صحت

جلد کا جتنا خیال رکھتے ہیں اتنی توجہ بالوں کو بھی دیں

خواتین اور مرد دونوں ہی یہ چاہتے تو ضرور ہیں کہ ان کے بال صحت مند، چمکدار اور گھنے ہوں لیکن کبھی کبھار ان کا خیال اس طرح نہیں رکھنے جتنا اپنی باقی چیزوں کا رکھتے ہیں اور انہیں نظر انداز کردیتے ہیں۔

لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے بال گرنے کی صورت میں شخصیت کی کشش کم ہوتی جاتی ہے اور پھر ہم اس مسئلے کا علاج ڈھونڈنا شروع کرتے ہیں کہ آخر بال اتنا گر کیوں رہے ہیں؟

اگر شروع سے ہی اپنی جلد کی طرح بالوں کا خیال بھی رکھا جائے تو یقیناً بڑھتی عمر کا اثر جلد پر تو نظر آئے گا البتہ بال اس ہی طرح گھنے اور چمکدار رہیں گے۔

بالوں کا گرنا اور ان میں سفیدی آنا دو بہت بڑے مسئلے ہیں جن کا شکار تقریباً سب ہی ہوتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ بالوں کی صحت اور غذائی عادات کے درمیان براہ راست تعلق موجود ہے، تازہ اور صحت مند غذا استعمال کرنے ست بالوں کا مزید بہتر خیال رکھا جاسکتا ہے۔

وٹامن بی 12 کی کمی کے لیے چکن

وٹامن بی 12 کی کمی نہ صرف قبل از وقت بالوں کی سفیدی کا باعث بنتی ہے بلکہ یہ دیگر طبی مسائل کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔ انڈوں اور دودھ کے ساتھ ساتھ چکن بھی جسم میں بی 12 کی سطح بڑھانے میں مددگار غذا ہے۔

سبز سبزیوں کا استعمال

جتنا ہوسکے سبز سبزیوں کا استعمال کرنے کی عادت سفید بالوں کی روک تھام کرتی ہے کیونکہ یہ فولک ایسڈ، وٹامن بی 6 اور بی 12 کے حصول کا ایک آسان قدرتی ذریعہ ہے، سبز پتوں والی سبزیوں کو اپنی روزمرہ کی غذا میں خام شکل میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔

سفید بالوں کی روک تھام کے لیے دالیں

امینو ایسڈز بالوں کی رنگت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دالوں کا استعمال جسم میں خون کے سرخ خلیات کی مقدار کو بڑھاتا ہے جبکہ وہ وٹامن بی 9 اور بی 12 کے حصول کا قدرتی ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔

گاجریں کیروٹین بڑھائیں

گاجروں میں کیروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جسے گرتے بالوں کی روک تھام کے لیے بہترین تصور کیا جاتا ہے۔ روزانہ گاجر کا جوس پینا یا کھانے سے بالوں کا گھنا پن بڑھتا ہے اور ان کا گرنا بھی رک جاتا ہے۔

صحت مند بالوں کے لیے دہی

دہی پروٹینز سے بھرپور ہوتا ہے اور اینٹی آکسائیڈنٹ فراہم کرتا ہے جو بالوں کی صحت اور نشوونما میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ دہی صحت مند بالوں کے لیے ضروری ہے اور آپ کھوپڑی کی غذا بھی کہہ سکتے ہیں۔

مسلز بنانے کے لیے بہترین عمر کیا ہے؟

اگر آپ مسلز بنانا چاہتے ہیں مگر دہائیوں تک ورزش سے دور رہے ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ کسی بھی عمر میں اس مقصد کو حاصل کرنا ممکن ہے۔

درحقیقت عمر کی 7 ویں یا 8 ویں دہائی میں ورزش کرنے سے بھی بہت زیادہ حاصل کیا جاسکتا ہے، چاہے ساری عمر بیٹھ کر ہی کیوں نہ گزاری ہو۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برمنگھم یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بڑھاپے میں بھی جم جاکر مسلز بنانا ممکن ہے۔

درحقیقت بڑھاپے میں بھی ایسے مسلز بنائے جاسکتے ہیں جو اس عمر کے بہت زیادہ تربیت یافتہ ایتھلیٹس کے ہوسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتاءجسے ثابت ہوتا ہے کہ زندگی میں فٹنس کے حصول میں کبھی بھی تاخیر نہیں ہوتی، یہاں تک کہ سیڑھیاں چڑھنا بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے فرنٹیئرز ان فزیولوجی جرنل میں شائع ہوئے، جس کے دوران بزرگ افراد کے 2 گروپس میں مسلز بنانے کی صلاحیت کا موازنہ کیا گیا۔

پہلے گروپ کو ماہر ایتھلیٹ قرار دیا گیا جن میں 70 اور 80 سال سے زائد عمر کے 7 افراد شامل تھے اور تاحال کھیلوں کی اعلیٰ سطح میں حصہ لیتے تھے۔

دوسرا گروپ اسی عمر کے 8 صحت مند افراد پر مشتمل تھا مگر انہوں نے کبھی ورزش کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔

ہر شخص کو مختلف ورزشیں کرنے کا کہا گیا جن میں وزن اٹھانے والی مشین ایکسرسائز مشین بھی شامل تھی۔

محققین نے ورزش سے 48 گھنٹے پہلے اور ورزش کے 48 گھنٹے بعد مسلز کے نمونے لیے اور دیکھا گیا کہ ورزش سے مسلز پر کس حد تک اثرات مرتب ہوئے۔

پھر دیکھا گیا کہ پروٹین کس طرح مسلز میں بن رہے ہیں۔

محققین کا خیال تھا کہ ماہر ایتھلیٹ کی مسلز بنانے کی صلاحیت زیادہ ہوگی کیونکہ وہ طویل عرصے سے جسمانی فٹنس کو برقرار رکھے ہوئے تھے۔

مگر نتائج سے معلوم ہوا کہ ورزش بنانے کے حوالے سے دونوں گروپس کی مسلز بنانے کی گنجائش یکساں ہے۔

محققین کے مطابق نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ زندگی بھر ورزش کرتے رہے ہو یا نہیں، مگر آپ کسی بھی عمر میں ورزش کرنا شروع کرکے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یقیناً طویل المعیاد بنیادوں پر ورزش اچھی صحت کے لیے زیادہ بہتر ہوتی ہے مگر درمیانی عمر یا بڑھاپے میں ورزش کرنا بھی عمر بڑھنے سے آنے والی مسلز کی کمزوری کی روک تھام میں مدد دے سکتا ہے۔

ان کے بقول چہل قدمی اور سیڑھیاں چڑحنا یا سودا سلف سے بھرا تھیلے اوپر نیچے کرنا بھی ورزش سمجھے جاسکتے ہیں اور فائدہ پہنچاتے ہیں۔

موٹاپے سے نجات دلانے میں مددگار مزیدار چائے

ایسی متعدد غذائیں ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ کرشماتی طور پر اضافی جسمانی وزن میں کمی لاسکتی ہیں ، ان میں سے کچھ ٹھیک ہوتی ہیں اور کچھ نہیں۔

بنیادی طور پر صحت بخش غذا اور جسمانی طور پر متحرک رہنا ایسا امتزاج ہے جو جسمانی وزن کو موثر طریقے سے کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی لانے والی غذا کا استعمال اس حوالے سے ضروری ہوتا ہے۔

سبز چائے اور ہربل چائے وغیرہ اس حالے سے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتی ہیں مگر ایک اور چائے بھی ہے جس سے آپ اضافی چربی کو گھلانے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

اور یہ ہے سیب اور ادرک سے بننے والی چائے، جو کہ توند کی چربی کو گھلانے کے لیے کرشماتی ثابت ہوسکتی ہے، جسمانی وزن میں کمی کے ساتھ ساتھ یہ چائے ذائقے میں بہترین ہوتی ہے۔

اس چائے کو دودھ کے بغیر تیار کیا جاتا ہے مگر اس میں موجود سیب اور ادرک اضافی جسمانی وزن کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر سیب کیلوریز میں کم ہوتے ہیں مگر اس میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اسی وجی سے یہ جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے بہترین پھل ہے کیونکہ یہ بھوک کو کنٹرول کرتا ہے۔

سیب جسمانی مدافعتی نظام مضبوط کرتے ہیں، ہاضمہ بہتر اور جسم سے زہریلے مواد کے اخراج میں مدد دیتے ہیں۔

اسی طرح ادرک اینٹی آکسائیڈنٹس اور دیگر فائدہ مند اجزا سے بھرپور ہوتی ہے جو چربی گھلانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ نظام ہاضمہ بھی بہتر ہوتا ہے۔

اس میں موجود مرکبات بلڈشوگر لیول کو کنٹرول کرتے ہیں، اس لیے یہ ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے بھی بہترین ہے۔

یہ چائے جسم کو سکون بھی پہنچاتی ہے۔

اجزا

ایک سیب

ایک انچ کی ادرک

3 کپ پانی

ایک چائے کا چمچ شہد

بنانے کا طریقہ

سب سے پہلے سیب کو چھیل کر چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔

اس کے بعد ادرک کو چھیل لیں اور پھر کدوکش کرلیں۔

پھر پانی کو سیب اور ادرک کے ٹکڑوں کے ساتھ 10 سے 12 منٹ تک ابال لیں۔

اس کے بعد چولہا بند کرکے مکسچر کو چند منٹ کے لیے ٹھنڈا ہونے دیں۔

آخر میں اس مکسچر کو بلینڈر میں ڈال کر اچھی طرح بلینڈ کرلیں اور شہد کا اضافہ کرلیں، سیب۔ادرک چائے تیار۔

اس چائے کو گرم پینا بہتر ہوتا ہے اور زیادہ اچھا یہ ہے کہ نہار منہ یا خالی پیٹ پینا عادت بنائیں تاکہ زیادہ بہتر نتائج حاصل ہوسکیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

دانتوں کی تکلیف دہ فلنگ ماضی کا حصہ بننے کے قریب

دانتوں میں فلنگ کرانا ایک عام رجحان ہے جو کہ کافی مہنگا اور تکلیف دہ طریقہ علاج ثابت ہوتا ہے، تاہم یہ طریقہ علاج بہت جلد ماضی کا قصہ بن سکتا ہے کیونکہ سائنسدانوں نے دانتوں کی سطح کو کامیابی سے اگانے کا طریقہ دریافت کرلیا ہے۔

اگرچہ متعدد لیبارٹریوں میں دانتوں کی اوپری حفاظتی تہہ کو دوبارہ بنانے کی کوشش کی ہے، مگر اس کی پیچیدہ ساخت کے باعث ناکامی کا سامنا ہوا۔

دانتوں کی سطح انسانی جسم کا سخت ترین ٹشو ہوتا ہے مگر اسے نقصان پہنچ جائے تو اس کی مرمت ناممکن ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کیوٹیز کا امنا ہوتا ہے اور اس سے نجات کے لیے دانت نکلوانا پڑتا ہے یا فلنگ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

فلنگز عام طور پر بیرونی میٹرول یل میٹل، پروسلین یا دیگر سے بنائی جاتی ہے تو وہ دانتوں کی سطح پر مستقل نہیں رہ پاتی اور اکثر ڈھیلی ہوجاتی ہے۔

مگر اب چین کی ژجیانگ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین نے ایسا خصوصی جیل تیار کیا ہے جو دانتوں کی مرمت کو ممکن بنائے گا اور فلنگز کی ضرورت سے نجات دلا دے گا۔

محققین نے کیلشیئم اور فاسفورس سے ایک جیل تیار کیا ہے جو دانتوں کی حقیقی سطح کے بلاکس تیار کرتا ہے جس سے دانتوں کی مرمت میں مدد ملتی ہے۔

سائنسدانوں نے اس جیل کو ایسڈ سے متاثر اور مریضوں کے منہ سے نکالے جانے کے بعد آزما کر دیکھا۔

اس جیل کو لگا کر دانتوں کو ایسے سیال کے ڈبوں میں 48 گھنٹے کے لیے رکھ دیا گیا جو انسانی منہ جیسے ماحول کی نقل تھے۔

اس دورانیے کے دوران جیل نے نئی سطح کی نشوونما کو متحرک کیا اور مائیکرو اسکوپی سے دریافت کیا گیا ان میں عام سطح کی طرح کیلشیئم اور فاسفورس کرسٹل کی تہہ بن گئی۔

محققین کے مطابق ایسا عام دانتوں کی نشوونما میں ہوتا ہے، ان کی سطح پر ایسی تہہ ہوتی ہے جس میں کیلشیئم اور فاسفورس کے ذرات ہوتے ہیں، جیل کے استعمال سے اسی وجہ سے تہہ بننے کا عمل شروع ہوا۔

سطح پر یہ نئی کوٹنگ صرف 3 مائیکرو میٹر موٹی تھی جو کہ دانتوں کی صحت مند سطح سے 400 گنا پتلی تھی مگر محققین کا کہنا تھا کہ جیل کا بار بار استعمال اس مرمت شدہ تہہ کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔

اب اس جیل کی آزمائش چوہوں پر کی جارہی ہے اور اس کے بعد توقع ہے کہ لوگوں پر اسے آزمایا جائے گا۔

سائنسدان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس جیل میں موجود کیمیکل محفوظ ہیں اور منہ کے اندر تہہ بنانے کا کام کرسکیں گے، چاہے اس دوران لوگ کھانا بھی کھائیں۔

انڈا ایسی غذا جو بانجھ پن کا خطرہ کم کردے

شادی کے بعد ہر جوڑے کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے ہاں جلد سے جلد اولاد کی پیدائش ہو لیکن ایسا نہ ہونے پر ان کے تعلق میں دوری بھی آسکتی ہے۔

گزرتے سالوں کے ساتھ بانجھ پن کا مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی وجہ عام طور پر آلودگی، نیند کی کمی اور طرز زندگی کی چند دیگر عادات ہوتی ہیں۔

آج کل خواتین میں ‘PCOS’ نامی بیماری بھی تیزی سے پھیل رہی ہے، اس بیماری کے باعث خواتین کے ہاں بچے کی پیدائش میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ضروری نہیں کہ کوئی مرد یا خاتون بانجھ ہو درحقیقت ہارمونز کا نظام درست نہ ہونا بھی بچوں کی پیدائش میں تاخیر کا باعث بن جاتا ہے۔

ہارمونز کو متاثر کرنے والے کیمیکلز اور ذہنی تناﺅ ہمارے جسم پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

تاہم طبی سائنس کا کہنا تھا کہ غذائی عادات بھی اس خطرے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں اور انڈا ان میں سب سے اہم مانا جاتا ہے۔

انڈوں میں کولائن نامی جز موجود ہوتا ہے جو بانجھ پن کے خطرے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ بھی یہ مختلف وٹامنز اور منرلز کا مجموعہ ہوتے ہیں جو مختلف طبی فوائد کا باعث بنتے ہیں۔

انڈے کے علاوہ مچھلی، انار اور اخروٹ بھی ایسی غذاؤں میں شامل ہیں جو بانجھ پن کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا سائٹس کا زیادہ استعمال کس حد تک نقصان دہ؟

سوشل میڈیا سائٹس جیسے انسٹاگرام، ٹوئٹر اور فیس بک کا استعمال معمول بنالینا صارف پر تناﺅ بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں ان کی لت کا خطرہ بڑھتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برطانیہ کی لنکا شائر یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال لوگوں پر ذہنی بوجھ بڑھاتا ہے جس کی وجہ بار بار چیٹ، نیوز فیڈ اسکرول اور میسجنگ پر سوئچ ہونا ہوتا ہے۔

وقت کے ساتھ یہ معمول لوگوں کے اندر منشیات کے عادی افراد جیسی لت بڑھاتا ہے۔

تحقیق کے دوران 444 فیس بک صارفین کی عادات کا جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ اس سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ فیس بک کے اندر صارفین مختلف سرگرمیوں کو بار بار سوئچ کرتے ہیں، جس سے ان میں تناﺅ یا دباﺅ بڑھتا ہے اور اسی تناﺅ کو کم کرنے کے لیے بھی لوگ ان سائٹس کا زیادہ استعمال کرنے لگتے ہیں، جس سے ان میں اضطراب اور شدت پسندانہ رویہ پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے نتیجے میں لوگوں کے اندر ایک لت پیدا ہونے لگتی ہے جو انہیں ان سائٹس پر زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے پر مجبور کرتی ہے۔

تحقیق کے مطابق صارفین کو اس سے بچنے کے لیے اپنے استعمال کے طریقہ کار کو بدلنا چاہیے بلکہ اس کا دورانیہ کم کرنا چاہیے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے انفارمیشن سسٹمز جرنل میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل رواں سال کے شروع میں مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹٰ کی تحقیق میں جائزہ لیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا کی لت کس حد تک انسانی رویوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال ایسے رویوں کو فروغ دیتا ہے جو کہ ہیروئین یا دیگر منشیات کے عادی افراد میں دیکھنے میں آتا ہے۔

اس تحقیق میں 71 رضاکاروں میں فیس بک کے استعمال کے اثرات دیکھے گئے اور ایک ٹیسٹ کا حصہ بنایا گیا جس سے پتا چلتا ہے کہ ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کس حد تک متاثر ہوچکی ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ جن رضاکاروں نے تسلیم کیا کہ وہ فیس بک پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں، انہوں نے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں ٹیسٹ میں انتہائی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

اس طرح کے آئی جی ٹی ٹیسٹ کو دماغی انجری کے شکار افراد سے لے کر ہیروئین کے عادی لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ اس سوشل میڈیا لت کو جانچنے کے لیے آزمایا گیا۔

ے 2017 میں امریکا کی ڈی پال یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا کہ سوشل میڈیا سائٹس جیسے فیس بک کا زیادہ استعمال دماغ کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دماغ کے دو مختلف میکنزم اس عادت کے نتیجے میں متاثر ہوتے ہیں جن میں سے ایک خودکار اور ردعمل کا اظہار کرتا ہے جبکہ دوسرا رویوں کو کنٹرول اور دماغی افعال کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

یہ دوسرا نظام لوگوں کو بہتر رویے کو اپنانے اور اضطراب پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔

اسی طرح امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ جو لوگ کسی المناک واقعے سے متعلق جاننے کے لیے سوشل میڈیا سائٹس کو بہت زیادہ چیک کرتے ہیں، انہیں نفسیاتی مسائل کا سامنا دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان ویب سائٹ پر غلط معلومات کا پھیلنا بہت آسان ہوتا ہے جس سے بھی کسی فرد کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔

دوسری جانب کوپن ہیگن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ فیس بک اور ٹوئٹر پر بہت زیادہ وقت گزارنا ڈپریشن کا باعث بنتا ہے اور جذباتی کیفیات متاثر ہوسکتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 1100 افراد کی آن لائن عادات اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔

وٹامن ڈی کی کمی کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

آپ کا جسم صحت کے بارے میں کافی معلومات فراہم کرتا رہتا ہے تاہم آپ کو درست وقت پر اسے سمجھنے اور جاننے کی ضرورت ہے۔

جس سے آپ جان سکتے ہیں کہ جسم کے اندر کیا چل رہا ہے اور اس کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے۔

اور وٹامن ڈی وہ اہم جز ہے جس کی کمی لوگوں کو کافی بھاری پڑسکتی ہے، کیونکہ یہ صرف ہڈیوں کو ہی کمزور نہیں کرتی بلکہ آپ کو ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا بھی شکار کرسکتی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو اور ہائی بلڈ پریشر پاکستان میں بہت زیادہ عام ہوچکے ہیں اور ہر گھر میں ہی کوئی نہ کوئی ان کا شکار ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے 84.2 فیصد جبکہ ہائی بلڈ پریشر کے 82.6 فیصد مریض وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور اس وٹامن کی کمی ان امراض کا خطرہ 83 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔

تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی جسم کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس کا ذیابیطس اور ہائی بلڈپریشر سے تعلق ہے۔

محققین کے مطابق ہم یہ نہیں کہتے کہ اس کی کمی ان امراض کا باعث ہے مگر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ جن افراد میں ان امراض کی تشخیص ہوتی ہے، وہ وٹامن ڈی کی کمی کا بھی شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم دیکھیں گے کہ ان مریضوں میں وٹامن ڈی کی سطح میں بہتری سے ان کے امراض میں کس حد تک مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ویسے ان امراض کا شکار ہونے کے بعد وٹامن ڈی کی کمی پر قابو پانے کی بجائے ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات کا استعمال زیادہ ضروری ہے۔

مگر یہ ضروری ہے کہ جسم کو وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہونے سے بچایا جائے کیونکہ اس کی کمی جسمانی مدافعتی نظام کو کمزور کرکے عام انفیکشن اور وائرسز کے حملے کے بعد ٹھیک ہونے کے دورانیے کو بڑھا دیتی ہے۔

چڑچڑا پن، ڈپریشن، ہر وقت تھکاوٹ، کمر درد، جوڑوں کے مسائل، مسلز کی کمزوری، بال گرنے یا گنج پن، زخم بھرنے میں تاخیر، مردانہ کمزوری اور ایسے ہی متعدد مسائل وٹامن ڈی کی کمی کے باعث سامنے آسکتے ہیں۔

لمبی زندگی کا راز آپ کے اپنے اندر چھپا ہے

اگر آپ لمبی اور صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو مایوسی کی جگہ امید کو اپنے اندر پیدا کرلیں۔

درحقیقت مثبت سوچ رکھنے والے افراد میں لمبی زندگی کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جو 85 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ ذہنی تناﺅ کو زیادہ اچھے طریقے سے قابو کرلیتے ہیں، ان کی جسمانی صحت بھی زیادہ ہبتر ہوتی ہے۔

ایسے افراد زندگی کے مقصد کا تعین بھی کرلیتے ہیں اور اس کے حصول پر یقین رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں ورزش کرنے اور صحت بخش غذا کے استعمال کرنے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔

امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 30 سال تک 70 ہزار سے زائد مردوں اور خواتین کا جائزہ لیا گیا اور زندگی کے بارے میں ان کے خیالات جاننے کے لیے سوالنامے بھروائے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ مثبت سوچ رکھنے والے افراد کی زندگی دیگر کے مقابلے میں 11 سے 15 فیصد طویل ہوسکتی ہے اور ان میں 85 ویں سالگرہ منانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

زیادہ مثبت سوچ رکھنے والی خواتین میں 85 ویں سالگرہ منانے کا امکان 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ مردوں میں یہ شرح 70 فیصد ہوتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ مختلف تحقیقی رپورٹس میں امراض کا خطرات بڑھانے والے عناصر کو دیکھا گیا ہے، مگر مثبت ذہنی عناصر پر توجہ نہیں دی جاتی کہ وہ صحت مند بڑھاپے پر کس حد تک اثرات مرتب کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پرامیدی ایسا نفسیاتی اثاثہ ہے جو انسانی زندگی کو طویل کرسکتا ہے۔

ان کے بقول تحقیق کے نتائج درمیانی عمر کے افراد کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ زیادہ پرامید ہونا سیکھیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف دی سائنسز میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل امریکا کی ہاوروڈ یونیورسٹی کی 80 سال سے جاری ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ 6 چیزیں انسانی خوشی اور لمبی عمر پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

تمباکو نوشی اور الکحل سے دوری

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ 50 سال کی عمر سے پہلے سیگریٹ نوشی اور الکحل کے استعمال کے عادی ہوتے ہیں ان کا بڑھاپا صحت مند نہیں ہوتا، ایسے افراد میں کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اچھی تعلیم

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ حیران کن نہیں کہ جو لوگ زیادہ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں وہ عام طور پر بڑھاپے میں دیگر کے مقابلے میں زیادہ صحت مند بھی ہوتے ہیں، تحقیق کے مطابق کالج تک تعلیم حاصل کرنے والے افراد اپنی صحت کا خیال زیادہ رکھتے ہیں جس کی وجہ انہیں مختلف چیزوں کے نقصانات سے آگاہی ہونا ہے۔

خوش باش بچپن

تحقیق کے مطابق کسی بچے کے اچھے مستقبل کا انحصار والدین کے سماجی رتبے سے نہیں ہوتا بلکہ اس بات پر ہوتا ہے کہ ماں نے انہیں کتنی محبت فراہم کی۔ محققین نے بتایا کہ والدین کی محبت بچوں کی زندگی کو بہتر بناتی ہے اور انہیں نوجوانی میں مشکلات میں سامنا کرنے کی ہمت بھی دلاتی ہے۔

دوستوں اور رشتے داروں سے اچھا تعلق

تحقیق کے مطابق دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا زندگی میں خوشی کے سب سے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے، رشتوں کی اہمیت ہمارے تصور سے بھی زیادہ ہوتی ہے سماج سے کٹا ہونے کا احساس آپ کو احمق بنانے کے ساتھ ہلاک بھی کرسکتا ہے، کیونکہ تہنائی امراض قلب، فالج اور ذیابیطس جیسے جان لیوا امراض کا سبب بن سکتی ہے، دوست ہماری زندگی کو بہتر بنانے کی کنجی ہوتے ہیں، ان کے ساتھ اچھی خبروں کا تبادلہ اور جوش تعلقات کو بہتر بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : [زندگی میں اصل خوشی کی کنجی][2]

مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیت

محققین کا کہنا تھا کہ جو لوگ مشکلات میں گھبرا کر ہمت ہارنے یا سخت رویہ اپنانے کی بجائے زیادہ باشعور انداز فکر جیسے مزاح کو اپناتے ہیں، ان کے لیے زندگی میں آگے بڑھنا آسان ہوتا ہے اور وہ ڈپریشن جیسے مرض کے خطرے سے بھی بچتے ہیں۔

دوسروں کی مدد

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اپنی زندگی بہتر کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے ارگرد موجود افراد کی مدد پر توجہ مرکوز کریں، اچھی زندگی کی تعمیر کریں، اپنے آپ پر توجہ دیں اور پھر دوسروں کو بھی وہی سب کچھ فراہم کریں۔

Google Analytics Alternative