ہماری روایت، ثقافت اور دین سکھاتا ہے کہ جس گھر میں پناہ لی ہو اسکی خیر مانگتے ہیں۔لیکن۔افغانستان نے نہ صرف اِن روایات کوروندابلکہ پاکستان کی دہائیوں مہمان نوازی اوراحسانات کوبھی بھول کربھارت کی گودمیں بیٹھ کراپنے ہی محسن کیخلاف سازشیں شروع کردیں ۔بارہاسمجھانے کے باوجود جب پاکستان کی خودمختاری کوچیلنج کیاگیا،معصوم پاکستانی شہریوں کے قاتل دہشتگردوں کی افغانستان سے سرپرستی رہی توبالآخرگزشتہ ہفتہ پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج کی جانب سے افغانستان میں آپریشن غضب للحق کاآغاز کردیاہے ۔آپریشن غضب للحق سے قبل پاکستان کی جانب سے بھرپورکوشش کی گئی کہ افغانستان کیساتھ سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل ہوجائیں اورنہ صرف افغانستان میں مقیم خارجیوں کے ٹھکانے ختم کئے جائیں بلکہ افغانستان کی جانب سے اِن کی سرپرستی بھی ختم کی جائے۔اِس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی طورپراجلاس بھی ہوئے قطرسمیت دوست ممالک کی ثالثی میں افغانستان کوبارہاکہاگیا کہ وُہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکے ۔اِسی طرح ترکی اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ پاکستان کا مضبوط موقف رہا۔لیکن افغانستان ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھنے کے لیے تحریری یقین دہانی دینے سے مسلسل انکاری رہا جس کے باعث 2600 کلومیٹر طویل غیرمحفوظ سرحد کے ذریعے دہشتگرد پاکستان میں داخل ہو کر حملے کرتے رہے ہیں۔پاکستان نے ثالث ممالک کوثبوت بھی دکھائے کہ پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی کے تانے بانے براہ راست افغانستان سے ہیں اوردہشتگردوں کونہ صرف افغانستان بلکہ بھارتی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ لیکن۔افغان طالبان کی ڈھٹائی اورآئے روزبلااشتعال جارحیت اور فائرنگ کے جواب میں آپریشن غضب اللحق شروع کیاگیا۔وفاقی وزارت اطلاعات ونشریات کے اعدادوشمار کے مطابق آپریشن”غضب للحق” میں افغان طالبان رجیم کے ہلاک کارندوں کی تعداد 435 ہوچکی ہے جبکہ پاک فوج نے طالبان رجیم کی 188 چیک پوسٹیں تباہ، 31 پر قبضہ جبکہ اِس دوران 192 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنزبھی تباہ کردی ہیں ۔اِسی طرح افغانستان بھر میں 56 مقامات کو فضائی کارروائی کے ذریعے مؤثر طور پر نشانہ بنایا جاچکاہے جبکہ فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بلا اشتعال جارحیت کے بعد ہر محاذ پر بھرپور پسپائی کا سامنا ہے۔
قارئین کرام!
گزشتہ روزڈی جی آئی ایس پی آرنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بڑی خوبصورت بات کی کہ افغانستان میں کوئی حکومت نہیں، وہاں پشتون صرف 42فیصد ہیں جبکہ تاجک، ازبک، ترکمان، ہزارہ اور دیگراقوام 58 فیصد ہیں۔اِسی طرح وفاقی وزیربرائے دفاع خواجہ محمد آصف نے بھی افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی دھمکی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بڑاخوبصورت جواب دیاکہ۔ حقانی صاحب !۔آپکی ماضی کی جنگوں میں سوویت یونین کے خلاف پاکستان دل وجان سے آپکے ساتھ کھڑا تھا۔ آپ ہمارے مہمان رہے آپکے خاندانوں کی دہائیاں مہمانداری کی۔ تب کے لاکھوں مہمانوں میں لاکھوں ابھی بھی پاک سر زمین پہ پناہ گزین ہیں۔ ہماری پاک مٹی سے رزق کماتے ہیں۔ آپ بھی بمعہ خاندان ہمارے مہمان رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے مزیدکہاکہ نائن الیون کے بعدہم سے آپ کاپتہ پوچھاجاتاتھا۔کچھ یاد ہے آپکو؟ آپ سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ ہم نے آپکے بزرگوں سے لیکر تین نسلوں کی مہان نوازی کی ہے۔صلہ کیا ملا آپ ہمارے قاتلوں کو پناہ دیں؟ معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو سینے سے لگائیں؟ ہمارے گلی محلوں کو خون سے رنگین کرنے والوں کے حلیف بنیں؟میں کابل گیا آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ ایک درخواست کی تھی ہمارے دشمنوں کے حلیف نہ بنیں، اعانت نہ کریں۔ آپ نے رقم ما نگی ہم وہ بھی دینے کو تیار تھے مگر ضمانت کوئی نہیں تھی۔جس نسبت سے آپکو حقانی پکارا جاتا ہے وہ بہت عظیم بزرگ تھے۔ اس نام کی ہی لاج رکھیں۔دہشتگردی کی لعنت کے خاتمے کیلئے دُنیامیں سب سے زیادہ قربانیاں پاکستان نے دی ہیں اورآج بھی پاکستان کے عظیم بیٹے دہشتگردی کی جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں ۔دُنیاجان چُکی ہے کہ کون دہشتگردوں کی سرپرستی کررہاہے اورکلبھوشن یادیوجیسے دہشتگردوں کے سہولتکارکِس ملک کے ہیں ۔دہشتگردی کی لعنت کے خاتمے کیلئے آج آپریشن غضب للحق کے موقع پرپوری پاکستانی قوم حکومت پاکستان ،افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔جب تک افغانستان سے ایک ایک دہشتگردکاخاتمہ نہیں ہوجاتاانشااللہ آپریشن غضب للحق جاری رہے گا۔کرائے کے دہشت گردوں کو اب جڑ سے اکھاڑنے کاوقت آگیا ہے،احسان فراموشوں نے پاکستان کا صبر دیکھا ہے غضب نہیں دیکھا۔

