوگوں کی یاداشت، سر میں درد، ذہنی تناﺅدیگر لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتاہے ۔ برطانیہ میں ہونیوالی ایک تحقیق کے مطابق موبائل فون کمپنیوں کے ٹاورز سے خطرناک شعاعیں نکلتی ہیں جو انسان کے دماغ پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں،سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کے تولیدی نظام پر بھی خطرناک اثرات چھوڑتی ہیں۔ قبل ازیں موبائل فون کے متعلق کی گئی تحقیقا ت میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ موبائل فون سے برقی مقناطیسی شعاعیں نکلتی ہیں، جو دو طرح سے صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں، تھرمل اور نان تھرمل یعنی حرارت اور حرارت کے بغیر انسانی صحت کو متاثر کرتی ہیں۔ تھرمل اثرات کا جائزہ ایسی صورت میں باآسانی لیا جا سکتا ہے جب کچھ دیر تک مسلسل موبائل فون آپ کے کان سے لگا رہے۔ ایسی حالت میں کان پر پسینہ آجاتا ہے جو اس کابات کا واضح ثبوت ہے کہ موبائل فون تھرمل اثرات مرتب کر رہا ہے۔ نان تھرمل کے اثرات براہ راست انسانی خلیوں، جینز اور ڈی این اے پر پڑتے ہیں اور یہ قسم ہی انسان کے لئے زیادہ خطرناک ہے۔ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال سردرد، نیند میں خرابی، یاداشت کی کمزوری جیسے مسائل پیدا کرنے کے علاوہ دماغی کینسر تک کا باعث بن سکتا ہے۔

لہسن کے ایسے فوائد کے بارے میں آپ نہیں جانتے ہوں گے۔

لندن:  آپ نے لہسن کے فوائد کے بارے میں تو کافی بار سن رکھا ہوگا لیکن کیا آپ جانتے ہیں اگر رات کو سونے سے قبل کان میں لہسن کا ٹکڑا رکھا جائے تو کیا ہوتا ہے تو آپ بھی اگلی بار ایسا ضرور کریں گے۔ ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ لہسن ایک قدرتی انٹی بائیوٹک ہے اور اس کی وجہ سے جسم میں کئی طرح کی بیماریاں کم ہوتی ہیں اور سوجن سے نجات ملتی ہے۔اگر آپ کو کان میں تکلیف ہو تو رات کو سونے سے قبل لہسن کے ایک ٹکڑے کو کاٹ کر کان میں رکھ لیں،صبح جب آپ اٹھیں گے تو کان میں درد اور تکلیف مکمل دور ہوچکی ہوگی۔جو جراثیم کان میں انفیکشن کا باعث بنتے ہیں لہسن انہیں ختم کر دیتاہے ۔یہ نسخہ جنرل آف میڈیکل سائنس میں ایک چینی ماہر نے اپنے مقالے میں شائع کیا تاہم اگر کسی قسم کی الرجی ہو تو اس نسخے کو آزمانے سے پہلے ڈاکٹرز سے ضرور مشورہ کر لیں اور بچوں پر نہ آزمائیں ۔

موٹاپے سے بچنے کا نسخہ دریافت ۔

لندن: ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپے کی وبا کو کم کرنے کے لیے سپر مارکیٹوں میں دستیاب پکے پکائے یا ڈبہ بند پکوان کی مقدار کو بھی کم کرنا ہو گا۔ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے 61 معاملات کا مشاہدہ کیا جس سے وہ اس نتیجے پر پہنچے یا انھیںحتمی ثبوت ملا کہ خوراک کی مقدار کا تعلق ہمارے نادانستہ کھانے سے ہے۔کیمبرج یونیورسٹی سے اس ٹیم نے مزید کہا کہ اگر لوگوں کو چھوٹی سائز کی پلیٹ، گلاس اور کٹلری دی جائے تو وہ کم کھاتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی کہا لوگ کھانا بچانے سے ہچکچاتے ہیں۔صحت کی پالیسی سے متعلق ’کوکرین ڈیٹا بیس آف سیسٹمٹک ریویوز‘ میں شائع ہونے والے ٹیم کے اعداد و شمار کے مطابق اگر لوگوں کو زیادہ خوراک دی جائے تو وہ زیادہ کھاتے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ دہائیوں میں خوراک کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے۔برطانیہ میں تین میں سے دو افراد کا وزن یا تو زیادہ ہے یا پھر وہ موٹے ہیں جس سے انھیں دل کی بیماری یا ٹائپ ٹو ذیابیطس اور کینسر کا خطرہ درپیش ہے۔6711 افراد پر کی گئی تحقیق کے نتائج میں ٹیم کو معلوم ہوا کہ ’زیادہ مقدار‘ کی خوراک کو کم کرنے سے لوگوں کی خوراک میں سے 279 کیلوریز بھی کم ہو سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ایسے اقدامات کرے جن سے خوراک کی مقدار چھوٹے پیکٹوں میں دی جائے تو لوگ اپنا وزن کم کر سکتے ہیں۔صحت سے متعلق ’پبلک ہیلتھ انگلینڈ‘ کے غذائیت کے سربراہ ڈاکٹر ایلیسن ٹیڈ سٹون نے کہا: ’اس تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ خوراک کی مقدار کم کرنے سے کیلوریاں بھی کم ہوتی ہیں، اس لیے خوراک خریدنے سے پہلے اس بات پر غور کرنا چاہیے۔

دن کا ذیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے .

یہ تو اکثر افراد کو معلوم ہے کہ دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا موٹاپے، ذیابیطس اور ذہنی امراض کا باعث بن سکتا ہے مگر یہ عادت آپ کے جگر کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔اس بات کا انکشاف جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں ہوا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا یا سست طرز زندگی دونوں جگر بڑھنے یا اس پر چربی چڑھنے کے امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔طبی جریدے جرنل آف ہیپاٹولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق جو لوگ دن میں دس یا اسسے زائد گھنٹے بیٹھ کر گزارتے ہیں ان میں جگر کے امراض کا خطرہ 9 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اس کے مقابلے میں جسمانی طور پر متحرک ہونا جیسے روزانہ کم از کم دس ہزار قدم چلنا جگر کے امراض کا خطرہ 20 فیصد تک کم کردیتا ہے۔اس تحقیق کے دوان ڈیڑھ لاکھ کے قریب مرد و خواتین کا جائزہ لیا گیا جن کی اوسط عمر 40 سال کے لگ بھگ تھی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ 35 فیصد جگر کے امراض کا شکار ہیں۔محققین کے مطابق ہمارا جسم حرکت کرنے کے لیے ڈیزائن ہوا ہے اور یہ حیرت انگیز نہیں کہ سست طرز زندگی براہ راست ہمارے جسمانی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔ان کے بقول جگر کے امراض کے علاج کے حوالے سے بہت زیادہ ادویات موجود نہیں لہذا طرز زندگی میں معمولی سی تبدیلی ہی اس کا بہترین علاج ہے۔انہوں نے اس حوالے سے ہر ہفتے 150 منٹ متعدل ورزش یا روزانہ 10 ہزار قدم چلنے کی تجویز بھی دی۔

غریبوں کی نسبت امیروں کو زیادہ اچھی نیند آتی ہے.کولمبین تحقیق

واشنگٹن: عمومی طورپر کہاجاتاہے کہ غریب لوگ گھوڑے بیچ کر سوتے ہیں لیکن امیروں کو زیادہ نیند نہیں آتی کیونکہ اُنہیں ڈرہوتاہے کہ کوئی مال لے نہ اُڑے یا اپنے کاروبار پر توجہ رہے لیکن ایک تحقیق نے اس خیال کو غلط ثابت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غریبوں کی نسبت امیروں کو زیادہ اچھی نیند آتی ہے،اسی طرح خواتین، اقلیتوںاور کم پیسہ رکھنے والے افراد کو کم نیند آتی ہے۔ یونیورسٹی آف کولمبیا کے تحقیق کاروں کی جانب سے 1991ءسے 2012ءکے درمیان 270,000مختلف تعلیمی اداروں کے طلباءکا سروے کیا گیاجس میں ان سے دوسوالات کئے گئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کتنی بار وہ رات میں سات گھنٹے سے زائد سوئے ہیں اور کتنی بار وہ اپنی مطلوبہ نیند سے کم سوئے ہیں۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ امیر سفید فام لوگ غریب،عورتوں اور اقلیتی افراد سے زیادہ سوتے ہیں۔یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ کم آمدن والے افراد کم سونے کے باوجود یہ کہتے پائے گئے کہ ان کی یہ نیند کافی ہے۔ کم آمدنی والے افراد کو اس بات کا کم ہی علم تھا کہ کتنی نیند ضروری ہے۔ تحقیق کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہواکہ بچوں کی نیند میں بہت تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے اور ایک 15سال کی عمر کا بچہ 1991ءمیں سات یا اس سے زائد گھنٹہ سوتا تھا لیکن اب اس کی نیند 63فیصد کم ہوئی ہے۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کی ایک وجہ نیند کا پورانہ ہونا ہے۔

Google Analytics Alternative