صحت

تمباکو نوشی سے صحت کے مسائل، پاکستان دنیا کے سر فہرست 15 ممالک شامل

وزارت قومی صحت سروسز (این ایچ ایس) کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ پاکستان، دنیا کے ان 15 ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو کی وجہ سے سب سے زیادہ صحت کے مسائل اور ان کا علاج بوجھ ہے۔

سوسائٹی برائے حفاظت حقوق اطفال (اسپارک) کی جانب سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے این ایچ ایس نمائندے نے گلوبل اڈلٹ ٹوباکو سروے کی 2015 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں یومیہ ایک ہزار سے 12 سو افراد جن کی عمریں تقریباً 6 سے 15 سال کے درمیان ہوتی ہیں، وہ سگریٹ پینے کا آغاز کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمریں تقریباً 25 سال سے کم ہیں جبکہ نوجوان ایک خطرناک حد تک تمباکو نوشی کا شکار ہورہے ہیں جس کی وجہ سے سخت ٹیکس ریفارمز اور سگریٹ کی کم عمر افراد کو فروخت کی نگرانی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تمام تر صورتحال کا خطرناک ترین پہلو ملک پر پڑنے والا صحت کے مسائل کا بوجھ ہے جو ایک سو 43 ارب روپے ہے جبکہ ان مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدنی 83 ارب روپے ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ قومی خزانے کو نقصان کا سامنا ہے۔

اسپارک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سجاد احمد چیمہ کا کہنا تھا کہ تمباکو بیچنے والی کمپنیاں مستقبل میں اپنی مارکیٹ کو وسیع کرنے کے لیے اس وقت کم عمر افراد اور خواتین کو اپنا ہدف بنارہی ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں میں تمباکو نوشی کی بڑھتی ہوئی عادت منشیات کی جانب پہلا قدم قرار دیا جبکہ اسکولوں اور کالجز میں صحت کے خطرے کو کم کرنے کے لیے انسداد تمباکو نوشی مہمات کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔

سجاد احمد چیمہ کا کہنا تھا ہم حکومت اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر سگریٹ اور تمباکو سے متعلق اشیا پر ٹیکس بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کم عمر افراد میں صحت مند زندگی کے فروغ اور تمباکو کی فروخت کو روکنے کے لیے قوانین موجود ہیں۔

ہیومن ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کے سی ای او کرنل (ر) اظہر سلیم کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی سے روکنے سے متعلق آرڈیننس لوگوں کو عوامی مقامات پر سگریٹ پینے، تعلیمی مراکز کے قریبی تمباکو یا سگریٹ فروخت اور 18 سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ کی فروخت پر پابندی کے اقدامات شامل ہیں۔

پاکستان ہارٹ ایسوسی ایشن کے نمائندے چوہدری ثنااللہ گھمن نے اس موقع پر کہا کہ ایک نوجوان کا شوقیہ سگریٹ پینا بھی ان کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا عام تمباکو نوشی کرنے والے افراد کے لیے ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق 14 سال تک کے 40 فیصد بچے شوقیہ طور تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ اس سے دنیا بھر میں سالانہ 6 لاکھ اموات بھی ہوجاتی ہیں۔

کیا آپ کو ہر وقت غصہ آتا ہے؟ اس کی یہ وجوہات بھی ہوسکتی ہیں

دنیا میں کسی فرد کے مزاج کو بدترین بنانے کے لیے وجوہات کی کمی نہیں، تعلقات میں دراڑ، مالی پریشانیاں اور طبی مسائل وغیرہ آپ کی ذہنی حالت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اس طرح کے عناصر پر آپ کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے کچھ چھوٹی چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو آپ کی زندگی بدل کر آپ کو مستقل غصے کا شکار بنادیتی ہیں، تو اگر آپ کا موڈ بھی ہمیشہ خراب ہی رہتا ہے تو دیکھے کیا یہ وجوہات تو آپ کی اس حالت کا ذمہ دار نہیں؟

قدرتی ماحول سے دوری

سرسبز مقامات پر گھومنا ذہنی کے لیے بہت اچھا ہوتا ہے۔

شہروں میں جو لوگ سرسبز مقامات یا باغات میں جاتے ہیں وہ خوشگوار مزاج اور بہتر ذہنی صحت تے ہیں، اور ان مقامات سے دوری ڈپریشن، غصے اور ایسے ہی دیگر ذہنی مسائل کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔

آپ مناسب مقدار میں سبزیاں اور پھل استعمال نہیں کررہے

ٹھیک ہے کہ سبزیاں اور پھل اچھی صحت کے لیے بہترین سمجھے جاتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس خوراک کے آپ کی ذہنی حالت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

جو ولگ روزانہ 80 گرام پھل یا سبزیاں استعمال کرتے ہیں وہ ذہنی طور پر زیادہ خوش باش اور صحت مند ہوتے ہیں، یعنی خوش رہنے کے ساتھ ساتھ وہ مایوسی اور ذہنی امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔

آج آپ سورج کی روشنی دیکھنے سے محروم رہے

کیا آپ کا پورا دن گھر یا دفتر کی چاردیواری میں گزر جاتا ہے؟ اگر ہاں تو اس کا نتیجہ بدمزاجی کی شکل میں ہی نکلے گا۔

سورج کی روشنی سے دور رہنے والے افراد میں وٹامن ڈی کی کمی اور ڈپریشن وغیرہ کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جس کا نتیجہ ہر وقت غصے، خراب مزاج اور مایوسی کی صورت میں نکلتا ہے، جس سے بچنے کا آسان کچھ دیر کے لیے دن میں باہر چہل قدمی ہے۔

آپ پیاس محسوس کررہے ہیں

اگر آپ کام یا آرام کرنے کے دوران پیاس محسوس کررہے ہیں اور پانی پینے سے گریز کررہے ہیں تو آپ تھکاوٹ، توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور بدمزاجی کا شکار ہوجائیں گے، یہ دعویٰ جرنل آف نیوٹریشن کی ایک تحقیق میں سامنے آیا تھا۔

بہت زیادہ کام کرنا

بہت زیادہ کام کرنے کی عادت نہ صرف جسمانی حالت ابتر کرتی ہے بلکہ اس کے منفی اثرات ذہنی صحت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

جو لوگ ہفتے میں پچاس گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں ان کی جسمانی صحت خراب ہونے کے ساتھ ساتھ ذہنی حالت بھی متاثر ہوتی ہے، ایسے لوگ جلد غصے میں بھی آجاتے ہیں جو درحقیقت ان کے اندر موجود ڈپریشن کو باہر نکالنے کا ایک ذریعہ بنتا ہے۔

آپ فیس بک پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں

آج کل کے نوجوان تو فیس بک کے دیوانے ہیں مگر آپ سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر جتنا زیادہ وقت گزاریں گے اتنا ہی آپ کا مزاج خراب ہوگا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ فیس بک پر بہت زیادہ دیر رہنے سے وقت کے ضیاع کا احساس ہوتا ہے اور جب کسی کو لگتا ہے کہ وہ کوئی خاص کام کرنے کی بجائے اپنی زندگی ضائع کررہا ہے تو اس خیال کے بعد موڈ اچھا رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

کمر جھکائے رکھنا

بچپن میں تمام والدین ہی اپنے بچوں پر چلاتے نظر آتے ہیں کہ کمر سیدھی رکھ کر چلا یا بیٹھا کروں مگر اب سائنس نے بھی اسے ذہنی صحت کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

آپ کے بیٹھنے یا کھڑے ہونے کے انداز میں تبدیلی یا اسے سیدھا کرنے سے آپ کا مزاج خوشگوار ہوتا ہے اور آپ جسم میں ایک نئی توانائی محسوس کرتے ہیں۔

مسکراہٹ یا ہنسی سے دوری

ہنسنی یاداشت اور ذہنی تناﺅ کا سبب بننے والے ہارمون کورٹیسول کی شرح کو بہتر بناتا ہے۔

چہرے پر ایک مسکراہٹ تمام تناﺅ کو دھو دے دیتی ہے، بلکہ جبری یا کسی کو دکھانے کے لیے مسکرانا بھی تناﺅ کو کم کرکے مثبت جذبات کو بڑھا دیتا ہے۔

نیند کی کمی

ٹھیک ہے کہ یہ کوئی راز نہیں کہ نیند سے بوجھل ذہن پرکشش شخصیات کو بھی احمق بنادیتا ہے، مگر یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوتا ہے مناسب نیند نہ لینا تناﺅ بڑھانے اور تنک مزاجی یا خراب مزاج کا سبب بن جاتا ہے۔

صرف ایک ہفتہ بھی بہت کم سونا اداسی، غصے اور ذہنی تھکاوٹ کو بڑھا دیتا ہے۔

ویجیٹیبل آئل حاملہ خواتین کے لیے خطرناک، تحقیق

حاملہ خواتین کو ویجیٹیبل آئل سے تیار ہونے والی اشیا کھانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ ان سے ماں کے پیٹ میں بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

گریفتھ یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس طرح کے پکانے والے آئل میں موجود لینولیک ایسڈ (ایک قسم کا اومیگا سکس فیٹ) ماں کے پیٹ میں بچوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

چوہوں پر کیے جانے والے تجربات میں یہ بات سامنے آئی جن کے بچوں کو اندرونی ورم کے مسئلے کا سامنا ہوا۔

اس قسم کا تیل پیزا، فرنچ فرائیز اور بازار میں ملنے والی اکثر اشیا میں استعمال ہوتا ہے اور محققین کا کہنا ہے کہ اس تیل کا بہت زیادہ استعمال حمل میں پیچیدگیوں اور بچے کی ناقص نشوونما کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران چوہوں کو لینولیک ایسڈ سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال 10 ہفتوں تک کرایا گیا اور ان جانوروں نے معمول سے تین گنا زیادہ کھانا کھالیا۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق بالغ افراد روزانہ سو سے 200 کیلوریز لینولیک ایسڈ کی شکل میں استعمال کرسکتے ہیں۔

اس نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن چوہوں کو لینولیک ایسڈ والی غذاﺅں کا استعمال کرایا گیا ان کے نشوونما ریگولیٹ کرنے والے ہارمونز کی سطح معمول سے بہت کم ہوتی ہے جس سے عندیہ ملا کہ انہیں نشوونما کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ اس طرح کا آئل حاملہ خواتین اور ان کے ہونے والے بچوں کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے اور حاملہ خواتین کو اپنی غذا کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس تحقیق میں حاملہ خواتین پر ہی توجہ دی گئی تھی اور محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کی غذاﺅں کا استعمال دنیا بھر میں عام ہوتا جارہا ہے۔

اس سے قبل مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ کھانے پکانے کا تیل اور گھی میں شامل کی جانے والی مختلف سبزیوں، نباتات اور جانوروں سے حاصل کی گئی ٹرانس فیٹ یعنی چکنائی اور چربی انسانی صحت کے لیے مضر ہے، جس سے امراض قلب سمیت کئی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق گھی اور کوکنگ آئل میں جدید طریقے اور فیکٹریوں کے اندر شامل کی جانے والی چکنائی اور چربی سے انسان مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکر موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

کھانوں میں استعمال ہونے والے کوکنگ آئل اور گھی میں پائی جانے والی چربی اور چکنائی سے دنیا بھر میں سالانہ 5 لاکھ ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

کیا روز سحری میں انڈا کھانا چاہیے؟

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ سحری میں انڈا کھانے سے روزے کے دوران پیاس لگ سکتی ہے، اس کے باوجود بھی کئی افراد سالن یا کباب کھانے کے بجائے انڈے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

جیسے کہتے ہیں کہ ہر روز ایک سیب کھانے سے ڈاکٹرز کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ویسے ہی انڈوں کے لیے بھی یہ بات سامنے آگئی ہے کہ ان کا روزانہ استعمال ذیابیطس سے تحفظ دیتا ہے۔

امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے۔

امریکن یونیورسٹی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق انڈوں کا روزانہ استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے سے تحفظ دیتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہفتہ بھر میں 4 انڈے کھانے والے شخص میں ذیابیطس کا خطرہ اس فرد سے 37 فیصد کم ہوتا ہے جو ہفتے میں ایک بار اس کو استعمال کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق انڈوں کے روزانہ استعمال سے خون میں گلوکوز کا لیول کم ہوتا ہے جس سے ذیابیطس کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

آخر ان میٹھے مشروبات سے دوری کیوں ضروری ہے؟

 zxcانسانی دماغ ہمیشہ سے ہی مٹھاس کا دیوانہ رہا ہے مگر ماضی میں کبھی ہمارے آباﺅ اجداد کو بہت زیادہ چینی اور کیلوریز سے بھرپور کولڈ ڈرنکس جیسی چیز نہیں ملی تھی۔

اس مشروب کا بہت زیادہ استعمال موٹاپے کا شکار کرتا ہے، جبکہ اس سے پیدا ہونے والا کیمیائی ردعمل دماغ کو بتاتا ہے کہ ہم کچھ اچھا کر رہے ہیں حالانکہ ایسا ہوتا نہیں۔

اس کے نتیجے میں چینی کا استعمال ایک عادت بن جاتی ہے جسے ترک کرنا ناممکن سا ہوجاتا ہے جو ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور فالج وغیرہ کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

مگر یہ مشروب ہماری توقعات سے بھی زیادہ صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ وجوہات جان کر آپ اگلی بار اس کو استعمال کرنے سے پہلے کئی بار سوچیں گے ضرور۔

ضروری اجزا سے محرومی

جو لوگ صحت بخش مشروبات کی جگہ سوڈے کو ترجیح دیتے ہیں ان کو مناسب مقدار میں وٹامن اے، کیلشیئم اور میگنیشم کی کمی کا امکان ہوتا ہے، اسی طرح سوڈے میں فاسفورس ایسڈ موجود ہوتا ہے جو کہ جسم میں کیلشیئم اور میگنیشم کی سطح کم کرتا ہے اور یہ دونوں اجزا ہڈیوں سمیت متعدد جسمانی افعال کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے

یہ بتانے کی ضرورت نہیں ان مشروبات میں شیرے کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو جسم میں نقصان دہ فری ریڈیکلز بننے کی رفتار بڑھا دیتے ہیں جس سے ٹشوز کو نقصان پہنچتا ہے اور وقت کے ساتھ ذیابیطس کا مرض لاحق ہوجاتا ہے جبکہ ذیابیطس کی پیچیدگیوں کا امکان بھی بڑھتا ہے۔

موٹاپے کا شکار

ڈائٹ سوڈا جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ڈائٹ سوڈا پیتے ہیں ان میں موٹاپے کا امکان ہر کین کے ساتھ 41 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ درحقیقت کسی بھی قسم کی مٹھاس جسمانی خلیات کو چربی اور کاربوہائیڈریٹس کو ذخیرہ کرنے کا سگنل دیتی ہے جس سے بھوک زیادہ لگتی ہے۔ مٹھاس سے انسولین کا اخراج بھی ہوتا ہے جس سے جسم کی چربی گھلانے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔

بہت زیادہ چینی

دن بھر میں دو کولڈ ڈرنکس کا استعمال لوگوں کے اندر مٹھاس کے حوالے سے تصور کو متاثر کرتا ہے اور ان کے اندر چینی کی طلب میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ برطانیہ کی بنگور یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چونکہ مٹھاس کا دماغ کے طلب کے حصے سے مضبوط تعلق قائم ہوجاتا ہے اس لیے لوگ چینی کا بہت زیادہ مقدار میں استعمال کرنے لگتے ہیں جبکہ کولڈ ڈرنکس میں موجود بلبلے بھی یہ اثر بڑھاتے ہیں کیونکہ اس سے ہماری زبان کے ذائقے کی لذت بڑھ جاتی ہے۔

فاسفورس ایسڈ کی موجودگی

یہ ایسڈ جسم کی قدرتی طور پر کیلشیئم جذب کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، کیلشیئم کی کمی ہڈیوں کی کمزوری، بھربھرے پن اور دانتوں کی کیویٹیز کا باعث بن سکتی ہے، فاسفورس ایسڈ معدے میں موجود ایسڈ کو بھی نقصان پہنچا کر نظام ہاضمہ کو متاثر کرسکتا ہے۔

ڈی ہائیڈریشن کا امکان

سوڈا پینے کی عادت کے نتیجے میں جسم کو ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے جس کی وجہ ان میں چینی، سوڈیم اور کیفین کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ بیشتر افراد کھانے کے ساتھ ان مشروبات کا استعمال کرتے ہیں اور پانی کی اہمیت کو فراموش کردیتے ہیں۔

ڈائٹ سوڈا میں مصنوعی مٹھاس کی موجودگی

ڈائٹ مشروبات میں چینی کی جگہ aspartame موجود ہوتا ہے جو کہ جسم کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے، تحقیقی رپورٹس کے مطابق aspartame ذیابیطس، جذباتی عارض اور دیگر طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

اس میں کوئی فائدہ مند جز نہیں ہوتا

درحقیقت ان مشروبات کی غذائی ویلیو صفر ہوتی ہے، منہ کاذائقہ بہتر کرنے کے علاوہ ان کا کوئی بھی مثبت فائدہ اب تک سامنے نہیں آسکا ہے۔

دانتوں کے لیے نقصان دہ

ان مشروبات میں شامل چینی دانتوں کے مسوڑوں میں بیکٹریا کی سرگرمیاں بڑھا دیتی ہے جس کے نتیجے میں مضرصحت ایسڈز کا اخراج ہوتا ہے جو دانتوں کے ٹوٹنے کا باعث بن جاتی ہیں۔ مگر بات یہی تک نہیں برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق یہ مشروب فروٹ جوسز کے مقابلے میں دانتوں کے لیے دس گنا زیادہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے چاہے اس میں چینی کی مقدار جوس جتنی ہی ہو یہاں تک کہ چینی سے پاک ڈائٹ مشروبات بھی دانتوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، جس کی وجہ اس میں شامل سٹرک ایسڈ اور کاربونیٹ ایسڈ ہوتا ہے۔

جگر کے امراض

کولڈ ڈرنکس کے نتیجے میں جگر میں چربی بڑھنے کے امراض کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایک اسرائیلی تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ دو کین کولڈ ڈرنکس کا استعمال کرتے ہیں ان میں جگر کے امراض کا خطرہ پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پھلوں سے حاصل ہونے والی چینی سے بنے مشروبات جگر میں جذب ہوکر چربی کی شکل میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور مختلف جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

رمضان میں روزے رکھنے کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا

رمضان میں دنیا بھر میں مسلمان روزے رکھتے ہیں اور اس سے انہیں خطرناک امراض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

بیلور کالج آف میڈیسین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ رمضان میں روزہ رکھنے سے انسولین کی مزاحمت کا خطرہ کم ہوتا ہے جس سے ذیابیطس جیسے مرض سے بچنے میں مدد ملتی ہے جبکہ جسمانی وزن کو صحت مند سطح پر رکھنا بھی ممکن ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ رمضان میں روزے رکھنے کے دوران سحر سے افطار تک کھانے پینے سے دوری کے نتیجے میں جسم میں ایسے پروٹینز کی سطح بڑھ سکتی ہے جو کہ انسولین کی مزاحمت کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ چربی اور چینی والی غذاﺅں سے لاحق ہونے والے خطرات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 65 کروڑ سے زائد افراد موٹاپے کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں متعدد امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے مگر روزے ذیابیطس، میٹابولک سینڈروم اور جگر پر چربی چڑھنے جیسے امراض سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ کھانا اور روزہ جسم پر نمایاں اثرات مرتب کرتے ہیں جیسے کس طرح پروٹینز کو بنانا اور استعمال کرنا ہے جو کہ انسولین کی مزاحمت کا خطرہ کم کرنے اور صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کھانے پینے کے اوقات اور ان کے درمیان وقفہ ایسے اہم عوامل ہیں جو موٹاپے سے منسلک عوارض سے متاثر افراد کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 14 صحت مند افراد کا جائزہ لیا گیا جنہوں نے رمضان کے مہینے میں 30 دن تک روزانہ 15 گھنٹے کا روزہ رکھا۔

محققین نے ان افراد کے خون کے نمونے رمضان کے آغاز سے پہلے لیے اور ایک بار پھر رمضان کے چوتھے مہینے اور رمضان کے ایک ہفتے بعد لیے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ خون کے نمونوں میں ٹروپومایوسن (ٹی پی ایم)ون، تھری اور فور پروٹینز کی سطح بڑھ گئی ہے جو کہ خلیات کی صحت اور خلیات کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جس سے انسولین کے حوالے سے جسمانی ردعمل بہتر ہوتا ہے۔

ٹی پی ایم تھری انسولین کی حساسیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس سے جسم کو بلڈگلوکوز کو زیادہ موثر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ بلڈ شوگر کم ہوتی ہے۔

نتائج میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ٹی پی ایم تھری جین پروٹین رمضان کے ایک ہفتے بعد بھی جسم میں موجود تھے جبکہ ٹی پی ایم ون اور ٹی پی ایم فور پروٹین کے بارے میں بھی یہی دریافت کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم اب تحقیق کا دائرہ ایسے افراد تک پھیلانے والے ہیں جو میٹابولک سینڈروم اور جگر پر چربی چڑھنے کے امراض کا شکار ہوں تاکہ تعین کیا جاسکے کہ ایسے افراد اگر روزہ رکھیں تو ان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیق کے نتائج پر ہمارا ماننا ہے کہ سحر سے افطار تک روزہ رکھنا موٹاپے سے جڑے عوارض سے تحفظ دینے کے لیے ایک اچھا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ڈائجسٹیو ویک 2019 کانفرنس میں شائع ہوئے۔

ائیر کنڈیشنر کا ایسا نقصان جو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ دفاتر میں خواتین ائیرکنڈیشنر کی ہوا سے پریشان رہتی ہیں؟ کیونکہ یہ ٹھنڈی مشین ان کی ذہنی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اے سی کو بند کرنا دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کی ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق کمرے کا درجہ حرارت زیادہ ہونے پر خواتین ریاضی اور زبانی ٹیسٹوں میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

مگر مردوں کے معاملے میں ایسا نہیں بلکہ وہ سرد ماحول میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں مردوں اور خواتین پر درجہ حرارت سے ذہنی کارکردگی پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسی سائنسی وجوہات موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر مردوں اور خواتین کے درمیان اے سی کا درجہ حرارت بڑھانے یا کم کرنے کے معاملے پر جنگ کیوں جاری رہتی ہے۔

اس سے قبل یوٹاہ یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خواتین کے ہاتھ اور پیر مردوں کے مقابلے میں جلد ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح میری لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ مردوں کا میٹابولک ریٹ خواتین کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہوتا ہے یعنی خواتین کے جسم مردوں کے جسم کے مقابلے جلد سردی سے متاثر ہوجاتے ہیں۔

اس نئی تحقیق میں محققین نے 500 طالبعلموں کی خدمات حاصل کیں اور ان پر اے سی کے اثرات کا جائزہ ستمبر 2017 سے دسمبر 2017 کے درمیان لیا گیا۔

ان رضاکاروں سے منطق، ریاضی اور زبانی ٹیسٹ ایسے کمرے میں لیے گئے جہاں کا درجہ حرارت 16 سینٹی گریڈ سے 32 سینٹی گریڈ کے درمیان تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جب کمرے کا درجہ حرارت گرم ہوا تو طالبات نے زیادہ بہتر نتائج کا مظاہرہ کیا اور نہ صرف زیادہ سوالات کے جوابات درست دیئے بلکہ زیادہ جواب جمع کرائے۔

اس کے مقابلے میں مردوں نے سرد درجہ حرارت میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہر کیا مگر جب درجہ حرارت بڑھایا گیا تو ان کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے پلوس ون میں شائع ہوئے۔

کالی مرچ کے استعمال کے یہ فوائد جانتے ہیں؟

کالی مرچ ایسا مصالحہ ہے جس کا پاکستان میں استعمال بہت عام ہے اور لگ بھگ ہر کھانے میں اسے ڈالا جاتا ہے۔

اگر رمضان کے حوالے سے بات کی جائے تو کالی مرچ کے استعمال میں کافی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کھانے میں ڈالنے سے ہٹ کر بھی یہ کتنی فائدہ مند ہے؟

جی ہاں مختلف امراض کے ساتھ ساتھ یہ بہت کچھ ایسا کرتی ہے جو آپ کو حیران کردے گا۔

پیٹ کے مسائل دور کرے

غذا میں کالی مرچ کا زیادہ استعمال معدے کے لیے بہتر ہوتا ہے کیونکہ یہ کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ یہ معدے کے ایسے تیزاب کو بھی حرکت میں لاتی ہے جس سے کھانے جلد ہضم ہوتا ہے اور قبض ختم ہوجاتا ہے۔

گیلی کھانسی سے آرام

گیلی کھانسی پر قابو پانا چاہتے ہیں تو کالی مرچ کو شہد کے ساتھ چائے میں استعمال کریں۔ کالی مرچ بلغم کو حرکت میں لائے گی جبکہ شہد کھانسی سے آرام دلانے والی قدرتی چیز ہے۔ ایک چائے کا چمچ پسی ہوئی کالی مرچ اور دو چائے کے چمچ ایک کپ میں ڈالیں، اس کے بعد اسے ابلتے ہوئے پانی سے بھردیں اور پندرہ منٹ بعد ہلا کر پی لیں۔ ایک اور گھریلو ٹوٹکا یہ ہے کہ لیموں کی قاش پر کالی مرچ چھڑکیں اور اس قاش کو جتنا ہوسکے چوسیں تاکہ کھانسی سے فوری ریلیف مل سکے۔

کپڑوں کے رنگ مدھم نہ ہونے دے

دھونے سے آپ کی پسندیدہ شوخ رنگ قمیض کا رنگ مدھم ہوگیا ہے؟ اگر ہاں تو اگلی بار دھوتے ہوئے ایک چائے کا چمچ کالی مرچیں واشنگ مشین میں ڈالے گئے کپڑوں پر چھڑک دیں، جس کے بعد مشین کو چلائیں۔ یہ رنگوں کو برقرار رکھے گی۔

تمباکو نوشی ترک کریں

ایک تحقیق کے مطابق نکوٹین استعمال کرنے والے کالی مرچ کے تیل کی مہک کو سونگھتے ہیں تو تمباکو نوشی کے لیے ان کی خواہش میں کمی آتی ہے۔ ایسے کرنے سے لوگوں کے گلے میں ایک جلن سی پیدا ہوتی ہے جو کہ کچھ ایسا لطف پہنچاتی ہے جیسے سیگریٹ پیتے ہوئے محسوس ہوتی ہے۔

تھکے ہوئے مسلز کو آرام پہنچائیں

ورزش کے بعد عدم اطمینان محسوس ہورہا ہے؟ تنے ہوئے مسلز کو ڈھیلا کرنے کے لیے سیاہ مرچ کے تیل سے مالش کریں، یہ ایک گرم تیل مانا جاتا ہے جو اس جگہ خون کی گردش اور حرارت بڑھا دیتا ہے جہاں اسے لگایا جائے۔ دو قطرے سیاہ مرچ کے تیل کو چار قطرے روزمیری آئل میں ملائیں اور پھر اسے براہ راست جہاں لگانا ہو لگالیں۔

جلدی نگہداشت کے لیے فائدہ مند

کالی مرچ جراثیم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو شفاف جلد کے حصول میں مدد دیتی ہے۔ یہ مرچ خون کی گردش کو قدرتی طور پر بڑھا دیتی ہے اور اپنی حرارت سے جلد میں مساموں کو کھول کر ان کی صفائی کرتی ہے۔

Google Analytics Alternative