کالم

ایک لوز ٹاکیاانور مقصود لاہور میں

انور مقصود حمیدی ، ٹیلی وژن پروگراموں کی وساطت سے انورمقصود کے نام سے معروف اور زیر استعمال ہیں ۔وہ ایک ٹیلی ویژن سکرپٹ رائٹر ،ڈرامہ نگار ، اداکار اور ہزل گو کے طور ممتاز و مشہور ہوئے۔ ان کا ” لوز ٹاک ” عنوان کا ایک ٹی وی پروگرام اپنے وقت میں کافی مقبول ہوا کرتا تھا ،اس لیے انہوں نے لوز ٹاک کو ہی اپنا مستقل پیشہ بنا لیا اور خوب فوائد سمیٹے۔ چونکہ وہ قیام پاکستان سے قریبا آٹھ برس پہلے ریاست حیدرآباد دکن میں پیدا ہو چکے تھے ،اسی لیے پاکستان بنتے ہی حیدراباد دکن سے سیدھے پاکستان کی طرف سٹک لیے۔ اور اب پچھتر سالہ پاکستان میں انور مقصود عمر اور ضعف ذہنی و بدنی کے باعث صرف بے ربط جملوں میں سیاسی طنز تحریر کرتے اور رک رک کر پڑھنے کا ہنر رکھتے ہیں۔یہ اردو دنیا کے واحد ہزل گو ہیںجو ایک ادھورا جملہ بول کر رک جاتے اور پھڑ پھڑاتے ہونٹوں سے اپنے سامعین کو دیکھتے رہتے ہیں، اور اس وقت تک دیکھتے رہتے ہیں جب تک احمد شاہ صاحب کے اشاروں سے پبلک تالیاں پیٹنا نہ شروع کر دے۔ انور مقصود احمد شاہ کی ادبی کانفرنسوں کا ایک اکتا دینے والا آئٹم خیال کیے جا سکتے ہیں۔ احمد شاہ صاحب کے برپا کردہ ادبی میلوں ٹھیلوں میں انور مقصود کی ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ موصوف بغیر کسی خوبی اور کمال کے ،محض بے ربط طنزیہ جملے بول کر رک جائیں اور پھڑپھڑاتے ہونٹوں سے سامعین کو اس وقت تک دیکھتے رہیں ،جب تک نادان حاضرین قہقہے لگانا شروع نہ کردیں۔یاد رہے قہقہوں میں تعطل کی صورت میں احمد شاہ صاحب خود کھڑے ہو کر سامعین کو تالیاں بجانے کے اشارے بھی دیتے رہتے ہیں۔حال ہی میں لاہور میں منعقدہ تین روزہ ادبی میلے میں انور مقصود اپنے مجروح لہجے اور لرزیدہ آواز میں فلیٹیز ہوٹل کی ایک مبینہ خدمتگار خاتون کے بالا یابالے نام کے گھر والے کا بے محل اور بلا ضرورت ذکر کر کے سامعین کو ڈھیٹوں کی طرح ہنساتے رہے ۔ انور مقصود فلیٹیز ہوٹل کی خدمتگار خاتون کے شوہر کا نام بالے کی بجائے الطاف موٹا یا زبیر چریا یا حماد صدیقی یا رحمن عرف بھولا یا وسیم ریکلا یا مشرف گرنیڈ بھی رکھ سکتے تھے لیکن اس کراچی سے آئے ہزل گو کو لاہور میں کھڑے ہو کر ہوٹل کی فرضی ملازمہ کے گھر بیکار بیٹھے شوہر کا نام” بالا”رکھ کر کیا لطف آیا ہو گا؟ یہ کون سا طنز اور کیسا مزاح ہے؟ اس طنز میں کیا سیاسی رمز پوشیدہ تھی؟ یا یہ محض بغض و عناد کے اظہار کا ایک وسیلہ اور طریقہ تھا ۔شرلی بے بنیاد نے انور مقصود اور احمد شاہ کے ایک فرضی مکالمے کا ذکر کیا ہے،کہتا ہے کہ دیکھو تو احمد شاہ ہم نے لاہور میں پنجابڑوںکے بیچ کھڑے ہو کربالے کا مذاق اڑایا، کچھ نہیں سمجھے اور کھی کھی ہنستے رہے۔
” ارے احمد شاہ بھائی وہ دیکھو پیچھے بیٹھا اصغر ندیم سید بھی ہنس رہا تھا۔۔.
” پر یار احمد شاہ وہ کشور ناہید نے قہقہے نہیں لگائے۔”
"بھیا ان کو سنائی دے گا تو قہقہہ لگائے گی ۔۔ہاہاہاہاہاہا”
” پھر بھی انور مقصود میں یہ بات ضرور کہوں گا کہ یہ والا ہنر قدرت نے صرف تمہی کو ودیعت کیا ہے ،تم تو گود میں بیٹھ کر داڑھی نوچ لیتے ہو، یہ بالا ہوتا کون ہے ۔ ۔ ہاہاہاہاہا میں شرلی بے بنیاد کی بے پر کی قیاس آرائیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، اس لیے اس کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی اور خاموش رہا۔
پہلے انور مقصود کی گفتگو کا میرے نزدیک قابل اعتراض حصہ پڑھ لیجیے۔انور مقصود نے اپنی گفتگو کے آغاز میں کہا کہ۔” ۔میں پچھلے تین دنوں سے لاہور کے سب سے پرانے ہوٹل فلیٹیز میں ٹھہرا ہوا ہوں۔1880 میں تعمیر ہوا تھا۔میرے کمرے کی صفائی کرنے والی خاتون میرے خیال میں اس ہوٹل کی پہلی ملازمہ ہوں گی۔آج صبح میں نے ان سے کہا آپ زحمت نہ کریں،آپ کہاں رہتی ہیں؟ میں آ کر آپ کے کمرے کو صاف کروں گا ۔ پھر کہنے لگیں انور صاحب بالا گھر پر ہی رہتا ہے ۔ شاید میرا خلوص وہ نہیں سمجھیں میں نے پوچھا کہاں کی ہو؟ کہنے لگیں گجرات ۔ (تالیاں) میں نے کہا کہ مسلم لیگ ق کی طرف ہو؟ (تالیاں)بولیں مسلم لیگوں نے قاعدے کی ایسی کی تیسی کر دی ہے۔صرف ک گ بچ گئے ہیں۔(تالیاں)مجھے نہیں معلوم میں کس طرف ہوں۔ پڑھی لکھی ہو؟ میاں جی پڑھیں لکھی ہوتی تو بیروزگار ہوتی۔ (تالیاں)یہاں تو تنخواہ مل جاتی ہے ۔بہت سے لوگ میرے کمرے میں پھولوں کے گلدستے چھوڑ گئے تھے ۔میں نے کہا آپ سارے پھول لے جائیں۔بولی بالا زندگی عذاب کر دے گا،یہ پھول کس نے دیئے ہیں۔یہیں رہنے دیں، (تالیاں اور قہقہے)یہ کہہ کر چلی گئی ۔اسٹیج پر براجمان ہجوم میں انور مقصود کے پیچھے ایک طرف کشور ناہید خاموش بیٹھی تھیں جبکہ دوسری طرف ڈرامہ نویس اور کچھ کچھ ناول نگار اصغر ندیم سید بیٹھے دائیں بائیں منہ کر کے نادان حاضرین کے ساتھ آواز ملا کر ہنس رہے تھے کہ شاید ان کے نہ ہنسنے کی وجہ سے میلے کے منتظم احمد شاہ ناراض نہ ہو جائیں اور اگلی بار نہ بلائیں۔اب اتنی تو سمجھ آ ہی گئی ہے کہ یہ کراچی کے اردو والے دوست پنجابیوں کو” پنجابڑے”اور "ڈھگے” کیوں کہتے ہیں۔ انور مقصود نے الحمرا میں نام نہاد ادبی میلے میں اپنی مبہم طنزیہ گفتگو میں درست کہا تھا کہ پاکستان دنیا میں نمک پیدا کرنےوالے ممالک میں دوسرے نمبر پر اور نمک حرام پیدا کرنے میں پہلے نمبر پر ہے۔ ستم ظریف کہتا ہے کہ یہ نادان ہزل گو اتنے بھی نادان نہیں ہیں ، انہیں قدیم سے طنز و مزاح کے علاقے اور عنوان کسی پر اسرار ادارے کی طرف سے تجویز کیے جاتے ہیں۔یہ لاڈلے ہونے والی یلغار کے ہراول ہوا کرتے ہیں۔ علامہ اقبال تو شروع دن سے اس ملک پر متصرف و قابض اداروں کےلئے سخت ناپسندیدہ رہے ہیں۔درسی نصابات سے علامہ اقبال کے مطالعات کی حددرجہ تخفیف ہو ،یا وفاق کی ایک یونیورسٹی سے شعبہ اقبالیات کو غیر فعال کرکے وہاں اقبال چیئر کے نام سے اس تصوف کے فروغ کی کوشش ،جس کے خلاف اقبال عمر بھر لڑتے رہے اور جسے وہ مسلمانوں کے اجتماعی زوال کا ایک بڑا سبب خیال کرتے تھے۔یہ اردو کو قومی کی بجائے محض مادری زبان سمجھنے والے نادان تو شروع دن سے علامہ اقبال سے خائف رہے ہیں ۔ان کا تو کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا ،مگر پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کی بجائے ایک سیکیورٹی اسٹیٹ بنانے پر کمربستہ لوگوں کےلئے اقبال ایک بڑے خطرے کے طور پر موجود و موثر ہے ،کچھ یہی وجہ ہے کہ اقبال ایک طرف ملاں کے طعن کا شکار رہا ،تو دوسری طرف نام نہاد اہل زبان کی زبان درازیوں کا عنوان لیکن یہ دونوں اپنے تیسرے سرپرستوں سمیت ہمیشہ نامراد ہی رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے