حلقہ احباب سردار خان نیازی کالم

ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کر کرونا سے لڑنا ہے

تحریر
ایس کے نیازی
قانون کی حکمرانی تو وہ خواب ہے جو پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور پھر روز نیوز کی بنیاد میں گندھاہے۔ میرا صحافتی سفر اسی خواب کی تعبیر کو پانے کی آبلہ پائی ہے کہ ایک ایسی صبح طلوع ہو جس کی کرنیں قانون کی حکمرانی کا سندیسہ لے کر پاکستان پر طلوع ہوں اور اس سے پاک سر زمیں کا گوشہ گوشہ منور ہو جائے۔ قانون کی حکمرانی پر تو کوئی دوسرا سوال نہیں اور قانون سے تو کوئی بھی بالاتر نہیں ۔ لیکن یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی کا یہ سفر پھولوں کی سیج نہیں جہاں بے احتیاطی سے رکھا قدم بھی خوشبو میں نہا جاتا ہے ۔ یہ تو کانٹوں کی مالا ہے جہاں ذرا سی بے احتیاطی بھی گھائل کر دیتی ہے۔ قانون کے نفاذ میں جہاں جرات چاہیے وہاں حکمت اور شفافیت اور بصیرت بھی چاہیے ہوتی ہے ۔
میر شکیل الرحمن صاحب کو نیب نے گرفتار کیا ہے۔ میر صاحب سے توایک تعلق خاطر ہے کہ ایک ہی قلم قبیلہ ہے لیکن یہ سطور جو میں لکھ رہا ہوں یہ محض اس تعلق کی بنیاد پر نہیں لکھ رہا ہوں۔ میرا چیئر مین نیب جناب جسٹس( ر) جاوید اقبال سے بھی ایک تعلق ہے جس کی بنیاد احترام ہے۔ اس لیے میرے لیے ممکن نہیں کہ میں محض کسی تعلق کو نبھانے کے لیے بات کروں۔اور ویسے بھی میری کوشش رہی ہے کہ بات جب بھی کی جائے وہ سچی بات ہو نی چاہیے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ میر شکیل الرحمن صاحب کی گرفتاری پر خیال آیاکہ اتنے پرانے معاملے میں گرفتاری شاید اتنی ضروری تو نہ تھی۔سب سے پہلے ان کے لیے ٹی وی پروگرام میں ، میں نے کلمہ خیر کہا۔ان کی گرفتاری کی وجہ جو بیان کی جا رہی وہ ناکافی سی لگ رہی ہے۔ہاں اگر کوئی وجہ ہے جو بیان نہیں کی جا رہی تو پھر اس وجہ کو سامنے لانا چاہیے۔
عمران خان کے بارے میں ، پہلے دن سے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ ایک نیک نیت اور صاف گو انسان ہیں جو قائد اعظم کا ویژن لے کر سیاست میں چل رہے ہیں لیکن ان کے ارد گرد جو ٹیم ہے اس کے بارے میں تو شاید ایسا کہنا ممکن نہ ہو۔ مجھے کچھ احساس ہو رہا ہے کہ عمران خان صاحب سے ان کے ارد گرد جو لوگ ہیں وہ جھوٹ بہت بولتے ہیں۔اس سے بڑی خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔
ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے ، مجھے مجیب الرحمن شامی صاحب کے بیٹے عمر مجیب شامی نے خود بتایا کہ مجیب الرحمن شامی جب عمران خان سے ملے تو عمران خان نے ان سے کہا کہ سردار خان نیازی کے روز نیوز کو 65 کروڑ کے اشتہار ملے۔ اب یہ بات تو میں جانتا ہوں کہ حقیقت کیا ہے۔ میرے چینل کو اگر اس دہائی میں تیس کروڑ ، بلکہ تیس کیا پچیس یا بیس کروڑ کے اشتہار بھی کوئی ثابت کر دے کہ ملے ہیں تو میں چینل ہی چھوڑ دوں گااور حکومت کے حوالے کر دوں گا۔ معلوم نہیں اب عمران خان نے کہا تھا یا نہیںلیکن عمر شامی نے مجھے خود یہی بتایا اور حلفاً بتایا۔ اب میں سوچ رہا ہوں کہ جنہوں نے عمران خان کو میرے اور روز نیوز کے بارے میں اتنا جھوٹ بول لیا اور میرے اور عمران خان کے تعلق کو جاننے کے باوجود بول لیا توکیا اس بات کا امکان نہیں کہ میر شکیل الرحمن کے بارے میں بھی عمران سے ان کی ٹیم نے کچھ ایسی ہی غلط بیانی کی ہو۔
جھوٹ بولنا بہت ہی بری بات ہے۔ جھوٹے انسان کا کوئی اعتبار ہے نہ کوئی بھرم ہے۔ ادھر یہ حال ہے کہ مجھے س اس وقت فائزسینئر افسران نے خود بتایا کہ انفارمیشن کے اعلی تر منصب پر فائز افسر شفقت جلیل کا شناختی کارڈ جعلی ہے۔ یعنی اس نے جعلی شناختی کارڈ بنوا رکھا ہے تا کہ ملازمت کا دورانیہ بڑھ جائے۔ ابھی میں ان افسران کا نام نہیں لے رہا لیکن ضرورت پڑی تو نام لیا بھی جا سکتا ہے۔ ایسے لوگ اگر عمران خان کے گرد ہوں گے تو پھر فیصلوں میں یہ لوگ خرابی تو کریں گے۔
عمران خان ایک دیانت دار اور نیک انسان ہیں ۔لیکن ان کے گرد بیٹھے لوگ اگر ان کے ویژن کے مطابق کام نہیں کریں گے تو عمران خان کے لیے مسائل پیدا ہوتے جائیں گے۔ جھوٹ بہت بڑی خرابی ہے اور جھوٹ کو تو کسی شکل میں قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ہمیں اصلاح احوال کی ضرورت ہے۔اصلاح احوال پر ہی توجہ دینی چاہیے۔
ہماری توجہ اس وقت کرونا پر صرف ہونا چاہیے۔ ہمیں کچھ سخت اقدامات بہر حال کرنا ہوں گے۔ روس کی مثال دیکھ لیجیے، جس روز روس میں کرونا کا پہلا کیس سامنے آیا اسی روز چین کے ساتھ روس کی سرحد بند کر دی گئی اور سرحد پر قرنطینے قائم کر دیے گئے۔چنانچہ جنوری سے لے کر اب تک روس میں صرف ایک موت واقع ہوئی ہے اور بھی دو دن پہلے۔ یہ 79 سال کی ایک خاتون تھیں ۔میں پہلے دن سے اپنے ٹی وی پروگرام میں کہہ رہا ہوں کہ سرحد بند کر دو اور غیر ملکی فلائٹس پر پابندی لگا دو لیکن اس کام میں تاخیر ہو گئی اور اب کرونا نے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں۔
ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کر کرونا سے لڑنا ہے ۔ اس کے لیے ہمت اور یقین کے ساتھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے