کالم

قائد اعظم اور دو قومی نظریہ

قائد اعظم کے یوم پیدائش کے موقع پرہم نے اپنے کالم میںپاکستان کے اسلامی ہونے کے لیے لمبی تمہید کی بجائے قائد اعظم کے بیانات کو پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں تاکہ قائد اعظم کی روح کو تکلیف پہنچانے والے سیکولر عناصر سوچنے پر مجبور ہوں کہ وہ کتنی غلط باتیں قائد سے منسوب کرتے رہتے ہیںاور ان بیانات کو توڑ مڑو کر غلط سمت کا تعین کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ محترم قائد نے برصغیر میں آزادی کے وقت دو قومی نظریے کی تشریح کرتے ہوئے اعلانیہ کہا تھا یہاں دو قومیں آباد ہیں مسلمان اور ہندو. قائد اعظم کا دو قومی نظریہ کیا تھا وہ فرماتے ہیں ”ہندو اور مسلمان دو جدا مذہبی تصورات، سماجی روایات اور ادبیات رکھتی ہیں۔ نہ وہ باہمی شادیاں کرتے ہیں،نہ ایک جگہ کھانا کھاتے ہیں ۔ بلاشبہ وہ دو مختلف جدا گانہ تہذیبوں سے پیوست ہیں، جس کی بنیاد میںمتصادم تصورات اور زاویہ فکر ہیں۔زندگی سے متعلق اُن کی سوچیں جدا ہیں ۔یہ بلکل واضح امر ہے کہ ہندو اور مسلمان تاریخ کے مختلف ماخذوں سے تحریک لیتے ہیں۔اُن کی رزمیہ کہانیاںجدا ہیں، اُن کے ہیروز اور داستانیں جدا ہیں۔ عموماً ایک کے ہیرو دوسرے کا ولن ہے اسی طرح اُن کی فتوحات اور شکستیں ایک دوسرے سے گڈمڈ ہیں”۔کانگریس نے کہا نہیں یہ بات نہیں ہے برصغیر میں ایک قوم آبا دہے ہندستانی قوم ۔اور دلیل دی کی قومیں اُوطان(وطن کی جمع) سے بنتی ہیں یعنی جو ہندوستان میں رہتا ہے وہ ایک قوم ہے۔ اس دلیل پر کانگریسی مسلمان علماء نے بھی کانگریس کاساتھ دیا تھا۔ مگر عام مسلمان اور علماء ان کے ساتھ نہیں تھے۔اس موقع پر مولاناسید مودودینے ایک تاریخی کام کیا اور آفاقی مسلم قومی نظریہ پیش کیا اور کہا مسلمان قومیں اوطان سے نہیں بلکہ نظریہ پر بنتی ہے ۔ اسی نظریے کو علامہ اقبال شاعر اسلام اس انداز میں پیش کیا:۔
اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ۖہاشمی
موجودہ دور میںاسی نظریے کی توثیق ہماری افواج کے سابق سپہ سالارجنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کا کول سے فارغ التحصیل فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے۔ اسلام کو پاکستان سے کبھی الگ نہیں کیا جا سکتا ۔اسلام ہی پاکستان کو متحد رکھنے والی واحد قوت ہے۔ پاک فوج ملک کو حقیقی اسلامی جمہوریہ بنانے کے خواب کی تکمیل کرتی رہے گی۔ جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد اعظم نے اس کی تکمیل کی۔بری فوج کے سربراہ نے ان خیالات کا اظہار ١٢٧ وین پی ایم اے لانگ کورس چھیالیسوں انیٹگریٹڈ کورس اور پہلے مجاہد کورس کی پاسنگ آوٹ پریڈسے بطور مہمان خصوصی برادر اسلامی ملکوں فلسطین،سوڈان اور ترکمانستان کے کیڈٹ بھی شامل ہیں۔ میدان عمل میںجانے والے فوجی افسران سے بری فوج کے سربراہ کا موجودہ خطاب اہمیت رکھتا ہے۔قیام پاکستان سے پہلے قائد نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ” مسلمانو! میں نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ دولت،شہرت اور آرام و راحت کے بہت لطف اٹھائے ،اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سر بلند دیکھوں ۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کے میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا حق ادا کر دیا ۔ میں آپ سے اس کی داد اور صلہ کا طلب گار نہیں ہوں میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، میرا ایمان اور میرا اپنا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے واقعی مدا فعت اسلام کا حق ادا کر دیا اور میرا خدا یہ کہے کہ جناح بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے مسلمان جئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ میں اسلام کے علم کو بلند رکھتے ہوئے مرے”( قیامِ پاکستان سے پہلے٢٢ اکتوبر ١٩٣٩ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے خطاب)جب پاکستان قائد کی ولولہ انگیز قیادت میں بن گیا تولا الہ الااللہ کی بنیاد پر بننے والے پاکستانی عوام سے محترم قائد نے١٤ فروری ١٩٤٨ء کو سبی میں دربار سے خطاب میں فرمایا تھا ” ہماری نجات کا واحد ذریعہ ان زرین اصولوں پر مشتمل ضابطہ حیات پر عمل کرنا ہے جو قوانین ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی ۖ نے قائم کر دیے ہیں”کیا ہم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری زندہ جاوید خطبہ حجة الوداع، جو انسانی حقوق کا بنیادی چارٹر ہے کے مطابق اپنے ملک میں اقدامات کیے ہیں یقیناً نہیں کئے؟ پاکستان بننے کے بعد پھر٢١ فروری ١٩٤٨ء ملیر کینٹ میں قائد اعظم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا ” اب آپ کو اپنی سر زمین میں اسلامی جمہوریت معاشرتی انصاف اور اسلامی مساوات کے اصولوں کے احیاء اور فروغ کی پاسبانی کرنا ہے اخوت ، مساوات اور اتحاد ہمارے دین تمدن اور ثقافت کے بنیادی عنصر ہیں”کیا ہم نے قائد کی متعین کردہ راہ پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کی سمت استوار کی ہے؟ اسلام کے شروع دور کے سنہری دور کے متعلق پرانے زمانے کی باتیں کہنے والوں نے قائد کا یہ بیان نہیں پڑھا جو انہوں نے٢٦مارچ ١٩٤٨ء چٹاگانگ میں فرمایا تھا” اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا(مقصدحیات)اسلام کے بنیادی اصولوں پر مشتمل جمہوری نوعیت کا ہو گا ان اصولوں کا اطلاق ہماری زندگی پر اسی طرح ہو گا جس طرح تیرہ سو سال قبل ہوا تھا”جھوٹ کی کچھ انتہا ہوتی ہے قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی تخلیق کے دوران مختلف موقعوں پر تقریباً٩٠ تقریریں کی ہیں جو صرف اور صرف پاکستان کو جدید فلاحی اسلامی ریاست بنانے کے حق میں دلیل کے طو ر پر کی تھیں مگر ان کی گیارہ اگست ١٩٤٧ ء کی ایک تقریر جو انہوں ایک موقع کی مناسبت سے کی تھی اس کو سہارا بنا کر پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ جبکہ قائد اعظم نے اس کے بعد ٢٥ جنوری ١٩٤٨ ء کو بھی تقریر کی تھی جس نے اسے بے اثر بنا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان دستوری طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔پاکستان میں عوام کی اکثریت اسلامی طرز زندگی اپنانے کی خواہش رکھتی ہے ۔اس ہی کی وجہ ہے کہ ہر سیاسی پارٹی اپنے منشور میں اسلام کے نفاذ کو شامل کرتے ہیں روشن خیال ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کے قائد ذالفقار علی بھٹو صاحب نے ہی متفقہ اسلامی دستور پر اپوزیشن کے ساتھ مل کر دستخط کئے تھے جو آج بھی رائج ہے۔کیا ہم نے مدینے کی اسلامی ریاست اور خلفاء راشدین کی طرز حکومت کے مطابق اپنی ریاست کو استوار کیا ہے؟ ہم نے قائد کی ٩٠ کے لگ بھگ تقریروں میں سے جو انہوں نے تحریک پاکستان کے دوران میں مختلف موقعوں پر اسلامی پاکستان کے متعلق کی تھیں طوالت کی وجہ سے چند بیان کی ہیں ورنہ پاکستان اور دنیامیں یہ تقریرں کتابوں میں موجود ہیں نہ جانے کیوںسیکور عناصر کو پاکستان سے خاہ مخواہ کا بیر ہے۔ کچھ بھی ہو یہ ملک پاکستان مثلِ مدینہ اسلام کے نام پر بنا ہے اسلام کے نام ہی قائم رہے گا چائے سیکولر عناصر کو کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو یوم پیدائش قائد پر قوم کے نام یہی پیغام کہ ایٹمی پاکستان کو اسلام کا قلعہ بناناہے۔ یہ ملک دنیا کے مسلمانوں کا پشتی بان ہے ۔پوری امت مسلمہ اس کیلئے دعا گو ہے اللہ ہمارے پاکستان کو محفوط رکھے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے