کالم

غیر قانونی افغان مہاجرین کی بیدخلی کا دلیرانہ فیصلہ

وفاقی حکومت و اپیکس کمیٹی کے فیصلے بعد پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری ہے، اب تک درجنوں افغان خاندان طورخرم کے راستے افغانستان روانہ ہوچکے ہیں، حکومت نے 31اکتوبر تک کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے جس کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی گرفتاری کے علاوہ ان کی ملک کی بدری بھی ہوگی ، نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی جانب سے مذکورہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی رپورٹ میںدہشت گردی اوردیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں افغان سمز کا استعمال دیکھنے میں آیا ،نگران وزیراعظم کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کوپاکستان چھوڑنےپر اعتراض کرنے والوں کو نہیں بھولنا چاہے کہ ہم نے کم وبیش چالیس سال تک افغان بہن بھائیوں کی دل وجان سے خدمت کی ہے ، ریکارڑ پر ہے کہ افغان مہاجرین میں سے بعض ایسے بھی تھے جنھوں نے غیر قانونی طور پر نہ صرف پاکستان کے شناختی کارڈز اور پاسپورٹ بنوائے بلکہ بیرون ملک بھی نئی شناخت کے ساتھ منتقل ہوگے ، معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں نے افغان مہاجرین کے مسئلے پر پاکستان کی معاشی مشکلات کے باوجود اسلام آباد کی خاطر خواہ مدد نہ کی ، آج صورتحال یہ ہے کہ افغانستان میںبے تحاشا مہاجرین کی آمد کے سبب یواین او نے پاکستان کی امداد بند کردی ہے ، اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان سے آٹا، چینی ، چاول اور دیگر اجناس کی سمگلنگ میں بھی بعض افغان مہاجرین ملوث ہیں، قانون نافذ کرنےوالے اداروں نے حکومت کو یہ بھی رپورٹ دے چکے کہ پاکستان میں ڈالرز کی سمگلنگ میں افغان مہاجرین کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا ،ہم جانتے ہیں کہ سرحدوں پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام تو ہے مگر حالات واقعات کی روشنی میں ایسے ہرگز مثالی نہیں کہا جاسکتا چنانچہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر اشیا خرودونوش افغانستان منتقل کرنے کا سلسلہ سالوں سے جاری وساری ہے ، ایک نقطہ نظر ہے کہ ہماری ماضی کی افغان پالیسی کسی طور پر غلطیوں سے مبرا نہ تھی شائد یہی وجہ ہے کہ اس کا خمیازہ پاکستان آج بھی بھگت رہا ہے ، ناقدین کے بعقول اگر مرحوم ضیا الحق روس افغانستان کی جنگ میں پاکستان کا کردارمحدود رکھتے تو ہماری مشکلات میں خاطر خواہ کمی ہوسکتی تھی ، ستم ظریفی ہے کہ ماضی بعید تو ایک طرف خود ماضی قریب میں افغان طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان میں بعض افراد نے یوں خوشی کا اظہار کیا جیسے کوئی بڑا معرکہ سر کرلیا گیا ہو ، اس حقیقت کو چھپایا نہیں جاسکتا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے افغان طالبان سے قریبی مراسم ہیں ، یعنی نظریاتی اور مسلکی قربت کا ہی شاخسانہ تھا کہ پاکستان طالبان کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں دی گئیں، قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ بیشتر کاروائیوں میں افغان طالبان بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر شریک ہیں ، یہ اطلاعات بھی ہیں کہ افغان طالبان کے بعض گروہوں نے امریکہ کے بعد پاکستان کو اپنا اگلا ہدف قرار دے ڈالا ہے ،لازم ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بارڈر پر غیر قانونی آمد روفت کا سختی سے تدارک کرے،معاملہ کا تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ افغان طالبان میں ایسے جنگجووں جو مارنے اور مرنے پر یقین رکھتے ہیں انہیں پاکستان میں بھیجنے کی پالیسی پر خاموشی سے عمل کیا جارہا ہے ، سمجھ لینا چاہے کہ مذکورہ تمام تفصیلات نگران وزیر اعظم کے علم میں ہیں یہی وجہ ہے کہ انوارالحق کاکڑ کی جانب سے خاصی سوچ وبچار کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی پاکستان سے بے دخلی کا فیصلہ کیا گیا ،یقینا اس اقدام میں انھیں ہماری مسلح افواج اور اس کی قیادت کی جانب سے مکمل معلومات فراہم کی گئیں۔ وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں اپنے عوام کے مفاد ہی کو مقدم سمجھا جائے ، یعنی داخلہ ہی نہیں خارجی پالیسی کی تشکیل میں بھی ایسے اقدمات اٹھائے جائیں جو کروڈوں پاکستانیوں کے شب روز میں مثبت تبدیلیاں لائیں ،اس میں دوآرا نہیں کہ نگران حکومت کا مینڈیٹ صاف شفاف انتخابات کروا کر اقتدار منتخب نمائندوں کے سپرد کرنا ہے مگرپاکستان کے موجودہ حالات ہرگز معمول کے نہیں ، ہماری معاشی ہی نہیں سیاسی صورت حال بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ عوام کی مشکلات کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے ، نگران وفاقی حکومت کا اول وآخر ہدف عام آدمی کےلئے آسانیاں پیدا کرنا ہے ، یہی وجہ ہے کہ نگران وزیر اعظم نے متعلقہ محکموں کو نہ صرف بجلی کے بلوں میں عوام کو ریلیف دینے کے احکامات جاری کیے بلکہ پیڑول کے دام بھی کم ہوئے ، انوار الحق کاکڑ نے یہ بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ عالمی سطح پر پیڑول کی قیمت کم ہونے پر عوام کو مذید ریلیف دیا جائے ، سرکاری زرائع سے یہ خبر قومی میڈیا کی زینت بن چکی کہ 15اکتوبر تک پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مذید کمی لائی جاسکتی ہے ، غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی بےدخلی کے معاملہ کو بھی اسی پس منظر میں سمجھا اور دیکھا جانا چاہے ، آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ انوارالحق کاکڑ خارجہ اور داخلہ محاذ پر ہر وہ کام کررہے جو پاکستان کے عام آدمی کےلئے بہتر نہیں بہترین ثابت ہو۔
٭٭٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے