بلوچستان میں جاری دہشت گردی محض چند واقعات یا مقامی بدامنی کا نام نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی قومی سلامتی، ریاستی کی رِٹ اور مستقبل پر براہِ راست حملہ ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی دراصل ایک منظم اور بیرونی سرپرستی میں چلنے والی باقاعدہ پراکسی جنگ ہے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا، سی پیک کو سبوتاژ کرنا اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج کو گہرا کرنا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ریاستِ پاکستان کسی بھی قسم کے ابہام، مصلحت اور نیم دلانہ اقدامات ترک کر کے ایک فیصلہ کن اور جامع قومی حکمتِ عملی اختیار کرے۔
سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے نام پر کنفیوژن پھیلانے والوں کی بات مانی جائے یا زمینی حقائق کو تسلیم کیا جائے۔ یہ کہنا کہ بلوچستان کی دہشت گردی محض محرومیوں کا نتیجہ ہے، آدھا سچ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں کمزورسیاسی ڈھانچے، پاور پالیٹکس، سیاسی اور سرکاری سطح پر بے دریغ بدعنوانی، ترقیاتی عدم توازن اور گورننس کی ناکامی نے بڑے عوامی مسائل کو جنم دیا، مگر یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ ہماری انہی کمزوریوں کو دشمن ریاستوں نے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ یہ حقیقت تو طشت از بام ہو چکی ہے کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں ہندوستان کی سرمایہ کاری، بیرونی تربیت اور غیر ملکی اہداف کے تحت کام کر رہی ہیں۔ ان کا ہدف بلوچ عوام نہیں بلکہ پاکستان کی ریاستی بنیادوں کو تباہ کرنا ہے۔ اسی تناظر میں ایک طرف شہری اہداف اور دوسری طرف سی پیک پر حملے، گوادر کو غیر محفوظ بنانے کی سازشیں، چینی مفادات اور چینی انجینئرز کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ جنگ محض بلوچستان کے حقوق کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی ریاست کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔
ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ریاست نے کئی دہائیوں تک کوئی واضح بیانیہ نہیں دیا، فیصلہ کن اور عوام دوست گورننس نہیں کی اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے کوئی طویل المدتی پالیسی نہیں بنائی بلکہ اسے صرف وقتی طور پر دبانے کی پالیسی اپنائے رکھی۔ یہی ابہام دشمن کے لیے سب سے بڑی کامیابی ثابت ہوا۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت اگر خود کو بے بس ظاہر کرتی ہے تو یہ انتظامی نااہلی کا اعتراف ہے۔ صوبائی حکومت کے پاس پولیس، لیویز اور مقامی انتظامیہ موجود ہے، مگر مسئلہ اختیارات کا نہیں بلکہ نیت، نگرانی اور عملدرآمد کا ہے۔ امن و امان کے قیام کے لیے محض بیانات اور بلند و باگ دعوے کافی نہیں ہوتے بلکہ عملی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے پولیس اور لیویز کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، انتظامی طور پر "بی” ایریاز ختم کرکے پورے صوبہ بلوچستان کو "اے” ایریا قرار دیا جائے۔ مقامی انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مؤثر بنایا جائے اور دہشت گردی کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔
بلوچستان کے عوام جتنے دہشت گردی سے پریشان ہیں اس سے کہیں زیادہ سیاسی اور حکومتی عہدیداروں کی بد دیانتی، بدعنوانی، ناقص گورننس اور نمائشی ترقی سے بیزار ہیں۔ اگر اسکول، اسپتال، پختہ شاہراہیں، بجلی اور پانی کے منصوبے صرف فائلوں اور تقریروں میں موجود رہیں گے تو ریاستی بیانیہ کبھی عوامی قبولیت حاصل نہیں کر سکے گا۔ وفاقی حکومت اگر بلوچستان کو محض ایک سیکیورٹی فائل سمجھتی رہی تو یقینا یہ ایک تاریخی غلطی ہوگی۔ وفاقی اور صوبائی سطح کے ہر ذمہ دار کو یہ حقیقت ذہن نشین کرنا ہوگی کہ اگر بلوچستان کمزور ہوگا تو پاکستان کبھی مضبوط نہیں رہ سکتا۔
اسی طرح بلوچستان کے لیے این ایف سی ایوارڈ میں منصفانہ حصہ، قدرتی وسائل کی بروقت رائلٹی اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو محض وعدہ نہیں بلکہ قومی ترجیح بنانا ہوگا۔
سی پیک کوئی عام ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کا قومی امتحان ہے۔ یہ منصوبہ دشمن کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ مگر انتہائی اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے بلوچ عوام کو اس منصوبے کا حقیقی فریق بنایا؟ اگر مقامی نوجوانوں کو روزگار نہیں ملے گا اور عوامی سطح پر اس کے فوائد نہیں پہنچیں گے، بلوچ عوام کی شمولیت کے بغیر اگر فیصلے بند کمروں میں ہوتے رہیں گے تو یقینا دشمن کو پراپیگنڈے کا موقع ملتا رہے گا اور بلوچ نوجوان گمراہ ہوتا رہے گا۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی کے لیے صرف طاقت اور عوام کے لیے صرف مکالمہ درکار ہے۔ جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے، اس کے لیے آہنی ہاتھ، اور جو ریاست کے ساتھ بات کرنا چاہے، اس کے لیے کھلا دروازہ۔ اس معاملے میں کوئی ابہام، کوئی درمیانی راستہ نہیں ہونا چاہیے۔
سب سے خطرناک چیز ریاستی خاموشی ہوتی ہے۔ اب وقت ہے کہ قومی یکجہتی اور اتفاق رائے سے یہ واضح پیغام پوری دنیا میں جانا چاہیے کہ بلوچستان پاکستان کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ بیرونی قوتوں کے آلہ کار، یہ دہشت گرد بلوچ عوام کے ہر گز نمائندہ نہیں اور دشمنوں کا بیرونی ایجنڈا پاکستانی عوام کو کسی صورت قبول نہیں۔
اندرونی طور پر بھی ارباب اختیار کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ یہ وقت بلوچستان میں دہشت گردی کا مسئلہ ٹالنے کا نہیں بلکہ حل کرنے کا ہے۔ یہ وقت کمیشن بنانے، بیانات دینے اور ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا نہیں بلکہ ریاستی فیصلہ سازی کا ہے۔ اگر آج ریاست پوری طاقت، مکمل انصاف اور خالص قومی سوچ کے ساتھ کھڑی ہو گئی تو کل بلوچستان امن، ترقی اور یکجہتی کی علامت بنے گا اور اگر آج بھی ہم 1971 کی طرح باہم دست و گریباں اور تذبذب کا شکار رہے تو بحیثیت قوم تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ بقول علامہ اقبال رحمة الله عليه:
"فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ھے
کبھی کرتی نہیں ملتی کے گناہوں کو معاف”
تحریر:عبدالجبار ترین


