دنیا کو قدرت نے نہایت توازن، حسن اور وسائل کی فراوانی کے ساتھ تخلیق کیا ہے۔ زمین، آسمان، سمندر، پہاڑ، جنگلات، دریا اور معدنی ذخائر سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ کرہ ارض کسی کمی یا تنگی کے ساتھ نہیں بنایا گیا۔ اصل مسئلہ وسائل کی قلت نہیں بلکہ انسان کا رویہ، سوچ اور طرزِ عمل ہے۔ اگر انسان دنیا میں مساوات، انصاف اور احساس کے ساتھ زندگی بسر کرے تو نہ صرف وسائل سب کے لیے کافی ہوسکتے ہیں بلکہ دنیا کی خوبصورتی اور بھی بڑھ سکتی ہے۔ بدقسمتی سے انسان نے اپنی حرص، طاقت کی ہوس اور خود غرضی سے اس فطری توازن کو بگاڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا آج عدمِ مساوات، ناانصافی اور جنگوں کی لپیٹ میں ہے۔انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی طاقت کو حق پر فوقیت دی گئی، جب بھی انصاف کو پسِ پشت ڈال کر مفاد کو ترجیح دی گئی، تباہی، خونریزی اور بربادی نے جنم لیا۔ دنیا میں وسائل کی تقسیم اگر منصفانہ ہو، فیصلے اگر انصاف کے مطابق ہوں اور کسی کا حق غضب نہ کیا جائے تو زمین کا کوئی خطہ، کوئی ملک، کوئی شہر اور کوئی گاں ایسا نہیں جہاں امن قائم نہ ہوسکے۔ امن کسی خاص علاقے یا قوم کی جاگیر نہیں بلکہ یہ انسانیت کی مشترکہ ضرورت اور حق ہے۔وسائل پر قبضہ، دوسروں کی زمینوں پر تسلط اور کمزور قوموں کو دبانا ترقی نہیں کہلا سکتا ۔ اصل ترقی وہ ہے جو امن کے ساتھ آئے جس میں انسان انسان کیلئے آسانی پیدا کرے جس میں طاقت کمزور کی حفاظت کرے اور جس میں دولت انسانیت کی فلاح کیلئے استعمال ہو۔ افسوس کہ آج کی دنیا میں ترقی کا تصور ہتھیاروں کی تعداد، فوجی طاقت اور معاشی غلبے سے جوڑ دیا گیا ہے۔ طاقتور ممالک کمزور ممالک کے وسائل پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور اس عمل کو ترقی، قومی مفاد اور سلامتی کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے ۔ دنیا میں انصاف کا فقدان روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ عالمی نظام ہو یا علاقائی سیاست، اکثر فیصلے انصاف کے بجائے طاقت کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ ظالم اور جابر کو روکنے کے بجائے اگر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے، اگر اس کے ظلم پر آنکھیں بند کرلی جائیں اور اسے سیاسی، معاشی یا عسکری حمایت فراہم کی جائے تو پھر امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ایسے حالات میں جنگیں ناگزیر بن جاتی ہیں، نفرتیں جنم لیتی ہیں اور انسانیت مسلسل زخم کھاتی رہتی ہے۔عمل اور ردعمل فطرت کا اٹل قانون ہے۔ جب کسی قوم، کسی خطے یا کسی فرد کو مسلسل دبایا جائے، اس کے حقوق سلب کیے جائیں اور اسے کمزور کرنے کی کوشش کی جائے تو ردعمل ضرور سامنے آتا ہے۔ یہ ردعمل کبھی بغاوت کی صورت میں ہوتا ہے، کبھی جنگ کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور کبھی پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ جو دوسروں کو ختم کرنے یا کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ بالآخر خود بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ تاریخ کے صفحات اس حقیقت سے بھرے پڑے ہیں کہ ظلم وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے مگر انجام کار وہ خود اپنے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔دنیا میں جنگوں کی بنیادی وجہ وسائل پر قبضہ، طاقت کا عدمِ توازن اور انصاف سے انحراف ہے۔ اگر دنیا کے وسائل پر چند مخصوص ممالک یا گروہوں کی اجارہ داری قائم ہوجائے تو فطری طور پر محرومی، غربت اور بے چینی جنم لے گی۔ یہ بے چینی پھر تنازعات، خانہ جنگیوں اور بین الاقوامی جنگوں کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ جنگ نہ صرف انسانوں کو مارتی ہے بلکہ معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، نسلوں کو نفسیاتی زخم دیتی ہے اور ترقی کے تمام راستے مسدود کر دیتی ہے۔امن کا مطلب صرف جنگ کا نہ ہونا نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور انسانی وقار کا تحفظ بھی ہے۔ جہاں انصاف نہیں ہوتا وہاں خاموشی وقتی ہوسکتی ہے مگر پائیدار امن ممکن نہیں۔ اصل امن تب قائم ہوتا ہے جب ہر انسان کو یہ احساس ہو کہ اس کے حقوق محفوظ ہیں، اس کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جائے گا اور اس کی محنت کا پھل اس تک ضرور پہنچے گا۔ یہ احساس فرد کو ریاست سے جوڑتا ہے، قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔دنیا کو جنگ سے پاک کرنے کی بات محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔ جنگیں نہ صرف جانیں لیتی ہیں بلکہ وسائل کو بھی تباہ کرتی ہیں۔انسانوں کو امن و سکون سے جینے دینا ہر ریاست اور ہر عالمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ کسی قوم کو اس کے وسائل سے محروم کرنا، اس کی زمین پر قبضہ کرنا یا اس کی خودمختاری کو چیلنج کرنا دراصل پوری انسانیت کے امن کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ دنیا ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، ایک خطے میں ہونے والی ناانصافی کا اثر بالآخر دوسرے خطوں تک ضرور پہنچتا ہے۔ اس لیے یہ سوچ کہ کسی ایک ملک یا علاقے میں ظلم کرکے باقی دنیا محفوظ رہ سکتی ہے، محض ایک خام خیالی ہے ۔انصاف پر مبنی عالمی نظام ہی دنیا کو پائیدار امن کی طرف لے جاسکتا ہے۔ ایسا نظام جہاں طاقتور اور کمزور کیلئے ایک ہی اصول ہوں، جہاں قانون سب کیلئے برابر ہو اور جہاں انسانی جان کی حرمت کو اولین حیثیت حاصل ہو۔ اگر عالمی فیصلے انصاف کی بنیاد پر ہوں، اگر مظلوم کی آواز سنی جائے اور اگر ظالم کو اس کے انجام تک پہنچایا جائے تو دنیا میں اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔انسانی ترقی کا راستہ جنگوں، قبضوں اور نفرتوں سے ہوکر نہیں گزرتا بلکہ تعاون، مکالمے اور امن سے ہوکر گزرتا ہے۔ دنیا کے ممالک اگر ایک دوسرے کے وسائل پر قبضہ کرنے کے بجائے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مشترکہ ترقی پر توجہ دیں تو نہ صرف تنازعات کم ہوسکتے ہیں بلکہ عالمی خوشحالی کا خواب بھی حقیقت بن سکتا ہے۔ ترقی کا اصل معیار انسان کی زندگی کا معیار ہے، نہ کہ اس کے پاس موجود ہتھیاروں کی تعداد پر ہے۔آج کی دنیا کو اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ اپنے رویوں پر نظرثانی کرے۔ طاقت کے نشے میں مبتلا ہوکر انصاف کو روندنے کا عمل بالآخر سب کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ امن صرف طاقت کے زور پر قائم نہیں رہ سکتا بلکہ اسے انصاف، احساس اور مساوات کی بنیاد درکار ہوتی ہے۔ جب تک دنیا ان اصولوں کو نہیں اپنائے گی، جنگوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور انسانیت سسکتی رہے گی ۔مدعا یہی ہے کہ دنیا کو جنگوں سے پاک کیا جائے، انسانوں کو امن و سکون کے ساتھ جینے دیا جائے۔وسائل پر قبضے اور جنگوں کی سیاست کو ترک کرکے اگر انسانیت کی فلاح کو ترجیح دی جائے تو یہ دنیا واقعی ایک خوبصورت، محفوظ اور خوشحال جگہ بن سکتی ہے۔ دنیا کی خوبصورتی بموں اور بندوقوں سے نہیں بلکہ انصاف، محبت اور امن سے نکھرتی ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو حقیقی ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔

