کالم

ایران کی سڑکوں پرخون ۔۔۔خانہ جنگی کا خطرہ

ایران اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ریاست اور سماج کے درمیان تناؤ محض احتجاج تک محدود نہیں رہا بلکہ کھلے تصادم کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں نے ملک کے مختلف حصوں میں معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ سڑکیں بند ہیں۔ کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے۔ خوف و بے یقینی نے عوامی فضا کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ مظاہرین اور سکیورٹی اداروں کے درمیان جھڑپوں کی خبریں تسلسل کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں جن میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔ بعض مقامات پر جلاؤ گھیراؤ، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور پیٹرول بموں کے استعمال کی خبریں منظرِ عام پر آئی ہیںجس کے نتیجے میں حالات مزید بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ایرانی شہروں میں پھیلی ہوئی یہ بے چینی کسی ایک مطالبے یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل داخلی دباؤ کی عکاس ہے۔ معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی بے دخلی کے احساس نے عوام کے ایک بڑے طبقے کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ احتجاج محض عوامی غصے کا اظہار نہیں بلکہ اس میں ایسے عناصر بھی شامل ہیں جو ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سخت کارروائیاں کی ہیں اور متعدد علاقوں میں کریک ڈاؤن کی اطلاعات ملی ہیں۔ ہسپتالوں میں زخمیوں اور لاشوں کی موجودگی سے متعلق جو مناظر سامنے آئے ہیں وہ صورتِ حال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔اس تمام تر بحران میں اطلاعات تک رسائی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ آٹھ جنوری سے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی بندش کی خبریں گردش کر رہی ہیں جس کے باعث نہ صرف مظاہرین بلکہ عام شہری اور میڈیاہاوسز بھی مصدقہ معلومات حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آزاد ذرائع ابلاغ تک محدود رسائی نے افواہوں کو جنم دیا ہے اور زمینی حقائق تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہی خلا قیاس آرائیوں کو تقویت دے رہا ہے اور ہر نئی خبر خوف کے دائرے کو مزید وسیع کر دیتی ہے۔صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایرانی اٹارنی جنرل کی جانب سے یہ بیان کہ” احتجاج میں شریک افراد کو ریاست دشمن تصور کیا جائے گا اور ان کے لیے سخت ترین سزاؤں پر غور کیا جا سکتا ہے”نے فضا کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف داخلی سطح پر غم و غصے کو بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی برادری میں بھی تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم حلقے پہلے ہی ایران کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اطلاعات کی بندش نے ان خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔داخلی بحران کے ساتھ ساتھ ایران کو ایک اور بڑے دباؤ کا سامنا ہے جو خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ امریکہ کی جانب سے سخت مؤقف اورامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات جن میں فوجی کارروائی پر غور کا عندیہ دیا گیاہے۔ صورتحال کو ایک نئے خطرناک مرحلے کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ تہران کی جانب سے جوابی بیانات میں اسرائیلی اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ اس تناظر میں اسرائیل میں سکیورٹی ہائی الرٹ اور احتیاطی اقدامات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عالمی طاقتیں اس بحران کو محض ایران کا داخلی معاملہ نہیں سمجھ رہیں۔یہ امر قابلِ غور ہے کہ ایران پہلے ہی معاشی پابندیوں، سفارتی تنہائی اور علاقائی تنازعات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں اگر داخلی انتشار خانہ جنگی کی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی نئی لہر دوڑ سکتی ہے۔ تیل کی عالمی منڈی، خلیجی ریاستوں کی سلامتی اور ہمسایہ ممالک کے سیاسی توازن پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ ایران کے اندر فرقہ وارانہ، نسلی اور علاقائی تنوع کو دیکھتے ہوئے یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ تشدد کی شدت بڑھنے کی صورت میں ملک میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے جوہر لحاظ سے خطرناک ہو گی۔موجودہ حالات میں سب سے زیادہ متاثر عام ایرانی شہری ہو رہا ہے جو نہ صرف معاشی دباؤ بلکہ سکیورٹی خدشات کے درمیان پس رہا ہے۔ روزگار کے مواقع محدود ہو چکے ہیں۔اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔عدم تحفظ کا احساس ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ سڑکوں پر خون اور ہسپتالوں میں سوگ کے مناظر نے ایک ایسے المیے کو جنم دیا ہے جس کا فوری حل دکھائی نہیں دیتا۔ ریاستی طاقت اور عوامی غصے کے درمیان یہ کشمکش اگر اسی طرح جاری رہی تو اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ایران کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم سختیوں سے گزر کر بھی اپنے وجود کو برقرار رکھتی آئی ہے مگر موجودہ بحران اپنی نوعیت میں مختلف دکھائی دیتا ہے۔ داخلی بے چینی اور خارجی دباؤ کا یہ امتزاج کسی بھی ریاست کے لیے آزمائش بن جاتا ہے۔ عالمی برادری کے لیے بھی یہ لمحہِ فکریہ ہے کہ محض بیانات اور پابندیوں سے حالات کو قابو میں نہیں لایا جا سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشیدگی کم کرنے، مکالمے کے دروازے کھولنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دی جائے۔اگر حالات اسی ڈگر پر چلتے رہے تو ایران ایک ایسی آگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے شعلے سرحدوں سے باہر تک محسوس کیے جائیں گے۔ داخلی تصادم، ممکنہ خارجی مداخلت اور علاقائی ردِعمل مل کر ایک بڑے بحران کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اس نازک مرحلے پر عقل و تدبر، سیاسی بصیرت اور عوامی مسائل کے حقیقی ادراک کی ضرورت ہے کیونکہ طاقت کے اندھے استعمال نے تاریخ میں کبھی پائیدار امن کو جنم نہیں دیا۔ ایران کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے کہ وہ اس بحران سے مکالمے اور اصلاح کے ذریعے نکلتا ہے یا تصادم اور انتشار کے ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے