کالم

اترپردیش میں مسلم مسماری مہم تیز

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر بنارس کے ایک مسلم اکثریتی علاقے دالمنڈی میں بھارتی حکام نے226 سال قدیم درگاہ سمیت چھ مساجد کی نشاندہی کی ہے جنہیں سڑک کو چوڑا کرنے کی آڑ میں مسمار کیا جائے گا۔دالمنڈی کے گنجان آبادعلاقے میں کئی دنوں سے جاری بلڈوزر مہم میں پہلے ہی کم از کم 107 گھروں اور دکانوں کو مسمار کیاگیاہے جس سے سینکڑوں افرادبے گھر ہو چکے ہیں اور ان کی روزی روٹی متاثرہوئی ہے۔محکمہ تعمیرات کے عہدیداروں نے بتایا کہ باقی ماندہ تعمیرات کو جلد ہی ہٹایا جائے گا، آپریشن کو مکمل کرنے کے لیے 31 مئی کی آخری تاریخ ہے۔ جن مساجد کو مسمار کیا جائے گا ان میں مرزا کریم اللہ بیگ مسجد، ماربل والی مسجد، علی رضا خان مسجد، نثاران مسجد، رنگیلے شاہ مسجد اور لنگڑے حافظ مسجد شامل ہیں، یہ سب چوک پولیس اسٹیشن کے قریب واقع ہیں۔226 سال پرانی کریم اللہ بیگ مسجد مقامی کمیونٹی کے لیے گہری تاریخی اور مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔ مقامی لوگوں اور مسجد کے نگرانوں نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ترقی کی آڑ میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ کریم اللہ بیگ مسجد کے مؤذن بابو جان نے کہا کہ مسلمان صرف اس صورت میں تعاون کریں گے جب قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردارکیاکہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کی سختی سے مخالفت کی جائے گی۔مسماری کی مہم میں تیزی لانے کیلئے روزانہ تین بلڈوزر اور 100 سے زائد مزدورکام کررہے ہیں۔مقامی تنظیموں نے اس کارروائی کو مسلم ثقافتی ورثے کو نشانہ بنانے اور شہری ترقی کی آڑ میں اقلیتوں کو بے گھر کرنے کی ایک اور مثال قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھروں، دکانوں اور صدیوں پرانی مساجد کی تباہی سے دالمنڈی کے مسلمانوں کی شناخت اور بقائ خطرے میں ہے۔ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے کیونکہ بھرے بازار کی گلیوں میں مسماری کا کام جاری ہے۔ نئی دہلی میں قائم شہری حقوق کی ایک معروف تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے کہا ہے کہ ریاست آندھرا پردیش میں پولیس نے رواں ماہ کے شروع میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد مسلمانوں کے خلاف امتیازی کارروائیاں کی ہیں جن میں غیر قانونی گرفتاریاں، دوران حراست تشدد اور مقدمات کا اندراج شامل ہے۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے حقائق پر مبنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران 9 مئی کو کڑپہ شہر کے الماسپیٹ سرکل میں تشدد کے دوران اور اس کے بعد مسلمانوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کے شواہد ملے ہیں۔ رپورٹ متاثرہ علاقوں کے دوروں،متاثرین کے انٹرویوز ،پولیس میں درج شکایات، ریمانڈ دستاویزات اور دیگر سرکاری ریکارڈپر مبنی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کڑپہ میں ٹریفک سرکل کا نام 18ویں صدی کے مسلمان حکمران اور نوآبادیاتی مخالف شخصیت ٹیپو سلطان یا ہندو دیوتا ہنومان کے نام پر رکھنے کی مہم کے بعد کشیدگی پیدا ہوئی۔دائیں بازو کے ہندوتوا گروپوں نے”ٹیپو سلطان سرکل” کی میونسپل تجویز کے باوجود غیرقانونی طور پر ”ہنومان سرکل” کے بینرز لگائے جس کے بعد صورت حال مزیدبگڑ گئی۔ اے پی سی آر نے کہا کہ کشیدگی کے بعد پولیس کی کارروا ئی میں چن چن مسلمانوں کو نشانہ بنایاگیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم از کم 25 کمسن مسلمان بچوں کوحراست میں لیا گیا اور مارا پیٹا گیا، جبکہ 22 مسلمان افراد کو بغیر وارنٹ کے کئی دنوں تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جن متاثرین اورعینی شاہدین کے انٹرویوز کئے گئے ، انہوں نے دوران حراست مار پیٹ، دھمکیوں اور قانونی حقوق سے محرومی کی تصدیق کی۔حقائق تلاش کرنے والی ٹیم کو پتہ چلا کہ مسلمان باشندوں کو سنگین غیر ضمانتی جرائم سمیت سخت فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بدامنی میں ملوث غیر مسلم افراد کے خلاف قانون کی نسبتاً ہلکی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ہجوم کے منتشر ہونے کے بعد بھی پولیس نے مسلم اکثریتی محلوں کے اندر جارحانہ لاٹھی چارج کیاجو اجتماعی سزاکے مترادف ہے۔ اے پی سی آر نے کہا کہ انتظامیہ نے ہندو قوم پرست گروپوں کی اشتعال انگیزی کے خلاف فوری کارروائی نہیں کی۔ تنظیم نے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک آزاد عدالتی یا مجسٹریل انکوائری، نابالغوں سے متعلق مقدمات کا جائزہ لینے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس ریکارڈ کی فرانزک جانچ، اور حراستی تشدد اور امتیازی سلوک میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے خبردارکیا کہ استثنیٰ جاری رکھنے سے فرقہ وارانہ تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے