صحت

دوا کے بغیر بلڈپریشر میں کمی لانے والے قدرتی طریقے

ہوسکتا ہے آپ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوں مگر آپ کو اس کے بارے میں معلوم تک نہ ہو؟

جی ہاں واقعی ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے بلڈ پریشر کو معمول پر سمجھ رہے ہو کیونکہ آپ خود کو ٹھیک سمجھ رہے ہوتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے اس بیماری کے شکار ہونے والے اکثر افراد کو کسی قسم کی جسمانی علامات کا سامنا نہیں ہوتا؟

درحقیقت ہائی بلڈ پریشر کی ایسی کوئی علامات نہیں، جن سے اس کا پتا چل سکے اور یہ اس وقت دریافت ہوتا ہے، جب آپ کی صحت کو نقصان پہنچنے کا آغاز ہوچکا ہوتا ہے۔

ایک سروے کے مطابق تقریبا 52 فیصد پاکستانی آبادی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے اور 42 فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں کیوں مبتلا ہیں۔

120/80 یا اس سے کم بلڈ پریشر معمول کا ہوتا ہے تاہم اگر یہ 140/90 یا زیادہ ہوتو آپ کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے، ہر ایک اس کا شکار ہوسکتا ہے تاہم کچھ مخصوص افراد میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

بلڈپریشر کو ادویات کے ذریعے آسانی سے کم کیا جاسکتا ہے مگر ان ادویات کے کچھ مضر اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں جیسا کہ سر چکرانا، بے خوابی اور جسم اکڑنا، وغیرہ۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ لوگ بغیر ادویات کے بھی قدرتی طور پر بلڈپریشر کو معمول پر لاسکتے ہیں اور طبی ماہرین کے مطابق طرز زندگی میں تبدیلیاں ہائی بلڈپریشر کے علاج اور روک تھام میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

اس کے لیے سب سے پہلے وزن صحت مند بنانا ہوتا ہے، اس کے علاوہ دیگر قدرتی طریقے درج ذیل ہیں۔

تیز چہل قدمی

ورزش کو معمول بنانا، جیسے تیز چہل قدمی بھی عام استعمال ہونے والی ادویات کی طرح بلڈ پریشر کو کم کرنے میں موثر ثابت ہوسکتی ہیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تیز چہل قدمی سے دل کو آکسیجن زیادہ موثر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے جس کی وجہ سے اسے خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ مشقت نہیں کرنا پڑتی، ہر ہفتے چند دن آدھے گھنٹے کی تیز چہل قدمی بلڈپریشر کو معمول پر رکھتی ہے۔

گہری سانس لینا

ہمارا جسم تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمونز جیسے کورٹیسول وغیرہ پر ردعمل خون کا دباﺅ بڑھا کر ظاہر کرتا ہے، یہ ہارمونز دل کی دھڑکن بڑھانے اور شریانوں کو سکڑنے پر مجبور کردیتے ہیں جس سے بلڈ پریشر اوپر جاتا ہے، تاہم آہستگی سے گہری سانسیں لینا اور مراقبہ وغیرہ ان ہارمونز کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے اور بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں رہتا ہے، اس کا آغاز صبح پانچ منٹ اور رات کو پانچ منٹ سے کریں اور پھر بتدریج وقت بڑھاتے چلے جائیں۔

پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں

پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں جیسے کیلے، آلو، مالٹے، شکر قندی، لوبیا، مٹر، خربوزے اور خشک آلو بخارے میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور انہیں کھانا عادت بنانا بلڈپریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

نمک کا کم استعمال

یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ زیادہ نمک کھانا بلند فشار خون کا باعث بن سکتا ہے، تو نمک کا اعتدال میں رہ کر استعمال کرنا اس خطرے کو ختم کرسکتا ہے، امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق 1500 ملی گرام سے کم نمک کا استعمال بلڈ پریشر کو مستحکم رکھتا ہے۔

کیفین کا کم استعمال

اگر آپ ہائی بلڈ پریشر کا شکار نہیں تب بھی کیفین کے زیادہ استعمال سے گریز بہتر ہوگا، کیونکہ یہ عنصر دل کی دھڑکن کی رفتار اور بلڈ پریشر کو بڑھا دیتا ہے، ابھی یہ تو واضح نہیں کہ کیفین سے بلڈ پریشر کیوں بڑھتا ہے مگر ایسا ہوتا ضرور ہے، اس لیے دن بھر میں 4 کپ سے زیادہ کافی کا استعمال بلڈپریشر کا مریض بنادینے کے لیے کافی ہے۔

ڈارک چاکلیٹ

چاکلیٹ تو ایسی چیز ہے جس سے دن میں کسی بھی وقت لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق بلڈ پریشر کے شکار افراد اگر 18 ہفتوں تک کچھ مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کھائیں تو ان میں فشار خون کی شرح 20 فیصد تک کم ہوجاتی ہے۔

موسیقی سے لطف اندوز ہونا

آپ کے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرنے والی دھنیں بلڈپریشر کو بھی کم کرتی ہیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لوگوں کی پسندیدہ موسیقی بلڈپریشر میں کمی لانے میں مدد دیتی ہے۔

ایک گلاس دودھ

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ایک گلاس دودھ پینے کی عادت بلڈپریشر کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تحقیق میں بتایا گیا کہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس سے جسم میں پیدا ہونے والا ورم بلڈپریشر کو بڑھاتا ہے مگر دودھ اسے کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

تمباکو نوشی سے گریز

سیگریٹ میں شامل نکوٹین بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے، تو جو لوگ دن بھر بے تحاشہ تمباکو نوشی کرتے ہیں ان کا بلڈ پریشر ہمیشہ بڑھا ہوا ہی آتا ہے، جس سے گریز امراض قلب اور فالج وغیرہ سے تحفظ کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔

لاعلاج ذیابیطس کا علاج آپ کے اپنے ہاتھ میں

کیا آپ ذیابیطس کے شکار ہیں جسے لاعلاج مرض بھی قرار دیا جاتا ہے تو ہفتے میں 3 بار پندرہ، 15 منٹ کی سخت ورزش کرنا اس سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ دعویٰ اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

گلاسگو یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہفتے میں 3 بار ورک آﺅٹ کرنا انسولین کی حساسیت کو اتنا ہی بہتر بناتا ہے جتنا 45 منٹ کی ورزش۔

انسولین کی حساسیت ذیابیطس ٹائپ ٹو کی علامت ہوتی ہے اور اس تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ہفتہ بھر میں 45 منٹ کی سخت ورزش اس مرض کا ممکنہ علاج ثابت ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 10 موٹاپے کے شکار افراد کی خدمات لی گئی تھیں کیونکہ جسمانی وزن میں اضافے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے درمیان تعلق موجود ہے۔

محققین نے ورک آﺅٹ کے انسولین کی حساسیت پر مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ کرنے کے لیے ان رضاکاروں کو 2 گروپ میں تقسیم کیا جن میں سے ایک کو15 منٹ جبکہ دوسرے کو 45 منٹ کی سخت ورزش ہفتے میں تین بار کرنے کی ہدایت کی۔

چھ ہفتے کے تجربے کے بعد نتائج سے معلوم ہوا کہ 15 منٹ کا ورک آﺅٹ بھی اتنا ہی موثر ہے جتنا 45 منٹ کا۔

دونوں گروپس میں انسولین کی حساسیت کو 16 فیصد بہتر پایا گیا۔

انسولین کی حساسیت خون میں موجود گلوکوز کی شرح کو کنٹرول میں اہمیت رکھتی ہے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو میں انسولین کی حساسیت کم ہوجاتی ہے جس سے بلڈ شوگر لیول بڑھنے لگتا ہے جو آگے بڑھ کرامراض قلب اور فالج جیسے امراض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

دونوں گروپ کے مسلز بھی 2 ہفتے میں زیادہ مضبوط اور پہلے سے زیادہ بڑے ہوگئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ ہر طرح کی جسامت رکھنے والے افراد پر اتنی ورزش کیسے اثرات مرتب کرتی ہے، اور یہ بھی اہم ہے کہ ہر شخص جم نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا گھر پر جم جیسی ورزشیں کس حد تک فائدہ مند ہوتی ہیں اور اگر نتائج مثبت ہوئے تو مستقبل میں اس طرح کی ورزشوں کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے علاج کا حصہ بن سکتی ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ایکسپیرمنٹل فزیولوجی میں شائع ہوئے۔

ناشتے میں اس غذا کا استعمال فالج کو دور رکھنے میں مددگار

کیا زندگی میں امراض قلب کو ہمیشہ خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں؟ تو ناشتے میں روزانہ ایک انڈے کا استعمال عادت بنالیں۔

یہ دعویٰ چین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

طبی جریدے جرنل ہارٹ میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ایک انڈہ کھانے کی عادت خون کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج وغیرہ سے موت کا خطرہ 18 فیصد تک کم کردیتی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ یہ خیال غلط ہے کہ زیادہ انڈے کھانے سے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ انڈوں اور امراض قلب کے درمیان تعلق کے بارے میں شواہد مضبوط نہیں۔

محققین نے انڈے کھانے کی عادت اور خون کی شریانوں جسے جڑے امراض کے تعلق کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور 30 سے 79 سال کے افراد کے 13 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ ایک انڈہ روزانہ کھاتے ہیں، جبکہ 9 فیصد اس غذا سے ہمیشہ دور رہے یا بہت کم کھانے کا اعتراف کیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ فالج اور برین ہیمرج قبل از وقت موت کی بڑی وجوہات میں شامل ین جن کے بعد امراض قلب کا نمبر آتا ہے۔

ایک مخصوص گروپ کا 9 سال تک جائزہ لینے کے بعد محققین نے دریافت کیا ایک انڈہ روزانہ کھانا امراض قلب کا خطرہ کم کردیتا ہے۔

انہوں نے دریافت کیا کہ ایک انڈہ روزانہ کھانے سے برین ہیمرج (دماغی شریان پھٹنے)کا خطرہ 26 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ اس عادت کے نتیجے میں کسی بھی قسم کے فالج سے موت کا خطرہ 28 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ عادت امراض قلب کا خطرہ بھی 12 فیصد تک کم کردیتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اعتدال میں رہ کر انڈے کھانا یعنی روزانہ ایک کھانا جان لیوا امراض سے بچاسکتا ہے۔

ہر رات سونے سے قبل اس سوغات کا استعمال عادت بنالیں

شہد آپ کے کھانوں کی مٹھاس بڑھانے کے کام تو آتا ہی ہے مگر صحت کے لحاظ سے بھی انتہائی مفید ہے۔

ہوسکتا ہے آپ کو معلوم نہ ہو مگر شہد جسم کو صحت مند رکھنے اور جلد کو جگمگانے کے لیے بھی بہترین چیز ہے اور سنت نبوی میں بھی اسے بہترین قرار دیا گیا ہے۔

مگر سونے کے لیے لیٹنے سے قبل اس سوغات کو کھانے کے فوائد سے واقف ہیں ؟ جو آپ کو دنگ کردیں گے۔

جی ہاں رات کو اسے کھانا بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

اچھی نیند

شہد میں ایک جز ٹرائی پتھوفن موجود ہوتا ہے، یہ امینو ایسڈ جسم کو پرسکون کرنے کے ساتھ سگنل دیتا ہے کہ اب سونے کا وقت ہوگیا ہے، جسم اسے قدرتی طور پر بنانے سے قاصر ہوتا ہے اور اسے غذا جیسے شہد کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ سونے سے قبل شہد کھانے سے ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدھی رات کو آنکھ دوبارہ نہیں کھلتی۔

بلڈ پریشر میں کمی

ہائی بلڈ پریشر امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے تو اسے کنٹرول میں رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے، شہد میں ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو کہ بلڈ پریشر مستحکم رکھنے میں مدد دیتے ہیں، رات کو ایک چمچ شہد کا استعمال ہائی بلڈ پریشر کی روک تھام کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

خون میں چربی کے اجتماع سے بچاﺅ

ٹرائی گلیسڈرز خون میں موجود چربی کی ایک قسم ہے، اس کی مقدار بڑھنے سے امراض قلب اور ذیابیطس جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھتا ہے، خوش قسمتی سے شہد جسم میں ٹرائی گلیسڈرز کی سطح میں کمی لاتا ہے بلکہ شہد اس چربی کو خون سے غیرضروری چربی کی صفائی کے لیے استعمال کرتا ہے۔

جسمانی مدافعتی نظام مضبوط کرے

شہد اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور اور جراثیم کش ہوتا ہے جس سے جسمانی مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے جس سے بیکٹریا اور وائرس وغیرہ سے ہونے والے انفیکشن کے خلاف جسم زیادہ مزاحمت کرپاتا ہے۔ ہر رات کو شہد کھانے سے جسمانی دفاع مضبوط ہوتا ہے۔

چربی تیزی سے گھلنے لگتی ہے

شہد کھانے کی عادت سے میٹابولزم کی رفتار بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں خون کی گردش میں اضافہ ہوتا ہے اور جسمانی درجہ حرارت کچھ بڑھ جاتا ہے، جس سے چربی کو کسی کوشش کے بغیر گھلانے میں مدد ملتی ہے۔

کھانسی دور رکھے

شہد قدرتی طور پر ورم دور کرتا ہے، ہر رات نیم گرم پانی میں ایک کھانے کا چمچ شہد ملا کر پینا گلے کی خراش سے بچاتا ہے اور کھانسی کو دور رکھتا ہے۔ شہد میں موجود اینٹی بائیوٹک بیکٹریا سے لڑتا ہے جو گلے کی خراش کا باعث بنتا ہے۔

عمر کے اثرات سے بچائے

عمر بڑھنے سے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کو قدرتی طور پر سست کرنے کا آسان طریقہ شہد کا استعمال ہے، ہر رات کو سونے سے قبل شہد کھانا بڑھاپے کے آثار سے مقابلہ کرتا ہے اور جھریوں اور دیگر علامات سے بچاتا ہے۔

ڈپریشن سے محفوظ رکھے

شہد میں موجود ایک کیمیکل پولی فینول ڈپریشن سے بچانے میں مدد دیتا ہے، اگر آپ اپنی ذہنی صحت کو بہتر کرنا چاہتے ہیں ہر رات شہد کا استعمال عادت بنالیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

غیرصحت بخش کھانوں کی لت سے جان چھڑانے کا آسان طریقہ

فلوریڈا: پوری دنیا میں پیٹ بھرے لوگ موٹاپے اور دیگر امراض سے بچنے کے لیے غیر صحت بخش کھانوں مثلاً  فاسٹ فوڈ، مٹھائیوں اور بیکری کی مصنوعات سے دور رہنے کے لیے لاکھ جتن کرتے ہیں لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اسے کھا ہی لیتے ہیں لیکن اب ماہرین نے دل للچانے والے لیکن صحت کے لیے نامناسب کھانوں سے دور رہنے کا ایک سادہ نسخہ تلاش کرلیا ہے۔

ٹیمپا میں واقع یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کے شعبہ مارکیٹنگ نے اس ضمن میں ایک دلچسپ تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا ہے کہ غذائی صنعت کے ماہرین اپنے کھانوں میں خاص بو کا استعمال کرتے ہیں جسے اروما کہا جاتا ہے اور یہ اروما فوری طور پر آپ کو وہ شے کھانے پر مجبور کرتا ہے۔

اسی طرح مارکیٹنگ میں بھی خوشبوؤں کو استعمال کیا جاتا ہے اس کی ایک مثال سام سنگ اسٹور پر خاص خوشبو کا استعمال بھی ہے۔ یہ خوشبو گاہکوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے اور ان کے دماغ کو سکون پہنچاتی ہے۔

یونیورسٹی کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ غذائی اروما کھانے کی طرف متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے لیے یونیورسٹی کے ماہرین نے کئی تجربات کیے جن میں اسٹرا بیری اور سیب جیسے مفید پھل اور پیزا یا مٹھائی جیسے غیر صحت بخش کھانوں کی خوشبوؤں کو استعمال کیا گیا ہے۔

جب رضا کاروں کو جنک فوڈ کی خوشبو 30 سیکنڈ تک سنگھائی گئی تو وہ فوراً اس کی جانب راغب ہوئے اور غذا کھانے لگے لیکن جیسے ہی رضا کاروں نے دو منٹ تک غیر صحت بخش غذاؤں کو سونگھا تو صحت کے لیے اچھے کھانوں کی جانب ان کی توجہ بڑھ گئی جن میں پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس شامل ہیں۔

اس تجربے میں 900 بچوں کو بتائے بغیر لگاتار تین روز تک کھانے کے اروما استعمال کیے گئے۔ جب بچے قطار میں لگ کر کھانا لے رہے تھے تو ایک روز کھانے لیتے وقت کوئی خوشبو نہیں سنگھائی گئی۔ دوسرے دن پیزا اور تیسرے دن خاص نیبولائزر جیسے آلے سے سیب کی خوشبو سنگھائی گئی۔

پہلے روز  جب سیب کی بو سنگھائی گئی تو 36.96 فیصد غیر صحت بخش کھانے فروخت ہوئے۔ دوسرے روز کوئی خوشبو نہیں دی گئی تو صحت کے لیے غیرمفید کھانے بِکنے کی شرح 36.54 تھی یعنی دو دنوں میں کوئی خاص فرق نہ تھا۔

لیکن تیسرے روز بچوں میں کھانا لیتے یا خریدتے وقت دو منٹ تک پیزا کی بو سونگھائی گئی تو بہت فرق دیکھا گیا اور یوں غیر صحت بخش کھانا خریدنے کی شرح 21.43 فیصد تھی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ صحت کے لیے ناقص غذا کی بو دو منٹ تک سونگھنے سے دماغ میں اسے کھانے کی اشتہا کم ہوجاتی ہے اور وہ آگے چل کر اسے کھانے سے بھی روکتی ہے۔

اس لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر آپ فاسٹ فوڈ کھانے کی لت ختم نہیں ہورہی تو اس کی خوشبو سونگھ کر اسے کم کرنے پر توجہ دیں۔

یہ چائے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار گھریلو ٹوٹکا

ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔

2017 کے ایک سروے میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ پونے 4 کروڑ پاکستانی ذیابیطس کا شکار ہیں یعنی ہر چوتھا یا پانچواں پاکستانی اس موذی مرض میں مبتلا ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ آپ اس مرض سے خود کو بچانے کے لیے کچن میں موجود ایک عام چیز سے مدد لے سکتے ہیں۔

اور وہ چیز ہے کلونجی، جو لگ بھگ ہر گھر میں موجود ہوتا ہے۔

کھانوں کو ذائقہ اور مہک دینے سے ہٹ کر بھی یہ سیاہ بیج متعدد طبی فوائد کے حامل ثابت ہوتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود وٹامنز، امینیو ایسڈز، پروٹینز، فیٹی ایسڈز ، آئرن، پوٹاشیم، کیلشیئم اور متعدد دیگر اجزائ کی موجودگی ہے۔

کلونجی اور اس کا تیل گلیسمیک کنٹرول میں کردار ادا کرتا ہے اور بلڈشوگر کو کنٹرول میں رکھنے کا بہترین ٹوٹکا بھی ثابت ہوتا ہے۔

کلونجی سے بلڈشوگر لیول کیسے بہتر بنائیں؟َ

سب سے پہلے کلونجی کا تیل لیں اور پھر ایک کپ بغیردودھ کی چائے تیار کریں۔

اس چائے میں ڈھائی ملی لیٹر کلونجی کا تیل شامل کردیں اور اس گرم مشروب کا روزانہ استعمال کریں۔

بلکہ اس مکسچر کو دن میں دوبار صبح اور رات کو پینا عادت بنالیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کیا کیلے رات کو کھانا نقصان پہنچاتا ہے؟

کیلے انسانی صحت کے لیے چند بہترین پھلوں میں سے ایک ہے جس میں موجود غذائیت اور اینٹی آکسائیڈنٹس کا اجتماع اسے صحت کے لیے فائدہ مند بناتا ہے۔

یہ پوٹاشیم سے بھرپور پھل ہے جو کہ بلڈ پریشر لیول کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری جز ہے جبکہ خراب معدے کے لیے بھی یہ موثر ٹوٹکے کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس میں موجود فائبر آنتوں کے افعال درست رکھنے کے ساتھ قبض سے نجات دلانے میں مددگار ہے جبکہ جسمانی توانائی بڑھانے کے لیے بھی اسے فائدہ مند مانا جاتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کیلے کے بارے میں کچھ ممالک میں کہا جاتا ہے کہ اسے رات میں نہیں کھانا چاہئے کیونکہ اس سے نزلہ زکام اور کھانسی کا عارضہ شکار کرسکتا ہے یا ان علامات کو بدتر بناسکتا ہے۔

مگر کیا یہ واقعی درست ہے؟

تو طبی ماہرین کے مطابق یہ تاثر درست نہیں اور کیلوں کو دن میں کسی وقت بھی کھایا جاسکتا ہے۔

تاہم سونے سے قبل کھانے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اسے ہضم ہونے میں کافی وقت لگتا ہے اور اس کے نتیجے میں نیند متاثر ہوسکتی ہے جو کہ اگلی صبح آپ کے مزاج کو چڑچڑا اور سستی طاری کرسکتی ہے۔

ماہہرین کے مطابق اگر سونے سے 2 یا 3 گھنٹے پہلے کیلے کو کھایا جائے تو اس میں موجود میگنیشم اچھی نیند میں مدد بھی دیتا ہے۔

اسی طرح یہ بھی تاثر ہے کہ نہار منہ کیلے سے دور رہنا چاہئے کیونکہ اسے کھانے سے جسم میں میگنیشیم کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جو کہ خون میں شامل ہوکر دل کے لیے بے حد نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

اس بارے میں کافی متضاد رائے پائی جاتی ہے کہ ایسا واقعی ممکن ہے یا نہیں، تاہم اگر کیلوں کو دیگر غذاﺅں کے ساتھ کھایا جائے تو ماہرین پھر اسے نقصان دہ قرار نہیں دیتے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

چینی درخت سے حاصل شدہ مرکب کینسر سے لڑنے میں مددگار

نیویارک: ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ چین میں معدومیت کے خطرے سے دوچار چیڑ یا صنوبر کے درخت سے ایک مرکب حاصل کیا گیا ہے جو کئی اقسام کے کینسر میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

اس درخت کو انگریزی میں fir کہا جاتا ہے جس سے حاصل ہونے والا ایک مرکب دیگر دواؤں کے ساتھ استعمال کرنے سے کینسر میں افاقہ ہوسکتا ہے۔ امریکا میں پورڈیو یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر منگجی نے ڈائی چینی صنوبر کے درخت Abies beshanzuensis میں ’کمپاؤنڈ 29‘ مرکب دریافت کیا ہے۔

کمپاؤنڈ 29 ایک پروٹین SHP2 کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ اینزائم چھاتی، منہ، گیسٹرک، جگر، پھیپھڑے ، لیوکیمیا اور دیگر اقسام کے سرطان میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک عرصے سے ادویہ ساز ادارے ایس ایچ پی ٹو کو ہدف بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور اسے قابو کرکے سرطانی گومڑوں کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

اب ماہرین نے ایک نیا کمپاؤنڈ بنایا ہے جسے کمپاؤنڈ 30 کا نام دیا گیا ہے یہ ایس ایچ پی ٹو پروٹین سے چپک جاتا ہے اور اس سے مضبوط بند (بونڈ) بناتا ہے تاہم اس پر مزید غور کرنا باقی ہے۔

کمپاؤنڈ 30 جب ایس ایچ پی ٹو سے چپکتا ہے تو وہ مزید ایس ایچ پی ٹو پروٹین کو کھینچتا ہے لیکن اسے مزید طاقتور بنانے کے لیے اسے دیگر کئی ادویہ کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہے. اس دریافت سے کئی اقسام کے کینسر کے علاج کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

Google Analytics Alternative