بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور وہ کبھی پاکستان سے الگ نہیں ہوسکتا۔ ہندوستان اور ہندوستانی پراکسیز پورے خطے کیلئے خطرہ ہیں۔بلوچستان پاکستان کی معیشت اور معاشرت میں رچا بسا ہے، بلوچستان پاکستان کا سب سے امیر صوبہ بنے گا۔ عوام سے افواج ہیں اور افواج سے عوام،محبت کا یہ لازوال رشتہ ہمیشہ قائم دائم رہیگا۔ بلوچ، سندھی، پختون، پنجابی، کشمیری، بلتی ہم سب بہن بھائی ہیں اور اکھٹے ہیں، ہمیں کوئی ایک دوسرے سے جدا نہیں کرسکتا۔ بی ایل اے(فتنہ الہندوستان) کو بھارت سے مکمل مالی معاونت حاصل ہے۔بی ایل اے کی قیادت ہندوستان میں ہے، فتنہ الخوارج والا کہتا ہے ہمیں ہندوستان مدد کرے، یہ ہندوستان کے زر خرید غلام ہیں۔ بلوچستان میں جو دہشت گردی ہورہی ہے، اس کے پیچھے نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ ہی کوئی تصور ہے بلکہ یہ صرف بھارت کا اسپانسر شدہ ہے، اس پورے خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار صرف ہندوستان ہے۔ جتنی بلوچ دہشتگردی ہے، اس لیے ہم نے اس کو فتنتہ الہندوستان کا نام دیا ہے کیوں یہ ان کو پیسے دیتے ہیں، ان کے لیڈروں کو وہاں پر علاج کرتے ہیں، ان کے پاسپورٹ بناتے ہیں اور ان کی ٹریننگ بھی کرتے ہیں اور اس کیلئے وہ بیس آف آپریشن افغانستان کو استعمال کرتے ہیں۔ دراصل یہ بلوچستان کی ترقی اور عوام کے دشمن ہیں، چونکہ یہ دہشت گرد عوام میں رہتے ہیں، اس لیے بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ آنا ہے، انہیں پتا ہے کہ یہاں پر ترقی ہوگئی تو یہاں پر بچوں کے پاس علم، نوکری، روزگار، پیسے اور شعور آجائے گا تو بھارت کی موت ہوجائے گی۔آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے ان دہشتگردوں کا آلہ کار نہیں بننا، آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ علم حاصل کرنا ہے، ٹیکنالوجی حاصل کرنی ہے، اس صوبے کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ بلوچستان، انشااللہ پاکستان کا سب سے امیر صوبہ بنے گا۔محترمہ ماہ رنگ بلوچ سے پوچھیں کہ آپ ایک طرف روتی ہیں کہ میں تو اسکالرشپ پر پڑھی ہوں، لیکن تمہیں ناروے کے ٹکٹ اور پیسے کون دے رہا ہے اور جلسوں کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے اور یہ جو یہود وہندو تمہاری اتنی حمایت کیوں کرتے ہیں؟ جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوتا ہے، ان دہشت گردوں کی لاشوں سے تمہارا کیا تعلق ہے؟ وہ تو دہشتگرد ہیں، انہوں نے عورتوں اور بچوں کو مارا ہے اور اپنے ہی جلسوں میں اپنے ہی لوگوں کو مرواکر ان کی لاشیں لے کر پھرتی ہیں اور ان پر سیاست کرتی ہو تو تم کیا ہو، تم خود بھی دہشت گردوں کی ایک پراکسی ہو۔پاکستانی افواج کے ترجمان نے کہا کہ یہ سب فتنتہ الہندوستان ہیں اور آپ سب یعنی بلوچستان کے عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت کی نہ پاکستان سے کوئی ہمدردی ہے اور نہ بلوچستان سے کوئی ہمدردی ہے، وہ پاکستان کا ازلی دشمن ہے، ان کا انسانیت یا بلوچوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ واجب القتل ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو کھڑا ہونا ہوگا، یہ جو آپ کو بیوقوف بنارہے ہیں، آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے دہشتگردوں کے آلہ کار نہیں بننا، ہم جب کہتے ہیں تو کشمیر بنے گا پاکستان، تو یہ کشمیری کہتے ہیں ‘کشمیر بنے گا پاکستان’۔ یہ دنیا کی واحد فوج ہے جو اپنے عوام کے لیے کورونا، پولیو کے قطرے پلانے، بھل صفائی کے لیے بھی تیار ہوجاتی ہے اور دہشت گردوں کے خلاف بھی لڑ رہی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت کے خلاف بھی لڑ رہی ہوتی ہے۔ یہ جو معرکہ حق ہے، بھارت نے سوچا کہ وہ پاکستان پر حملہ کردے گا تو اس کے پیچھے اس کی ناقص حکمت عملی تھی جس میں ایک مفروضہ جو ان کے دانشوروں نے بتایا تھا کہ ‘آپ حملہ کردو’، پاکستان کے عوام اور پاکستان کی فوج آپس میں ایک ساتھ ہی نہیں ہے۔ ‘اسی طرح کسی سیانوں نے ان کو یہ بھی بتایا تھا کہ آپ حملہ کریں اور پھر دیکھیں یہاں کے دہشت گرد ایسا محاذ کھڑا کریں گے کہ ان کو سمجھ نہیں آئے گی کہ آپ سے لڑیں یا دہشت گردوں سے لڑیں’۔ لیکن’بھارت کے تمام مفروضے مٹی میں مل گئے’ ان کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آپ حملہ کریں، ان کی حالت ہی کوئی نہیں ہے، نہ ان کے پاس سازوسامان ہے، نہ یہ لڑسکتے ہیں، ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہے، آپ طاقتور ہیں، ہم ان کو ماریں گے۔ایک دانشور نے ان کو یہ بھی کہا تھا کہ آپ حملہ کریں، پاکستان کے ساتھ کون کھڑا ہوگا، نہ سعودی عرب اور نہ ہی امریکا، سب انہیں چھوڑ چکے ہیں۔ ‘یہ بھی کہا گیا آپ حملہ کریں، ماریں بچوں اور عورتوں کو اور مساجد پر حملہ کریں، آپ جو جھوٹ بولیں گے، آپ کا میڈیا طاقتور ہے، آپ کا دنیا میں بہت اثرورسوخ ہے، آپ جو کہیں گے وہ بک جائے گا’۔ کہاں گئے وہ پانچوں مفروضے، وہ مٹی میں مل گئے یا نہیں۔بلوچستان میں دہشت گردی کوئی نئی حقیقت نہیں۔ یہ صوبہ کئی دہائیوں سے شدت پسند گروہوں اور دہشت گرد نیٹ ورک کے نشانے پر رہا ہے۔ اس خطے کی جغرافیائی پوزیشن، قدرتی وسائل اور بین الاقوامی سرحدیں اسے داخلی و خارجی خطرات کیلئے حساس بناتی ہیں۔ دہشتگرد بلوچستان میں اپنی کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف شہریوں کی جانیں لیتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور ترقی کے راستے میں رکاوٹیں بھی پیدا کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں سیکیورٹی فورسز کی قربانی اور حکومت کی حکمت عملی ایک ایسا ستون بنتی ہے جو صوبے میں امن کے قیام کی بنیاد رکھتی ہے۔آخرکار، بلوچستان کا امن پاکستان کے امن سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت سمیت تمام علاقائی قوتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پراکسی جنگیں پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہیں۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرے جو دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

