کالم

اسرائیل کے زیر سایہ ممکنہ اتحاد اور پاکستان

عالم اسلام بالخصوص پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے بھارت اور اسرائیل کے زیر سایہ دفاعی اتحاد بننے کو تیار اور مبینہ طور پر ایک عرب ملک کی اس اتحاد میں خبروں نے خلیجی ممالک بشمول ایران و پاکستان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایران کو تباہ کرنے کیلئے اسرائیل تمام چالیں چل رہا ہے ایک طرف ایران کے اندر غداروں کی پشت پناہی تو ایران کے سابق حلیف بھارت کے ساتھ ملکر ریشہ دوانیاں۔ اسرائیل اپنے راستے کا کانٹا ایران اور پاکستان کو سمجھتا ہے جبکہ بھارت کی پاکستان دشمنی سے پوری دنیا لطف اندوز ہوتی ہے۔ مسلم دنیا کے خلاف یہ مضبوط دفاعی اتحاد ظاہر ہے پاکستان کیلئے کھلا خطرہ کہ اسرائیل اور بھارت کے عزائم جارحانہ و توسیع پسندانہ جبکہ پاکستان کو مجبورا دفاعی صلاحیت بھرپور رکھنا پڑتی ہیں۔ دو تین ماہ قبل انہی سطور مین اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ پاک سعودی دفاعی معائدہ کا بھرپور ردعمل آ سکتا ہے اس دفاعی معائدے نے جہاں ایک طرف پاکستان پر ذمہ داری اور دبا بڑھایا ہے تو دوسری طرف اس کے بدترین دشمن بھی متحد ہونے جا رہے ہیں پھر 10مئی کے محیر العقول شکست بھارت کو کہاں چین لینے دیتی اس شکست نے اسرائیل و بھارت کی شرپسندانہ سوچ کو مزید مہمیز لگائی۔ یہ بھارت کا جنگی جنون ہی تو پے کہ جس نے بھارت سے فرانس کے ساتھ تاریخ کی سب سے بڑی دفاعی ڈیل کرا ڈالی ۔ ایک طرف 4.5جنریشن کے 114 رافیل لڑاکا طیارے اس کے فلیٹ کا حصہ بننے جا رہے ہیں تو دوسری طرف اسرائیل سے 8 بلین ڈالر کا دفاعی سازوسامان جس میں جدید ترین ڈرونز، میزائل ٹیکنالوجی اور دیگر اسلحہ شامل، کیلئے مودی اسرائیل کا اہم ترین دورہ کر رہے ہیں۔ مکار ہندو اور سازشی یہودی پاکستان کے خلاف یک جان ہونے اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت کے خلاف نئی صف بندیوں میں مصروف۔ بھارتی تیجس کی تباہی کے بعد اندرونی محاذ پر بھارتی فضائیہ اور مودی حکومت کے مابین سرد جنگ اور باہمی اعتماد کا فقدان تو ہے ہی مگر ہندو انتہا پسندانہ سیاست نے ان سب کو پاکستان دشمنی میں یک جان کر رکھا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے دفاع کے ذمہ دار ادارے پر دباو یقینا بڑھا ہے اور وہ اسے محسوس بھی کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان دفاعی پیداوار کی نئی منڈیوں کی تلاش میں ہے۔ پاکستان دنیا کے 190 سے زائد ممالک میں واحد ملک کہ جس کی فضائیہ نے جنگی جہاز سازی کی صنعت میں قدم رکھا اور قلیل وقت میں خودانحصاری و خود کفالت حاصل کی اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان پر سال ہا سال کی پابندیاں تھیں جس نے عسکری قیادت کو دنیا سے الگ سوچنے اور قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ JF-17کے ڈیزائن سے لیکر اس کی تیاری اور پرواز کے مراحل تک پاک فضائیہ کے انجینئرز، ٹیکنیشنز اور پائلٹ شریک رہے جس نے ان کی صلاحیتوں کو خوب نکھارا یہی وجہ کہ کم و بیش سات سے آٹھ ممالک اس کی خریداری پر معاہدہ جات کر چکے ۔ بھارت کے جنگی جنون کو لگام دینے کیلئے رافیل کے مقابل چینی ساختہ J 35 کی ڈیل کم و بیش مکمل جو ہماری دفاعی صلاحیت کے نکھار کو کافی۔ گرچہ عددی و عسکری اعتبار سے بھارت اور پاکستان کا موازنہ نہیں مگر اس کے باوجود ہماری سپاہ کا جوش جنوں اور جذبہ شہادت بھارت و اسرائیل پر لرزا طاری کئے ہوئے ہے۔ ایک خدشہ جو سر اٹھا رہا پے کہ شیطانی دفاعی پیکٹ میں اسلامی ملک کی شمولیت کے بعد ممکنہ طور پر وہاں سے لاکھوں پاکستانیوں کی بے دخلی کا خطرہ بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اس بارے سیاسی قیادت کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ وقت ہے ایسے سیاسی اتحاد کا کہ جو خطہ میں ہونیوالی تبدیلیوں اور امریکہ کی ایران پر ممکنہ جارحیت کے اثرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملک کو غیر ضروری مسائل اور انا کی دلدل سے نکالنے کی سعی کرے مگر یہ کہنے میں عار نہیں کہ حکومت اگر نااہل ہے تو اپوزیشن مفادات کی اسیر کہ جسے ملکی سلامتی و استحکام سے زیادہ اپنی فکر۔ ادھر افغانستان کے ذریعہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی بھارتی و اسرائیلی کوششیں جوبن پر۔ حد تو یہ کہ پاکستان کے ٹکڑوں پر پلنے اور کئی دہائیاں یہاں پناہ لینے والے طالبان نے نمک حرامی کی بدترین مثال پیش کر کے اپنا چہرہ بے نقاب کیا کہ انہیں اخوت کا حیا ہے اور نہ اسلامی بھائی چارے کا۔ ظاہر پے یہ سب قوم کیلئے دل شکن مگر اب جبکہ طالبان رجیم شرم و حیا کے تمام بندھن توڑ کر کفر کے ہاتھوں کھل کر کھیلنے پر آمادہ ہو چکی تو سیاسی قیادت کو بالغ نظری کا ثبوت دینے کو اچھا موقع میسر تھا۔ مگر اپوزیشن اس سے بے نیاز اپنا رونا رونے اور حکومت و بیوروکریسی ان تمام چیلنجز سے بے نیاز اختیار اور طاقت سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ کرپشن اور پروٹوکول کلچر قومی معیشت کو گھن کی طرح چاٹ رہا ہے۔ سالانہ 6 ہزار ارب کی کرپشن ان کے ضمیر پر بوجھ ہے اور نہ اس پر انہیں ندامت۔ اکثریت اس سب سے بے نیاز اندرون و بیرون ملک اپنی جائیدادیں بنانے میں مگن۔ مئی کی شاندار کامیابی کہ جو یقینا اللہ کا کرم تھا کے بعد سیاست دانوں اور بیوروکریسی کو ہوش کے ناخن لینے چاہئے تھے مگر رگ و پے میں دھنسی بددیانتی مثبت صلاحیتوں کی راہ میں روکاوٹ۔ چھوٹے سے چھوٹا آفسر بھی اپنے اندر فرعون پال رہا ہے اور ہر آنیوالا دن ان کی معاشی خوش حالی کی نوید لاتا ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں سالانہ قومی آمدنی 6فیصد کرپشن اور عیاشیوں پر خرچ کی خبر بھی ان کے مردہ ضمیر بیدار کرنے کو ناکافی۔ ابن خلدون نے 700سال قبل زوال پذیر قوموں بارے جو لکھا تھا وہ ہمارے معاشرے پہ کتنا صادق اس کا فیصلہ قارئین ہی کریں تو بہتر ہو گا۔ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ جب حکومتیں ناکام اور معاشرہ زوال پذیر ہوتا ہے تو ان میں نجومی، بھکاری، منافق، چغل خور، فتوی فروش، خود ساختہ حق سچ کے دعوی دار، خوشامدی،طعن و بہتان تراش، موقع پرست سیاستدانوں اور مسافروں کی بہتات ہو جاتی ہے۔ نام نہاد مبلغین کے شور میں دانشوروں کی آواز گم ہو جاتی ہے۔ قوم پرستی، حب الوطنی عقیدہ و مذہب کی باتیں ختم ہو جاتی ہیں۔پاکستان پائندہ باد !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے