کالم

ناقص منصوبہ بندی کے نتائج

پاکستان دنیا کا خوبصورت ترین ملک ہے ، یہ قدرتی وسائل اور معدنی دولت سے مالامال ہے ،پاکستان کے لوگ ذہین، محنتی اور جفاکش ہیں لیکن اس کے باوجود بے روزگاری میں اضافہ افسوسناک ہے۔وطن عزیز پاکستان میںبے روزگاری کے متعدد وجوہات ہیں۔گو کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا لیکن وطن عزیز پاکستان میں انصاف نام کی ناچیز ناپید ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔ وطن عزیز پاکستان میں کی پوسٹوں پر میرٹ پر بھرتی نہیں ہوتی۔ جب نالائق اور نااہل افراد بھرتی ہونگے تو وہ قطعی انصاف فراہم نہیں کریں گے اور وہ کام میرٹ پر نہیں کریں گے ۔ پاکستان میں عدلیہ کا نظام ایسا ہے جس میں انصاف کے حصول کےلئے قارون کا خزانہ اور نوح کی عمر کی ضرورت ہے، عدالتوں میں بروقت فیصلے نہیں ہوتے ہیں۔اگر فوری انصاف ملتا تو وطن عزیز پاکستان میں نہ صرف جرائم کم ہوتے بلکہ جوانوں کو میرٹ پر ملازمتیں مل جاتیں ۔ پاکستان میں تعلیمی لحاظ سے بھی تفاوت پایا جاتا ہے ۔ایک ملک لیکن متعدد تعلیمی نظام ہیں، سرکاری تعلیم، پرائیویٹ تعلیم ، اے او لیول تعلیم ، مدرسوں کی تعلیم ، ان سب میں بہت زیادہ فرق ہے،یہ سب تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر توجہ نہیں دیتے،یہ زبانیں سکھاتے ہیں لیکن ہنر نہیں سکھاتے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان میں طلبہ ڈگریوں کے حصول کے بعد بے روزگار ہوتے ہیں،طلبہ ڈگریاں لیے دربدر پھیرتے رہتے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی ہے اور زیادہ تر تعلیمی ادارے بغیر سربراہ کے چل رہے ہیں ، حکومت اداروں کے سربراہو ں اور اساتذہ کو میرٹ پر بھرتی نہیں کرتے ہیں ۔ اساتذہ اور دیگر ملازمین سیاست میںملوث ہوتے ہیں، سرکاری افسران اور ملازمین سرکاری ملازمین کم اور سیاست دان زیادہ ہوتے ہیں، وہ اداروں کی ترقی میں دلچسپی کم لیتے ہیں لیکن سیاستدانوں کے ڈیروں کا طواف زیادہ کرتے ہیں، ایسی صورت میں ادارے ترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہوجاتے ہیں،جس کے باعث ادارے ملازمین کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے۔وطن عزیز پاکستان میں سیاسی بھرتیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں جس سے اداروں پر بہت زیادہ بوجھ بڑھ جاتا ہے ،اداروں کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں، جب آمدن کم ہواور اخراجات زیادہ ہوں تو ایسی صورت میں ادارے زیادہ عرصہ نہیں چل سکتے ہیں، کراچی سٹیل مل اور پی آئی اے وغیرہ ان کی مثالیں ہیں۔سرکاری اداروں میں افسران اور ملازمین وقت سے پہلے بالکل حاضر نہیں ہوتے ہیں بلکہ افسران اور ملازمین وقت پر بھی نہیں پہنچتے ہیں۔افسران دفتر مرضی سے جاتے ہیں، جب دفتر پہنچ جاتے ہیں تو کام نہیں کرتے ہیں، ان کے بارے میں پوچھا جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ وہ میٹنگ میں مصروف ہیں۔ دیگر ملازمین چائے پینے یا موبائل فون پر محو گفتگو ہوتے ہیں،اس لئے سرکاری ادارے ترقی نہیں کرتے ہیں، جب ادارے ترقی نہیں کریں گے تونئی آسامیاں پیدا نہیں ہونگی اور بے وزگاری میں اضافہ ہوگا ۔وطن عزیز پاکستان میںکرپشن میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جوکہ انتہائی پریشان کن بات ہے۔ ہمارے ملک میں صرف وہ افراد کرپشن نہیں کرتے ہیں جن کو کرپشن کا موقع نہیں ملتا ہے۔کرپشن سے ملک اور اداروں کا ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے ۔جن ممالک میں کرپشن کم ہوتی ہے ،وہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں، جن ممالک میں کرپشن زیادہ ہو ،وہ ممالک اور اس کے ادارے تنزیلی کا شکار ہوجاتے ہیں۔جن ممالک میں کرپشن زیادہ ہو تی ہے، ان ممالک میں بے روزگاری بھی زیادہ ہوتی ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی بھی روزگارپر اثراندازہوتی ہیں ۔ زیادہ ترممالک میں ایک یا دو بچے کے حصول پر عملدر آمد کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ملک میں ایک ہی شخص کے دس سے پندرہ بچے ہوتے ہیں ۔ہمارے ملک کی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے جوبے روزگاری کا موجب بن رہی ہے۔ آبادی کم ہوگی تو روزگار آسانی سے مل جاتا ہے ،جب آبادی زیادہ ہوگی تو روزگار کی تلاش میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور بے روزگاری زیادہ ہوتی ہے۔وطن عزیز پاکستان میں منصوبہ بندی جیسی چیزیں کتابوں اور کاغذات پر مل سکتی ہیں لیکن عملاً منصوبہ بندی نام کی چیز یں کم نظر آتی ہیں ۔ حکومت کے پاس بے روزگاری کے درست اعداد وشمار بھی نہیں ہوتے ہیں، جب صحیح اعداد وشمار ہی نہ ہو تو منصوبہ بندی کیسی ہوگی؟ وطن عزیز پاکستان میں دس یازیادہ سالوں کے بعد خانہ شماری اور مردم شماری کی جاتی ہے لیکن اس پر بہت زیادہ سوالات اٹھتے ہیں۔ جب کسی ملک کی آبادی اور دیگر اشیاءو وسائل کے بارے میں معلومات درست نہ ہوں تو پھر اس کےلئے اعداد وشمار کی ہیر پھیر ہوسکتی ہے لیکن ٹھیک منصوبہ بندی نہیں ہوسکتی ہے لہٰذا ہمارے ملک میں بےروزگاری کی ایک اہم وجہ ناقص منصوبہ بندی یا پلاننگ کا نہ ہونا بھی ہے۔ زیادہ تر ممالک میںزمینوں کو عموماً دو مقاصد کےلئے استعمال کیا جاتا ہے ،زمینوں کو زراعت کےلئے استعمال کیا جاتا ہے، زرعی اجناس پیدا کیے جاتے ہیں۔ ملک زرعی اجناس کے لحاظ سے خود کفیل ہوجاتاہے اور ان اجناس کو ملکی ضرورت سے زیادہ ہونے کی صورت میں برآمد کیا جاتا ہے اور قیمتی زرمبادلہ کمایا جاتا ہے۔ زمینوں پر صنعتیں لگائی جاتی ہیں ،پروڈکٹس پیدا کیے جاتے ہیں جو ملکی ضرورت پوری کرتے ہیں اور ملک کی ضرورت سے زیادہ ہونے کی صورت میں برآمد بھی کیا جاتا ہے اوربرآمدات کے باعث ملک کے زرمبادلہ میں اضافہ ہوتا ہے ۔
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے