صحت

جی ہاں! بھوک آپ کا موڈ تبدیل کرسکتی ہے

جرمنی: اکثر خواتین و حضرات بھوک سے بے تاب ہوکر غضب ناک ہوجاتے ہیں جسے انگریزی میں ’ہینگری‘ کہا جاتا ہے۔ اب ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ بھوک کا اثر انسانی رویے اور موڈ پر ہوتا ہے اور اس کے منفی جسمانی اثرات بھی ہوتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف ہیجن کے سائنس داں پروفیسر اینڈریاس گلوئکنر نے کی ہے جس میں  ماہرین نے کہا ہے کہ ’ طیش والی بھوک‘ یا ’ہینگری‘ ایک حقیقی شے ہے کیونکہ بعض افراد میں بھوک سے خون میں گلوکوز کی سطح کم ہوجاتی ہے۔ اس کیفیت میں ان کی توجہ کم ہوجاتی ہے اور وہ اپنے جذبات پر بھی قابو نہیں رکھ پاتے۔

دوسری جانب گلوکوز کی کمی سے جسم سے تناؤ والے ہارمون اور کیمیکل خارج ہونے لگتے ہیں جن میں کورٹیسول، ایڈرینالِن اور نیوروپیپٹائڈ وائے بھی شامل ہیں۔ اس کیفیت سے لوگ واقعی اشتعال میں آجاتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس غصے کی کیفیت سے خود آپ کے گھر والے بھی محفوظ نہیں رہ پاتے اور آپ کے پیاروں کو بھی اس کا سامنا ہوتا ہے۔ اسی بنا پر ایک دلچسپ سروے بھی سامنے آیا ہے کہ اگر دوپہر کے کھانے میں دیر ہوجائے اور عدالتی کارروائیاں جاری رکھی جائیں تو اس کا اثر ججوں کے فیصلے پر بھی پڑتا ہے اور یہ فرق 23 فیصد تک ہوسکتا ہے یعنی غلط فیصلوں کا امکان بڑھ جاتا ہے کیونکہ بھوک سے توجہ اور ارتکاز میں کمی ہوجاتی ہے۔

اسی بنا پر ماہرین نے کہا ہے کہ بھوک سے اشتعال میں آنے والے افراد اپنے لیے فوری طور پر کچھ نہ کچھ کھانے کی چیز رکھیں اور یاد رکھیں خالی پیٹ کوئی اہم فیصلہ نہ کریں۔

قیلولے کا بہترین وقت کیا ہے اور اس کا فائدہ کیسے حاصل کریں؟

دوپہر کو کچھ دیر کی نیند صرف مزاج ہی خوشگوار نہیں بناتی بلکہ یہ زندگی کو طویل کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

گزشتہ روز یونان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ 20 منٹ کا قیلولہ عادت بنالینا درمیانی عمر میں دل کے دورے کا خطرہ کم کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کچھ دیر کی یہ نیند بلڈپریشر کی سطح کم کرتی ہے جس سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوتا ہے اور ہر عمر کے افراد اس عادت سے یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ قیلولہ یا دوپہر کو کچھ دیر سونا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔

قیلولے کا بہترین وقت کونسا ہے؟

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ رات بھر 8 گھنٹے کی نیند، صبح کی متحرک سرگرمیاں اور دوپہر کا صحت بخش کھانے کے بعد اچانک طبیعت سست اور غنودگی چھانے لگتی ہے؟

تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سہ پہر تین بجے کے قریب انسانی جسمانی گھڑی سست ہوجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ غنودگی یا سستی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔

امریکا کی سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کی نیند یا قیلولے کا بہترین وقت بھی دوپہر تین بجے کا ہے اور اس وقت بیس سے تیس منٹ کی نیند صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کو بیس سے تیس منٹ کی نیند ہی بہترین ہوتی ہے، اس سے زیادہ دورانیہ ذہن کو زیادہ غنودگی کا شکار کردیتا ہے، جبکہ رات کو سونا بھی مشکل ہوتا ہے۔

دفتر میں قیلولہ کیسے ممکن ہے؟

یقیناً گھر میں تو کچھ دیر کی نیند ایک اچھا خیال ہے مگر دفتر میں ایسا کیسے ممکن ہے ؟ تو اس کا جواب ہے کہ بس آرام کرنا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض خاموشی سے بیٹھ کر آنکھیں بندکرکے آرام کرنا بھی صحت کو قیلولے جیسے فوائد پہنچاسکتا ہے، اب یہ آپ اپنی کرسی میں کریں یا کچھ دیر کے لیے ٹوائلٹ جاکر، یہ آپ کی اپنی مرضی ہے۔

ہلکی سی غنودگی یا نیند کا یہ دورانیہ 10 منٹ تک ہونا چاہئے جس سے تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمونز کی سطح کم ہوتی ہے جبکہ جنک فوڈ کی خواہش سے بچنا بھی ممکن ہوتا ہے۔

زیادہ دیر تک سونے سے گریز کریں

2016 میں مشی گن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران 3 لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ لے کر یہ نتیجہ نکالا گیا جو افراد دن میں ایک گھنٹے سے زیادہ دوپہر کی نیند لینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں تھکاوٹ کا احساس بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جس کے باعث ذیابیطس کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح ایک گھنٹے سے زائد قیلولہ اور تھکاوٹ میٹابولزم کے نظام کو بھی نقصان پہنچا کر امراض قلب کے عوامی جیسے موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر وغیرہ کا خطرہ 50 فیصد پہنچا دیتا ہے۔

تاہم تحقیق میں طویل قیلولے اور امراض کے خطرات کی وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا یعنی محققین یہ بتانے سے قاصر رہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ دوپہر میں بہت زیادہ سونا اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ جسم میں سب کچھ ٹھیک نہیں۔

پروٹین سے بھرپور یہ مشروب موٹاپے سے نجات دلانے کیلئے فائدہ مند

اگر آپ جسمانی وزن اور توند سے نجات چاہتے ہیں تو کچن میں موجود 3 چیزوں سے بننے والا مزیدار مشروب اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

یقیناً توند سے نجات آسان نہیں مگر یہ مشروب بہت تیزی سے چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ یہ کام راتوں رات نہیں ہوتا، اس کے لیے اپنی غذا پر نظر رکھنے کے ساتھ ورزش کی بھی ضرورت ہوتی ہے مگر چند غذائی عادات طویل المعیاد بنیادوں پر موٹاپے کو دور رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

اگر آپ توند سے نجات چاہتے ہیں تو اس کے لیے پروٹین کی اہمیت جاننا ضروری ہوتا ہے۔

پروٹین ایسا جز ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتا ہے جس سے بے وقت منہ چلانے کی خواہش پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

پروٹین سے بھرپور مشروب روزانہ پینا توند کی چربی گھلانے کی رفتار کو تیز کرسکتا ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ اس کے لیے اجزا لگ بھگ ہر کچن میں ہی موجود ہوتے ہیں۔

اجزا

تخ ملنگا

لیموں

شہد

طریقہ کار

تخ ملنگا کے فوائد بتانے کی ضرورت نہیں جو نظام ہاضمہ بہتر کرتا ہے اور اچھا نظام ہاضمہ موٹاپے سے نجات کے لیے موثر ہتھیار ثابت ہوتا ہے، اسی طرح اس میں موجود فائبر آنتوں کے افعال بہتر کرتا ہے جبکہ بلڈشوگر لیول کو بھی مستحکم کرتا ہے۔

اس مشروب کو بنانے کے لیے آدھا چائے کا چمچ تخ ملنگا، ایک یا ڈیڑھ کپ پانی، ایک چائے کا چمچ شہد اور ایک چائے کا چمچ لیموں کا عرق لیں۔

سب سے پہلے ایک برگن میں پانی ڈالیں اور پھر اس میں تخ ملنگا کا اضافہ کرکے اسے 30 سے 45 منٹ کے لیے ایک طرف رکھ دیں، جس دوران تخ ملنگا کے بیج جیل جیسے ہوجائیں گے۔

اس کے بعد شہد اور لیموں کے عرق کا اضافہ کرکے ان اجزا کو اچھی طرح مکس کریں اور پھر اس میں تھوڑا سا پانی مزید ڈال لیں اور پھر اس کو پی لیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

اچھے ناشتے کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا

پیٹ بھر کر ناشتہ کرنے کی عادت دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات یونان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ایتھنز یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتے میں کم از کم 400 کیلوریز کو جزوبدن بنانا شریانوں میں اس مواد کے اجتماع کا خطرہ کم کرتا ہے جو کہ امراض قلب کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔

تحقیق میں ناشتے کے لیے بہترین غذاﺅں کی وضاحت تو نہیں کی گئی مگر محققین کا کہنا تھا کہ پنیر، دودھ اور روٹی وغیرہ زیادہ کیلوریز والے ناشتے کا حصہ ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 2 ہزار کے قریب افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے ایک زیادہ توانائی والا ناشتہ، دوسرا کم توانائی والا ناشتہ اور تیسرا ناشتہ نہ کرنے والا گروپ تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ توانائی والا ناشتہ یا زیادہ کیلوریز جزو بدن بنانے والے افراد کی شریانیں دیگر گروپ کے مقابلے میں زیادہ صحت مند ہوتی ہیں۔

ناشتہ نہ کرنے والے افراد میں شریانوں کی اکڑن کا خطرہ 15 فیصد جبکہ کم ناشتہ کرنے والوں میں یہ شرح 9.5 فیصد اور زیادہ کھانے والوں میں 8.7 فیصد ہوتی ہے۔

اسی طرح ناشتہ نہ کرنے والوں کی شریانوں میں مواد جمع ہونے کا خطرہ 28 فیصد، کم کھانے والوں میں 26 فیصد جبکہ زیادہ کھانے والوں میں 18 فیصد تک ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ بھرپور ناشتہ کرنا صحت مند طرز زندگی کا لازمی حصہ ہونا چاہئے جو کہ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جلد امریکن کالج آف کارڈیالوجی کی سالانہ کانفرنس کے دوران پیش کیے جائیں گے۔

اس سے قبل گزشتہ سال جرمن ڈائیبیٹس سینٹر کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ ناشتہ نہ کرنے کی عادت ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے مرض کا خطرہ ایک تہائی حد تک بڑھا دیتی ہے۔

جرمن ڈائیبیٹس سینٹر کے دوران ایک لاکھ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد نتیجہ نکالا گیا کہ صبح کی پہلی غذا کو جزو بدن نہ بنانا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار بننے کا امکان 33 فیصد بڑھا دیتا ہے۔

اور یہ صرف ان افراد کے لیے ہے جو کبھی کبھار ایسا کرتے ہیں۔

ایسے افراد جو ہفتے میں کم از کم 4 دن ناشتہ نہیں کرتے، ان میں یہ خطرہ ناشتے کرنے والوں کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرتے، وہ دن میں ناقص غذا کا زیادہ استعمال کرسکتے ہیں۔

پھوار کی شکل میں ناک سے لی جانے والی، ڈپریشن کی نئی دوا

نیویارک سٹی: امریک فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے ڈپریشن دور کرنے والی ایک ایسی دوا کی منظوری دی ہے جسے کھایا نہیں جاسکتا بلکہ یہ ناک کی پھوار (اسپرے) ہے جو براہِ راست دماغ میں جاکر اپنا اثر دکھاتی ہے۔

اسپرے ایسے مریضوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو کسی بھی دوا سے ٹھیک نہیں ہوپاتے اور اس دوا کی تیاری کے لیے دس سال مسلسل تحقیق کی گئی ہے جو دماغ پر ایک خاص انداز سے اثرانداز ہوتی ہے۔

کیٹامائن پر مبنی اس دوا کو ایسکیٹامائن کا نام دیا گیا ہے اور مریض سمیت ڈاکٹروں کو بھی اس کا انتظار ہے تاکہ مریضوں پر اس کے نتائج دیکھے جاسکیں۔ خیال رہے کہ کیٹامائن مرکب آپریشن کے لیے بے ہوش کرنے والی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اسی بنا پر یہ اسپرے فوری طور پر دماغ پر اثر کرکے مریض کو دماغی افسردگی اور تناؤ سے نجات دلاسکے گا۔

ڈاکٹروں کے مطابق ایسکیٹامائن ایسے مریضوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگی جو کسی بھی دوا سے ٹھیک نہیں ہوتے بلکہ علاج کے باوجود ڈپریشن کے بھنور میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔

تاہم اس دوا کے ڈبے پر ایف ڈی اے کا سخت ترین انتباہ درج ہے جسے ’بلیک باکس وارننگ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسپرے استعمال کرنے والا غنودگی، نشے والی کیفیت، توجہ کی کمی، فیصلے اور سوچنے میں دقت کا شکار ہوسکتا ہے۔ اسی بنا پر ایسکیٹامائن استعمال کرنے والے شخص سے کہا گیا ہے کہ وہ اسے استعمال کرنے کے بعد دو گھنٹے تک کسی کی نگرانی میں رہیں یا کوئی ان کا خیال ضرور رکھے۔ دوسری جانب سند یافتہ ڈاکٹر یا کلینک ہی یہ دوا استعمال کروائے گا اور یہ دوا مریض کو نہیں دی جائے گی۔

ایڈز سے نجات پانے والا، دنیا کا دوسرا مریض

لندن: حال ہی میں ایک ایسے مریض کو ایچ آئی وی سے نجات ملی ہے جس میں ہڈیوں کا گودا (بون میرو) منتقل کیا گیا ہے تاہم اس نے کینسر کے علاج کے لیے گودا منتقل کروایا تھا۔

اب سے دس برس قبل ایسے ہی ایک مریض کو عین اسی طریقے سے ایچ آئی وی سے شفا ملی تھی اور اب یہ دوسرا کیس ہے جس میں بہ یک وقت کینسر اور ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص کو بون میرو منتقلی سے ایچ آئی وی سے نجات ملی ہے۔ یہ علاج ایسے لوگوں کے لیے کارآمد نہیں جنہیں صرف ایچ آئی وی ہو۔ پہلے اس سے برلن کے ایک مریض کو شفا ملی تھی اور اب لندن کے ایک شخص کا علاج کیا گیا ہے۔

برطانوی مریض کا علاج کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر رویندرا گپتا نے کیا ہے۔ برطانوی مریض میں بون میرو منتقل کرنے کے ایک سال بعد اسے ایچ آئی وی کی اینٹی وائرل ادویہ کھانے سے روکا گیا۔ اب تقریباً 18 ماہ گزرچکے ہیں اور اس مریض میں ایچ آئی وی کے کوئی آثار نہیں رہے۔ لیکن ڈاکٹروں کے مطابق لندن کے مریض کو مزید تین چار سال تک مسلسل دیکھا جائے گا اور اس کے بعد ہی اس کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔

ڈاکٹروں کے مطابق ایچ آئی وائرس امنیاتی نظام کے خلیات کو متاثر کرتا ہے جو ہڈیوں کے گودے میں بنتے ہیں۔ یہاں سے یہ خون اور جنسی مائعات میں شامل ہوتا ہے۔ اس کی کچھ مقدار تلی کے اندر جاکر چھپ جاتی ہے اور جیسے ہی مریض ایچ آئی وی دوا لینا بند کرتا ہے تو تلی سے یہ وائرس دوبارہ جسم میں شامل ہوجاتا ہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

2007 میں برلن کے مریض میں پہلے ایک طرح کے کینسر کا انکشاف ہوا تھا جس میں امنیاتی نظام متاثر ہوتا ہے۔ اس کے علاج میں ڈاکٹروں نے پہلے اس کے تمام امنیاتی خلیات ریڈیو تھراپی اور ادویہ سے ختم کئے۔ اس کے بعد ایک مخصوص شخص کا گودا اس مریض کو لگایا گیا جس میں سی سی آر فائیو جین تبدیلی تھی اور اس تبدیلی سے لوگ فطری طور پر ایچ آئی وی سے بچے رہتے ہیں لیکن دنیا کے بہت کم لوگوں میں یہ خاصیت ہوتی ہے۔

لندن کے مریض کا بھی عین اسی طرح علاج کیا گیا انہوں نے CCR5 جینیاتی تبدیلی والے ایک مریض کا بون میرو لے کے اسے لگایا۔ مسلسل علاج کے بعد وہ مریض اب ایچ آئی وی سے پاک ہوچکا ہے۔

تاریخ میں دوسری بار ایچ آئی وی ایڈز کا مریض وائرس سے کلیئر قرار

ایچ آئی وی ایڈز کو ناقابل علاج مرض قرار دیا جاتا ہے مگر اب اس کے شکار افراد کے لیے نئی امید اس وقت سامنے آئی جب برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک مریض کو بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بعد اس وائرس سے کلیئر قرار دے دیا گیا۔

اس مریض جس کا نام بتایا نہیں گیا، کا بون میرو اسٹیم سیلز ٹرانسپلانٹ 3 سال قبل ہوا تھا اور اس کے لیے ایسے ڈونر کی خدمات حاصل کی گئیں جس میں ایسی جینیاتی تبدیلی ہوچکی تھی جو ایچ آئی وی انفیکشن کے خلاف مزاحمت کرتی ہے۔

اس مریض کو ڈیڑھ سال تک ایچ آئی وی کو کنٹرول کرنے والی ادویات سے دور رکھا گیا اور ٹیسٹوں سے ثابت ہوا کہ اب اس شخص میں ایچ آئی وی انفیکشن کے آثار باقی نہیں رہے۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ اب کوئی وائرس موجود نہیں اور ہم کچھ بھی تلاش نہیں کرسکے۔

ماہرین کے مطابق یہ کیس اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنسدان ایک دن دنیا سے ایڈز کا خاتمہ کرنے کے قابل ہوجائیں گے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایڈز کا علاج دریافت کرلیا گیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہ مریض عملی طور پر صحت یاب ہوچکا ہے مگر ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہ اس موذی مرض سے مکمل چھٹکارا پاچکا ہے۔

اس مریض کو لندن پیشنٹ کہا گیا ہے اور اس سے قبل محض ایک امریکی شخص کو ہی 2007 میں جرمنی میں اسی طرح کے علاج کے بعد ایچ آئی وی سے کلیئر قرار دیا گیا تھا۔

ٹموتھی براﺅن نامی وہ شخص اب امریکا میں مقیم ہے اور طبی ماہرین کے مطابق اب بھی ایچ آئی وی فری ہے۔

دنیا بھر میں 3 کروڑ 70 لاکھ کے قریب افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں اور 1980 کی دہائی سے اب تک ایڈز کے نتیجے میں ساڑھے 3 کروڑ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

برطانوی مریض 2003 میں ایچ آئی وی کا شکار ہوا تھا اور 2012 میں اس میں بلڈ کینسر کی ایک قسم کی تشخیص بھی ہوئی تھی جس کے بعد سے اس کا علاج جاری تھا۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ بون میرو اسٹیم سیلز ٹرانسپلانٹ ٹھیک ہوگیا تھا مگر اس کے کچھ سائیڈ ایفیکٹس بھی ہیں جو ڈونر کے خلیات مریض کے خلیات پر حملہ آور ہونے کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔

بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا طریقہ کار مستقبل میں تمام مریضوں کو اس مرض سے نجات دلانے کا ذریعہ بنے گا۔

ابھی یہ طریقہ کار کافی مہنگا، پیچیدہ اور خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ ڈونر کی تلاش آسان نہیں ہوتی۔

کیا ذیابیطس کے مریض سیب کھا سکتے ہیں؟

ذیابیطس ایسا مرض ہے جس کے دوران خون میں شکر کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

ذیابیطس کے شکار افراد کے خون میں شکر کی مقدار بڑھنے کی وجہ جسم میں انسولین کی مناسب نہ بننے یا اس پر ردعمل کی صلاحیت ختم ہونا ہوتی ہے۔

اور یہ ایسا مرض ہے جس کا ابھی کوئی علاج دستیاب نہیں، یعنی اسے کنٹرول تو کیا جاسکتا ہے مگر اس سے مکمل نجات ممکن نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ دیگر متعدد امراض کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔

پاکستان میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور متعدد افراد اس سے بے خبر رہتے ہیں، اسی وجہ سے اسے خاموش قاتل مرض بھی کہا جاتا ہے۔

تاہم جو افراد ذیابیطس کے شکار ہوتے ہیں، ان کو اکثر سمجھ نہیں آتا کہ غذا میں وہ کیا کچھ کھا سکتے ہیں اور کیا نہیں کھاسکتے۔

جیسے قدرتی مٹھاس سے بھرپور پھل ان کی غذا کا حصہ ہوسکتے ہیں یا نہیں۔

ایسا ہی ایک پھل جو پورا سال آسانی سے دستیاب ہوتا ہے وہ ہے سیب۔

ذیابیطس کے مریضوں کو ادویات کے ساتھ ساتھ اپنی غذا کے حوالے سے بھی کافی احتیاط سے کام لینا ہوتا ہے، یعنی میٹھی غذاﺅں، ٹرانس فیٹ اور جنک فوڈ سے گریز کرنا ہوتا ہے۔

سیزن کے پھل اور سبزیاں وہ کھاسکتے ہیں مگر اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ اس میں گلیسمیک انڈیکس کی سطح کم ہو اور سیب ایسا ہی پھل ہے جسے ذیابیطس کے مریض بغیر کسی خوف کے کھاسکتے ہیں۔

سیب کھانا ذیابیطس کے مریض پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے وہ درج ذیل ہے اور ہاں ایک یا 2 سے زیادہ سیب کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔

فائبر سے بھرپور

سیب میں جذب ہونے والی اور جذب نہ ہونے والی دونوں اقسام کی فائبر موجود ہوتی ہے جو کہ بلڈ شوگر لیول کو ریگولیٹ کرنے کے ساتھ اس میں تیزی سے اوپر نیچے ہونے کا خطرہ کم کرتے ہیں، فائبر ایسا غذائی جز ہے جو جسم میں جاکر ہضم ہونے میں کافی وقت لیتا ہے اور دوران خون میں شکر کا اخراج بتدریج کرتا ہے، جس سے بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

گلیسمک انڈیکس کم ہونا

گلیسمیک انڈیکس یا جی آئی کاربوہائیڈریٹس کی مقدار ظاہر کرنے والی رینکنگ ہے اور کاربوہائیڈریٹ یا نشاستہ ایسا جز ہے جو بلڈشوگر لیول اوپر نیچے ہونے پر اثرات مرتب کرتا ہے، ایسی غذائی جن میں جی آئی لیول (55 سے کم)کم ہوتا ہے، وہ شوگر لیول کو تیزی سے اوپر نہیں ہونے دیتی اور سیب میں جی آئی لیول 38 ہوتا ہے، جو اسے شوگر فرینڈلی پھل بناتا ہے۔

کم کاربوہائیڈریٹس

سو گرام سیب میں محض 14 گرام کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں، کاربوہائیڈریٹس بہت تیزی سے جسم کا حصہ بنتے ہیں اور بلڈشوگر لیول بڑھاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین ذیابیطس کے مریضوں میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کم رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ویسے سیب کو ہمیشہ چھلکوں کے ساتھ کھانا چاہئے کیونکہ ان چھلکوں میں بھی اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں اور کھانے سے پہلے دھونا مت بھولیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative