آزاد کشمیر میں موسمِ سرما کی آمد محض درجہِ حرارت میں کمی کا نام نہیں رہی بلکہ یہ موسم ہر سال کی طرح اس بار بھی عوام کے لیے آزمائش، اذیت اور صبر کی انتہا بن کر آیا ہے۔ پہاڑوں سے اترتی سرد ہوائیں جب گھروں کے در و دیوار سے ٹکراتی ہیں تو ان کے ساتھ بجلی کے بحران کی وہ سرد مہری بھی داخل ہو جاتی ہے جو زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیتی ہے۔ اس سال بھی کہانی مختلف نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ تلخ، زیادہ کربناک اور زیادہ تکلیف دہ ہے۔بجلی جو آج کے دور میں محض سہولت نہیں بلکہ بنیادی انسانی ضرورت بن چکی ہے آزاد کشمیر میں ایک عذاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ وولٹیج کی شدید کمی، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور مسلسل بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ گھروں میں بلب تو جل جاتا ہے مگر فریج خاموش ہو جاتی ہے۔ استری محض دھات کا ایک ٹکڑا بن جاتی ہے اور واشنگ مشین خواب معلوم ہونے لگتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے بجلی دی تو گئی ہے مگر استعمال کی اجازت نہیں۔یہ وہی آزاد کشمیر ہے جہاں طویل عوامی جدوجہد کے بعد بجلی سستی کی گئی تھی۔ عوام نے قربانیاں دیں۔ احتجاج کیے۔ سڑکوں پر نکلے۔ آنسو گیس اور لاٹھیاں برداشت کیں تب جا کر کہیں یہ حق ملا مگر آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سستی بجلی کو کسی سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت سزا میں بدل دیا گیا ہے۔ نرخ کم کر دیے گئے مگر ترسیل کا نظام اس قدر تباہ کر دیا گیا کہ عوام سستی بجلی کے باوجود اندھیرے اور سردی میں ٹھٹھرتے رہیں۔شہریوں کی حالت زار بیان سے باہر ہے۔ سرد راتوں میں بزرگ، بیمار، خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ گھروں میں ہیٹر بے کار، کمروں میں نمی اور سردی، پانی برف بننے کو تیار اور ہر طرف بے بسی کا عالم۔ لوگ راتیں جاگ کر گزارنے پر مجبور ہیں۔ نیند آنکھوں سے روٹھ چکی ہے اور سکون ایک نایاب شے بن چکا ہے۔ یہ محض بجلی کا بحران نہیں ہے یہ انسانوں کی عزتِ نفس، صحت اور ذہنی سکون پر براہِ راست حملہ ہے۔سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس سنگین صورتحال پر محکمہ برقیات مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے۔ وہی بوسیدہ نظام، وہی لٹکتی تاریں، وہی دہائیوں پرانے اور ناکارہ ٹرانسفارمرز، اور وہی اپنی مدد آپ کے تحت مرمت کا فرسودہ کلچر۔ ٹیکنیکل عملہ محدود وسائل کے ساتھ جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کر رہا ہے مگر ان کی آواز بھی ایوانوں تک نہیں پہنچتی۔ آئے روز بجلی کے حادثات، جانی نقصانات، اور قیمتی جانوں کا ضیاع معمول بنتا جا رہا ہے مگر نہ کوئی جواب دہی ہے نہ کوئی سنجیدہ اصلاحات۔حکومتِ آزاد کشمیر کی کارکردگی اس بحران میں سب سے زیادہ سوالیہ نشان ہے۔نئی حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے دو ماہ کا وقت گزر چکا مگر تاحال کوئی جامع حکمتِ عملی سامنے نہیں آ سکی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ابھی تک مبارکبادیں وصول کرنے، ہار پہننے اور اقتدار کے جشن سے باہر ہی نہیں آ سکی۔ عوام کے مسائل ان کی ترجیحات میں کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ اگر نیت ہو تو بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانا ناممکن نہیںمگر یہاں نیت کی کمی سب سے بڑا بحران بن چکی ہے۔عوام نے اس حکومت سے بڑی امیدیں وابستہ کی تھیں۔ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ شاید یہ حکومت ماضی کی روایت توڑے گی مگر اب صورتحال یہ ہے کہ بیانیہ وہی ہے طرزِ عمل وہی ہے اور انجام بھی وہی دکھائی دے رہا ہے۔ انوار الحق کے دور کی طرح اعلانات کی بھرمار ہے مگر عملی اقدامات ناپید ہیں۔ وزراء اجتماعی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے اپنے اپنے انتخابی حلقوں کی سیاست میں مصروف ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت بھی اسی انتظار میں ہے کہ عوام سڑکوں پر نکلیں۔ احتجاج کریں۔ شور مچائیں۔ پھر کوئی عارضی حل پیش کر کے دادِ تحسین سمیٹ لی جائے۔یہ طرزِ حکمرانی نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ جب ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں خود نبھانے کی بجائے عوامی دباؤ کے منتظر ہوں تو نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی نظریں ایک بار پھر عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب اٹھ رہی ہیں۔ وہی کمیٹی جس نے ماضی میں عوام کی آواز بن کر کچھ نتائج حاصل کیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر بنیادی حق کے لیے سڑکوں پر آنا ہی واحد راستہ رہ گیا ہے؟دوسری جانب حکومت دوست اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ (ن) کی خاموشی بھی لمحہِ فکریہ ہے۔ یہ جماعت جو خود کو تجربہ کار اور عوام دوست کہتی ہے اس سنگین بحران پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ شاید اس خوف سے کہ کہیں حکومت ناراض نہ ہو جائے۔ جب حکومت اور اپوزیشن کی ملی بھگت کھل کر سامنے آ جائے تو عوام آخر کس پر اعتماد کریں؟ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں آہستہ آہستہ اپنا اعتماد کھو رہی ہیں اور پھر یہی جماعتیں شکوہ کرتی ہیں کہ آزاد کشمیر میں سیاسی عمل کمزور ہو رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سیاسی عمل اسی وقت کمزور ہوتا ہے جب سیاست عوامی مسائل سے کٹ جائے۔ جب سیاسی جماعتیں عوام کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہوں تو عوام بھی ان سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اعتماد ایک دن میں نہیں ٹوٹتا مگر مسلسل بے حسی اسے ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔محکمہ برقیات آزاد کشمیر کو اب محض عارضی مرمتوں کے سہارے نہیں چلایا جا سکتا۔ اس ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ ٹرانسمیشن لائنز کی اپ گریڈیشن، جدید ٹرانسفارمرز کی تنصیب، عملے کو مناسب سہولیات، حفاظتی آلات اور پیشہ ورانہ تربیت دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ سب کچھ سیاسی نعروں سے نہیںعملی فیصلوں سے ممکن ہے۔حکومتِ آزاد کشمیر کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں اوپر سے بجلی کا یہ بحران ان کے صبر کا امتحان بن چکا ہے۔ الیکشن قریب ہیں اور یہ الیکشن محض ووٹ کا دن نہیں بلکہ یومِ حساب بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ عوام اب سوال پوچھ رہے ہیں اور ان سوالوں کے جواب محض تقریروں سے نہیں دیے جا سکتے۔اگر آج بھی اس بحران کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو کل یہ مسئلہ محض بجلی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک بڑے عوامی ردعمل کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ وقت اب بھی ہے کہ حکومت خوابِ غفلت سے بیدار ہو۔ محکمہ برقیات کی اصلاح کرے اور عوام کو اس مسلسل اذیت سے نجات دلائے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستی نظام عوام کو اندھیروں میں دھکیل دے تو اندھیرے بولنے لگتے ہیں اور پھر ان کی آواز کوئی نہیں روک سکتا۔

