کالم

پاک افغان پالیسی ، درست سمت میں درست قدم

ایران پرامریکہ اور اسرائیل کے حملے نے خطے ہی نہیں عالمی افق پر بھی غیر یقینی کے بادل گہرے کردئیے ہیں ، ردعمل میں تہران کی جانب سے اسرائیل ہی نہیں مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے ، علاقائی اور عالمی سطح پر پھیلتی اس جنگ کے نتیجے میں مستقبل کے حوالے سے یقین سے کچھ کہنا مشکل ہوچکا،اس پس منظر میں افغانستان پر قابض طالبان گروہ کی جانب سے مسلسل بلا اشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستان کی بری اور فضائیہ کی ٹارگٹ کاروائیاں جاری وساری ہیں،طالبان حکومت کے کابل میں براجمان ہونے کے بعد خطے میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ، پاکستان میں مساجد، عدالتوں ، سیکورٹی فورسز سمیت عام شہریوں پر خودکش حملوں کی زمہ داری قبول کرنی والی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سرغنہ افغانستان میں براجمان ہیں ، ہم جانتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے مذہبی اور سیاسی نظریات ایک ہی ہیں، اب یہ کھلا راز ہے کہ افغان طالبان نے پاکستان میں دہشت گردی کا ازار گرم کرنے والی بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو پناہ اور تربیت دونوں فراہم کررہے ہیں ، مذکورہ دہشت گرد تنظمیں کھلے عام پاکستانیوں اور قانون نافذ کرنے والے افسران اور اہلکاروں کو شہید کرنے کا اعتراف کرتی ہیں، ریکارڈ پر ہے کہ ٹی ٹی پی اور اففان طالبان کے درمیان روابط 2001میں کھل کر سامنے آئے ، ان دنوں طالبان امریکہ اور نیٹو افواج کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے تھے ، اس دوران ٹی ٹی پی وجود میں لائی گی جس نے افغان طالبان کے بیانیہ ہی کو بنیاد بنا کر پاکستانی سیکورٹی فورسز اور شہریوں پر حملہ شروع کردیئے، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان شریعت کی ایک ہی تعبیر کو دل وجان سے تسلیم کرتے ہیں، ستم ظریفی ہے کہ امریکہ کے افغانستان میں حملے کے بعد پاکستان پر یہ الزام لگایا جاتا رہا کہ وہ قبائلی علاقوں میں افغان جنگجووں کو پناہ فراہم کرتا ہے، بظاہر مشکل حالات کے باوجود پاکستان نے طالبان کی کسی نہ کسی شکل میں محض اس بنا پر مدد کی کہ وہ زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کے مفادات کا تحفظ کریں گا مگر افسوس یہ امید پوری نہ ہوسکی، درحقیقت افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان پر دبائو ڈالنے کیلئے استعمال کررہے ہیں،افغان طالبان کی حکمت عملی کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کروا کر نئی دہلی کے آلہ کار کا کردار نبھایا جائے، ان حالات میں پاکستان تسلسل کے ساتھ کابل پر قابض گروہ کو باور کرواتا چلا آیا کہ وہ ٹی ٹی پی کے حوالے سے اپنی جاری پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے نئی دہلی کیلئے کرایہ کے قاتل کا کردار ادا نہ نبھائے ، آج واقفان حال آگاہ ہیں کہ پاکستان کی جانب سے بعض سرحدی چوکیاں قبضے میں لینے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد کو روکا جاسکے ، یقینا اس تبدیل شدہ پالیسی میں اسلام اباد کو ہرگز کوئی جلدی نہیں کہ افغانستان پر قابض گروہ کو کسی قسم کی کوئی رعایت دی جائے ۔وجہ یہ کہ کئی بار طالبان رجیم سے مذاکرت کے باوجود پرتشدد گروہ زمہ دارنہ طرزعمل اختیار کرنے پر آمادہ نہ ہوا، افغان اور پاکستانی طالبان کا ہمارے ہاں ہونیوالی دہشتگرد کاروائیوں میں کردار اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی، حال ہی میں خود اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ افغان طالبان اپنے ہاں کئی عالمی دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کے مرتکب ہوچکے ہیں، یہاں سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت حال میں ہم میں سے ہر ایک ہی کیا زمہ داری ہے ، دراصل پاکستانی قوم کی نمایاں خوبی ایک یہ بھی ہے کہ وہ خبیر تا کراچی لسانی ، سیاسی اور مذہبی ہر قسم کی دہشت گردی کیخلاف ہے ، پاکستانیوں کی اکثریت امن اور بھائی چارے پر یقین رکھتی ہے ، اس بے مثال سچائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ پاکستانیوں نے کبھی بھی زمام اقتدار کسی انتہاپسند مذہبی وسیاسی جماعت کے ہاتھ میں نہیں دیا، اس پس منظر میں ہمیں ہرگز نہیں بھولنا چاہے کہ پڑوسی ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی اسلام، پاکستان اور مسلمان دشمنی کے فلسفہ پر پوری طرح کاربند ہے ، تیسری بار متسند اقتدار پر فائز ہونے والے نریندر مودی گجرات کے قصائی کے طور پر مقبول ومعروف رہے، حد تو یہ تھی کہ وزیر اعظم کا حلف اٹھانے سے چند دن قبل تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنا پر امریکہ میں ان کے داخلہ پر پابندی عائد تھی ۔دوسری طرف پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم پاکستانیوں نے کسی بھی انتہاپسند فرد یا گروہ کو مقبولیت کی ایسی معراج تک نہیں پہنچایا کہ وہ ہمارا حکمران بن جائے ، بدلے ہوئے حالات میں لازم ہے کہ قومی سطح پر اتفاق واتحاد سے کام لیتے ہوئے اپنی صفوں میں چھپی کالی بھیڑوں کو نکال باہر کریں ،یاد رکھنا چاہے کہ پاکستان ایک آئینی اور جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا ، یہاں کا جمہوریت بتدریج اپنی جڑیں مضبوط کررہی ، ایسے میں سرحد کے آرپار قائم طالبان گٹھ جوڈ کو قومی اتفاق واتحاد سے شکست دینا ہوگی، یاد رہے کہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت دونوں دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہیں ، بس ہمیں بطور پاکستانی دل وجان سے حکومتی وریاستی اداروں کی کاوشوں کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے