کالم

پاک امریکہ تعلقات کا نیا مرحلہ

بین الاقوامی سیاست میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو رسمی ملاقاتوں سے آگے بڑھ کر پالیسی کی سمت متعین کرتے ہیں۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کا حالیہ دور امریکا ایسے وقت میں ہوا جب دنیا نئی صف بندی کے دور سے گزر رہی ہے: ایک طرف امریکہ چین مسابقت شدت اختیار کر رہی ہے، دوسری جانب مشرقِ وسطی میں کشیدگی کے بادل منڈلا رہے ہیں، افغانستان کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست نئی صورت اختیار کر چکی ہے اور امریکہ اور بھارت کے درمیان اسٹریٹجک قربت ایک واضح حقیقت بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی خارجہ حکمتِ عملی کو صرف ردِعمل نہیں بلکہ فعال توازن کی ضرورت ہے۔واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتیں رسمی سفارت کاری تک محدود نہیں رہیں۔ امریکی انتظامیہ، کانگریس اراکین، تھنک ٹینکس اور کاروباری حلقوں سے گفتگو میں اقتصادی تعاون، توانائی، آئی ٹی، معدنی وسائل اور علاقائی سلامتی جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف تعاون اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال اس امر کی یاد دہانی تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے اسلام آباد کو نظرانداز کرنا واشنگٹن کیلئے ممکن نہیں۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد خطے میں ایک ایسے شراکت دار کی ضرورت برقرار ہے جو زمینی حقائق، سرحدی حرکیات اور علاقائی سیاست کو سمجھتا ہو اور یہ کردار پاکستان کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔چند مہینوں میں امریکی بیانات میں نسبتا مثبت لہجہ اس بات کا اشارہ ہے کہ تعلقات کو مکمل تعطل کی کیفیت سے نکال کر ایک محدود مگر بامقصد فریم ورک میں لایا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کبھی جذباتی رومانویت پر استوار نہیں رہے۔ سرد جنگ کی دفاعی شراکت، افغان جہاد کا اسٹریٹجک اشتراک، نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی تعاون اور اسی دوران ڈرون حملے، بداعتمادی اور دو طرفہ شکوک اس رشتے کی پیچیدہ تاریخ کو واضح کرتے ہیں۔ یہ تعلق ہمیشہ مفادات کے تابع رہا ہے اور آج بھی اس کا تعین اسی پیمانے پر ہوگا۔اس دورے کا ایک اہم پہلو معدنی وسائل خصوصا ریکوڈک جیسے منصوبوں میں امریکی دلچسپی ہے۔ پاکستان کے تانبے اور سونے کے ذخائر نہ صرف معاشی امکانات رکھتے ہیں بلکہ عالمی سپلائی چین کی سیاست میں بھی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ تاہم امریکی دلچسپی صرف معدنیات تک محدود نہیں۔ پاکستان کی نوجوان آبادی، ابھرتا ہوا آئی ٹی سیکٹر اور وسیع صارف منڈی امریکی نجی شعبے کیلئے کشش رکھتے ہیں بشرطیکہ پالیسی تسلسل، قانونی تحفظ اور سکیورٹی کا ماحول یقینی بنایا جائے۔ سرمایہ کاری بیانات سے نہیں، پیش بینی اور اعتماد سے آتی ہے۔دوسری جانب امریکہ بھارت شراکت داری پاکستان کیلئے اسٹریٹجک حقیقت ہے جسے جذباتی زاویے سے نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ واشنگٹن نئی دہلی کو چین کے مقابل توازن کے طور پر دیکھتا ہے۔۔ دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سول نیوکلیئر تعاون میں بھارت کو دی گئی رعایتیں اس رجحان کو واضح کرتی ہیں۔ تاہم امریکی پالیسی ساز اس امر سے بھی آگاہ ہیں کہ جنوبی ایشیا میں مکمل جھکا خطے میں عدم توازن پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ رابطہ اور تعاون اسی اسٹریٹجک توازن کا حصہ ہے اگرچہ اس کی نوعیت ماضی سے مختلف اور زیادہ محدود ہو سکتی ہے۔اسوقت امریکہ ایران کشیدگی کا ممکنہ منظرنامہ اہم ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ اور تاریخی و ثقافتی روابط کا حامل ملک ہے، جبکہ امریکہ عالمی معیشت اور مالیاتی نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر دونوں کے درمیان براہِ راست تصادم کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو اسلام آباد کے لیے غیرجانبدار اور ذمہ دارانہ سفارت کاری ناگزیر ہوگی۔ پاکستان کو اپنی سرزمین کسی فریق کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی پالیسی پر قائم رہتے ہوئے پل کا کردار ادا کرنا ہوگا، فریق کا نہیں۔ اس کے ساتھ سرحدی سلامتی، داخلی استحکام اور تیل کی عالمی قیمتوں کے ممکنہ اثرات کے لیے پیشگی حکمتِ عملی بھی ضروری ہوگی۔اس دورے کی اصل قدر و قیمت علامتی تصویروں یا مشترکہ اعلامیوں سے نہیں بلکہ فالو اپ اقدامات سے طے ہوگی۔ کیا پاکستان معاشی اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری، توانائی شعبے کی تنظیمِ نو اور برآمدات کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گا؟ کیا پالیسی کا تسلسل سیاسی اتار چڑھا سے بالاتر رہ سکے گا؟ عالمی طاقتیں بیانیے سے زیادہ کارکردگی کو دیکھتی ہیں۔ اگر داخلی استحکام، شفاف طرزِ حکمرانی اور اقتصادی پیش بینی یقینی نہ بنائی گئی تو بہترین سفارتی مواقع بھی ضائع ہو سکتے ہیں۔ امریکہ چین مسابقت کے دور میں پاکستان کیلئے دانشمندانہ راستہ یہی ہے کہ وہ کسی بلاک سیاست کا حصہ بننے کے بجائے متوازن سفارتکاری اپنائے۔ بیجنگ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اپنی جگہ اہم ہے، مگر واشنگٹن سے بامقصد روابط بھی ناگزیر ہیں۔ خارجہ پالیسی کا ہدف توازن ہونا چاہیے، تصادم نہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے پل بننے کا موقع دیتی ہے شرط یہ ہے کہ داخلی کمزوریوں کو طاقت میں بدلا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے