صحت

ایک عام عادت جو صحت کے لیے تباہ کن

گزشتہ دنوں یہ بات سامنے آئی تھی کہ رات گئے کھانا کھانے کی عادت ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

مگر سونے سے کچھ دیر پہلے کھانا صرف دل کے لیے ہی نقصان دہ نہیں ہوتا بلکہ یہ دیگر بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔

درحقیقت طبی ماہرین سونے سے 2 گھنٹے پہلے کھانا کھانے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ نیند متاثر نہ ہو۔

رات کو سونے سے پہلے کچھ کھانے سے بلڈ شوگر لیول بڑھانے کا باعث بھی بنتی ہے۔

اس عادت کے نقصانات جان لیں۔

پیٹ کے ارگرد چربی کا ذخیرہ

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ سونے سے کچھ دیر پہلے کھانا کھاتے ہیں ان میں جسمانی چربی اور وزن جلد کھانے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ کھانے کا وقت جسمانی وزن اور ہارمونز پر بہت زیادہ اثرات مرتب کرتا ہے جبکہ میٹابولزم بھی سست ہوتا ہے۔

سینے میں جلن

جو لوگ رات گئے کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں سینے کی جلن کی شکایت بھی دیگر سے زیادہ ہوتی ہے، سینے میں جلن اس وقت ہوتی ہے جب معدے میں موجود ایسڈ غذائی نالی میں اوپر آجاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جن لوگوں کو سینے میں جلن کی شکایت رہتی ہے انہیں سونے سے کچھ پہلے کھانے سے گریز کرنا چاہئے، یہ عادت پیٹ پھولنے کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔

بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے

رات گئے کھانے سے بلڈ پریشر کی سطح بھی بڑھتی ہے خصوصاً وہ افراد جو پہلے ہی فشار خون کے عارضے کا شکار ہوں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض اگر سونے سے کچھ دیر پہلے کھانا کھاتے ہیں، ان میں آدھی رات کو بلڈ پریشر لیول مزید بڑھ جاتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ رات گئے کھانا بلڈ پریشر زیادہ نمک والی غذا سے بھی زیادہ بڑھاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سونے سے کچھ پہلے کھانے سے جسم الرٹ رہتا ہے اور تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمونز زیادہ بناتا ہے جس سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے۔

نیند متاثر ہوتی ہے

رات کی اچھی نیند صحت کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے مگر رات گئے کھانا آپ کو بستر پر کروٹیں بدلنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ ایسی غذائیں جن میں کیفین موجود ہو جیسے آئسکریم، کافی، چائے یا چاکلیٹ وغیرہ نیند پر اثرانداز ہوتی ہیں، کیونکہ ان کے استعمال سے ذہن زیادہ ہوشیار ہوجاتا ہے، زیادہ چربی یا چینی والی غذائیں بھی جسم کو اس وقت توانائی دیتی ہیں جب وہ سونے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

دانتوں کے مسائل

رات گئے کچھ ہلکا پھلکا کھانا منہ کی صحت کو بھی متاثر کرسکتا ہے، خاص طور پر خشک میوہ یا ایسی چیز جو منہ میں چپک جائے کیونکہ اس سے دانتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ دانتوں پر چپکنے والی غذا دانتوں پر دیر تک چپکے رہتی ہیں، اگر کبھی ایسا کرلیں تو سونے سے پہلے اچھی طرح کلیاں اور خلال کریں۔

جسمانی گھڑی متاثر ہوتی ہے

ہر انسان میں ایک گھڑی ہوتی ہے جو مخصوص کام جیسے نیند اور جاگنے کے اوقات کا تعین کرتی ہے، یہ گھڑی ہمارے جسم کو مجبور کرتی ہے کہ یہ وقت کھانا ہضم کرنے کا ہے، یہ وقت آرام کرنے کا ہے اور جب اس قدرتی عمل کو متاثر کیا جاتا ہے مختلف جسمانی افعال بھی متاثر ہوتے ہیں۔

گرم موسم کی شدت کم کرنے والے مزیدار پھل

موسم گرما کی شدت میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور اندازہ ہورہا ہے کہ آنے والے مہینے کتنے سخت ہوسکتے ہیں۔

اس موسم میں پانی کی زیادہ مقدار کو پینا اور ہلکے پھلکے کپڑوں کا استعمال گرمی کی شدت کو کسی حد تک کم کرسکتے ہیں۔

مگر چند مخصوص پھلوں کو اپنی غذا کا حصہ بناکر بھی آپ جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ رکھ کر شدیدگرمی کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔

شدید گرمی صرف پریشانی کا باعث ہی نہیں بنتی بلکہ اس سے پیٹ کے امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے جبکہ سونے میں مشکلات، جسمانی تھکاوٹ اور ذہنی توجہ بھی متاثر ہوتی ہے۔

درج ذیل پھل جسم کو ٹھنڈک دینے کے ساتھ زہریلے مواد کو خارج کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

کیلے

اگر آپ کو کیلے کھانا پسند نہیں تو گرم موسم میں اسے کھانا ضرور عادت بنالیں، یہ پھل پانی کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے زیادہ پسینے کے اخراج سے جسم میں ہونے والی پانی کی کمی کے اثر کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ پھل پوٹاشیم سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جسمانی توانائی بحال رکھنے کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

خربوزے

رسیلا اور مزیدار ہونے کے ساتھ ساتھ یہ صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند بھی ہے جس میں اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز اور دیگر اجزا موجود ہیں، جن کی بدولت بینائی بہتر ہوتی ہے، بلڈ پریشر مستحکم رہتا ہے، دورانِ خون بڑھتا ہے۔ اس میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو اس موسم میں پانی کی کمی دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔

کھیرے

جی ہاں کھیرے سبزی نہیں بلکہ پھل ہوتے ہیں اور یہ جسم کو پانی کی وافر مقدار ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ متعدد اقسام کے وٹامنز اور منرلز بھی بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ اضافی جسمانی وزن میں کمی کے مقصد میں مدد بھی دیتا ہے جبکہ اس میں موجود وٹامن بی، پوٹاشیم اور میگنیشم دیگر فوائد فراہم کرتے ہیں۔

اسٹرابیری

کھیروں کی طرح اسٹرابیری میں بھی پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کو کھانا گرم موسم کی شدت سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے، اور اس پھل کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بہت مزیدار بھی ہوتا ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم بلڈپریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ اس میں موجود فائبر قبض سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

تربوز

تربوز میں پانی کی مقدار 92 فیصد ہوتی ہے اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے جو گرمیوں میں ہی دستیاب ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف گرمی سے لڑنے والا پھل ہے بلکہ یہ جسم کو وٹامن اے، بی اور سی کے ساتھ پوٹاشیم، لائیکوپین اور دیگر فامند اجزا بھی فراہم کرتا ہے۔

فالسے

لاتعداد افراد ایسے ہوں گے جو یہ کہیں گے کہ فالسے ان کے پسندیدہ پھلوں میں سے ایک ہے۔ اس کا جوس بنائیں یا ویسے ہی کھائیں، کچھ دنوں کے لیے آنے والا یہ پھل کئی طرح منہ کے ذائقہ بہتر بنانے کا کام کرتا ہے۔ مگر کیا آپ کو صحت کے لیے اس کے فوائد کا علم ہے؟ جن میں سے ایک ہیٹ اسٹروک سے بچاﺅ بھی ہے؟

یہ آسان نسخہ موٹاپے کو دور بھگائے

یہ اکثر مشورہ دیا جاتا ہے کہ موٹاپے سے پریشان افراد غیر ضروری وزن سے چھٹکارے کے لیے زیادہ پانی پینا عادت بنالیں۔

اور اب ایک نئی طبی تحقیق میں اس کو سند فراہم کردی گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق پانی پینا خاص طور پر کھانے سے پہلے 500 ملی لیٹر پانی پینا موٹاپے سے نجات کے لیے بہترین نسخہ ثابت ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے موٹاپے کے شکار مرد و خواتین کو 2 گروپس میں تقسیم کیا۔

ایک گروپ کو کم کیلوریز پر مشتمل غذا فراہم کی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو اسی غذا کے ساتھ زیادہ پانی پینے کی ہدایت کی گئی۔

12 ہفتے بعد نتائج سے معلوم ہوا کہ جس گروپ کو کم کیلوریز کی غذا اور کھانے سے آدھے گھنٹے قبل 2 گلاس پانی پینے کی ہدایت کی بئی ان کا جسمانی وزن اس عرصے میں 8 سے 10 کلو تک کم ہوگیا۔

پہلے گروپ کا جسمانی وزن بھی 5 سے 8 کلو تک کم ہوا۔

محققین کے خیال میں زیادہ پانی پینے کی وجہ سے لوگ بہت کم کیلوریز کو اپنے جسم کا حصہ بناسکیں اور انہوں نے پہلے گروپ کے مقابلے میں ہر کھانے میں 40 فیصد کم کیلوریز کا استعمال کیا۔

اس تحقیق سے سابقہ رپورٹس کی تصدیق ہوتی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ کھانے سے پہلے پانی پینے کے نتیجے میں فی فرد کیلوریز کے استعمال میں اوسطاً 200 تک کمی آتی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے لوگوں کو روزانہ زیادہ پانی پینے کو عادت بنالینا چاہئے خصوصاً کھانے سے ایک یا آدھے گھنٹے پہلے 2 گلاس پانی ضرور استعمال کریں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

گرمیوں کی یہ سوغاتیں بلڈپریشر کو کنٹرول کرنے میں مددگار

فشار خون یا بلڈ پریشر کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے جو آہستہ آہستہ جسم کو مختلف امراض کا شکار کرکے موت کی جانب لے جاتا ہے خاص طور پر اس کے شکار افراد میں شدید غصہ دماغ کو جانے والی شریان کے پھٹنے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے جس سے فالج جیسا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔

اس مرض کے شکار افراد کے لیے غذا بھی خاص ہوتی ہے خاص طور پر نمک سے گریز کیا جاتا ہے تاہم ایسی خوراک کی کمی نہیں جو منہ کا مزہ بھی برقرار رکھتی ہیں اور بلڈپریشر کو بھی قدرتی طور پر متوازن سطح پر رکھتی ہیں۔

ایک سروے کے مطابق تقریبا 52 فیصد پاکستانی آبادی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے اور 42 فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہیں۔

ایسے ہی چند فوڈز کے بارے میں جاننا آپ کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوسکتا ہے جو اس موسم میں عام دستیاب ہوتے ہیں۔

تربوز

جریدے امریکن جرنل آف ہائپرٹینشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق تربوز موٹاپے یا ذہنی تنا? کے شکار افراد میں بلڈ پریشر کو نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ تربوز کھانے کے بعد شریانوں اور دل پر خون کا دبا?ﺅکم ہوجاتا ہے۔

کیلے

آسانی سے دستیاب یہ پھل پوٹاشیم سے بھرپور ہوتا ہے اور اسے آسانی سے روزمرہ کی غذا کا حصہ بھی بنایا جاسکتا ہے جس کے لیے زیادہ خرچہ بھی نہیں ہوتا۔ ایک کیلا، جسم کو روزانہ درکار ایک فیصد کیلشیئم، 8 فیصد میگنیشم اور 12 فیصد پوٹاشیم فراہم کرتا ہے۔ خیال رہے کہ بلڈپریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے پوٹاشیم انتہائی اہم جز ہے۔

اسٹرابیری

تمام بیریز دل کو صحت مند رکھنے والے کمپاﺅنڈ فلیونوئڈز سے بھرپور ہوتی ہیں اور یہ اینٹی آکسائیڈنٹ سے بھی بھرپور ہوتی ہیں جو بلڈپریشر کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جرنل آف دی اکیڈمی آف نیوٹریشن اینڈ Dietetics میں شائع ایک تحقیق کے مطابق اسٹرابیری یا کسی بھی قسم کی بیری کو روزانہ استعمال کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔

آم

امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ موسم گرما میں ہر ایک کو پسند یہ پھل متعدد طبی فوائد کا حامل ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق آم کو کھانا بلڈ پریشر کو بہتر کرتا ہے، بلڈ شوگر کو کنٹرول جبکہ پیٹ کی صحت بہتر بناتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ آموں کو کھانے کی عادت میٹابولک امراض اور ورم کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

دہی

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جو خواتین ہفتہ بھر میں 5 یا اس سے زائد مرتبہ دہی کھاتی ہیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ ان خواتین کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے جو دہی کھانا پسند نہیں کرتیں۔ تو دہی کو روزانہ کھائیں اور صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہو۔

چقندر

چقندر میگنیشم اور پوٹاشیم سے بھرپور سبزی ہے جو کہ ہائی بلڈ پریشر سے مقابلے کے لیے بہترین اجزا ہیں۔ اسی طرح ان میں غذائی نائٹریٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ نظام ہضم کے دوران یہ جز نائٹرک آکسائیڈ میں ہوجاتا ہے اور جذب ہوکر بلڈ پریشر پر مثبت انداز سے اثرات مرتب کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

پھل اور سبزیوں کا استعمال ہارٹ فیل کا خطرہ 41 فیصد تک کم کرتا ہے

سبزیوں، پھلوں، پھلیوں اور مچھلی کا باقاعدگی سے استعمال دل کے امراض بالخصوص جان لیوا ہارٹ فیل کے خطرے کو 41 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

اس امر کا انکشاف برطانیہ کے مشہور مایو کلینک کے ماہرین نے ایک طویل سروے کے بعد کیا ہے۔ ڈاکٹروں کا اصرار ہے کہ اگر آپ دل کے جان لیوا دورے سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو گوشت، روغنی کھانے ، میٹھے مشروبات، کولااور فاسٹ فوڈ کو ترک کرکے سبزیوں، پھل، پھلیوں اور مچھلی کھانے کو اپنا شعار بنائیں۔

واضح رہے کہ ہارٹ فیل کی کیفیت میں دل کو خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور پوری دنیا میں اس مرض میں خوفناک اضافہ ہورہا ہے اور اب یہ عالمی وبا کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ روچیسٹر میں واقع مایو کلینک کی ماہرِ قلب ڈاکٹر کائلا لارا نے پانچ اقسام کی غذائی عادات یا طریقوں اور دل کے امراض کے درمیان تعلق کا مشاہدہ کیا ہے ۔ اس کےلیے انہوں نے ایسے مریضوں کا انتخاب کیا جو اب دل کے مریض بن چکے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ جنوبی غذا (سدرن ڈائیٹ) سے دل کے دورے کا خطرہ 72 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جن میں انڈے، فرائیڈ فوڈ، روغنی غذائیں، پروسیس شدہ گوشت اور شکر سے بھرپور مشروبات شامل ہیں۔ اس کے برخلاف پودوں سے حاصل ہونے والی سبزیاں اور پھل دل کے لیے بہتر ثابت ہوتے ہیں  اور دل کے امراض کے خطرے کو 41 فیصد کم کرتے ہیں۔

مایو کلینک کے ماہرین نے کہا ہےکہ ہزاروں مریضوں پر تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ تازہ پھل اور سبزیاں اپنے کئی خواص کی بنا پر دل کوکئی امراض سے محفوظ رکھتی ہیں۔ اسی لیے اپنی خوراک میں سبزیوں کا استعمال ضرور بڑھائیں۔

جسم میں پانی کی کمی کے بارے میں جاننا بہت آسان

 روزمرہ کے کاموں میں مناسب مقدار میں پانی پینا بھول جانا بہت آسان ہوتا ہے، مگر گرمیاں شروع ہوچکی ہیں تو یہ بہت ضروری ہے کہ اپنے جسم کو ہائیڈریٹ رکھا جائے۔

اگر آپ مناسب مقدار میں پانی کا استعمال نہیں کریں گے تو سردرد، متلی اور توجہ مرکوز کرنے جیسی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ قبض سمیت دیگر امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

آپ نے یہ تو سنا ہی ہوگا کہ دن بھر میں گلاس پانی پینا جسم کے لیے ضروری ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسا ضروری نہیں کیونکہ ہائیڈریشن کے لیے ہر ایک کی ضروریات مختلف ہوسکتی ہیں۔

تاہم اس وقت کیسے جانا جائے کہ آپ کا جسم پانی کی کمی کا شکار ہورہا ہے؟ تو یہ جاننا بہت آسان ہے بلکہ چند سیکنڈ میں آپ یہ جان سکتے ہیں۔

درحقیقت اس کے لیے آپ کو جلد کا ایک آسان ٹیسٹ کرنا ہے۔

جیسا آپ کو معلوم ہوگا کہ جلد لچکدار ہوتی ہے یا بہت آسانی سے اپنی ساخت بدل کر معمول کی شکل میں واپس آجاتی ہے۔

اور پانی کی مقدار جلد کی لچک پر اثرانداز ہوتی ہے تو اگر آپ کی جلد نارمل ہو تو ساخت بدلنے پر بہت تیزی سے اصل شکل میں واپس آتی ہے۔

تو اس ٹیسٹ کے لیے اپنے ہاتھ کی پشت کے کسی حصے کی جلد کو چٹکی میں چند سیکنڈ کے لیے پکڑیں اور پھر چھوڑ دیں۔

اگر تو وہ فوری طور پر اصل شکل میں واپس چلی جائے تو آپ کے جسم میں مناسب مقدار میں پانی موجود ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو آپ کو پانی کا گلاس بھر کر پی لینا چاہئے۔

اگر جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو تو جلد کو معمول کی ساخت میں واپس جانے کے لیے کچھ زیادہ وقت لگتا ہے۔

ویسے اگر آپ اس ٹیسٹ میں پاس ہو بھی جاتے ہیں تو پانی پی لینے میں کوئی حرج نہیں۔

بہت زیادہ میٹھا کھانے کا یہ نقصان جانتے ہیں؟

اگر تو آپ کو منہ میٹھا کرنے کا بہت زیادہ شوق ہے تو جان لیں کہ یہ عادت صرف ذیابیطس کا خطرہ ہی نہیں بڑھائے گی بلکہ اس سے ہٹ کر بھی یہ عادت دماغی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ انتباہ حال ہی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کی تحقیق میں سائنسدانوں نے بلڈ شوگر گلوکوز اور الزائمر امراض کے درمیان تعلق کو دیکھا۔

تحقیق کے مطابق خون میں گلوکوز کی اضافی مقدار ان اہم خامروں کو نقصان پہنچاتا ہے جو کہ الزائمر کی ابتدائی علامات کی روک تھام کا کام کرتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ بلڈ شوگر کی بہت زیادہ مقدار جسے ذیابیطس اور موٹاپے کا باعث بھی سمجھا جاتا ہے، دماغ کے لیے امزائمر امراض کا باعث بھی بنتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو میٹھی چیزیں بہت زیادہ کھاتے ہیں مگر ذیابیطس کے شکار نہیں، ان میں بھی الزائمر کا امراض کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران صحت مند افراد کے دماغی نمونوں کو لیا گیا اور معلوم ہوا کہ الزائمر کی ابتدائی سطح پر ایک خامرہ ایم آئی ایف گلیسٹین نامی ایک پراسیس کو نقصان پہنچاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ یہ خامرہ دماغی تبدیلیاں لاکر الزائمر کی ابتدا کرتا ہے اور اب ہم خون میں اسی طرح کی تبدیلیوں کو شناخت کرنے کے لیے مزید تحقیق کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ چینی کا استعمال تو سب کو معلوم ہے کہ نقصان ہے یعنی ذیابیطس اور موٹاپے کا باعث بنتا ہے مگر دماغی امراض سے اس کا تعلق ایک اور وجہ ہے کہ ہم اپنی غذا میں مٹھاس کے استعمال کو کنٹرول کریں۔

ایک عام عادت جو صحت کے لیے تباہ کن

گزشتہ دنوں یہ بات سامنے آئی تھی کہ رات گئے کھانا کھانے کی عادت ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

مگر سونے سے کچھ دیر پہلے کھانا صرف دل کے لیے ہی نقصان دہ نہیں ہوتا بلکہ یہ دیگر بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔

درحقیقت طبی ماہرین سونے سے 2 گھنٹے پہلے کھانا کھانے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ نیند متاثر نہ ہو۔

رات کو سونے سے پہلے کچھ کھانے سے بلڈ شوگر لیول بڑھانے کا باعث بھی بنتی ہے۔

اس عادت کے نقصانات جان لیں۔

پیٹ کے ارگرد چربی کا ذخیرہ

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ سونے سے کچھ دیر پہلے کھانا کھاتے ہیں ان میں جسمانی چربی اور وزن جلد کھانے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ کھانے کا وقت جسمانی وزن اور ہارمونز پر بہت زیادہ اثرات مرتب کرتا ہے جبکہ میٹابولزم بھی سست ہوتا ہے۔

سینے میں جلن

جو لوگ رات گئے کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں سینے کی جلن کی شکایت بھی دیگر سے زیادہ ہوتی ہے، سینے میں جلن اس وقت ہوتی ہے جب معدے میں موجود ایسڈ غذائی نالی میں اوپر آجاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جن لوگوں کو سینے میں جلن کی شکایت رہتی ہے انہیں سونے سے کچھ پہلے کھانے سے گریز کرنا چاہئے، یہ عادت پیٹ پھولنے کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔

بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے

رات گئے کھانے سے بلڈ پریشر کی سطح بھی بڑھتی ہے خصوصاً وہ افراد جو پہلے ہی فشار خون کے عارضے کا شکار ہوں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض اگر سونے سے کچھ دیر پہلے کھانا کھاتے ہیں، ان میں آدھی رات کو بلڈ پریشر لیول مزید بڑھ جاتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ رات گئے کھانا بلڈ پریشر زیادہ نمک والی غذا سے بھی زیادہ بڑھاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سونے سے کچھ پہلے کھانے سے جسم الرٹ رہتا ہے اور تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمونز زیادہ بناتا ہے جس سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے۔

نیند متاثر ہوتی ہے

رات کی اچھی نیند صحت کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے مگر رات گئے کھانا آپ کو بستر پر کروٹیں بدلنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ ایسی غذائیں جن میں کیفین موجود ہو جیسے آئسکریم، کافی، چائے یا چاکلیٹ وغیرہ نیند پر اثرانداز ہوتی ہیں، کیونکہ ان کے استعمال سے ذہن زیادہ ہوشیار ہوجاتا ہے، زیادہ چربی یا چینی والی غذائیں بھی جسم کو اس وقت توانائی دیتی ہیں جب وہ سونے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

دانتوں کے مسائل

رات گئے کچھ ہلکا پھلکا کھانا منہ کی صحت کو بھی متاثر کرسکتا ہے، خاص طور پر خشک میوہ یا ایسی چیز جو منہ میں چپک جائے کیونکہ اس سے دانتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ دانتوں پر چپکنے والی غذا دانتوں پر دیر تک چپکے رہتی ہیں، اگر کبھی ایسا کرلیں تو سونے سے پہلے اچھی طرح کلیاں اور خلال کریں۔

جسمانی گھڑی متاثر ہوتی ہے

ہر انسان میں ایک گھڑی ہوتی ہے جو مخصوص کام جیسے نیند اور جاگنے کے اوقات کا تعین کرتی ہے، یہ گھڑی ہمارے جسم کو مجبور کرتی ہے کہ یہ وقت کھانا ہضم کرنے کا ہے، یہ وقت آرام کرنے کا ہے اور جب اس قدرتی عمل کو متاثر کیا جاتا ہے مختلف جسمانی افعال بھی متاثر ہوتے ہیں۔

Google Analytics Alternative