موجودہ حکومت یہ دعوے تو کرتی ہے کہ ملک ترقی کی جانب گامزن ہے۔ اسٹاک مارکیٹ روزانہ نئی بلندیاں چھو رہی ہے اور معاشی اشاریے بہتری کی تصویر پیش کر رہے ہیں، مگر اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ایک مختلف منظر سامنے آتا ہے۔ آٹا، چینی، دالیں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ معیشت کے کچھ شعبوں میں بہتری کے آثار دکھائی دیتے ہیں، تاہم اس بہتری کا براہِ راست فائدہ عوام کی اکثریت تک پہنچتا نظر نہیں آتا۔ غریب طبقہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دباؤ کا شکار ہو رہا ہے، جبکہ امیر اور سرمایہ دار طبقہ مہنگائی کے اثرات سے نسبتاً محفوظ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کے درمیان خلیج کو نمایاں کرتا ہے۔
حکومت کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے، سبسڈیز اور فلاحی منصوبے متعارف کروائے گئے ہیں۔ مگر جب عوام سے بات کی جائے تو ان کی روزمرہ جدوجہد ایک مختلف کہانی سناتی ہے۔ ایک دیہاڑی دار اگر بمشکل آٹا خرید لیتا ہے تو چینی لینا مشکل ہو جاتا ہے، اور اگر چینی آ جائے تو دال، چاول، گھی اور دیگر ضروری اشیاء فہرست سے نکل جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ معاشی پالیسیوں کے ثمرات نیچے تک منتقل نہیں ہو پا رہے۔ جب تک مہنگائی پر مؤثر کنٹرول، اجرتوں میں حقیقی اضافہ اور اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی نہیں بنائی جاتی، تب تک ترقی کے دعوے عام آدمی کے لیے محض اعداد و شمار تک محدود رہیں گے۔
موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ حکومت معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ عوامی ریلیف کو بھی اپنی اولین ترجیح بنائے۔ اگر ترقی کے ثمرات عام شہری کی زندگی میں آسانی پیدا کریں، تب ہی حقیقی معنوں میں یہ کہا جا سکے گا کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
تحریر: شاہ سوار


