بابا کرموں سے پوچھا آج یہ تو بتائیں کہ موجودہ جنریشن پہلی جنریشن سے کیوں بہتر نہیں ہے۔ کہا کہ فطری طور پر یہ جنریشن پہلی جنریشن سے خراب بھی نہیں بلکہ حالات، نظام اور اقدار میں بگاڑ نے انہیں اس نہج تک پہنچا دیا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ اقدار (Values) کی کمزوری کو ہی لے لیجئے پہلی جنریشن میں سچائی، شرم، خوفِ خدا، بڑوں کا احترام رزقِ حلال کی اہمیت ہوا کرتی تھی مگر موجودہ جنریشن اس دور میں کامیابی پیسہ اور طاقت کو سمجھتی ہے جو پکڑا نہ جائے وہ جرم نہیں” یہ سوچ کرپشن اور جھوٹ کو نارمل بنا دیتی ہے۔پھر رول ماڈلز بھی تباہی کی وجہ ہے آج کے نوجوان دیکھتے ہیں: جھوٹ بول کرسیاست میں کامیابی کرپشن کر کے عزت ، طاقت کو سمجھتے ہیں۔قانون توڑنے والوں کو سزا نہیں جب غلط لوگ کامیاب نظر آئیں گے تو نئی نسل یہی تو سیکھے گی۔اس کی وجہ نظام کی خرابی ہے۔ انصاف مہنگا سفارش کامیابی کی کنجی سمجھی جاتی ہے جب نظام سزا نہ دے تو کرپشن سفارش بچوں کی حکمتِ عملی بن جاتی ہے پہلی جنریشن میں کردار اہم تھا آج ویوز، لائکس، فالوورز جھوٹ، ڈرامہ، نفرت اور سنسنی سچ سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔ یہاں تربیت کا خلا دکھائی دیتا ہے۔والدین مصروف اساتذہ بے اختیار مذہب رسمی رہ گیا ہے بچے کو بتایا جاتا ہے کامیاب بنو یہ نہیں سکھایا جاتا کہ "اچھا انسان بنو” معاشی دبا بے روزگاری مہنگائی احساسِ محرومی جب جائز راستے بند ہوں تو ناجائز راستے انہیں آسان لگتے ہیں۔ ایک اہم حقیقت ہر دور میں یہ رہی ہے کہ سوسائٹی میں اچھے بھی اور برے بھی ہوتے ہیں اس سےآج برائی کو جواز مل گیا ہے اور اچھائی کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے۔ پوچھا اس کا حل کیا ہے؟ کہا گھر سے سچائی کی تربیت دینی شروع کرو۔کردار کو کامیابی سے بڑا بنا سکھا قانون کا بلا امتیاز نفاذ کرو خود کو مثالی بنا۔یاد رہے اصلاح باہر سے نہیں، اندر سے ہوتی ہے کہا جاتا ہے حضرت علی کا قول ہے "لوگ اپنے زمانے جیسے نہیں ہوتے، بلکہ اپنے حکمرانوں جیسے ہوتے ہیں۔ پوچھا اسلامی نقط نظر کے حوالے سے یہ بتائیں نسلیں کیوں کر بگڑتی ہیں؟ کہا اس لئے کہ دل سے خوفِ خدا کا نکل جانا جب عبادت رسم بن جائے اور جواب دہی کا احساس ختم ہو جائے تو جھوٹ اور کرپشن پھر آسان ہو جاتے ہیں۔ پھرحرام کو معمولی سمجھنا شروع کر دینے سے۔ نبی ۖ نے فرمایا ایک زمانہ آئے گا جب انسان کو اس کی پروا نہیں ہوگی کہ مال کہاں سے آیا، حلال یا حرام ۔ آج یہی کچھ ہو بھی رہا ہے کمیشن رشوت جھوٹ سب کو مجبوری کہہ کر جائز بنا لیا گیا ہے۔یہ سب کچھ بڑوں کی کوتاہی کا نتیجہ ہے اسلام میں تربیت کی ذمہ داری بڑوں پر ہے تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے جب والدین، اساتذہ اور لیڈرز خود جھوٹ بولیں گے قانون پر عمل نہیں کریں گے تو بچوں سے سچ کی امید پھر کیسی؟ پوچھا نوجوان عملی اصلاح کا کہاں سے آغاز کریں؟ کہا فرد کی سطح پر سچ بولنے کا عادی بنیں، چاہے نقصان ہی کیوں نہ ہو حلال کمائی پر قناعت کرنا سیکھیں، روزانہ خود سے سوال پوچھا کریں کہ میں کسی کے حق پر تو نہیں بیٹھا؟ حرام کا نوالہ تو نہیں کھایا گھر کی سطح پر بچوں کو صرف کامیاب نہیں، صالح بنائیں جھوٹ پر سزا، سچ پر حوصلہ افزائی کیا کریں۔ موبائل سے زیادہ وقت اور توجہ معاشرے کی سطح پر ایماندار کو عزت کرپٹ کو ہیرو نہ بنائیں خاموشی بھی جرم ہے۔برائی دیکھ کر خاموش رہنا بھی جرم ہے۔ ایک امید کی بات ہر دور میں اصلاح ہمیشہ ایک اقلیت سے شروع ہوئی جیسے ہمارے نبی ۖ اکیلے تھے ،حضرت ابراہیم اکیلے تھے لیکن حق کی طاقت تعداد کی محتاج نہیں ہوتی ۔ میرے نزدیک نسل خراب نہیں ہوئی بلکہ اسے سچ اورانصاف کا نمونہ نہیں ملا ۔جس کی وجہ جو نمازی دکھائی دیتے ہیں وہ اسلام کی پیروی نہیں کر رہے ہوتے۔ چوری کی مرغی کو ذبح کر کے حلال سمجھ کر کھاتے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے اج کی جنریشن کو حلال حرام کی تمیز ہی نہیں رہی نوجوانوں سے کہو گا کہ سچ کو نقصان پر ترجیح دیں جھوٹ وقتی فائدہ دیتا ہے جب کہ سچ مستقل فائدہ دیتا ہے۔رزقِ حلال کو عبادت سمجھا کریں۔ کم حلال بہتر ہے، زیادہ حرام سے۔برکت علم میں نہیں، ادب میں ہے۔ قانون توڑنے کو ہوشیاری نہ سمجھیں یہی سوچ قوموں کو گراتی ہے۔ خواہش کو عقل کے تابع رکھیں ہر ممکن کام جائز نہیں ہوتا۔ کمزور کے حق میں کھڑے ہوں۔ایسا کرنایہ ایمان کی علامت ہے۔ خود نمونہ بنیں، ایک اچھا کردار سو تقاریر سے بہتر ہے۔ عدل کے بارے میں کہا گیا ہے عدل کرو، یہی تقوی کے قریب ہے۔ جھوٹ ذاتی نہیں،اجتماعی تباہی ہے کرپشن صرف جرم نہیں، ایمانی کمزوری بھی ہے پاکستان کے موجودہ تناظر میں قابلِ عمل حل ریاستی سطح بلا امتیاز احتساب طاقتور یا کمزور برابر صرف عبادات نہیں، حقوق العباد بھی ہیں۔ خاندانی سطح والدین پہلے خود سچ بولیں سفارش پر فخر نہ کریں بچے کو بتائیں غلط طریقے سے آگے بڑھنا کامیابی نہیں ہے ایک تلخ مگر سچی بات قومیں تب نہیں گرتیں جب دشمن طاقتور ہو بلکہ تب گرتی ہیں جب اندر سے سچ ختم ہو جائے۔ امید کی کرن پاکستان کی نوجوان نسل میں شعور بھی ہے درد بھی ہے سوال کرنے کی ہمت بھی ہے بس درست سمت اور سچا نمونہ انہیں چاہیے۔بابا کرمو نے کہا یہاں پڑھے لکھوں نے انصاف کرنے والوں نے قوم کا بیڑا غرق کیا ۔کہا ڈاکٹر امجد وہ ارب پتی پاکستانی تھا جس کے ہاتھوں لٹنے و الے رقم کی واپسی کے لیے اسکی قبر پر پہنچ گئے تھے۔ کہا جاتا ہے اس پر دولت کی بارش ہوئی اور یہ اس بارش میں بھیگتا بھیگتا کیچڑ میں جا گرا اس نے پہلے ایڈن ہاؤسنگ سکیم کے 13 ہزار ممبرز کے دس ارب روپے ہڑپ کیے اور پھر اس نے ای او بی آئی کے پنشنر کی بڑی رقوم بھی اڑا لیں ۔متاثرین نے احتجاج کرنا شروع کر دیا تو ان دنوں افتخار محمد چودھری چیف جسٹس آف پاکستان تھے۔سو موٹو لیا گیا سنا کرتے تھے کہ اگر پیسہ ہے تو وکیل کیا کرنا جج کرلو۔اس پر اس نے عمل کیا لاہور کے ایک وکیل کے ذریعے چیف جسٹس اور ملزم کے درمیان رابطہ ہوا اور یہ رابطہ پھر رشتے داری میں بدل گیا۔ ڈاکٹر امجد کے بیٹے مرتضیٰ امجد اور افتخار چودھری کی صاحبزادی کی شادی ہو گئی اور یوں ایڈن ہاؤسنگ سکیم اور ای او بی آئی کے کیسز کھوہ کھاتے چلے گئے۔پھر دور بدلا نیب کے مقدمے شروع ہوئے تو پورا خاندان ملک سے بھاگ گیا۔ نیب نے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے ایف آئی اے نے 26 ستمبر 2018 کو مرتضی امجد کو دوبئی سے گرفتار کر لیا افتخار چودھری نے کوشش کی لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے ریڈ وارنٹ کو غیرقانونی قرار دے دیا اور یہ لوگ خاندان سمیت کینیڈا شفٹ ہو گئے کیسز چلتے رہے اور افتخار چودھری کا اثر و رسوخ ڈاکٹر امجد کو بچاتا رہا اس دوران کسی پراسرار بیماری کا شکار ہو گیا پاکستان آیا علاج شروع ہوا لیکن طبیعت بگڑتی رہی یہاں تک کہ دنیا بھر کے ڈاکٹرز ادویات اور افتخار چودھری کا اثر و رسوخ بھی اس کے کام نہ آیا اور ڈاکٹر امجد 23اگست 2021 کو لاہور میں انتقال کر گیا۔ لواحقین نے اسے خاموشی کے ساتھ دفن کرنے کی کوشش کی لیکن متاثرین کو خبر ہو گئی اور جنازے پر پہنچ گئے ۔ کہاہماری رقم واپس کرو کے نعرے لگانے لگے پولیس بلائی گئی پولیس احتجاجیوں کے درمیان کھڑی ہو گئی پولیس کی مدد سے جنازہ اٹھایا گیا اور پولیس ہی کی نگرانی میں ڈاکٹر امجد کو دفن کیا گیا ۔متاثرین بعد میں بھی اس کی قبر پر آتے رہے۔ ڈاکٹر امجد نے جس خاندان اور جن بچوں کیلئے 25 ارب روپے کا فراڈ کیا تھا وہ جنازے کے وقت کینیڈا میں بیٹھے رہے اور ان میں کوئی شخص اسے دفنانے پاکستان نہیں آیا تھا ۔ناجائز طریقوں سے مال کما کر نسلیں سنوارنے والوں کیلئے یہ کہانی نہیں ایک سبق ہے۔کرپشن، مار دھاڑ، ملاوٹ، قبضے ختم کرو۔دنیا و آخرت میں بھی حساب ہوگا بے حساب ہو گا۔ بابا کرموں نے کہا
نہ کر بندیاں میری میرینہ تیری نہ میری
تین گز دا تو مالک بندیاں اوہی خاک دی ڈھیری
کالم
پہلی اور آج کی جنریشن میں فرق
- by web desk
- جنوری 19, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 24 Views
- 3 ہفتے ago

