امریکا میں ایک بھارتی شہری نے خالصتانی رہنما اور امریکی شہری گْرپت وانت سنگھ پنّوں کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں عدالت کے سامنے جرم قبول کر لیا۔ 54 سالہ نکھل گپتا نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں ‘قتل کی سازش، کرائے کے قاتل کے ذریعے قتل کی منصوبہ بندی اور رقوم کی غیرقانونی منتقلی کی سازش جیسے سنگین جرائم کا اعتراف کیا۔گپتا کو 29 مئی 2026 کو سزا سنائی جائے گی اور اسے زیادہ سے زیادہ 40 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، تاہم حتمی سزا عدالت طے کرے گی۔استغاثہ کے مطابق نکھل گپتا نے مبینہ طور پر ایک بھارتی سرکاری اہلکار کی ہدایت پر امریکا میں مقیم ایسے وکیل اور سیاسی کارکن کو قتل کرانے کی منصوبہ بندی کی جو الگ خالصتان ریاست کا مطالبہ کر تا ہے۔ امریکی تحقیقات کے مطابق 2023 میں گپتا کی بھرتی وکاش یادَو نامی شخص نے کی جسے بھارتی کابینہ سیکرٹریٹ اور بالواسطہ طور پر خفیہ ایجنسی را سے منسلک اہلکار کے طور پر بیان کیا گیا۔حکام کے مطابق گپتا نے قتل کے بدلے ایک لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا جن میں سے 15 ہزار ڈالر بطور پیشگی رقم بھی فراہم کیے گئے۔ بتایا گیا کہ گپتا نے پنّوں کی ذاتی معلومات، گھر کا پتا، فون نمبرز اور روزمرہ معمولات تک کی تفصیلات مخبر کو فراہم کیں۔ یہ منصوبہ آخرکار ڈی ای اے اور ایف بی آئی کی مشترکہ کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق گپتا نے ایک خفیہ اہلکار کو کہا تھا کہ قتل کا وقت بھارتی وزیراعظم کے امریکا کے سرکاری دورے کے ساتھ نہ ٹکرائے ۔ بعد ازاں جون 2023 میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نِجّر کی ہلاکت کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر کہا کہ اب انتظار کی ضرورت نہیں ۔ گپتا کو جون 2023 میں چیک ریپبلک سے گرفتار کیا گیا اور 2024 میں امریکا منتقل کیا گیا۔بھارت نے گزشتہ برس نومبر میں اس مقدمے میں امریکی الزامات کی تحقیقات کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی تھی۔ گپتا کے اعترافِ جرم پر بھارت کے باضابطہ ردِعمل کا انتظار ہے۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے سکھ کارکنوں کے خلاف قتل کی سازشوں میں ملوث ہونے پر بھارت کی خفیہ ایجنسی”را ” پر مخصوص پابندیوں کی سفارش کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت میں اقلیتوں کو ناروا سلوک کا سامنا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ طویل عرصے سے بھارت کو ایشیا اور دیگر جگہوں پر چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے والے ملک کے طور پر دیکھتا رہا ہے اور اسی وجہ سے بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو نظر انداز کرتا رہا ہے۔2023کے بعد سے بھارت کی طرف سے امریکہ اور کینیڈا میں سکھ رہنمائوں اور کارکنوں کو نشانہ بنانے پر امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری سی پیدا ہوگئی اور واشنگٹن نے ایک سابق بھارتی انٹیلی جنس افسر وکاس یادو پر امریکہ میں سازش کا الزام عائد کیاجسے ناکام بنادیاگیا۔ امریکی کمیشن نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہاکہ2024 میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال مزید ابتر ہو گئی کیونکہ مذہبی اقلیتوں پر حملوں اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے گزشتہ سال انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیان بازی کی اورجھوٹی خبریں پھیلائیں۔مودی نے گزشتہ سال اپریل میں مسلمانوں کو”درانداز” قراردیکر کہاتھا کہ ان کے زیادہ بچے ہوتے ہیں ۔ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹوں میں بھارت میں حالیہ برسوں میں اقلیتوں کے ساتھ زیادتیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔کمیشن نے امریکی حکومت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو ”خصوصی تشویش والے ممالک ”کی فہرست میں شامل کرنے اور وکاس یادو اور ”را ”پر مخصوص پابندیاں لگانے کی سفارش کی ہے ۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں نے بھارت میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر، اقوام متحدہ کی طرف سے امتیازی قراردیے گئے شہریت ترمیمی قانون کے نفاذاورتبدیلی مذہب کے خلاف قانون سازی کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی اقلیتوں کی حالت زارکو اجاگر کیاہے۔ ناقدین نے مذہبی آزادی پر پابندیوں، مسلم اکثریتی جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور مسلمانوں کی جائیدادوں کی مسماری پر تشویش کااظہارکیاہے۔امریکہ کمیشن برائے مذہبی آزادی امریکی حکومت کا ایک غیر جانبدار مشاورتی ادارہ ہے جو بیرون ملک مذہبی آزادی پر نظر رکھتا ہے اوراس حوالے سے حکومت کو سفارشات پیش کرتا ہے۔ مودی سرکار اور بھارتی را کی دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور جاسوسی ایک کھلی حقیقت ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ الیکشن 2024 میں ہندو قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی نے مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کر کے ووٹ بٹورنے کی کوشش کی ۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر، امتیازی شہریت اور تبدیلی مذہب کے خلاف قانون سازی، کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور مسلم املاک کی مسماری اقلیتوں کے حقوق پر حملہ ہیں۔امریکی ادارے کا کہنا ہے بھارتی خفیہ ایجنسی "متعصبانہ اور سیاسی طور پر محرک سرگرمیوں” میں مصروف ہے۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے منگل کے روز اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ بہت ہی خراب سلوک کیا جا رہا ہے۔ یو ایس سی آئی آر ایف کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مذہبی امور کو منظم اور کنٹرول کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اس لیے اسے، "خاص تشویش کا ملک” قرار دیا جائے ۔ ادارے نے الزام لگایا ہے کہ سن 2023 کے بعد سے بھارتی ایجنسی را امریکہ اور کینیڈا میں خالصتانی کارکنان کو نشانہ بنانے کی سازشوں میں ملوث رہی ہے۔پینل نے امریکی حکومت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کیلئے "بھارت کو خاص تشویش کا حامل ملک” کے طور پر نامزد کرنے اور را نیز اس ادارے سے وابستہ بعض افراد کے خلاف "ٹارگٹڈ پابندیاں لگانے” کی سفارش کی ۔ واضح رہے کہ یہ کمیشن ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے اراکین پر مشتمل امریکی حکومت کا مشاورتی ادارہ ہے، جو بیرون ملک مذہبی آزادی پر نظر رکھتا ہے اور پالیسی سازی سے متعلق اپنی سفارشات پیش کرتا ہے۔

