بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں نافذ پالیسیوں پر ایک بار پھر تنقید کی لہر اٹھ رہی ہے، جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا نظریے کے فروغ کے ساتھ ساتھ اختلافِ رائے، تنقیدی سوچ اور اقلیتی شناخت کے اظہار پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ یہ رجحان نہ صرف سماجی و سیاسی کشیدگی کو بڑھا رہا ہے بلکہ ملک کے تعلیمی اداروں کی خودمختاری کو بھی متاثر کر رہا ہے۔حال ہی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، نئی دہلی میں منعقدہ ایک کانفرنس کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سنسرشپ اب ایک معمول بنتی جا رہی ہے، جہاں ذات پات، اقلیتوں کے حقوق، قوم پرستی یا ریاستی تشدد جیسے موضوعات پر تنقیدی مکالمے کو ”سیاسی طور پر متحرک” قرار دے کر محدود کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ جیسے عوامی فنڈنگ کے ادارے بھی حکومتی بیانیے سے ہٹ کر تحقیق کی سرپرستی کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق تحقیقی گرانٹس اور علمی منصوبوں کی منظوری میں نظریاتی ہم آہنگی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جامعات میں آزادی رائے پر قدغنیں جمہوری اقدار کیلئے نقصان دہ ابت ہو سکتی ہیں۔ان کے مطابق اگر علمی ادارے آزادانہ تحقیق اور مباحثے کی روایت برقرار نہ رکھ سکیں تو یہ صورت حال طویل المدتی طور پر علمی معیار اور سماجی ہم آہنگی دونوں کو متاثر کرے گی۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت جیسے متنوع معاشرے میں مکالمے اور اختلافِ رائے کی گنجائش جمہوریت کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں اقلیتوں، سماجی کارکنوں اور اب تعلیمی حلقوں کی آوازوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے داخلی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔حکومت کی جانب سے ان الزامات پر مؤقف یہ رہا ہے کہ قومی مفاد، یکجہتی اور ترقیاتی ایجنڈے کے تحت بعض اقدامات ناگزیر ہیں۔ تاہم ناقدین کا اصرار ہے کہ پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تعلیمی ادارے آزاد، خودمختار اور سیاسی دباؤ سے مبرا ہوں۔سفاک مودی کے دور میں بھارت پر ہندوتوا راج مسلط ہے جس سے تعلیمی ادارے بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں ۔ فاشسٹ مودی نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی آزادیِ رائے کو جرم بنا دیا ، آر ایس ایس کے ہاتھوں غاصب مودی نے تعلیمی اداروں کو انتہا پسندی کا گڑھ بنا دیا ۔ جنسی ہراسانی کے ملزم پروفیسروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر سٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کے طلبا سراپا احتجاج بن گئے، پونڈیچری یونیورسٹی میں ایس ایف آئی کے طلبا پر پولیس نے حملہ کر دیا، متعدد طلبہ گرفتارکر لئے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے بے رحمانہ تشدد کیا اور خواتین سے بدسلوکی کی، یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ہراسانی کے الزامات کے باوجود ملوث اساتذہ تاحال عہدوں پر برقرار ہیں۔طلبہ تنظیم کے مطابق ڈاکٹر مدھوائیہ اور ڈاکٹر شیلندر سنگھ پر 16 سے زائد طلبا کے سنگین الزامات عائد ہیں، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ضابطے کے باوجود ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے پر بھی سماعت نا مکمل ہے۔ دوسری طرف دہلی یونیورسٹی میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کرنے والے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلبا بھی بھارتی انتہا پسندی کا شکار ہو گئے، دہلی یونیورسٹی کے طلبا پر بھارتی انتہا پسند تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے ارکان نے حملہ کیا۔پنجاب یونیورسٹی کے نائب صدر اشمیت سنگھ کے مطابق پروفیسر سے لے کر وائس چانسلر تک ہر تقرری آر ایس ایس کی منظوری سے ہوتی ہے، اقتدار پر قابض مودی کے دور میں انتہا پسند آر ایس ایس اور بی جے پی نے بھارت کے ہر ادارے پر قبضہ جما لیا ہے۔طلبا پر پولیس تشدد مودی حکومت کے فاشسٹ چہرے اور اقلیت دشمنی کا واضح ثبوت ہے،نااہل مودی اور انتہا پسند تنظیموں نے بھارت کے نام نہاد سیکولرازم کا چہرہ بے نقاب کردیا۔بھارت کی مودی سرکار کی جانب سے یونیورسٹی طلبہ کے لیے مولانا آزاد فیلو شپ ختم کیے جانے کے بعد مسلم طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور حکومت میں قائم کی گئی سچر کمیٹی کی تجویز کردہ سفارشات کی روشنی میں 2009 میں مولانا آزاد فیلو شپ متعارف کرائی گئی تھی جو بھارت کی اقلیت مسلم، بودھ مت، عیسائی، جین مت، پارسی اور سکھ مذاہب سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں کو فراہم کی جاتی تھی۔ اس فیلو شپ کو مودی کی متعصب حکومت نے بیک جنبش قلم ختم کردیا ہے۔یہ فیلو شپ اگرچہ تمام اقلیتی برادریوں کے طالب علموں کے لیے دستیاب تھی تاہم اس سے زیادہ تر مسلمان طلبہ ہی مستفید ہوئے۔ وزارت اقلیتی امور کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق سن 2018،2019 میں یہ فیلوشپ حاصل کرنے والے 70 فیصد سے زائد طالب علم مسلمان تھے۔بھارت میں مذہبی تنظیم جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم، اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے نیشنل سکریٹری، فواد شاہین کے مطابق، ”کئی برسوں کے دوران اس فیلو شپ سے ہزاروں ایسے پسماندہ مسلمان طالب علم مستفید ہوئے جو دوسری صورت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہی رہتے۔اس حوالے سے وزیر برائے اقلیتی امورکا گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ ”حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے لیے جاری کئی دیگر فیلوشپ اسکیموں کے ساتھ مماثلت رکھتی ہے اور اقلیتی طالب علموں کو پہلے ہی اس طرح کی کئی اسکیموں سے مدد مل رہی ہے۔حکومت کی جانب سے اس گرانٹ کی منسوخی کے پیچھے دی جانے والی یہ وجہ کہ یہ فیلو شپ دیگر اسکیموں سے مماثلت رکھتی ہے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔بھارتی وزیر خزانہ کے مطابق 31 مارچ 2022 سے قبل فیلو شپ کیلئے کوالیفائی کرنیوالے طالب علم اس اسکیم سے اپنی باقی ماندہ تعلیمی مدت تک مستفید ہوتے رہیں گے تاہم اس کے باوجود اچانک اس گرانٹ کے خاتمے کے فیصلے نے بھارتی مسلمانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔

