حلقہ احباب سردار خان نیازی کالم

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور جمہوریت

13جنوری 2024 کوسپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان بارے الیکشن کمیشن کی درخواست منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان بلا واپس لینے کا فیصلہ سنایا،سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی جس میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھیں۔پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سپریم کورٹ میں دو روز تک سماعت ہو ئی جسے پوری دنیا نے لائیوٹی وی سکرینز پر دیکھا،عدالت نے کیس کو تسلی سے سنا ،ہفتے کے چھٹی والے دن بھی سماعت کی، عدالت نے فریقین کے وکلاءکو دلائل کیلئے مکمل وقت دیا،کیس کی سماعت ہفتے کی شام 7بجے مکمل ہوئی اور فیصلہ رات 11بجے سنایاگیاجس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت نے تمام پہلوو¿ں کا بغورجائزہ لینے کے بعدمتفقہ فیصلہ سنایا۔عدالتی فیصلہ درست ہے یا غلط یہ میرا موضوع نہیں نہ میں قانونی ماہر ہوں جو رائے دے سکوں ،فیصلے پرقانونی ماہرین اپنی اپنی آراءدے رہے ہیں۔

سپریم کورت کے فیصلے سے یہ واضح ہو گیا کہ ہر ادارے ،شخص و سیاسی جماعتوں کو اپنا مکمل ریکارڈ رکھنا چاہئے،فائل ورک ادھورا نہیں ہونا چاہئے جو کہ تحریک انصاف کا تھا،فیصلے سے تمام سیاسی جماعتوں کو سبق بھی ملے گا اور اب وہ باقاعدگی کیساتھ انٹراپارٹی الیکشن کرائیں گی شاید اس سے موروثی سیاست کا بھی خاتمہ ہو جائے۔

عدالتی فیصلے سے پی ٹی آئی نہ صرف انتخابی نشان بلے سے محروم ہو گئی بلکہ انتخابی نشان نہ ہونا پی ٹی آئی کے ختم ہونے کے برابرہے، اب پی ٹی آئی کے تمام امیدوار بطورآزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جس کے اپنے اپنے نقصانات ہونگے ،آزاد امیدوار جب الیکشن جیت کراسمبلی پہنچیں گے تو وہ کسی بھی پارٹی کو جوائن کرنے کیلئے آزاد ہونگے اور ممکن ہے کہ وہ دیگر جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لیں،بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ زیادہ آزاد امیدوار پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیارکرینگے اور اس ساری صورتحال کا پی پی کو زیادہ فائدہ ہو گا۔ ہارس ٹریڈنگ کے خطرات بڑھ جائیں گے جس سے جمہوریت کو نقصان ہو گا۔

عام انتخابات ملتوی کرانے کیلئے سینیٹ میںقراردادیں نہ صرف پیش کی جا رہی ہیں بلکہ کثرت رائے سے منظور بھی ہو رہی ہیں جس سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے حالانکہ الیکشن کمیشن نے سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو قرارداد بارے مراسلہ ارسال کرتے ہوئے انتخابات تاخیر سے کرانے سے صاف انکار کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود انتخابات ملتوی کرانے کیلئے کچھ لوگ سرگرم ہیں ، گزشتہ روز بھی آزاد سینیٹر دلاور خان نے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھا اور مطالبہ کیا کہ سینیٹ سے منظور قراردادکے حوالے سے صورتحال معلوم کی جائے کیونکہ ابھی تک الیکشن کمیشن نے انتخابات ملتوی کرانے کیلئے اقدامات نہیں کیے۔

نگراں حکومت اچھا کام کر رہی ہے،رشوت ستانی اور کرپشن بھی کم ہوئی ہے ،تمام وزرائے اعلیٰ محنت کر رہے ہیں لیکن نگران وزیرااعلیٰ پنجاب محسن نقوی اچھا کام کر رہے ہیں،سڑکوں ،اوورہیڈبرجز،ہسپتال اور تعلیمی اداروں کی تعمیروترقی کیلئے محسن نقوی محنت کرتے نظرآرہے ہیں ،مجھ سے کسی نے دریافت کیا کہ آپ محسن نقوی کو اپنے اخبارات اور روز ٹی وی میں اتنی کوریج کیوں دیتے ہیں تو میں نے جواب دیا کہ جس طرح وہ کام کر رہے ہیں اسکی حوصلہ افزائی بنتی ہے۔

ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے آرمی چیف مثالی اقدامات کر رہے ہیںجن کے نتائج ہمیں نظر بھی آرہے ہیںجس میں سرفہرست ایس آئی ایف سی کا قیام ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے بھی اسٹیبلشمنٹ کی تعریف کی، انھیںیہ کہنا پڑا کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ بہترین کام کر رہی ہے ،پاکستان کا پوٹینشل زراعت ہے ،ہم نے اسے نظرانداز کیے رکھا اور معاشی بحران سے دوچار رہے،یہ پہلا موقع ہے ہمارے ہاں اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھا گیا،کاش کسی اور نے بھی اس سے پہلے پاکستان کے زرعی پوٹینشل کو اسی سنجیدگی سے لیا ہوتا تو آج ملک کی تقدیر کچھ اور ہوتی۔اللہ تعالیٰ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرکو مزید ہمت و توفیق عطا کرے اور اسی طرح وہ ملک کی خدمت کرتے رہیں مجھے یقین ہے کہ اگلے چند سالوں میں پاکستان اپنے پاو¿ں پرکھڑا ہو جائیگا۔

الیکشن کے حوالے سے ابھی بھی لوگ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیںتاہم عام انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں تاکہ بے یقینی صورتحال ختم ہو سکے ۔ دعا ہے 8فروری کو ہونیوالے انتخابات پرامن اور شفاف ہوں ،اگر الیکشن فوج کی نگرانی میں ہوئے تو شفاف انتخابات کی زیادہ توقع ہے

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے