گیس اور بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے مہنگائی کے ہاتھوں پسے ہوئے عوام بہت تنگ ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرتے ہوئے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ روزانہ کا معمول ہے۔ گیس پر تو پہلے ہی فکسڈ سرچارج وصول کیا جا رہا ہے۔ اب نیپرا نے اعلان کیا کہ بجلی کے چھوٹے صارفین پر فکس ٹیکس عائد کرنے کی تیاری کر لی ہے ۔100یونٹس پر 200 روپے 300یونٹس پر 400روپے فکسڈ ٹیکس لگے گا۔ اس کے علاوہ ماہانہ کراس سبسڈی میں کمی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت سولر پینل کے قوانین میں بھی تبدیلی کر رہی ہے۔ حکومتی اور اتحادی اراکین سینٹ نے کہا کہ عوام سے کہا گیا تھا کہ سولر پینل لگائیں فائدہ ہو گا۔ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ عوام پر بم گرایا گیا ہے چیئرمین کو جیل بھیجیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا ٹیکس کا سارا بوجھ بجلی کے بلوں پر ڈال دیا گیا ہے ۔ 80سے 85فیصد صارفین کو نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت 2030-31 تک فائدہ حاصل ہوتا رہے گا کیونکہ یہ معاہدہ 2024-25 میں ہوا تھا جس کے تحت سولر پینل کی بجلی 25.32 روپے میں خریدی جا رہی تھی اب نئے قوانین کے تحت یہ بجلی 10 سے گیارہ روپے فی یونٹ خریدی جائے گی ۔ اگر ہم بجلی کے بلوں پر ماہانہ ٹیکسوں کی وصولی کا جائزہ لیں تو مہنگائی کے ہاتھوں پسے ہوئے عوام پر مالی بوجھ کی بڑی خوفناک صورت حال سامنے اتی ہے ۔ اس وقت گورنمنٹ محصولات میں محصول بجلی جنرل سیلز ٹیکس انکم ٹیکس ۔ FPA پر جی ایس ٹی شامل ہیں۔ واجبات میں صرف شدہ یونٹس ، بجلی کی قیمت ، فیول پرائیس ایڈجسٹمنٹ ، ایف سی سرچارج اور کواٹر لی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ شامل ہے۔ ہر ماہ غریب عوام سے اتنے سارے سرچارج اور ٹیکسوں کی وصولی کے باوجود واپڈا فکسڈ چارجز کے نام سے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ عوام پہلے ہی بھاری بلوں سے تنگ ائے ہوئے ہیں اور ہم ائے روز بھاری بلوں کی عدم ادائیگی پر خود کشیوں کی خبریں پڑھتے رہتے ہیں۔ ادھر سوئی نادرن گیس کمپنی کے بلوں میں گیس کی قیمت کے علاوہ بھاری ٹیکسز اور چارجز شامل ہوتے ہیں۔ فکس چارجز بل بڑھنے کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں ۔ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے آرڈیننس (XVII)آف 2002اور سوئی ناردن گیس اتھارٹی کے نوٹیفیکیشن ایس ار او نمبر 139(1)2025 مورخہ 26جنوری 2025 کے مطابق یکم جولائی 2025 سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائین اور سوئی ناردرن گیس کمپنی لمیٹڈ اپنے گیس صارفین سے درج زیل شرح سے فکس چارجز وصول کریگی ۔پروٹیکٹڈ کیٹیگری پر 0.25 hm سے 0.9 hm پر بالترتیب 200 روپے سے 350 روپے وصول کریگی۔ جبکہ نان پروٹیکٹڈ صارفین سے 0.25 hmپر 500 روپے اور 4 hmپر 3800روپے جبکہ 4 hm سے زیادہ پر 400روپے سے زیادہ وصول کئے جائیں گے۔ پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں وہ گھریلو صارفین شامل ہیں جن کی موسم سرما کے گزشتہ چار ماہ نومبر سے جنوری کی گیس کی کھپت 0.9 hm سے کم رہی ہو ۔ اس کیٹیگری جے فکس چارجز 600 روپے اور میٹر رینٹ 40 روپے ہو گا ۔ وفاقی وزیر پانی اور بجلی نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ اور سولر بلنگ کا فرق معاہدے میں شامل نہیں تھا ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے نئے سولر قوانینِ کا نوٹس لیا ہے۔پاور ڈویژن نیپرا قوانین کیخلاف اپیل دائر کرے۔ اب وزیراعظم کی مداخلت سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سولر پینل کے پرانے صارفین پر نئے قوانین کا اطلاق نہیں ہوگا اس حکومتی فیصلے سے کم امدنی والے صارفین کو فائدہ ہوگا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوئی گیس کے صارفین سے تو پہلے ہی بل کے حساب سے فکسڈ سرچارج وصول کیا جا رہا ہے ۔ اب نیپرا نے بھی بجلی کے بلوں پر فکسڈ سرچارج نافذ کر دیا ہے ۔ ان کالموں کے ذریعے ہم وزیر پانی اور بجلی اویس لغاری سے گزارش کرینگے کہ بجلی کے بلوں پر فکسڈ سرچارج نہ لگایا جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

