کالم

آبی وسائل کو سیاسی ہتھیار بنانے کی بھارتی سازش

جنوبی ایشیا ئی خطے سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ آبی ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ جنوبی ایشیا میں پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ اقتصادی استحکام، غذائی تحفظ اور علاقائی امن کا بنیادی ستون بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دریاؤں کے مشترکہ نظام سے متعلق کسی بھی یکطرفہ اقدام کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں دریائے چناب کے نظام پر 260 میگاواٹ کے دلہستی اسٹیجـII پن بجلی منصوبے کی منظوری نے ایک مرتبہ پھر خطے میں آبی سلامتی اور سندھ طاس معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق بھارتی وزارتِ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کی ماحولیاتی جائزہ کمیٹی نے 3,277.45 کروڑ روپے لاگت کے اس منصوبے کی منظوری دی ہے۔منصوبے کے تحت 3,685 میٹر طویل ایک نئی سرنگ تعمیر کی جائے گی جو دلہستی اسٹیجـI سے پانی لے کر ایک مخصوص ذخیرہ نما ڈھانچے تک پہنچائے گی۔ اس کے علاوہ سرج شافٹ، پریشر شافٹ اور زیرِ زمین پاور ہاؤس بھی تعمیر کیا جائے گا جس میں 130 میگاواٹ کے دو یونٹ نصب ہوں گے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ بھارت اس منصوبے کو ”رن آف دی ریور” نوعیت کا منصوبہ قرار دیتا ہے، تاہم جدید ہائیڈرو پاور انفراسٹرکچر میں سرنگوں، ذخیرہ نما ڈھانچوں اور پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے والے نظاموں کی موجودگی دریا کے قدرتی بہاؤ پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی ضمن میں یہی پہلو پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے کیونکہ دریائے چناب سندھ طاس کے مغربی دریاؤں میں شامل ہے جو پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ دلہستی اسٹیجـII منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان آبی تعاون کا ماحول پہلے ہی کشیدہ ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر بالائی کنارے پر واقع ریاست مسلسل نئے آبی منصوبے تعمیر کرتی رہے اور ساتھ ہی ہائیڈرولوجیکل معلومات کی فراہمی، تکنیکی مشاورت اور شفافیت کے اصولوں کو کمزور کرے تو اس سے اعتماد سازی کے تمام موجودہ ڈھانچے متاثر ہو سکتے ہیں۔جان کاروں کے مطابق کسی بھی مشترکہ دریا کے نظام میں پانی کے بہاؤ سے متعلق بروقت اور درست معلومات انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ موسمی بارشوں، برف پگھلنے، سیلابی صورتحال اور پانی کے ذخائر سے متعلق اعداد و شمار زرعی منصوبہ بندی، آبپاشی کے نظام اور آفات سے نمٹنے کے لیے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ایسی معلومات محدود یا غیر شفاف ہو جائیں تو زیریں علاقوں میں واقع آبادیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو جاتا ہے۔پاکستان کا انحصار دنیا کے سب سے بڑے مربوط نہری نظاموں میں سے ایک، یعنی انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم پر ہے۔ اس نظام کے ذریعے کروڑوں ایکڑ زرعی زمین سیراب ہوتی ہے جبکہ لاکھوں خاندانوں کا روزگار بھی اسی سے وابستہ ہے۔ سفارتی مبصرین کے مطابق چناب پر مسلسل بڑھتے ہوئے ہائیڈرو پاور منصوبے پانی کے بہاؤ کے وقت، رفتار اور مقدار کے حوالے سے ایسے خدشات پیدا کرتے ہیں جو مستقبل میں زرعی منصوبہ بندی کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔اسی تناظر میں ماہرین یہ نکتہ بھی اجاگر کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جنوبی ایشیا پہلے ہی شدید آبی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار، غیر متوقع بارشیں، خشک سالی اور درجہ حرارت میں اضافہ پورے خطے کی آبی سلامتی کیلئے چیلنج بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں مشترکہ دریاؤں پر تعاون کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے، جبکہ یکطرفہ اقدامات خطے میں ہائیڈرو پولیٹیکل کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔مبصرین کے مطابق دلہستی اسٹیجـII محض ایک توانائی منصوبہ نہیں بلکہ اس کے وسیع تر اسٹریٹجک اثرات بھی ہیں۔ جب بڑے پیمانے پر سرنگوں، پانی کے ذخیرہ نما ڈھانچوں اور بہاؤ کو منظم کرنے والی تنصیبات کا جال ایک ہی دریا پر قائم کیا جاتا ہے تو بالائی ریاست کو پانی کے انتظام میں اضافی عملی اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں آبی ماہرین اس منصوبے کو محض تکنیکی نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بین الاقوامی دریائی نظاموں میں پائیدار انتظام و انصرام کا انحصار باہمی اعتماد، معلومات کے تبادلے اور قانونی معاہدوں کی پاسداری پر ہوتا ہے۔ جب مشترکہ وسائل کے انتظام میں تعاون کی جگہ یکطرفہ فیصلے لے لیں تو تنازعات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور علاقائی استحکام متاثر ہوتا ہے۔نتیجتاً دلہستی اسٹیجـII منصوبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی ایشیا کو پانی کے مسئلے پر زیادہ تعاون اور شفافیت کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر خطے کے ممالک مشترکہ آبی وسائل کو تنازع کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنائیں تو نہ صرف غذائی تحفظ اور اقتصادی استحکام کو تقویت مل سکتی ہے بلکہ مستقبل میں پانی کے حوالے سے پیدا ہونے والے ممکنہ بحرانوں سے بھی مؤثر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر دریاؤں پر بڑھتی ہوئی مسابقت خطے کے امن، معیشت اور انسانی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ سبھی فریقین اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں احسن ڈھنگ سے نبھا ئیں گے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے