برطانیہ کا شاہی خاندان ہمیشہ سے روایت، وقار اور تسلسل کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ صدیوں پر محیط اس ادارے نے نہ صرف برطانوی سیاست بلکہ عالمی سفارت کاری اور ثقافتی اثر و رسوخ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ تاہم جدید دور میں شفافیت، احتساب اور عوامی جوابدہی کے تقاضوں نے اس قدیم ادارے کو بھی کڑی جانچ کے دائرے میں لاکھڑا کیا ہے۔ انیس فروری دوہزارچھبیس کو برطانوی شاہی خاندان کے اہم رکن پرنس اینڈریو کی گرفتاری نے ایک بار پھر اس ادارے کی ساکھ، اخلاقی حیثیت اور قانونی برابری کے اصولوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔پرنس اینڈریو،سابق ملکہ الزبتھ دوم کے دوسرے بیٹے اور موجودہ بادشاہ کنگ چارلس سوم کے چھوٹے بھائی ہیں۔ انیس سوچھیاسی میں انہیں ڈیوک آف یارک کا خطاب دیا گیا۔ انہوں نے برطانوی رائل نیوی میں خدمات انجام دیں اور انیس سوبیاسی کی فالکلینڈز جنگ میں بطور ہیلی کاپٹر پائلٹ حصہ لیا بعد ازاں وہ کئی دہائیوں تک شاہی ذمہ داریوں میں سرگرم رہے اور دوہزارایک سے دوہزارگیارہ تک برطانیہ کے خصوصی تجارتی نمائندے کے طور پر عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کام کرتے رہے۔تاہم ان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور بااثر شخصیات سے روابط نے جلد ہی تنازعات کو جنم دیا۔ ان کا نام پہلی مرتبہ سنجیدگی سے اس وقت سامنے آیا جب ان کے امریکی سرمایہ کار اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے قریبی تعلقات منظر عام پر آئے۔ ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے الزامات تھے اور دوہزارآٹھ میں وہ سزا بھی پا چکے تھے۔ اس کے باوجود پرنس اینڈریو کی ان سے ملاقاتیں اور تعلقات جاری رہنے کی اطلاعات نے نہ صرف عوام بلکہ میڈیا کو بھی چونکا دیا۔یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب امریکی خاتون ورجینیا گیوفرے نے الزام عائد کیا کہ انہیں کم عمری میں ایپسٹین کے ذریعے پرنس اینڈریو کے ساتھ جنسی تعلق پر مجبور کیا گیا ۔ دوہزاراکیس میں دائر ہونے والا یہ مقدمہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔بالآخر فروری دوہزاربائیس میں پرنس اینڈریو نے عدالت سے باہر تصفیہ کرتے ہوئے مبینہ طور پر لاکھوں پائونڈ ادا کیے تاکہ کیس کو ختم کیا جا سکے اگرچہ انہوں نے الزامات کو تسلیم نہیں کیا۔ اس تصفیے کے نتیجے میں ان سے ”ان کی شاہی عظمت ”کا خطاب واپس لے لیا گیا اور انہیں شاہی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا۔اس اسکینڈل نے شاہی خاندان کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ خصوصا دوہزارانیس میں بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ میں دیا گیا ان کا انٹرویو عوامی غصے کا باعث بنا جس کے بعد انہیں عملی طور پر شاہی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہونا پڑا۔ ماہرین کے مطابق اس واقعے نے نوجوان نسل میں بادشاہت کے بارے میں شکوک و شبہات کو بڑھا دیا اور ٹیکس دہندگان کے پیسے سے شاہی اخراجات پر نئی بحث چھیڑ دی۔تازہ پیشرفت میں انیس فروری دوہزارچھبیس کو پرنس اینڈریو کو نورفوک میں واقع سینڈرنگھم اسٹیٹ کے ووڈ فارم ہائوس سے پولیس نے حراست میں لیا۔ اطلاعات کے مطابق انہیں”سرکاری منصب کے دوران بدعنوانی”

