جب سیاست ذاتی مفادات، وقتی فائدوں اور انفرادی خود غرضیوں سے بلند ہو کر اجتماعی فلاح، اصول پسندی اور نظریاتی وابستگی پر استوار ہو تو جماعت کا ڈھانچہ محض ایک تنظیمی خاکہ نہیں رہتا بلکہ ایک مضبوط، منظم اور پائیدار ادارے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ایسی سیاست میں قیادت احتساب کے دائرے میں رہتی ہے، فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں اور کارکن خود کو محض ہجوم کا حصہ نہیں بلکہ مقصد کا شریک سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً جماعت کے اندر اعتماد، نظم و ضبط اور باہمی احترام کی فضا قائم ہوتی ہے جو کارکنان کو ایک محفوظ اور باوقار پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔پاکستان کی سیاست میں وفاداری، رفاقت اور قربانی جیسے الفاظ اکثر نعروں تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں صاحبزادہ حامد رضا کے ایکس اکائونٹ سے جاری بیان نے اسی تلخ حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ انہیں جیل میں 111 دن ہو چکے ہیں اور ان کی ملاقات کا دن قریب ہے، مگر سوال یہ اٹھایا گیا کہ کیا ان کے اتحادیوں میں سے کوئی رہنما ان سے ملنے پہنچا؟ یہ سوال محض ایک فرد کی شکایت نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔صاحبزادہ حامد رضا، جو سنی اتحاد کونسل کے اہم رہنما ہیں اور انتخابی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی رہے، آج خود کو تنہا محسوس کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تنہائی صرف جیل کی دیواروں تک محدود نہیں بلکہ سیاسی بے اعتنائی کی علامت بن چکی ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کو ایک کلٹ قرار دیا اور کہا کہ اس جماعت میں سیاسی رفاقت یا نظریاتی ہم آہنگی کا تصور معدوم ہو چکا ہے۔ان کے بقول جماعت کے اندر کئی گروہ سرگرم ہیں اور ہر رہنما کسی نہ کسی مرحلے پر تنقید اور تضحیک کا نشانہ بن چکا ہے۔ اگرچہ یہ بیان سیاسی تناظر میں دیا گیا، مگر موجودہ حالات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ جماعت کی تمام تر توجہ ایک ہی شخصیت کے گرد مرکوز ہو چکی ہے۔ یہ شخصیت یقینا بانی پی ٹی آئی ہیں، جن کی مقبولیت اور سیاسی اثر و رسوخ سے انکار ممکن نہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا کسی جماعت کی بقا اور نظریاتی ساکھ ایک فرد کے گرد اس حد تک گھومنی چاہیے کہ دیگر رہنما اور کارکن پس منظر میں چلے جائیں؟اگر اتحادی جیلوں میں ہوں، مقدمات کا سامنا کر رہے ہوں اور سیاسی دبائو برداشت کر رہے ہوں تو کیا قیادت کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ ان کیلئے آواز بلند کرے؟ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے بھی اسی نکتے کی جانب اشارہ کیا کہ جماعت عملًا ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق وہ اتحادی جنہوں نے اپنی جماعتیں اور سیاسی سرمایہ اس اتحاد کے سپرد کیا، آج مشکلات میں ہیں مگر قیادت کی جانب سے ان کے حق میں موثر آواز سنائی نہیں دیتی۔ یہ طرز عمل اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ جماعتی ترجیحات اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے فلور پر کہا کہ سیاست کسی ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ قربانی دینے والوں کے احترام کا تقاضا کرتی ہے۔ ان کا مقف تھا کہ اگر کارکن اور رہنما خود کو غیر محفوظ اور غیر اہم سمجھنے لگیں تو جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ کمزور ہو جاتا ہے۔ سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ جب اپنی جماعت کے لوگ کوٹ لکھپت تک جانا پسند نہیں کرتے تو دوسروں سے کیا توقع رکھی جائے۔ یہاں کوٹ لکھپت جیل کا حوالہ محض ایک مقام نہیں بلکہ اس سیاسی تنہائی کی علامت ہے جس کا سامنا کئی رہنما کر رہے ہیں۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ(ن)کی رہنما حنا پرویز بٹ نے اسے قیادت کے مزاج کا عکاس قرار دیا اور کہا کہ جو شخص اپنے دیرینہ ساتھیوں کا ساتھ نہ دے سکے، اس سے نظریاتی وابستگی کی توقع عبث ہے۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے اسے خود غرض سیاست کی مثال قرار دیا جہاں ایک فرد کی اہمیت باقی سب پر حاوی ہو جاتی ہے۔ یہ تمام بیانات اپنی جگہ سیاسی رنگ رکھتے ہیں، مگر اصل سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا واقعی جماعت کے اندر اجتماعی قیادت کا فقدان ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں افراد کے گرد نہیں بلکہ ادارہ جاتی ڈھانچوں اور نظریات کے گرد مستحکم ہوتی ہیں۔ جب قیادت کا محور صرف ایک شخصیت بن جائے تو اختلاف رائے دب جاتا ہے، اندرونی جمہوریت کمزور پڑ جاتی ہے اور وفادار کارکن خود کو غیر متعلق محسوس کرنے لگتے ہیں۔صاحبزادہ حامد رضا کا معاملہ اس وسیع تر مسئلے کی علامت ہے۔ انہوں نے سیاسی اتحاد کی خاطر اپنا کردار ادا کیا، مگر آج اگر وہ خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں تو یہ صرف ایک فرد کا شکوہ نہیں بلکہ اس سیاسی کلچر پر سوالیہ نشان ہے جہاں قربانی دینے والے پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور مرکز میں صرف ایک نام باقی رہ جاتا ہے۔جمہوری سیاست کا حسن اجتماعی مشاورت، باہمی احترام اور نظریاتی وابستگی میں ہے۔ اگر کسی جماعت کی توجہ صرف ایک رہنما کی رہائی، مقبولیت یا سیاسی بقا تک محدود ہو جائے اور دیگر ساتھیوں کی مشکلات ثانوی حیثیت اختیار کر جائیں تو یہ طرز عمل طویل المدتی طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ کارکنوں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور اتحادی بدظن ہو جاتے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں، بالخصوص پی ٹی آئی، اپنے اندر احتساب کا عمل شروع کریں۔ قیادت کو یہ باور کرانا ہوگا کہ سیاست کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں بلکہ ایک اجتماعی امانت ہے۔ اگر اتحادی اور کارکن خود کو نظرانداز محسوس کریں گے تو سیاسی اتحاد کمزور پڑیں گے اور جماعت کی ساکھ متاثر ہوگی ۔ صاحبزادہ حامد رضا کا سوال دراصل ایک آئینہ ہے جس میں پوری جماعت اپنا چہرہ دیکھ سکتی ہے۔ فیصلہ قیادت کو کرنا ہے کہ وہ اس آئینے کو توڑتی ہے یا اپنے رویوں کی اصلاح کرتی ہے۔ جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام اور کارکن ہوتے ہیں، اور جو جماعت اپنے ہی لوگوں کو بھلا دے، وہ وقت کے ساتھ خود بھی فراموش ہو جاتی ہے۔

