حلقہ احباب سردار خان نیازی کالم

سپیکر کی خدمت میں چند گزارشات

مقالہ خصوصی
تحریر-ایس کے نیازی

قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا ایک خصوصی اجلاس تھا جس میں پی بی اے جیسے موقر ادارے کی نمائندگی مجھے کرنا تھی۔میں ملک کے سب سے معتبر پارلیمانی ادارے کے سامنے ملک کے موقر ترین صحافتی ادارے کی ترجمانی کے لیے پہنچا اور اپنی بات کی اور ان کی سنی۔اپنے اس مشاہدے کی بنیاد پر میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنے قارئین کے سامنے بھی چند چیزیں رکھوں اور جناب سپیکر قومی اسمبلی کی خدمت میں بھی کچھ معروضات پیش کروں تا کہ اصلاح احوال کی جانب کچھ حقیقی پیش رفت ہو سکے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں تو میں نے پی بی اے کی نمائندگی کی اور اس موقر ادارے کے نمائندہ کی حیثیت سے وہاں موجود رہا لیکن اب یہ کالم میں اپنی ذاتی حیثیت میں لکھ رہا ہوں۔میں نے اس اجلاس میںکچھ چیزیں محسوس کیں اور ان کی بنیاد پر مجھے جناب سپیکر سے کچھ کہنا ہے اور کچھ گذارشات ان کے سامنے رکھنا ہیں۔
میڈیا ایک بڑا ہی اہم ادارہ ہے اور پارلیمان کی اتنی اہم کمیٹی میں جب میڈیا کا کردار زیر بحث آتا ہے تو زیادہ مناسب یہ ہوتا ہے کہ اس میں کسی فضول اور اخلاق باختہ نعرے کے حوالے سے اور کسی ایک مارچ اور اس سے جڑے معاملات کی بجائے زیادہ سنجیدہ اور اہم امور زیر بحث آئیں۔این جی اوز کے چند لوگ کیا کہتے ہیں اور ان کی کیا مرضی ہے اور ان کا ایجنڈا کیا ہے، اس سے بڑے معاملات ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔جہاں تک یوم خواتین پر سامنے آئے اس غیر اخلاقی نعرے اور اس سے جڑے معاملات کا تعلق تھا تو چیئر مین پیمرا اورمشیر اطلاعات اور میڈیا پہلے ہی بروقت ایکشن کر کے اس ایجنڈے سے احسن انداز میں دو دو ہاتھ کر چکے تھے۔ اب زیادہ اہم چیز یہ ہونی چاہیے کہ آگے کیا کرنا ہے۔
اس حوالے سے میرے لیے حیرت کی بات تھی کہ قائمہ کمیٹی کے اکثر محترم اراکین نے ابھی تک پیمرا کا ضابطہ اخلاق ہی نہیں پڑھا تھا۔ کمیٹی اطلاعات کی ہو اور پیمرا کے ضابطہ اخلاق اور اس معاملے میں سپریم کورٹ کی ہدایات سے لاعلم سی لگ ررہی ہو تو یہ ایسے ہی ہے جیسے چراغ کے عین نیچے اندھیرے ہی اندھیرے ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ اس ضابطہ اخلاق کے حوالے سے بات ہونی چاہیے۔ نیزمیں اپنے میڈیا ہائوس کا ضابطہ اخلاق سپریم کورٹ میں لے کر گیا تھا اور سپریم کورٹ نے بحث و تمحیث کے بعد ایک ضابطہ اخلاق منظور کیا تھا اور تمام ٹی وی چینلز کو پیمرا کے ذریعے پابند کیا تھا کہ اس پر عمل درآمد کریں ۔
9مارچ کو میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی بنائی جائے گی جس میں پانچ بندوں کو ذکر کیا گیا لیکن کوئی نوٹیفکیشن نہیں تھا کہ کون کون ہے ،9مارچ کو ہی جب کمیٹی کا فل اجلاس تھا میں وہاں پر گیاباقاعدہ اجلاس کے آغاز سے قبل جناب جاوید لطیف صاحب نے عمران خان سے میرے تعلق اور رشتہ داری کو دیکھتے ہوئے نیازی لفظ کا اعادہ کیا۔اس حوالے سے نیازی خاندان سے ہونا میرے لئے اعزاز کی بات ہے ، نیازی خاندان کے جہاں پر سیاستدانوں پر احسانات ہیں وہاں پر وطن عزیز کیلئے بھی اس خاندان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، اگر اس کا تذکرہ کرنا شروع کردوں تو بہت زیادہ وقت درکار ہو گا۔تاہم اس کا جو جواب ہو سکتا تھا موزوں انداز سے میں نے وہیں دے دیا۔ اب یہاں اس کی تکرار مناسب نہیں لگ رہی۔ اس لیے اس سے اجتناب کر رہا ہوں۔اسی روز صحافیوں کی تنخواہوں کا ذکر بھی ہوا ایشین نیوز بھی زیر بحث آیا ،10مارچ میں نے کہا کہ سٹاف کی تنخواہیں نہ دینا بھی جرم ہے لیکن مالکان کے حقوق کے حوالے سے بھی خیال رکھا جائے کی ان کی جو ادئیگیاں رہ گئیں ہیں وہ بروقت ادا کی جائیںاور ان کے معاملات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔ 10مارچ کو جب میں گیا تو وہاں پر موجود ایک معزز رکن کمیٹی جناب آفتاب جہانگیر نے نہ صرف میرے چینل کے ضابطہ اخلاق کو سراہا بلکہ میرے پروگرام’’ سچی بات ‘‘کی بھی بہت تعریف کی جس پر میں ان کا ممنون ہوں۔
اشتہارات کی بات چل نکلی تو ایک دلچسپ چیز سامنے آئی لوگوں کی جانب سے کہی ہوئی باتوں نے مجھے پریشان کر دیاکہ جب پی آئی او سے سوال کیا گیا اشتہارات کی تقسیم کیسے ہوتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ وزیر اعظم ہائوس سے شہباز گل جو ہدایات دیتے ہیں اس کے مطابق اشتہارات دیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ وزارت اطلاعات میں سب ٹھیک نہیں ہے۔لوگوں کے مطابق یہاں دھڑے بندیوں کی اطلاعات تو ہم تک پہنچتی رہتی ہیں کہ ہم بھی اسی شہر میں صحافت کر رہے ہیں لیکن یہ حیران کن بات تھی کہ حالات یہ ہو چکے ہیں کہ کوئی فارمولا نہیں ہے اور شہباز گل جسے کہتے ہیں اسے اشتہارات دے دیے جاتے ہیں۔معاملات اگر اسی طرح چلائے جاتے رہے تو عمران خان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہے گی نہ ہی کسی اپوزیشن کی۔ابھی حال ہی میں جناب وزیر اعظم نے خود کہا ہے کہ جس دن اپوزیشن کوئی مسئلہ پیدا نہ کرے اس دن وزرا کوئی بات کر کے مسئلہ پیدا کر دیتے ہیں۔ ابھی تو عمران خان اپنی ٹیم کی باتوں سے نالاں ہیں جس روز اس ٹیم کے کاموں کی وجہ سے مسائل سامنے آنے لگے اس روز معاملات پیچیدہ ہو جائیں گے۔
معاملات کو دیکھنا ہے تو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔ ایسے نہیں کہ آپ ایک کمیٹی بنا دیں اور چیئر مین پیمرا نوٹیفیکیشن کی بات پوچھیں تب یاد آئے کہ او ہو نوٹیفیکیشن بھی جاری کرنا ہے۔اور بار بار کہنے پر پیمرا کا ضابطہ اخلاق بھی پڑھنا ہے ، میں معذرت کے ساتھ سپیکر صاحب سے عرض کروں گا مجھے سپیکر صاحب کی طرف سے بار بار کہا گیا کہ کل زرعی اصلاحات کے بارے میں سیمینار کرا رہے ہیں، اور 20مارچ کو افغان امن معاہدے کے حوالے سے بھی سیمینار ہو گا آپ نے ان دونوں تقریبات میں شرکت کرنی ہے ، یہ سن کر خوشی بھی ہوئی اور ساتھ میں یہ گزارش کرنے پر مجبور ہوا کہ سپیکر صاحب جب اتنے اچھے کام کررہے ہیں تو معذرت کے ساتھ قائمہ کمیٹیاں میرے لئے بہت محترم ہیں ان کو بھی کوئی معاملات ٹیک اپ کرنے سے پہلے اس معاملے کا گہرائی سے جائزہ لینا لازمی ہے اس کے بعد اصلاحات طے کرنی چاہئیں کہ قانون اگر پہلے سے موجود ہے تو اس پر عمل درآمد بھی ضروری ہے اس سے کوئی بھی بالاتر نہیں آئین کی پاسداری ہر شہری پر فرض ہے ۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے