دلچسپ اور عجیب سا ئنس و ٹیکنالوجی

ذباتی ذہانت کیا ہے؟

zahanaaaatttt

انسان کے اندر ذہانت ایک فطری عمل ہے جس کا انحصار اس کی دماغی صلاحیت پر ہے۔ ذہانت کی کئی اقسام کی نشان دہی ہوچکی ہیں اور ان پر تحقیق کی جاچکی ہے۔ان اقسام میں اعدادی یا نمبریاتی ذہانت، معاشرتی یا سماجی ذہانت، تجریدی ذہانت، مکینکل یا مشینی الات/ ٹولز کی ذہانت وغیرہ شامل ہیں۔ ذہانت کی تعریف کئی انداز میں کی گئی ہے جیسے تجرید کی صلاحیت، منطق، تفہیم، خود آگاہی، سیکھنے، جذباتی علم، استدلال، منصوبہ بندی، تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، اور مسئلہ حل کرنے وغیرہ۔
تحقیق کے مطابق ذہانت کا تعلق انسانی دماغ سے ہے کیونکہ سوچنے کا عمل صرف دماغ میں ہوتا ہے۔ دماغ انسانی جسم کے سب سے بڑے لیکن پیچیدہ اعضاء میں سے ایک ہے۔انسانی دماغ اللہ کی ایسی حتمی تخلیق ہے جس پر جتنی زیادہ تحقیق کی جائے کم ہے جبکہ سوچ دماغ میں جاری عمل ہے جو انسانوں کو دنیا میں اہم چیزوں کا احساس دلانے، ان کی نمائندگی کرنے اور ان کی تشریح کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ذہنی سرگرمیوں میں سوچنے، یادداشت، جذبات، چھونے، بصارت، سانس لینے، درجہ حرارت، بھوک اور ہر اس عمل کو کنٹرول کرنا شامل ہے جو ہمارے جسم کو منظم کرتا ہے۔دماغ اور ریڑھ کی ہڈی، جو اس سے پھیلتی ہے انسان کا مرکزی اعصابی نظام بناتی ہے۔ دماغ پورے جسم میں کیمیائی اور برقی سگنل بھیجتا اور وصول کرتا ہے۔ مختلف سگنل مختلف اعمال کو کنٹرول کرتے ہیں، ہمارادماغ ہر ایک کی ترجمانی کرتا ہے۔ مثلاً بعض ہمیں تھکاوٹ کا احساس دلاتے ہیں، جبکہ بعض درد کا ۔ بعض پیغامات دماغ کے اندر رکھے جاتے ہیں، جبکہ دیگر ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے اور جسم کے اعصاب کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے درد کی انتہا تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے مرکزی اعصابی نظام اربوں نیوران (عصبی خلیات) پر انحصار کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے