سفارتی ماہرین کے بقول یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اکیسویں صدی میں جنگ اور تخریب کاری کی نوعیت یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ آج دشمن سرحدوں پر ٹینکوں کے بجائے اسمارٹ فون، کی بورڈ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے حملہ آور ہوتا ہے۔اسی تناظر میںانسدادِ دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے 9 مئی کے واقعات کے پس منظر میں ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشتگردی کے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قانون کی عملداری کو واضح کیا ۔یاد رہے کہ اے ٹی سی کے جج طاہر عباس سپرا نے ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عادل راجا، حیدر مہدی، صابر شاکر، معید پیرزادہ، شاہین صبہائی اور وجاہت سعید کو دو، دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے دیگر دفعات کے تحت مجموعی طور پر 35 سال قید اور 15 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ تھانہ آبپارہ کے مقدمے میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو عمر قید سنائی گئی، جبکہ تھانہ رمنا کے کیس میں شاہین صبہائی، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو سزائیں دی گئیں ۔ غیر جانبدار حلقوں میں اس فیصلے کو ریاستی رِٹ، قومی سلامتی اور ڈیجیٹل جرائم کے خلاف واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران جس رجحان نے سنجیدہ ریاستی اور سماجی تشویش کو جنم دیا ہے، وہ نام نہاد ڈیجیٹل ایکٹوازم اور یوٹیوب کلچر کی آڑ میں پھیلائی جانیوالی ڈیجیٹل دہشتگردی ہے، جس کا ہدف ریاستی ادارے، قومی سلامتی، عدلیہ، افواج اور معاشرتی ہم آہنگی بنی۔غیر جانبدار مبصرین کے مطابق آزادیِ اظہار اور ڈیجیٹل دہشتگردی کے درمیان ایک واضح لکیر موجود ہے، مگر بدقسمتی سے بعض عناصر جان بوجھ کر اس لکیر کو مٹا رہے ہیں۔ یوٹیوب چینلز، ایکس ، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر ایسے افراد سرگرم دکھائی دیتے ہیں جو خود کو صحافی، تجزیہ کار یا انسانی حقوق کے علمبردار ظاہر کرتے ہیں، مگر ان کا مواد منظم پراپیگنڈا، ریاست مخالف بیانیہ اور اداروں کیخلاف نفرت انگیزی پر مشتمل ہوتا ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی نقط نظر سے یہ محض رائے کا اظہار نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا ہائبرڈ وار ماڈل ہے، جس میں جھوٹی خبریں، ایڈیٹ شدہ ویڈیوز، سیاق و سباق سے ہٹ کر بیانات اور من گھڑت کہانیاں پھیلائی جاتی ہیں۔ یہی مواد بعد ازاں دشمن ممالک کے میڈیا، تھنک ٹینکس اور لابنگ نیٹ ورکس استعمال کرتے ہیں، جس سے پاکستان کا عالمی تشخص مجروح ہوتا ہے اور داخلی انتشار کو ہوا ملتی ہے۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ پاکستان پہلے ہی دہشتگردی کیخلاف ایک طویل اور خونی جنگ لڑچکا ہے، جس میں نوے ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی گئی۔ ایسے میں اگر وہی دہشتگردی ڈیجیٹل شکل اختیار کر لے تو ریاست کا خاموش رہنا ممکن نہیں۔پاکستانی قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے مطابق بعض یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نہ صرف ریاستی اداروں کیخلاف مہم چلاتے رہے بلکہ کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو بھی تقویت دیتے رہے، جو قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔اسی تناظر میں عدالتوں کی جانب سے بعض یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل ایکٹوسٹس کو سزائیں دیے جانے کو محض اظہارِ رائے پر قدغن نہیں بلکہ قانون کی عملداری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں آزادیِ اظہار مطلق نہیں ہوتی۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسے ممالک میں بھی قومی سلامتی، نفرت انگیزی اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر سخت قوانین نافذ ہیں ۔ ایسے میں پاکستان اگر اپنے آئین اور قوانین کے تحت کارروائی کرتا ہے تو اسے غیر جمہوری یا آمرانہ قرار دینا ایک جانبدارانہ رویہ ہے ۔ سفارتی ماہرین کے بقول بعض ڈیجیٹل ایکٹوسٹس بیرونِ ملک بیٹھ کر نہ صرف پاکستان کے داخلی معاملات پر زہر آلود مہم چلاتے ہیں بلکہ دشمن ایجنسیوں کے بیانیے سے ہم آہنگ مواد بھی نشر کرتے ہیں ۔ فنڈنگ کے ذرائع، مواد کی ٹائمنگ اور مخصوص واقعات کے بعد اچانک سرگرمی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ سب کچھ منظم انداز میں ہو رہا ہے۔ ایسے میں ریاستی اداروں کی جانب سے خاموشی دراصل کمزوری تصور کی جاتی ۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ ڈیجیٹل دہشتگردی کا سب سے بڑا نقصان نوجوان نسل کو ہو رہا ہے ۔ غیر مصدقہ معلومات، سازشی نظریات اور نفرت انگیز مواد نوجوانوں کے ذہنوں میں شکوک، مایوسی اور بغاوت کو جنم دیتا ہے۔ پاکستانی ماہرینِ تعلیم کے مطابق جب ریاستی اداروں پر مسلسل حملے کیے جائیں تو نوجوانوں کا اعتماد کمزور پڑتا ہے، جو کسی بھی ملک کیلئے انتہائی خطرناک رجحان ہے۔پاکستانی ریاست کا موقف واضح ہے کہ تنقید، سوال اور اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہیں، مگر جب تنقید جھوٹ ، کردار کشی اور دشمن کے بیانیے میں تبدیل ہو جائے تو وہ آزادی نہیں بلکہ تخریب کاری بن جاتی ہے۔ اسی لیے سائبر کرائم قوانین، پیکا ایکٹ اور دیگر قانونی فریم ورک کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان قوانین کا مقصد صحافت یا اختلاف کو دبانا نہیں بلکہ ڈیجیٹل اسپیس کو منظم اور محفوظ بنانا ہے۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جن یوٹیوبرز یا ایکٹوسٹس کو سزائیں دی گئیں، ان کے خلاف مقدمات برسوں کی تفتیش، شواہد اور عدالتی کارروائی کے بعد نمٹائے گئے۔ انہیں وکیل کرنے، صفائی پیش کرنے اور اپیل کا مکمل حق دیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں قانون کا عمل موجود ہے، نہ کہ کسی فردِ واحد کی خواہش۔مبصرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ چند افراد کو سزا دی گئی، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ذاتی مفاد، شہرت اور بیرونی ایجنڈے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ایسے میں اگر اس رجحان کو روکا نہ گیا تو مستقبل میں یہ انتشار مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کا نقصان پوری قوم کو اٹھانا پڑے گا ۔ آخر میں یہ معاملہ اظہارِ رائے بمقابلہ ریاست نہیں بلکہ سچ اور جھوٹ، تنقید اور تخریب، آزادی اور ذمہ داری کے درمیان فرق کا ہے ۔ ڈیجیٹل دور میں ریاست کی بقا صرف سرحدوں کے دفاع سے نہیں بلکہ نظریاتی، معلوماتی اور ڈیجیٹل محاذ پر بھی مضبوط حکمتِ عملی سے جڑی ہے۔ اگر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ڈیجیٹل دہشتگردی کا سد باب کیا جا رہا ہے تو یہ کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل، استحکام اور قومی وحدت کے تحفظ کیلئے ناگزیر اقدام ہے۔

