افغان سر زمین پاکستان کےخلاف برسہا برس سے استعمال ہو رہی ہے،پاکستان اس کی شکایت بھی افغان حکام سے مسلسل کرتا آرہا ہے۔افغانستان کی سابق اشرف غنی حکومت سے پاکستان کی یہی شکایت ہوتی تھی،ٹھوس ثبوت بھی فراہم کر دیئے جاتے لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوتی،غنی حکومت کے بعد طالبان کی حکومت واپس آئی،جسمیں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا،لیکن پاکستان کی شکایت کا ازالہ نہ ہوا بلکہ پہلے سے بڑھ گیا۔موجودہ افغان حکومت کےساتھ کئی بار پاکستان نے باضابطہ بات چیت ہوئی تاہم ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم جماعتوںکے خلاف کارروائی کی کوئی کامیاب کوشش نہ کی گئی ۔ پاکستان کے مطلوب کئی دہشت گرد عناصر افغانستان میں سرکاری سرپرستی میںپناہ لئے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو اس ضمن میں شدید مسائل کا سامنا ہے،پاکستان دشمن کئی بھارتی اور غیر ملکی لابیاں ان کالعدم عناصر کے ذریعے پاکستان کے خلاف پوری طرح متحرک ہیں۔ سال 2023ءپاکستان کےلئے دہشت گردی کے حوالے سے بدترین سال ثابت ہوا،ان تمام کارروائیوں کے کھرے افغان سر زمین تک جاتے ہیں۔اب انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعے جورپورٹس سامنے آئی ہیں وہ پاکستانی موقف کے لئے کافی ہیں ۔پاکستانی سر زمین پر افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت پھرمنظر عام پر آئے ہیں۔ملکی وغیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق افواج پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے ٹی ٹی پی کے خلاف دہشت گردی کی جنگ لڑ رہی ہے،سب پر یہ بات عیاں ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو افغانستان میں امریکا کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے،ٹی ٹی پی کو ہتھیاروں کی فراہمی نے خطے کی سلامتی کو خاطر خواہ نقصان پہنچایاہے،بالخصوص پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،29 دسمبر کو ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا،آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد کمانڈر راہزیب کھورے سمیت پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے ، دہشت گردوں سے غیر ملکی اسلحہ جسمیں M4 Carbine اور Ak-47 اور گولا بارود بھی برآمد کیا گیا،اس سے پہلے بھی متعدد بار پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں میں غیر ملکی ہتھیار استعمال کیے گئے،بلوچ لبریشن آرمی نے بھی انہی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے فروری 2022 میں نوشکی اور پنجگور اضلاع میں ایف سی کیمپوں پر حملے کیے،12 جولائی 2023 کو ژوب گیریژن پر ہونے والے حملے میں بھی ٹی ٹی پی کی جانب سے امریکی اسلحے کا استعمال کیا گیا،یہ وہ اسلحہ جو امریکہ فوج کے انخلا کے وقت وہاں چھوڑ دیا گیا تھا اور افغان طالبان اس اسلحہ کو محفوظ نہ بنا سکی اور وہ دہشت گرد عناصر کے ہتھے چڑھتا رہا ۔6 ستمبر 2023 کو جدید ترین امریکی ہتھیاروں سے لیس ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے چترال میں دو فوجی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا،4 نومبر کو میانوالی ائیر بیس حملے میں دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ غیر ملکی ساخت کا تھا جسمیں RPG-7، AK-74، M-4 اور M-16/A4 بھی شامل ہیں ،12 دسمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں ہونےوالے دہشت گردی کے حملے میں بھی دہشت گردوں کی جانب سے نائٹ ویژن گوگلز اور امریکی رائفلز کا استعمال کیا گیا،15 دسمبر کو ٹانک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ میں دہشت گروں کے پاس جدید امریکی اسلحہ پایا گیا، دہشت گردوں نے M16/A2, HE Grenades, AK-47 استعمال کیے ، 13 دسمبر کو کسٹمز اور سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے پاکستان آنیوالی گاڑی سے پیاز کی بوریوں سے بھی جدید امریکی ہتھیار برآمد کئے، اسلحے میں جدید امریکی ساختہ ایم فور، امریکی رائفل، گرنیڈ شامل تھے،افغانستان سے جدید امریکی اسلحہ کی پاکستان سمگلنگ اور ٹی ٹی پی کا سکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف امریکی اسلحہ کا استعمال افغان عبوری حکومت کا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کے دعوو¿ں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ان رپورٹس کی تصدیق یورو ایشین ٹائمز نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کی ہے۔اخبار کے مطابق مطابق پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی کارروائیوں میں امریکی ساخت کے اسلحے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے، پنٹاگون کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے، جس میں 300,000 انخلا کے وقت باقی رہ گئے،اس بناء پر خطے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا،امریکہ نے 2005 سے اگست 2021 کے درمیان افغان قومی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا، امریکی انخلا کے بعد ان ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی کو سرحد پار دہشت گرد حملوں میں استعمال کئے گئے یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان ستان کی موجودہ حکومت نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ راستہ بھی فراہم کر رہی ہے۔یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے،گزشتہ روز بھی سکیورٹی فورسز کا بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے مشکئی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں پانچ دہشت گرد جہنم واصل کئے گئے۔ باجوڑکے علاقے بٹوار میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش بھی ناکام بنائی گئی، فائرنگ کے تبادلہ میں تین دہشت گردہلاک بھاری مقدارمیں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔افغانستان کے اندر سے دہشت گردوں کی شمالی وزیر ستان کے علاقہ سپن وام میں پاکستانی بارڈر پوسٹ پر فائرنگ کی گئی،جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کوبھاری نقصان اٹھاناپڑا۔اس واقعہ میں ایک جوان شہید ہوا۔آئی ایس پی آرکے مطابق پاکستان تسلسل کے ساتھ افغانستان کی عبوری حکومت کو یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی طرف سے موثر بارڈر مینجمنٹ یقینی بنائے، افغان عبوری حکومت سے توقع ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور پاکستان کےخلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے اپنی سرزمین کے استعمال کو روکے گی۔
صدر مملکت کاسالِ نو پر خصوصی پیغام
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سال نو2024 کے آغاز پر پوری پاکستانی قوم، امت مسلمہ اور عالمی برادری کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر نے اپنے پیغام میں کہا کہ گزرے سال کو الوداع اور سال نو کی صبح کو خوش آمدید کہتے ہوئے میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں کہ آنے والا سال پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے خوشحالی، سیاسی اور معاشی استحکام لائے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سال کے آغاز پر ہمیں فلسطین میں اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو اسرائیلی افواج کے وحشیانہ حملوں کا مسلسل سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی امن و سلامتی کے فروغ کےلئے ضروری ہے کہ عالمی برادری فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعات کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔صدر عارف علوی نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور فلسطین میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے کام کرے۔ اسی طرح میں غیر قانونی طور پر بھارتی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام کے بارے میں فکر مند ہوں جو قابض بھارتی افواج کے مظالم اور طویل ترین محاصرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری ان دیرینہ تنازعات کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔پاکستان کی خوشحالی کے لئے دعاکرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن ایک خوشحال مستقبل کا تصور لیے میں پاکستان میں معاشی ترقی، بین المذاہب ہم آہنگی، درگزر، رواداری اور باہمی احترام کی دعا کرتا ہوں، اللہ کرے کہ سال 2024 نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کےلئے مثبت تبدیلیوں کا سال ہو۔ آئیں سالِ نو کا استقبال اس امید اور عزم کے ساتھ کریں کہ ہم ایک ایسی دنیا کی تعمیر کریں گے جہاں تنازعات اور جنگیں نہ ہوں اور جہاں انصاف، امن، خوشحالی اور ہمدردی کا دور دورہ ہو، آپ سب کو نیا سال مبارک ہو۔
اداریہ
کالم
افغان حکام اپنی سرزمین پاکستان کےخلاف استعمال ہونے سے روکیں
- by web desk
- جنوری 2, 2024
- 0 Comments
- Less than a minute
- 1143 Views
- 1 سال ago